TrueHadith

باب ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

Jami' TirmidhiHadith 3826

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ وَکَانَ ثِقَةً عَنْ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَةَ قَالَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ فَقِيلَ لَهُ أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

عباس عنبری، یحیی بن کثیر عنبری ابوغسان، مسلم بن جعفر، حکم بن ابان، حضرت اکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس سے فجر کی نماز کے بعد کہا گیا نبی اکرم کی فلاں بیوی فوت ہوگئی ہیں۔ وہ فوراً سجدے میں گر گئے۔ ان سے کہا گیا آپ اس وقت سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا رسول اللہ نے نہیں فرمایا کہ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کیا کرو پس نبی اکرم کی ازواج مطہرات کے اٹھ جانے سے بڑھ کر کونسی نشانی ہوگی یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف اس سند سے جانتے ہیں۔

Sayyidina Ikrimah reported that Sayyidina Ibn Abbas was told after a salah of fajr that a certain wife of the Prophet (SAW) had died. He went down into prostration. Someone asked him, “Do you make prostration at this time?” He said, “Has not Allah’s Messenger (SAW) said, ‘When you see a sign, go down into prostration.’ So, which sign is greater than the departure of the wives of the Prophet (SAW)?" [Abu Dawud 1197]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3827

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا کِنَانَةُ قَالَ حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ کَلَامٌ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ أَلَا قُلْتِ فَکَيْفَ تَکُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ وَأَبِي هَارُونُ وَعَمِّي مُوسَی وَکَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا نَحْنُ أَکْرَمُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَقَالُوا نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَنَاتُ عَمِّهِ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْکُوفِيِّ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِکَ الْقَوِيِّ

بندار، عبدالصمد، ہاشم بن سعید کوفی، کنانہ، حضرت صفیہ بنت یحیی سے روایت ہے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے مجھے حضرت حفصہ اور عائشہ سے ایک بات پہنچی تھی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کو ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ان سے یوں نہیں کہا کہ تم مجھ سے بہتر کس طرح ہو سکتی ہو۔ میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میرے والد ہارون علیہ السلام ہیں اور میرے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ وہ بات یہ تھی کہ حضرت عائشہ اور حفصہ نے کہا تھا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ معزز ہیں۔ اس لئے کہ ہم آپ کی بیویاں بھی ہیں اور چچا کی بیٹیاں بھی۔ اس باب میں حضرت انس سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں۔

Sayyidah Safiyah bint Huyyay narrated: Allah’s Messenger (SAW) came to me and I had heard the comment of Hafsah and Ayshah. I mentioned that to him and he said to me, “Why did you not say, ‘How can you be better than me while my husband is Muhammad and father is Harun and uncle Musa?” That which she had heard was their saying, “We are more honourable than her in the sight of Allah’s Messenger (SAW). We are his wives and daughters of his uncle.’

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3829

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَکَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ فَقَالَتْ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّکِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّکِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْکِ ثُمَّ قَالَ اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

اسحاق بن منصور وعبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ثابت، حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ کو پتا چلا کہ حضرت حفصہ نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ یہودی کی بیٹی ہیں۔ اس پر صفیہ رونے لگیں۔ اتنے میں ان کے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ نے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ عرض کیا کہ حفصہ نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا کہ تم نبی کی بیٹی ہو تمہارے چچا نبی ہیں اور تم نبی کی بیوی ہو۔ پس وہ (یعنی حفصہ) تم پر کس بات میں فخر کرتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا حفصہ اللہ سے ڈرو۔ یہ حدیث سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

Sayyidina Anas reported that Sayyidah Safiyah (RA) had learnt that Sayyidah Hafsah commented (about her), ‘Daughter of a Jew.’ So, she wept, The Prophet (SAW) went to her and found her weeping. He asked her, ‘Why do you weep?” She said, “Hafsah says to me that lam the daughter of a Jew.” The Prophet (SAW) said, “And you are the daughter of a Prophet and your uncle was a Prophet and you are in marriage with a Prophet. So, of what does she boast over you?” Then he said, “Fear Allah, O Hafsah!” [Ahmed 12395]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3828

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَکَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِکَتْ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُکَائِهَا وَضَحِکِهَا قَالَتْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَکَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَائِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِکْتُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

محمد بن بشار، محمد بن خالد بن عثمہ، موسیٰ بن یعقوب زمعی، ہاشم بن ہاشم، عبداللہ بن وہب، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں سرگوشی کی۔ وہ رونے لگیں پھر دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگی۔ حضرت ام سلمہ فرماتیں ہیں کہ میں نے آپ کی وفات کے حضرت فاطمہ سے پہلے اور رونے اور بعد میں ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں فرمایا کہ پہلے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی وفات کی خبر دی جسے سن کر میں رونے لگی پھر فرمایا کہ جنت میں مریم بنت عمران کے علاوہ تمام عورتوں کی سرادر ہوگی یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

Sayyidah Umm Salamah reported that Allah’s Messenger (SAW) called Sayyidah Fatimah (RA) in the year of the conquest and confided something to her. She wept. Then he conversed with her and she laughed. When Allah’s Messenger (RA) died, she asked her about her weeping and her laughing, she said, “Allah’s Messenger informed me that he would die, so I wept. Then, he told me that I was the chief of the women of paradise, with the exception of Maryam, daughter of Imran, so I laughed.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3830

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُکُمْ خَيْرُکُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُکُمْ لِأَهْلِي وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُکُمْ فَدَعُوهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَا أَقَلَّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ الثَّوْرِيِّ وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا

محمد بن یحیی، محمد بن یوسف، سفیان، ہشام بن عروة، عروة، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے بہتر ہے اور میں تم سے سب سے اپنے گھر والوں کیلئے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے چھوڑ دو یعنی اس کی برائی سے یاد نہ کرو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور ہشام بن عورہ سے بھی ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً منقول ہے۔

Savyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger said, “The best of you is the best among you to his family and I am the best among you to my family. And when one of you dies, do not speak ill of him.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3831

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْوَلِيدِ عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَّمَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَی رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَقُولَانِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ فَتَثَبَّتُّ حِينَ سَمِعْتُهُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ دَعْنِي عَنْکَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَی بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ زِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلٌ

محمد بن یحیی، محمد بن یوسف، اسرائیل، ولید، زید بن زائدہ، حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص میرے صحابہ کے متعلق میرے سامنے ان کی برائی بیان نہ کرے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف جاؤں تو میرا دل ان کے بارے میں صاف ہو عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا تو آپ نے اسے تقسیم کیا اس کے بعد میں دو آدمیوں کے پاس گیا۔ وہ بیٹھے ہوئے کہہ رہے تھے اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا اور آخرت کا ارادہ نہیں کیا۔ جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بہت بری لگی۔ پس میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا تو آپ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا اور فرمایا مجھے چھوڑ دو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی۔ لیکن انہوں نے صبر کیا۔ یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے اور اس سند میں ایک شخص (روای) کا اضافہ ہے۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said “Let not anyone convey to me anything about one of my sahabah, for, I like to go out to them while I am clean-hearted.” Abdullah narrated: Once some property was brought to Allah’s Messenger (SAW) and he distributed it. I ended up with two men who were sitting and saying, “By Allah, Muhammad has no intention with this division to seek Allah’s pleasure or the home of the hereafter.” I felt very bad about it when I heard them, so I came to Allah’s Messenger (SAW) and informed him of that. His face turned red and he said, “Leave me alone. Indeed, Musa was annoyed more than this, yet he was patient.” [Abu Dawud 4860, Ahmed 3759]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3832

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ

محمد بن اسماعیل، عبیداللہ بن موسی، حسین بن محمد، اسرائیل، سدی، ولید بن ابی ہشام، زید بن زائدہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت کی محمد بن اسماعیل نے انہوں نے عبیداللہ بن موسیٰ سے اور حسین بن محمد سے انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے سدی سے انہوں نے ولید بن ابی ہشام سے انہوں نے زید بن زائدہ سے انہوں نے ابن مسعود سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث نقل کی ہے یعنی اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that the Prophet (SAW) said, “No one must convey to me anything about anyone.”

Permalink