Sahih Bukhari — Hadith 2964
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ قَامَ فَکَبَّرَ وَقَرَأَ قِرَائَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَقَامَ کَمَا هُوَ فَقَرَأَ قِرَائَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَی مِنْ الْقِرَائَةِ الْأُولَی ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهِيَ أَدْنَی مِنْ الرَّکْعَةِ الْأُولَی ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّکْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ فِي کُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَی الصَّلَاةِ
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی اور بہت طویل قرات کی پھر بہت طویل رکوع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رکوع سے) سر اٹھایا کہا سمع اللہ لمن حمدہ اور اسی طرح کھڑے رہے پھر آپ نے طویل قرات کی جو پہلی قرات سے کچھ کم تھی پھر آپ نے طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل سجدہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا اس کے بعد سلام پھیر دیا اس وقت آفتاب صاف ہوگیا تھا پھر آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے چاند اور سورج کے گرہن کے متعلق فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے لہذا جب تم ان دونوں کو گرہن دیکھو تو نماز کی طرف جھک پڑو۔
Narrated 'Aisha: On the day of a solar eclipse, Allah's Apostle stood up (to offer the eclipse prayer). He recited Takbir, recited a long recitation (of Holy Verses), bowed a long bowing, and then he raised h is head saying. "Allah hears him who sends his praises to Him." Then he stayed standing, recited a long recitation again, but shorter than the former, bowed a long bowing, but shorter than the first, performed a long prostration and then performed the second Rak'a in the same way as he had done the first. By the time he had finished his prayer with Taslim, the solar eclipse had been over. Then he addressed the people referring to the solar and lunar eclipses saying, "These are two signs amongst the Signs of Allah, and they do not eclipse because of anyone's death or life. So, if you see them, hasten for the Prayer."