Sunan An-Nasa'i — Hadith 3580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَرَضْتُ عَلَی غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا الثَّمَرَةَ بِمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا وَلَمْ يَرَوْا فِيهِ وَفَائً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ قَالَ إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ فَآذِنِّي فَلَمَّا جَدَدْتُهُ وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ وَدَعَا بِالْبَرَکَةِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ غُرَمَائَکَ فَأَوْفِهِمْ قَالَ فَمَا تَرَکْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَی أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ لِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَضَحِکَ وَقَالَ ائْتِ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِکَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُمَا فَقَالَا قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنَّهُ سَيَکُونُ ذَلِکَ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عبید اللہ، وہب بن کیسان، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد ماجد کی وفات ہوگئی تو ان پر لوگوں کا قرض تھا میں نے ان قرض خواہوں کو پیش کش کی کہ اپنے قرض کے عوض ہماری تمام کی تمام کھجوریں لے لیں۔ لیکن انہوں نے وہ کھجوریں لینے سے انکار کر دیا۔ اس لیے کہ یہ بات دکھلائی دے رہی تھی کہ وہ کھجوریں کم مقدار میں ہیں۔ اس پر میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے واقعہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس طریقہ سے کرو کہ جس وقت ان کو اکھٹا کر کے مربد میں رکھو تو تم مجھ کو بتلا دینا۔ چنانچہ جس وقت میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کر دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو لے کر تشریف لائے اور ان کے نزدیک بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برکت کی دعا مانگی پھر مجھ کو حکم فرمایا کہ اپنے قرض خواہوں کو بلا لو اور تم ان کو ادا کرنا شروع کر دو۔ میں نے اس قسم کا کوئی شخص نہیں چھوڑا کہ جس کا میرے والد صاحب کے ذمہ قرض باقی ہو اور میں نے وہ قرضہ ادا نہ کیا ہو اور اس کے بعد بھی میرے پاس تیرہ وسق کھجور باقی رہ گئی ہو پھر جس وقت میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسی آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھی جاؤ اور تم ان کو بتلاؤ۔ میں دونوں حضرات کے پاس گیا تو فرمانے لگے کہ ہم لوگ واقف تھے کہ جو کچھ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے اس کا انجام یہی ہوگا ۔
It was narrated that ‘Amr bin Kharijah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم delivered a Khutbah and said: ‘Allah has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir.” (Hasan)