Sahih Bukhari — Hadith 3585
Narrated by Um Khalid bint Khalid
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ قَالَتْ قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ فَکَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ سَنَاهْ سَنَاهْ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ
حمیدی سفیان اسحاق بن سعید سعیدی ان کے والد ام خالد بنت خالد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ میں چھوٹی بچی تھی جب حبشہ سے آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک چادر اوڑھنے کے لئے دی جس میں درختوں وغیرہ کی تصویریں تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ہاتھ پھیر کر فرما رہے تھے کیسے اچھے ہیں کیسے اچھے ہیں؟ حمیدی کہتے ہیں سناہ بمعنی حسن (اچھے) ہے۔
Narrated Um Khalid bint Khalid: When I came from Ethiopia (to Medina), I was a young girl. Allah's Apostle made me wear a sheet having marks on it. Allah's Apostle was rubbing those marks with his hands saying, "Sanah! Sanah!" (i.e. good, good).