Narrated by Sulaiman Ash-Shaibam
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَکَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ
محمد بن مثنیٰ، غندر، شعبہ، سلیمان شیبانی، شعبی روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک منبوذ کی قبر پر گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو امامت کی، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف باندھی (اور اس کی نماز پڑھی سلیمان کہتے ہیں) میں نے کہا کہ اے ابوعمر تم سے یہ کس نے بیان کیا انہوں نے کہا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔
Narrated Sulaiman Ash-Shaibam: I heard Ash-Sha'bi saying, "A person who was accompanying the Prophet passed by a grave that was separated from the other graves told me that the Prophet once led the people in the (funeral) prayer and the people had aligned behind him. I said, "O Aba 'Amr! Who told you about it?" He said, "Ibn Abbas."
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ
علی بن عبداللہ ، سفیان، صفوان بن سلیم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل واجب ہے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, "Ghusl (taking a bath) on Friday is compulsory for every Muslim reaching the age of puberty."
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي کُرَيْبٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّی مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ فَأَتَاهُ الْمُنَادِي يَأْذَنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَی الصَّلَاةِ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ إِنَّ رُؤْيَا الْأَنْبِيَائِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرَی فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُکَ
علی، سفیان، عمرو، کریب، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک شب اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں رہا، میں نے دیکھا کہ جب کچھ رات رہ گئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سے وضو کیا (عمرو راوی) اس وضو کو بہت خفیف اور قلیل بتاتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، تو میں بھی اٹھا اور جیسا وضو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا ویسا میں نے کیا، پھر میں پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا، پھر جس قدر اللہ نے چاہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، اس کے بعد آرام فرمایا اور سوگئے، یہاں تک کہ سانس کی آواز آنے لگی، پھر موذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز (فجر) کی اطلاع دینے کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ نماز کیلئے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو نہیں کیا، سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو سے کہا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ سوتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل نہ سوتا تھا۔ عمرو نے کہا کہ میں عبید بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انبیاء کا خواب وحی ہے پھر انہوں نے پڑھا۔ (ترجمہ) بے شک میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔
Narrated Ibn 'Abbas: One night I slept at the house of my aunt Maimuna and the Prophet slept (too). He got up (for prayer) in the last hours of the night and performed a light ablution from a hanging leather skin. ('Amr, the sub-narrator described that the ablution was very light). Then he stood up for prayer and I got up too and performed the ablution in the same way and joined him on his left side. He pulled me to the right and prayed as much as Allah will. Then he lay down and slept and I heard his breath sounds till the Mu'adh-dhin came to him to inform him about the (Fajr) prayer. He left with him for the prayer and prayed without repeating the ablution. (Sufyan the subnarrator said: We said to 'Amr, "Some people say, 'The eyes of the Prophet sleep but his heart never sleeps.' " 'Amr said, "'Ubai bin 'Umar said, 'The dreams of the Prophets are Divine Inspirations. Then he recited, '(O my son), I have seen in dream that I was slaughtering you (offering you in sacrifice).") (37.102)
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْکَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَکَلَ مِنْهُ فَقَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِکُمْ فَقُمْتُ إِلَی حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ فَنَضَحْتُهُ بِمَائٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْيَتِيمُ مَعِي وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّی بِنَا رَکْعَتَيْنِ
اسماعیل، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کیلئے جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے تیار کیا تھا بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور فرمایا کہ کھڑی ہو جا تاکہ میں تمہیں نماز پڑھادوں، تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف کھڑا ہوگیا جو کثرت استعمال سے سیاہ ہوگئی تھی، اور اس کو میں نے اپنی سے صاف کیا، پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک بچہ میرے ہمراہ تھا اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑے ہوئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی۔
Narrated Anas bin Malik: My grandmother Mulaika invited Allah's Apostle for a meal which she had prepared specially for him. He ate some of it and said, "Get up. I shall lead you in the prayer." I brought a mat that had become black owing to excessive use and I sprinkled water on it. Allah's Apostle stood on it and prayed two Rakat; and the orphan was with me (in the first row), and the old lady stood behind us.
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًی إِلَی غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ
عبداللہ بن مسلمہ، مالک ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر سامنے یا اور میں اس وقت قریب بلوغ تھا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام منیٰ میں بغیر دیوار کی آڑ کے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو میں بعض صف کے آگے سے گذرا اور اتر پڑا اور گدھی کو میں نے چھوڑ دیا، تاکہ وہ چرلے اور میں صف میں شامل ہوگیا پھر کسی نے مجھ پر اس کا انکار نہیں کیا۔
Narrated Ibn 'Abbas: Once I came riding a she-ass and I, then, had just attained the age of puberty. Allah's Apostle was leading the people in prayer at Mina facing no wall. I passed in front of the row and let loose the she-ass for grazing and joined the row and no one objected to my deed.
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَيَّاشٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِشَائِ حَتَّی نَادَاهُ عُمَرُ قَدْ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُکُمْ وَلَمْ يَکُنْ أَحَدٌ يَوْمَئِذٍ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
ابو الیمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاٰء کی نماز میں تاخیر کردی اور عیاش نے بواسطہ عبدالاعلیٰ، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی، یہاں تک کہ عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی، کہ عورتیں اور بچے سو رہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین والوں میں سے سوائے تمہارے کوئی نہیں ہے جو اس وقت نماز کو پڑھے اور اس وقت مدینہ والوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھتا تھا۔
Narrated 'Aisha: Once Allah's Apostle delayed the 'Isha' prayer till 'Umar informed him that the women and children had slept. Then Allah's Apostle came out and said: "None from amongst the dwellers of earth have prayed this prayer except you." In those days none but the people of Medina prayed.
Narrated by 'Abdur Rahman bin 'Abis
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَکَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَی الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَی حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ثُمَّ أَتَی هُوَ وَبِلَالٌ الْبَيْتَ
عمروبن علی، یحیی ، سفیان، عبدالرحمن بن عابس روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے کہا کہ کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ (عید گاہ) جانے کیلئے حاضر ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اگر میری قرابت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ ہوتی تو میں حاضر نہ ہوسکتا (یعنی کمسنی کے سبب سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھ اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں نصیحت کی، اور ان کو (خدا کے احکام کی) یاد دلائیں، اور انہیں حکم دیا کہ صدقیہ دیں، پس کوئی عورت اپنا ہاتھ اپنی انگوٹھی کی طرف بڑھانے لگی اور کوئی اپنی بالی کی طرف اور کوئی کسی زیور کی طرف اور (اس کو اتار کر) بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر میں ڈالنے لگیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر تک آئے۔
Narrated 'Abdur Rahman bin 'Abis: A person asked Ibn Abbas, "Have you ever presented yourself at the ('Id) prayer with Allah's Apostle?" He replied, "Yes." And had it not been for my kinship (position) with the Prophet it would not have been possible for me to do so (for he was too young). The Prophet went to the mark near the house of Kathir bin As-Salt and delivered a sermon. He then went towards the women. He advised and reminded them and asked them to give alms. So the woman would bring her hand near her neck and take off her necklace and put it in the garment of Bilal. Then the Prophet and Bilal came to the house."