TrueHadith

قرض لینے اور قرض ادا کرنے کا بیان ۔

Statement on Borrowing and Repayment

1.کوئی شخص قرض کوئی چیز خریدے اور اسکے پاس قیمت نہ ہو یا اسوقت موجود نہ ہو ۔2.اس شخص کا بیان جو لوگوں کا مال اس کے ادا کر نے یا ضائع کرنے کی نیت سے لے ۔3.قرضوں کے ادا کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو دیدو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کر و، تو انصاف کے ساتھ کرو، اللہ تمہیں جو نصیحت کرتا ہے وہ اچھی ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔4.اونٹ قرض لینے کا بیان ۔5.نرمی سے تقاضا کرنے کا بیان ۔6.کیا قرض کے اونٹ کے عوض اس سے زیادہ مسن اونٹ دیا جائے ۔7.اچھی طرح قرض ادا کرنے کا بیان ۔8.اور کوئی شخص قرض خواہ کے حق سے کم ادا کرے یا اس کو معاف کر دے تو جائز ہے ۔9.اگر کوئی شخص قرض خواہ سے گفتگو کرے، یا قرض میں کھجور یا کسی اور چیز کے عوض اندازے سے دے ۔10.اس شخص کا بیان جو قرض سے پناہ مانگے ۔11.اس شخص پر نماز پڑھنے کا بیان جس نے قرض چھوڑا ۔12.مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔13.صاحب حق کو تقاضے کا حق ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ مالدار کا تاخیر کرنا اس کی سزا کو اور عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور سفیان نے کہا کہ اس کی عزت کا حلال ہونا یہ ہے کہ کہے تو نے دیر کی، اور اس کی سزاقید کر لینا ہے ۔14.بیع، قرض اور امانت میں اگر کوئی شخص اپنا مال مفلس کے پاس پائے تو وہ اس کا زیادہ مستحق ہے اور حسن بصری نے کہا کہ جب دیوالیہ ہو جائے، اور یہ ظاہر ہو جائے تو نہ اس کا آزاد کرنا اور نہ اس کی خرید وفروخت جائز ہے ۔ اور سعید بن مسیب نے کہا کہ جس شخص نے دیوالیہ ہونے سے پہلے اپنا حق لے لیا، اس کے متعلق حضرت عثمان نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کا ہے، اور جس نے اپنا مال پہچان لیا، تو وہ اس کا مستحق ہے ۔15.جس شخص نے مفلس یا تنگدست کا مال بیچ ڈالا اور اس کو قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیا، یا اسی کو دے دیا تاکہ وہ اپنی ذات پر خرچ کرے ۔16.قرض میں کمی کر نے کی سفارش کرنے کا بیان ۔17.مال ضائع کرنے کی ممانعت کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا، اور نہ مفسدین کا کام بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنا مال بیوقوفوں کو نہ دو، اور اسی حال میں تصرفات سے روکنے اور فریب کی ممانعت کا بیان ۔18.غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف نہ کرے ۔