TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 929 · Hadiths Related to the Beginning of Salah

Sunan An-Nasa'iHadith 929

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَائَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَی حُرُوفٍ کَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّی سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَکَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُکَ تَقْرَؤُهَا فَقَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ کَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُکَ تَقْرَؤُهَا فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَائَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ فَقَرَأْتُ الْقِرَائَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَئُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ

یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، مسور بن مخرمة و عبدالرحمن بن عبدالقاری، عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم سے سنا سورت الفرقان کی تلاوت فرماتے ہوئے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں میں نے ان کو ان الفاظ میں تلاوت فرماتے ہوئے سنا جو کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو تعلیم نہیں دئیے تھے تو ہو سکتا تھا کہ مذکورہ وجہ کی وجہ سے میں ان پر بحالت نماز ہی حملہ آور ہوجاتا لیکن میں نے انتہائی صبر سے کام لیا حتی کہ انہوں نے سلام پھیر دیا پس جس وقت وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان ہی کی چادر ان کے گلے میں ڈال دی اور میں نے ان سے دریافت کیا کہ (ٹھیک ٹھیک) بتلا کہ اس سورت کو تمہیں کس نے بتلایا ہے؟ یعنی یہ سورت جو کہ میں نے ابھی ابھی سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سورت سکھلائی اور پڑھائی ہے۔ اس پر میں نے جواب دیا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو خدا کی قسم مجھ کو خود یہ سورت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھلائی ہے پھر کس وجہ سے تم اس کے خلاف کہہ رہے ہو کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو یہ سورت پڑھائی ہے۔ بہرحال آخرکار میں ان کو پکڑ کر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے ان کو سورت الفرقان دوسرے طریقہ سے اور کچھ دوسرے الفاظ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ جس طریقہ سے کہ وہ سورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو نہیں سکھلائی اور یہ سورت مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی پڑھا چکے ہیں۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عمر تم ان کو چھوڑ دو۔ پھر فرمایا اے ہشام تم اس سورت کو پڑھو۔ چنانچہ انہوں نے اس طریقہ سے تلاوت فرمائی کہ جس طریقہ سے میں نے ان کو تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سورت (اسی طریقہ سے نازل ہوئی ہے) اے عمر! تم اس سورت کی تلاوت کرو۔ چنانچہ میں نے اس سورت کو اسی طریقہ سے تلاوت کیا کہ جس طریقہ سے مجھے پڑھایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورت اسی طریقہ سے نازل ہوئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم سات طریقہ سے نازل ہوا ہے تو تم جس طریقہ سے قرآن کریم کو آسان اور سہل محسوس کرو تو اسی کے مطابق تم تلاوت کرو۔

It was narrated that Ubayy bin Ka’b said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم taught me a Sarah, and when I was sitting in the Masjid I heard a man reciting it in a way that was different from mine. I said to him: ‘Who taught you this Sarah?’ He said: ‘The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم .‘ I said: ‘Stay with me until we go to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم .‘ So we came to him and I said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, this man recites a Siirah that you taught me differently.’ The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Recite, Ubayy.’ So I recited it, and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to me: ‘You have done well.’ Then he said to the man: ‘Recite.’ So he recited it and it was different to my recitation. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to him: ‘You have done well.’ Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Ubayy, the Qur’an has been revealed with seven different modes of recitation, all of which are good and sound.” Abu Abdur-Rahman said: Ma’qil bin ‘Ubaidullah is not that strong.

Permalink

See the full chapter: فضائل قرآن کریم