TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 14657 · A B C

Musnad AhmadHadith 14657

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ بْنَ خَصَفَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفُوا فَكَانُوا بِمَكَانِ أُولَئِكَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَانْصَرَفَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مربتہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اسوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا صحابہ نے اسے ڈرایا دھمکایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تواس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی آپ نے فرمایا اب تجھے کون بچائے گا اس نے کہا آپ بہتر لینے والے ہیں اورکہا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ لوگوں سے قتال نہیں کروں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گا جوآپ سے قتال کریں گے یہ سن کر حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت جابر انصاری کی مرویات۔