Sunan An-Nasa'i — Hadith 2067
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْکُرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ أَيُّکُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالُوا هَذَا الْأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ قَالَ حَمْزَةُ الْأَمْغَرُ الْأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً فَقَالَ إِنِّي سَائِلُکَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْکَ فِي الْمَسْأَلَةِ قَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَکَ قَالَ أَسْأَلُکَ بِرَبِّکَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَکَ وَرَبِّ مَنْ بَعْدَکَ آللَّهُ أَرْسَلَکَ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُکَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُکَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا فَتَرُدَّهُ عَلَی فُقَرَائِنَا قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُکَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنْ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُکَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ
ابوبکربن علی، اسحاق، ابوعمارة حمزة بن حارث بن عمیر، وہ اپنے والد سے، عبیداللہ بن عمیر، سعید بن ابوسعید مقبری، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک آدمی جو کہ جنگل کا باشندہ تھا وہ حاضر ہوا اس نے دریافت کیا کہ تمہارے میں سے عبدالمطلب کا لڑکا کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ صاحب ہیں جو کہ سرخ اور سفید چہرے والے اور تکیہ لگائے تشریف فرما ہیں۔ اس شخص نے عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں اور میں کچھ سخت لہجہ میں دریافت کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جو کچھ دل چاہتا ہے تم وہ دریافت کر لو۔ اس شخص نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتا ہوں اس ذات کی قسم جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروردگار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کے لوگوں کا بھی پروردگار ہے۔ کیا خداوند قدوس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں۔ اے اللہ! ہاں۔ پھر اس شخص نے عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قسم دیتا ہوں کہ خداوند قدوس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم فرمایا ہے ہر دن اور رات میں پانچ وقت نماز ادا کرنے کا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (خدا گواہ ہے) اے خدا ہاں۔ پھر اس شخص نے عرض کیا خداوند قدوس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ وصول کرنے کا حکم فرمایا ہے؟ یعنی مال دار اور دولت مند لوگوں کے مال میں سے صدقہ وصول کرنے اور غرباء فقراء کو تقسیم کرنے کا حکم فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خدا ہاں۔ پھر اس شخص نے عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قسم دیتا ہوں اس ذات کی کہ (واقعی) خداوند قدوس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خداوند قدوس! جی ہاں۔ اس شخص نے عرض کیا کہ میں ایمان لایا اور میں نے سچ جان لیا اور میں ضمام ثعلبہ کا لڑکا ہوں۔
It was narrated that Abu Hurairah said: “While the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was with his Companions a man from among the desert people Came and said: ‘Which of you is the SOfl of ‘Abdul-Muttalib?’ They said: ‘This Amghar man who is reclining Ott a pillow.’ — (One of the narrators) Hamzah said: “Amghar means white with a reddish complexion’ — The man said: ‘I am going to ask you questions and I ‘ be harsh in asking.’ He said: ‘Ask whatever you like.’ He said: ‘I ask you by your Lord and the Lord of those who came before you, and the Lord of those who will come after you; has Allah sent you?’ He said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I adjure you by Him, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night?’ He said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I adjure you by Him, has Allah commanded you to take from the wealth of our rich and give it to our poor?’ He said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month out of the twelve months?’ He said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I adjure you by Him, has Allah commanded you to go on pilgrimage to this House, whoever can afford it?’ He said: ‘By Allah, yes.’ He said: ‘I believe, and I am Dimam bin Tha’labah.” (Sahih)