Sunan An-Nasa'i — Hadith 1877
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ الْأَعْمَشِ ح و أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقًا قَالَ حَدَّثَنَا خَبَّابٌ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَی فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْکُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُکَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً کُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَی رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا وَاللَّفْظُ لِإِسْمَعِيلَ
عبیداللہ بن سعید، یحیی، اعمش، اسماعیل بن مسعود، یحیی بن سعید قطعان، اعمش، شقیق، خباب سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ہجرت اللہ تعالیٰ کے لیے کی (یعنی ہجرت کا مقصد رضاء الہی حاصل کرنا تھا تو اس عمل سے ہمارا اجر خداوند قدوس کے نزدیک ثابت اور قائم ہوگیا لیکن ہمارے میں سے کوئی شخص چلا گیا اور اس شخص نے اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھویا (بلکہ اس کا تمام کا تمام اجر و ثواب آخرت میں رہا) ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر تھے جو کہ غزوہ احد کے دن قتل کیے گئے تھے اور ان کے کفن کے واسطے ہم لوگوں نے کوئی چیز نہیں پائی لیکن ایک کملی جس وقت ہم لوگ اس کو ان کے سر پر رکھتے تو پاؤں باہر نکل آتے اور جس وقت پاؤں پر رکھتے تو سر نکل آتا۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو حکم فرمایا کہ ان کا سر چھپا دو اور پاؤں کے اوپر اذخر (یہ ایک قسم کی گھاس ہے) وہ ڈال دو اور ہمارے میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا کہ جس کے پھل پک جاتے اور وہ شخص ان پھلوں کو اکھٹا کرتا (مراد یہ ہے کہ کسی کے پاس باغات نہیں تھے یہ اشارہ ہے صحابہ کرام کی بے سروسامانی کی زندگی کی طرف)۔
It was narrated that Abu Saeed said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘The best of perfume is musk.” (Sahih)