TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 5316 · Book on Judicial Etiquette (Adab al-Qada)

Sunan An-Nasa'iHadith 5316

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ قَالُوا کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ وَکَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ قَالَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ وَکَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَی ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَی مِنْهُ ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْکَ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

قتیبہ، سفیان، زہری، عبیداللہ بن عبد اللہ، ابوہریرہ و زید بن خالد، شبل سے روایت ہے انہوں نے کہا ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اس دوران ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خداوندقدوس کی قسم دیتا ہوں ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ فرمائیں اللہ کی کتاب کے موافق۔ پھر اس کا مخالف اٹھ کھڑا ہوا وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا اس نے عرض کیا سچ کہتا ہے کتاب اللہ کے موافق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہہ دو۔ اس نے کہا میرا لڑکا اس کے پاس مزدوری کا کام کرتا تھا تو اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ میں نے ایک سو بکریاں اور ایک خادم دے کر اس کو چھڑا لیا۔ کیونکہ مجھ سے لوگوں نے کہا تھا کہ تمہارے لڑکے پر رجم (یعنی پتھروں سے مار ڈالنا ہے) تو میں نے فدیہ ادا کر دیا پھر میں نے چند جاننے والوں سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا تمہارے لڑکے کو ایک سو کوڑے لگنے چاہئیں تھے اور ایک سال کے واسطے ملک بدر ہوتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے موافق کر دوں گا لیکن ایک سو بکریاں اور خادم تم اپنے لے لو اور تمہارے لڑکے کو ایک سو کوڑے لگیں گے اور صبح کو اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جا اگر وہ اقرار زنا کرے تو اس کو پتھروں سے مار ڈال۔ چنانچہ صبح کے وقت انیس اس کے پاس پہنچے اس نے اقرار کر لیا انہوں نے اس کے اوپر پتھر برسائے۔

It was narrated from Ka’b bin Malik that he owed a debt by ‘Abdullah bin Abi Hadrad Al Aslami. He met him, and asked him to pay it off. They exchanged words until their voices became loud. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم passed by them and said: “Ka’b!” and he gestured with his hand to say half. So he took half of what was owed and let him off the other half. (Sahih)

Permalink

See the full chapter: خواتین کو عدالت میں حاضر کرنے سے بچانے سے متعلق