TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3131 · Hadiths Related to Jihad

Sunan An-Nasa'iHadith 3131

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَی نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنَّا لَکَذَلِکَ إِذْ جَائَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ مُلَائَةٌ صَفْرَائُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ أَهَاهُنَا طَلْحَةُ أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ أَهَاهُنَا سَعْدٌ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَکَ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَابْتَعْتُهَا بِکَذَا وَکَذَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ ابْتَعْتُهَا بِکَذَا وَکَذَا قَالَ اجْعَلْهَا سِقَايَةً لَلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَکَ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَائِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّی لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالًا وَلَا خِطَامًا فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ

اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن ادریس، حصین بن عبدالرحمن، عمرو بن جاوان، حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حج کرنے کے واسطے نکلے تو مدینہ منورہ گئے چنانچہ ہم لوگ ابھی اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنی سواریاں تیار کر رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ لوگ مسجد میں اکھٹا ہیں اور کافی خوفزدہ ہیں۔ ہم لوگ گئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے درمیان چاروں طرف اکٹھا ہیں ان میں حضرت علی حضرت طلحہ حضرت زبیر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم بھی شامل ہیں اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے ایک زرد رنگ کی چادر لپیٹ رکھی تھی جس سے کہ سر بھی ڈھکا ہوا تھا وہ فرمانے لگے کہ کیا حضرت طلحہ حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنھم بھی موجود ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ وہ فرمانے لگے کہ میں تم کو اس اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کو مربد (یعنی اونٹ یا بکریاں باندھنے کی جگہ یا کھجوروں کے خشک کرنے کی جگہ) خریدے گا تو خداوند قدوس اس کی مغفرت فرما دے گا چنانچہ میں نے وہ مربد 20،25 ہزار میں خریدا اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو ہم لوگوں کی مسجد میں شامل کر دو تم کو اس کا اجر ملے گا۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ خداوند قدوس گواہ ہے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم کو اس ذات کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے کہ کیا تم کو علم ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص روم کے کنوئیں خریدے گا تو خداوند قدوس اس کی مغفرت فرما دے گا چنانچہ میں نے اس کو اتنی اتنی مقدار اور رقم دے کر خریدا اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو مسلمانوں کے پانی پینے کے واسطے وقف کر دو خداوند قدوس تم کو اس کا اجر عطا فرمائے گا انہوں نے کہا کہ جی ہاں اے خدا تو گواہ ہے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں تم کو اس ذات کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے کہ کیا تم کو علم ہے کہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کی جانب دیکھ کر فرمایا تھا کہ جو شخص ان کو جنگ کرنے کے واسطے تیار کرے گا تو خداوند قدوس اس کو معاف کر دے گا یعنی غزوہ تبوک کیلئے جاتے وقت میں نے ان کو اس طریقہ سے آمادہ کیا کسی کو اونٹ وغیرہ باندھنے یا اس کی لگام کے واسطے رسی کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی انہوں نے کہا جی ہاں۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اے خدا تو گواہ ہے۔

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah will be called in Paradise: ‘slave of Allah, here is prosperity.’ Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of paradise. Whoever is one of the people of Jihad, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of the people who fast, he will be called from the gate of Ar Rayyan.” Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Yes, and I hope that you will be one of them.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: مجاہد کو جہاد کیلئے تیار کرنے کی فضیلت