TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 5296 · Book on Judicial Etiquette (Adab al-Qada)

Sunan An-Nasa'iHadith 5296

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْکِينٍ قِرَائَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَکَتْ أَبِي شَيْخًا کَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَی الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِکَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حارث بن مسکین، ابن قاسم، مالک، ابن شہاب، سلیمان بن یسار، عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضرت فضل بن عباس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ اس دوران قبیلہ خشعم کی ایک خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا۔ حضرت فضل نے اس کی جانب دیکھنا شروع کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری جانب پھیرنے لگے۔ اس خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند قدوس کا فرض بندوں پر حج ایسے وقت میں ہوا کہ میرے والد بالکل بوڑھے ہو گئے ہیں۔ اونٹ پر (بھی نہیں ٹھہر سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! یہ تذکرہ حجة الوداع کا ہے

It was narrated from Al-Fadl bin ‘Abbas, that he was riding behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم when a man came and said: “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, my mother is an old woman; if I put her on a mount she cannot sit firmly, and if I tie her, I fear that I may kill her.” He said: “Do you think that if your mother owed a debt you would pay it off for her?” He said: “Yes.” He said: “Then perform -Iajj on behalf of your mother.” (SahIih)

Permalink

See the full chapter: مثال پیش کر کے ایک حکم نکالنا اور حضرت ابن عباس کی حدیث میں ولید بن مسلم پر راویوں کا اختلاف