TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 13675 · A B C

Musnad AhmadHadith 13675

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَتْ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَهُ الصَّلَاةَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذٌ الْبَقَرَةَ أَوْ النِّسَاءَ مُحَارِبٌ الَّذِي يَشُكُّ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ ذَلِكَ صَلَّى ثُمَّ خَرَجَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ قَالَ حَجَّاجٌ يَنَالُ مِنْهُ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ وَقَالَ حَجَّاجٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ فَلَوْلَا قَرَأْتَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا فَصَلَّى وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفُ أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِي يَشُكُّ فِي الضَّعِيفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ک ایک مرتبہ ایک انصاری نماز کے لیے آیا اس کے ساتھ اس کے دو پانی والے اونٹ بھی تھے سورج غروب ہو چکا تھا اور حضرت معاذ بن جبل مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے وہ بھی نماز میں شریک ہوگیا ادھر حضرت معاذ نے سورت بقرہ یا سورت النساء شروع کی اس آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے پتہ چلا کہ حضرت معاذ نے اس کے متعلق کچھ کہا ہے اس نے یہ بات جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے ؟ کہ تمہارے پیچھے بوڑھے ضرورت مند اور کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت جابر انصاری کی مرویات۔