Sunan An-Nasa'i — Hadith 4781
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النَّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْکُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَرَحَلْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ وَمَا نَسَخَهَا شَيْئٌ
ازہر بن جمیل، خالد بن حارث، شعبہ، مغیرة بن نعمان، سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے آیت کریمہ (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَا ؤُه جَهَنَّمُ ) 4۔ النساء : 93) کے متعلق اختلاف کیا ہے (یعنی یہ آیت کریمہ منسوخ ہے یا نہیں؟) تو میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ تو آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔
It was narrated from Salim bin Abi Ja’d that Tbn ‘Abbas was asked about someone who killed a believer deliberately then he repented, believed and did righteous deeds, and followed true guidance. Ibn ‘Abbas said: “There is no way he could repent! I heard your Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم say: He (the victim) will come hanging onto his killer, with his jugular veins flowing with blood and saying: “Ask him why he killed me.” Then he said: “By Allah, Allah revealed it and never abrogated anything of it.” (Sahih)