Sunan An-Nasa'i — Hadith 3165
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَائَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آکُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَنَامُ عَلَی فِرَاشٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ فَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ کَذَا وَکَذَا لَکِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَائَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
اسحاق بن ابراہیم، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے بعض حضرات فرمانے لگے کہ میں کبھی نکاح نہیں کروں گا دوسرے صحابی نے کہا کہ میں گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا۔ ایک صحابی کہنے لگ گئے کہ میں کبھی بستر پر نہیں سوں گا (وغیرہ وغیرہ) اور ایک صحابی کہنے لگے میں روزہ نہیں رکھوں گا (یعنی جائز چیز کو اپنے واسطے ناجائز کرنے لگے اور اسی کا نام تبتل ہے) چنانچہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خداوند قدوس کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا کیا معاملہ ہے کہ لوگ اس اس طرح سے کہہ رہے ہیں حالانکہ میں نماز بھی ادا کرتا ہوں اور سوتا (یعنی آرام) بھی کرتا ہوں روزے بھی رکھتا ہوں اور روزے چھوڑتا بھی ہوں اور نکاح بھی کرتا ہوں پس جو کوئی میری سنت سے کنارہ کشی کرے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “There are three who are promised the help of Allah: The Mukatab who wants to buy his freedom, the one who gets married seeking to keep himself chaste, and the Mujahid who fights in the cause of Allah.”(Hasan)