TrueHadith

اس شخص کا بیان جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا احرام باندھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (امام بخاری اس بات کی احادیث سے یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مبہم طور پر احرام باندھے کہ فلاں شخص نے جیسا احرام باندھا ہے میں بھی ویسا ہی احرام باندھتا ہوں تو ایسا کرنا جائز ہے ۔ حنفیہ کے نزدیک بھی ایسا احرام باندھے تو احرام صحیح ہوجاتا ہے مگر افعال حج یا عمرہ شروع کرنے سے پہلے احرام کی تعین ضروری ہے ۔)

Sahih BukhariHadith 1455

Narrated by Ata

حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَی إِحْرَامِهِ وَذَکَرَ قَوْلَ سُرَاقَةَ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْدِ وَامْکُثْ حَرَامًا کَمَا أَنْتَ

مکی بن ابراہیم، ابن جریج، عطاء، جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور سراقہ کا قول بیان کیا اور محمد بن بکر بواسطہ جریج اتنا اور زیادہ بیان، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے علی رضی اللہ عنہ تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟ حضرت علی نے جواب دیا جس چیز کا احرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے آپ نے فرمایا تو قربانی دو، اور احرام میں ٹھہرے رہو، جیسا کہ تم اس وقت ہو۔

Narrated Ata: Jabir said, "The Prophet ordered Ali to keep on assuming his Ihram." The narrator then informed about the narration of Suraqa.

Permalink

Sahih BukhariHadith 1456

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ

حسن بن علی خلال ہذلی، عبدالصمد، سلیم بن حیان، مروان اصفز انس رضی اللہ عنہ بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے، تو آپ نے پوچھا کہ تم نے کس چیز سے احرام باندھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۔ آپ نے فرمایا اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام کھول دیتا۔

Narrated Anas bin Malik: Ali came to the Prophet (p.b.u.h) from Yemen (to Mecca). The Prophet asked Ali, "With what intention have you assumed Ihram?" Ali replied, "I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet." The Prophet said, "If I had not the Hadi with me I would have finished the Ihram." Muhammad bin Bakr narrated extra from Ibn Juraij, "The Prophet said to Ali, "With what intention have you assumed the Ihram, O Ali?" He replied, "With the same (intention) as that of the Prophet." The Prophet said, "Have a Hadi and keep your Ihram as it is." ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1457

Narrated by Abu Musa

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْمٍ بِالْيَمَنِ فَجِئْتُ وَهُوَ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ کَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ مَعَکَ مِنْ هَدْيٍ قُلْتُ لَا فَأَمَرَنِي فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَحْلَلْتُ فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي أَوْ غَسَلَتْ رَأْسِي فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ قَالَ اللَّهُ وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّی نَحَرَ الْهَدْيَ

محمد بن یوسف، سفیان، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، ابوموسی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے پاس مجھے یمن بھیجا، چنانچہ میں اس حال میں آیا کہ آپ بطحا میں تھے آپ نے فرمایا کہ تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟ میں نے کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کی طرح احرام باندھا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ھدی کا جانور ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں خانہ کعبہ کا طواف کروں، چنانچہ میں نے خانہ کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر مجھے احرام کھولنے کا حکم دیا، میں نے احرام کھول دیا، میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے بالوں میں کنگھی کی یا میرا سر دھویا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا وقت آیا، تو انہوں نے کہا، اگر ہم اللہ کی کتاب کو پکڑتے ہیں تو وہ ہمیں حج اور عمرہ کے پورا کرنے کا حکم دیتا ہے اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پکڑتے ہیں تو آپ نے احرام نہیں کھولا، یہاں تک کہ قربانی کی۔

Narrated Abu Musa: The Prophet sent me to some people in Yemen and when I returned, I found him at Al-Batha. He asked me, "With what intention have you assumed Ihram (i.e. for Hajj or for Umra or for both?") I replied, "I have assumed Ihram with an intention like that of the Prophet." He asked, "Have you a Hadi with you?" I replied in the negative. He ordered me to perform Tawaf round the Ka'ba and between Safa and Marwa and then to finish my Ihram. I did so and went to a woman from my tribe who combed my hair or washed my head. Then, when Umar came (i.e. became Caliph) he said, "If we follow Allah's Book, it orders us to complete Hajj and Umra; as Allah says: "Perform the Hajj and Umra for Allah." (2.196). And if we follow the tradition of the Prophet who did not finish his Ihram till he sacrificed his Hadi." ________________________________________

Permalink