Sunan An-Nasa'i — Hadith 4377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّنْعَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِکَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ وَرُبَّمَا قَالَ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِکَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً قَالَ وَسَأَضْرِبُ لَکُمْ فِي ذَلِکَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَی حِمًی وَإِنَّ حِمَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعُ حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَی وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّهُ مَنْ يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يُرْتِعَ فِيهِ وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِکُ أَنْ يَجْسُرَ
محمد بن عبدالاعلی صنعانی، خالد، ابن حارث، ابن عون، شعبی، نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میں نے سنا اور میں اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی شخص کی بات نہیں سنوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ حلال سے کھلا ہوا اور جس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہے اور حرام کھلا ہوا ہے (جیسے زنا چوری شراب نوشی وغیرہ) اور ان دونوں کے درمیان میں بعض اس قسم کے کام ہیں کہ جن میں شبہ ہے یعنی حرام اور حلال دونوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں (اس سے مراد ایسے کام ہیں جن کے حلال اور حرام ہونے میں اختلاف ہے) اور میں تم لوگوں سے ایک مثال بیان کرتا ہوں۔ خداوند قدوس نے ایک روش بنائی ہے اور خداوند قدوس کی روش حرام اشیاء ہیں اس میں داخل ہونے کا حکم نہیں ہے۔ (مراد یہ ہے کہ خداوند قدوس نے حرام اور حلال کی حدود اور لائن مقرر فرما دی ہیں ان ہی لائن اور حدود میں رہنا ضروری ہے اس سے باہر جانا ہرگز جائز نہیں ہے) پس جو شخص خداوند قدوس کی قائم کی ہوئی روش کے اندر داخل ہو جائے (یعنی خداوند قدوس کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کر لے گا) اسی طریقہ سے جو شخص مشتبہ کاموں سے نہ بچے تو قریب ہے کہ وہ حرام کاموں سے بھی نہ بچے۔ قریب ہے کہ وہ شخص حرام اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہو جائے گا اور جو شخص مشکوک کاموں میں مبتلا ہو جائے گا تو قریب ہے کہ وہ شخص ہمت کرے یعنی جو کام حرام ہیں ان کو بھی کرنے لگ جائے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘There will come a time when there will be no one left who does not consume Riba, and whoever does not consume it will nevertheless be affected by residue.” (Da’if)