Sunan An-Nasa'i — Hadith 4783
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَّی لَهُ التَّوْبَةُ سَمِعْتُ نَبِيَّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَجِيئُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا يَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا وَمَا نَسَخَهَا
قتیبہ، سفیان، عمار دہنی، سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس سے کسی نے دریافت کیا کہ اگر ایک شخص مسلمان کو قصدا قتل کر دے تو پھر توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک کام کرے کیا اس کی توبہ قبول ہوگی حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کی توبہ کس طرح قبول ہوگی میں نے تمہارے نبی سے سنا خدا تعالیٰ ان پر رحمت اور سلام نازل فرمائے کہ (قیامت کے دن) مقتول شخص قاتل کو پکڑ کر لائے گا اور اس کی رگوں سے خون جاری ہوگا اور وہ کہے گا (اے میرے پروردگار) اس نے مجھ کو قتل کیا ہے پھر حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ حکم خداوند قدوس نے نازل فرمایا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The major sins are: associating others with Allah, disobeying parents, killing a soul (murder) and swearing a false oath knowingly.” (Sahih)