Sunan An-Nasa'i — Hadith 2919
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَوَاللَّهِ مَا عَلَی أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ کَانَتْ کَمَا أَوَّلْتَهَا کَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَکِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا کَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي کَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَکَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُکَ الطَّوَافَ بِهِمَا
عمرو بن عثمان، وہ اپنے والد سے، شعیب، زہری، عرو ة، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کریمہ کی تفسیر دریافت کی اور عرض کیا خداوند قدوس کی قسم اس سے تو یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو شخص ان کا طواف نہ کرے تو اس پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے وہ فرمانے لگیں کہ تم نے کس قدر غلط بات کی ہے۔ اے میری بہن کے صاحبزادے! اگر اس سے یہی مراد ہوتی جو کہ تم نے سمجھی ہے تو یہ اس طریقہ سے نازل ہوتی لیکن اس طریقہ سے نہیں ہے بلکہ یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ اس لیے کہ وہ لوگ مسلمان ہونے سے قبل منات بت کے واسطے احرام باندھا کرتے تھے جس کی وہ مقام مثل پر عبادت کیا کرتے تھے اور جو مناة کے واسطے احرام باندھا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا برا سمجھتا تھا۔ چنانچہ جس وقت انہوں نے اس کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو خداوند قدوس نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی صفا اور مروہ کا طواف مسنون قرار دیا ہے اس وجہ سے کسی آدمی کے واسطے اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے۔
It was narrated that ‘Urwah said: “I asked ‘Aishah about the words of Allah, the Mighty and Sublime: ‘So it is not a sin on him who performs Hajj or ‘Umrah (pilgrimage) of the House (the Ka’bah at Makkah) to perform the going (Tawaf) between them (As Safa and Al-Marwah), and (I said): ‘By Allah, there is no sin on anyone if he does not go between As-Safa and Al-Marwah.’ ‘Aishah said: ‘What a bad thing you have said, son of my brother! If this Ayah was as you have interpreted it, there would be no sin on a person if he did not go between them. But it was revealed concerning the Ansar. Before they accepted Islam, they used to enter llzram for the false goddess Manat whom they used to worship at Al Mushallal. Whoever entered Ihrám for her would refrain from going between As-Safaand Al-Ma,wah. When they asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم about that, Allah, the Mighty and Sublime, revealed: ‘Verily, As-Safaand Al-Marwah (two mountains in Makkah) are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or ‘Umrah (pilgrimage) of the House (the Ka’bah at Makkah) to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah).’ Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم enjoined going between them so no one has the right to refrain from going between them.”(Sahih).