TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 3586 · Explanation of Prophets (A.S)

Sahih BukhariHadith 3586

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْکَ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا قَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ کَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ قَالَ أَرُدُّ فِي نَفْسِي

یحیی بن حماد ابوعوانہ سلیمان ابراہیم علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو سلام کرتے آپ ہمیں (حالت نماز میں) جواب دیتے پھر جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو ہم نے آپ کو (حالت نماز میں) سلام کیا مگر آپ نے جواب نہیں دیا (بعد فروغ) ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ جواب دیا کرتے تھے مگر اب آپ نے جواب نہیں دیا تو آپ نے فرمایا کہ نماز میں (خدا کے ساتھ) مشغولی ہوتی ہے سلیمان کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے پوچھا آپ کا طریقہ کیا ہے؟ تو کہا میں اپنے دل میں جواب دے لیتا ہوں۔

Narrated 'Abdullah: We used to greet the Prophet while he used to be in prayers, and he used to reply to our greetings. But when we came back from Najashi (the King of Ethiopia) we greeted him (while he was praying) and he did not reply to us. We said, "O Allah's Apostle! We used to greet you in the past and you used to reply to us." He said, "Verily The Mind is occupied and busy with more important matter during the prayer." (So one cannot return One's greetings.)

Permalink

See the full chapter: مملکت حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری ہجرت کی جگہ خواب میں دیکھی ہے وہاں کھجوروں کے درخت (بکثرت) ہیں اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان ہے اس کے بعد جس نے ہجرت مدینہ کی طرف کی اور اکثر وہ لوگ بھی جو حبشہ ہجرت کر گئے تھے واپس آ گئے ۔ اس مضمون میں ابوموسیٰ اور اسماء بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔