Narrated by 'Abdullah bin Al-Harith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ لَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ قَالَ قُلْ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ فَکَأَنَّهُمْ أَنْکَرُوا فَقَالَ کَأَنَّکُمْ أَنْکَرْتُمْ هَذَا إِنَّ هَذَا فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا عَزْمَةٌ وَإِنِّي کَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَکُمْ وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کَرِهْتُ أَنْ أُؤَثِّمَکُمْ فَتَجِيئُونَ تَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَی رُکَبِکُمْ
عبداللہ بن عبدالوہاب، حماد بن زید، عبدالحمید صاحب الزدیای، عبداللہ بن حارث کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے کیچڑ ہوگئی تھی حضرت ابن عباس نے اس دن خطبہ فرمایا اور موذن سے کہہ دیا تھا کہ اذان کے بعد یہ کہہ دے کہ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑہو یہ سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے گویا کہ انہوں نے اس کو برا سمجھا تو ابن عباس کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اس کو برا سمجھا بے شک اس کے اس نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ یقینی امر ہے کہ اذان سے مسجد میں آنا واجب ہوجاتا ہے اور میں نے یہ اچھا نہ سمجھا کہ تمہیں تکلیف میں ڈالوں حضرت عاصم نے بھی حضرت ابن عباس سے اسی طرح نقل کیا ہے صرف اتنا فرق ہے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے اچھا نہ معلوم ہوا کہ گناہ گار کروں یا تم مٹی کو گھٹنوں تک روندتے آؤ۔
Narrated 'Abdullah bin Al-Harith: Ibn Abbas addressed us on a (rainy and) muddy day and when the Mu'adh-dhin said, "Come for the prayer" Ibn 'Abbas ordered him to say, "Pray in your homes." The people began to look at one another with surprise as if they did not like it. Ibn 'Abbas said, "It seems that you thought ill of it but no doubt it was done by one who was better than I (i.e. the Prophet). It (the prayer) is a strict order and I disliked bringing you out." Ibn 'Abbas narrated the same as above but he said, "I did not like you to make you sinful (in refraining from coming to the mosque) and to come (to the mosque) covered with mud up to the knees."
Narrated by Abu Sa'id Al-Khudri
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ جَائَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ حَتَّی سَالَ السَّقْفُ وَکَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَائِ وَالطِّينِ حَتَّی رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ
مسلم، ہشام، یحیی، ابوسلمہ، روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوسعید خدری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ابر آیا اور وہ برسنے لگا یہاں تک کہ چھت ٹپکنے لگی اور چھت اس وقت تک کھجور کی شاخوں سے (پٹی ہوئی) تھی پھر نماز کی اقامت ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے تھے یہاں تک کہ مٹی کا اثر میں نے آپ کی پیشانی میں دیکھا۔
Narrated Abu Sa'id Al-Khudri: A cloud came and it rained till the roof started leaking and in those days the roof used to be of the branches of date-palms. Iqama was pronounced and I saw Allah's Apostles prostrating in water and mud and even I saw the mark of mud on his forehead.
Narrated by Anas bin Sirin
حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَکَ وَکَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَی مَنْزِلِهِ فَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَکْعَتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَی قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ
آدم، شعبہ، انس بن سیرین، انس روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں معذور ہوں آپ کے ہمراہ نماز نہیں پڑھ سکتا اور وہ فربہ آدمی تھا اس کے بعد اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے مکان میں بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی اتنے میں آل جارود میں سے ایک شخص نے انس سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز چاشت پڑھا کرتے تھے انس نے کہا کہ میں نے سوائے اس دن کے کبھی آپ کو پڑھتے نہیں دیکھا۔
Narrated Anas bin Sirin: I heard Anas saying, "A man from Ansar said to the Prophet, 'I cannot pray with you (in congregation).' He was a very fat man and he prepared a meal for the Prophet and invited him to his house. He spread out a mat for the Prophet, and washed one of its sides with water, and the Prophet prayed two Rakat on it." A man from the family of Al-Jaruid asked, "Did the Prophet used to pray the Duha (forenoon) prayer?" Anas said, "I did not see him praying the Duha prayer except on that day."