Sunan An-Nasa'i — Hadith 1292
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَکْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنْ الْمَغْرَمِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ
عمروبن عثمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے دوران دعا مانگا کرتے تھے آخر تک۔ یعنی اے خدا میں پناہ مانگتا ہوں تیری عذاب قبر سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری فتنہ و دجال سے جو کہ ایک آنکھ والا ہوگا اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری گناہ کے کام سے اور مقروض ہوجانے سے۔ یہ بات سن کر حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اوقات مقروض ہونے سے پناہ مانگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس وقت انسان مقروض ہوتا ہے تو وہ جھوٹ بولنے لگتا ہے اور وہ وعدہ خلافی کرتا ہے۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to say in his prayer, after the Tashahhud: “The best of word is the word of Allah and the best of guidance is the guidance of Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.