Sunan An-Nasa'i — Hadith 4458
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا
قتیبہ، مالک، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ کی ممانعت فرمائی اور (بیع) مزابنہ درخت پر لگی ہوئی (تازہ) کھجور کو خشک کھجور (یعنی درخت سے اتار دی گئی کھجور) کے عوض فروخت کرنا ناپ کر اور تازہ انگور خشک انگور کے عوض فروخت کرنا ناپ کر۔
It was narrated from Salim that his father said: “Zaid bin Abit told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم granted a concession regarding the sale of ‘Ardyd.” (Sahih).