مساقات کا بیان
Statement on Musaqat (Irrigation Contract)
1.پانی کی تقسیم کا بیان اور بعض لوگ اس کے قائل ہیں پانی کا خیرات کرنا اور اس کا ہبہ کرنا اور اسکی وصیت جائز ہے، خواہ وہ تقسیم کیا ہوا ہو یا نہ ہو ۔ اور حضرت عثمان نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو بیئر رومہ کو خریدے اور اس کو اس کنویں میں اسی طرح ڈول ڈالنے (پانی لینے) کا حق ہو، جس طرح تمام مسلمانوں کو (یعنی خرید کر وقف کر دے) تو عثمان نے اس کو خرید لیا۔2.ان لوگوں کا بیان جو اس کے قائل ہیں کہ پانی کا مالک پانی کا زیادہ مستحق ہے یہاں تک کہ سیراب ہو جائے، بدلیل ارشاد بنوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ فاضل پانی نہ روکا جائے ۔3.سوکھی گھاس اور لکڑی بیچنے کا بیان ۔4.جس شخص نے اپنے ملک میں کنواں کھودا اور اس میں کوئی گر کر مر جائے تو تاوان نہیں ہے ۔5.کنویں کے متعلق جھگڑنے اور اس میں فیصلہ کر نے کا بیان ۔6.اس شخص کے گناہ کا بیان جو مسافروں کو پانی نہ دے ۔7.نہر کا پانی روکنے کا بیان ۔8.بلند زمین کا نیچے کی زمین سے پہلے سیر اب کرنے کا بیان ۔9.بلند کھیت والا ٹخنوں تک پانی بھرلے ۔10.پانی پلانے کا ثواب11.اس شخص کا بیان جس نے خیال کیا کہ حوض اور مشک کا مالک اس کے پانی کا زیادہ مستحق ہے ۔12.چراگاہ مقرر کر لینا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں ۔13.نہروں سے آدمی اور چوپایوں کے پانی پینے کا بیان ۔14.جاگیریں دینے کا بیان ۔15.پانی کے پاس اونٹنیوں کو دوہنے کا بیان ۔16.کھجور کے باغ میں کسی شخص کے گزرنے کا راستہ ہو یا پانی کا کوئی چشمہ ہو، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے پیوند کر نے کے بعد کسی درخت کو بیچا تو اس کا پھل بائع کا ہوگا اور گزرنے کا راستہ اور چشمہ بائع کا ہوگا یہاں تک کہ وہ راستہ ہٹا لیا جائے اور یہی حکم عریہ والے کا بھی ہے ۔