TrueHadith

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

Musnad AhmadHadith 13598

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ الْقُطَيعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلُهَا فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتْ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ وَذَلِكَ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ مقام حرہ کے کسی شگاف سے طلوع ہوئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے آپ نے فرمایا خروج دجال کے وقت مدینہ منورہ بہترین زمین ہوگی اسکے ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہوگا جس کی وجہ سے دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوسکے گا۔ جب ایسا ہوگا تو مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور کوئی منافق " خواہ وہ مرد ہو یا عورت " ایسے نہیں رہیں گے جو نکل کر دجال کے پاس چلا جائے اور ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہوگی اسے " یوم التخصیص " کہا جائے گا کیونکہ یہ وہی دن ہو گا جس دن مدینہ منورہ اپنے میل کچیل کو اس طرح سے نکال دے گا جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے جن میں سے ہر ایک نے سبز رنگ کی ریشمی چادر تاج اور زیورات سے مزین تلوار پہن رکھی ہوگی وہ اس جگہ پر اپنا خیمہ لگائے گا جہاں اب بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے پھر فرمایا کہ اب سے پہلے اور قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ ہوا ہے اور نہ ہوگا اور ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلے اپنی امت کو نہیں بتائی ہوگی پھر آپ نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13599

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ تَبُلُّ الشَّعْرَ وَتَغْسِلُ الْبَشَرَةَ قَالَ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ قَالَ كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ قَالَ كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَ

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو لو انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13600

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَايَعْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13601

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَ الْقَدَحَ فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ يَمْسَحُوا وَيَمْسَحُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمْ حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ عُيُونَ الْمَاءِ يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھے اس وقت ہم لوگ دو سو سے کچھ زائد تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا ساپانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اوراس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا خوب اچھی طرح کامل وضو کرو اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13602

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ قُلْنَا أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ كُلُّهُ قَالَ فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَقَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَوْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ قَالَ لَا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ فَسَمِعْتُ مَنْ سَمِعَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ قَالَ حَسَنٌ قَالَ زُهَيْرٌ فَسَأَلْتُ يَاسِينَ مَا قَالَ قَالَ ثُمَّ لَمْ أَفْهَمْ كَلَامًا تَكَلَّمَ بِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ رَجُلًا فَقُلْتُ كَيْفَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفا مروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے ہم نے پوچھا اس صورت میں کیا چیزیں حلال ہو جائیں گی ؟ فرمایا سب چیزیں (جو احرام کی وجہ سے ممنوع ہو گئیں تھیں ) حلال ہو جائیں گی چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔ آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اس مرتبہ پہلے ہم نے طواف کیا اور سعی کافی ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ایک اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں اسی دوران حضرت سراقہ بن مالک بھی آگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں کیا عمرہ کاصرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے ہے پھر انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج کا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہوچکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہوگیا انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13603

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیت نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13604

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَحْتَبِ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسرے کو نہ ٹھیک کر وا لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13605

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ فَلَمَّا جُعِلَ مِنْبَرٌ حَنَّتْ حَنِينَ النَّاقَةِ إِلَى وَلَدِهَا فَأَتَاهَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13606

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13607

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ أَوْ يَحْتَبِ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ أَوْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کاتسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کروا لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13608

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ رَأَيْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ عِنْدَ أَبِي الزُّبَيْرِ قَائِمًا وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ قَالَ وَإِيشِ قَالَ

زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اشعث بن سوار کو ابوالزبیر کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے فرمایا ؟ کیسے فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13609

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہوتی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے پھر فرمایا اے گروہ خواتین جب مرد سجدے میں جایا کریں تو اپنی نگاہ پست رکھیں اور تہبندوں کے سوراخوں میں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13610

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ بَرَكَ بِهِ بَعِيرٌ قَدْ أَزْحَفَ بِهِ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَا لَكَ يَا جَابِرُ فَأَخْبَرَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ يَا جَابِرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَقُومُ فَقَالَ لَهُ ارْكَبْ فَرَكِبَ جَابِرٌ الْبَعِيرَ ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ بِرِجْلِهِ فَوَثَبَ الْبَعِيرُ وَثْبَةً لَوْلَا أَنَّ جَابِرًا تَعَلَّقَ بِالْبَعِيرِ لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ تَقَدَّمْ يَا جَابِرُ الْآنَ عَلَى أَهْلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى تَجِدْهُمْ قَدْ يَسَّرُوا لَكَ كَذَا وَكَذَا حَتَّى ذَكَرَ الْفُرُشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ

ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو پوچھا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں کیا ہوا انہوں نے سارا ماجرا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آئے اور فرمایا جابر رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہو جاؤ وہ کہنے لگے کہ یارسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو کھڑا ہی نہیں ہوسکتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہا اس پر سوار ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اونٹ اس طرح اچھل کر کھڑا ہوگیا کہ اگر حضرت جابر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نہ چمٹ گئے ہوتے تو گر جاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ اب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تم دیکھو گے کہ انہوں نے تمہارے لئے فلاں فلاں چیز تیار کی ہے حتی کہ بستر کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک عورت کا ہوتا ہے ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13611

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آجائے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13612

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13613

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13614

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد میں پتھر استعمال کرنا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13615

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَيْ جَابِرٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِهِ شَقَّ قَمِيصَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ وَاعَدْتُهُمْ يُقَلِّدُونَ هَدْيًا الْيَوْمَ فَنَسِيتُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے اپنی قمیص چاک کر دی اور اسے اتار دیا کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ میں نے لوگوں سے یہ وعدہ کر رکھا ہے وہ آج ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھیں گے میں وہ بھول گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13616

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلَا وَلِيَنْحَرْ حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13617

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ فَأَمَّا إِذَا قَالَ هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عمرے کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہو گئی ہے اور اگر یہ شخص یہ کہتا ہے یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لیے ہے آپ کی ہوگئی تو وہ چیز مالک کے پاس لوٹ جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13618

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَزَوَّجْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ لَا بَلْ ثَيِّبًا لِي أَخَوَاتٌ وَعَمَّاتٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ قَالَ أَفَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا قَالَ لَكُمْ أَنْمَاطٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى فَقَالَ خَفْ أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ نَعَمْ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَتْرُكُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مربتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے ۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ نکاح کیا تم اس سے کھیلتے؟ پھر فرمایا کہ عنقریب تمہیں اونی کپڑے ملیں گے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کہاں سے ؟ فرمایا عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے اب آج وہ مجھے مل گئے ہیں تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھو تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13619

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ عَلَى دُبُرٍ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَا أَبْتَاعُهُ فَابْتَاعَهُ فَقَالَ عَمْرٌو قَالَ جَابِرٌ غُلَامٌ قِبْطِيٌّ وَمَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ زَادَ فِيهَا أَبُو الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی سامان نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس حالت کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا نعیم بن عبداللہ کہنے لگے کہ میں اسے خریدتا ہوں چنانچہ انہوں نے اسے خرید لیا وہ غلام قبطی تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13620

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ وَقَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ لِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ نَبِيذًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13621

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّشْرَةِ فَقَالَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منتر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ شیطانی عمل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13622

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَرَأَيْتُ أَنَا جَابِرًا يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ وَرَأَيْتُ جَابِرًا يُصَلِّي وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا الزُّبَيْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13623

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ بْنُ عَقِيلٍ قَالَ ذَهَبْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَقِيلٍ وَكَانَ عَسِرًا لَا يُوصَلُ إِلَيْهِ فَأَقَمْتُ عَلَى بَابِهِ بِالْيَمَنِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ وَكَانَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ فَلَمْ أَقْدِرْ أَنْ أَسْمَعَهَا مِنْ عُسْرِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ لِأَنَّهُ كَانَ حَيًّا أَفَلَمْ أَسْمَعْهَا مِنْ أَحَدٍ آخَرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید انصاری صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنت البقیع میں تھے آپ نے فرمایا تم اسے ڈھک کر کیوں نہ لائے اگرچہ لکڑی ہی سے ڈھک لیتے۔امام احمد فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ابراہیم بن عقیل کے پاس گیا وہ مقروض یا تنگدست تھے جس کی بناء پر ان تک پہنچ حاصل نہ ہوتی تھی میں یمن میں ان کے گھر کے دروازے پر ایک یا دو دن تک کھڑا رہا کہیں جا کر ان سے مل سکا لیکن انہوں نے مجھے صرف دو حدیثیں سنائیں حالانکہ انکے پاس وہب کے حوالے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بہت سی حدیثیں تھیں لیکن اس مجبوری کی وجہ سے میں ان کی زیادہ حدیثیں نہ سن سکا۔ یہ حدیثیں ہم سے اسماعیل بن عبدالکریم نے بھی بیان نہیں کی تھیں کیونکہ وہ زندہ تھے اور میں نے کسی دوسرے آدمی سے وہ حدیثیں نہیں سنیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13624

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ میں جاتے تو اپنے پہلوؤں کو اپنے پیٹ سے اتنا جدا رکھتے کہ آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13625

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور اس دوران نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13626

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ عَبَّاسٌ اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنْ الْحِجَارَةِ فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ إِزَارِي إِزَارِي فَشُدَّ عَلَيْهِ إِزَارُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہوجائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بے ہوش کر گر پڑے اور آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13627

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں گے تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے ، اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13628

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ مِنْبَرُهُ اسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَنَتْ وَقَالَ رَوْحٌ فَسَكَتَتْ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَاضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ وَقَالَ رَوْحٌ اضْطَرَبَتْ كَحَنِينِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے کے سہارے خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لیے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13629

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13630

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13631

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى سُئِلَ جَابِرٌ عَنْ الْكَفَنِ فَأَخْبَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا قُبِضَ وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کا ذکر کیا جو فوت ہوگئے تھے اور انہیں غیرضروری کفن میں کفنا کر رات کے وقت دفنایا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت تدفین سے سخت منع فرمایا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے الا یہ کہ انسان بہت زیادہ مجبور ہو جائے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13632

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ قَالَ فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13633

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُقَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13634

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُجَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13635

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنْ الْحَبَشِ هَلُمَّ فَصُفُّوا قَالَ فَصَفَفْنَا فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ و قَالَ اسْمُ النَّجَاشِيِّ أَصْحَمَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی شاہ حبشہ نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے آؤ صفیں باندھو چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں نجاشی کا نام اصحمہ بھی مذکور ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13636

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ تَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں داخل ہوئے وہاں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دیں جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوئے تھے اور انہیں اپنی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر وہاں سے نکل آئے اور صحابہ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13637

قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَوْضُوعَةٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کا جنازہ رکھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13638

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ

محمد بن عباد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک مربتہ جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا ہاں اس گھر کے رب کی قسم۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13639

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13640

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السُّجُودَ مِنْ الرَّكْعَةِ وَيُومِئُ إِيمَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر ہر سمت میں نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے البتہ آپ رکوع کی نسبت سجدہ زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے اور اشارہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13641

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم ہوا ہو جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13642

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ دَيْنًا فَإِلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس کے لیے جو شخص مقروض ہو کر فوت ہو اس کا قرض میرے ذمے ہے اور جو شخص مال و دولت چھو ڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13643

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَسَأَلَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا نَعَمْ دِينَارَانِ قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھاتے تھے چنانچہ ایک میت لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ اپنے ساتھی کی نمازہ جنازہ خود ہی پڑھ لو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کا قرض میرے ذمے ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی پھر جب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص مقروض ہو کر میرے ذمے ہے اور جو شخص دولت چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء ہی کا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13644

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ وَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا فَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا فَعَقَرُوهَا فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهْمَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قِيلَ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَبُو رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قوم ثمود کے کھنڈرات پر ہوا تو فرمایا کہ معجزات کا سوال نہ کیا کرو کیونکہ قوم صالح نے بھی اس کا مطالبہ کیا تھا (جس پر اللہ نے ایک اونٹنی ان کی فرمائش کے مطابق بھیج دی ) وہ اونٹنی اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے نکل جاتی تھی لیکن قوم ثمود نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے پاؤں کاٹ ڈالے حالانکہ وہ اونٹنی ایک دن کا پانی پیتی تھی اور ایک دن وہ اس کا دودھ پیتے تھے لیکن جب انہوں نے اس کے پاؤں کاٹے تو ایک آسمانی چیخ نے انہیں پکڑا اور آسمان کے سائے تلے ایک شخص بھی زندہ نہ بچا سوائے اس آدمی کے جو حرم شریف میں تھا کسی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ " ابو رغال " تھا جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی اسی عذاب نے آ پکڑا جو اس کی قوم پر آیا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13645

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍض

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے چالیس ہزار وسق کھجوریں کٹوائیں ان کے خیال کے مطابق انہوں نے جب یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل لے لیا اور ان پر بیس ہزار وسق واجب ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13646

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13647

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً قَالَ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتْخَهَا وَيُلْقِينَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَتْخَتَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی نماز کے بعد لوگوں سے خطاب کیا اور فارغ ہونے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اس دوران آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر ٹیک لگائی ہوئی تھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں خواتین صدقات ڈالتی جا رہیں تھیں حتی کہ بعض خواتین نے اپنی بالیاں تک ڈال دیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13648

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نظر ایک مرتبہ ایک گدھے پر پڑھی جس کے چہرے پر داغا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کرنے والے پر خدا کی لعنت ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13649

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَا أَشُكُّ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ فَقَالَ حَلَالٌ فَقُلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اسے حلال قرار دیا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13650

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13651

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ جَابِرٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل منت کو پورا نہ کیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13652

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل منت کو پورا نہ کیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13653

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ قَتْلَى أُحُدٍ حُمِلُوا مِنْ مَكَانِهِمْ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شہدا احد کو ان کی جگہ سے اٹھایا جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ شہدا کو ان کی اپنی جگہوں پر واپس پہنچا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13654

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَأَتَيْتُهُ كَأَنِّي شَرَارَةٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ لِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ اكْتُبْ عَنِّي وَلَوْ حَدِيثًا وَاحِدًا مِنْ غَيْرِ كِتَابٍ فَقُلْتُ لَا وَلَا حَرْفًا قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ وَكِيعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَذَكَرَ عَبْدَ الرَّزَّاقِ فَقَالَ يُشْبِهُ رِجَالَ أَهْلِ الْعِرَاقِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ وَمَا كَانَ فِي قَرْيَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِئْرٌ فَكُنَّا نَذْهَبُ نُبَكِّرُ عَلَى مِيلَيْنِ نَتَوَضَّأُ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْمَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے قرض کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں آگ کا شعلہ بنا ہوا تھا۔ یحیی بن معین کہتے ہیں کہ مجھ سے عبدالرزاق نے فرمایا کہ میرے حوالے سے ایک ایک حدیث بھی ہو تو وہ لکھ لیا کرو خواہ کتاب میں نہ بھی ہو میں نے عرض کیا نہیں ایک حروف بھی نہیں ۔اور فرمایا میں نے سفیان بن وکیع سے سنا انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ عبدالرزاق اہل عراق میں بہترین آدمی تھے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ عبدالرزاق کی بستی میں کنواں نہیں تھا ہم صبح سویرے دو میل دور جا کر وضو کرتے اور وہاں سے پانی بھر کر لاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13655

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الْإِسْكَافُ إِنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سلیک آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے مختصر دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13656

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13657

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا حَدَّثَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نَهَوْا عَنْ الصَّرْفِ وَرَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ

حضرت ابوسعید جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13658

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13659

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13660

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے میری شادی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13661

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنگ قتال کا نام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13662

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَرَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَحْتَبِيَنَّ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ أَوَضْعُهُ رِجْلَهُ عَلَى الرُّكْبَةِ مُسْتَلْقِيًا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَّا الصَّمَّاءُ فَهِيَ إِحْدَى اللِّبْسَتَيْنِ تَجْعَلُ دَاخِلَةَ إِزَارِكَ وَخَارِجَتَهُ عَلَى إِحْدَى عَاتِقَيْكَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ مُفْضِيًا قَالَ كَذَلِكَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ قَالَ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرٌو لِي مُفْضِيًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کے چلے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13663

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نَهَوْا عَنْ الصَّرْفِ رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید جابر رضی اللہ عنہا اور ابوہریرہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13664

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلَهُمْ رَكْعَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو صلوۃ الخوف پڑھائی ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی ہو گئی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آپ نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ یہاں آ کر ان کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور ان لوگوں کی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ) ایک ایک رکعت ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13665

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ

سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم ایک لاکھ کی تعداد میں بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا ہماری تعداد صرف ڈیڑھ ہزار تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13666

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابونضرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس متعہ کی اجازت دیتے تھے اور حضرت عبداللہ بن زبیر اسکی ممانعت فرماتے تھے میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں متعہ کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13667

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیداہو ا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13668

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13669

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتَ فَعَلَيْكَ الْكَيْسَ وَالْكَيْسَ

اور فرمایا جب گھر پہنچ جاؤ تو ہر وقت قربت کی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13670

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا قَالَ مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ أَنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں میں لگائی ہوئی ہے ؟گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13671

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ أَوْ قَالَ صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا یا بہانے کا حکم دے دیا مجھے ہوش آ گیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے " کلالہ " کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہو گی ؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13672

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي قَالَ جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَنْهَوْنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ تُظَلِّلُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب شہید ہوئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کر دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا میری پھوپھی فاطمہ بنت عمرو رونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آہ و بکاہ نہ کرو فرشتے اس پر اپنے پروں سے مسلسل سائے کیے رہے یہاں تک کہ تم نے اسے ہٹا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13673

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مِخْوَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنو ہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہنے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13674

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ لَا تُغَسِّلُوهُمْ فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہدا احد کے متعلق فرمایا کہ انہیں غسل مت دو کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم اور خون سے مشک آ رہی ہو گی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13675

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَتْ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَهُ الصَّلَاةَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذٌ الْبَقَرَةَ أَوْ النِّسَاءَ مُحَارِبٌ الَّذِي يَشُكُّ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ ذَلِكَ صَلَّى ثُمَّ خَرَجَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ قَالَ حَجَّاجٌ يَنَالُ مِنْهُ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ وَقَالَ حَجَّاجٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ فَلَوْلَا قَرَأْتَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا فَصَلَّى وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفُ أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِي يَشُكُّ فِي الضَّعِيفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ک ایک مرتبہ ایک انصاری نماز کے لیے آیا اس کے ساتھ اس کے دو پانی والے اونٹ بھی تھے سورج غروب ہو چکا تھا اور حضرت معاذ بن جبل مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے وہ بھی نماز میں شریک ہوگیا ادھر حضرت معاذ نے سورت بقرہ یا سورت النساء شروع کی اس آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے پتہ چلا کہ حضرت معاذ نے اس کے متعلق کچھ کہا ہے اس نے یہ بات جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے ؟ کہ تمہارے پیچھے بوڑھے ضرورت مند اور کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13676

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا أَوْ قَالَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اپنے گھر واپس آنے کو (مسافر کے لئے) اچھا نہیں سمجھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13677

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا لِي فِي سَفَرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ وَزَنَ لِي قَالَ شُعْبَةُ أَوْ أَمَرَ فَوُزِنَ لِي فَأَرْجَحَ لِي فَمَا زَالَ عِنْدِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اونٹ بھیج دیا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ پھر آپ نے مجھے وزن کر کے پیسے دینے کا حکم دیا اور جھکتا ہوا تولا اور ہمیشہ میرے پاس اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور رہا حالانکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13678

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمًا فِي سَفَرٍ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ قَالُوا هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہاہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13679

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ طُرُوقًا فَقَالَ جَابِرٌ فَوَاللَّهِ لَقَدْ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بخدا ہم ان کے بعد رات کو اپنے گھروں میں داخل ہونے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13680

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لِي فَأَعْيَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَدَعَا لَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ وَقَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ فَكَرِهْتُ أَنْ أَبِيعَهُ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ مِنْهُ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَقَالَ ظَنَنْتَ حِينَ مَاكَسْتُكَ أَنْ أَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ هُمَا لَكَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ وَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں اپنے ایک تھکے ہوئے اونٹ پر چلا جارہا تھا میں نے سوچا کہ اس اونٹ کو آزاد کر کے کسی جنگل میں چھوڑ دوں کہ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آ پہنچے اور اسے اپنی ٹانگ سے ٹھوکر مار کر اس کے لئے دعاء کی وہ یکدم ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اونٹ مجھے ایک او قیہ چاندی کے عوض بیچ دو میں نے اسے فروخت کرنامناسب نہ سمجھا لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ یہ مجھے بیچ دو تو میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور یہ شرط کر لی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا واپس پہنچنے کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت میں تم سے سودا کر رہا تھا تو تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں تمہارے اونٹ کو لے جاؤں گا اپنا اونٹ اور قیمت دونوں لے جاؤ یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13681

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ح وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا فَمَاتَتْ فَجَاءَ إِخْوَتُهُ فَقَالُوا نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ فَأَبَى فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار آدمی نے اپنی والدہ کو تا قیامت کھجور کا ایک باغ دے دیا جب اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائی آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب کا اس میں برابر کا حصہ ہے لیکن اس نے انکار کر دیا لوگ یہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سب کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13682

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ أَوْ اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ رِجْلَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیٹھے یا چت لیٹے تو ایک ٹانگ پردوسری ٹانگ نہ رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13683

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13684

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ انمار میں اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13685

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13686

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فِي الْفَجْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ الْمَغْرِبَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَتَّانًا أَفَتَّانًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل نے لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے ہوئے اس میں سورت بقرہ شروع کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذتم لو گوں کوفتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13687

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13688

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ وَاحِدَةٌ وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران نماز کنکریاں ہٹانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ صرف ایک مرتبہ برابر کر سکتے ہو اور اگر یہ بھی نہ کرو تو یہ تمہارے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13689

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر کھجور کی ایک شاخ یا تنے پر گر گئے اور پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہم بھی اس میں شریک ہوئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام کو تو مقرر ہی اس لیے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لیے اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ رہا کرو جیسا کہ اہل فارس اپنے روساء اور بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13690

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ قَالَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ قَالَ بَلَى قَالَ فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا قَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنْ الذِّكْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کجھور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک انصاری عورت جس کا غلام بڑھی تھا اس نے کہا یا رسول اللہ میرا غلام بڑھائی ہے کیا میں اسے آپ کے لیے منبر بنانے کا حکم نہ دیدوں کہ اس پر خطبہ ارشاد فرمایا کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں چنانچہ منبر تیار ہو گیا اور جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطبہ دینے کے لیے تشریف فرما ہوئے تو وہ ستون جس کے ساتھ آپ ٹیک لگایا کرتے تھے بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس لیے رو رہا ہے کہ ذکر الہی اس کے پاس سے مفقود ہو گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13691

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَهُ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصہ ہی میں وتر پڑھ لینا چاہیے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13692

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے ساتھی بھی چھوڑ کر آئے ہو جو وادی بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر بھی چلتے ہو وہ اجر و ثواب میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوتے ہیں انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13693

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَه إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي بِهَا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَّكِرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں ۔ جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کلمہ حق کے اور ان کے حساب اللہ کے ذمہ ہو گا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " آپ نصیحت کیجیے کیونکہ آپ کا کام ہی نصیحت ہی کرنا ہے کیونکہ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13694

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کونسا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13695

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنْ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُشُّوهَا بِالْمَاءِ فَرَشُّوهَا ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ أَوْ الْمِسْحَاةَ ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَضَرَبَ ثَلَاثًا فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ قَالَ جَابِرٌ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کھودنے کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر تین دن اس حال میں گذر گئے کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چکھی خندق کھودتے ہوئے ایک موقع پر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہاں پر پہاڑ کی ایک چٹان آگئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی چھڑک دو انہوں نے اس پر پانی چھڑک دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کدال پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اس پر تین ضربیں لگائیں اسی لمحے وہ چٹان ٹوٹ کر ریت کا ٹیلہ بن گئی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے غور کیا تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھ رکھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13696

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ أَوْ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13697

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرُوا جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً وَقَالَ مَرَّةً نَحَرْتُ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13698

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَمَّنْ سَمِعَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ایسے غلام کو بیچے جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہوگا۔ الایہ کہ مشتری شرط لگا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13699

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو بیچا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13700

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ وَسُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو بیچا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13701

قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو بیچا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13702

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وادی محسر کو اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13703

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہیے اور شیطان کو کنکریاں ٹھیکری کی بنی ہوئی مارا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13704

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا حَفَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الْخَنْدَقَ أَصَابَهُمْ جَهْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَبَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنْ الْجُوعِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر بڑے سخت حالات آئے کہ بھوک کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن مبارک پر پتھر باندھ رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13705

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ فِي الْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے جب تک اپنی انگلیاں خود نہ چاٹ لے یا کسی دوسرے کو چاٹنے کاموقع نہ دے اپنے ہاتھ تولیے سے صاف نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13706

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا کھانا چار آدمیوں اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13707

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنی والی ہر چیز کو ہٹا کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13708

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13709

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجْتُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا قَالَ قُلْتُ أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ قَالَ أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ وَأَنَا أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي نَمَطَكِ فَتَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے شادی کرلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اونی کپڑے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے پاس کہاں ۔ فرمایا کہ عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے اور آج مجھے وہ مل گئے۔ تو میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ میں یہ اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھوں بیوی نے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے (یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13710

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنے نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو کیونکہ میں ابوقاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13711

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ فِطْرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا أَبْوَابَكُمْ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ يَعْنِي الْفَأْرَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کرلیا کرو اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغ بجھا دیا کرو اور مشکیزوں کامنہ باندھ دیا کرو کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13712

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حج کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13713

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو اگر کوئی شخص کسی کو زندگی بھر کے لیے کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13714

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ خَالِي يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى أَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَى وَإِنِّي أَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَقَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتر اور جھاڑ پھونک کی ممانعت فرمائی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمادیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتاہو اسے ایسے ہی کرنا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13715

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا أَنْ يُخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت بلا اطلاع گھر آنے سے مسافر کے لیے منع فرمایا ہے کہ انسان ان سے خیانت کرے یا ان کی غلطیاں تلاش کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13716

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ وَسُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ افضل جہاد کون سا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سی نماز سب سے افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لمبی نماز۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13717

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَوَزَنَ لِي ثَمَنَهُ وَأَرْجَحَ لِي قَالَ فَقَالَ لِي هَلْ صَلَّيْتَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرا اونٹ خرید لیا اور آپ نے مجھے وزن کر کے پیسے دیے اور جھکتا ہوا تولا اور مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں جا کر دو رکعتیں پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13718

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر میرا کچھ قرض تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے ادا کردیا اور زائد بھی عطا کردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13719

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاتے تو صحابہ کرام آپ کے آگے چلا کرتے اور آپ کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13720

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ح وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا جَابِرُ أَتَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ فَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لَدِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مربتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے ۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ نکاح کیا تم اسے سے کھیلتے؟ پھر فرمایا کہ عورت سے نکاح اس کے دین مال اور حسن وجمال کی وجہ سے کیا جاتا ہے تم دین دار کو اپنے لیے منتخب کیا کرو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13721

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي لَفَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ فَفَعَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَوْ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ وَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ بِالْحَجِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم لوگ ذی الحجہ کی چار تاریخ کو گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ کا احرام بنا لیں اس پر ہمارے دل کچھ بوجھل ہوئے اور یہ بات ہمیں بری محسوس ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ لوگو احرام کھول کر حلال ہوجاؤ اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو یہی کرتا جو تم کرو گے چنانچہ ہم نے ایساہی کیا حتی کہ ہم نے اپنی عورتوں سے بھی وہی کیا جو غیر محرم کرسکتا ہے یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی شام یا دن ہوا تو ہم نے مکہ مکرمہ کو اپنی پشت پر رکھا اور حج کاتلبیہ پڑھ کر روانہ ہوئے۔گذشتہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13722

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُنْبَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کی کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13723

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ابتداء نماز عشاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھا دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13724

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُؤَاجِرْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہے تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13725

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ و حَدَّثَنَاه أَبُو دَاوُدَ عَنْ سُفْيَانَ نَحْوَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمری اس کے لیے جائز ہے جس کے لیے ہبہ کیا گیا ہو۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13726

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا قَالَ فَلَا إِذًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا توانصار کہنے لگے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13727

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي قَالَ فَقَالَ آتِيكُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ قَالَ فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا فَقَالَ يَا جَابِرُ كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ قَالَتْ تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلَا يَدْعُو لَنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد صاحب کے قرض کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آؤں گا میں نے واپس جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوالے سے کوئی بات کرنا اور نہ ہی سوال کرنا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے اپنی ایک بکری ذبح کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت کے ساتھ ہمارے تعلق خاطر کا پتہ لگ گیا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو میری بیوی نے کہا یا رسول اللہ میرے لیے اور میرے خاوند کے لیے دعا فرما دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا اس نے کہا کہ دیکھو تو سہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے لیے دعا بھی نہ فرمائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13728

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ الظُّهْرُ كَاسْمِهَا وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبُ كَاسْمِهَا وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ وَالْفَجْرُ كَاسْمِهَا وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر اپنے نام کی طرح ہے نماز عصر سورج کے روشن اور تازہ دم ہونے کا نام ہے نماز مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے ادا کرتے تھے اور نماز فجر بھی اپنے نام کی طرح ہی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13729

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ وَيَرْحَمُهُنَّ وَيَكْفُلُهُنَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ قَالَ فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ لَوْ قَالُوا لَهُ وَاحِدَةً لَقَالَ وَاحِدَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں جن کی رہائش ان پر شفقت اور کفالت وہ کرتا ہو اس کے لیے جنت یقینی طور پر واجب ہو جائے گی کس نے پوچھا یا رسول اللہ اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں فرمایا پھر بھی یہی حکم ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ ایک کے متعلق سوال کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرما دیتے کہ ایک بیٹی ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13730

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا رَجَعْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے واپسی پر جب ہم شہر میں داخل ہونے لگے تو فرمایا ٹھہرو رات کو شہر میں داخل ہوں گے یعنی مغرب کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کرلے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13731

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لَا نُكَنِّيكَ بِهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا لَهُ فَقَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا بَيْنَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام قاسم رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کنیت نہیں رکھنے دیں گے تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کردریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13732

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل اور ایک مد سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13733

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَاشْتَرَى مِنِّي بَعِيرًا فَجَعَلَ لِي ظَهْرَهُ حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَتَيْتُهُ بِالْبَعِيرِ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ وَأَمَرَ لِي بِالثَّمَنِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَحِقَنِي قَالَ قُلْتُ قَدْ بَدَا لَهُ قَالَ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ دَفَعَ إِلَيَّ الْبَعِيرَ وَقَالَ هُوَ لَكَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَجَعَلَ يَعْجَبُ قَالَ فَقَالَ اشْتَرَى مِنْكَ الْبَعِيرَ وَدَفَعَ إِلَيْكَ الثَّمَنَ وَوَهَبَهُ لَكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرا اونٹ خرید لیا اور مجھے مدینہ منورہ تک اس پر سواری کی اجازت دیدی مدینہ واپسی کے بعد میں وہ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیمت ادا کر دی اور میں واپس ہو گیا راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مجھے آ ملے میں نے سوچا کہ شاید آپ کی رائے بدل گئی ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ میرے حوالے کردیا فرمایا کہ یہ بھی تمہارا ہوا اتفاقا میرا گذر ایک یہودی کے پاس سے ہوا میں نے اسے یہ واقعہ بتایا تو وہ تعجب کرنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے اونٹ خریدا پھرا سکی قیمت ادا کردی اور وہ اونٹ بھی تمہیں ہبہ کر دیا میں نے کہا جی ہاں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13734

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رُمِيَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَوْمَ أُحُدٍ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُوِيَ عَلَى أَكْحَلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن ایک تیر حضرت ابی بن کعب کے بازو کی ایک رگ میں آ لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کے بازو کو داغ دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13735

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يَنْتَظِرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پڑوسی اپنے پڑوسی کے مکان پر شفعہ کا زیادہ حق رکھتا ہے اگر وہ غائب ہو جائے تو اس کا انتظار کیا جائے گا جبکہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13736

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لیے جائز ہے اور رقبی اس کے اہل کے لیے جائز ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13737

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13738

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَنَفِدَ زَادُنَا فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ فَمَنَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلُوا قَالَ فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سفر میں حضرت ابوعبیدہ کے ساتھ بھیجا راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا اسی دوران ہمارا گذر ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی ہم نے اسے کھانا چاہا لیکن حضرت ابوعبیدہ نے پہلے تو ہمیں منع کر دیا پھر فرمایا کہ کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد اور اللہ کے راستے میں نکلے ہیں اس لیے اسے کھالو چنانچہ ہم کئی دن اسے کھاتے رہے اور واپس آنے کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کا تذکرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کا کچھ حصہ تمہارے پاس بچا ہوا تو وہ ہمیں بھی بھیجو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13739

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ الْعَمَلُ أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ فَقَالَ بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سراقہ بن مالک آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ عمل کس مقصد کے لیے ہے کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو گئے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا ہے یا پھر ہم خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا ہے انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائد؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لیے اس عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13740

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13741

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِيهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کو جاتا ہے وہ رحمت الہی میں گھستاجاتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس جا کر بیٹھ جائے اور جب بیٹھ جائے تو اس میں غوطہ زنی کرنے لگتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13742

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13743

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَكَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّئُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا ان سب حضرات نے نیا وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13744

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے کھلانے والے اس کے گواہوں اور منشی پر لعنت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13745

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَكَانَ النَّبِيُّ إِنَّمَا يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی مجھے ہر سرخ وسیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مخصوص قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف عمودی طور پر بھیجا گیا ہے۔ ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں رہا۔ رعب کے ذریعے ایک مہینے کی مسافت پر میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے روئے زمین کو پاکیزہ بخش اور مسجد قرار دیا گیا ہے اس لیے جس شخص کو جہاں بھی نماز ملے وہ وہیں نماز پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13746

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور با سعادت میں اس بات سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ مشترکہ طور پر سات آدمی ایک گائے کی قربانی دیدیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13747

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ غُسْلٌ فِي سَبْعَةِ أَيَّامٍ كُلَّ جُمُعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر سات دنوں میں جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13748

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشکیزہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشیکزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13749

قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دبائ، نقیر، سبز مٹکا اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13750

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخِيرًا يَعْنِي النِّسَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے حتی کہ بعد میں حضرت عمر نے اس کی ممانعت فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13751

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے اگرخود نہیں کرسکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے کرایہ پر نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13752

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمری اس کے لیے جائز ہے جسے وہ ہبہ کر دیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13753

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ مِنْهَا يَعْنِي أَجْرًا وَمَا أَكَلَتْ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13754

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے توسواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13755

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ وَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور با سعادت میں جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی کا کوئی مال نہ تھا میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا نعیم بن عبداللہ نے اسے اٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اس شخص کو دیدیے اور فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کوئی تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13756

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَتَى سَرِفَ وَهِيَ تِسْعَةُ أَمْيَالٍ مِنْ مَكَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مکہ مکرمہ سے غروب آفتاب کے وقت روانہ ہوئے لیکن نماز مقام سرف میں پہنچ کر پڑھی جو مکہ مکرمہ سے نو میل کی مسافت پر واقع ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13757

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ الْمَكْتُوبَاتِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13758

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13759

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَجِدُّوا وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمْ الْغِيلَانُ فَنَادُوا بِالْأَذَانِ وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سرسبز وشاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرو اور منزل سے آگے نہ بڑھا کرو اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گذر جایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے اور اگر راستے سے بھٹک جاؤ تو اذان دیا کرو نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور یہاں قضا حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13760

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ بِالْعِرَاقِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ كَانَ أَبِي قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَلَمْ يُوَافِقْ أَحَدٌ الثَّقَفِيَّ عَلَى جَابِرٍ فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَرَأَهُ عَلَيَّ وَكَتَبَ عَلَيْهِ هُوَ صَحَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا (گویا قسم کو دوسرا گواہ تسلیم کر لیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13761

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَنِّي أَسْتَقْبِلُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتُدْبِرَ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا فَقَالَ أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا اس دن سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت طلحہ کے کسی کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا حضرت علی یمن سے آئے تھے تو ان کے پاس بھی ہدی کا جانور تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اسی نیت سے احرام باندھا تھا جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر طواف سعی کر لیں پھر بال کٹوا کر حلال ہو جائیں البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کریں اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم منی کی طرف روانہ ہوں توہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئیں تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا حضرت عائشہ اس دوران میں تھیں چنانچہ انہوں نے سارے مناسک حج توادا کر لے البتہ طواف نہیں کیا اور جب فارغ ہو گئیں تو طواف کر لیا اور کہنے لگے یارسول اللہ آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چنانچہ حضرت عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ یہ حکم آپ کے لئے خاص ہے؟ فرمایا یہی حکم ہمیشہ کے لئے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13762

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ رَوْحٌ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْيٍ كَانَ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈیاں یا کمر میں موچ آ جانے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13763

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ بِشَهْرٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ أَوْ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ الْيَوْمَ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گذرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13764

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا قَالَ فَحَنَّ الْجِذْعُ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ یا تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا کہ مسجد میں موجود سارے لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس نہ جاتے تو وہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13765

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ح وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنُهَاقَ الْحَمِيرِ مِنْ اللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتْ الرِّجْلُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ فِي لَيْلِهِ مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَغَطُّوا الْجِرَارَ وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ قَالَ يَزِيدُ وَأَوْكِئُوا الْقِرَبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے یا گدھے کے چلانے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ یہ جانور وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھ سکتے جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کرو کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت سی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے دروازے بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا کرو کیونکہ جس دروازے کو بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا جائے اسے شیطان نہیں کھول سکتا مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو مٹکے ڈھک دیا کرو اور برتنوں کو اوندھا کر دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13766

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہو ا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلو م کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کوچمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13767

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ قَالَ مَحْمُودٌ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَوَاحِدٌ لَقَالَ وَوَاحِدٌ قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَاكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہو گا ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اگر کسی کے دو بچے فوت ہو جائیں تو ؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ ایک کا بھی یہی حکم ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمادیا بخدا میر ابھی یہی خیال ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13768

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَنَفِدَ زَادُنَا فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فَجَعَلَهُ فِي مِزْوَدٍ فَكَانَ يُقِيتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَمَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ قَالَ قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ ذَهَبَتْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّاحِلِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ الْعَظِيمِ قَالَ فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُمَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ فَمَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ يُصِبْهَا شَيْءٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو افراد پر مشتمل ایک دستہ بھیجا اور ان پر حضرت ابوعبید بن جراح کو امیر مقرر کردیا راستے میں ہمارا زاد سفرختم ہوگیا حضرت ابوعبید نے تمام لوگوں کا توشہ ایک برتن میں اکٹھا کیا اور اس میں سے کھانے کے لیے دیتے رہے ہمیں روزانہ کی صرف ایک کھجور ملتی تھی ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوعبداللہ ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا یہ تو ہمیں اس وقت پتہ چلا جب وہ ایک کھجور بھی ملناختم ہو گئی اسی دوران ہمارا گذر بڑے ٹیلے کی مانند ایک بہت بڑی مچھلی پر ہو ا جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی لشکر اسے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے پھر حضرت عبید نے اس مچھلی کی دو پسلیاں لے کر انہیں نصب کیا پھر ایک سواری کو اس کے نیچے سے گذارا تو پھر بھی وہ اس کی پسلی سے نہیں ٹکرایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13769

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى ح وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْمَعْنَى قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ قَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَذَكَرَ أَيْضًا قَالَ فَنَظَرْتُ فَوْقِي فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

یحیی بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون ساحصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہاہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینہ تک غار حراکا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پو ری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں حضرت جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13770

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ يُنْتَبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ فَتَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر وہ مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13771

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال پوچھا تو آپ نے فرمایا ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلا دینا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13772

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13773

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13774

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ قَالَ لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِلَعِبِ الشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن ماردی گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیطان کے کھیل تماشوں کو " جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے " دوسروں کے سامنے کیوں بیان کرتے ہو؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13775

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کے متعلق سوال کی گیا تو آپ نے " نہیں " کبھی نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13776

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَنْهَانِي قَوْمِي فَسَمِعَ بَاكِيَةً وَقَالَ مَرَّةً صَوْتَ صَائِحَةٍ قَالَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو قَالَ فَلِمَ تَبْكِينَ أَوْ قَالَ أَتَبْكِينَ فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوئے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھا گیا ان پر کپڑا ڈھانپ دیا گیا تھا تو میں ان کے چہرے پر سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کرنا شروع کردیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے رونے کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا بنت و عمر یا اخت عمرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو فرشتے اس پر مسلسل سایہ کئے رہے یہاں تک کہ اسے اٹھالیا گیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13777

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَأَسْمَاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لَا نُكَنِّيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے یہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام " قاسم " رکھ دیا ہم نے اس سے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم رکھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہ کریں گے اس پر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13778

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے ) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ حضرت زبیر نے اپنے آپ کواس خدمت کے لئے پیش کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری حضرت زبیر ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13779

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ إِنْ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر چلتے ہوئے میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش وحواس سے بھی بیگانہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا مجھے ہوش آ گیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے بہنوں کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہو گی اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13780

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ غَيْرَ مَرَّةٍ يَقُولُ عَنْ جَابِرٍ وَكَأَنِّي سَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا وَظَنَنْتُهُ سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَأَنَّ عُمَرَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی حضرت صدیق اکبر نے بکری کی پیوسی نوش فرمائی اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی اسی طرح حضرت عمر نے گوشت تناول فرما لیا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13781

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَقَالَ لَا أُقِيلُكَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقِلْنِي فَقَالَ لَا أُقِيلُكَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقِلْنِي فَقَالَ لَا فَفَرَّ فَقَالَ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پر ہجرت کی بیعت کرلی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا تین مرتبہ ایسا ہی ہو ا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلو م کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے فرار ہو گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کردیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13782

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا قَالَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي قَالَ فَجِئْتُ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا قَالَ فَخُذْ قَالَ فَأَخَذْتُ قَالَ بَعْضُ مَنْ سَمِعَهُ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ فَأَخَذْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي فَقُلْتُ إِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي قَالَ أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنْ الْبُخْلِ مَا سَأَلْتَنِي مَرَّةً إِلَّا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا' اوراتنا اور اتنا دوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو حضرت صدیق اکبرنے اعلان کردیا کہ جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ دینے کا وعدہ فرما رکھا ہو وہ ہمارے پاس آئے چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے تھا اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا' اتنا اور اتنادوں گا حضرت صدیق اکبرنے فرمایا تم لے لو چنانچہ میں نے ان سے مال لے لیا بعض سننے والے کہتے ہیں کہ میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو درہم تھے جو میں نے لے لیے۔ پھر میں دوبارہ تین مرتبہ ان کے پاس آیا لیکن انہوں نے مجھے کچھ پیسے نہ دیے تیسری مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ یا تو آپ مجھے عطاء کریں ورنہ میں سمجھوں گا کہ آپ میرے سامنے بخل کر رہے ہیں حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ یہ تم مجھ سے بخل کرنے کا کہہ رہے ہو بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہوسکتی ہے ؟ تم نے جب پہلی مرتبہ مجھ سے درخواست کی تھی میں نے اسی وقت ارادہ کرلیا تھا کہ میں تمہیں ضرور دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13783

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے ۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13784

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13785

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شہدا احد کو ان کی جگہ سے اٹھایا جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ شہدا کو ان کی اپنی جگہوں پر واپس پہنچا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13786

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَكَحْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِمْ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ وَلَكِنْ امْرَأَةً تُمَشِّطُهُنَّ وَتُقِيمُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پوچھا کنواری سے یا شوہر دیدہ سے ؟ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے سات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا میں نے سوچا کہ ایسی عورت ہو جو ان کی دیکھ بھال کرسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13787

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ وَقَالَ مَرَّةً الْعِشَاءَ فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ قَوْمَهُ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَصَلَّى فَقِيلَ نَافَقْتَ يَا فُلَانُ قَالَ مَا نَافَقْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ابتداء نماز عشاء کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھادیتے تھے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو موخر کردیا۔ حضرت معاذ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آ کر سورت بقرہ کی تلاوت شروع کردی ایک آدمی نے یہ دیکھا اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہوگئے ہو اس نے کہا میں تو منافق نہیں ہوں پھر اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکرذکر کی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں ہم لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آکر ہمیں نماز پڑھائی تو سورت بقرہ شروع کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت شمس کیوں نہیں پڑھتے؟۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13788

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً عَمْرٌو سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ " چال " کانام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13789

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13790

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسَمِعْتَ جَابِرًا يَقُولُ مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا فَقَالَ نَعَمْ

سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے پوچھا کہ آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد نبوی میں گذر رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس کے پھل کا رخ سامنے کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف پھیر لو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13791

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مُدَبَّرًا فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ دَبَّرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو بیچا جسے ابن نحام نے خرید لیا وہ قبطی غلام تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت کے پہلے سال ہی فوت ہو گیا تھا اسے ایک انصاری نے مدبر بنا لیا تھا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13792

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ النَّارِ قَوْمًا فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13793

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد چودہ سو نفسوں پر مشتمل تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ آج تم لوگ روئے زمین کے تمام لوگوں سے بہتر ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13794

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو وَتَخَلَّى مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شہید ہوگیا تو کہاں جاؤں گا تو فرمایا کہ جنت میں یہ سن کر اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوروں کو ایک طرف رکھ دیا اور میدان کار زار میں کود پڑا حتی کہ جام شہادت نوش کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13795

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَأَقَمْنَا عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى فَنِيَ زَادُنَا حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ثُمَّ إِنَّ الْبَحْرَ أَلْقَى دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ بَعِيرٍ فَجَازَ تَحْتَهُ وَكَانَ رَجُلٌ يَجْزُرُ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ فَنَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سفر میں تین سو سواریاں کے ساتھ بھیجا تھا ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جرح تھے ہم نے ساحل پر قیام کیا ہمارا زاد راہ ختم ہو گیا اور ہمیں درختوں کے پتے کھانے پڑے سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی باہر پھینک دی جسے ہمیں نے نصف ماہ تک کھاتے رہے یہاں تک کہ ہمارے جسم خوب صحت مند ہو گئے ایک دن حضرت عبیدہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کی اور سب سے لمبے اونٹ کو اس کے نیچے سے گزارا تو وہ گذ رگیا اور ایک دن تین تین اونٹ ذبح کرتا رہا پھر حضرت ابوعبیدہ نے اسے منع کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13796

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لَمَّا نَزَلَتْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ قَالَ هَذِهِ أَهْوَنُ وَأَيْسَرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تیری ذات کی پناہ میں آتا ہوں پھر جب اگلا ٹکڑا نازل ہوا یاتمہارے پاؤں کے نیچے سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے اللہ میں تیری ذات کی پناہ چاہتا ہوں پھر جب اگلا ٹکڑا نازل ہوا یا تمہیں مختلف حصوں میں خلط ملط کردے اور ایک دوسرے کے ذریعے عذاب کا مزہ چکھائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے کی نسبت زیادہ ہلکا اور آسان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13797

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

عمرو کہتے ہیں کہ علماء میں ایک مرتبہ اس بات کا ذکر ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے پھر حلال ہو جائے تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کیے بغیر آسکتا ہے میں نے یہ مسئلہ پوچھا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کر لے اس وقت تک حلال نہیں ہو گا یہی سوال میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی پھر فرمایا کہ تمہارے لیے پیغمبر خدا کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13798

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جبکہ قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا ہم اس وقت بھی عزل کرتے تھے (آب حیات کا باہر خارج کرنا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13799

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مدینہ منورہ لے آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13800

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ مَكِّيٍّ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی بیع سے اور مشتری کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13801

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَا جَابِرًا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا فَسَمِعْتُ فِيهَا صَوْتًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقِيلَ لِعُمَرَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهَا فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَأَخْبَرَ بِهَا عُمَرَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيْكَ يُغَارُ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَمْرٍو سَمِعَا جَابِرًا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ إِلَى آخِرِ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو ایک محل نظر آیا تو وہاں مجھے ایک آواز سنائی دی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے فرمایا گیا کہ یہ عمر کا ہے میں اس میں داخل ہونا چاہا لیکن اے ابوحفص مجھے تمہاری غیرت کا خیال آ گیا اس پر حضرت عمر رو پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کیا آپ پر غیرت کا اظہار کیا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13802

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ تَبْكِينَ قَالَتْ أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ قَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَحُجِّي قَالَتْ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَلَمَّا طَهُرْتُ قَالَ طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَمِنْ عُمْرَتِكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول کر ہلال ہو چکے لیکن میں اب تک نہیں ہو سکی لوگوں نے طواف کر لیا لیکن میں اب تک نہ کر سکی اور حج کے ایام سر پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے ساری بیٹیوں کے لیے لکھ دی ہیں اس لیے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو اور حج کر لو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لو اس طرح تم اپنے حج اور عمرہ کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاؤ گی۔ وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن سے کہا کہ انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13803

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ مَتَى تُوتِرُ قَالَ أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ فَأَنْتَ يَا عُمَرُ قَالَ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا رات کے آخری پہر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13804

قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ غیرحاضر شوہر والی عورت کے پاس مت جایا کرو کیونکہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے جسم میں فرمایا ہاں اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ تابع فرمان ہو گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13805

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْد اللَّهِ وَحَدَّثَنَاهُ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ أَبِي وَهْبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ قَالَ عَبْد اللَّهِ إِلَى هَاهُنَا وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي وَالْبَاقِي سَمَاعٌ

حضرت عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے غلام کو بیچے جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہوگا الا یہ کہ مشتری شرط لگا دے۔ ( اور جو شخص کھجور کی پیوند کاری کر کے اسے بیچے تو پھل اس کی ملکیت میں ہو گا الا یہ کہ مشتری درخت کے پھل سمیت خریدنے کی شرط لگا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13806

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا قَوْمٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ رِبَاعَةٌ أَوْ دَارٌ فَأَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَبِيعَ نَصِيبَهُ فَلْيَعْرِضْهُ عَلَى شُرَكَائِهِ فَإِنْ أَخَذُوهُ فَهُمْ أَحَقُّ بِهِ بِالثَّمَنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو اور وہ اپناحصہ بیچنا چاہے تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیش کش کیے بغیر کسی دوسرے کے سامنے اسے فروخت نہ کرے اگر وہ اس کو خرید لیں تو قیمت کے بدلے وہی اس کے زیادہ حق دار ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13807

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو شہر میں داخل ہو کر اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13808

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا جَابِرُ لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالٌ لَحَثَيْتُ لَكَ ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْجِزَ لِي تِلْكَ الْعِدَةَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَنَحْنُ لَوْ قَدْ جَاءَنَا شَيْءٌ لَحَثَيْتُ لَكَ ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ قَالَ فَأَتَاهُ مَالٌ فَحَثَى لِي حَثْيَةً ثُمَّ حَثْيَةً ثُمَّ قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا صَدَقَةٌ حَتَّى يَحُولَ الْحَوْلُ قَالَ فَوَزَنْتُهَا فَكَانَتْ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا' اور اتنا اور اتنا دوں گا لیکن بحرین کا مال غنیمت آنے سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو میں حضرت صدیق اکبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے تھا اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا' اتنا اور اتنادوں گا حضرت صدیق اکبرنے فرمایا تم لے لو چنانچہ میں نے ان سے مال لے لیا پھر انہوں نے فرمایا کہ سال گذرنے سے پہلے تم پر اس کی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔ میں نے انہیں گنا تو وہ پندرہ سو درہم تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13809

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہونے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ ونصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال کے حوالے کرنے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13810

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ

ذیال بن حرملہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری تعداد صرف چودہ سو افراد تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13811

قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنْ الصَّلَاةِ

اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے نماز میں ہر تکبیر کے ساتھ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13812

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قُلْتُ لِأَبِي سَمِعْتُ أَبَا خَيْثَمَةَ يَقُولُ نَصْرُ بْنُ بَابٍ كَذَّابٌ فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كَذَّابٌ إِنَّمَا عَابُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ وَإِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ فَلَا يُنْكَرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خرید و فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد سے عرض کیا میں نے ابوخیثمہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نصر بن باب نامی راوی کذاب ہیں اس پر انہوں نے استغفر اللہ کہا اور تعجب کرنے لگے کہ کذاب۔ محدثین کے انہیں مطعون کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ابراہیم الصائغ سے حدیث روایت کی ہے اور ابراہیم الصائغ ان کے اہل شہر میں سے ہیں لہذا ان سے سماع کوئی تعجب کی چیز نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13813

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے اے بھتیجے کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بے ہوش کر گر پڑے اور اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم نہیں دیکھا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13814

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتُوا خِطَامًا فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِق

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے جب ہم نجار کے ایک باغ کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اس باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہونے والے ہر شخص پر حملہ کر دیتا ہے لوگوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے اور اس اونٹ کو بلایا وہ اپنی گردن جھکائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی لگام لاؤ وہ لگام اس کے منہ میں ڈال کر اونٹ اس کے مالک کے حوالے کردیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آسمان وزمین کے درمیان جتنی چیزیں ہیں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13815

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیز نو ایجاد ہیں اور ہربدعت گمراہی ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرمانے لگے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی رہی پھر فرمایا قیامت تم پر آگئی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا تم پر صبح کو قیامت آ گئی ہے یا شام کو، جو شخص مال ودولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ دے وہ میرے ذمہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13816

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَسَمِعْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا بِهَا نَوْمَةً ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ فَلَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ کے ہم رکاب نجد کی طرف جہاد کے لیے گیا اور واپسی میں بھی ہم رکاب تھا واپسی پر ایک بڑی خاردار درختوں والی وادی میں دوپہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ وہیں اتر گئے سب لوگ ادھرادھر درختوں کے سایہ میں چلے گئے حضور ایک کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لیے اترے درخت سے تلوار لٹکا دی اور ہم سب سو گئے تھوڑی دیر سوئے تھے کہ بیدار ہو گئے کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ہم کو بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا ہے حضور نے فرمایا سوتے میں اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچی میں جاگ اٹھا دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا خوف کے مارے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا حالانکہ اس نے ایسا کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13817

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَكَانَ الرَّاكِبُ يَمُرُّ تَحْتَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ خَبَرِ عَمْرٍو هَذَا وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ فَكُلُوا فَأَكَلْنَا فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ جَابِرٌ فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ قَالَ فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَأَكَلَ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جیش خبط کے ساتھ جس کے امیر حضرت ابوعبیدہ تھے جہاد میں شریک ہوئے راستے میں بھوک کی شدت نے ہمیں بہت تنگ کیا اسی اثناء میں سمندر نے ہمارے لیے اتنی بڑی مچھلی باہر پھینک دی کہ ہم نے اس سے پہلے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ہم اسے نصف ماہ تک کھاتے رہے حضرت ابوعبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر اسے گاڑا توسوار بھی اس کے نیچے سے باآسانی سے گذر جاتا تھا ۔ گذشتہ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا ۔ پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لیے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لیے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اسکی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کاروغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13818

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا قَالَ نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنْ الْمَاءِ فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ قَالَ وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ قَالَ وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ يُدْعَى الْعَنْبَرُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا وَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ قَالَ وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ كَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا قَالَ فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لیے ایک مری ہوئی مچھلی نکالی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لیے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اسکی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کاروغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13819

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَهُ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی زمین یاباغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کیے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے نہ ہو تو چھوڑ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13820

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13821

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ فَلَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دیدے توہ اسی کی ہوجاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13822

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دو کیونکہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تورات کی سیاہی دور ہونے تک شیاطین اترتے رہتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13823

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیر سے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13824

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ الْمَكْتُوبَةَ وَغَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھی کسی نے ابوزبیر سے پوچھا کہ اس سے مراد فرض نماز ہے انہوں نے فرمایا یہ فرض اور غیر فرض دونوں کو شامل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13825

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرات کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13826

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَايِسَتُنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ قَالَ اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا قَالَ فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ قَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھر کر لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا سمجھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو تو اس سے عزل کرلیا کرو ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13827

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا قَالَ لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں بارش ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے وہ یہیں نماز پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13828

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہی جانور ذبح کر لیا کرو جو سال بھر کا ہو البتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کر سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13829

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا غُولَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے بد شگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13830

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13831

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13832

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنْ الْبُسْرِ وَمِنْ كَذَا فَقَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لو گ زمین کو بٹائی پر دے دیتے تھے جس سے ہمیں کچی اور دوسری کھجوریں مل جاتی تھیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ جس شخص کے پاس زمین ہو اسے خود کاشت کرنی چاہیے یا اپنے بھائی کو اجازت دے دے ورنہ چھوڑ دے (کرائے پر نہ دے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13833

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرًا أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ فَقِيلَ لِسُفْيَانَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ قَالَ نَعَمْ

محمد بن عباد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ مسئلہ پو چھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس گھر کے رب کی قسم۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13834

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ الْأُولَى يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو گوشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13835

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلم کو مل جائے تو وہ اللہ سے جو دعاء بھی کرے گا وہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13836

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ مَرَّةً الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ اثْنَا عَشَرَ فَنَزَلَتْ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک قافلہ آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے سب لوگ قافلے کے پیچھے نکل گئے اور صرف بارہ آدمی مسجد میں بیٹھے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی واذاراواتجاوۃ او لھوا۔الخ

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13837

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح وَعَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھے اور جو میری کنیت اختیار کرے وہ میرے نام پر اپنا نام نہ رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13838

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ' مزابنہ 'بٹائی 'کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کردے ۔ فائدہ : ان فقہی اصطلات کے لئے کتب فقہ کی طرف رجوع کیا جائے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13839

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَعْنِي أَبَاهُ أَوْ اسْتُشْهِدَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ وَعِذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ قَالَ فَفَعَلْتُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ كِلْ لِلْقَوْمِ قَالَ فَكِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا میں نے قرض خواہوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قرض معاف کرنے کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا جا کر کھجوروں کو مختلف قسموں میں تقسیم کر کے عجوہ الگ کر لو عذق زید الگ کر لو اسی طرح دوسری اقسام کو بھی الگ الگ کر لو مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سب سے اوپر یادرمیان میں تشریف فرما ہو گئے اور مجھ سے فرمایا لوگوں کو ناپ کر دینا شروع کردو چنانچہ میں نے لوگوں کو ناپ کر دینا شروع کر دیا حتی کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں گویا کہ اس میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13840

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَعْنِي أَنَّهُ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13841

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَمَى بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13842

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً لَهُ بِهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ مِنْهُ الْعَافِيَةُ فَلَهُ بِهِ أَجْرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13843

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنَّ لِي خَادِمًا تَسْنَى وَقَالَ مَرَّةً تَسْنُو عَلَى نَاضِحٍ لِي وَإِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا وَأُصِيبُ مِنْهَا فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّرَ اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس جا کر " چکر " بھی لگاتا ہوں اور عزل بھی کرتا ہوں اس کے باوجود اس کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس نفس کو پید اکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ تو پیدا ہو کر رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13844

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13845

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13846

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا يَوْمُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا شَهْرُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا بَلَدُنَا هَذَا قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کون سا ہے صحابہ نے عرض کیا آج کا دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا رواں مہینہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا کون سا شہر ہے صحابہ نے عرض کیا ہمارا یہی شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یاد رکھو تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13847

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب دوبارہ نمازی اس بات کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13848

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى مَاءً فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ بَلَى قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا قَالَ ثُمَّ شَرِبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ میں آپ کو نبیذ نہ پلاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا جس میں نبیذ تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے کسی چیز سے ڈھک کیوں نہ لیا ؟ اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13849

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى وَوَكِيعٌ قَالُوا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل نماز کون سی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لمبی نماز۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13850

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ قَالَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ فَجَعَلْنَ يَطْرَحْنَ الْقِرَطَةَ وَالْخَوَاتِيمَ وَالْحُلِيَّ إِلَى بِلَالٍ قَالَ وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہونے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ ونصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال کے حوالے کرنے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13851

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے بچوں کی طرف سے ہم نے تلبیہ پڑھا اور کنکریاں بھی ہم نے ماری تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13852

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ النَّخْلُ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین سال کے لئے پھلوں کی پیشیگی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13853

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل) فرمایا تھا کہ آج وہ شخص زندہ ہے سو سال نہیں گذرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13854

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جس حال میں فوت ہو گا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13855

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي وَحَوَارِيَّ مِنْ أُمَّتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زبیر میری پھوپھی کے بیٹے اور میری امت میں سے میرے حواری ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13856

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ هِشَامٌ وَحَدَّثْتُ بِهِ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَحَدَّثَنِي قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَابْنُ الزُّبَيْرِ حَوَارِيَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے ) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ حضرت زبیر نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13857

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي قَالَ أَفَتَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ عَلَيَّ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَقَالَ لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طُرُوقًا قَالَ وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ فَاعْتَلَّ قَالَ فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ فَقَالَ مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ اعْتَلَّ بَعِيرِي قَالَ فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ ثُمَّ زَجَرَهُ قَالَ فَمَا زِلْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَهُمُّنِي رَأْسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ الْجَمَلُ قُلْتُ هُوَ ذَا قَالَ فَبِعْنِيهِ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَكَ قَالَ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ قَالَ لَا قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ ارْكَبْهُ فَإِذَا قَدِمْتَ فَأْتِنَا بِهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُ بِهِ فَقَالَ يَا بِلَالُ زِنْ لَهُ وُقِيَّةً وَزِدْهُ قِيرَاطًا قَالَ قُلْتُ هَذَا قِيرَاطٌ زَادَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا حَتَّى أَمُوتَ قَالَ فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ فَأَخَذُوهُ فِيمَا أَخَذُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا جب ہم مدینہ منورہ پہنچے کے قریب ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے آپ مجھے جلدی گھر جانے کی اجازت دیدیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شوہردیدہ سے؟ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا کہ والد صاحب شہید ہو گئے اور مجھ پر چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری آ پڑی ہے میں ان پر ان جیسی ہی کسی ناسمجھ کو لانا مناسب نہ سمجھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا اطلاع رات کو اپنے اہل خانہ کے پاس واپس نہ جاؤ۔ میں جس اونٹ پر سوار تھا وہ ایک انتہائی تھکا ہوا تھا جس کی وجہ سے میں سب سے پیچھے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھکا ہوا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دم سے پکڑ کر اسے ڈانٹ پلائی تو میں سب سے آگے نکل گیا مدینہ منورہ کے پاس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اونٹ کا کیا بنا میں نے عرض کیا وہ یہ رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے بیچ دو میں نے عرض کیا یہ آپ ہی کا ہے دو مرتبہ ایسے ہی ہوا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے ایک اوقیہ چاندی کے عوض خرید لیا تو اس پر سواری کرو مدینہ منورہ پہنچ کر اسے ہمارے پاس لے آنا مدینہ منورہ پہنچ کر میں اس اونٹ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال اسے ایک اوقیہ وزن کر کے دیدو اور ایک قیراط زائد دیدینا میں نے سوچا کہ یہ ایک قیراط جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زائد دیا ہے مر تے دم تک میں اپنے سے جدا نہ کروں گا چنانچہ میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ دیا اور وہ ہمیشہ میرے پاس رہا۔ تا آنکہ حرہ کے دن اسے اہل شام لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13858

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ أَوْ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً فَيُدْنِيهِ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر کو روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب وہ شیطان پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کر دیا ابلیس کہتا ہے کہ تونے کچھ نہیں کیا دوسرا آکر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرا دی ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13859

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں تھے کہ اچانک تیز ہواچلنے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کسی منافق کی موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے تو پتہ چلا کہ واقعی منافقین کا ایک بہت بڑا سرغنہ مر گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13860

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طبیب حضرت ابی بن کعب کے پاس بھیجا جس نے انکی بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13861

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13862

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخری حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے کیونکہ آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13863

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَتَاهُ خَالِي وَكَانَ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ قَالَ فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنْ الْعَقْرَبِ وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَى قَالَ فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ مَا أَرَى بَأْسًا مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتر کے ذریعے علاج سے منع فرمایا ہے دوسری سند سے یہ اضافہ ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتر اور جھاڑپھونک کی ممانعت فرما دی تو آل عمرو بن حزم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا علاج کرتا ہوں؟ اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہے اسے ایساہی کرنا چاہیئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13864

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ فَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ مَكَانَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا مجھے ایسا محسوس ہو ا کہ گویا میری گردن مار دی گئی ہے میرا سر الگ ہو گیا ہو میں اس کے پیچھے گیا اور اس کو پکڑ کر اس کی جگہ پر واپس رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیطان کے کھیل تماشوں کو " جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے" دوسروں کے سامنے مت بیان کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13865

حَدَّثَنَا أَبَو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازؤ کتے کی طرح نہ بچھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13866

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَبْعَثُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ فَقَالَ مَا لِهَذَا قَالَ فَقَالُوا بِهِ الْعُذْرَةُ قَالَ فَقَالَ عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ فَفَعَلُوا فَبَرَأَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اس وقت ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے دونوں نتھنوں سے خون جاری تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس بچے کو کیا ہو ا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے گلے آئے ہوئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے بچوں کو عذاب میں کیوں مبتلا کرتی ہو ؟ تمہارے لئے تو یہی کافی ہے کہ قسط ہندی لے کر اسے پانی میں سات مرتبہ گھولو اور اس کے گلے میں ٹپکا دو اور انہوں نے ایسا کر کے دیکھا توبچہ واقع ٹھیک ہو گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13867

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ أَلَا لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کےساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13868

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ حَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مرد عورت بھی سوئے اس کے سر پر تین گرہیں لگادی جاتی ہیں اگر وہ جاگنے کے بعد اللہ کا ذکر کر لے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے کھڑے ہو کر وضو کر لے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر کھڑے ہو کر نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13869

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہئے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13870

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو دو کا کھاناچار کو چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13871

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَمَصَّهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو جب تک اپنی انگلیاں نہ چاٹ لے اپنے تولئے سے ہاتھ صاف نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13872

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدٍ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے تو اسے اپنے گھرکے لئے بھی نماز کا کچھ حصہ رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں خیر و برکت کا نزول فرما دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13873

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَلَمْ يَمَسَّ أَعْقَابَهُمْ الْمَاءُ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13874

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اسْتَأْذَنَتْ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتَفْعَلُ قَالَ نَعَمْ قَالُوا فَدَعْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بخار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیوں آئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ام ملدم (بخار ) ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل قباء کے پاس چلے جانے کا حکم دیا انہیں اس بخار سے جتنی پریشانی ہوئی وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے چنانچہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بخار کی شکایت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں اور اسے تم سے دور کر دے اور اگر چاہو تو وہ تمہارے لئے پاکیزگی کا سبب بن جائے ؟ اہل قباء نے پوچھایا یا رسول اللہ کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر اسے رہنے دیجئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13875

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ وَابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کروں اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13876

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ فَذَكَرَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے تو اسے اپنے گھر کے لئے بھی کچھ نماز کا حصہ بھی رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گھر میں خیروبرکت کا نزول فرمادیں گے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13877

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے یہ بتائیں کہ کیاعمرہ کرنا واجب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں البتہ بہتر ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13878

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً قَالَ فَنَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال اپنے ساتھ ستر اونٹ لے کر گئے تھے اور ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا گیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13879

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَمْ يَكُنْ يَعِيبُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ نکلے تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا لیکن کسی نے دوسرے کو طعنہ نہیں دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13880

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد بن معاذ کی موت پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13881

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں اہل جنت کھائیں پیئں گے لیکن پاخانہ پیشاب کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے نہ تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13882

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر قحافہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں ان کے خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13883

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مشتری کا جائیداد اور باغ میں حق شفعہ ہے اور اپنے شریک کو بتائے بغیر اسے بیچناجائز نہیں ہے اگر وہ بیچتا ہے تو اس کا شریک اس کا زیادہ حق دار ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اسے اجازت دیدے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13884

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ وَهِيَ مِنْ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب موذن اذان دیتا ہے توشیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحہ تک ہے یہ مدینہ منورہ سے تیس میل دور جگہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13885

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لِيَجْلِسْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سلیک آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے مختصر سی دو رکعتیں پڑھ کربیٹھنا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13886

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعَجْمِ يُمْنَعُونَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدٌّ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ مِنْ قِبَلِ الرُّومِ يُمْنَعُونَ ذَاكَ قَالَ ثُمَّ أَمْسَكَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْوًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا قَالَ الْجُرَيْرِيُ فَقُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ أَتَرَيَانِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَا لَا

ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ فرمانے لگے کہ عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں اہل عراق کے پاس کوئی قفیذ اور درہم باہر سے نہیں آسکے گا ہم نے پوچھا کہ ایساکیسے ہو گا انہوں نے فرمایا یہ عجم کی طرف سے ہو گا وہ لوگ ان چیزوں کو روک لیں گے پھر فرمایا کہ اہل شام پر بھی پھر ایساوقت آئے گا کہ ان کے یہاں بھی کوئی دینار اور مد باہر سے نہیں آسکے گا ہم نے پوچھا کہ یہ کن کی طرف سے ہو گا فرمایا کہ رومیوں کی طرف سے ہو گا وہ لوگ چیزوں کو روک لیں گے پھر کچھ دیر وقفے کے بعد گویا ہوئے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک ایساخلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھربھر کا مال دے گا اور انہیں شمارتک نہیں کرے گا۔جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ اور ابوعلی سے پوچھا کیا آپ کی رائے میں وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ہیں انہوں نے جواب دیا نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13887

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13888

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر جیسی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں پانچ مرتبہ روزانہ غسل کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13889

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا فَخَطَبَنَا فَقَالَ قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ قَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَقَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم یعنی صحابہ نے صرف حج کا احرام باندھا اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہوجائیں اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منی کی طرف روانہ ہوں گے تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا تم حلال ہو جاؤ اور اسے عمرہ کا احرام بنالو وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت علی یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے انہوں نے کہا جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی طرح حالت احرام میں ہی رہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13890

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا صَائِمٌ فَقَالَ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا ہوا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13891

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھارے ہوئے کتے کے علاوہ ہر کتے کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13892

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا قَالَ فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا قُلْتُ لِعَطَاءٍ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ میدان منی کے تین دنوں کے علاوہ قربانی کا گوشت نہیں کھا سکتے تھے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اسے کھابھی سکتے ہو اور محفوظ بھی ہو سکتے ہو چنانچہ ہم اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13893

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پراچھے طریقے سے سوار ہوسکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13894

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے صفا مروہ کے درمیان صرف پہلی مرتبہ میں ہی سعی کی تھی اس کے بعد نہیں کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13895

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تاکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکیں اور مسائل باآسانی معلوم کر سکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13896

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں ، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13897

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا كَسَفَتْ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ وَتَأَخَّرَتْ الصُّفُوفُ مَعَهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمَتْ الصُّفُوفُ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ وَلَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ فَذَلِك حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِنْ فُطِنَ بِهِ قَالَ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا وَجِيءَ بِالْجَنَّةِ فَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي فَمَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورباسعادت میں سورج گرہن ہوا یہ وہی دن تھا جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا اور لوگ آپس میں کہنے لگے کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج کو بھی گرہن لگ گیا ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوئے اور لوگوں کوچھ رکوع کے ساتھ چار سجدے کرائے چنانچہ پہلی رکعت میں تکبیر کہہ کر طویل قرات کی پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھاکر پہلے کچھ کم طویل قرات کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھاکر دوسری قرات سے کچھ کم طویل قرات کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر سر اٹھا کر سجدے میں چلے گئے دوسجدے کیے اور پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت کے سجدے میں جانے سے قبل حسب مذکور تین مرتبہ رکوع کیا جس میں پہلا رکوع بعد والے کی نسبت زیادہ لمبا تھا البتہ ہر رکوع بقدر قیام ہوتا تھا پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے جس پر لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹنے لگیں کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں جب نماز مکمل ہوئی تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا اور سورج نکل آیا تھا۔اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جو کسی انسان کی موت سے نہیں گہن ہوتیں جب تم کوئی ایسی چیز دیکھا کروتو اس وقت نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہوجائے کیونکہ تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے ، وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ جہنم کو بھی لایا گیا ہے یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ مجھے نہ لگ جائے حتی کہ میں نے عرض کیا پروردگار ابھی تو میں ان کے درمیان موجود ہوں پھر جہنم کا اتنا زیادہ قرب؟میں نے جہنم میں ایک لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی گھسیٹ رہا تھا یہ اپنی لاٹھی کے ذریعے حجاج کرام کامال چراتا تھا اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو یہ کہہ دیتا کہ یہ سامان میری لاٹھی سے چپک کر آ گیا ہے اور اگر کوئی غافل ہوتا تویہ اس پر سامان اس طرح لے جاتا میں نے اس میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا ہے جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ پالتی حتی کہ اس حال میں وہ مر گئی اسی طرح میرے سامنے جنت کو بھی لایا گیا ۔ یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے ہوئے دیکھا تھا میں نے اپناہاتھ بڑھایا اور ارادہ کیا کہ اس کے کچھ پھل توڑ لوں تاکہ تم بھی دیکھ سکو لیکن پھر مجھے ایساکرنا مناسب نہ لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13898

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا بَعْدَ مَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ وَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا فَأَهْلَلْنَا مِنْ الْبَطْحَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حجتہ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منی کی طرف روانگی کا ارادہ کرلو تو دوبارہ احرام باندھ لینا چنانچہ ہم نے وادی بطحا سے احرام باندھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13899

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ لَنَا خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر سوار ہو کر رمی جمرات کرتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے کہ مجھ سے مناسک حج سیکھ لو کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ آئندہ سال دوبارہ حج کرسکوں یا نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13900

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سَفَلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان واقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی نماز کے بعد آپ نے حضرت بلال کے ہاتھوں پر ٹیک لگائی اور کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی لوگوں کو وعظ ونصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی پھر حضرت بلال کو ساتھ لے کر عورتوں کی طرف گئے اور وہاں بھی اللہ کی حمدوثناء بیان کی انہیں وعظ ونصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تم صدقہ کیا کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے ایک نچلے درجے کی دھنسے ہوئے رخساروں والی عورت نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس لے کہ تم شکوہ بہت زیادہ کرتی ہو اپنے خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہویہ سن کر عورتیں اپنے زیور، ہار، بالیاں اور انگھوٹھیاں اتاراتار کر حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13901

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس بات سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ مشترکہ طور پر سات آدمی ایک گائے کی قربانی دے دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13902

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنْ الدَّوَابِّ صَبْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر ماراجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13903

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13904

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا فَقُلْتُ الضَّبُعَ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَسَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا کہ میں اسے کھا سکتا ہوں انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے پوچھا کیا یہ شکار ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13905

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ زِحَامٌ قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا صَائِمٌ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ أَوْ الْبِرَّ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13906

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ قَالَ إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہوگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو ایک یہودی کاجنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت کی ایک نشانی ہوتی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13907

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا أَوْ جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ مِثْلَهُ كَذَا قَالَ يَحْيَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لیے جائز ہے یا اس کے اہل کے لیے میراث ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13908

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي جَابِرٌ قَالَ سَأَلَنِي ابْنُ عَمِّكَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنِّي كَثِيرُ الشَّعْرِ فَقُلْتُ مَهْ يَا ابْنَ أَخِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13909

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ قَالَ يَحْيَى وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ أَعْلَى بِهَا صَوْتَهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ثُمَّ يَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ وَأَوْمَأَ وَصَفَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیز نوایجاد ہیں پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرما رہے تھے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی ، اور جوش میں اضافہ ہوتاجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں پھر فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13910

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي مُحَارِبٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لِي صَلِّ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر میرا کچھ قرض تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ادا کر دیا اور مجھے مزید بھی عطا فرمایا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اس لیے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ آؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13911

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی اصحمہ کا انتقال ہو گیا ہے آؤ صفیں باندھو چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13912

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دروازے بند کر لیا کرو اور اس وقت اللہ کا نام لیا کرو کیونکہ جس دروازے پر اللہ کا نام لیا جائے اسے شیطان نہیں کھول سکتا چراغ بجھادیا کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ کا نام لے کر مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور بسم اللہ پڑھ کربرتنوں کو ڈھانپ دیا کرو خواہ کسی لکڑی سے ہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13913

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَحْدَهُ وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13914

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَذَكَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ كَانُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَإِنَّا صَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا قَالَ جَابِرٌ كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھنے کاموقع ملا اس وقت دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھا ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کےساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آگئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور سب نے اکٹھے سلام پھیرا جیسے آج کل تمہارے حفاظتی دستے اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13915

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِحَصَى الْخَذْفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13916

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى تُشَقِّحَ قُلْتُ مَتَى تُشَقِّحُ قَالَ تَحْمَارُّ أَوْ تَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13917

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے میں نے کہا میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں میں لگا رکھی ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13918

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي بَنِي سَلِمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ قَالَ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلَ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَلَبَّى النَّاسُ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنْ الْكَلَامِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمْ شَيْئًا فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِهِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَاسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي جَعْفَرًا فَقَرَأَ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَصَدَقَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فَقَالَ لِلْأَبَدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَدِمَ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي قَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ قَالَ جَابِرٌ وَقَالَ لِعَلِيٍّ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ وَمَعِي الْهَدْيُ قَالَ فَلَا تَحِلَّ قَالَ فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ قَدْ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ

امام باقر فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ بنوسلمہ میں تھے ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نو برس مدینہ میں رہے حج نہیں کیا ہجرت کے بعد دسویں سال آپ نے لوگوں میں اعلان کروادیا کہ اللہ کے رسول حج کرنے والے ہیں تو مدینہ میں بہت لوگ آئے ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور تمام اعمال آپکی مانند کریں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس ذی قعدہ کو نکلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تو انہوں نے وہی سے کسی کو بھیج کر اللہ کے رسول سے دریافت کیا کہ کیا کروں فرمایا کہ نہا لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لو خیر آپ قصوی اونٹنی پر سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی مقام بیضاء میں سیدھی ہوئی آپ نے کلمہ تو حید پکارا اور یہ کہا لبیک اللھم لبیک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لوگوں نے بھی یہی تلبیہ کیا جو آپ نے کیا کچھ لوگوں نے اس میں ذی المعارج وغیرہ کا بھی اضافہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنتے بھی رہے لیکن انہیں کچھ نہیں کہا میں نے تاحد نگاہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں دائیں پیدل اور سوار دیکھے یہی حال پیچھے دائیں اور بائیں کا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ان پر قرآن نازل ہوتا تھا وہ اس کا مطلب جانتے تھے لہذا وہ جو بھی کرتے ہم بھی اس طرح کرتے تھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری نیت صرف حج کی تھی جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعتیں پڑھ کر فرمایا " واتخذو من مقام ابراہیم مصلی' اور آپ نے ان دو رکعتوں میں " قل یا ایھا الکافرون " اور قل ھو اللہ احد پڑھی پھر بیت اللہ کے قریب واپس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دروازے سے صفا کی طرف نکلے جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی" ان الصفا والمروۃ من شعائراللہ " ہم بھی اسی سے ابتداء کریں گے جسے اللہ نے پہلے ذکر فرمایا چنانچہ آپ نے صفاسے ابتداء کی صفا پر چڑھے جب بیت اللہ پر نظر پڑی توتکبیر کہہ کر فرمایا لا الہ اللہ وحدہ لاشریک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ پھر اس کے درمیان یہ دعاکی اور یہی کلمات تین بار دہرائے پھر وہ مروہ کی طرف چلے جب آپ کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے نشیب میں رمل کیا (کندھے ہلا کر تیز چلے) جب اوپر چڑھنے لگے تو پھر معمول کی رفتار سے چلنے لگے اور مروہ پر بھی وہی کیا جو صفاپر کیا جب آپ نے مروہ پر ساتواں چکرلگالیا تو فرمایا اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا تو تم میں سے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے اور اس حج کو عمرہ میں بدل لے توسب لوگ حلال ہو گئے پھر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی یہ حکم ہمیں اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تو اللہ کے رسول نے انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں اس طرح داخل ہوگیا ہے پھر تین مرتبہ فرمایا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہی حکم ہے اور حضرت علی یمن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں لے کرپہنچے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ حلال ہو کر رنگین کپڑے پہنے ہوئے سرمہ لگائے ہوئے ہیں تو انہیں اس پر تعجب ہوا حضرت فاطمہ نے کہا میرے والد نے مجھے یہی حکم دیا ہے حضرت علی کوفہ میں فرمایا کرتے تھے اس کے بعد میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا فاطمہ کے اس عمل پر غصہ کی حالت میں اور اللہ کے رسول سے وہ بات پوچھنے کے لیے جوفاطمہ نے ان کے حوالہ سے ذکر کی کہ ایام حج میں حلال ہو کر رنگین کپڑے اور سرمہ لگائیں تو آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا پھر فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا حضرت علی فرماتے ہیں میں نے کہا اے اللہ میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں جو آپ کے رسول نے احرام باندھا تھا آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ تو ہدی ہے تو تم بھی حلال مت ہونا اور حضرت علی یمن سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے جو اونٹ لائے تھے سب ملا کر سو ہو گئے پھر آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے اور باقی علی کرم اللہ وجہہ کو دیدیے جوانہوں نے نحر کیا اور ان کو آپ نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا پھر آپ کے حکم کے مطابق ہر اونٹ سے گوشت کا ایک پارچہ لے کر ایک دیگ میں ڈال کر پکایا گیا پھر آپ اور حضرت علی نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر اللہ کے رسول نے فرمایا میں نے قربانی یہاں کی ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے اور عرفات میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پوراعرفات ہی وقوف کی جگہ ہے اور مزدلفہ میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13919

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ قَالَ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ قَالَ أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ أَوْ قَالَ بُرْهَانٌ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت کعب بن عجرہ سے فرمایا اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی کیا ہے اس سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئیں گے میرے طریقے کی پیروی نہ کریں گے اور میری سنت کو اختیار نہ کریں گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کریں گے اور ان کے ظلم میں تعاون نہ کریں گے تو وہ لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔اے کعب بن عجرہ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے یا یہ فرمایا کہ دلیل ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایسا وجود داخل نہیں ہو سکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی ہو اور جہنم اس کی زیادہ حق دار ہو گی اے کعب بن عجرہ لوگ دوحصوں میں تقسیم ہو جائیں کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر دیں گے اور کچھ اسے خرید کر ہلاک کر دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13920

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ أَغْنَى مِنْكَ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَقَضَمَهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا وَقَعَدَ لَهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اونٹوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا وہ اونٹ قیامت کے دن سب سے زیادہ تنومند ہو کر آئیں گے اور ان کے لیے نرم زمین بچھائی جائے گی جس پر وہ اپنے مالک کو اپنے پیروں اور کھروں سے روندیں گے اور گایوں کا جو مالک ان کا حق ادانہیں کرتا وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے ان کے لیے نرم زمین بچھائی جائے گی وہ اسے سینگ ماریں گی اور اپنے پاؤں تلے روندیں گی اوربکریوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا وہ قیامت کے دن پہلے سے صحت مند نظر آئیں گی ان کے لیے نرم زمین بچھائی جائے گی اور وہ اسے سینگ ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان بکریوں میں کوئی بھی بے سینگ یاٹوٹے ہوئے سینگ والی نہ ہوگی اور خزانے کا جو مالک اس کا حق ادانہیں کرتا قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجاسانپ بن کر آئے گا اور منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچے گا تو وہ اسے دیکھ کر بھاگے گا اس وقت پروردگار عالم اسے پکار کر کہیں گے اپنے اس خزانے کو پکڑ تو سہی جسے توجمع کر کر کے رکھتا تھا میں تو تجھ سے بھی زیادہ اس سے مستغنی تھا جب وہ شخص دیکھے گا کہ اس سانپ سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دیدے گا وہ سانپ اس کے ہاتھ کو اس طرح چباجائے گا جیسے بیل چباجاتا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایک آدمی نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اونٹوں کا حق کیا ہے آپ نے فرمایا پانی پر اس کا دودھ دوہنا اس کا ڈول کسی کو مانگنے پر دینا اس کا نر مانگنے پر کسی کودینا اسے ہبہ کردینا اور جہاد فی سبیل اللہ کے موقع پر اس پر سوار ہونا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13921

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو (بلکہ تبادلے ہی کو مہر فرض کر لیا گیا ہو)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13922

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری ایک خالہ کو طلاق ہو گئی ، انہوں نے اپنے درختوں کے پھل کاٹنے کے لیے نکلنا چاہا لیکن کسی آدمی نے انہیں سختی سے باہر نکلنے سے منع کردیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا تم جا کر اپنے درختوں کا پھل کاٹ سکتی ہو کیونکہ ہو سکتا ہے تم اسے صدقہ کرو یا کسی نیک کام میں استعمال کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13923

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَرَوْحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ثُمَّ إِنَّهُ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ قَالَ رَوْحٌ يُتَوَلَّى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا ہے اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لیے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13924

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّا كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا حَيٌّ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنی ان باندیوں کو جو ہمارے بچوں کی مائیں ہوتی تھیں فروخت کر دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے آپ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13925

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک یہودی مرد کو اور ایک عورت کو رجم فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13926

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنْ الدَّوَابِّ صَبْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13927

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ عَنْ الضَّبُعِ قُلْتُ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ سَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا کیا میں اسے کھاسکتا ہوں انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہ کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13928

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا تھا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں سے منع فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13929

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم اللہ کو ہی ہے البتہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے وہ سو سال نہیں گذرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13930

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَحْتَبِ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کربیٹھے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13931

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا جَفْنَةٌ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَمَامَنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کی ایک مربتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گوشت پیش کیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کر کے نماز ظہر ادا کی پھر باقی ماندہ کھانا منگوایا اور اسے تناول فرمایا اور پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اسی طرح ایک مرتبہ میں حضرت عمر کے یہاں گیا تو ان کے دستر خوان پر ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں روٹی اور گوشت تھا اور ایک پیالہ وہاں رکھا گیا اس میں بھی روٹی اور گوشت تھا حضرت عمر نے اسے تناول فرمایا اور نیا وضو کیے بغیر ہی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13932

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفوں کی درستگی تمام نماز کا حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13933

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ كَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ فَقَالَ غَيِّرُوهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے بالوں کا رنگ بدل دو البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13934

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى يَقُولُ مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ كَذَا قَالَ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِينَةً فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے ا نکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور انکی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایساباقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لیے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لیے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لیے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجروثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذراسی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لیے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخداہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13935

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَا يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ لَا يَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ ایک گدھے پر نظر پڑی جس کے چہرے پرداغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں میں دھواں بھرا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کیا ہے چہرے پر کوئی داغ نہ دیا جائے اور نہ چہرے پر کوئی مارے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13936

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أبَو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ وَقَالَ إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنْ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا مجھے معلوم نہیں ہو سکتا کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کر دی گئی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13937

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ظلم کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نےتم سے پہلی قوموں کو ہلاک کردیا تھا اور اسی بخل نے انہیں آپس میں خون ریزی اور محرمات کو حلال سمجھنے پر برانگیختہ کیا تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13938

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِكَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا جب اس طرح چار مرتبہ وہ اپنے متعلق گواہی دے چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجنوں تو نہیں ہو اس نے کہا نہیں پوچھاشادی شدہ ہو اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے عید گاہ میں سنگسار کر دیا گیا جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا لوگوں نے اسے پکڑ کر اتنے پتھر مارے کہ وہ مر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اچھے جملہ کہے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13939

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا قَالَ فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطُّيُورِ وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ وَالْخِلْسَةَ وَالنُّهْبَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لوگ بھوک کا شکار تھے انہوں نے پالتوں گدھوں کو پکڑ کر ذبح کیا اور ہانڈیاں بھر کرچڑھا دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اپنی ہانڈیاں الٹا دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب اللہ تمہیں ایسا رزق عطا فرمائے گا جوا سے حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا چنانچہ اس دن ہم نے ابلتی ہوئی ہانڈیاں اٹھادی تھیں اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتوں گدھوں اور خچروں کا گوشت ، کچلی والے جانور اور پنجے والے پرندے ، باندھ کر نشانہ بنائے جانے والے جانور اور جانور کے منہ سے چھڑائے ہوئے مرنے والے جانور اور جانور سے چھین کرمر جانے والے جانور کو حرام قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13940

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13941

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار قمیص پہن لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13942

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى أَوْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13943

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَقَالَ لَا بَأْسَ لِيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نُصْرَةٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجرنے مہاجرین کو اور انصارنے انصارکو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں لوگوں نے بتایابخدا ایسی کوئی بات نہیں ہے البتہ دونوں غلاموں نے ایک دوسرے کو دھتکار دیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے انسان کوچاہے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ ظالم ہو یا مظلوم ، اگر ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے یہی اس کی مدد ہے اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13944

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهَا فَسَكَنَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ وَقَالَ رَوْحٌ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَنَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَسَكَتَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لیے روتی ہے اور مسجد میں تمام موجود لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13945

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيَتَعَطَّفْ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے وہ اپنے اوپر اچھی طرح لپیٹ لینا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13946

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13947

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلَانِ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلَا تَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کرلی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرچکے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کرلی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13948

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ قَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ جَمَّلُوهَا ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا اللہ اور اس کے رسول شراب ، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے اور جسم کی کھالوں پر ملاجاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ بھی حرام ہے پھر فرمایا کہ یہودیوں پر خدا کی مار ہو اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کردیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کردی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13949

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ہدی کے جانور کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پراچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو تا آنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13950

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَدَّثَ فِي مَجْلِسٍ بِحَدِيثٍ فَالْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کرے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13951

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِلْمَرْأَةِ وَفِرَاشٌ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک بستر عورت کا ہوتا ہے اور ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13952

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ حِفْظِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان فقراء مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13953

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہیں جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13954

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَارُّ مِنْ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنْ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ كَالصَّابِرِ فِي الزَّحْفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بھاگنے ولا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہے اور اس میں ڈٹ جانے والا شخص میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے شخص کی طرح ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13955

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَانْتَهَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حضرت عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا اور ہم رک گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13956

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ ابْتَاعَ بَعِيرًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَمْ أَخَذْتَهُ قَالَ بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ بِمَا أَخَذْتَهُ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے تیرہ دینار میں ایک اونٹ خریدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کتنے کا لیا ہے انہوں نے بتایا کہ تیرہ دینار کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنے کاتم نے لیا ہے یہ مجھے اتنے ہی کا بیچ دو اور مدینہ منورہ تک تم اس پر سواری کر سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13957

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِرَبِّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آجائے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13958

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ قَالَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ حج مبرور کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھانا کھلانا اور سلام پھیرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13959

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ الْآنَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انقطاع وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد ایک دن میں جارہا تھا تو آسمان سے ایک آوا ز سنائی دی میں نے دیکھا تو وہ فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کرمجھے کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " یایھا المدثر، قم فانذر، الی آخرہ۔ اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13960

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ جَاءَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَحَدِ بَنِي أَسَدٍ يَشْتَكِي سَيِّدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ حاطب ضرور جہنم میں داخل ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ غزوہ بدر وحدیبیہ میں شریک تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13961

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ الشَّجَرَةِ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي لِلْحُدَيْبِيَةِ و أَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا دَعَا عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی انہوں نے فرمایا نہیں ۔ وہاں تو صرف آپ نے نماز پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی اور درخت کے نیچے بھی بیعت نہ لی تھی خود حضرت جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے کنویں پر دعا کیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13962

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتًى شَابٌّ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ أَرْنَبًا فَحَذَفْتُهَا وَلَمْ تَكُنْ مَعِي حَدِيدَةٌ أُذَكِّيهَا بِهَا وَإِنِّي ذَكَّيْتُهَا بِمَرْوَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنوسلمہ کا ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک خرگوش دیکھا اسے پتھر سے اور کنکریوں سے مارا میرے پاس اس وقت لوہے کی دھاری دار کوئی چیز نہیں تھی جس سے میں اسے ذبح کرتا اس لیے میں نے اسے تیز دھاری دار پتھر سے ذبح کرلیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13963

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تواچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13964

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا جو اس حال میں مرے میں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13965

حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کرچلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13966

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي فَقُتِلْتُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ إِنْ لَمْ تَمُتْ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہوجاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جبکہ تم اس حال میں مرو کہ تم پر کچھ قرض ہو اور اسے ادا کرنے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13967

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ فَدَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قَامَتْ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا فَيَقُولُ انْطَلِقُوا أَوْ اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُلْقُونَهُمْ فِي نَهَرٍ أَوْ عَلَى نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَيَاةُ قَالَ فَتَسْقُطُ مَحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ النَّهَرِ وَيَخْرُجُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ ثُمَّ يَشْفَعُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُمْ قَالَ فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا ثُمَّ يَشْفَعُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا الْآنَ أُخْرِجُ بِعِلْمِي وَرَحْمَتِي قَالَ فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُ فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اہل جنت اور اہل جہنم میں امتیاز ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو پیغمبران گرامی کھڑے ہو کر سفارش کریں گے ان سے کہا جائے گا جاؤ اور جس جس کو پہنچانتے ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ انہیں نکال لائیں گے اس وقت ان لوگوں کے چہرے جھلس چکے ہوں گے پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو ان کی ساری کی ساری سیاہی نہر کے کنارے ہی گرجائے گی اور وہ ککڑیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرام دوبارہ سفارش کریں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں قیراط کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے پھر سفارش کریں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے اس کے بعد اللہ فرمائے گا اب میں اپنے علم و فضل سے لوگوں کو جہنم سے نکالتا ہوں چنانچہ پہلے سے دگنی تگنی تعداد میں لوگوں کو جہنم سے نکال لایا جائے گا اور ان کی گردن پر لکھ دیا جائے گا کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں جہنمی کہہ کر پکاراجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13968

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بشیر کی بیوی نے ان سے کہا کہ اپنا غلام میرے بیٹے کوہبہ کر دو اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو بشیر وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا فلاں کی بیٹی (میری بیوی ) نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں اپنا غلام اس کے بیٹے کوہبہ کردوں اور اس پر آپ کو گواہ بناؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لڑکے کے کچھ اور بھائی ہیں انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ان سب کو بھی وہی کچھ دو گے جو اسے دے رہے ہو انہوں نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ مناسب نہیں ہے اور میں کسی ناحق پر گواہ نہیں بن سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13969

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ السَّاعَةِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ فَقَالَ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ نَفْسًا مَنْفُوسَةً يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک ماہ قبل کسی شخص نے قیامت کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھ رہے ہو اس کا حقیقی علم اللہ کے پاس ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تو آج یہ بھی نہیں جانتا جو شخص آ ج سانس لے رہا ہے اس پر سو سال بھی گذ رسکیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13970

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَلِي كَلْبٌ فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ كَلْبِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا مدینہ منورہ میں جتنے کتے ہیں سب مار دیے جائیں اس پر حضرت ابن مکتوم آئے اور کہنے لگے کہ میرا گھر دور ہے اور میرے پاس ایک کتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چند دن تک کے لیے رخصت دی اور پھر انہیں بھی اپنا کتا مار دینے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13971

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَطَاءً كَتْب يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَنَازِيرِ وَبَيْعَ الْمَيْتَةِ وَبَيْعَ الْخَمْرِ وَبَيْعَ الْأَصْنَامِ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي شُحُومِ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهَا يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَالْجُلُودُ وَيُسْتَصْبَحُ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَخَذُوهُ فَجَمَّلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا اللہ اور اس کے رسول شراب ، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے اور جسم کی کھالوں پر ملاجاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ بھی حرام ہے پھر فرمایا کہ یہودیوں پر خدا کی مار ہو اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کر دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کردی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13972

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَنَهَانِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ صَاحِبٌ لِي فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز مغرب پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے میں آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا پھر ایک اور صاحب آئے اور ہم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنالی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی اور اسکے دونوں کنارے جانب مخالف سے بدل لیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13973

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے سیاہ دانے اکٹھے کرو کہ وہ بہت عمدہ ہوتا ہے ہم نے عرض کی کہ کیا آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائیں ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13974

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں قربانی کی اور بال منڈوا کر لوگوں کے لئے بیٹھ گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی سوال پوچھا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں حتی کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اور یہ بھی فرمایا کہ پورا میدان عرفات وقوف کی جگہ ہے پورا میدان مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے پورا میدان منی قربان گاہ ہے اور مکہ مکرمہ کا ہر کشادہ راستہ قربان گاہ اور راستہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13975

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ مِنْ بِرَامٍ قَالَ أَوْ مِنْ بَرَامٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13976

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13977

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13978

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ حَسَنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہی جانور ذبح کیا کرو جو سال بھر کا ہو چکا ہو البتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کر سکتے ہو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13979

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے راستے میں بارش ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13980

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ أَوْ إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِي فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَلَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کاتسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صر ف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کربیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13981

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً فُتِّحَتْ وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کے متعلق فرمایا کہ یہ نیک آدمی تھا جس کی موت سے عرش الہی بھی ہلنے لگا اور اس کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دیئے گئے پہلے ان کے اوپر سختی کی گئی تھی اللہ نے بعد میں اس کے لئے کشادگی فرما دی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13982

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَآخُذُ بِيَدِي قَبْضَةً مِنْ حَصًى فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ ثُمَّ أَسْجُدَ عَلَيْهَا مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَضَرَبَ أَبِي عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْطَأَ ابْنُ بِشْرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکریاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہوجاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کرلیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13983

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکریاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہوجاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کرلیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13984

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَقَالَ أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَصُومَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہو ا جو اپنی کمر اور پیٹ پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ ہو کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13985

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدِيدَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا خشک کیا ہوا گوشت کھایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13986

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَعْتُمْ طَعَامًا فَلَا تَبِيعُوهُ حَتَّى تَقْبِضُوهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم غلہ خریدو تو اس وقت تک کسی دوسرے کو نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13987

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى وَالْوَتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعَ يَوْمُ النَّحْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13988

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْ الدَّجَّالِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہربندہ مومن پڑھ لے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13989

حَدَّثَنَا زَيْدٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس ایک چتکبرے گھوڑے پر جس پر ریشمی کپڑا تھا رکھ کر دنیاکی کنجیاں لائی گئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13990

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَابْنِ أَبِي بُكَيْرٍ أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنْ الْحَصَى خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کنکریوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن میں سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13991

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِبَابِهِ جُلُوسٌ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَدَخَلَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَحَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَأُكَلِّمَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ زَيْدٍ امْرَأَةَ عُمَرَ فَسَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ آنِفًا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَوَاجِذُهُ قَالَ هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ لِيَضْرِبَهَا وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ كِلَاهُمَا يَقُولَانِ تَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ نِسَاؤُهُ وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا الْمَجْلِسِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخِيَارَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا مَا أُحِبُّ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ مَا هُوَ قَالَ فَتَلَا عَلَيْهَا يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ الْآيَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَفِيكَ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ مَا اخْتَرْتُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّفًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَمَّا اخْتَرْتِ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ وَقَالَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا أَوْ مُفَتِّنًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لیے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر نے بھی اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہوگئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اردگرد ازواج مطہرات تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے ہوئے تھے حضرت عمر نے سوچا کہ میں کوئی بات کروں شاید آپ کو ہنسی آجائے چنانچہ وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اگر آپ بنت زید اپنی بیوی کو ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبا دوں گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں یہ سن کر حضرت صدیق اکبر اٹھ کر حضرت عائشہ کو مارنے کے لیے بڑھے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ بخدا آج کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخبیر نازل فرمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے حضرت عائشہ سے آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو بلکہ اپنے پہلے والدین سے مشورہ کرلو پھر مجھے جواب دینا انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آیت تخبیر پڑھ کر سنائی جسے سن کر حضرت عائشہ کہنے لگیں کہ کیا آپ کے متعلق میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں البتہ آپ سے درخواست ہے کہ میرا یہ جواب کسی دوسری زوجہ محترمہ سے ذکر نہ کیجیے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے مجھے درشتی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے معلوم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اس لیے ازواج میں سے جس نے بھی مجھ سے تمہارے جواب کے متعلق پوچھا میں اسے ضرور بتاؤں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13992

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ قَالَ لَا قَالَ فَهَبْهُ لِي قَالَ لَا قَالَ فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی کا میرے باغ میں ایک پھل دار درخت ہے اس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی ہے کہ اب اس کے ایک درخت کی وجہ سے میں بہت مشقت میں مبتلا ہو گیا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ فلاں آدمی کے باغ میں جو تمہارا درخت ہے وہ میرے ہاتھ فروخت کردو اس نے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہبہ کردو اس نے پھر انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جنت میں ایک درخت کے عوض ہی بیچ ڈالو اس نے پھر انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے بڑا بخیل کوئی نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جو سلام میں بخل کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13993

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبٌ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِي الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُوا عَلَى جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ قَالَ يَا جَابِرُ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ

سعید بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے اتنے قریب پڑی ہوئی تھی کہ اگر وہ ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنا چاہتے تو ان کا ہاتھ باآسانی پہنچ جاتا جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لیے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں اور جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے وہ رخصت لوگوں میں پھیلا دیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے رکھی ہے پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا میں رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے میرے جسم پر بھی ایک ہی کپڑا تھا اس لیے میں بھی اسے جسم پر لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ یہ کیسالپٹنا ہے ؟ جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے اوپر ایک ہی کپڑا ہوا اور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کا تہنبد بنا لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13994

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ لگا کرپی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے با غ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13995

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ قَالَ اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي ذَلِكَ الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا

ابوسمیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے درمیان جہنم میں ورد جس کے بارے میں قرآن میں آتا ہے کہ ہر شخص جہنم میں وارد ہوگا کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا کچھ لوگ کہنے لگے کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ داخل تو سب ہوں گے البتہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو جہنم سے نجات عطا فرمائے گا میں اس سلسلے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور ان سے عرض کیا کہ ہمارے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہوگیا بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کہنا ہے کہ سب ہی داخل ہوں گے اس پر انہوں نے اپنی انگلی سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ کان بہرے ہوجائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ ورد سے مراد دخول ہے اور کوئی نیک و بد ایسانہیں رہے گا جو جہنم میں داخل نہ ہو البتہ مومن پر وہ اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جائے گی جیسے حضرت ابراہیم کے لیے ہوگئی تھی حتی کہ مومنین کی ٹھنڈک سے جہنم چیخنے لگی گے پھر اللہ متقیوں کو اس سے نجات عطا فرمادے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پر چھوڑ دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13996

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَفَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ جَابِرٌ ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13997

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا فَقُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کےلئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جوا ب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13998

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلَا أُحُدًا مَنَعَنِي أَبِي قَالَ فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس غزوات میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے البتہ میں غزوہ بدر میں اور احد میں والد صاحب کے منع کرنے کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکا تھا لیکن غزوہ احد میں اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد کسی غزوے میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 13999

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ إِنْ اسْتَطَاعَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تواچھے طریقے سے کفنائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14000

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى جَاوَزَتْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک یہودی کاجنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ گزر گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14001

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تب روزہ رکھا کرو اور جب چاند دیکھ لو تب عید الفطر منایا کرو اور اگر کسی دن بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس دن کی گنتی پوری کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14002

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَكَانَ يَكُونُ فِي الْعُلْوِ وَيَكُنَّ فِي السُّفْلِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِنَّ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ مَكَثْتَ تَسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّهْرَ هَكَذَا وَهَكَذَا بِأَصَابِعِ يَدِهِ مَرَّتَيْنِ وَقَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ إِبْهَامَهُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کرلیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں رہتے تھے اورازواج مطہرات نچلی منزل میں رہتی تھیں ٢٩راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ تو ٢٩ راتیں رکے (جبکہ آپ نے ایک ماہ کا ارادہ کیا تھا ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی مہینہ اتنا اوراتنا بھی ہوتا ہے دو مرتبہ آپ نے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14003

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَعُفَ ضَعْفًا شَدِيدًا وَكَادَ الْعَطَشُ أَنْ يَقْتُلَهُ وَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَدْخُلُ تَحْتَ الْعِضَاهِ فَأُخْبِرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْتُونِي بِهِ فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ أَلَسْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطِرْ فَأَفْطَرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَامَ رَجُلٌ مِنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَرَفَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ فَشَرِبَ لِيَرَى النَّاسُ أَنَّهُ لَيْسَ بِصَائِمٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوہ میں تھے رمضان کا مہینہ تھا ایک صحابی نے روزہ رکھ لیا جس پر وہ انتہائی کمزور ہوگئے تھے اور قریب تھا کہ پیاس ان کی جان لے لیتی اور ان کی اونٹنی جھاڑیوں میں گھسنے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہو ا تو فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو چنانچہ انہوں نے روزہ توڑ دیا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14004

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری رکھ کر ہو اور صدقات میں آغاز ان لوگوں سے کیا کرو جو تمہاری ذمے داری میں ہوں اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14005

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سناکہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14006

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14007

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ وَهُوَ الْحُدَّانِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ تَكْذِيبًا بِالشَّفَاعَةِ حَتَّى لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ كُلَّ آيَةٍ ذَكَرَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خُلُودُ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ يَا طَلْقُ أَتُرَاكَ أَقْرَأَ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي وَأَعْلَمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتُّضِعْتُ لَهُ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ بَلْ أَنْتَ أَقْرَأُ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي وَأَعْلَمُ بِسُنَّتِهِ مِنِّي قَالَ فَإِنَّ الَّذِي قَرَأْتَ أَهْلُهَا هُمْ الْمُشْرِكُونَ وَلَكِنْ قَوْمٌ أَصَابُوا ذُنُوبًا فَعُذِّبُوا بِهَا ثُمَّ أُخْرِجُوا صُمَّتَا وَأَهْوَى بِيَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ وَنَحْنُ نَقْرَأُ مَا تَقْرَأُ

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ میں پہلے شفاعت کی تکذیب کرنے والے لوگوں میں سب سے زیادہ شدت پسند تھاحتی کہ ایک دن میری ملاقات حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہوگئی میں نے انکے سامنے وہ تمام آیات پڑھ دیں جن میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا جہنم میں ہمیشہ رہنا ذکر کیا ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اے طلق تمہارا کیا خیال ہے کہ تم مجھ سے زیادہ قرآن پڑھتے ہو؟ مجھ سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں اور آپ ہی مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جانتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تم نے جتنی بھی آیات پڑھی ہیں ان سب کا تعلق مشرکین سے ہے البتہ وہ لوگ جن سے گناہ سرزد ہوئے ہوں انہیں سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سناہو کہ انہیں جہنم سے نکال لیا جائے گا حالانکہ جو آیات تم پڑھتے ہوہم بھی وہ پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14008

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ قَالَ أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ فَأَنْتَ يَا عُمَرُ قَالَ آخِرَ اللَّيْلِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ رات کے آخری پہر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14009

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَقُلْنَا تُصَلِّي عَلَيْهِ فَخَطَا خُطًى ثُمَّ قَالَ أَعَلَيْهِ دَيْنٌ قُلْنَا دِينَارَانِ فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الدِّينَارَانِ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحِقَّ الْغَرِيمُ وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ قَالَ نَعَمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ فَقَالَ إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ قَالَ فَعَادَ إِلَيْهِ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ لَقَدْ قَضَيْتُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَغَسَّلْنَاهُ وَقَالَ فَقُلْنَا نُصَلِّي عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہوگیا ہم نے اسے غسل دیا حنوط لگائی کفن پہنایا اور نماز جنازہ کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے چندقدم چل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے حضرت ابوقتادہ نے ان کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابوقتادہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس کا قرض میرے ذمے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقروض کا حق تم پر آگیا اور مرنے والا اس سے بری ہو گیا انہوں نے عرض کیا جی ہاں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر ایک دن گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ان دو دیناروں کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا کہ وہ کل ہی تو مرا ہے بہر حال اگلے دن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ میں نے اس کا قرض ادا کر دیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اس کاجسم ٹھنڈ ا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14010

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَاكَ يَرُدُّ مِمَّا فِي نَفْسِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو دیکھا جو آپ کو اچھی لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھال کو رنگ دے رہی تھیں اور ان سے اپنے جسمانی تقاضے پورے کئے اور فرمایا عورت شیطان کی صورت میں آجاتی ہے جو شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس آجائے کیونکہ اس طرح جو اس کے دل میں خیالات ہونگے وہ دور ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14011

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ جَاءَهُ الْعَصْرَ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ أَوْ قَالَ صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبَ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ جَاءَهُ الْعِشَاءَ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ جَاءَهُ الْفَجْرَ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ الْغَدِ لِلظُّهْرِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ الْمَغْرِبَ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ لِلْعِشَاءِ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْفَجْرِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّهْ فَصَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ قَالَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور عرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے زوال کے بعد نماز ظہرا داکی پھر دوبارہ عصر کے وقت آئے اور عرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے نماز عصر ادا کی پھر وہ نماز مغرب کے وقت آئے اور عرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے غروب شفق کے بعد نماز عشاء ادا فرمائی پھر دوبارہ نماز فجر کے وقت آئے اور عرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے طلوع فجر کے وقت نماز فجر ادا کی پھر اگلے دن دوبارہ ظہر کی نماز کے وقت آئے اوعرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں چنانچہ آپ نے ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہونے پر نماز ظہرادا فرمائی پھر وہ نماز عصر کے وقت آئے اور عرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں چنانچہ آپ نے ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے پر نماز عصر ادا فرمائی پھر وہ نماز مغرب کے وقت آئے اس کا وہی وقت تھا وہ اس سے ہٹے نہیں پھر نماز عشاء کے لیے اس وقت آئے جب نصف یا تہائی رات بیت چکی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز عشاء ادا فرمائی پھر نماز فجر کے لیے اس وقت آئے جب روشنی خوب پھیل چکی تھی اور عرض کیا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد حضرت جبریل کہنے لگے کہ نمازوں کا وقت دراصل ان دو کے درمیان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14012

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَخُو أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا قَالَ حَسَنٌ قُلْتُ لِجَعْفَرٍ وَمَتَى ذَاكَ قَالَ زَوَالَ الشَّمْسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ آتے تھے اور اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14013

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْمَرْتُمْ الْمَيِّتَ فَأَجْمِرُوهُ ثَلَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میت کو دھونی دو تو طاق عدد میں دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14014

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو أَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ فَنَقِيلُ وَهُوَ عَلَى مِيلَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ جاتے تھے اور قیلولہ کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14015

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر بنو سلمہ میں واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14016

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جس حال میں فوت ہوگا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14017

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهِيَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزانہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلم کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو بھی دعا کرے گا وہ دعا ضرور قبول ہوگی اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14018

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14019

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے کہ اسکی شرمگاہ پر کچھ بھی نہ ہو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14020

حَدَّثَنَا شَاذَانُ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَا فُسِحَ لَهُ فِي قَبْرِهِ يَقُولُ دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ اسْكُنْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مردہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی قبر کتنی کشادہ کردی گئی ہے تو وہ فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اپنے گھر والوں کو خوشخبری سنا کر آؤں لیکن اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں ٹھہر کر سکون حاصل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14021

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو النَّضْرِ الزَّعْفَرَانِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ فَقَالَ كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا قَالَ جَعْفَرٌ وَإِرَاحَةُ النَّوَاضِحِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ

محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کب پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ آتے تھے اور اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14022

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الْبُدْنَ الَّتِي نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ ثُمَّ شَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے لئے جن اونٹوں کو لے کر گئے تھے ان کی تعداد سوتھی جن میں سے ٦٣ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیے تھے اور بقیہ اونٹ حضرت علی نے ذبح کیے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ کا تھوڑا تھوڑا گوشت لے کر ہنڈیا میں ڈالا جائے پھر دونوں حضرات نے اس کا شوربہ نوش فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14023

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ثُمَّ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں کھانے کی دعوت میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اس وقت میں نے دیکھا کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کے پودوں کے نیچے سے سر نکال کر دیکھنے لگے کہ اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14024

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہوتی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سے سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14025

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ عَلَيْهَا مِنْ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ وَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تولیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14026

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ فَأَرَاهُمْ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنْسَكَهَا فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوتے توسکون کے ساتھ ہوتے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی اور انہوں نے ٹھیکری جیسی کنکریاں دیکھیں اور سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور فرمایا میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14027

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلقیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14028

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيُومِئُ إِيمَاءً السُّجُودُ أَخْفَضُ مِنْ الرُّكُوعِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ مَا فَعَلْتَ فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر مشرق کی جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا اور دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرات کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا۔ میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14029

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مَشَيْنَا قُدَّامَهُ وَتَرَكْنَا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاتے تو صحابہ کرام آپ کے آگے چلا کرتے تھے اور آپ کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14030

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا وَهِيَ مُرْطِبَةٌ قَالُوا فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ كَانَ فِي كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مدینہ منورہ کو ایک وقت میں یہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ اس وقت مدینہ منورہ کی مثال کھاری کنوؤں کے درمیان بیٹھے کنویں کی سی ہوگی صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ پھر اسے کون کھائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درندے اور گدھ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14031

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایمان اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی چرواہوں میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14032

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَسِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے تین مرتبہ جمعہ چھوڑ دے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14033

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح وَأَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14034

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ العَقَدِىُّ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ حُنَيْنٍ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ اعْدِلْ فَقَالَ لَقَدْ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال تقسیم کر رہے تھے اس دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ انصاف سے کام لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں عدل نہ کروں گا تو یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14035

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي حَيَّانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے گویا وہ اپنے گلے سے ایمان کی رسی نکال پھینکتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14036

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ ثَلَاثًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَاسْتُجِيبَ لَهُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَعُرِفَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ قَالَ جَابِرٌ فَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غَلِيظٌ إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ فَأَدْعُو فِيهَا فَأَعْرِفُ الْإِجَابَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد فتح میں تین دن مسلسل پیر منگل اور بدھ کو دعا مانگی وہ دعا بدھ کے دن دو نمازوں کے درمیان قبول ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر پھیلی ہوئی بشاشت محسوس ہونے لگی اس کے بعد مجھے جب بھی کوئی بہت اہم کام پیش آیا میں نے اسی گھڑی کا انتخاب کر کے دعا مانگی تو مجھے اس میں قبولیت کے آثار نظر آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14037

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَأَبُو أَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمَطْلَعِ شَدِيدٌ وَإِنَّ مِنْ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا موت کی تمنا نہ کیا کرو کیونکہ قیامت کی ہولناکی بہت سخت ہے اور انسان کی سعادت وخوش نصیبی یہ ہے کہ اسے لمبی عمر ملے اور اللہ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14038

حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَوْ غَيْرُهُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرپختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14039

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلَتْ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی کے قریب زمین کا ایک ٹکڑ اخالی ہوگیا بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے یہ فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو انہوں نے عرض کی جی یا رسول اللہ ہمارایہی ارادہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنوسلمہ اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھاجاتا ہے اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھاجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14040

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ

حضرت ابوسعید اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایک ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھر بھر کرمال دے گا اور اسے شمار تک نہیں کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14041

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرتے تھے جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نشیب میں اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14042

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ وَهُوَ أَشَدُّ الْكَذَّابِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کانا ہوگا وہ سب سے بڑا جھوٹا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14043

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي أَشْتَرِطُ عَلَى رَبِّي أَيَّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ شَتَمْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ وعدہ لے رکھاہے کہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لیے باعث تزکیہ واجر ثواب بن جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14044

حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ نَزَلَ عَنْ الصَّفَا حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا الشِّقَّ الْآخَرَ مَشَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق تفصیلات میں یہ بھی مذکور ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے اترے اور وادی کے بیچ میں جب آپ کے مبارک قدم اترے تو آپ نے سعی فرمائی یہاں تک کہ جب دوسرے حصے پرہم لوگ چڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم معمول کی رفتار سے چلنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14045

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ الْمُهَلِّ فَقَالَ سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى أُرَاهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقِ الْأُخْرَى الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے میقات کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ میں میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرقہ اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14046

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ أَفَنَرْقِيهِمْ قَالَ وَبِمَاذَا فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسما بنت عمیس سے فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میرے بھتیجوں کے جسم بہت لاغر ہورہے ہیں کیا انہیں کوئی پریشانی اور حاجت ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں البتہ انہیں نظر بہت جلدی لگتی ہے کیا ہم ان پر جھاڑ پھونک کر سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کن الفاظ سے انہوں نے وہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں جھاڑ دیا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14047

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ شَيْءٌ فَفِي الرَّبْعِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو وہ جائیداد گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14048

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنْ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ کتوں کو ختم کرو چنانچہ اگر کوئی عورت دیہات سے بھی اپنا کوئی کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مارڈالتے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا صرف اس کالے سیاہ کتے کو مارا کرو جو دونقطوں والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14049

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُسْطَاطَهُ حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ فِيهَا قَسْمٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْعَشِيِّ حَضَرْنَا فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت صفیہ بنت حیی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں داخل ہوئیں تو لوگ بھی ان کے ساتھ آگئے تاکہ انہیں کسی کے حصے میں سے دے دیا جائے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ماں کے پاس سے اٹھ جاؤ شام کے وقت ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادرکے ایک کونے میں تقریبا ڈیڑھ مد کے برابر عجوہ کھجوریں لے کر نکلے اور فرمایا اپنی ماں کا ولیمہ کھاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14050

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14051

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر اٹھا اٹھا کرلانے لگے حضرت عباس کہنے لگے کہ بھتیجے آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیجئے تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساکرنا چاہا توبے ہوش ہو کر گر پڑے اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم میں نہیں دیکھا گیا'

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14052

حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفامروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تھی تاکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکیں اور مسائل بآسانی حل کرسکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14053

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14054

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَاطَّلَعَ فِيهَا فَقَالَ حَسِبْتُهُ لَحْمًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے ٹھیکری کی ہنڈیا میں کھانا تیار کیا میں نے وہ برتن لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جھانک کر دیکھا اور فرمایا میں توسمجھا تھا کہ اس میں گوشت ہوگا میں نے جا کر اپنے گھر والوں سے اس کا تذکرہ کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14055

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجٌّ مَبْرُورٌ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ قَالَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ حج مبرور سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14056

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اشہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الایہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کردی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہونے تک رک جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14057

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ أَفِي الْعَقْرَبِ رُقْيَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ کیا میں بچھو کے ڈنگ کا جھا ڑ پھونک کے ذریعے علاج کرسکتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتاہو اسے ایساہی کرنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14058

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْنَا إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَقَالَ إِنَّمَا الشَّهْرُ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الْآخِرَةِ وَقَالَ يُونُسُ أُصْبُعًا وَاحِدَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں رہتے تھے اورازواج مطہرات نچلی منزل میں رہتی تھیں ٢٩راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ تو ٢٩ راتیں رکے (جبکہ آپ نے ایک ماہ کا ارادہ کیا تھا ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی مہینہ اتنا اوراتنا بھی ہوتا ہے دو مرتبہ آپ نے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14059

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ مِنْهَا إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ قَالَ فَخَطَبْتُ جَارِيَةً مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَكُنْتُ أَخْتَبِئُ لَهَا تَحْتَ الْكَرَبِ حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بنا پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتاہو تو اسے کرلینا چاہئے چنانچہ میں نے بنوسلمہ کی ایک لڑکی سے پیغام نکاح بھیجا تو اسے کسی درخت کی شاخوں سے چھپ کر دیکھ لیا یہاں تک کہ مجھے اس کی وہ خوبی نظر آگئی جس کی بنا پر میں اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا چنانچہ میں نےاس سے نکاح کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14060

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بائیں ہاتھ سے کھانا مت کھاؤ کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھانا کھاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14061

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمادیا نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کام کے لئے تجھے بھیجا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مشرق کی جانب تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14062

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنْ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس انبیاء کو لایا گیا حضرت موسی تو ایک وجیہہ آدمی معلوم ہوتے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ قبیلہ شنوہ کے آدمی ہوں میں نے حضرت عیسی کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ مجھے (اپنے صحابہ میں ) عروہ بن مسعود لگے اور میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ میں نے تمہارے پیغمبر (خود ) کو دیکھا اور میں نے حضرت جبرائیل کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ " دحیہ " کو پایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14063

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا صَلَّى قَالَ إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اس وقت آپ بیٹھ کر نماز پڑھارہے تھے اور حضرت صدیق اکبربلند آواز سے تکبیر کہہ کر دوسروں تک تکبیر کی آواز پہنچا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کن اکھیوں سے ہماری طرف دیکھا تو ہم کھڑے ہوئے نظر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا اور ہم بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور بقیہ نماز اسی طرح ادا کی نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی قریب تھا کہ تم فارس اور روم والوں جیسا کام کرنے لگتے وہ لوگ بھی اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں تم لوگ ایسا نہ کیا کرو بلکہ اپنی ائمہ کی اقتدا کیا کرو اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14064

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ فَإِذَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ أَوْ يَهُودِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَتْ جَنَازَةَ يَهُودِيٍّ أَوْ يَهُودِيَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْتُ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً فَقُومُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ کھڑے ہوگئے ہم بھی کھڑے ہوگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو ایک یہودی کاجنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت کی ایک پریشانی ہوتی ہے لہذا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14065

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّائِبَةُ و قَالَ خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ السَّائِمَةُ جُبَارٌ وَالْجُبُّ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ قَالَ قَالَ الشَّعْبِيُّ الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چراگاہ میں چرنے والے جانور یا بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور سے مارا جانے والا رائیگاں گیا کنوئیں میں مرنے والا کا خون رائیگاں گیا کان میں مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور زمین کے دفینے میں بیت المال کا پانچواں حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14066

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ مقرر کیا ہے کہ سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی جا سکتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14067

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَحَوْلَهُ ثِيَابٌ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ قُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَهَذِهِ ثِيَابُكَ إِلَى جَنْبِكَ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ أَوَكَانَ لِكُلِّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ جَابِرٌ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَا اتَّسَعَ الثَّوْبُ فَتَعَاطَفْ بِهِ عَلَى مَنْكِبَيْكَ ثُمَّ صَلِّ وَإِذَا ضَاقَ عَنْ ذَاكَ فَشُدَّ بِهِ حَقْوَيْكَ ثُمَّ صَلِّ مِنْ غَيْرِ رِدَاءٍ لَهُ

شرحبیل کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسرے کپڑے ان کے قریب پڑے ہوئے تھے جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ اللہ تعالیٰ آپ کی بخشش فرمائے آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں جبکہ آپ کے پہلو میں اور بھی کپڑے موجود ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لیے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں پھر فرمایا کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں کیاصحابی کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے جسم پر ایک ہی کپڑا ہو اور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کاتہنبد بنالو اور پھر نماز پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14068

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14069

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا وَلَمْ يَدْخُلْ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام بطحا میں تھے تو حضرت عمر فاروق کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹاڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹانہیں دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14070

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ سُئِلَ سَعْدٌ عَنْ بَيْعِ سُلْتٍ بِشَعِيرٍ أَوْ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَمْرٍ بِرُطَبٍ فَقَالَ تَنْقُصُ الرَّطْبَةُ إِذَا يَبِسَتْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا إِذَنْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا ہربیماری کا علاج ہوتا ہے جب دوا کسی بیماری پر جا کر لگتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14071

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ فَقَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِيهِ الشِّفَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مقنع کی عیادت کے لئے گئے تو فرمایا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تم سینگی نہ لگوالو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اس میں شفاء ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14072

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النُّهْبَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14073

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ قَالَ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ سُرَاقَةُ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ہمارا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم لکھ کر اسے خشک ہوگئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہوگیا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا حضرت سراقہ نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اسی عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14074

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلْيُكَفِّنْ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس گنجائش ہو اسے کفن کےلئے دھاری دار یمنی کپڑا استعمال کرنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14075

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ رَبَطَتْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ تُرْسِلْهُ فَيَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ فَوَجَبَتْ لَهَا النَّارُ بِذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ایک عورت کو اس بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپناپیٹ بھر لیتی حتی کہ وہ اس حال میں مرگئی تو اس کے لئے جہنم واجب ہو گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14076

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ فَقَالَ نَعَمْ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ زمین کے دفینے میں بیت المال کے لئے پانچوں حصہ واجب ہے انہوں نے فرمایا ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14077

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل قیصر و کسری اور ہر اہم حکمران کو خط تحریر فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14078

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا راہ راست اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14079

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٍ قَالَ جَابِرٌ لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ هَاهُنَا بَرَكَةٌ فَيُقَالُ لَا وَيُقَالُ هَاهُنَا يَسَارٌ فَيُقَالُ لَا قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت، یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کردوں گا اب مجھے یہ یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کا نام بھی ذکر کیا تھا یا نہیں ؟ اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ کوئی کسی سے پوچھتا ہے کہ یہاں برکت ہے وہ جواب دیتا ہے نہیں کوئی پوچھتا ہے کہ یہاں کوئی یسار (آسانی) ہے وہ جواب دیتا ہے کہ نہیں لیکن اس سے قبل ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا پھر حضرت عمر فاروق نے اسے سختی سے روکنے کا ارادہ کیا لیکن پھر اسے ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14080

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ أَمِيرَ الْبَعْثِ كَانَ غَالِبًا اللَّيْثِيَّ وَقُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الَّذِي دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ وَقَدْ تَسَوَّرَ مِنْ قِبَلِ الْجِدَارِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَقَدْ خَلَتْ اثْنَانِ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسْهَا فِي هَذِهِ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ الَّتِي بَقِينَ مِنْ الشَّهْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی لشکر کے امیر غالب لیثی اور قطبہ بن عامر تھے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باغ میں آئے تھے جبکہ وہ محرم تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر بعد دروازے سے نکلے تو دیوار کی جانب آڑ لے کر چلنے لگے ان میں ہی عبداللہ بن انیس بھی تھے جنہوں نے ماہ رمضان کی بائیس راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینے کی اب جو سات راتیں بچ گئیں ہیں ان میں ہی شب قدر تلاش کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14081

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو تین مرتبہ پتھر استعمال کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14082

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ السُّجُودِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُعْتَدَلَ فِي السُّجُودِ وَلَا يَسْجُدَ الرَّجُلُ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سجدے کی کیفیت کے متعلق سوال پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسجدے میں اعتدال کا حکم فرماتے ہوئے سنا ہے اور کوئی شخص باز بچھا کر سجدہ نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14083

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ نِدَاءَ الصَّلَاةِ فَرَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ الرَّوْحَاءِ وَالْمَدِينَةِ لَهُ ضُرَاطٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جب مؤذن اذان دیتا ہے توشیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحاء تک ہے اور وہ پیچھے سے آواز خارج کرتاجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14084

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كَثْرَةِ خُطَا الرَّجُلِ إِلَى الْمَسْجِدِ شَيْئًا فَقَالَ هَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ لَا تُعْرُوا الْمَدِينَةَ فَإِنَّ لَكُمْ فَضِيلَةً عَلَى مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کی طرف بکثرت چل کر جانے کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارا ارادہ ہو ا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ہمیں سختی سے روکتے ہوئے فرمایا مدینہ خالی نہ کرو کیونکہ مسجد کے قریب والوں پر تمہیں ہر قدم کے بدلے ایک درجہ فضیلت ملتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14085

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَمَسْجِدِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں حضرت ابراہیم کی مسجد (مسجدحرام) ہے اور میری مسجد ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14086

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِبَعْرَةٍ أَوْ بِعَظْمٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14087

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَانَ الْفَتْحِ أَنْ يَأْتِيَ الْبَيْتَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهِ وَلَمْ يَدْخُلْهُ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام بطحا میں تھے تو حضرت عمر فاروق کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14088

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْمُهَلِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الطَّرِيقِ الْأُخْرَى مِنْ الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ حجفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14089

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْ الْمَدِينَةِ لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِيرَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کا درمیانی حصہ حرم قرار دیا ہے جس کا کوئی درخت نہیں کاٹاجاسکتا الایہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کوچارہ کھلائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14090

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبِّرُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مردوں پر " خواہ دن ہو یارات " چارتکبیرات پڑھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14091

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ عَلَى بَعِيرِهِ بِحَصَى الْخَذْفِ وَهُوَ يَقُولُ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کردیا اور انہیں ٹھیکری جیسی کنکریاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہوسکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14092

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَارْضَ عَنْهُ رِضًا لَا تَسْخَطُ بَعْدَهُ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مؤذن کے اذان دینے کے بعد یہ دعاء کرے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور نافع نماز کے رب محمد پر درود نازل فرما ان سے اس طرح راضی ہوجا کہ اس کے بعد ناراضگی کاشائبہ بھی نہ رہے اللہ اس کی دعاء ضرور قبول کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14093

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الدُّنْيَا وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ فَقَالَ يَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا فَقَالَ إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آکر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو حضرت عمر نے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرما لیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لیے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لیے مناسب ہوگا البتہ عمر تم اسے لے لو حضرت عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کریں اور میں اسے لے لوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لیے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کرلو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ حبشہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14094

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک وسق عطا فرمادیا اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کہ ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس میں سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14095

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَبْصَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَاكِبًا فَقَالَ نَعَمْ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ اشْتَرَى نَاقَةً لِيَدْعُوَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثُمَّ دَعَا لَهُ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس نے ایک اونٹنی خریدی تھی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں دعا کروانا چاہتا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنا چاہی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتی کہ جب سلام پھیر دیا تو اس کے لیے دعا کردی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14096

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ سب سے ہلکی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14097

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَلَّا يَقُومَ بِاللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ثُمَّ يَنَامُ وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ بِقِيَامٍ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہوسکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیں اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیں کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14098

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْصُقْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکرم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14099

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثِرُوا مِنْ هَذِهِ النِّعَالِ فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ رَاكِبًا إِذَا انْتَعَلَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا اسْتَكْثِرُوا مِنْ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جوتی کثرت سے پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنے رہتا ہے گویا سواری پر سوار رہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14100

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریب قریب رہا کرو اور صحیح بات کیا کرو کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14101

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ مَا عَلَيْهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تولیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14102

حَدَّثَنَا ابْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ وَعَلَا صَوْتُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتاجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14103

قَالَ وَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ

پھر فرمایا کہ میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں جو شخص مال دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کاہے اور جو شخص قرض یابچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14104

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَغَيْرُهُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق مت پوچھا کرو اس لیے کہ وہ تمہیں صحیح راستہ کبھی نہیں دکھائیں گے کیونکہ وہ تو خود گمراہ ہیں اب یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کربیٹھو گے یا کسی حق بات کی تکذیب کر جاؤ گے اور یوں بھی اگر تمہارے درمیان حضرت موسی بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے علاوہ انہیں کوئی چارہ نہ ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14105

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَاجْتَمَعَ قَوْمُ ذَا وَقَوْمُ ذَا وَقَالَ هَؤُلَاءِ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ هَؤُلَاءِ يَا لَلْأَنْصَارِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑپرے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آوازیں سن کا باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ؟۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14106

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا وَلَا عَلَى ابْنَةِ أُخْتِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے اور نہ کسی بھتیجی یابھانجی کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14107

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ قَالَ سَمِعْت سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں ۔سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ حواری کا معنی ہے ناصر ومددگار۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14108

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے کرائے سے منع کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14109

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَبُو الْمُنْذِرِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ مَا الْعَافِيَةُ قَالَ مَا اعْتَافَهَا مِنْ شَيْءٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14110

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَطْعَمْتُهُمْ رُطَبًا وَأَسْقَيْتُهُمْ مَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنْ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ہمراہ میرے یہاں تشریف لائے میں نے کھانے کے لیے ترکجھوریں اور پینے کے لیے پانی پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14111

حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي قَالَ فَقَالَ مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ أَوْ لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اپنے پیچھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ اگر آپ مجھے چھوڑ کرچلے گئے تو لوگ میرے متعلق کیا کہیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون کو حضرت موسی سے تھی البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14112

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14113

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین سالوں کے لیے پھلوں کی پیشگی بیع سے منع کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14114

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ أَوْ جَاءَ عَامَ الْفَتْحِ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ مِثْلُ الثَّغَامِ أَوْ مِثْلُ الثَّغَامَةِ قَالَ حَسَنٌ فَأَمَرَ بِهِ إِلَى نِسَائِهِ قَالَ غَيِّرُوا هَذَا الشَّيْبَ قَالَ حَسَنٌ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ أَقَالَ جَنِّبُوهُ السَّوَادَ قَالَ لَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں ان کی خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14115

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِكَفِّهِ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرات کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14116

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا امام ہو وہ جان لے کہ امام کی قرات ہی اس کی قرات ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14117

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14118

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَبْنَا جَرَادًا فَأَكَلْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شریک تھے ہمیں اس دوران ٹڈی دل ملے جنہیں ہم نے کھالیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14119

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنْ الدَّوَابِّ صَبْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر ماراجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14120

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُقَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14121

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا بلکہ تبادلے ہی کو مہر فرض کرلیا گیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14122

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا مُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِنَا هَذَا غَيْرَ أَهْلِ الْكِتَابِ وَخَدَمِهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سال کے بعد کوئی مشرک ہماری مسجدوں میں داخل نہ ہو سوائے اہل کتاب اور ان کے خادموں کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14123

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَعَلَى اللَّهِ حِسَابُهُمْ أَوْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ الا الہ اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کے کلمے کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14124

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جائے اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے جس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو کیونکہ وہاں تیسرا شیطان ہوتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14125

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ و عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14126

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَّبِعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَبِمَجَنَّةٍ وَبِعُكَاظٍ وَبِمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَلَهُ الْجَنَّةُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَيُؤْوِيهِ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ أَوْ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ زَوْرِ صَمَدٍ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيُؤْمِنُ بِهِ فَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَذَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَدَخَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءُوكَ إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي وُجُوهِنَا قَالَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا أَعْرِفُهُمْ هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذُكُمْ فِيهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ يَثْرِبَ فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى السُّيُوفِ إِذَا مَسَّتْكُمْ وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَعَلَى مُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَأْخُذُ عَلَيْنَا بِشُرْطَةِ الْعَبَّاسِ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جاجاکر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے ا نکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور انکی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہوجاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لیے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لیے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لیے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہاں سے نکال کرلے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجر و ثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کردوتاکہ وہ عند اللہ تمہارے لیے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخدا ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14127

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر شیطان مجھے نماز کا کوئی کام بھلا دے تو مردوں کوسبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آوازیں میں تالی بجانی چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14128

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے ہلی اور مکمل نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14129

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَهْرَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرَ وَكَسَرَ جِرَارَهُ وَنَهَى عَنْ بَيْعِهِ وَبَيْعِ الْأَصْنَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن شراب کو بہادیا اس کے مٹکوں کو توڑ دیا اور اس کی اور بتوں کی بیع سے منع فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14130

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى وَادِيَيْنِ وَلَوْ أَنَّ لَهُ وَادِيَيْنِ لَتَمَنَّى ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک پوری وادی ہو تو وہ دو اور دو ہو تو تین کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرسکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14131

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ سَهْلًا إِذَا بَاعَ سَهْلًا إِذَا اشْتَرَى سَهْلًا إِذَا قَضَى سَهْلًا إِذَا اقْتَضَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی امتوں کے ایک آدمی کی بخشش صرف اس بات پر کردی کہ وہ خرید و فروخت میں، ادائیگی اور تقاضا کرنے میں بڑا نرم خو تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14132

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نہیں سوتے تھے جب تک سورت سجدہ اور سورت ملک پڑھ نہ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14133

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ أَخْبَرَهُ أَوْ حَدَّثَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ مِنْهُ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ فَطَافَ سَبْعًا وَرَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے جن میں سے پہلے تین میں رمل کیا اور باقی چار معمول کی رفتار سے لگائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14134

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالْحَجَرِ فَرَمَلَ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود پر آگئے اس پر تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکر معمول کی رفتار سے لگائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14135

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ هَكَذَا وَقَعَ فِي الْأَصْلِ حَسَنٌ وَالصَّوَابُ حُسَيْنٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14136

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ وَقَالَ هُوَ يَوْمٌ كَانَتْ الْيَهُودُ تَصُومُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا جبکہ پہلے یہودی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14137

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةَ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا الْإِدَامَ وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ فَعَمَدَتْ إِلَى عُكَّتِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ فِيهَا سَمْنًا فَمَا زَالَ يَدُومُ لَهَا أُدْمُ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ وَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعَصَرْتِيهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ لَكِ مُقِيمًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام مالک جہزیہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بیجھا کرتی تھی ایک دفعہ اس کے بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی بھیجا کرتی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چنانچہ وہ اسے کافی عرصے تک اپنے بچوں کے سالن کے طور پر استعمال کرتی رہی حتی کہ ایک دن اس نے اسے نچوڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ساراواقعہ سنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اسے یونہی رہنے دیتیں تو اس میں ہمیشہ گھی رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14138

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ تَمَنَّى آخَرَ فَقَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہوتی تو وہ دوسری کی تمنا کرتا انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر ابن آدم کے پاس کھجوروں کے درختوں کی ایک پوری وادی ہو تو وہ دو کی اور دو ہوں تو تین کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14139

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سَقَتْ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو زمین بارش یاچشموں سے سیراب ہو اس میں عشر واجب ہوگا اور جو ڈول سے سیراب ہو اس میں نصف عشر واجب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14140

حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُذْكَرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا سَقَتْ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ وَفِيمَا سَقَتْ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشُورِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو زمین بارش یاچشموں سے سیراب ہو اس میں عشر واجب ہوگا اور جو ڈول سے سیراب ہو اس میں نصف عشر واجب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14141

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14142

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِيرُ بِهَا الْعَبْدُ مِنْ النَّارِ وَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارا پروردگار فرماتا ہے کہ روزہ ایک ڈھال ہے جس سے انسان جہنم سے اپنا بچاؤ کرتا ہے اور روزہ خاص میرے لئے ہے لہذا اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14143

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ وَقَالَ جَابِرٌ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ وَقَالَ إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تب روزہ رکھا کرو اور اگر کسی دن بادل چھاجائے توتیس دن کی گنتی پوری کرو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا ٢٩راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے اور فرمایا کہ کبھی مہینہ ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14144

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا مَتَى كَانَ يَرْمِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا أَوَّلَ يَوْمٍ فَضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَعِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت رمی فرماتے تھے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14145

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَعْجَبَتْ أَحَدَكُمْ الْمَرْأَةُ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے کیونکہ اس طرح کے جو خیالات دل میں ہونگے وہ دور ہوجائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14146

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ فَقَالَ اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قبیلہ ثقیف نے کس طرح بیعت کی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ قبیلے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی تھی کہ ان پر صدقہ ہوگا اور نہ ہی جہاد۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14147

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا يَعْنِي ثَقِيفًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب یہ لوگ (قبیلہ بنوثقیف والے جب مسلمان ہوجائیں گے تو صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14148

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَعْدَ أَنْ رَجَعْنَا إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَأَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا هَبَطْتُمْ وَادِيًا إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلو اور جس وادی کو بھی طے کرو وہ تمہارے ساتھ ساتھ رہے انہیں مرض نے روک رکھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14149

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى دَفَعَتْ الرِّجَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لِمَوْتِ الْمُنَافِقِ فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَجَدْنَاهُ مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک اتنی تیز آندھی آئی کہ کئی لوگوں کو اڑا کر لے گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک منافق کی موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتہ چلاکہ واقعی ایک بہت ہی بڑامنافق مر گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14150

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْعَقَبَةِ فَقَالَ شَهِدَهَا سَبْعُونَ فَوَافَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ستر آدمی شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ کہ حضرت عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14151

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جَنْبِ وَادِي الْمَدِينَةِ لَيَقُولَنَّ لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرَةٌ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار وادی مدینہ کے ایک پہلو میں چل رہا ہو گا اور کہے گا کہ کبھی یہاں بھی موت سے مؤمن آباد ہوا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14152

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا مُرْطِبَةً قَالُوا فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کو ایک وقت میں یہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ اس وقت مدینہ منورہ میں بہت عمدہ حالت ہوگی صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ پھر اسے کون کھائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درندے اور پرندے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14153

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ فِيهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ فَيَجِدُونَ رَخَاءً ثُمَّ يَأْتُونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ منورہ پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا جب لوگ یہاں سے مدینہ منورہ کے کونے کونے کی طرف آسانی کی تلاش میں نکل جائیں گے انہیں آسانی اور سہولیات مل جائیں گی اور وہ واپس آ کر اپنے گھر والوں کو بھی انہی سہولیات میں لے جائیں گے حالانکہ اگر انہیں نہیں پتہ ہوتا تو مدینہ منورہ پھر بھی ان کے لئے بہتر تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14154

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ مرد مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہوتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14155

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَرْكَبُهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے سرخ کجاوے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس پر سوار نہیں ہوتا اور میں ایسی قمیض نہیں پہنتا جس کے کف ریشمی ہوں اور نہ ہی ریشمی لباس پہنتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14156

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ أَوْ الشَّرَابِ أَطْعَمُهُ قَالَ لَا زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ فَقَالَ إِذَا مَاتَتْ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی چوہا کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو کیا میں اسے کھا سکتاہوں انہوں نے فرمایا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمادیا ہم لوگ مٹکوں میں گھی رکھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس میں کوئی چوہا مر جائے تو اسے مت کھایا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14157

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الضَّبِّ فَقَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ فَقَالَ لَا أَطْعَمُهُ وَقَذِرَهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَهُوَ طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کے پاس گوہ لائی گئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اسے نہیں کھاتابلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گھن محسوس کی ہے حضرت عمر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا اس لئے اللہ بہت سے لوگوں کے ذریعے فائدہ پہنچا دیتا ہے اور یہ عام طور پر چرواہوں کا کھانا ہے اور اگر میرے پاس گوہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14158

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدُ فِيهِ وَلَكِنْ لِيَقُولَنَّ تَفَسَّحُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14159

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يَتَوَلَّى مَوْلَى الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ ثُمَّ كَتَبَ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کرلے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلا م سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14160

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحیفے میں ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14161

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ دِينَارًا فَهُوَ كَيَّةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دینار چھوڑ جائے وہ ایک داغ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14162

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب نماز کے لئے اعلان کیا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14163

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَظَرَ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَ نَحْوَ ذَلِكَ وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ وَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی جانب رخ کیا اور میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سناہے کہ اے اللہ انکے دلوں کو پھیر دے پھر عراق کی طرف رخ کیا اور یہی دعاء فرمائی اور افق کی سمت رخ کر کے اسی طرح دعاء کرنے کے بعد فرمایا اے اللہ ہمیں زمین کے پھل عطا فرما اور ہمارے مد اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14164

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طَيْرُ كُلِّ عَبْدٍ فِي عُنُقِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر بندے کا نامہ اعمال اس کی گرد ن میں لٹکا ہوا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14165

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ النَّفَقَةَ فَلَمْ يُوَافِقْ عِنْدَهُ شَيْءٌ حَتَّى أَحْجَزْنَهُ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أَتَاهُ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَأُذِنَ لَهُمَا وَوَجَدَاهُ بَيْنَهُنَّ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَةَ زَيْدٍ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَوَجَأْتُهَا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَأَرَادَ بِذَلِكَ أَنْ يُضْحِكَهُ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَبَسَنِي غَيْرُ ذَلِكَ فَقَامَا إِلَى ابْنَتَيْهِمَا فَأَخَذَا بِأَيْدِيهِمَا فَقَالَا أَتَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَا لَا نَعُدْ فَعِنْدَ ذَلِكَ نَزَلَ التَّخْيِيرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے نفقہ میں اضافے کی درخواست کی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہیں تھا لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرسکے حضرت صدیق اکبر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لیے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر نے بھی آکر اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہو گئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتھے اور اردگرد ازواج مطہرات تھیں حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اگر آپ بنت زید (اپنی بیوی) ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گرد ن دبادوں گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتناہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں ۔ یہ سن کر حضرت صدیق اکبر اٹھ کر حضرت عائشہ کو مارنے کے لیے بڑھے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ بخدا آج کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14166

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجالس امانت کے ساتھ قائم رہتی ہیں سوائے تین قسم کی مجلسوں کے ایک تو وہ مجلس جس میں ناحق خون بہایا جائے دوسری وہ مجلس جس میں کسی پاکدامن کی آبروریزی کی جائے اور تیسری وہ مجلس جس میں ناحق کسی کا مال چھین کر اسے اپنے اوپر حلال سمجھا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14167

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ قَالَ حُسَيْنٌ فِيمَا سِوَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14168

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشَدَّهُ تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں اسی طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14169

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَاءَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ عَنْ افْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا أَحْدَثُوا فَجَعَلَ جَابِرٌ يَبْكِي ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ایک پڑوسی کہتا ہے کہ میں ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ مجھے سلام کرنے کےلئے تشریف لائے میں انہیں یہ بتانے لگا کہ لوگ کسی طرح آپس میں افتراق کا شکار ہیں اور انہوں نے کیا کیا بدعات تیار کرلی ہیں جسے سن کر حضرت جابر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر کہنے لگے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ لوگ اب فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہو گئے عنقریب اسی طرح فوج درفوج نکل بھی جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14170

حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ اشْتَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الْعَطَشَ قَالَ فَدَعَا بِعُسٍّ فَصُبَّ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَقَالَ اسْقُوا فَاسْتَقَى النَّاسُ قَالَ فَكُنْتُ أَرَى الْعُيُونَ تَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا اور اس میں تھوڑا ساپانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور فرمایا خوب اچھی طرح پیو چنانچہ لوگوں نے اسے پیا میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14171

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14172

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینگنی یاہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14173

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا فَقَالَ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لیے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14174

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ أَوْ إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ دَاءً وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی دوا میں کوئی خیر ہے تو وہ سینگی لگانے میں شہد کے ایک چمچے میں یا اس طرح آگ سے داغنے میں ہے جو مرض کے مطابق ہو لیکن میں داغنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14175

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ثقیف کے لئے دعاء فرمائی کہ اے اللہ قبیلہ ثقیف کو ہدایت عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14176

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14177

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قِرَاءَةً حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ فَأُصِيبَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا وَجَاءَ زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَنْتَهِيَ حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَقَالَ مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَكُونُوا بِفَمِ الشِّعْبِ قَالَ وَكَانُوا نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنْ الْوَادِي فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ قَالَ اكْفِنِي أَوَّلَهُ فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ثُمَّ عَادَ لَهُ بِثَالِثٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ فَقَالَ اجْلِسْ فَقَدْ أُوتِيتَ فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ فَهَرَبَ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنْ الدِّمَاءِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَلَا أَهْبَبْتَنِي قَالَ كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا فَلَمَّا تَابَعَ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَأُرِيتُكَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کرپڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایسا کرو کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کرو کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کروں ۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہاپہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آ پہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہامشرک نے دوسرا تیرمارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا توسمجھ کیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لیے وہ بھاگ کھڑا ہوا ۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پوراکیے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا بخدا اگر پہرہ داری ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14178

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی پہن کر چلے یا ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا اس طرح گوٹ مار کربیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آتی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14179

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نِسْطَاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى مِنْبَرِي كَاذِبًا إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14180

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کرنے طریقہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم کام پیش آجائے تو اسے چاہیے کہ فرائض کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر یہ دعا کرے کہ اے اللہ میں آپ سے آپ کے علم کی برکت سے خیر طلب کرتا ہوں آپ کی قدرت سے قدرت طلب کرتا ہوں اور آپ سے آپ کا فضل مانگتا ہوں کیونکہ آپ قادر ہیں میں قادر نہیں ہوں آپ جانتے ہیں میں کچھ نہیں جانتا اور آپ علام الغیوب ہیں ۔ اے اللہ اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام یہاں اپنے کام کا نام لے میرے لیے دین معیشت اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما دیجیے اسے میرے لیے آسان کر دیجیے اور مبارک فرمائیے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لیے دین ، معیشت اور انجام کے اعتبار سے براہے تو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دیجیے اور میرے لیے خیر مقدر فرمادیجیے خواہ کہیں بھی ہو اور پھر مجھے اس پر راضی کردیجیے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14181

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَوْمًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُ مَرِيضًا فَاسْتَقَاهُمْ وَجَدْوَلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ فَقَالَ إِنْ كَانَ عِنْدَهُمْ مَاءٌ قَدْ بَاتَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے گھر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اس کے قریب ہی ایک چھوٹی نالی بہہ رہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پینے کے لئے پانی منگواتے ہوئے فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچاہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14182

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ وَمِنْ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَائِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہرنیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پا نی ڈال دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14183

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوراسال روزے رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14184

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُوجِبَتَانِ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ مُشْرِكٌ دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دوچیزیں واجب کرنے والی ہیں جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14185

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14186

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَهُ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الایہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کردی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہونے تک رک جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14187

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14188

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اور نرمی اہل حجاز میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14189

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَذَرَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ حضرت عمر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادنقل کرتے ہیں کہ میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو نکال کر رہوں گا اور اس میں مسلمان کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14190

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14191

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنَسِيُّ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ وَمِنْهُمْ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً قَالَ جَابِرٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِي يَقُولُ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے (تیس کے قریب ) کذاب ہوں گے انہی میں یمامہ کا مدعی نبوت صنعاء کا مدعی نبوت بھی شامل ہے اور انہیں میں دجال بھی شامل ہوگا جس کا فتنہ ان سب سے بڑا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14192

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کروں گا اگر تم مجھے دیکھ نہ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہوگا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14193

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ لِيُكْرِمَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ حضرت عیسی نازل ہوجائیں گے تو ان کا امیر عرض کرے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرما سکے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14194

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ الْوُرُودِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَوْمٍ فَوْقَ النَّاسِ فَيُدْعَى بِالْأُمَمِ وَبِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَضْحَكُ وَيُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٍ نُورًا وَتَغْشَاهُ ظُلْمَةٌ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ مَعَهُمْ الْمُنَافِقُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فِيهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ وَيَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ ذَلِكَ حَتَّى تَحِلَّ الشَّفَاعَةُ فَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِمَّنْ فِي قَلْبِهِ مِيزَانُ شَعِيرَةٍ فَيُجْعَلَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يُهْرِيقُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حَرَقُهُمْ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پرہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آکر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہوگا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکامومن ، ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھاجائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق کانور بجھ جائے گااور مسلمان اس پل صراط سے نجات پا جائیں گے۔ نجات پانے والے مسلمانوں کا پہلا گروہ اپنے چہروں میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگا یہ لوگ سترہزار ہوں گے اور ان کا حساب نہ ہوگا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوگے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی اور لوگ سفارش کریں گے جس کی بناء وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہوجائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا اور انہیں دنیا سے دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14195

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ فَتَّانِي الْقَبْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ فَيَقُولُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ أَقُولُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ فِي النَّارِ قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ وَأَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنْ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنْ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ دَعُونِي أُبَشِّرْ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ اسْكُنْ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيُقْعَدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلُهُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَهُ لَا دَرَيْتَ هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي كَانَ لَكَ مِنْ الْجَنَّةِ قَدْ أُبْدِلْتَ مَكَانَهُ مَقْعَدَكَ مِنْ النَّارِ قَالَ جَابِرٌ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے قبر میں آزمائش کرنے والے دو فرشتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت کو اس کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے چنانچہ جب کسی مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو ایک ایسا فرشتہ آتا ہے جس کی ڈانٹ بہت سخت ہوتی ہے وہ مردے سے پوچھتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر اور اس کے بندے تھے وہ فرشتہ کہتا ہے کہ اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو جو جہنم میں تمہارے لیے تیارتھا، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطاء فرمائی اور جہنم کے اس ٹھکانے سے بدل کر جنت کا وہ ٹھکانہ تمہیں عطا فرمائے گا جو تم دیکھ رہے ہو وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے یہ سن کر وہ مسلمان کہتا ہے کہ مجھے اجازت دو کہ میں اپنے گھر والوں کو جا کر خوشخبری سنا آؤں اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں پر سکون حاصل کرو۔ اور اگر مردہ منافق ہو تو جب اس کے اہل خانہ پیٹھ پھیر کرچلے جاتے تو اسے بٹھا دیا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے جو کہتے تھے میں بھی وہی کہہ دیتا تھا اسے کہا جاتا ہے کہ تو کچھ نہ جانے جنت میں تیرا یہ ٹھکانہ نہ تھا جو اب اللہ نے بدل کر جہنم میں تیرا یہ ٹھکانہ مقرر کردیاہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبر میں ہر شخص کو اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہو مومن اپنے ایمان پر اور منافق اپنے نفاق پر اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14196

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ الْجِنَازَةِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى تَوَارَتْ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے جنازے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ اور صحابہ کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14197

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14198

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَمْرَضُ مُؤْمِنٌ وَلَا مُؤْمِنَةٌ وَلَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِهَا خَطَايَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مومن مرد عورت اور جو مسلمان مردو عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14199

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ قَالَ فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل ایک کاغذ منگوایا تاکہ ایک ایسی تحریر لکھوادیں جس کی موجودگی میں لوگ گمراہ نہ ہوسکیں لیکن حضرت عمر نے اس میں دوسری رائے اختیار کی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14200

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُرِيقَ دَمُهُ فَقَالَ جَابِرٌ نَعَمْ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے افضل جہاد اس شخص کاہے جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے انہوں نے فرمایا ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14201

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ صَدَقَةٌ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری رکھ کرہو اور صدقات میں آغاز ان لوگوں سے کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہو اور اوپر والاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14202

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ يُسَلِّمُ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَسَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ وَحِينَ يَطْعَمُ قَالَ الشَّيْطَانُ لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ هَاهُنَا وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ مَطْعَمِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ قَالَ نَعَمْ

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب انسان گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سلام کرے ۔ اور یہ کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے انہوں نے فرمایا ہاں اور میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سناہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے توشیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہاری رات گزارنے کی جگہ ہے نہ کھانا۔ اور اگر گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تم کو رات گزارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں کھانا اور ٹھکانہ دونوں مل گیا انہوں نے فرمایا ہاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14203

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمَشَقَّةَ وَالْحَرَّ فَقَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوَهُ فَإِنْ كَرِهَ أَحَدٌ أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ فَلْيُطْعِمْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انسان کے خادم کے متعلق دریافت کیا جو مشقت اور گرمی سے انہیں بچاتا ہو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کھانے کے وقت انہیں بھی بلا لیا کریں اور اگر اپنے ساتھ اس کا کھانا اچھا نہ سمجھتاہو تو اسے چاہے کہ اپنے ہاتھ ایک لقمہ ہی اسے دیدے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14204

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ جَابِرٌ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے وقت سنا ہے کہ جس وقت کوئی شخص بدکاری کر رہا ہوتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص چوری کررہا ہوتا تو وہ اس وقت مومن نہیں رہتا انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہیں سنی البتہ ابن عمر نے بتایا ہے کہ انہوں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14205

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرًا أخْبَرَهُ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک تیز آندھی آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ منافق موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتا چلا تو واقعی بہت بڑا منافق مر گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14206

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاءِ فَقَسَمَهَا فِي قُرَيْشٍ قَالَ فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ عَلَيْهِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا فَقَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ لَوْ سَلَكَتْ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا لَاتَّبَعْتُ شِعْبَكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین میں فتح حاصل کر لی تو آپ نے مختلف دستے روانہ فرمائے وہ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں تقسیم کردیا ہم انصار نے اس بات کو اپنے دل میں محسوس کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ نے ہمیں جمع کر کے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں اللہ کے رسول مل جائے بخدا اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسری گھاٹی میں ہو تو میں تمہاری گھاٹی کو اختیار کروں گا اس پر وہ کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ہم راضی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14207

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْعَقَبَةِ قَالَ شَهِدَهَا سَبْعُونَ فَوَافَقَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِيَدِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ستر آدمی شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ حضرت عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14208

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ مِنْهَا ثُمَّ لَا يَعْمُرُوهَا أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِيلًا ثُمَّ تُعْمَرُ وَتَمْتَلِئُ وَتُبْنَى ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا فَلَا يَعُودُونَ إِلَيْهَا أَبَدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ حضرت عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مکہ (وہاں مکہ) سے نکل جائیں گے پھر دوبارہ اسے آباد نہ کرسکیں گے یا بہت کم آباد کر سکیں گے تو پھر وہاں عمارتیں تعمیر ہو جائیں گے پھر وہ اس سے نکلے گے تو کبھی دوبارہ نہ آسکیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14209

حَدَّثَنَا مُوسَى وَقُتَيْبَةُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جِهَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ قُتَيْبَةُ فِي جَانِبِ الْمَدِينَةِ فَيَقُولَنَّ لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرٌ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار وادی مدینہ کے ایک پہلو میں چل رہا ہوگا اور کہے گا کبھی یہاں بھی بہت سے مومن آباد ہوا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14210

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَحْمِلُ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ فَقَالَ قُتَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ میں کسی کے لئے قتال کی نیت سے اسلحہ اٹھاناجائز اور حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14211

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَاهِبٌ مِنْ الشَّامِ جُبَّةً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا وَأُخْبِرَ بِوَفْدٍ يَأْتِيهِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الدُّنْيَا وَيَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الْآخِرَةِ وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ فَقَالَ أَتَكْرَهُهَا وَآخُذُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ تُرْسِلُ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبُ بِهَا مَالًا فَأَبَى عُمَرُ فَأَرْسَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آکر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہو ا تو حضرت عمرنے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرمالیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہوگا البتہ عمر تم اسے لے لو حضرت عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کریں اور میں اسے لے لوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کرلو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14212

حَدَّثَنَا مُوسَى وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةٍ قَالَ الْأُرْجُوَانِ فَقَالَ جَابِرٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَرْكَبُهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سرخ کجاوے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس پر سوار نہیں ہوتا اور میں ایسی قمیض نہیں پہنتا جس کے کف ریشمی ہوں اور نہ ہی ریشمی لباس پہنتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14213

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْبَهْزِيَّةِ أُمِّ مَالِكٍ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا عَنْ إِدَامٍ وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ فَعَمَدَتْ إِلَى نِحْيِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ السَّمْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا إِدَامَ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعَصَرْتِيهِ فَقَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ مُقِيمًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام مالک البہزیہ یہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کرتی تھی ایک دفعہ اس بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی بھیجا کرتی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چنانچہ وہ کافی عرصے تک اپنے بچوں کو دیتی رہی سالن کے طور پر حتی کے ایک دن اسے اس نے نچوڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سارا واقعہ بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے یونہی رہنے دییتں تو اس میں ہمشیہ گھی رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14214

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کےلئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصف وسق جو عطاء فرمادیئے اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کے ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14215

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الْمَجْلِسِ يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَوَ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا فَإِذَا سَلَلْتُمْ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ بنہ جہنی مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ما مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہو ا جنہوں نے تلواریں سونت رکھیں تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ایسا کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے کیا میں نے تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے ہو تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14216

حَدَّثَنَا مُوسَى وَحَسَنٌ وَاللَّفْظُ لَفْظُ حَسَنٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرَّجُلُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ قَالَ انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ فَاحْتَبَسَ عَلَيْنَا حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا ثُمَّ قَالَ اجْلِسُوا فَخَطَبَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے نماز میں ہی شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نا آئے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ بیت گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے نماز پڑھی پھر فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اور ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے یعنی جتنی دیر تم نے نماز کا انتظار کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14217

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس چلاجائے کیونکہ اس طرح ا سکے دل میں جو خیالات آئیں گے وہ دور ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14218

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُوتِرُ عِشَاءً ثُمَّ يَرْقُدُ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لِيَرْقُدْ وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ الْقِيَامَ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہئے کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14219

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ وَهِيَ كُلَّ لَيْلَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاروزانہ رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو دعاء بھی مانگے گا وہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور ایسارات میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14220

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نُعْمَانَ بْنَ قَوْقَلٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا أَفَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کروں رمضان کے روزے رکھ لیا کروں اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تو انہوں نے کہا کہ بخدا میں اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ نہ کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14221

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے ہلکی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14222

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ نَعَمْ زَمَانَ غَزْوِنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب اور عشاء کو جمع کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں جس زمانے میں ہم نے بنو مصطلق سے جہاد کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14223

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ التَّصْفِيقِ وَالتَّسْبِيحِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ

ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے تسبیح اور تصفیق کامسئلہ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ نماز میں سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے ہے اور ہلکی آواز میں تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14224

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کا حکم نازل ہونے سے قبل چھ مرتبہ جہاد کیا تھا نماز خوف کا حکم ساتویں سال میں نازل ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14225

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْغُسْلِ قَالَ جَابِرٌ أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَ ذَلِكَ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے تو آپ ہمیں غسل کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں توسر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیا کرتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14226

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُبَاشِرُ الرَّجُلَ فَقَالَ جَابِرٌ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14227

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْمَرْأَةِ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتی ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14228

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ لِيَشْرَبَ مِنْهُ فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ قَالَ جَابِرٌ كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَشْرَبْ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے ابھی اس کے ہاتھ میں برتن ہے کہ وہ پانی پئے ادھر اذان کی آواز آجاتی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پانی پی لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14229

وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14230

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ابوزبیر نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے پر سوار ہو سکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14231

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14232

حَدَّثَنَا مُوسَى وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ النَّحْرِ فَقَالَ جَابِرٌ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ أَنْ يُعِيدَ نَحْرًا آخَرَ وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذالحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کرلی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرچکے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14233

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُوَالِي مَوَالِيَ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُوَالِيَ مَوَالِيَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کرلے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرما دی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلا م سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14234

حَدَّثَنَا مُوسَى وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ تَخِرُّ مَرَّةً وَتَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزِ لَا يَزَالُ مُسْتَقِيمًا حَتَّى يَخِرَّ وَلَا يَشْعُرَ قَالَ حَسَنٌ الْأَرْزَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ گرجاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14235

حَدَّثَنَا مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ خُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا خُسِفَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ خُسُوفُ أَيِّهِمَا خُسِفَ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سورج گرہن کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ چاند اور سورج گرہن کو گہن لگ جاتا ہے جب تم ایسی چیز دیکھا کرو تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14236

حَدَّثَنَا مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ فَقَالَ جَابِرٌ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ قَالَ جَابِرٌ وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا جس کے قتل ہونے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کردیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مؤمن ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14237

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ قَالَ كُنَّا بِحُنَيْنٍ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ قَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَتَلَ أَحَدًا

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا جس کے قتل ہونے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کردیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مؤمن ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14238

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْعَدْوَى شَيْئًا قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كُلُّ عَبْدٍ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہربندے کا پرندہ (نامہ اعمال) اس کی گرد ن میں لٹکا ہوا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14239

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ وَصَلُّوا عَلَى الْمَيِّتِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَوَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تواچھے طریقے سے اسے کفنائے اور یہ کہ اپنے مردوں پر خواہ دن ہو یارات چار تکبیرات پڑھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14240

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَهُوَ الْقِطُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14241

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کاجنازہ رکھا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14242

حَدَّثَنَا مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ رَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ فَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہوجائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی خوشبو کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح و تحمید کرتے ہوں گے جیسے بے اختیار سانس لیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14243

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ يُونُسُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی ایک کپڑے میں اپنا جسم لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14244

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَكِي حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائے کیونکہ وہ غزوہ بدر وحدیبیہ میں شریک تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14245

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اسے تلاش کرتا ہوا آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے ہاتھ بیچ دو اور دو سیاہ فام غلام دے کر اسے خرید لیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے اس وقت تک بیعت نہ لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14246

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَحَسَمَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَنَزَفَهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ لِيَسْتَعِينَ بِهِمْ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمْ انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احزاب میں حضرت سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیرے سے اسے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغ دیاتین مرتبہ ایسے ہی ہوا اور ان کا خون بہنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے دعاکی اے اللہ میری روح اس وقت تک قبض نہ فرمانا جب تک بنوقریظہ کے حوالے سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں چنانچہ ان کا خون رک گیا اور ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا حتی کہ بنوقریظہ کے لوگ حضرت سعد کے فیصلے پر نیچے اتر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں کو اور بچوں کوزندہ رہنے دیا جائے تاکہ مسلمان ان سے کام لے سکیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے متعلق اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ان لوگوں کی تعداد چار سو افراد تھی جب ان کے قتل سے فراغت ہوئی تو ان کی رگ سے خون بہہ پڑا اور وہ فوت ہو گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14247

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ غَزْوَهُمْ فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُخِذَ كِتَابُهَا مِنْ رَأْسِهَا وَقَالَ يَا حَاطِبُ أَفَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يُونُسُ غِشًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا نِفَاقًا قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرٌ رَسُولَهُ وَمُتِمٌّ لَهُ أَمْرَهُ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرِيهِمْ وَكَانَتْ وَالِدَتِي مِنْهُمْ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَ هَذَا عِنْدَهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَلَا أَضْرِبُ رَأْسَ هَذَا قَالَ أَتَقْتُلُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھ کر اہل مکہ کو متنبہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جہاد کا ارادہ فرما رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک عورت کا پتہ بتایا جس کے پاس وہ خط تھا اور اس کے پیچھے اپنے صحابہ کو بھیجاجنہوں نے وہ خط اس کے سر میں سے حاصل کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاطب کیا تم نے ہی یہ کام کیا ہے انہوں نے عرض کی جی ہاں لیکن میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ اللہ کے پیغمبر کودھوکہ دے سکوں مجھے یقین ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو غالب کر کے اور اپنے حکم کو پورا کر کے رہے گا البتہ بات یہ ہے کہ میں قریش میں ایک اجنبی تھا میری والدہ وہاں تھی میں چاہتا ہوں کہ ان پر یہ احسان کر دوں تاکہ وہ میری والدہ کا خیال رکھیں حضرت عمر کہنے لگے کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اہل بدر میں سے ایک آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ نے اہل بدر کو آسمان سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو چاہو کرتے رہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14248

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ جا کر انہیں سینگی لگادیں غالبا وہ حضرت ام سلمہ کا رضاعی بھائی تھا اور وہ چھوٹا لڑکا تھا جواب تک بالغ نہ ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14249

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا حَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَبَعَثَ بِالْهَدْيِ فَمَنْ شَاءَ مِنَّا أَحْرَمَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ جب نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کا جانور بھی ساتھ لیا تھا سو ہم میں سے جس نے چاہا احرام باندھ لیا اور جس نے چاہا ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14250

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14251

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14252

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي وَقَالَ إِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يُخْبِرَنَّ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو خواب میں میری زیارت ہو اس نے میری ہی کی زیارت کی کیونکہ میری صورت اختیار کرناشیطان کے بس میں نہیں ہے۔اور فرمایا تم شیطان کے کھیل تماشوں کو جو وہ تمہارے ساتھ خواب میں کھیلتا ہے دوسروں کے سامنے بیان مت کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14253

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَقَالَ يُونُسُ فَلْيَبْصُقْ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایساخواب دیکھے جو اسے اچھا نہ لگے تو اسے چاہیے کہ بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور تین مرتبہ اعوذ با اللہ پڑھ لیا کرے اور پہلو بدل لیاکرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14254

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَجِيءَ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو جوصدقہ دیا کرتا تھا حکم دیا کہ مسجد میں تیر نہ لایا کرے الایہ کہ اس کے پھل سے اسے پکڑ رکھا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14255

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں بیت اللہ شریف ہے اور میری مسجد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14256

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ بِهِ أَعْلَمُ قَالَ قُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنْ أَبْطَأْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى ثُمَّ سَلَّمْتُ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي فَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کرکے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا میرے دل پر جو گذری وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے میں نے سوچا شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری تاخیر کی وجہ سے ناراض ہوگئے ہیں میں نے دوبارہ سلام کیا لیکن اب بھی جواب نہ ملا اور مجھے پہلے سے زیادہ صدمہ ہوا لیکن تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور چہرہ قبلہ رخ نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14257

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَفَعَتْ رِيحُ جِيفَةٍ مُنْتِنَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک مردار کی بدبو اٹھنے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی بدبو ہے یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مومنین کی غیبت کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14258

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ مَرُّوا بِامْرَأَةٍ فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا فَادْخُلُوا فَكُلُوا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ حَتَّى يَبْتَدِئَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کے ساتھ ایک عورت پر گذر ہوا اس نے ان کے لیے بکری ذبح کر کے کھانا تیار کیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی پر وہاں سے گذرے تو وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے اس لیے اندر آجائیے اور کھانا تناول فرمائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے صحابہ کی عادت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا لیکن اسے نگل نہ سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بکری اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ ہم لوگ سعد بن معاذ کے گھر والوں سے کوئی تکلف نہیں کرتے اور وہ بھی ہم سے کوئی تکلف نہیں کرتے ہم ان کی چیز لے لیتے ہیں اور وہ ہماری چیز لے لیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14259

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رُطَبًا وَشَرِبُوا مَاءً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنْ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین نے تر کھجوریں اور پانی تناول فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14260

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَرَأَيْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَةً فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ قَالَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ شَأْنَكُمْ إِذًا قَالَ فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ شَأْنَكَ إِذًا فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا آج میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں میں نے ایک گائے دیکھی جسے ذبح کردیا گیا ہے میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ محفوظ زرہ سے مراد تو مدینہ ہے اور گائے سے مراد بخدا خیر ہے پھر صحابہ نے فرمایا کہ اگر ہم مدینہ میں ہی رہیں اور وہ ہمارے پاس آئیں تو ہم ان سے قتال کریں گےاور کہنے لگے یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں ہمارادشمن کبھی مدینہ میں داخل نہیں ہوسکا تو وہ اسلام میں کیسے داخل ہو سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری مرضی اور یہ کہہ کر اپنا اسلحہ زیب تن فرما لیا یہ دیکھ کر انصار سے کہنے لگے کہ کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنا اسلحہ زیب تن کرکے اسے یونہی اتاردے یہاں تک کہ قتال کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14261

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَرَأَيْتُهُ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لِي مَا صَنَعْتَ فِي حَاجَتِكَ فَقُلْتُ صَنَعْتُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کرکے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا پھر میں نے انہیں رکوع وسجود کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کام کردیا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں اس اس طرح کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14262

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ فَقَالَ أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ قَالَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْرَعْتُ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ہم لوگ ایک گھاٹ پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ گھاٹ پر کیوں نہیں اترتے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور میں گھاٹ پر چلا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے چلے گئے اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی لا کر رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آ کر وضو کیا پھر کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کناروں جانب مخالف سے اپنے اوپر ڈال لیے تھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑا ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کردائیں طرف کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14263

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ صَلِّ مَعِي فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ثُلُثَ اللَّيْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ شَطْرَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ساتھ نماز پڑھنا چنانچہ آپ نے طلوع فجر کے وقت نماز ادا فرمائی زوال کے بعد نماز ظہر ادا فرمائی ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہونے پر نماز عصر ادا فرمائی غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی غروب شفق کے بعد نماز عشاء ادا فرمائی پھراگلے دن نماز فجر خوب روشنی کرکے پڑھی ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہونے پر نماز ظہر ادا فرمائی پھر ہرچیز کا دوسایہ مثل ہونے پر نماز عصر ادا فرمائی پھر شفق غائب ہونے سے پہلے نماز مغرب ادا فرمائی پھر نماز عشاء کے لیے اس وقت آئے جب نصف یا تہائی رات بیت چکی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14264

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عُتْبَةَ وَقَالَ عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِي مُصَبِّحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالنَّيْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَادْعُوا لَهَا بِالْبَرَكَةِ وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا بِالْأَوْتَارِ وَقَالَ عَلِيٌّ وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر و برکت رکھ دی گئی ہے اور اس کے مالکان کی اس پر مدد کی گئی ہے اس لیے ان کی پیشانی پرہاتھ پھیرا کرو اور ان کے لیے برکت کی دعا کیا کرو اور ان کے گلے میں ہار ڈالا کرو تانت نہ لٹکا یا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14265

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حُدِّثَ الْإِنْسَانُ حَدِيثًا وَالْمُحَدِّثُ يَلْتَفِتُ حَوْلَهُ فَهُوَ أَمَانَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کرے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14266

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الطَّاعُونِ الْفَارُّ مِنْهُ كَالْفَارِّ يَوْمَ الزَّحْفِ وَمَنْ صَبَرَ فِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ

حضڑت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو طاعون کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے طاعون سے بھاگنے والا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہے ۔ اور اس میں صبر کرنے والا شخص کو شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14267

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا رَجُلٌ جَهَدَهُ الصِّيَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْبِرُّ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہاہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14268

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14269

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ لَهُ عِنْدَكَ وَفَاءٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اورثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہوجاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہو اور اسے ادا کرنے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14270

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ فَقَالَ يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیاں جو سعد سے تھیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں ان کے والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے ان کے چچا نے ان کے مال دولت پر قبضہ کر لیاہے اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے اب ان کی شادی بھی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ان کا کوئی مال ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مسئلے میں اللہ فیصلہ کرے گا چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلا کر بھیجا اور فرمایا سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دیدو۔ اس کے بعد جو باقی بچے گا وہ تمہارا ہوگا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14271

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي بَيْتِهِ فَقُلْنَا لَهُ صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ فَصَلَّى بِنَا فِي مِلْحَفَةٍ فَشَدَّهَا تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں اس طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا اور فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14272

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُفُوفِنَا فِي الصَّلَاةِ صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ثُمَّ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ شَيْئًا صَنَعْتَهُ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنْ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ لِآتِيَكُمْ بِهِ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَلَوْ أَتَيْتُكُمْ بِهِ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُنْقِصُونَهُ شَيْئًا ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ وَإِنْ يَسْأَلْنَ أَلْحَفْنَ قَالَ حُسَيْنٌ وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ الْكَعْبِيُّ قَالَ مَعْبَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ وَهُوَ وَالِدٌ فَقَالَ لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ قَالَ حُسَيْنٌ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ قَالَ حُسَيْنٌ تَأَخَّرْتُ عَنْهَا وَلَوْلَا ذَلِكَ لَغَشِيَتْكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ظہر یا عصر کی نماز میں صف بستہ کھڑے تھے اور محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر وہ پیچھے ہٹنے لگے تو لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگے نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی بن کعب نے عرض کیا آج تو آپ نے ایسے کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے جنت کو اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ پیش کیا گیا میں نے انگوروں کا ایک گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دیدوں لیکن پھر کوئی چیز درمیان میں حائل ہو گئی اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا اور سارے آسمان وزمین والے اسے کھاتے تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہوتی پھر میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کی بھڑک کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے جنہیں اگر کوئی راز بتایا جائے تو اسے افشاء کردیتی ہیں کچھ مانگا جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں خود کسی سے مانگیں تواصرار کرتی ہیں مل جائے شکر نہیں کرتیں میں نے وہاں لحیی بن عمرو کو بھی دیکھا ہے جوجہنم میں اپنی انتریاں کھینچ رہا تھا اور میں نے اس کے سب سے زیادہ مشابہہ معبد بن اکثم کعبی کو دیکھا ہے اس پر معبد کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اس کی مشابہت سے مجھے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تو نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم مسلمان ہو اور وہ کافر تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14273

حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ لَهُ اجْعَلْ لَنَا طَعَامًا لَعَلِّي أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَادِسَ سِتَّةٍ فَدَعَاهُمْ فَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا قَدْ اتَّبَعَنَا أَفَتَأْذَنُ لَهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام قصائی تھا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کروں جو کہ چھ میں چھٹے آدمی ہوں گے چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے تم اسے بھی اجازت دیتے ہو اس نے اجازت دیدی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14274

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے کہ یہ زمانہ جاہلیت کا کھانا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14275

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيمَا سَقَتْ الْأَنْهَارُ وَالسَّيْلُ الْعُشُورُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشُورِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہو اس میں عشر واجب ہو گا اور جو ڈول سے سیراب اس میں نصف عشر واجب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14276

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ فِضَّةً فِي ثَوْبِ بِلَالٍ لِلنَّاسِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ لَقَدْ خِبْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ أَوْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کرہے تھے جو حضرت بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر افسوس ، اگر میں ہی عدل نہ کروں گا تو اور کون کرے گا اگر میں عدل نہ کروں تو خسارے میں پڑ جاؤں حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14277

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہربچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے بولنے لگے پھر جب بولتا ہے تو یا شکر گزار ہوتا ہے یا ناشکرا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14278

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ هَكَذَا فِيهَا وَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا وَقَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گبھرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14279

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے وہ گھر تنگدست نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14280

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف ذبح کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14281

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ فَحَجَمَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ كَمْ ضَرِيبَتُكَ قَالَ ثَلَاثَةُ آصُعٍ قَالَ فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو بلایا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے اوپر کیا ٹیکس ہے اس نے بتایا تین صاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14282

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّائِبَةُ جُبَارٌ وَالْجُبُّ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ قَالَ و قَالَ الشَّعْبِيُّ الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِيُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چراگاہ میں چرنے والے جانور سے ماراجانے ولا رائیگاں گیا کنویں میں گر کرمرنے والے خون رائیگاں گیا کان میں مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور زمین کے دفینے میں بیت المال کا پانچواں حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14283

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ الْيَوْمَ عَلَى دِينٍ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تَمْشُوا بَعْدِي الْقَهْقَرَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ آج ایک صحیح دین پر ہو اور میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا اور اس لیے میرے بعد الٹے پاؤں واپس نہ لوٹ جانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14284

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَهَا إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ قَالَ إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ کھڑے ہوگئے ہم بھی کھڑے ہوگئے جب ہم اسے کندھا دینے کے لیے گئے تو پتہ چلا کہ یہ تو ایک یہودی عورت کاجنازہ ہے اس پرہم نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو ایک یہودی عورت کاجنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت کی ایک پریشانی ہوتی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14285

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ وَقَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَتْ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ فَكَانُوا يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں وہ انہیں تہائی ، چوتھائی اور نصف پیدوار کے عوض کرائے پردے دیتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دیدے ورنہ اپنی زمین اپنے پاس سنبھال کر رکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14286

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ يَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً لِلنَّاسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14287

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَبُولُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَتَنَخَّمُونَ إِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ جُشَاءً وَرَشْحًا كَرَشْحِ الْمِسْكِ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں اہل جنت کھائیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کریں اور نہ ہی ناک صاف کریں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہوجائے اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہوگا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بے اختیار سانس لیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14288

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب دوبارہ نماز اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14289

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي أَنْتَ وَعَدْتَهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص موذن کی اذان سننے کے بعد یہ دعا کرے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب محمد کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام تک پہنچادے جس کا تونے ان سے وعدہ فرمایا ہوا ہے تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14290

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ فَقِيلَ لِجَابِرٍ لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ فَقَالَ تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ

زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ایام فتنہ میں کوئی گورنر مدینہ منورہ آیا اس وقت تک حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہوچکی تھی کسی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ ایک طرف کوہوجائیں تو اچھا ہے اس پر وہ اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا وہ شخص تباہ ہوجائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کرتا ہے ان کے کسی بیٹے نے پوچھا اباجان نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال فرما چکے اب انہیں کوئی کیسے ڈرا سکتا ہے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان کی چیز کو خوفزدہ کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14291

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ بَصَرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُهَا لِلنَّاسِ يُعْطِيهِمْ فَقَالَ رَجُلٌ اعْدِلْ قَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ الْخَبِيثَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کرہے تھے جو حضرت بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر افسوس ، اگر میں ہی عدل نہ کروں گا تو اور کون کرے گا اگر میں عدل نہ کروں تو خسارے میں پڑ جاؤں حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14292

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ هَوَازِنَ بَيْنَ النَّاسِ بِالْجِعْرَانَةِ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَقُومُ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَتَسَامَعَ الْأُمَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ الْمِرْمَاةُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قَالَ مُعَاذٌ فَقَالَ لِي أَبُو الزُّبَيْرِ فَعَرَضْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فَمَا خَالَفَنِي إِلَّا أَنَّهُ قَالَ النَّضِيَّ قُلْتُ الْقِدْحَ فَقَالَ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ عَرَبِيٍّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کرہے تھے جو حضرت بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر افسوس ، اگر میں ہی عدل نہ کروں گا تو اور کون کرے گا اگر میں عدل نہ کروں تو خسارے میں پڑ جاؤں حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14293

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ قَالَ جَابِرٌ فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا ذِكْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ آج رات ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ حضرت ابوبکر کا وزن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا پھر حضرت عمر کا وزن حضرت ابوبکر کے ساتھ کیا گیا پھر حضرت عثمان کا حضرت عمر کے ساتھ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو ہم آپس میں یہ کہہ رہے تھے کہ اس نیک آدمی سے مراد تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جہاں تک وزن کا معاملہ ہے سو اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس دین کے معاملے کے ذمہ دار ہوں گے جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کربھیجا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14294

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِ أَهْلَهُ طُرُوقًا كَيْ تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کرلے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کر لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14295

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چودہ سو افراد نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ببول کے درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کریں گے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14296

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْطَى امْرَأَةً صَدَاقًا مِلْءَ يَدَيْهِ طَعَامًا كَانَتْ لَهُ حَلَالًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی کسی عورت کو دونوں ہاتھ بھر کر آٹا ہی بطور مہر کے دیدے تو وہ اس کے لیے حلال ہوجائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14297

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى الْعَرِيشِ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَقَى صَاحِبَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھرتشریف لائے اور جا کر سلام کیا اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے اسے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14298

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ جَعَلَ يَقُولُ بِيَدِهِ السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرماتے جارہے تھے اللہ کے بندوں اطمینان سے چلو اللہ کے بندو اطمینان سے چلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14299

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے صفیں باندھ لیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14300

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے ایک ایسی جماعت نکلے گی جس کے چہرے کی گولائی کے علاوہ سب کچھ جل چکا ہو گا حتی کہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14301

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے برتن ڈھانپ دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو کیونکہ سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں وہ بلائیں اترتی ہیں وہ ایسے برتن پر جسے ڈھانپا نہ گیا ہو یا وہ مشکیزہ جس کامنہ باندھا گیاگذرتی ہیں اس میں داخل ہو جاتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14302

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةٍ فَإِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقًا يَبُثُّهُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكَلْبِ أَوْ نُهَاقَ الْحُمُرِ فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ و قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ قَالَ يَزِيدُ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ شُرَحْبِيلُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کرو کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پھیلادیتا ہے اور جب تم کتے بھونکنے کی آواز یاگدھے کی چلانے کی آواز سنو توشیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں آجایا کرو گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14303

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکریوں سے رمی فرمائی تھی۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی کنکریاں ماری تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14304

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14305

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَمَتَّعْنَا مُتْعَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ فَنَهَانَا عُمَرُ عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دوطرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ حضرت عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14306

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ قَالَ فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ قَالَ فَقَالَتْ أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرَكَ وَتُخْبِرَنَا قَالَ إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَكَّةَ حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنْ الْفِرَارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں سب سے پہلی جو خبر ملی تھی وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا کوئی جن تابع تھا وہ ایک مرتبہ اس کے پاس پرندے کی شکل میں آیا اور ایک درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا اس عورت نے اسے کہا کہ تم نیچے کیوں نہیں آتے کہ تم ہمیں اپنی خبر دو ہم تمہیں اپنی خبر دیں اس نے جواب دیا کہ مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہوا جس نے ہم پر بدکاری کو حرام قرار دیا ہے اور ہمیں اس طرح ٹھہرنے سے منع کر دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14307

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اور کوئی عورت کسی عورت کےساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14308

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو أَخْبَرَنِي مَوْلَايَ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَ الْأَضْحَى فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی نماز سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان تمام لوگوں کی طرف سے جو قربانی نہیں کر سکتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14309

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا السُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَطَلَعَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا السُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَطَلَعَ عُمَرُ قَالَ فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا السُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَطَلَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14310

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقہ کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14311

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنٌ وَيُونُسُ قَالُوا ثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ الْخَيْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خچروں اور پالتوں گدھوں سے منع فرمایا تھا لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14312

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالثُّنْيَا وَالْمُعَاوَمَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ، مزابنہ، بٹائی ، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14313

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِيمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14314

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14315

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَالَ عَفَّانُ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14316

حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعُمْرَةُ أَوَاجِبَةٌ هِيَ قَالَ لَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ مجھے یہ بتائیے کہ کیاعمرہ کرنا واجب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں البتہ بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14317

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سُئِلَ جَابِرٌ عَمَّا يُدْعَى لِلْمَيِّتِ فَقَالَ مَا أَبَاحَ لَنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ میت کے لیے کیا دعا کرے انہوں نے فرمایا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین نے ہمارے لیے کسی چیز کو مباح (متعین) قرار نہیں دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14318

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي الْمَعْمَرِيَّ عَنْ سُفْيَانَ وَأَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14319

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14320

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14321

حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ملاقات کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے وہاں آپ نے بکھرے بالوں والا ایک آدمی دیکھا تو فرمایا کہ اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ جس سے یہ اپنے سر کو سکون دے سکے اور ایک آدمی کے جسم پر میلے کچیلے کپڑے دیکھے تو فرمایا کہ اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنے کپڑے دھو سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14322

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14323

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ و حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَفَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ جَابِرٌ ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پردھاریاں بنی ہوئی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14324

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ مَثَلُ نَهَرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ الدَّنَسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر جاری ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کیا میل باقی بچے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14325

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس شخص کے باغ میں کوئی شریک ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کیے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14326

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَابْتَغُوا بِهِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ إِقَامَةَ الْقِدْحِ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آجائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے اور وہ جلد بازی کریں گے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14327

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک چادر میں اپنے جسم کو نہ لپیٹا کرو تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے اور نہ ہی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14328

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَلَمٍ كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ شَكَّ هِشَامٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آجانے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14329

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14330

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام کو یاد کرانے کے لیے مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آواز میں تالی بجانی چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14331

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ قَالَ فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ فَقَالُوا تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا قَالَ فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكُمْ قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ الطَّهُورَ قَالَ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي قَالَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ قَالَ الْأَسْوَدُ حَسِبْتُهُ قَالَ كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا ساپانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا خوب اچھی طرح کامل وضو کرو اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14332

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَثَيِّبًا نَكَحْتَ أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ قَالَ فَقَالَ لِي فَهَلَّا تَزَوَّجْتَهَا جُوَيْرِيَةً قَالَ قُلْتُ لَهُ قُتِلَ أَبِي مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً كَإِحْدَاهُنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَةَ إِحْدَاهُنَّ وَتَخِيطُ دِرْعَ إِحْدَاهُنَّ إِذَا تَخَرَّقَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّكَ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شادی شدہ سے میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا میں نے عرض کیا کہ میرے والد صاحب فلاں موقع پر آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے اور کچھ بچیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ان میں ان ہی جیسی بچی کو لانا اچھا نہیں سمجھا اس لیے شوہر دیدہ سے شادی کرلی تاکہ وہ ان کی جوئیں دیکھ سکے اور قمیص پھٹ جائے تو سی دے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے خوب سوچا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14333

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَحَدَنَا إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ قَالَ فَطَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14334

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوْ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوے کا ارادہ کیا تو فرمایا اے گروہ مہاجرین وانصار تمہارے بھائی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی مال ودولت اور قبیلہ نہیں ہے اس لیے تمہیں اپنے ساتھ دو تین آدمیوں کو ملا لینا چاہیے چنانچہ اس موقع پر ہمیں اپنے اونٹ کی پیٹھ پر صرف اتنی دیر ملتی جتنی دیر اس کی باری رہتی میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لیے اور میرا بھی اپنے اونٹ میں باری کا وہی حق تھا جو ان میں سے کسی کا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14335

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ قَالَ فَقَالَ لِي مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ فَقَدْتُ جَمَلِي أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ قَالَ فَقَالَ لِي هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ قَالَ هَذَا جَمَلُكَ قَالَ وَقَدْ سَارَ النَّاسُ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي قَالَ وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ قَالَ قُلْتُ يَا لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ قَالَ فَسَمِعَ مَا قُلْتُ قَالَ فَلَحِقَ بِي فَقَالَ مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ قَالَ فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَا لَهْفَاهُ أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِي قَالَ فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكَمْ قَالَ قُلْتُ بِوُقِيَّةٍ قَالَ قَالَ لِي بَخٍ بَخٍ كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ قَالَ فَنَزَلْتُ عَنْ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُلْتُ جَمَلُكَ قَالَ قَالَ لِي ارْكَبْ جَمَلَكَ قَالَ قُلْتُ مَا هُوَ بِجَمَلِي وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ قَالَ كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ لَمْ نُرَاجِعْهُ قَالَ فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَقُلْتُ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا قَالَ ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ أَوْجَرْتُهُ إِيَّاهُ ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ قَالَ قُلْتُ دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ ثُمَّ نَادَى بِلَالًا فَقَالَ زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنْ الْوَزْنِ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ قَالَ قُلْتُ لَهُ قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ قَالَ فَنَادَى أَيْنَ جَابِرٌ قَالُوا ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ أَدْرِكْ ائْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى قَالَ يَا جَابِرُ يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ فَخُذْ جَمَلَكَ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذْتُهُ قَالَ فَقَالَ لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي وَبِالْوَقِيَّةِ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مَا تَرَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہوگیا میں اسے تلاش کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا اس وقت وہ حضرت عائشہ کے لیے سواری تیار کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا میں نے عرض کیا اس اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اونٹ یہ رہا جاؤ اسے لے جاؤ میں اس طرف چلا گیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں وہ نہ ملا میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ مجھے تو اونٹ نہیں ملا دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹھہرنے کے لیے فرمایا اور فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے حوالے کر کے فرمایا یہ رہا تمہارا اونٹ۔لوگ چل رہے تھے میں بھی اپنی باری پر اپنے اونٹ پر سوار ہو چل رہا تھا میرا اونٹ سست رفتار تھا میری زبان سے نکل گیا افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو ایسا سست نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتفاقا مجھ سے کچھ ہی پیچھے تھے انہوں نے بات سن لی وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہو اس وقت تک میں اپنی بات بھول چکا تھا اس لیے کہہ دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا تو عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ کہا تھا کہ افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو وہ بھی سست اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑے سے اونٹ کی دم پر ضرب لگائی وہ اسی وقت ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے میں اس سے زیادہ کسی تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکلاجا رہا تھا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اونٹ میرے ہاتھوں بیچتے ہو میں نے اثبات میں سرہلایا تو آپ نے قیمت پوچھی میں نے ایک اوقیہ چاندی بتائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ ایک اوقیہ میں تو اتنے اتنے اونٹ آجاتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمارے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اونٹ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے خرید لیا اس پر میں اپنی سواری سے زمین پر اتر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ اونٹ تو آپ کا ہو چکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اونٹ پر سوار ہو جا میں نے عرض کیا کہ اب یہ میرا اونٹ نہیں ہے آپ کا اونٹ ہے ہم نے دو مرتبہ اسی طرح تکرار کیا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حکم دیا تو میں نے تکرار نہیں کیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں اپنی پھوپھی کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ دیکھیں تو سہی میں نے اپنا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اوقیہ میں فروخت کر دیا ہے انہوں نے کہا میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہمارا اونٹ بہت تھکا ہوا تھا۔ پھر میں نے رسی لے کر اس کے منہ میں لگام ڈالی اور لے کر کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے کسی سے باتیں کر رہے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ اپنا اونٹ لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لگام پکڑ کر حضرت بلال کو آوازی دی اور فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو وزن کرکے ایک اوقیہ چاندی دید دو اور پورا تولنا چنانچہ میں حضرت بلال کے ساتھ چلا گیا اور انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول کر دی میں واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے میں نے عرض کیا کہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول دی ہے یہ کہہ کر میں بے خودی کے عالم میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر کہا اے جابر رضی اللہ عنہ کہاں گیا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھرچلا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے بلا کر لاؤ چنانچہ قاصد میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اپنا اونٹ تو لے لو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ میرا اونٹ نہیں ہے وہ تو آپ کا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو۔ چنانچہ میں نے اسے لے لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری زندگی کی قسم ہم نے تمہیں فائدہ اس لیے نہیں پہنچایا تھا کہ تمہیں سواری سے اتاریں چنانچہ میں وہ اونٹ اور ایک اوقیہ چاندی لے کر اپنی پھوپھی کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اوقیہ چاندی بھی دی ہے اور میرا اونٹ بھی مجھے واپس کر دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14336

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ فِيمَا يَذْكُرُ مِنْ اجْتِهَادِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِبَادَةِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ مِنْ نَجْدٍ فَأَصَابَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِلَى نَجْدٍ فَغَشِينَا دَارًا مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَأَصَبْنَا امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَجَاءَ صَاحِبُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَذُكِرَ لَهُ مُصَابُهَا فَحَلَفَ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا قَالَ فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ وَقَالَ مَنْ رَجُلَانِ يَكْلَآَنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ مِنْ عَدُوِّنَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَحْنُ نَكْلَؤُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَخَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ دُونَ الْعَسْكَرِ ثُمَّ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ أَتَكْفِينِي أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ أَمْ تَكْفِينِي آخِرَهُ وَأَكْفِيكَ أَوَّلَهُ قَالَ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ بَلْ اكْفِنِي أَوَّلَهُ وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ فَنَامَ الْمُهَاجِرِيُّ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي قَالَ فَافْتَتَحَ سُورَةً مِنْ الْقُرْآنِ فَبَيْنَا هُوَ فِيهَا يَقْرَأُ إِذْ جَاءَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَ قَائِمًا عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ فَيَنْتَزِعُ لَهُ بِسَهْمٍ فَيَضَعُهُ فِيهِ قَالَ فَيَنْزِعُهُ فَيَضَعُهُ وَهُوَ قَائِمٌ يَقْرَأُ فِي السُّورَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا قَالَ ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا قَالَ ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ الثَّالِثَةَ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ اقْعُدْ فَقَدْ أُوتِيتُ قَالَ فَجَلَسَ الْمُهَاجِرِيُّ فَلَمَّا رَآهُمَا صَاحِبُ الْمَرْأَةِ هَرَبَ وَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نُذِرَ بِهِ قَالَ وَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ يَمُوجُ دَمًا مِنْ رَمْيَاتِ صَاحِبِ الْمَرْأَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ الْمُهَاجِرِيُّ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ قَالَ فَقَالَ كُنْتُ فِي سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ قَدْ افْتَتَحْتُهَا أُصَلِّي بِهَا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهَا وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایسا کرو کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کرو کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کروں ۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہاپہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کرسو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آ پہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیر مارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لیے وہ بھاگ کھڑا ہوا ۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کیے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا بخدا اگر پہرہ داری ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14337

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14338

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَمْرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ بِعَشَرَةِ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14339

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا يَقُولُ الْوَسْقَ وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرایا والوں کو اندازے سے بیچنے کی اجازت دی تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک وسق ہو یا دو تین اور چار سب کا یہی حکم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14340

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَقَدِرَ أَنْ يَرَى مِنْهَا بَعْضَ مَا يَدْعُوهُ إِلَيْهَا فَلْيَفْعَلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بناء پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسا کرلینا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14341

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا فَوْرَةَ الْعِشَاءِ كَأَنَّهُ لِمَا يُخَافُ مِنْ الِاحْتِضَارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز عشاء کے وقت سے احتیاط کیا کرو غالبا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آنے والے جنایات اور بلاؤں سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14342

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي بْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ وَقَدْ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْمَرُهَا قَدْ بَتَّهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْمَرَهَا مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہوگی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے جداہو گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14343

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا تھا کہ جب ہم پانی بہانے کے لئے جائیں تو خانہ کعبہ کی جانب شرمگاہ کا رخ یا پشت کریں لیکن اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے وصال سے ایک سال قبل میں نے خود قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14344

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الزُّرَقِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ سَبَّحْتَ ثُمَّ كَبَّرْتَ قَالَ لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ فوت ہو گئے تو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز جنازہ سے فارغ ہوئے انہیں قبر میں رکھ کر اینٹیں برابر کر دی گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہی ہم بھی تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے یہ تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہوگئی تھی بعد میں اللہ نے کشادہ کردی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14345

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَكْثِرُوا مِنْ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جوتی کثرت سے پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنا رہے گا گویا وہ سواری پر سوار رہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14346

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفَارُّ مِنْ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنْ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو طاعون کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون سے بھاگنے والا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہوتا ہے اور اس میں صبر کرنے والے شخص کو شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14347

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا الْعَرَايَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ' مزابنہ 'بٹائی کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کو حوالے کردے۔ فائدہ : ان فقہی اصطلاحات کے لئے کتب فقہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14348

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ وَإِنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہرنیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پانی ڈال دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14349

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طَائِرُ كُلِّ إِنْسَانٍ فِي عُنُقِهِ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ يَعْنِي الطِّيَرَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہربندہ کا پرندہ (نامہ اعمال) اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14350

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَحَدٌ يَدْعُو بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنْ السُّوءِ مِثْلَهُ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انسان جو دعاء بھی مانگتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے یا اس سے اسی جیسی کوئی مصیبت یا کوئی پریشانی ٹال دیتا ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14351

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنْ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن کے علاقے " جیشان" سے ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا وہ لوگ اپنے علاقے میں جو سے بننے والی شراب جسے " مزر " کہا جاتا ہے پیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ نشہ آور ہوتی ہے اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہوتی ہے اور نشہ آور چیز پینے والے کے لئے اللہ کے ذمے ہے کہ اسے طینۃ الخبال پلائے صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ طینۃ الخبال سے کیا مراد ہے فرمایا اہل جہنم کا پسینہ یا پیپ وغیرہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14352

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحْيَا أَبَاكَ فَقَالَ لَهُ تَمَنَّ عَلَيَّ فَقَالَ أُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ إِنِّي قَضَيْتُ الْحُكْمَ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ نے تمہارے باپ کو زندگی عطا کی اور اس سے پوچھا کہ کسی چیز کی خواہش ہو تو بتائے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ ایک مرتبہ پھر شہید ہو سکوں اللہ نے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ دنیا میں آنے والے دوبارہ لوٹ کر نہیں جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14353

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جناب رسول نے ارشاد فرمایا رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14354

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُودِ إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُبْزَةُ مِنْ الدَّرْمَكِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے حوالے سے فرمایا کہ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو کہ خالص سفید ہوگی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ اے بوقاسم وہ روٹی جیسی ہوگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالص روٹی جیسی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14355

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقَحَ قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا تُشْقَحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14356

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14357

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمربھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14358

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا قَالَ وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا قَالَ وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنْ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور دیگر انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جو آگ جلائے اور پروانے اور پتنگے ادھرادھر اس میں گرنے لگیں اور وہ انہیں اس سے دور رکھے میں بھی اسی طرح تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14359

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَعْجَبُونَ وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور دیگر انبیاء کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے کوئی مکان بنایا ہے اور اسے مکمل کر کے خوبصورت بنایا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور خوش ہوتے اور کہتے کہ اگر یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی جاتی تو یہ عمارت مکمل ہو جاتی وہ ایک اینٹ کی جگہ میں ہوں کہ میں نے آ کر انبیاء کرام کا سلسلہ ختم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14360

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14361

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں پالتو گدھوں سے منع فرمایا تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14362

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکری بھیجی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14363

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدْ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ فَقَالَ جَابِرٌ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَسْلَمَ ابْدُوا يَا أَسْلَمُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا فَقَالَ إِنَّكُمْ أَنْتُمْ تُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ

عمرو بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں آپ کے ساتھ اب کون باقی بچا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت انس اور سلمہ بن اکوع بچے ہیں اس شخص نے کہا کہ حضرت سلمہ تو ہجرت کے بعد مرتد ہو گئے تھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ایسا مت کہو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ اسلم کے لئے یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اے قبیلہ اسلم اپنے آپ کو ظاہر کروانہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہم ہجرت کے بعد واپس ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جہاں بھی رہوگے مہاجر ہی رہو گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14364

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ أَتَى بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی ہے نماز اور خطبہ سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے تمام ان لوگوں کے لئے جو قربانی نہیں کر سکتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14365

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ قَالَ سَعِيدٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کرو اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14366

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَضْحَى بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأَتَى بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی ہے نماز اور خطبہ سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے تمام ان لوگوں کے لئے جو قربانی نہیں کرسکتے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14367

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ قَالَ فَاسْتَأْذَنْتُ أَتَعَجَّلُ قُلْتُ إِنِّي تَزَوَّجْتُ قَالَ ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَأَلَّا كَانَتْ بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ انْطَلِقْ وَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي لَا تَطْرُقْهُنَّ لَيْلًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی جانے کی اجازت مانگی اور عرض کیا کہ میری شادی ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ؟ اور وہ تم سے کھیلتی پھر فرمایا کہ جاؤ اور اپنی بیوی سے قربت کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14368

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کرچلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14369

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْبِسُوا صِبْيَانَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْرَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَخْتَرِقُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک اپنے جانوروں اور اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیا کرو کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک شیاطین اترتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14370

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغْلِقَ الْأَبْوَابَ وَأَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ وَأَنْ نُطْفِئَ الْمَصَابِيحَ وَأَنْ نَكُفَّ فَوَاشِيَنَا حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ وَنَهَانَا أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ وَأَنْ يَمْشِيَ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ وَعَنْ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیاہے کہ دروازے بند کر دیا کریں مشکیزوں کا منہ باندھ دیاکریں اور رات کی سیاہی دور ہونے تک بچوں کو روک کر رکھا کریں اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے ایک جوتی پہن کرچلے نہ ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا گوٹ مار کربیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14371

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَافُوا وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے جب ہم بیت اللہ کا طواف اور سعی کرچکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کریں جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور دس ذی الحجہ کو صرف طواف زیارت کیا صفامروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14372

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ و عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَلَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ قُلْنَا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریب قریب رہا کرو اور صحیح بات کیا کرو کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں فرمایا کہ مجھے بھی نہیں الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14373

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ الْخَيْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خچروں اور پالتو گدھوں سے منع فرمایا ہے لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14374

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَابِرٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي فَقَالَ مَا شَأْنُكَ يَا جَابِرُ فَقُلْتُ بَعِيرِي قَدْ رَزَمَ قَالَ فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ عَجُزِهِ وَقَالَ عَفَّانُ وَعَجُزُهُ سَوَاءٌ فَدَعَا وَزَجَرَهُ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَقْدُمُ الْإِبِلَ قَالَ فَأَتَى عَلَيْهِ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْبَعِيرُ قُلْتُ مَا زَالَ يَقْدُمُهَا قَالَ بِكَمْ أَخَذْتَهُ فَقُلْتُ بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا قَالَ فَبِعْنِي بِالثَّمَنِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ خَطَمْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي الثَّمَنَ وَأَعْطَانِي الْبَعِيرَ

ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گذر ہوا تو پوچھا جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا تمہیں انہوں نے ساراماجرا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آگئے اور اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکرماری اور اونٹ اچھل کر کھڑا ہوگیا پھر وہ سب سے آگے ہی رہا بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کہ اونٹ کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا کہ سب سے آگے رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ کتنے کالیا تھا میں نے عرض کیا تیرہ دینار کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنی قیمت کے عوض یہ مجھے بیچ دو تمہیں مدینہ تک سوار ہونے کی اجازت ہے میں نے کہا بہت اچھا مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے اس کے منہ میں لگام ڈالی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیمت بھی دیدی اور اونٹ بھی دیدیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14375

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14376

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمْيَتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14377

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ أَصَلَّيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَا قَالَ فَصَلِّهِمَا قَالَ وَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ إِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ يُعْجِبُهُ إِذَا دَخَلَ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک آدمی آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دو رکعتیں پڑھ لو حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھ لی ہوں تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ مسجد میں آنے کے بعد بھی یہ دو رکعتیں پڑھ جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14378

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَجَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ قَالَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ لَمَّا فَرَغَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ فَصَلَّى حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیجا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرات کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14379

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْيٍ كَانَ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14380

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا قَالَ أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پردستک دے کر میں نے اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے میں نے کہا میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں میں لگا رکھی ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14381

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی اصمحہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چارتکبریں کہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14382

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَطَرٌ عَنْ رَجُلٍ أَحْسَبُهُ الْحَسَنَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اس شخص کو معاف نہیں کروں گا جو دیت لینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کردے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14383

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا دَعْوَةً مِنْ الْمَصْرِ أَوْ رَمْيَةً مِنْ الْمَصْرِ فَهِيَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے وہ اس کی ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14384

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدِ وَيُخْرِجُ أَهْلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں خود بھی نکلتے تھے اور اپنے اہل خانہ کو بھی لے جاتے تھے۔ (عیدگاہ میں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14385

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ گائے کی قربانی دیدیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14386

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ إِنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا أَتَى الْمَدِينَةَ أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14387

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَتَيْنِ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا مُتْعَةَ الْحَجِّ وَمُتْعَةَ النِّسَاءِ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ، حضرت عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14388

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً وَأَنَا شَاهِدٌ قَالَ حَدَّثَكَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا قَالَ عَطَاءٌ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14389

و قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى وَأَنَا شَاهِدٌ حَدَّثَكَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا قَالَ عَطَاءٌ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دیدے کرایہ پر نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14390

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ صَلِّ هَاهُنَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلِّ هَاهُنَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ شَأْنَكَ إِذًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فتح مکہ کے دن عرض کیا یا رسول اللہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کے ہاتھوں مکہ مکرمہ کوفتح کروادیا تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں نماز پڑھ لو اس نے پھر سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری مرضی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14391

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ إِنَّ هَذَا يَعْنِي الزُّهْرِيَّ لَا يَدَعُنَا نَأْكُلُ شَيْئًا إِلَّا أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْهُ يَعْنِي مَا مَسَّتْهُ النَّارُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ سَأَلْتُ عَنْهُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِذَا أَكَلْتَهُ فَهُوَ طَيِّبٌ لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ وُضُوءٌ فَإِذَا خَرَجَ فَهُوَ خَبِيثٌ عَلَيْكَ فِيهِ الْوُضُوءُ قَالَ فَهَلْ بِالْبَلَدِ أَحَدٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَقْدَمُ رَجُلٍ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ عِلْمًا قَالَ مَنْ قُلْتُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ بَهْزٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجِيءَ بِهِ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّهُمْ أَكَلُوا مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے کہا ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں امام زہری ہمیں حکم دیتے ہیں کہ نیا وضو کریں میں نے ان سے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے یہ مسئلہ پوچھا کہ انہوں نے فرمایا کہ تم جو حلال چیز کھاؤ اسے کھانے کے بعد تم پر وضو نہیں ہے اور جب تمہارے جسم سے کوئی چیز نکلے تو وہ گندگی ہے اور اسمیں تم وضو کرو انہوں نے پوچھا کہ شہر میں کسی اور کی بھی رائے ہے یہ والی۔ میں نے کہا جزیرہ عرب میں سے قدیم عالم کی۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں میں نے بتایا عطابن ابی رباح چنانچہ انہوں نے عطاء کے پاس پیغام بھجوایا انہوں نے فرمایا کہ مجھے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے حضرت صدیق اکبر کے ساتھ گوشت اور روٹی کھائی پھر انہوں نے یوں ہی نماز پڑھا دی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14392

قَالَ قَالَ لِعَطَاءٍ مَا تَقُولُ يَعْنِي فِي الْعُمْرَى قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14393

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بْنِ مِينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا وَبَيْعِ السِّنِينَ وَعَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، بٹائی، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کردے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14394

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب نہ کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14395

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْبَطْحَاءِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ عَهْدِي بِأَهْلِي الْيَوْمَ فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مِنْهُ لَأَحْلَلْتُ وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ سَاقَ الْهَدْيَ فَأَحْرَمْنَا حِينَ تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں۔ اس پر بطحاء کی طرف ہم نکلے اور ایک آدمی کہنے لگا کہ آج میں اپنی بیوی کے پاس جاؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14396

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سترہ اونٹ ذبح کیے ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14397

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبَ وَسَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدْمَ قَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ قَالَ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کو کہا انہوں نے کہا ہمارے پاس تو سرکہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14398

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کی عادت یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14399

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتُودًا جَذَعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے قبل اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید ادا کریں اپناچھ ماہ کا بکری کا بچہ ذبح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف سے یہ کفایت نہیں کرے گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے قبل جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14400

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ قَالَ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ وَتَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مربتہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اسوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی پھرآپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14401

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ فَرَأَوْا مِنْ الْمُسْلِمِينَ غِرَّةً فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ فَلَمَّا كَانَ الظُّهْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَكَانَ لِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مربتہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اسوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی پھرآپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14402

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْعَالِيَةَ فَمَرَّ بِالسُّوقِ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَرَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ قَالُوا مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ قَالَ بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ قَالُوا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا لَكَانَ عَيْبًا فِيهِ أَنَّهُ أَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَ فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کسی بازار سے گذر رہے تھے وہاں ایک بہت چھوٹے کانوں والی مردار بکری پڑی ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اٹھایا اور لوگوں سے فرمایا تم اسے کتنے میں خریدنا چاہتے ہو لوگوں نے کہا ہم تو اسے کسی چیز کے عوض نہیں خریدنا چاہتے ہم نے اس کا کیا کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی بات دہرائی لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ ہوتی تو تب بھی اس میں چھوٹے کانوں والی ہونا ایک عیب ہے اب جبکہ مرادار بھی تو ہم اسے کیسے خرید سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدایہ بکری تمہاری نگاہوں میں جتنی حقیر ہے اس سے زیادہ اللہ کی نگاہوں میں دنیا حقیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14403

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کاتلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14404

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِالْخُمُسِ قَالَ كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ الرَّجُلَ ثُمَّ الرَّجُلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ خمس کا کیا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کسی مجاہد کو سواری مہیا کر دیتے تھے پھر کسی دوسرے کو راہ خدا میں سواری دیتے تھے پھر کسی تیسرے کو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14405

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعَا سَالِمًا قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ مَاءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَثُورُ مِنْ خِلَالِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ و قَالَ عَمْرٌو وَحُصَيْنٌ كِلَاهُمَا قَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا و قَالَ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا بسم اللہ پڑھ کریہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا ہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے فرمایا پندرہ سو اور اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو تب بھی وہ پانی ہمارے لیے کافی ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14406

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہوگیا اس نے ایک مدبر غلام چھوڑا اور مقروض ہو کر مرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے غلام کو اس کے قرض کے عوض بیچ دو چنانچہ لوگوں نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض فروخت کردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14407

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَامِرٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ فَلَا يَبْلُغُ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقَ مَعِي لِكَيْلَا تَفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ فَأَوْفَاهُمْ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں ان پر کچھ قرض تھا اور ہمارے پاس تو صرف وہی ہے جو ہمارے درخت کی پیدوار ہے لیکن وہ تو ان کے قرض کے چھٹے حصے کو بھی نہیں پہنچتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ تشریف لے گئے تاکہ قرض خواہ مجھ سے بدتمیزی نہ کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ڈھیر کے گرد چکر لگایا وہیں تشریف لے گئے اور دعا کر کے فرمایا کہ قرض خواہوں کو بلاؤ حتی کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں جتنی پہلے تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14408

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ قَالَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا قَالَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو دشمن کی خبر لانے کے لیے تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ حضرت زبیر نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لیے پیش کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14409

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَلَمَّا وَلَّى قَالَ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست مبارک پر بیعت کرلی کچھ عرصے میں اسے بہت تیز بخار تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کردیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14410

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا أَصَابَهَا مِنْ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تولیے سے نہ پوچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کسی حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14411

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14412

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاشیطان اس بات سے مایوس ہوگیاہے کہ اب نمازی دوبارہ اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیداکرنے کے درپے ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14413

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جس حال میں فوت ہوگا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14414

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا سَرِفَ حَاضَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ تَبْكِينَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْأَذَى قَالَ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ قَالَ وَقَدِمْنَا الْكَعْبَةَ فِي أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَيَّامًا أَوْ لَيَالِيَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَأَحْلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا خَرَجْنَا حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ أَوْ لَيَالٍ خَرَجْنَا إِلَى عَرَفَاتٍ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَبِّرْنَا خَبَرَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ فَأَتَيْنَا عَرَفَاتٍ وَانْصَرَفْنَا مِنْهَا ثُمَّ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي قَدْ اعْتَمَرُوا قَالَ إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لَهُمْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي فَوَقَفَ بِأَعْلَى وَادِي مَكَّةَ وَأَمَرَ أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَهَا حَتَّى بَلَغَتْ التَّنْعِيمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا مقام سرف میں پہنچے تو حضرت عائشہ کو ایام آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ توایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی ساری بیٹیوں کے لیے لکھ دی ہے۔ہم لوگ چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مکمل حلال ہوگئے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی ہلال ہوجاتا اسلیے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ یہ حکم اس سال کے لیے خاص ہے یاہمیشہ کے لیے فرمایا ہمیشہ کے لیے یہی حکم ہے پھر ہم عرفات پہنچے وہاں سے واپسی ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چنانچہ حضرت عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا اور تنعیم سے عمرہ کرکے واپس آگئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14415

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَحِلُّوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حِلُّ مَاذَا قَالَ حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنْ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ قَالَ فَغُشِيَتْ النِّسَاءُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ قَالَ خَلَفٌ وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا قَالَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ قَالَ فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ الْجَزُورَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہم لوگ چارذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف دوگانہ طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے بال چھوٹے کروا لیے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال ہو جاؤ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کس طرح فرمایا جس طرح ایک غیر محرم کے لیے عورت خوشبو حلال ہوجاتی ہے چنانچہ لوگوں نے اپنے عورتوں سے خلوت کی اور انگھٹیاں خوشبو اڑانے لگیں کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرے ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے اگر میرے سامنے بات پہلے ہی سے آجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا اس لیے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے مجھ سے مناسک حج سیکھ لو پھر لوگوں کو غیر محرم ہونے کی حالت میں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی تاریخ آئی اور منی کی طرف روانگی کا حکم ہوا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اس سفر میں جس کے پاس ہدی کا جانور موجود تھا اس پر قربانی رہی اور جس کے پاس نہیں تھا اس پر روزے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات آدمیوں کو شریک کرایا اور یاد رہے کہ حج اور عمرے کے لیے انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی مرتبہ کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی ایک مرتبہ ہی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14416

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَطَنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ قَالَ فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَعْطَاهُ نَيِّفًا عَلَى الثَّلَاثِينَ مِنْ الْبُدْنِ قَالَ ثُمَّ بَقِيَا عَلَى إِحْرَامِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم حج کرنے جارہے ہیں جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں اعلان ہوگیا کہ تم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہواسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور جس کے پاس ہدی کا جانور ہو اسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہیے چنانچہ لوگ عمرہ کر کے احرام سے فارغ ہو گئے الایہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حالت احرام میں ہی رہے آپ کے پاس اونٹ سو تھے ادھر حضرت علی بھی یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی احرام باندھتاہوں جو آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیس سے زائد اونٹ دیے اور وہ دونوں حالت احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ ہدی کا جانور اپنے ٹھکانہ تک پہنچ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14417

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ مَعَادِنُ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ مختلف کانوں کی طرح ہیں چنانچہ ان میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کر لیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14418

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَرَاهُمْ مِثْلَ حَصَا الْخَذْفِ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ توسکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں ٹھیکری جیسی کنکریاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہوسکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14419

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے راہ خدا میں جس شخص کے پاؤں غبارآلود ہوئے ہوں وہ آگ پر حرام ہوجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14420

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ قَالَ فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میرا گھر دور ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا البتہ اذان کی آواز ضرور سنتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اذان کی آواز سنتے ہو تو اس کی پکار پر لبیک ضرور کہا کرو خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل ہی گھس کر ہی آنا پڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14421

حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو تیار کررہے تھے اس کام میں آدھی رات گزر گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے جتنی دیر تک تم نے نماز کا انتظار کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14422

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص روزہ رکھنا چاہے اسے کسی چیز سے سحری کر لینی چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14423

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کرچلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14424

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ أَوْ قَالَ فِي جَوْفِهِ فَمَاتَ فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے سینے یاپیٹ میں کہیں سے آکر تیر لگا اور وہ فوت ہو گیا اسے اس کے کپڑوں میں اس طرح لپیٹ دیا گیا اس وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14425

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي فَقَالُوا بِهَذَا قَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَدْ أَخَذْنَا فَاخْرُجُوا عَنَّا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبر کو خیبر کے مال غنیمت کے طور پر عطاء فرمادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں ہی رہنے دیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ کو بھیجا انہوں نے وہاں پہنچ کر پھل کاٹا اور اس کا اندازہ لگالیا پھر ان سے فرمایا کہ اے گروہ یہود تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض تم ہی لوگ ہو تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلموں کو شہید کیا اور اللہ پر جھوٹ باندھا لیکن یہ نفرت مجھے تم پر زیادہ نہیں کرنے دے گی میں نے بیس ہزار وسق کھجوریں کاٹیں ہیں اگر تم چاہو تو تم لے لو اور اگر چاہو تو میں لے لیتا ہوں وہ کہنے لگے کہ اسی پر زمین آسمان قائم رہیں گے کہ ہم نے انہیں لے لیا اب آپ لوگ چلے جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14426

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنْ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا فَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهَرٌ يَقُولُ النَّارُ فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنْ النَّاسِ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنْ السَّحَرِ فَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ فَيَقُولُونَ هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُونَ فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ فَيَقُولُ لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجُوا إِلَيْهِ قَالَ فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي يَا رُوحَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج اس وقت میں ہوگا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آجائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس پر وہ سواری کرے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہو گی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہوگ ا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھناجانتاہوں یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیاہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پراترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہوگا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کرے گا وہ جنت ہوگی۔اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کریں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہو گاوہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہو گا کہ جیسے بارش ہو ری ہے وہ ایک آدمی کو قتل کرے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جو پروردگار نہ ہو اس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کرے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے ۔ پھر حضرت عیسی کا نزول ہوگا اور وہ سحری کےوقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ حضرت عیسی ہوں گے نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب حضرت عیسی کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے حضرت عیسی بڑھ کر اسے قتل کریں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہودی یہاں چھپا ہوا ہے چنانچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کردیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14427

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَاخْرُجْ إِلَيْهِ فَخَرَجَ مِنْ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَيَعْلَمُ هُوَ هُوَ أَمْ لَا قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ قَالَ فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ فَقَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ صَائِدٍ إِنَّا قَدْ خَبَّأْنَا لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ قَالَ الدُّخُّ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ اخْسَأْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْذَنْ لِي فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ لَا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی عورت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ پونچھی تو ہوئی تھی اور دوسری روشن ابھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ کچھ گنگنارہا ہے لیکن اس کی ماں نے اسے بروقت مطلع کردیا کہ عبداللہ یہ ابوقاسم آئے ہیں ان کے پاس آؤ چنانچہ وہ اپنی چادر سے نکل کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو کیا ہوگیا ہے اس پر خدا کی مار ہو اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کردیتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا میں حق بھی دیکھتاہوں اور باطل بھی اور میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پلٹ کو پوچھا کہ آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ کرچلے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور یہی حالات پیش آئے پھر تیسری مرتبہ یاچوتھی مرتبہ مہاجرین انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے اور میں بھی تھا تشریف لائے اور یہی حالات پیش آئے البتہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے ابن صائد ہم نے تیرے امتحان کے لیے اپنے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہوئی ہے بتاوہ کیا ہے اس نے دخ، دخ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو اس پر حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے میں اسے قتل کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو اس کے اہل نہیں ہو اس کے اہل حضرت عیسی ہیں اور اگر وہ نہیں ہے تو تمہیں کسی ذمی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14428

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کے قربانی کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بھی مدینہ منورہ لے آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14429

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْعَزْلَ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ قَالَ لَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے آب حیات کا باہر خارج کر دینا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14430

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر بیچ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14431

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب کہ امام نکل چکا ہو اسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14432

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ قَالَ فَصَلَّى بِهِمْ مَرَّةً الْعِشَاءَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَعَمَدَ رَجُلٌ فَانْصَرَفَ فَكَانَ مُعَاذٌ يَنَالُ مِنْهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَتَّانٌ فَتَّانٌ أَوْ قَالَ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ قَالَ عَمْرٌو لَا أَحْفَظُهُمَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ابتدا نماز عشاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہیں نماز پڑھا دیتے تھے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کردیا حضرت معاذ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آکر سورت بقرہ شروع کردی ایک آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہو گئے ہو اس نے کہا کہ میں تو منافق نہیں ہوں پھر اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ذکر کردی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں ہم لوگ کھیتی باڑی کرنے والے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آکر ہمیں نماز پڑھائی توسورۃ بقرہ شروع کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلاکرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14433

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14434

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ قَالَ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ جَابِرٌ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوْ الثَّالِثِ قَالَ وَكَانَ اسْمُهُ أَصْحَمَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا اور اس کا نام اصحمہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14435

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14436

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14437

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ أَبِي كَرِيْبٍ أَوْ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي كَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14438

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَا فَقَالَ ارْكَعْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14439

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا وَلَا يُكَارِيهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14440

قَالَ وَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14441

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ وَكَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ قَالَ كَانُوا أَوْ قَالَ كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ

محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حجاج کرام آئے ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر دوپہر کو پڑھتے تھے عصر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج چمک رہا ہوتا مغرب اس وقت پڑھتے ھتے جب سورج غروب ہوجاتا نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھتے تھے جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں توجلد پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ اب تک نہیں آئے تو مؤخر کردیتے اور صبح کی نماز منہ اندھیرے ہی پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14442

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ أَبُو مَذْكُورٍ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ الْقِبْطِىُّ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ مَالٌ غَيْرُهُ قَالُوا لَا قَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَمَانِ مِائَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى أَهْلِكَ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى أَقَارِبِكَ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا وَهَاهُنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقو ب تھا یہ کہہ کر آزاد کردیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14443

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى مَنَازِلِنَا وَهِيَ مِيلٌ وَأَنَا أُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہوتی تھی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14444

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبْدَ بِثَمَانِ مِائَةٍ وَدَفَعَهُ إِلَى مَوَالِيهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ ان کے کسی صحابی نے اپنے مدبر غلا م کو آزاد کردیا ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی بھی مال نہ تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے بدلے بیچ دیا اور اسے اس کے آقا کے حوالے کردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14445

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ وَاللَّهِ لَا نُكَنِّيكَ بِهِ أَبَدًا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى الْأَنْصَارِ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا توانصار نے کہا کہ بخدا ہم تو تمہیں اس نام کی کنیت سے نہیں پکاریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بات پتہ چلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنانام رکھ لیا لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14446

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ يَحْمِلُهُ مَكْشُوفًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا كُنْتَ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے اگرچہ لکڑی سے ہی ڈھک کر لے آتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14447

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ فَقَالَ جَابِرٌ إِنَّ شَعْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنوہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے توبال بہت لمبے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14448

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجْزِئُ مِنْ الْوَضُوءِ الْمُدُّ مِنْ الْمَاءِ وَمِنْ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكْفِينِي فَقَالَ جَابِرٌ قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعْرًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کے لیے ایک مد پانی اور غسل جنابت کے لیے ایک صاع پانی کافی ہوجاتا ہے ایک آدمی نے کہا کہ مجھے تو کافی نہیں ہوتا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اتنی مقدار تو اس ذات کو کفایت کر جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی اور ان کے بال بھی مجھ سے زیادہ تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14449

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14450

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا قَالَ فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن مدینہ منورہ میں ایک قافلہ آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے سب لوگ قافلے کے پیچھے نکل گئے اور صرف بارہ آدمی مسجد میں بیٹھے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، واذاراو تجارۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14451

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ أَوْ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14452

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ فَقَالَ أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ السَّيْفَ فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں ایک جماعت پر گذر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھی تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کررہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایساکرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کرو ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14453

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ قَالَ فَقَالَ حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ قَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ قَالَ قَالَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ قَالَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ کیا آپ کو کسی مضبوط قلعے اور پناہ کی ضرورت ہے زمانہ جاہلیت میں قبیلہ دوس کا ایک قلعہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا کہ یہ فضیلت اللہ نے انصار کے لیے چھوڑ رکھی ہے چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے توطفیل بن عمرو بھی ہجرت کرکے آگئے ان کےساتھ ان کا ایک اور آدمی بھی ہجرت کرکے آگیا وہاں ان کو مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی اور وہ شخص بیمار ہوگیا اور گھبراہٹ کے عالم میں قینچی پکڑ کر ا پنی انگلیاں کاٹ لیں جس اسے اس کے ہاتھ خون سے بھر گئے اوراتناخون بہاکہ وہ مرگیا۔خواب میں اسے عمرو بن طفیل نے دیکھا وہ بڑی اچھی حالت میں دکھائی دیا البتہ اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے طفیل نے اس سے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہجرت کی برکت سے اللہ نے مجھے معاف کردیا انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے تمہارے ہاتھ ڈھکے ہوئے نظر آرہے ہیں اس نے جواب دیا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم نے جس چیز کو خود خراب کیا ہے ہم اسے صحیح نہیں کر سکتے اگلے دن طفیل نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کا گناہ معاف فرمادے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14454

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ الْمَكِّيُّ عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ شیطان کو کنکریاں ٹھیکری کی بنی ہوئی مارا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14455

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيَخْطُبُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَيَقُولُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا أَوْ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ جس شخص کو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں کر سکتا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیزیں نو چیزیں ہیں اور ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتاجاتا اور جوش میں اضافہ ہوتاجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور پھر فرمایا کہ تم پر صبح کو قیامت آگئی یا شام کو جو شخص مال ودولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کاہے اور جو شخص قرض یابچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے اور میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14456

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ

عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے یہ بات انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں اور اس کے پاس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں اپنی تحقیر سمجھے اور لوگوں کے لئے بھی یہ بات باعث ہلاکت ہے کہ ان کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14457

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ فَقَالَ أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا تو اس کے صاحبزادے جو مخلص مسلمان تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر آپ نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تو لوگ ہمیں ہمیشہ عار دلاتے رہیں گے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے دیکھا تو اسے قبر میں اتارا جا چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے قبر میں اتارنے سے پہلے مجھے کیوں نہ بتایا پھر اسے قبر سے نکلوایا اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اسے اپنی قمیض پہنا دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14458

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ وَكَانَ لَهُ عَبْدٌ قِبْطِيٌّ فَأَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَكَانَ ذَا حَاجَةٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ ذَا حَاجَةٍ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ قَالَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَنْفِعَ بِهِ فَبَاعَهُ مِنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامِ الْعَدَوِيِّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقو ب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14459

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ دَخَلَ إِلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14460

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طبیب حضرت ابی بن کعب کے پاس بھیجا اس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کوداغ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14461

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً فَقَالُوا يَوْمُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا شَهْرُنَا هَذَا قَالَ أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا بَلَدُنَا هَذَا قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں دس ذی الحجہ کو صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا آج کا دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا ہمارا یہی شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے کیا میں نے پیغام الہی پہنچادیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوسعید خدری سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14462

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَبِيعُوا دِيَارَهُمْ يَنْتَقِلُونَ قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دِيَارَكُمْ إِنَّمَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھر بیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھاجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14463

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَلِيَ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تواچھے طریقے سے اسے کفنائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14464

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي شِبْلٌ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14465

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ کون سا اسلام افضل ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوسرے مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14466

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمزم کا پانی جس نیت سے بھی پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14467

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ بِمَكَّةَ وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14468

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ قَالَ أَحْسِنْ قُلْتُ بِالشَّطْرِ قَالَ أَحْسِنْ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا جَابِرُ إِنِّي لَا أَرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا میرے پاس میری سات بہنیں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں عیادت کے لئے تشریف لائے مجھے ہوش آگیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی بہنوں کے لئے دو تہائی کی وصیت کردوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر طریقہ اختیار کرو میں نے نصف کے لئے پوچھا تو پھر یہی فرمایا تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے چلے گئے پھر واپس آکر فرمایا جابر رضی اللہ عنہ میں نہیں سمجھتاکہ تم اس بیماری میں مرجاؤگے تاہم اللہ تعالیٰ نے ایک حکم نازل فرمادیا ہے جس نے تمہاری بہنوں کا حصہ متعین کر دیا ہے یعنی دوتہائی حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت کلالہ میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14469

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالشُّفْعَةِ مَا لَمْ تُقْسَمْ أَوْ يُوقَفْ حُدُودُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جب تک تقسیم نہ ہوا ہو یا حدبندی نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14470

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ فَجَاءَهُ مَوْلَاهُ فَعَرَّفَهُ فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَسْأَلَهُ حُرٌّ أَوْ عَبْدٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں چلا تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اس کو تلاش کرتے ہوئے یہاں پر آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید کر آزاد کر دیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سے لے کر تب تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیں کہ وہ غلام ہے یا آزاد؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14471

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلاموں کے بدلے خریدا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14472

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي فَقُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا بِلَالٌ قَالَ وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ قَالَ قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ فَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي يَعْنِي صَوْتًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کاہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کاہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14473

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ غَازِيًا فَلَمَّا أَقْبَلْنَا قَافِلِينَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَتَعَجَّلْ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ أَرْمَكَ لَيْسَ فِي الْجُنْدِ مِثْلُهُ فَانْدَفَعْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا النَّاسُ خَلْفِي فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ جَمَلِي فَجَعَلَ لَا يَتَحَرَّكُ فَإِذَا صَوْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُ جَمَلِكَ يَا جَابِرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدْرِي مَا عَرَضَ لَهُ قَالَ اسْتَمْسِكْ وَأَعْطِنِي السَّوْطَ فَأَعْطَيْتُهُ السَّوْطَ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً فَذَهَبَ بِيَ الْبَعِيرُ كُلَّ مَذْهَبٍ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا جَابِرُ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْدِمْ الْمَدِينَةَ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ فِي طَوَائِفَ مِنْ أَصْحَابِهِ الْمَسْجِدَ فَعَقَلْتُ بَعِيرِي فَقُلْتُ هَذَا جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيفُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلِي فَقَالَ يَا فُلَانُ انْطَلِقْ فَائْتِنِي بِأَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَعْطِهَا جَابِرًا فَقَبَضْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ أَوْ لَكَ الْجَمَلُ وَلَكَ الثَّمَنُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر جہاد میں شریک تھا واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جلدی جانا چاہتا ہے وہ چلاجائے میں ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار تھا پورے لشکر میں اس جیسا اونٹ نہیں تھا میں نے اسے ڈورایا توسب لوگ مجھ سے پیچھے رہ گئے اچانک چلتے چلتے میر اونٹ ایک جگہ کھڑا ہوگیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا تھا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیا ہوا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑا دو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پہنچ کر۔ مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے میں نے اپنے اونٹ کو باندھا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ رہا آپ کا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اس کے گرد چکر لگانے اور فرمانے لگے میر اونٹ کتناخوبصورت ہے پھر فرمایا اے فلاں جا کر چند اوقیہ سونا لے آؤ اور جابر رضی اللہ عنہ کودیدو جب میں نے قیمت وصول کرلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں قیمت پوری پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ قیمت بھی تمہاری ہوئی اور اونٹ بھی تمہارا ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14474

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُوُفِّيَ وَالِدِي وَتَرَكَ عَلَيْهِ عِشْرِينَ وَسْقًا تَمْرًا دَيْنًا وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتَّى وَالْعَجْوَةُ لَا يَفِي بِمَا عَلَيْنَا مِنْ الدَّيْنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَبَعَثَ إِلَى غَرِيمِي فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الْعَجْوَةَ كُلَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرِيشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَةٌ لِي فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُهَا مِنْ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَيْنَا إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ فَقُلْتُ مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرْحَبًا يَا عُمَرُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَطُوفَ فِي نَخْلِكَ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَطُفْنَا بِهَا وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَةٍ فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِسَادَةٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَهُ مِنْ وِسَادَةٍ ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَةٍ لَنَا عَلَيْهَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ فَأَكَلَا وَكُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِيِّ الْحَيَاءُ فَلَمَّا ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ قَالَتْ صَاحِبَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعَوَاتٌ مِنْكَ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى غُرَمَائِي فَجَاءُوا بِأَحْمِرَةٍ وَجَوَالِيقَ وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُمْ مِنْ الْعَجْوَةِ أُوفِيهِمُ الْعَجْوَةَ الَّذِي عَلَى أَبِي فَأَوْفَيْتُهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ الْعَجْوَةِ وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُهُ بِمَا سَاقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ فَقَالَ لِعُمَرَ إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفَى غَرِيمَهُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَحْمَدُ اللَّهَ

ابومتوکل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ان پر کچھ وسق کھجوروں کا قرض تھا ہمارے پاس مختلف قسم کی چند کھجوریں اور کچھ عجوہ تھی جس سے ہمارا قرض ادا نہیں ہوسکتا تھا چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرض خواہ کے پاس بھیجا لیکن اس نے سوائے عجوہ کے کوئی دوسری کھجور لینے سے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے عجوہ ہی دیدو چنانچہ میں اپنے خیمے میں پہنچا اور کھجوروں کو کاٹنا شروع کردیا ہمارے پاس ایک بکری بھی تھی جسے ہم گھاس پھوس کھلایا کرتے تھے اور وہ خوب صحت مند ہوگئی تھی ۔اچانک ہم نے دیکھا کہ دو آدمی چلے آرہے ہیں قریب آئے تو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر تھے میں نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ چلو ہم تمہارے باغ کا ایک چکر لگانا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا بہت بہتر چنانچہ ہم نے باغ کا ایک چکر لگایا ادھر میں نے اپنی بیوی کو حکم دیا اور اس نے بکری کا بچہ ذبح کرلیا پھر ہم ایک تکیہ لائے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی وہ بالوں کا بنا ہوا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن حضرت عمر کے لیے دوسرا تکیہ نہ مل سکا۔تھوڑی دیر بعد میں نے دسترخوان بچھایا اور اس پر دوطرح کھجوریں اور گوشت لا کر رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر کے سامنے پیش کیا ان دونوں نے کھانا تناول فرمایا مجھ پر فطری طور حیا کا غلبہ تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر جانے لگے تو میری بیوی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعاکی درخواست کی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے برکت کی دعاکی اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو بلا بھیجا وہ درانتیاں اور قینچیاں لے کر آگئے لیکن اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں نے انہیں اس باغ میں بیس وسق عجوہ کھجور ادا کردی اور اس کے باوجود بھی وہ بڑی مقدار میں بچ گئی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوش خبری سنانے چلا گیا کہ اللہ نے مجھ پر کتنی مہربانی فرمائی ہے جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوش خبری سنائی تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا اللھم لک الحمد پھر حضرت عمر سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے قرض خواہوں کا ساراقرض اتاردیا حضرت عمر بھی اللہ کا شکر کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14475

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14476

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسودوالے کونے سے حجراسود والے کونے تک رمل کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14477

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں حالت احرام میں تلبیہ کہتا ہوا گزرے یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے تو وہ اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہوگا اور وہ ایساصاف ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14478

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حِينَ قَدِمُوا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى طَوَافٍ وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ مکرمہ آئے تو انہوں نے ایک سے زیادہ طواف نہیں کئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14479

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ إِلَّا أَنْ تَدَعَ دَيْنًا لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاءٌ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہوجاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہو اور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14480

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلًا وَلَا بِرْذَوْنًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اس وقت وہ خچر پر سوار تھے اور نہ ہی گھوڑے پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14481

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ابْنِ مِقْسَمٍ قَالَ أَبِي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزہ اور اس کا مردار ( مچھلی ) حلال ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14482

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً أَوْ قَالَ فَنَخَسَهُ نَخْسَةً قَالَ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ قَالَ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَزَادَنِي قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑادو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوڑا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیااس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پہنچ کر۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14483

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور لہسن کھانے سے منع فرمایا تھا لیکن جب ہم اپنی ضرورت سے مغلوب ہو گئے تو ہم نے اسے کھالیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کواذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14484

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهِ بِعُودٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے ہوئے دروازے بند کر لیا کرو برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو خواہ ایک لکڑی ہی رکھ دو چراغ بجھادیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14485

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14486

حَدَّثَنَا كَثِيرٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14487

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ شَكَّ هِشَامٌ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور طویل قیام کیا حتی کہ لوگ مرنے لگے پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا دوبارہ اسی طرح کیا دو سجدے کیے اور پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا میں اگر اس کے پھلوں کا کوئی گچھا توڑنا چاہتا تو توڑ سکتا تھا پھر میرے سامنے جہنم کو بھی لایا گیا یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ تمہیں نہ لگ جائے۔ میں نے جہنم میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی حتی کہ اس حال میں وہ مر گئی اسی طرح میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو بھی جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا اور چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے لہذاجب انہیں گہن لگ جائے تو نماز پڑھا کرو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14488

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ قَالَ فَهَمَّ بِهِمْ الْمُشْرِكُونَ قَالَ فَقَالَ دَعُوهُمْ فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعَ الَّذِينَ سَجَدُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ فَلَمَّا قَامُوا فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ تَأَخَّرَ الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ فَقَامَ أَهْلُ الصَّفِّ الثَّانِي وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ إِلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَرَكَعُوا جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنْ الرُّكُوعِ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی نخلہ میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز ظہر پڑھائی مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور کہنے لگے کہ انہیں چھوڑ دو اس نماز کے بعد یہ ایک اور نماز پڑھیں جوان کے نزدیک ان کی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے حضرت جبریل نے نازل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کیا چنانچہ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو صفوں میں تقسیم کردیا اور خود سب سے آگے کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کےساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آگئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14489

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَنِي سَلِمَةَ وَمَعِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبُو الْأَسْبَاطِ مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ كَانَ يَتْبَعُ الْعِلْمَ قَالَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنْ الطَّعَامِ فَقَالَ خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ لِي هُوَ بِالْأَسْوَافِ عِنْدَ بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ أَبِيهِنَّ قَالَ وَكُنَّ أَوَّلَ نِسْوَةٍ وَرِثْنَ مِنْ أَبِيهِنَّ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ الْأَسْوَافَ وَهُوَ مَالُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ قَدْ رُشَّ لَهُ فَهُوَ فِيهِ قَالَ فَأُتِيَ بِغَدَاءٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ قَدْ صُنِعَ لَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلظُّهْرِ وَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ الظُّهْرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا بَقِيَ مِنْ قِسْمَتِهِ لَهُنَّ حَتَّى حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَفَرَغَ مِنْ أَمْرِهِ مِنْهُنَّ قَالَ فَرَدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ غَدَائِهِ مِنْ الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ ثُمَّ نَهَضَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ وَمَا مَسَّ مَاءً وَلَا أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ محمد بن عمرو اور اسباط ھی تھے جو حصول علم کے لیے نکلے تھے ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے مسجد نبوی پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہ ملے میں نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ مقام اسوف میں سعد بن ربیع کی بچیوں کے پاس گئے ہیں تاکہ ان کے درمیان ان کے والد کی وراثت تقسیم کریں یہ پہلی خواتین تھیں جنہیں زمانہ اسلام میں اپنے والد کی میراث ملی۔میں وہاں سے نکل کر مقام اسوف میں پہنچا جہاں سعد بن ربیع کا مال تھا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کا ایک بستر پر پانی چھڑک کر اسے نرم کر دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہیں اتنی دیر میں کھانا لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا جو خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور دوسرے لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کر کے نماز ظہر کے لیے وضو کیا لوگوں نے بھی وضو کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ظہر ادا کروائی نماز سے فراغت ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ بیٹھ گئے اور تقسیم وراثت کا جو کام بچ گیا تھا اسے مکمل کرلیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے معاملے سے فارغ ہو گئے پھر ان لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی لوگوں میں سے کسی نے اسے ہاتھ لگایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14490

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي بَشِيرٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَسْأَلُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِىَّ أَخَا بَنِي سَلِمَةَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ إِنَّ شَعْرَ رَأْسِي كَثِيرٌ وَأَخْشَى أَنْ لَا تَغْسِلَهُ ثَلَاثُ غَرَفَاتٍ بِيَدَيَّ فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ مِنْ رَأْسِكَ

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14491

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن دو مینڈھے ذبح کیے جب انہیں قبلہ رخ کرنے لگے تو فرمایا میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا سب سے کٹ کر اور مسلمانوں ہو کر میں مشرکین میں سے نہیں ہوں میری نماز قربانی زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لیے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ، بسم اللہ ، اللہ اکبر اے اللہ یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے لیے اسے محمد اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14492

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي أَبَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ عَلَى جَدْرِ مَسْجِدِهِ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ لَنَا إِنَّمَا صَلَّيْتُ لِتَرَيَانِي إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا

ابراہیم بن عبدالرحمن اور حسن بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر بھی مسجد کے قریب دیوار پر تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کہا ہے کہ تم دونوں دیکھ لو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14493

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَنَحْنُ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ مِنْ النَّاسِ حَلَفَ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا حَقَّ مُسْلِمٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّارَ وَإِنْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اللہ اسے جہنم میں ضرور داخل کرے گا اگرچہ ایک تازہ مسواک ہی کی وجہ سے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14494

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصِ الْجَبَلِ يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اصحاب احد کا ذکر فرماتے تو میں انہیں یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ کاش پہاڑ کی چوٹی والوں کے ساتھ دھوکے کے حملے میں شہید ہونے والوں میں میں بھی شامل ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14495

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مُرْتَحِلًا عَلَى جَمَلٍ لِي ضَعِيفٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَتْ الرِّفَاقُ تَمْضِي وَجَعَلْتُ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي هَذَا قَالَ فَأَنِخْهُ وَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطِنِي هَذِهِ الْعَصَا مِنْ يَدِكَ أَوْ قَالَ اقْطَعْ لِي عَصًا مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ فَفَعَلْتُ قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَخَسَهُ بِهَا نَخَسَاتٍ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبْتُ فَخَرَجَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ يُوَاهِقُ نَاقَتَهُ مُوَاهَقَةً قَالَ وَتَحَدَّثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ هَذَا يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ أَهَبُهُ لَكَ قَالَ لَا وَلَكِنْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَسُمْنِي بِهِ قَالَ قَدْ قُلْتُ أَخَذْتُهُ بِدِرْهَمٍ قَالَ قُلْتُ لَا إِذًا يَغْبِنُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبِدِرْهَمَيْنِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الْأُوقِيَّةَ قَالَ قُلْتُ فَقَدْ رَضِيتُ قَالَ قَدْ رَضِيتَ قُلْتُ نَعَمْ قُلْتُ هُوَ لَكَ قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا جَابِرُ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ لَهُ سَبْعًا فَنَكَحْتُ امْرَأَةً جَامِعَةً تَجْمَعُ رُءُوسَهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ أَمَا إِنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ وَأَقَمْنَا عَلَيْهَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَسَمِعَتْ بِنَا فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فَإِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ فَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا قَالَ فَلَمَّا جِئْنَا صِرَارًا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَدَخَلْنَا قَالَ فَأَخْبَرْتُ الْمَرْأَةَ الْحَدِيثَ وَمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَدُونَكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخَذْتُ بِرَأْسِ الْجَمَلِ فَأَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَنَخْتُهُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى الْجَمَلَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا جَمَلٌ جَاءَ بِهِ جَابِرٌ قَالَ فَأَيْنَ جَابِرٌ فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ تَعَالَ أَيْ يَا ابْنَ أَخِي خُذْ بِرَأْسِ جَمَلِكَ فَهُوَ لَكَ قَالَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ اذْهَبْ بِجَابِرٍ فَأَعْطِهِ أُوقِيَّةً فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَزَادَنِي شَيْئًا يَسِيرًا قَالَ فَوَاللَّهِ مَازَالَ يَنْمِي عِنْدَنَا وَنَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَيْتِنَا حَتَّى أُصِيبَ أَمْسِ فِيمَا أُصِيبَ النَّاسُ يَعْنِي يَوْمَ الْحَرَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنے ایک کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکلا واپسی پر سواریاں چلتی گئی اور میں پیچھے رہ گیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میر اونٹ سست ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بٹھادو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اسے بٹھایا اور فرمایا اپنے ہاتھ کی لاٹھی مجھے دیدو اس درخت سے توڑ کر دیدو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چند مرتبہ وہ چبھو کر فرمایا اب اس پر سوار ہو جا چنانچہ میں سوار ہو گیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب دوسری اونٹنیوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم بیچ دو میں نے عرض کیا پھر مجھے اس کی قیمت بتا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اسے ایک درہم میں لیتا ہوں میں نے کہا پھر نہیں یہ تو نقصان کا سودا ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہم کہا لیکن میں نے پھر بھی انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بڑھاتے ہوئے ایک اوقیہ تک پہنچ گئے تب میں نے کہا میں راضی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راضی ہو میں نے کہا جی ہاں یہ اونٹ آپ کا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے لے لیا۔تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے یا شوہردیدہ سے میں نے کہا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہیں کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ غزوہ احد میں میرے والد صاحب شہید ہو گئے اور سات بیٹیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا پھر فرمایا کہ اگر ہم کسی بلند ٹیلے پر پہنچ گئے تو اونٹ ذبح کریں گے اور ایک دن یہیں قیام کریں گے خواتین کو ہماری آمد کا علم ہو جائے تو وہ بستر جھاڑ لیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ بخدا ہمارے پاس تو ایسی چادریں نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ہوں گی اور جب تم گھر پہنچ جاؤ تو اپنی بیوی کے قریب جا سکتے ہو چنانچہ ایک بلند ٹیلے پر پہنچ کر ایسا ہی ہوا اور شام کو ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔میں نے اپنی بیوی کو یہ سارا واقعہ بتایا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کیا فرمایا ہے اس نے کہا بہت اچھا سر آنکھوں پر چنانچہ صبح ہوئی تو میں نے اونٹ کا سرا پکڑا اور اسے لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بٹھادیا اور خود قریب جا کر مسجد میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکلے تو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے ان لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ جابر رضی اللہ عنہ لے کر آیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ خود کہاں ہے مجھے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھتیجے یہ اونٹ تمہارا ہے تم لے جاؤ اور حضرت بلال کو بلا کر حکم دیا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ اور ایک اوقیہ چاندی دیدد چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا انہوں نے مجھے ایک اوقیہ اور اس میں بھی کچھ جھکتا ہوا دیدیا بخدا وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہا حتی کہ حرہ کے دن لوگ اسے لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14496

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا قَالَ وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ وَفِي أَجْنَابِهِ وَمَضَايِقِهِ قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَاسْتَمَرُّوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ ثُمَّ قَالَ إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَيَّ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَلَا شَيْءَ احْتَمَلَتْ الْإِبِلُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ وَفِيمَنْ ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيْ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم وادی حنین کے سامنے پہنچے تو تہامہ کی ایک جوف دار وادی میں اترے ہم اس میں لڑھکتے ہوئے اترتے جارہے تھے صبح کا وقت تھا دشمن کے لوگ ہماری تاک میں گھاٹیوں، کناروں اور تنگ جگہوں میں گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے وہ لوگ متفق اور خوب تیاری کے ساتھ آئے ہوئے تھے بخدا ابھی ہم لوگ اتر ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہمیں سنبھلنے کاموقع نہ دیا اور یکجان ہو کر تمام لشکروں نے ہم پر حملہ کر دیا لوگ شکست کھا کر پیچھے کو پلٹنے لگے اور کسی کو کسی کی ہوش نہ تھی۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب سمٹ گئے اور لوگوں کو آوازیں دینے لگے کہ اے لوگو میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں اس وقت اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین وانصار اور اہل بیت کے افراد بہت کم رہ گئے تھے ان ثابت قدم رہنے والوں میں حضرت ابوبکر، عمر بھی تھے اور اہل بیت میں حضرت علی اور حضرت عباس ان کے صاحبزادے فضل ابوسفیان بن حارث ، ربیعہ بن حارث، ایمن بن عبید جو ام ایمن کے صاحبزادے تھے اور حضرت اسامہ بن زید تھے جبکہ بنو ہوازن کا یک آدمی سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا جو ایک لمبے نیزے کے سر پر بندھا ہوا تھا وہ لوگوں سے آگے تھے اور بقیہ ہوازن اس کے پیچھے پیچھے تھے جب وہ کسی کو پاتا تو اپنے نیزے سے اسے مار دیتا جب کوئی نظر نہ آتا تو وہ اسے اپنے پیچھے والوں کے لیے بلند کردیتا اور وہ اس کے پیچھے چلنے لگتے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابھی بنوہوازن کا وہ آدمی جو علمبردار تھا اپنے اونٹ پر ہی سوار تھا اور وہ سب کچھ کرتاجارہا تھا جو کر رہا تھا کہ اچانک اس کا سامنا حضرت علی اور ایک انصاری سے ہو گیا وہ دونوں اس کے پیچھے لگ گئے چنانچہ حضرت علی نے پیچھے سے آکر اس کے اونٹ کی ایڑیوں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ اس کی دم کے بل گر پڑا ادھر سے انصاری نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس پر ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک چر گیا وہ اپنی سواری سے گر گیا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے بخدا لوگ اپنی شکست سے جان بچا کر جہاں بھی بھاگے بالا آخر وہ قیدی بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14497

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ قَالَ فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا وَذَبَحَتْ تِلْكَ الشَّاةَ فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِانْصِرَافَ عَنْ الْخَنْدَقِ قَالَ وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ قَالَ فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ أَمَرَ صَارِخًا فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ قَالَ فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی کھدائی کر رہے تھے میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ تھا میں نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بھون کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانے کا انتظام کر لیں چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا اس نے کچھ جو پیسے اور اس سے روٹیاں پکائیں اور بکری ذبح کی جسے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھون لیا۔ جب شام ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے کہ ہم لوگ دن بھر کام کرتے تھے اور شام کو گھر واپس آ جاتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے تھوڑا ساگوشت بھونا ہے جو ہمارے پاس تھا اور اس کے ساتھ جو کی کچھ روٹیاں پکائی ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں میرا ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تنہا میرے ساتھ چلیں گے لیکن جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چلنے کے لیے کہا تو آپ نے فرمایا اچھا اور ایک منادی کو حکم دیا کہ جس نے پورے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر چلو میں نے اپنے دل میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے لوگ آ گئے اور آکر بیٹھ گئے ہم نے جو کچھ پکایا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا لوگ آتے جاتے تھے اور کھاتے تھے حتی کہ تمام اہل خندق نے سیر ہو کر وہ کھانا کھالیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14498

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دُفِنَ سَعْدٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ سَبَّحْتَ قَالَ لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی تدفین ہوچکی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہورہی تھی بعد میں اللہ نے اسے کشادہ کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14499

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُمْ اللَّحْمَ فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم گوشت پکایا کرو تو اس میں شوربہ بڑھا لیا کرو کہ اس سے پڑوسیوں کے لئے کشادگی پیدا ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14500

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلا م اپنے آقاکی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14501

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا وَسُئِلَ عَنْ الْعَزْلِ قَالَ فَقَالَ قَدْ كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے عزل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے (آب حیات کا باہر خارج کردینا) ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14502

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حُبِسَ الْوَحْيُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَجَعَلَ يَخْلُو فِي حِرَاءٍ فَبَيْنَمَا هُوَ مُقْبِلٌ مِنْ حِرَاءٍ إِذَا أَنَا بِحِسٍّ مِنْ فَوْقِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الَّذِي أَتَانِي بِحِرَاءٍ فَوْقَ رَأْسِي عَلَى كُرْسِيٍّ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ جُئِثْتُ عَلَى الْأَرْضِ فَلَمَّا أَفَقْتُ أَتَيْتُ أَهْلِي مُسْرِعًا فَقُلْتُ دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي فَأَتَانِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد ایک دن میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14503

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب قریش نے میرے بیت المقدس کی سیر کرنے کی تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی علامات بتانے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14504

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد ایک دن میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان وزمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14505

قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ فِي الْحِجْرِ حِينَ كَذَّبَنِي قَوْمِي فَرُفِعَ لِي بَيْتُ الْمَقْدِسِ حَتَّى جَعَلْتُ أَنْعَتُ لَهُمْ آيَاتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قریش نے میرے بیت المقدس کے سیر کرنے کی تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی علامات بتانے لگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14506

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلْ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھا کرو اور اللہ سے اسکے فضل کا سوال کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14507

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَسَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقَالَ تَبُلُّ الشَّعْرَ وَتَغْسِلُ الْبَشَرَ قَالَ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ الْمَاءِ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ قَالَ كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کودھو ڈالو انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل کرتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے توبال لمبے بہت ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال لمبے تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ لمبے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14508

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ فِي السَّفَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے توسواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14509

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا فَأَهْلَلْنَا مِنْ الْبَطْحَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجۃ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منی کی طرف روانگی کا ارادہ کرو تو دوبارہ احرام باندھ لینا چنانچہ ہم نے وادی بطحاء سے احرام باندھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14510

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ

حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعتوں کے ساتھ ادا کی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت کے ساتھ پڑھی رات وہیں پر قیام کیا اور نماز فجر پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14511

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کردیا اور انہیں ٹھیکری جیسی کنکریاں دکھا کر سکو ن وقار سے چلنے کا حکم دیا اور فرمایا میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14512

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا و قَالَ حَجَّاجٌ فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کی قربانی کے جانور کا گوشت صرف منی کے تین دنوں میں کھاتے تھے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کھاؤ اور ذخیرہ کرو (چنانچہ ہم نے ایساہی کیا)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14513

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ فَنَحَرْنَا سَبْعِينَ بَدَنَةً يَوْمَئِذٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے حج اور عمرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے مشترکہ طور پر ایک اونٹ ذبح کیا تھا اس طرح ہم نے کل ستر اونٹ ذبح کئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14514

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت عائشہ کی طر ف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14515

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ وَيَجْتَمِعُ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْبَدَنَةِ وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ حَجَّتِهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجۃ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منی کی طرف روانگی کا اردہ کرو تو دوبارہ احرام باندھ لینا اور ایک اونٹ میں کئی لوگ مشترک ہو جانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14516

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14517

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ زَوَّدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمُصُّهَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ فَكُلُوا فَأَكَلْنَا فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَا فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَأَكَلَ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں بھیجا اور حضرت ابوعبیدہ کو ہمارا امیر مقرر کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارایہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لیے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لیے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہوگئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اسکی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ مدینہ واپسی پر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوادیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے تناول فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14518

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنِي جَابِرٌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَقْوَامًا يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ بَعْدَمَا امْتُحِشُوا فِيهَا فَيُنْطَلَقُ بِهِمْ إِلَى نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ نَهْرُ الْحَيَاةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَمْثَالَ الثَّعَارِيرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ لوگوں کو جب جہنم سے نکالا جائے گا تو اس وقت تک ان لوگوں کے چہرے جھلس چکے ہوں گے پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دلایا جائے گا جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو وہ ککڑیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14519

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ وَأَبُو أَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ لِقُرَيْشٍ تَبَعٌ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا لو گ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14520

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14521

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَمُوسَى بنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ وَقَالَ مُوسَى وَلَوْ بِشَيْءٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص روزہ رکھنا چاہے اسے کسی چیز سے سحری کر لینی چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14522

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال لمبے بہت ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال لمبے تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ لمبے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14523

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ بُرْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِهِمْ فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال و غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے لیکن کوئی ہمیں اس کا طعنہ نہ دیتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14524

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید خدری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14525

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ ثُمَّ يَخْطُبُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز پڑھاتے تھے نماز کے بعد لوگوں سے خطاب فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14526

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ عَنْ جَابِرٍ بِمِثْلِهِ فَفَسَّرَ جَابِرٌ نُقْصَانٌ مِنْ الْعُمُرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14527

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ نَافِعٍ أَبَا سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنْتُ فِي ظِلِّ دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ أَمْشِي خَلْفَهُ فَقَالَ ادْنُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ أُمِّ سَلَمَةَ أَوْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ وَعَلَيْهَا الْحِجَابُ فَقَالَ أَعِنْدَكُمْ غَدَاءٌ فَقَالُوا نَعَمْ فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى نَقِيٍّ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ أُدُمٍ فَقَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ هَاتُوهُ فَأَتَوْهُ بِهِ فَأَخَذَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقُرْصًا بَيْنَ يَدَيَّ وَكَسَرَ الثَّالِثَ بِاثْنَيْنِ فَوَضَعَ نِصْفًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفًا بَيْنَ يَدَيَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے گھر کے سائے میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کود کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے قریب ہوجاؤ چنانچہ میں قریب ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے ہوئے کسی زوجہ محترمہ ام سلمہ یا حضرت زینب بن حجش کے حجرے میں داخل ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندرچلے گئے اور تھوڑی دیر بعد مجھے بھی آنے کی اجازت دیدی میں اندر داخل ہوا تو ام المومنین حجاب میں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں اور تین روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دی گئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن بھی ہے انہوں نے عرض کیا نہیں البتہ تھوڑا ساسرکہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی لے آؤ چنانچہ سرکہ پیش کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک میرے سامنے رکھی اور ایک روٹی کے دو ٹکڑے کیے جن میں سے آدھا اپنے سامنے رکھا اور آدھا میرے سامنے رکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14528

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14529

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14530

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهُوَ يُومِئُ إِيمَاءً فَكَلَّمْتُهُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرات کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14531

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَأَبُو عَامِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ حَدِيثًا فَالْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي مَجْلِسِهِ بِحَدِيثٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کرے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14532

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَيَوَانِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خرید وفروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14533

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا قَالَ جَابِرٌ فَخَرَجْتُ فِي فِئَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ وَبَيْنَهُمَا قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِيلًا فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ فَقَالَ أَوْرِدْ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْرَدَ ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے ہم نے پانی کی جگہ پر پڑاؤ کیا حضرت معاذ بن جبل کہنے لگے کہ ہمارے مشکیزوں کو کون پانی سے بھر کرلائے گا یہ سن کر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم لوگ مقام اثایہ میں پانی تک پہنچے ان دونوں جگہوں کے درمیان تقریبا ٦٣ میل کا فاصلہ تھا ہم نے اپنے مشکیزوں میں پانی بھرا اور جب نماز عشاء ہوچکی تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اونٹ کو ہانکتا ہوا حوض کی طرف لے جارہا ہے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹ پر پہنچے میں نے اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور اسے بٹھادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز عشاء پڑھنے لگے حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہوگیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14534

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ أَوْ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ شَابٌّ يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا قَالَ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14535

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أُتِيَ بِضَبٍّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ وَقَالَ لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنْ الْقُرُونِ الْأُولَى الَّتِي مُسِخَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا مجھے معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کردی گئی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14536

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَارْكَعْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14537

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنْ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَامَ فَقَالَ إِزَارِي إِزَارِي فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساکرنا چاہا تو بے ہوش ہو کر گر پڑے اور آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14538

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ زَعَمَ لِي عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ هَذِهِ الشَّجَرَةَ قَالَ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبو دار درخت سے (لہسن ) کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14539

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا وَقَالَ لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوٹ مار کرنے والے کا ہاتھ تو نہیں کاٹاجائے گا البتہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کاہم سے کوئی تعلق نہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ خائن کا ہاتھ نہیں کاٹاجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14540

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَذَكَرُوا الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ يُصَلِّي النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنْ الرَّكْعَةِ وَيُومِئُ إِيمَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر ہر سمت میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے البتہ آپ رکوع کی نسبت سجدہ زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے اوراشارہ فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14541

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَذَكَرُوا الْعَزْلَ فَقَالَ كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں عزل کرلیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14542

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عَطَاءٌ حِينَ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمْ اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

عطاء کہتے ہیں کہ جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ عمرے کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کے گھر حاضر ہوئے لوگوں نے ان سے مختلف سوالات پوچھے پھر متعہ کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے حتی کے بعد میں حضرت عمر نے اس کی ممانعت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14543

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِمَكَّةَ فَلَمْ يُصَلِّ الْمَغْرِبَ حَتَّى أَتَى سَرِفَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف سے غروب آفتاب کے وقت روانہ ہوئے لیکن نماز مکہ مکرمہ میں پہنچ کر پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14544

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا اور اسے قبر میں اتارا جا چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اور اسے اپنی قمیض پہنا دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14545

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14546

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ أَمِيرًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ طَارِقٌ قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ عَلَى قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک گورنر تھا جس کا نام طارق تھا اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ عمری کا حق وارث کے لئے ہوگا اورا سنے اس کی دلیل اس نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دی تھی جوانہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14547

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ لَمْ نُبَايِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کریں گے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14548

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلادو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14549

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14550

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهُ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے وہ اس کی ہوگی اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14551

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ كَيْلًا وَبِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثِّمَارُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَأَنْ تُبَاعَ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کی کٹی ہوئی کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچاجائے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے اور کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14552

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ مَكِيلٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو کٹی ہوئی کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچاجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14553

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان واقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14554

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنِ الْمُثَنَّى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی طواف کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14555

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي مَاتَ فَكَيْفَ أُكَفِّنُهُ قَالَ أَحْسِنْ كَفَنَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میر ابھائی فوت ہوگیا ہے میں اسے کس طرح کفن دوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اچھے طریقے سے کفناؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14556

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی زمین پر چاردیواری کر کے باغ بنالے وہ زمین اسی کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14557

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي هُمْ قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ قَالُوا فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْ الرَّجُلِ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ فَقَالَ أَلَا تَرَكْتُمْ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ

حسن بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حضرت ماعز کے رجم کا واقعہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے اس حدیث کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کیونکہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں پتھر مارے جب ہم انہیں پتھر مارنے لگے اور انہیں اس کی تکلیف ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ لوگو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں واپس لے چلو میری قوم نے تو مجھے مار ہی ڈالا اور مجھے دھوکے میں رکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی صورت میں قتل نہیں کریں گے لیکن ہم نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا یہاں تک کہ انہیں ختم کرڈالا جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو ہم نے ان کی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا اور میرے پاس کیوں نہ لائے دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ رہے تھے اس سے اس معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14558

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ الصَّيْقَلَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى فَانْتَزَعَهَا وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک شخص پر ہوا جو نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ اٹھا کر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14559

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَمْكِنُوا الرَّكْبَ أَسِنَّتَهَا وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ وَإِذَا كُنْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَنْجُوا وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ فَإِذَا تَغَوَّلَتْ بِكُمْ الْغِيلَانُ فَبَادِرُوا بِالْأَذَانِ وَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَوَادِ الطُّرُقِ وَلَا تَنْزِلُوا عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَوَائِجَ فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سرسبز وشاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کاموقع دیا کرو اور منزل سے آگے نہ بڑھا کرو اور جب خشک زمین پر سفر کرنے لگو تو وہاں سے تیزی سے گذر جایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جارہی ہے اور اگر راستے میں بھٹک جاؤ تواذان دیا کرو نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا کرو اور نہ ہی وہاں پڑاؤ کرو کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور یہاں قضاء حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14560

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنٍ أَوْ قَالَ نَكَحَ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14561

قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ مجھے اپنی امت میں سے سب سے زیادہ اندیشہ جس چیز کا ہے وہ قوم لوط کا عمل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14562

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَيَوَانِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ وَلَا خَيْرَ فِيهِ نَسَاءٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوجانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خرید وفروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14563

أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ مُزَارَعَةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى صَاحِبِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی زمین یاباغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کیے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لےورنہ چھوڑ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14564

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَنَحْنُ نُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دیکھائی دے رہی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14565

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ وَكَثِيرُ بنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْيٍ كَانَ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14566

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقَيَّامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو طویل نماز پڑھائی یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے پھر طویل رکوع کیا اور پھر دیر تک سر اٹھا کر کھڑے رہے پھر دو سجدے کئے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا یوں اس نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14567

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14568

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحُمَةِ لِبَنِي عَمْرٍو

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمر کے لئے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرنے کی رخصت دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14569

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان واقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14570

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِيهِ فَقَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا دوسرے نے کہا یا رسول اللہ کیا میں اسے جھاڑ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14571

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ و سَمِعْت أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ لَا صَفَرَ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ قِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ فَقَالَ دَوَابُّ الْبَطْنِ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرْ الْغُولَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری متعدد ہونے صفر کا مہینہ منحوس ہونے اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14572

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا چار کو چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہوجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14573

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھا کرو اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14574

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے کہا السام علیک یا ابا قاسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف وعلیکم کہا حضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے غصے میں کہا کہ آپ سن نہیں رہے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے سنابھی ہے اور انہیں جواب بھی دیا ہے ان کے خلاف ہماری بددعا قبول ہوجائے گی لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعا قبول نہیں ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14575

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ يَنْزِعَهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ قَدْ أَوْشَكْتَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي فَقَالَ لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی لباس زیب تن فرمایا جو آپ کو کہیں سے ہدیہ میں آیا تھا پھر اسے تار حضرت عمر کے پاس بھجوا دیا کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ نے اسے کیوں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبریل نے اسے منع کیا ہے اسی اثناء میں حضرت عمر بھی روتے ہوئے آگئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ایک چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں اور مجھے دیدیتے ہیں میرا کیا گناہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا میں نے تمہیں یہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ چنانچہ انہوں نے اسے دوہزار درہم میں فروخت کردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14576

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ مَا مِنْ مَبِيتٍ وَلَا عَشَاءٍ هَاهُنَا وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوا اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے توشیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہارے رات گذارنے کی کوئی جگہ ہے اور نہ کھانا اور اگر وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں رات گذارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں ٹھکانہ اور کھانا دونوں مل گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14577

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا وَلَمْ يَدْخُلْ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے زمانے میں جب مقام بطحاء میں تھے حضرت عمر فاروق کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹاڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تصاویر کو مٹا نہیں دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14578

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ فَهُوَ يَتَجَحْدَلُ وَأَنَا أَتْبَعُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يَقُصَّهَا عَلَى أَحَدٍ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے خواب میں ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن ماردی گئی ہو وہ لڑھکتے ہوئے آگے آگے ہے اور میں اسکے پیچھے پیچھے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14579

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14580

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خِيَارُ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرلیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14581

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اللہ قبیلہ غفار کی بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14582

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرْنَا قَالَ أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرْنَا قَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا الشَّطْرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14583

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ الْوُرُودِ قَالَ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَذَا وَكَذَا انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ قَالَ فَتُدْعَى الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَنْ تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ يَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِ ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ كَذَلِكَ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى يُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آکر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کررہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہوگا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکامومن ایک نور دیا جائے گا پھر اس پراندھیرا چھاجائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق بھی پیچھے پیچھے پل صراط پر چڑھیں گے جس میں کانٹے اور چبھنے والی چیزیں ہوں گی جو لوگوں کو اچک لیں گی اس کے بعد منافقین کانور بجھ جائے گا اور مسلمان اس پر پل صراط سے نجات پاجائیں گے نجات پانے والے مسلمانوں کا پہل اگر وہ اپنے چہروں میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگا یہ لوگ سترہزار ہوں گے اور ان کا کوئی حساب نہ ہوگا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوں گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دیدی جائے گی اور لوگ سفارش کریں گے جس کی بناء پر ہر وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا ا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہو جائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا کہ اور انہیں دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ عطا فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14584

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ وَخَبَّأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعاء تھی جوانہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی تھی جبکہ میں نے اپنی امت کے لئے اپنی دعاء شفاعت کی صورت میں قیامت کے دن کے لئے اٹھا رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14585

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَمَخَّطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَيَكُونُ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ جُشَاءً وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب نہ کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہوجائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہوگا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بے اختیار سانس لیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14586

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَدْ يَئِسَ الشَّيْطَانُ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُسْلِمُونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا کہ اب دوبارہ نمازی اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیداکرنے سے درپے ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14587

حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14588

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِنْ لَمْ تَجِدُونِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ وَالْحَوْضُ قَدْرُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ فَلَا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا مَوْقُوفٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کروں گا اگر تم مجھے نہ دیکھ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہوگا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14589

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ قَالَ فَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي قَالَ فَيُقَالُ وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ قَالَ جَابِرٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ يَعْنِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر آنے والوں کا انتظار کروں گا کچھ لوگوں کو میرے پاس پہنچے سے پہلے ہی اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا کہ پروردگار یہ میرے ہیں اور میرے امتی ہیں جواب آئے گا کہ آپ کو کیا خبر انہوں نے آپ کے پیچھے کیا کیا یہ تو آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹ گئے تھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ حوض کوثر ایک ماہ کی مسافت پر پھیلا ہوا ہے اس کے دونوں کونے برابر ہیں یعنی اس کی چوڑائی بھی لمبائی جتنی ہے اس کے گلاس آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں اس کا پانی مشک سے زیادہ مہکنے والا، اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگا جو ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14590

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ لَهُ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دبا، نقیر، اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14591

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مینگنی یاہڈی سے اسنتجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14592

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنْ الْحَصْبَاءِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِائَةُ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کنکریوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ برابر کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14593

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے اور بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14594

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ ذَلِكَ زَكَاةً وَأَجْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ وعدہ لے رکھا ہے کہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لیے باعث تذکیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14595

حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ حضرت عیسی نازل ہوجائیں گے تو ان کا امیر عرض کرے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرماسکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14596

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال سے ایک ماہ قبل یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گذرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14597

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ دَعُوا الْكَسْعَةَ فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14598

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ قَالَ عَبْد اللَّهِ و سَمِعْت أَبِي مَرَّةً يَقُولُ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ الْعَامِرِيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا لَا نَدَعُكَ تُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا بِاسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الرَّجُلُ بِابْنِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ بِاسْمِكَ فَأَبَى قَوْمِي أَنْ يَدْعُونِي قَالَ بَلَى تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والابنا کر بھیجا گیا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14599

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَثِيَابٌ لَهُ عَلَى السَّرِيرِ أَوْ الْمِشْجَبِ فَقَامَ مُتَوَشِّحًا بِثَوْبِهِ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ قَالَ لَهُمْ حِينَ انْصَرَفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَكَذَا

عاصم بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا نماز کا وقت ہوا تو وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسرے کپڑے ان کے قریب ہی چار پائی پر پڑے تھے جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14600

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ قَوْمًا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا مَرَضٌ فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجُوا حَتَّى يَأْذَنَ لَهُمْ فَخَرَجُوا بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی اس وقت مدینہ میں وباپھیلی ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا اجازت مدینہ منورہ سے نکلنے سے منع کردیا لیکن وہ بغیر اجازت لینے مدینہ سے چلے گئے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14601

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قربانی کرلو، کوئی حرج نہیں، پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اب رمی کرلو کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14602

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ كَانَ حِمَايَ لَحِمًى لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ مُبَارِزٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِهَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ ابْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ قَالَ فَقُمْ إِلَيْهِ اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ عُمْرِيَّةٌ مِنْ شَجَرِ الْعُشَرِ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ مَا فِيهَا فَنَنٌ ثُمَّ حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَى بِالدَّرَقَةِ فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا فَعَضَّتْ بِهِ فَأَمْسَكَتْهُ وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرحب یہودی اپنے قلعے سے نکلا اس نے اسلحہ زیب تن رکھا تھا اور وہ یہ رجز اشعار پڑھ رہا تھا کہ پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پوش، بہادر اور تجربہ کار ہوں کبھی نیزے سے لڑتاہوں اور کبھی تلوار کی ضرب لگاتاہوں جب شیر شعلہ بن کر آگے بڑھتے ہیں گویا کہ میرا حریم ہی اصل حریم ہے جس کے قریب کوئی نہیں آسکتا اور وہ یہ نعرہ لگارہا تھا کہ ہے کوئی میرا مقابلہ کرنے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا مقابلہ کون کرے گا حضرت محمد بن مسلمہ نے آگے بڑھ کر عرض کیا یا رسول اللہ میں اس کا مقابلہ کروں گا اور بخدا میں اس کے جوڑ کا ہوں انہوں نے کل میرے بھائی کو بھی قتل کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگے بڑھو اور دعاکی کہ اے اللہ اس کی مدد فرما۔ جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تودرمیان میں ایک درخت حائل ہو گیا اور ان میں سے ایک اپنے مد مقابل سے بچنے کے لیے اس کی آڑ لینے لگا وہ جب بھی اس کی آڑ لیتا تو دوسرا اس پر تلوار سے وار کرتا ہوں یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور اب ان کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں رہی اس کے بعد مرحب نے محمد بن مسلمہ پر تلوار سے حملہ کیا اور اس کا وار کیا انہوں نے اسے ڈھال پر روکا تلوار اس پر پڑی اور اسے کاٹتی ہوئی نکل گئی لیکن محمد بن مسلمہ بچ گئے پھر محمد بن مسلمہ نے اپنی تلوار سے اس پر حملہ کیا تو اسے قتل کرکے ہی دم لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14603

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ قَالَ سُرَيْجٌ الْأَهْلِيَّةُ يَوْمَ خَيْبَرَ وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں پالتو گدھوں سے منع فرمایا تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14604

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تَقْسِمُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أَعْمَرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ تَقْسِمُوهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو یا مرجائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14605

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعْبَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب سورج غروب ہوجائے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک اپنے جانوروں اور اپنے بچوں کو گھروں سے نکلنے نہ دو کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک شیاطین اترتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14606

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ الْمَكْتُوبَةُ وَغَيْرُ الْمَكْتُوبَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھی کسی نے ابوالزبیر سے پوچھا کہ اس سے مراد فرض نماز ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ فرض اور غیر فرض سب کو شامل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14607

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَتَزَوَّدْنَا حَتَّى بَلَغْنَا بِهَا الْمَدِينَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ان کے ساتھ کھایا اور اسے زادہ راہ کے طور پر بھی لے آئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14608

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَايِسَتُنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا قَالَ فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ قَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتاہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو اس سے عزل کرلیا کروں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ توہو کرہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہوگئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14609

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ حَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے کارزق عطاء فرمائے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14610

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء نقیر اور مزفت کے تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14611

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ قَالَ ثُمَّ وَرِمَتْ قَالَ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیر سے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14612

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غُلُقًا وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کرلیا کرو اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغ بجھادیا کرو اور مشکیزوں کامنہ باندھ دیا کرو کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14613

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ وَلَا مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ يَمْرَضُ مَرَضًا إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مؤمن مرد عورت اور جو مسلمان مرد عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14614

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ أَنَّ مَوْلًى لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ يَجْتَنُونَ أَرَاكًا فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ جَنْيَ أَرَاكٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ مُتَوَضِّئًا أَكَلْتُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو وہ پیلو چن رہے تھے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چنے ہوئے پیلو پیش کئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں وضو سے ہوتا تو تب بھی کھالیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14615

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ ذَلِكَ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14616

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقَطَعَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سے چوری سرزد ہو گئی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے حضرت اسامہ بن زید کے ذریعے سفارش کروا کر بچنا چاہا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوادیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14617

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرَاجِعْهَا فَإِنَّهَا امْرَأَتُهُ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کا حکم دریافت کیا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلا ق دیدے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی ایک مرتبہ ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے رجوع کرلینا چاہیے کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14618

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً وَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ نَحْنُ نَحْكُمُ عَلَيْكُمْ الْيَوْمَ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو ایک یہودی مرد کو ایک عورت کو رجم فرمایا تھا اور یہودی سے فرمایا تھا کہ آج ہم تم پر فیصلہ کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14619

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14620

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کی ممانعت فرمائی ہے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھانا کھاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14621

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ تَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَتَخِرُّ مَرَّةً وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ لَا تَزَالُ مُسْتَقِيمَةً حَتَّى تَخِرَّ وَلَا تَشْعُرُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ گر جاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ نہیں چلتا) ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14622

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا كَمْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ مَرَّةً وَاحِدَةً

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی مرتبہ سعی کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14623

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكُتُبِ فَقَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ فَقَالَ أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انہیں کسی کتابی سے ہاتھ لگی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھنا شروع کردیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم اس میں گھسنا چاہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے پاس ایک ایسی شریعت لے کر آیا ہوں جو روشن اور صاف ستھری ہے تم ان اہل کتاب سے کس چیز کے متعلق سوال نہ کیا کرو اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں صحیح بات بتائیں اور تم اس کی تکذیب کرو اور غلط بتائیں تو تم اس کی تصدیق کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر موسی بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14624

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14625

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا لَحْمَ الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کرو یا اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14626

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنْ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَأَكَلَهُمَا قَوْمٌ ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ أَجْهَدَنَا الْجُوعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَحْضُرْ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے کھالیا پھر وہ مسجد میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو بدبو دار درختوں سے کھانے سے منع نہیں کیا تھا لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ۔ لیکن ہم بھوک سے مغلوب ہو گئے تھے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کواذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14627

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ فَقُلْنَا لَهُ تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ قَالَ لِيَدْخُلَ عَلَيَّ مِثْلُكَ فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے قریب پڑی ہوئی تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لیے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14628

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کی صفوں میں سے سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین صف آخری صف ہوتی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے پھر فرمایا اے گروہ خواتین جب مرد سجدے میں جائیں تو اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہنبدوں کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14629

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ فَقَالَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَاجْعَلْهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ ثُمَّ أُتِينَا بِطَعَامٍ فَأَكَلْنَا فَقُمْنَا إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَحَدٌ مِنَّا ثُمَّ أُتِينَا بِبَقِيَّةِ الطَّعَامِ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْعَصْرِ وَمَا مَسَّ أَحَدٌ مِنَّا مَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں دعوت کھانے میں شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا ا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والاعلی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے پھر کھانالایا گیا جو ہم نے کھا لیا پھر ہم نماز ظہر کے لیے اٹھے اور ہم میں سے کسی نے بھی وضو نہیں کیا نماز کے بعد باقی ماندہ کھانا لایا گیا پھر نماز عصر کے لیے اٹھے تو ہم میں سے کسی نے پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14630

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کاتلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اسی دوران حضرت سراقہ بن مالک بھی آگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ کیاعمرہ کاصرف حکم اس سال کے لئے ہے یاہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14631

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ نَهَيْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت اور یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کردوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14632

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ أَوْ قَالَ عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ حَيَّاتٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ عَرْشُ إِبْلِيسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا کہ میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے اردگرد سانپ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ابلیس کاتخت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14633

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے آپ کوسلام کیا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور جانب قبلہ رخ نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14634

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتْ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ الْبَيْتَ وَأَكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کرو اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغ بجھادیا کرو اور مشکیزوں کامنہ باندھ دیا کرو کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14635

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُواٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا تھا بعد میں فرمایا کہ اب اسے کھاؤ زاد راہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14636

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود پر آگئے اس طرح تین چکروں میں رمل کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14637

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدحرام سے نکل کر صفاکی طرف جانے لگے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم وہیں سے ابتداء کریں گے جہاں سے اللہ نے ابتداء کی ہے (پہلے ذکر کیاہے)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14638

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا وَيَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی صفامروہ پہاڑی پر کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور پھریہ کلمات پڑھتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے ایک دوسری سند میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد دعا فرماتے اور مروہ پر بھی یہی دہراتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14639

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنْ الصَّفَا مَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق تفصیلات میں یہ بھی مذکور ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے اترے اور وادی کے بیچ میں جب آپ کے مبارک قدم اترے تو آپ نے سعی فرمائی یہاں تک کہ جب دوسرے حصے پر ہم لوگ چڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم معمول کی رفتار سے چلنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14640

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ وَبَعْضُهُ نَحَرَهُ غَيْرُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے لئے جن اونٹوں کو لے کر گئے تھے ان میں کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے تھے اور کچھ کسی اور نے ذبح کیے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14641

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا فَقَالَ لَهُ مَا يُقَدَّرْ يَكُنْ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ حَمَلَتْ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا حَمَلَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَضَى اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو اس سے عزل کر لیا کروں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کرہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہوگئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14642

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيُومِئُ إِيمَاءً عَلَى رَاحِلَتِهِ السُّجُودُ أَخْفَضُ مِنْ الرُّكُوعِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ مَا فَعَلْتَ فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا، میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر مشرق کی جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا، دو مرتبہ اس طرح ہوا، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا میں نے جس کام کے لیے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14643

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو، اور جو شخص زندگی بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14644

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ يَعْنِي أَنَّ يُنْبَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14645

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تواعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14646

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لِيَرْقُدْ وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے اور جسے آخری رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے کیونکہ رات کے آخر حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14647

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ السُّلَيْكِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو اسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14648

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ لَمْ نَقْرَبْ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرلی دس ذالحجہ کو پھر ہم صفامروہ کے قریب بھی نہیں گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14649

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَطْلُبُ أَرْضًا مُخَابَرَةً فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا إِنَّ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ وَهُوَ يَطْلُبُ أَرْضًا يُخَابِرُ بِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے کرائے سے منع کیا ہے کسی شخص نے یہ بات حضرت ابن عمر سے ذکر کی تو اس مجلس میں موجود ایک آدمی کہنے لگا کہ میں نے تو خود حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو بٹائی پر زمین لیتے ہوئے دیکھا ہے حضرت ابن عمر نے فرمایا اسے دیکھو اس کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے یہ اس نوعیت کا معاملہ کرتا پھرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14650

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوْ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith (internal ref #2161055)

و سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ فَقُلْنَا لِجَابِرٍ أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اور عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14651

و سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ فَقُلْنَا لِجَابِرٍ أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لو گ گناہوں کو شرک سمجھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14652

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ثِقَةٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لِلْمُحْرِمِ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم کے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ وہ خود شکار نہ کرے یا اسے اس کی خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14653

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بَشِيرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ إِدَامٍ فَقَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ فَقَالَ هَلُمُّوا فَجَعَلَ يَصْطَبِغُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس توسرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14654

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي إِلَى حُجْرَتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا میرے منبر اور حجرے کے درمیان کی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازے پر لگایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14655

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَيَقْسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ مشکیزے کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14656

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي قُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا بِلَالٌ قَالَ وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالَتْ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کاہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کاہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14657

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ بْنَ خَصَفَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفُوا فَكَانُوا بِمَكَانِ أُولَئِكَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَانْصَرَفَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مربتہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اسوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا صحابہ نے اسے ڈرایا دھمکایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تواس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی آپ نے فرمایا اب تجھے کون بچائے گا اس نے کہا آپ بہتر لینے والے ہیں اورکہا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ لوگوں سے قتال نہیں کروں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گا جوآپ سے قتال کریں گے یہ سن کر حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14658

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْإِدَامَ قَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا الْخَلُّ قَالَ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس توسرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14659

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ قَالَ فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَحْقِرَهُ قَوْمُهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آتِيهِمْ فَأُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ قَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی اور عرفات کے میدانوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش فرماتے اور ان سے فرماتے کہ کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے اس بات سے روک رکھاہے کہ میں اپنے رب کا کلام اور پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں اس دوران ہمدان کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا کہ تمہاراتعلق کس قبیلے سے ہے اس نے کہا ہمدان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی قوم میں کوئی اہمیت ومرتبہ حاصل ہے اس نے کہا جی ہاں پھر اس کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں اس کی قوم اسے ذلیل ہی نہ کردے اس لیے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا پہلے میں اپنی قوم میں جا کر انہیں مطلع کرتا ہوں پھر آئندہ سال میں آپ کے پاس آؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اس پر وہ چلا گیا اور اگلے سال سے پہلے رجب ہی میں انصار کا وفد پہنچ گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14660

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ تَزَوَّجْتُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا فَقَالَ مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَقَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ حَدَّثَنَاهُمَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ يَعْنِي شَاذَانَ الْمَعْنَى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے شادی کر لی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس سے شادی کی ہے میں نے عرض کیا کہ شوہردیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم ایک دوسرے سے کھیلتے؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ہو اور وہ تم سے کھیلتی؟ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14661

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ دُورَنَا وَنَتَحَوَّلَ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الصَّلَاةِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فُلَانُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ دِيَارَكُمْ فَإِنَّهَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھربیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا بھی ثواب لکھاجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14662

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِجْلِ رَجُلٍ مِنَّا مِثْلَ الدِّرْهَمِ لَمْ يَغْسِلْهُ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاؤں پر ایک درہم کے برابر کی جگہ نہ ڈھل سکتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14663

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ مَوْلَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبربنادیا وہ آدمی خود مقروض تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو اس کے آقا کے قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14664

حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاصُّ وَهُو أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاهُمْ سُوءُ ظَنِّهِمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمْ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنْ الْخَاسِرِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو کیونکہ کچھ لوگوں نے اللہ کے ساتھ بدگمانی کا ارادہ کیا تو اللہ نے فرمایا کہ یہ تمہاراگٹھیا گمان ہے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہے سو تم نقصان اٹھانے والے ہو گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14665

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا حُمَمًا فِيهَا ثُمَّ تُدْرِكُهُمْ الرَّحْمَةُ فَيَخْرُجُونَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل توحید میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دیے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تورحمت الہی ان کی دستگیری کرے گی اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت کے دروازے پر ڈال دیا جائے گا اور ان پر اہل جنت پانی چھڑکے گے جس سے وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں جھاڑ جھنکار اگ آتے ہیں پھر وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14666

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بنادے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14667

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ قَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ واجب کرنے والی دوچیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14668

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ سَبُعٌ أَوْ دَابَّةٌ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کوئی پودالگائے یا کوئی فصل اگائے اور اس بات سے انسان پرندے درندے یا چوپائے کھائیں تو وہ اس کے لئے باعث صدقہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14669

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ لَيْلًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع کئے اپنے گھرمت جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14670

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ مزابنہ اور بٹائی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14671

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایاہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14672

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ وَلِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلَى قَابِلٍ فَأَبَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّي قَالَ فَآذَنْتُهُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَعَلْنَا نَجِدُّ وَيُكَالُ لَهُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى أَوْفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ثُمَّ أَتَيْنَاهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ثُمَّ قَالَ هَذَا مِنْ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر ایک یہودی کا کھجور کا کچھ قرض تھا وہ ترکے میں دو باغ چھوڑ گئے تھے ان دونوں کے سارے پھل کو یہودی کا قرض گھیرے ہوئے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا کیا یہ ممکن ہے کہ تم کچھ کھجور اس سال لے لو اور کچھ اگلے سال کے لیے موخر کردو اس نے انکار کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھجور کاٹنے کا وقت آئے تو مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ہمراہ تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان تشریف فرما ہوئے اور مجھ سے فرمایا لوگوں کو ناپ کردینا شروع کردو اور خود دعا کرنے لگے چنانچہ میں نے سب کو ناپ کر دینا شروع کردیا حتی کہ چھوٹے باغ ہی سے سب کا قرض پورا ہو گیا اس کے بعد میں نے کھانے کے لیے تر کھجوریں اور پینے کے لیے پانی پیش کیا انہوں نے اسے کھایا پیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14673

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ وَلَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى الْجَمْرَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ ہوتے وقت اپنی رفتار آہستہ رکھی اور لوگوں کو بھی اسی کا حکم دیا لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کردیا اور انہیں حکم دیا کہ شیطان کو کنکریاں ٹھیکری کی بنی ہوئی مارا کرو حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی کنکریاں ماری ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14674

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَجْلَحَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ أَهَدَيْتُمْ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهُمْ مَنْ يُغَنِّيهِمْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيَّاكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا تم نے باندی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کے ساتھ کسی گانے والے کو کیوں نہیں بھیجا جو یہ گاناسناتا کہ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے سو تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ انصار میں اس چیز کا رواج ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14675

حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُرِيقَ دَمُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْمُوجِبَتَانِ قَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کون سی نماز سب سے افضل ہے فرمایا لمبی نماز اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ سب سے افضل جہاد کون ساہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے اس نے پوچھا کہ کون سی ہجرت سب سے افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کون سا اسلام افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ۔ اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ دو واجب کرنے والی چیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14676

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے اگرخود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے کرایہ پر نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14677

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14678

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنْ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو آگ جلائے اور پروانے اور پتنگے اس میں ادھرادھر گرنے لگیں اور وہ انہیں اس سے دور رکھے میں بھی اسی طرح تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14679

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ نَزَلَ أَوَّلَ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قَالَ فَإِنِّي أُنْبِئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ نَزَلَتْ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ قَالَ جَابِرٌ لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا كَمَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ فِي حِرَاءٍ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَنُودِيتُ أَيْضًا فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَوْقِي فَإِذَا أَنَا بِهِ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا قَالَ فَنَزَلَتْ عَلَيَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ

یحیی بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہا ہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینے تک غار حرا کا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پو ری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں حضرت جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کوئی موٹاکمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14680

حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ يُبَاعَ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ إِلَّا الْعَرَايَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ مزابنہ بٹائی اور پھل پکنے سے پہلے بیچ سے منع فرمایا ہے جبکہ وہ دینار اور درہم کے بدلے میں نہ ہو اورالبتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کردے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14681

حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم غلہ خریدو تو کسی دوسرے کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14682

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَجَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي فَأَبَى فَجَاءَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَوَالِيَةٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي فَيَأْبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کرلی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلو م کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کردیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14683

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14684

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے وہ دعوت قبول کرلینی چاہیے۔ پھر اگر وہاں خواہش ہو تو کھانا کھا لے ورنہ چھوڑ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14685

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14686

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سَوَّارٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا بَعْدَ عَامِنَا هَذَا مُشْرِكٌ إِلَّا أَهْلُ الْعَهْدِ وَخَدَمُهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سال کے بعد کوئی مشرک ہماری مسجدوں میں داخل نہ ہو سوائے اہل کتاب اور ان کے خادموں کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14687

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي بَعِيرًا عَلَى أَنْ يُفْقِرَنِي ظَهْرَهُ سَفَرَهُ أَوْ سَفَرِي ذَلِكَ ثُمَّ أَعْطَانِي الْبَعِيرَ وَالثَّمَنَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میر اونٹ خرید لیا اور یہ شرط کرلی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ اور اس کی قیمت دونوں چیزیں مجھے دے دیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14688

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَقِيلَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ أَقَلَّ مِنْ الْأَنْصَارِ ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَقَالَ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں غالبا بنو مصطلق میں تھے کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ مہاجرین جب مدینہ منورہ آئے تھے تو ان کی تعداد انصار سے کم تھی لیکن بعد میں ان کی تعداد بڑھ گئی۔ عبداللہ بن ابی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ ایسا ہوگیا ہے بخدا ہم جب مدینہ منورہ پہنچیں گے جو زیادہ معزز ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا حضرت عمر نے یہ بات سن لی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑادوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر رہنے دو کہیں لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14689

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹ لینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14690

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان کی چیز کو خوفزدہ کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14691

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرْبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14692

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَكُفَّ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنْ الْحَصَى خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنْ الْحَصَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کنکریوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ برابر کرلے۔گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14693

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے غلام کو مدبر بنایا وہ آدمی خود مقروض تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو اس کے آقا کے قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا اور نعیم بن نحام نے اسے خرید لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14694

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ يَعْنِي الْأَحْزَابَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَقَامَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَدْعُو عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ قَالَ ثُمَّ جَاءَ وَدَعَا عَلَيْهِمْ وَصَلَّى

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد احزاب میں تشریف لائے اپنی چادر رکھی کھڑے ہوئے اور ہاتھوں کو پھیلا کر دعاکرنے لگے لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی پھر کچھ دیر بعد دوبارہ آئے تودعا بھی کی اور نماز جنازہ بھی پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14695

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْعُمْرَى أَنَّهَا لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14696

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ كُنَّا نَطُوفُ فَنَمْسَحُ الرُّكْنَ الْفَاتِحَةَ وَالْخَاتِمَةَ وَلَمْ نَكُنْ نَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے طواف کعبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم لوگ طواف کرتے ہوئے پہلے اور آخری رکن کو ہاتھ لگاتے تھے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک ہم طواف نہیں کرتے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14697

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمَدِينَةِ كَالْكِيرِ وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ وَهِيَ كَمَكَّةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهَا لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ مِنْهَا وَلَا يَقْرَبُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ وَالْمَلَائِكَةُ يَحْرُسُونَهَا عَلَى أَنْقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا قَالَ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَحْمِلُ فِيهَا سِلَاحًا لِقِتَالٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے حضرت ابراہیم نے مکہ مکرمہ کو حرام قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتاہوں لہذامدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی حصہ اور اس کی چراگاہیں مکمل طور پر حرم ہیں جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الایہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو کھلائے اور ان شاء اللہ طاعون اور دجال اس کے قریب بھی نہ آسکے گا اس کے تمام سوراخوں اور دروازوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہوں گے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ مدینہ منورہ میں کسی کے لئے قتال کی نیت سے اسلحہ اٹھاناجائز اور حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14698

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرُّقْيَةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي خَالِي أَحَدُ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَفْعَلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ کیا میں بچھو کے ڈنک کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرسکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو اسے ایساہی کرنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14699

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ دُعِيَ لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ لَدَغَتْهَا حَيَّةٌ لَيَرْقِيَهَا فَأَبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَزْجُرُ عَنْ الرُّقَى فَقَالَ اقْرَأْهَا عَلَيَّ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ فَارْقِ بِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت کوسانپ نے ڈس لیا لوگوں نے عمرو بن حزم کو بلایا تاکہ اسے جھاڑ دیں لیکن انہوں نے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو عمرو کو بلایا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ جھاڑ پھونک سے منع فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا منتر میرے سامنے پڑھو انہوں نے پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں تو کوئی حرج نہیں تم ان سے جھاڑ پھونک کر سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14700

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُدْخِلُ أَحَدَكُمْ الْجَنَّةَ عَمَلُهُ وَلَا يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ مِنْ النَّارِ قِيلَ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال جنت مہیں داخل اور جہنم سے بچاسکیں گے صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14701

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ فَلْيُمِطْ مَا أَرَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْصُدُ ابْنَ آدَمَ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عِنْدَ طَعَامِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تولیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14702

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ وَسَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا

حضر جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو راہ راست اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14703

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الْخَرْصِ وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ هَلَكَ التَّمْرُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ أَخِيهِ بِالْبَاطِلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کواندازے سے کھجوریں بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے آپ فرما رہے تھے یہ بتاؤ اگر کھجوریں ضائع ہو جائیں تو کیا کرو گے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے بھائی کا مال باطل طریقے سے کھاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14704

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کےساتھ وہ محبت کرتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14705

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14706

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْمُحَدَّثُ الْمُحَدِّثَ يَتَلَفَّتُ فَهِيَ أَمَانَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں بات بیان کرے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14707

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا فَقَالَ ابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دوبارہ حجر اسود پر آئے پھرزم زم کے کنویں پر گئے اس کا پانی پیا اور سر مبارک پر ڈالا پھر واپس آکر حجر اسود کا استلام کیا پھر صفامروہ کی طرف چل پڑے اور فرمانے لگے کہ یہیں سے ابتداء کرو جہاں سے اللہ نے ابتداء کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14708

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ الْحِلُّ كُلُّهُ فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي قَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ قَالَ فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِك لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کے ارادہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے حضرت عائشہ نے عمرے کا احرام باندھا مقام سرف میں پہنچ کر انہیں ایام آگئے ہم نے تو مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور ہم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حلال ہونے کا حکم دیا ہم نے حلال ہونے کی نوعیت پوچھی تو فرمایا کہ مکمل حلال ہو جاؤ چنانچہ ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی جبکہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں پھر ہم نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام حج باندھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رورہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول چکے ہیں لیکن میں اب تک نہیں کھول پائی لوگوں نے طواف کرلیا لیکن میں اب تک نہیں کرسکی اور حج کے ایام سر پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ توایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں میں لکھ دی ہے اس لیے تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج کرلو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرلو اس طرح تم اپنے حج اور عمرے کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجاؤ گی وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن سے کہا انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ یہی حصبہ کی رات تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14709

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ مَرَّةً تَسْتَقِيمُ وَمَرَّةً تَمِيلُ وَتَعْتَدِلُ وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ مُسْتَقِيمَةً لَا يَشْعُرُ بِهَا حَتَّى تَخِرَّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ گر جاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14710

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ بَاعَ ثَمَرَ أَرْضٍ لَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فِي نَاسٍ فَقَالَ فِي الْمَسْجِدِ مَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الثَّمَرَةَ حَتَّى تَطِيبَ

عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدللہ بن زبیر نے تین سال کے ٹھیکے پر ایک زمین کا پھل فروخت کردیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے کانوں تک جب یہ بات پہنچی تو وہ مسجد کی طرف نکلے اور مسجد میں لوگوں سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پھل پکنے سے قبل بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14711

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ قَدْ سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِرَبِيبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقَطَعَهَا قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَكَانَ رَبِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَمَةَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ وَعُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ فَعَاذَتْ بِأَحَدِهِمَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سے چوری سرزد ہوگئی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب کے ذریعے سفارش کروا کر بچاؤ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا ابن ابی زناد کہتے ہیں کہ ربیب سے مراد سلمہ بن ابوسلمہ یا عمر بن ابوسلمہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14712

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُبَاشِرَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَالْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَقَالَ إِذَا أَعْجَبَتْ أَحَدَكُمْ الْمَرْأَةُ فَلْيَقَعْ عَلَى أَهْلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کپڑے میں کوئی مرد دوسرے مرد کےساتھ اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس آئے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آجائے کیونکہ اس طرح اس کے دل میں جو خیالات ہوں گے وہ دور ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14713

و قَالَ جَابِرٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الطُّرُوقِ إِذَا جِئْنَا مِنْ السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت بلا اطلاع کے اپنے گھر واپس آنے سے (مسافر کے لئے ) ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14714

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُثِيَتْ رِجْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا أَوْ وَجَدْنَاهُ فِي حُجْرَتِهِ جَالِسًا بَيْنَ يَدَيْ غُرْفَةٍ فَصَلَّى جَالِسًا وَقُمْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ إِذَا صَلَّيْتُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَإِذَا صَلَّيْتُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَلَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ فَارِسُ لِجَبَابِرَتِهَا أَوْ لِمُلُوكِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ہم بھی اس میں شریک ہو گئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا اگر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھوں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر میں بیٹھ کر نماز پڑھوں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور اس طرح کھڑے نہ رہا کرو جیسے اہل فارس اپنے روسا اور بڑوں کےساتھ کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14715

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین سالوں کے لئے پھلوں کی پیشگی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14716

حَدَّثَنَا مُوسَى وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14717

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ أَيْضًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14718

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه أَبُو النَّضْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14719

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ وَلَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کرلیا کرو اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغ بجھادیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹا سکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے ۔ اور جب سورج غروب ہوجائے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دیا کرو کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک شیاطین اترتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14720

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي جَابِرٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي تَرَكَ دَيْنًا لِيَهُودَ فَقَالَ سَآتِيكَ يَوْمَ السَّبْتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَذَلِكَ فِي زَمَنِ التَّمْرِ مَعَ اسْتِجْدَادِ النَّخْلِ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ يَوْمِ السَّبْتِ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ فِي مَاءٍ لِي دَنَا إِلَى الرَّبِيعِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَنَوْتُ بِهِ إِلَى خَيْمَةٍ لِي فَبَسَطْتُ لَهُ بِجَادًا مِنْ شَعْرٍ وَطَرَحْتُ خُدَيَّةً مِنْ قَتَبٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا مِنْ لِيفٍ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَكَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى مَا عَمِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى صَاحِبَيْهِ فَدَخَلَا فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میرے والد صاحب یہودیوں کا کچھ قرض چھوڑ کر گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں انشاء اللہ ہفتہ کے دن تمہارے پاس آؤں گا یہ کھجوریں کٹنے کا زمانہ تھا ہفتہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لے آئے باغ میں پانی کھڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور نالی کے قریب کھڑے ہو کر وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے خیمے میں آیا اور بالوں کا بنا ہوا بستر بچھایا اور پیچھے بالوں کا بنا ہوا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ٹیک لگائی تھوڑی دیر بعد صدیق اکبر بھی تشریف لائے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جب ہی انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ حضرت عمر بھی آگئے اور انہوں نے بھی وضو کرکے دو رکعتیں پڑھیں گویا انہوں نے اپنے سے پہلے دونوں کو دیکھ لیا تھا پھر وہ دونوں بھی خیمے میں تشریف لائے اور حضرت صدیق اکبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جانب بیٹھ گئے اور حضرت عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی جانب بیٹھ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14721

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ وَعَتَّابٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ فَقُلْنَ اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَادْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد غزہ احد میں شہید ہوگئے میری بہنوں نے مجھے اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ جا کر والد صاحب کو اونٹ پر رکھو اور بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کر آؤ چنانچہ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو اس وقت آپ احد پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے انہیں بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا چنانچہ انہیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہی احد کے دامن میں دفن کردیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14722

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ جَابِرٍ قَالَ كَانَ الْعَبَّاسُ آخِذًا بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاثِقُنَا فَلَمَّا فَرَغْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ قَالَ فَسَأَلْتُ جَابِرًا يَوْمَئِذٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ قُلْتُ لَهُ أَفَرَأَيْتَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى بَايَعْنَاهُ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشَرَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرٍ وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنْ الْبُدْنِ لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیعت عقبہ کے متعلق کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ حضرت عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دیدیا میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس دن موت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس بات پر کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کریں گے میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بیعت رضوان کے موقع پر کیا ہوا تھا انہوں نے فرمایا میں نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنے تھے انہوں نے فرمایا چودہ سو افراد جد بن قیس کے علاوہ سب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی وہ ایک اونٹ کے نیچے چھپ گئے تھے اس دن ہم نے ستر اونٹ قربان کیے جن میں سے ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14723

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یاپاؤں کے نیچے تھوکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14724

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ فِي الْكَعْبَةِ صُوَرٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَمْحُوَهَا فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاهَا بِهِ فَدَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيهَا مِنْهَا شَيْءٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں حضرت عمر فاروق کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہو ئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14725

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غزوہ خیبر میں حدیبیہ میں شریک ہونے والے کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14726

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَذْكُرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ فَدَعَا بِهَا وَإِنِّي اسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکرم سرور دوعالم نے ارشاد فرمایا ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعاء تھی جوانہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی تھی جبکہ میں نے اپنی امت کے لئے اپنی دعاء شفاعت کی صورت میں قیامت کے دن کے لے اٹھا رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14727

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنْ النَّارِ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال ہے جس سے انسان جہنم سے اپنا بچاؤ کرتا ہے اور وہ روزہ خاص میرے لئے ہے لہذا اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14728

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمْ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ لَيْلًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جب تم کافی عرصے کے بعد رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14729

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي جَابِرٌ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ لِأَذْبَحَهَا فَثَغَتْ فَسَمِعَ ثَغَوْتهَا فَقَالَ يَا جَابِرُ لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ عَتُودَةٌ عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے میں نے اپنی بکری کو ذبح کرنے کے لیے اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ چلانے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں اس کی آواز پہنچی تو مجھ سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی یا نسل دینے والی بکری کو ذبح نہ کرنا میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بکری کا بچہ ہے جسے میں نے کچی پکی کھجوریں اتنی کھلائی ہیں کہ یہ صحت مند ہو گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14730

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ لِأَبِي شُعَيْبٍ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَلَمَّا رَأَى مَا بِرَسُولِ اللَّهِ مِنْ الْجَهْدِ أَمَرَ غُلَامَهُ أَنْ يَجْعَلَ لَهُ طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ ائْتِنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى بَابِهِ قَالَ إِنَّكَ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَكَ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَإِنَّ هَذَا قَدْ اتَّبَعَنَا فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ وَإِلَّا رَجَعَ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أَذِنْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَدَخَلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام قصائی تھا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کروں جو کہ پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو جائے چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے کیا تم اسے بھی اجازت دیتے ہو اس نے اجازت دیدی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی حضرت ابومسعود سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14731

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا الْخَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَقَرَّتْ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا رِزْقُهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى فَيُعْلَمُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَيُعْلَمُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب ماں کے رحم میں نطفہ قرار پکڑ لیتا ہے اور اس پر چالیس دن گذر جاتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو پوچھتا ہے کہ پروردگار اس کا رزق کیا ہوگا اسے بتادیا جاتا ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار اس کی عمر کتنی ہوگی اسے بتادی جاتی ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ مذکر ہوگا یا مونث اسے وہ بھی بتا دیا جاتا ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہوگا یاسعادت مند اسے وہ بھی بتا دیا جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14732

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایارمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14733

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14734

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَائِطِ فَدَعَوْنَاهُ إِلَى عَجْوَةٍ بَيْنَ أَيْدِينَا عَلَى تُرْسٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَلَمْ يَكُنْ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی سے قضا حاجت کر کے لوٹتے ہوئے ہمارے پاس سے گذرے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عجوہ کھجور کی دعوت دی جو ہمارے سامنے ایک ڈھال پر رکھی ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمالیا اور کھانے سے پہلے وضو نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14735

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْعَجَمِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ قَالَ فَاسْتَمَعَ فَقَالَ اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَأْتِي قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں ہم میں عجمی اور دیہاتی بھی تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو اور اس کے ذریعے اللہ کافضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آجائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے گی اور وہ جلد بازی کریں گے اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14736

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صَبِيحٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ أَكْلِ الْكُرَّاثِ وَالْبَصَلِ قَالَ الرَّبِيعُ فَسَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا ہے۔ربیع کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14737

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ وہ دوبارہ حجر اسود پر آگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14738

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ الدَّنَانِيرِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارا اونٹ چار دینار میں لے لیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہونے کی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14739

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَّ خَطًّا هَكَذَا أَمَامَهُ فَقَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَخَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَخَطَّيْنِ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ هَذِهِ سَبِيلُ الشَّيْطَانِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَسْوَدِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ کر فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر دو لکیریں اس کے دائیں بائیں کھینچ کر فرمایا کہ یہ شیطان کا راستہ ہے پھر درمیان والی لکیر پر ہاتھ رکھ کر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جانا ورنہ تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے یہی اللہ کی تمہیں وصیت ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14740

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر حاضر شوہر والی عورت کے پاس جانے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14741

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ شَرِيكًا فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی زمین یاباغ میں شریک ہو وہ اپنے شریک کے ساتھ پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے ورنہ چھوڑ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14742

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ سفر میں نکلے راستے میں بارش ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو یہیں نماز پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14743

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ فَبَدَا فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعْ الْقَتْلُ أَوْ الْقَتِيلُ فَوَارَيْتُهُ قَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ وَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّه أَنْ يُنَظِّرَنِي طَائِفَةً مِنْ تَمْرِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ فَقَالَ نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ وَدَخَلَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي الْيَوْمَ وَسَطَ النَّهَارِ فَلَا أَرَيْتُكِ وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي بِشَيْءٍ وَلَا تُكَلِّمِيهِ فَدَخَلَ فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ قَالَ وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِيَ اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَكَ فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهَا وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى تَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ يَا جَابِرُ ائْتِنِي بِطَهُورٍ فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا لِلَّحْمِ ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ قَالَ ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّيْهِ اللَّذَيْنِ مَعَهُ فَدَخَلُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ لَحْمٌ مِنْهَا كَثِيرٌ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلِمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرُبُهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ وَكَانَ يَقُولُ خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ وَأَخْرَجَتْ امْرَأَتِي صَدْرَهَا وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَقِيفٍ فِي الْبَيْتِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي فُلَانًا لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ وَاعْتَلَّ وَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى فَقَالَ أَيْنَ جَابِرٌ فَقَالَ أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كِلْ لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ فَكِلْتُ لَهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ كَأَنِّي شَرَارَةٌ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ فَوَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجَاءَ يُهَرْوِلُ فَقَالَ سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَكَرَّرَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ وَكَانَ لَا يُرَاجِعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَ يَا جَابِرُ مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ قَالَ قُلْتُ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَكُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ثُمَّ يَخْرُجُ وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے قتال کے لیے مدینہ منورہ سے نکلے مجھ سے میرے والد صاحب عبداللہ نے کہہ دیا تھا کہ جابر رضی اللہ عنہ تم اس وقت تک نہ نکلنا جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا بخدا اگر میں نے اپنے پیچھے بیٹیاں نہ چھوڑی ہوتیں تو میری خواہش ہوتی کہ تمہیں میرے سامنے شہادت نصیب ہو چنانچہ میں اپنے باغ میں ہی رہا کہ اچانک میری پھوپھی میرے والد اور میرے ماموں کو اونٹ پر لاد کرلے آئیں وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کردیں اچانک ایک آدمی منادی کرتا ہوا آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے مقتولین کو واپس لے جا کر اس جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید ہوئے تھے چنانچہ ہم ان دونوں کو لے کر واپس لوٹے اور مقام شہادت میں انہیں دفن کر دیا۔حضرت امیر معاویہ کے دور خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے جابر رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ کے گورنروں نے آپ کے والد کی قبر کھودی ہے اور وہ اپنی قبر میں نظر آرہے ہیں میں وہاں پہنچا تو اسی حال میں پایا جس حال میں میں نے انہیں دفن کیا تھا ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی سوائے اس معمولی چیز کے جو قتل کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہے پھر میں نے ان کی مکمل تدفین کی۔ میرے والد صاحب نے اپنے اوپر کھجوروں کا کچھ قرض بھی چھوڑا تھا قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی سے کرنا شروع کردیا مجبو رہو کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد صاحب فلاں موقع پر شہید ہو گئے اور مجھ پر کھجور کا قرض چھوڑ گئے قرض خواہوں نے اس کاتقاضا مجھ سے سختی کے ساتھ کرنا شروع کردیا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کچھ تعاون کریں کہ وہ مجھے ایک سال کی مہلت دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں تمہارے پاس نصف النہار کے وقت ان شاء اللہ آؤں گا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ آگئے اور اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے میں نے اپنی بیوی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نصف النہار کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے لیکن تم مجھے نظر نہ آنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچانا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کرنا بہرحال اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر بچھا دیا اور تکیہ رکھا جس پر سر رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ میں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ جلدی سے یہ بکری ذبح کرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے اس سے فارغ ہو جاؤ میں بھی تمہارا ساتھ دیتا ہوں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے ہی ہم اس سے فارغ ہوگئے میں نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوں تو وضو کے لیے پانی منگوائیں گے جب وہ وضو سے فارغ ہوں توفورا ہی ا ن کے سامنے کھانا پیش کردیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نیند سے بیدار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ابھی وضو فرما کر فارغ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ کھانا سامنے رکھ دیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا شاید تمہیں بھی گوشت کی طرف ہماری رغبت کا اندازہ ہوگیا ہے ابوبکر کو بلاؤ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والے دیگر صحابہ کو بھی بلا لیا وہ آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور فرمایا بسم اللہ کھاؤ ان سب نے خوب سیراب ہو کر کھایا پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا بخدا بنوسلمہ کے لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے یہ منظر ان کے لیے بڑا محبوب تھا لیکن وہ صرف اس بناء پر قریب نہ آتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کھڑے ہوگئے صحابہ آگے آگے چل رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری پشت کو فرشتوں ک لیے چھوڑ دو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو میری بیوی نے ایک ستون کی آڑ سے کہا یا رسول اللہ میرے لیے اور میرے شوہر کے لیے دعا کردیجیے اللہ آپ پر درود بھیجے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم اور تمہارے شوہر پر اپنی رحمتیں نازل کرے پھر میرے قرض خواہ کا نام لے کر فرمایا اسے بلا کر لاؤ یہ وہی شخص تھا جو بڑی سختی سے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا وہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ پر اگلے سال تک کے لیے تھوڑی دیر آسانی کردو اس نے کہا میں تو ایسا نہیں کروں گا وہ مزید بدک گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یتمیوں کا مال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کہاں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں یہاں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپ کر دینا شروع کردو اللہ پورا کردے گا میں نے آسمان کی طرف نگاہ ڈالی توسورج ڈھل چکا تھا میں نے عرض کیا اے ابوبکر نماز کا وقت ہو گیا ہے چنانچہ وہ لوگ مسجد میں چلے گئے اور میں نے قرض خواہ سے کہا کہ اپنا برتن لاؤ اور میں نے اس کو ناپ کر عجوہ کھجور دیدی اللہ نے اسے پورا کر دیا اور اتنی مقدار بچ گئی میں ڈورتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دیکھیے تو سہی کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجور ناپ کردی تو اللہ نے اسے پورا کردیا اور اتنی مقدار بچ بھی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بن خطاب کہاں ہیں وہ دوڑتے ہوئے آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے قرض خواہ اور کھجوروں کے متعلق پوچھو انہوں نے عرض کیا میں نہیں پوچھوں گا اس لیے کہ جب آپ نے یہ فرما دیا کہ اللہ پورا کر دے گا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا تین مرتبہ اسی طرح تکرار ہوا تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنامناسب نہیں سمجھا اور پوچھ لیا کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے قرض خواہ اور کھجور کا کیا معاملہ بنا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کر دیا بلکہ اتنی کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں نے گھر آکر اپنی بیوی سے کہا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا اس نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ا ن سے اپنے لیے اور اپنے شوہر کے لیے دعاکی درخواست بھی نہ کروں گی؟۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14744

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ أَنْ يَصُومَ فِي السَّفَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے (پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14745

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَسَأَلْتُ سَعِيدًا مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ قَالَ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زائد زمین ہو یا پانی ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14746

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُمَرَاءٌ سَيَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَمْ يَرِدُوا عَلَيَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِحَدِيثِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَأُولَئِكَ يَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَغَادٍ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ وَغَادٍ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ وَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت کعب بن عجرہ سے فرمایا کہ اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئے گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں نہ کریں تو وہی لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ۔ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹادیتا ہے نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایساوجود داخل نہیں ہوسکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی اور جہنم اس کی زیادہ حقدار ہو گی اے کعب بن عجرہ لوگ دوحصوں میں تقسیم ہوں گے کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر اسے آزاد کردیں گے اور کچھ اسے خرید کرہلاک کردیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14747

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھرمت جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14748

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ سَنَةَ مِائَةٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبر کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14749

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ فَقُبِرَ لَيْلًا فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بنو عذرہ کا ایک آدمی فوت ہو گیا لوگوں نے اسے راتوں رات ہی قبر میں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم ہونے پر رات کو قبر میں کسی بھی شخص کو اتارنے سے منع فرمادیا تا آنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے الایہ کہ مجبوری ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14750

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي أَتَيْتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي فَلَفَظْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَعَجَمْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَعَجَمْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا قَالَ قَالَ اعْبُرْهَا قَالَ هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ يَسْلَمُ وَيَغْنَمُ فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ قَالَ كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکری لائی گئی میں نے اسے منہ میں رکھ کر چباڈالی تو مجھے اس میں گھٹلی محسوس ہوئی جس سے مجھے اذیت ہوئی اور میں نے اسے پھینک دیا میں نے پھر کھجور کو اٹھا کر منہ میں رکھا اس مرتبہ بھی ایساہی ہوا تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا کہ اس کی تعبیر مجھے بتانے کی اجازت دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کی تعبیر بیان کرو انہوں نے عرض کیا کہ اس سے مراد آپ کا لشکر وہ ہے جو آپ نے ہمیں بھیجا ہوا ہے وہ صحیح سالم مال غنیمت لے کر آئے گا انہیں ایک آدمی ملے گا جو انہیں آپ کی داڑھی کا واسطہ دےگا اور وہ اسے چھوڑ دیں گے تین مرتبہ اسی طرح ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے بھی یہی تعبیر دی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14751

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو جب حدبندی ہوجائے اور راستے الگ ہوجائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14752

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَإِنَّمَا هِيَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَنْ أَعْطَاهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہو گی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس سے جداہو گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14753

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ بَعْدَمَا زَالَتْ الشَّمْسُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذالحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14754

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ سَعِيدٍ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ قَالُوا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّجَاشِيُّ أَصْحَمَةُ قَالَ فَقُلْتُ فَصَفَفْتُمْ عَلَيْهِ قَالَ نَعَمْ كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّالِثِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ اپنے اس بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو دوسرے شہر میں انتقال کر گیا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نجاشی اصحمہ میں نے پوچھا کہ پھر فرمایا کہ آپ نے صفیں باندھیں تو انہوں نے فرمایا ہاں اور میں تیسری صف میں تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14755

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ مَا مِنْ غَدَاءٍ أَوْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ قَالَ فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ قَالَ مَا مِنْ أُدْمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ أَدْنِيهِ فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدْمُ هُوَ قَالَ جَابِرٌ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ طَلْحَةُ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے چلتے کسی حجرے پر پہنچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کچھ روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن ہے انہوں نے عرض کیا البتہ تھوڑا ساسرکہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی لے آؤ سرکہ تو بہترین سالن ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت سے سرکہ کو پسند کرتا ہوں جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14756

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ زَكَاةً وَرَحْمَةً

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکرم نے ارشاد فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اے اللہ میرے منہ سے جس مسلمان کے سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجرثواب بنادے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14757

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد میں پتھر استعمال کرنے چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14758

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ وَلَا مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ يُصِيبُهُ مَرَضٌ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے جو مؤمن مرد اور عورت اور جو مسلمان مرد اور عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14759

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قِرَاءَةً عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقُدَّ قَمِيصُهُ مِنْ جَيْبِهِ حَتَّى أَخْرَجَهُ مِنْ رِجْلَيْهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَمَرْتُ بِبُدْنِي الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا أَنْ تُقَلَّدَ الْيَوْمَ وَتُشْعَرَ الْيَوْمَ عَلَى مَاءِ كَذَا وَكَذَا فَلَبِسْتُ قَمِيصًا وَنَسِيتُ فَلَمْ أَكُنْ أُخْرِجُ قَمِيصِي مِنْ رَأْسِي وَكَانَ قَدْ بَعَثَ بِبُدْنِهِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے اپنی قمیص چاک کردی اور اسے اتار دیا کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ میں نے لوگوں سے یہ وعدہ لے کر رکھا تھا کہ وہ آج ہدی کے جانورکے گلے میں قلادہ باندھیں گے میں وہ بھول گیا تھا اسی لیے قمیص نہیں اتار سکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو بھیج دیا اور خود مدینہ منورہ میں ہی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14760

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ وَسَمَّاهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ آخِرُ مُسْنَدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص پیاز یا لہسن کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے اپنے گھر میں بیٹھے۔

-

Permalink