Sunan An-Nasa'i — Hadith 3569
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَکَّةَ وَهُوَ يَکْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَائَ أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَائَ وَلَمْ يَکُنْ لَهُ إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي کُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ النِّصْفَ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ
عمرو بن علی، عبدالرحمن، سفیان، سعد بن ابراہیم، عامر بن سعد، حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عیادت کے واسطے مکہ معظمہ تشریف لائے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میں اس جگہ انتقال کروں کہ جہاں میں نے ہجرت کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس حضرت سعد بن عفراء پر رحم فرمائے ان کی صرف ایک ہی لڑکی تھی۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں اپنے تمام کے تمام مال کی وصیت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا آدھا مال۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی مال کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک تہائی مال کی وصیت کر دو حالانکہ یہ بھی زیادہ ہے اس وجہ سے کہ تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ دو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ دو اور وہ لوگوں کے دست نگر (یعنی ان کے محتاج) بنے رہیں۔
One from the family of Saad narrated: “Saad fell sick and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم entered upon him and he said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, shall I bequeath all my money?’ He said: ‘No.” And he quoted the same Hadith. (Sahih)