TrueHadith

مملکت حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری ہجرت کی جگہ خواب میں دیکھی ہے وہاں کھجوروں کے درخت (بکثرت) ہیں اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان ہے اس کے بعد جس نے ہجرت مدینہ کی طرف کی اور اکثر وہ لوگ بھی جو حبشہ ہجرت کر گئے تھے واپس آ گئے ۔ اس مضمون میں ابوموسیٰ اور اسماء بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔

Sahih BukhariHadith 3583

Narrated by 'Ubaidullah bin 'Adi bin Al-Khiyar

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالَا لَهُ مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تُکَلِّمَ خَالَکَ عُثْمَانَ فِي أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَکَانَ أَکْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ بِهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَانْتَصَبْتُ لِعُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْکَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ فَقَالَ أَيُّهَا الْمَرْئُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ فَانْصَرَفْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ جَلَسْتُ إِلَی الْمِسْوَرِ وَإِلَی ابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِعُثْمَانَ وَقَالَ لِي فَقَالَا قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي کَانَ عَلَيْکَ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا إِذْ جَائَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ فَقَالَا لِي قَدْ ابْتَلَاکَ اللَّهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا نَصِيحَتُکَ الَّتِي ذَکَرْتَ آنِفًا قَالَ فَتَشَهَّدْتُ ثُمَّ قُلْتُ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ وَکُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنْتَ بِهِ وَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ وَقَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَحَقٌّ عَلَيْکَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقَالَ لِي يَا ابْنَ أَخِي آدْرَکْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ لَا وَلَکِنْ قَدْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا خَلَصَ إِلَی الْعَذْرَائِ فِي سِتْرِهَا قَالَ فَتَشَهَّدَ عُثْمَانُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ وَکُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ کَمَا قُلْتَ وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَبَايَعْتُهُ وَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَکْرٍ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْکُمْ مِثْلُ الَّذِي کَانَ لَهُمْ عَلَيَّ قَالَ بَلَی قَالَ فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْکُمْ فَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ بِالْحَقِّ قَالَ فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ وَکَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ وَقَالَ يُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْکُمْ مِنْ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي کَانَ لَهُمْ

عبداللہ بن محمد جعفی ہشام معمر زہری عبیداللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث نے کہا کہ تم اپنے ماموں (حضرت عثمان بن عفان) سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ کے معاملہ میں گفتگو کیوں نہیں کرتے! اور اکثر لوگ اسی کی تائید میں تھے عبیداللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان نماز کے لئے نکلے تو میں ان کے سامنے آ کھڑا ہوا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے کچھ ضروری بات (کرنا) ہے جس میں آپ ہی کی بھلائی ہے آپ نے فرمایا کہ اے شخص میں اللہ کے ذریعہ تیرے شبہ سے مانگتا ہوں تو میں ہٹ گیا نماز سے فارغ ہو کر مسور اور ابن عبد یغوث کے پاس آ بیٹھا اور ان سے اپنی اور حضرت عثمان کی گفتگو نقل کردی انہوں نے مجھ سے کہا کہ تو نے اپنے حق کو پورا کردیا میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ میرے پاس حضرت عثمان کا قاصد آیا تو میں ان کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا وہ کون سی نصیحت تھی جس کا تم نے ابھی ذکر کیا تھا وہ کہتے ہیں پھر میں نے تشہد پڑھا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبوث فرمایا اور ان پر قرآن کا نازل فرمایا اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہی اور اس پر ایمان لائے اور آپ نے پہلی دو ہجرتیں اول حبشہ اور دوسری مدینہ کی جانب بھی کیں اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر آپ کی سیرت کو بھی دیکھا اور اب لوگ ولید بن عقبہ کے بارے میں بہت کچھ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں لہذا آپ پر ضروری ہے کہ اس پر حد جاری کریں تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے بھتیجے! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں لیکن آپ کے حالات اس طرح معلوم ہیں جس طرح کنواری لڑکی کو اس کے پردہ میں معلوم ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت عثمان نے تشہد پڑھ کر فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہی اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا اور میں نے تمہارے قول کے مطابق پہلی دو ہجرتیں بھی کیں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا اور آپ سے بیعت بھی کی بخدا نہ تو میں نے ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنایا تو بخدا میں نے ان کی بھی نافرمانی کی اور نہ دھوکہ دیا پھر حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو بخدا! میں نے ان کی بھی نہ نافرمانی کی ہے اور نہ دھوکا دیا ہے پھر مجھے خلیفہ بنایا گیا تو کیا تم پر میرا ایسا حق نہیں ہے جو پہلے خلفاء کا مجھ پر تھا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے فرمایا پھر یہ کیسی باتیں ہیں جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچ رہی ہوں اور تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں جو ذکر کیا ہے تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم اس کے بارے میں حق پر عمل کریں گے تو وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ولید کے چالیس کوڑے مارنے کا فیصلہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوڑے مانے کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کوڑے مارا کرتے تھے اور یونس زہری کے بھتیجے نے بواسطہ زہری أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْکُمْ مِنْ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي کَانَ لَهُمْ روایت کیا ہے۔

Narrated 'Ubaidullah bin 'Adi bin Al-Khiyar: That Al-Miswar bin Makhrama and 'Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth had said to him, "What prevents you from speaking to your uncle 'Uthman regarding his brother Al-Walid bin 'Uqba?" The people were speaking against the latter for what he had done. 'Ubaidullah said, "So I kept waiting for 'Uthman, and when he went out for the prayer, I said to him, 'I have got something to say to you as a piece of advice.' 'Uthman said, 'O man! I seek Refuge with Allah from you. So I went away. When I finished my prayer, I sat with Al-Miswar and Ibn 'Abu Yaghuth and talked to both of them of what I had said to 'Uthman and what he had said to me. They said, 'You have done your duty.' So while I was sitting with them. 'Uthman's Messenger came to me. They said, 'Allah has put you to trial." I set out and when I reached 'Uthman, he said, 'What is your advice which you mentioned a while ago?' I recited Tashahhud and added, 'Allah has sent Muhammad and has revealed the Holy Book (i.e. Quran) to him. You (O Uthman!) were amongst those who responded to the call of Allah and His Apostle and had faith in him. And you took part in the first two migrations (to Ethiopia and to Medina), and you enjoyed the company of Allah's Apostle and learned his traditions and advice. Now the people are talking much about Al-Walid bin 'Uqba and so it is your duty to impose on him the legal punishment.' 'Uthman then said to me, 'O my nephew! Did you ever meet Allah's Apostle ?' I said, 'No, but his knowledge has reached me as it has reached the virgin in her seclusion.' 'Uthman then recited Tashahhud and said, 'No doubt, Allah has sent Muhammad with the Truth and has revealed to him His Holy Book (i.e. Quran) and I was amongst those who responded to the call of Allah and His Apostle and I had faith in Muhammad's Mission, and I had performed the first two migrations as you have said, and I enjoyed the company of Allah's Apostle and gave the pledge of allegiance to him. By Allah, I never disobeyed him and never cheated him till Allah caused him to die. Then Allah made Abu Bakr Caliph, and by Allah, I was never disobedient to him, nor did I cheat him. Then 'Umar became Caliph, and by Allah, I was never disobedient to him, nor did I cheat him. Then I became Caliph. Have I not then the same rights over you as they had over me?' I replied in the affirmative. 'Uthman further said, 'The what are these talks which are reaching me from you? As for what you ha mentioned about Al-Walid bin 'Uqb; Allah willing, I shall give him the leg; punishment justly. Then Uthman ordered that Al-Walid be flogged fort lashes. He ordered 'Ali to flog him an he himself flogged him as well."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3584

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَکَرَتَا کَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَذَکَرَتَا للنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُولَئِکَ إِذَا کَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَی قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِيکَ الصُّوَرَ أُولَئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

محمد بن مثنیٰ یحیی ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس گرجا کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس میں تصویریں ہی تصویریں تھیں۔ پھر انہوں نے اس گرجہ کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تو آپ نے فرمایا ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر یہ لوگ مسجد بناتے اور اس میں یہ تصویر نقش کرتے تھے یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوقات میں سے ہیں۔

Narrated 'Aisha: Um Habiba and Um Salama mentioned a church they had seen in Ethiopia and in the church there were pictures. When they told the Prophet of this, he said, "Those people are such that if a pious man amongst them died, they build a place of worship over his grave and paint these pictures in it. Those people will be Allah's worst creatures on the Day of Resurrection . "

Permalink

Sahih BukhariHadith 3585

Narrated by Um Khalid bint Khalid

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ قَالَتْ قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ فَکَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ سَنَاهْ سَنَاهْ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ

حمیدی سفیان اسحاق بن سعید سعیدی ان کے والد ام خالد بنت خالد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ میں چھوٹی بچی تھی جب حبشہ سے آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک چادر اوڑھنے کے لئے دی جس میں درختوں وغیرہ کی تصویریں تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ہاتھ پھیر کر فرما رہے تھے کیسے اچھے ہیں کیسے اچھے ہیں؟ حمیدی کہتے ہیں سناہ بمعنی حسن (اچھے) ہے۔

Narrated Um Khalid bint Khalid: When I came from Ethiopia (to Medina), I was a young girl. Allah's Apostle made me wear a sheet having marks on it. Allah's Apostle was rubbing those marks with his hands saying, "Sanah! Sanah!" (i.e. good, good).

Permalink

Sahih BukhariHadith 3586

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْکَ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا قَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ کَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ قَالَ أَرُدُّ فِي نَفْسِي

یحیی بن حماد ابوعوانہ سلیمان ابراہیم علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو سلام کرتے آپ ہمیں (حالت نماز میں) جواب دیتے پھر جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو ہم نے آپ کو (حالت نماز میں) سلام کیا مگر آپ نے جواب نہیں دیا (بعد فروغ) ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ جواب دیا کرتے تھے مگر اب آپ نے جواب نہیں دیا تو آپ نے فرمایا کہ نماز میں (خدا کے ساتھ) مشغولی ہوتی ہے سلیمان کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے پوچھا آپ کا طریقہ کیا ہے؟ تو کہا میں اپنے دل میں جواب دے لیتا ہوں۔

Narrated 'Abdullah: We used to greet the Prophet while he used to be in prayers, and he used to reply to our greetings. But when we came back from Najashi (the King of Ethiopia) we greeted him (while he was praying) and he did not reply to us. We said, "O Allah's Apostle! We used to greet you in the past and you used to reply to us." He said, "Verily The Mind is occupied and busy with more important matter during the prayer." (So one cannot return One's greetings.)

Permalink

Sahih BukhariHadith 3587

Narrated by Abu Musa

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَکِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَی النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّی قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَکُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ

محمد بن علاء ابواسامہ برید بن عبداللہ ابوبردہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی خبر پہنچی تو ہم یمن میں تھے ہم ایک کشتی میں سوار ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر مشرف بہ اسلام ہوں مگر ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے پاس جا پھینکا تو وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب مل گئے ہم ان ہی کے ساتھ مقیم رہے حتیٰ کہ ہم (مدینہ) واپس آئے تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا اور آپ نے فرمایا تمہارے لئے اے کشتی والو! دو ہجرتیں با اعتبار ثواب کے ہیں۔

Narrated Abu Musa: We received the news of the departure of the Prophet (to Medina) while we were in Yemen. So we went on board a ship but our ship took us away to An-Najashi (the Negus) in Ethiopia. There we met Ja'far bin Abi Talib and stayed with him till we came (to Medina) by the time when the Prophet had conquered Khaibar. The Prophet said, "O you people of the ship! You will have (the reward of) two migrations."

Permalink