TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 1835 · Hadiths Regarding Funerals

Sunan An-Nasa'iHadith 1835

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ يَقُولُ لَمَّا هَلَکَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَبَکَيْنَ النِّسَائُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَلَا تَنْهَی هَؤُلَائِ عَنْ الْبُکَائِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ کَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِکَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ رَأَی رَکْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ انْظُرْ مَنْ الرَّکْبُ فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَقَالَ عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْکِي عِنْدَهُ يَقُولُ وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ لَا تَبْکِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ کَاذِبَيْنِ مُکَذَّبَيْنِ وَلَکِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ وَإِنَّ لَکُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيکُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْکَافِرَ عَذَابًا بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

سلیمان بن منصوربلخی، عبدالجباربن ورد، ابن ابوملیکة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت حضرت ام ابان کا انتقال ہوگیا تو میں بھی لوگوں کے ہمراہ موجود تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا خواتین اس وقت رو رہی تھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رونے سے تم ان کو نہیں روکتے ہو۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت عمر بھی اسی طریقہ سے کیا کرتے تھے میں ایک مرتبہ حضرت عمر کے ہمراہ نکلا اور اس وقت (مقام) بیداء میں پہنچے تو کچھ سواروں کو میں نے ایک درخت کے نیچے دیکھا۔ مجھ سے کہا گیا کہ تم دیکھو یہ سوار کون لوگ ہیں چنانچہ میں گیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں پر حضرت صہیب اور ان کے گھر والے موجود ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم ان لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ بہرحال جس وقت ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عمر کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت صہیب ان کے پاس جا کر رونے لگے اور پکارنے لگے ہائے میرے بھائی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم نہ رؤ کیونکہ میں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ مردہ کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے یہ بات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے نقل کی تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم تم یہ حدیث جھوٹے لوگوں اور جھٹلانے والے لوگوں سے روایت نہیں کرتے ہو (مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ حدیث بیان کی ہے وہ سچے لوگ ہیں) لیکن حدیث سننے میں غلطی ہوگئی ہے اور قرآن کریم میں وہ بات موجود ہے کہ جس کی وجہ سے تمہاری تسلی ہو یعنی ارشاد باری تعالیٰ ہے یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا لیکن حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ خداوند قدوس کافر شخص کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب میں اضافہ کرے گا۔

It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, calls out the calls of the Jahiliyyah.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: مردہ پر نوحہ کرنا