Sunan Abu Dawood — Hadith 494
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ رَجَائٍ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَائَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْقِرَائَةِ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَکْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَی تَکْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِإِسْمَعِيلَ مَا تَکْرِمَتُهُ قَالَ فِرَاشُهُ
ابو ولید، شعبہ، اسماعیل، بن رجاء، اوس بن ضمجع، حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے وہ شخص قوم کی امامت کرے جو قرآن پاک کا اچھا اور پرانا قاری ہو اگر قرات قرآن میں سب برابر ہوں تو پھر وہ شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے جس نے ان میں سب سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو پھر وہ امامت کرے جو عمر میں سب سے بڑا ہو۔ اور کوئی شخص دوسرے کے گھر پر (اس کی ایماء و اجازت) کے بغیر امامت نہ کرے اور نہ ہی اس کی حکومت کی جگہ پر۔ اور نہ ہی اس کی اجازت کے بغیر اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اسماعیل سے پوچھا کہ عزت کی (مخصوص) جگہ سے کیا مراد ہے تو انھوں نے کہا اس کا بستر۔
-