TrueHadith

کھیتی اور بٹائی کے متعلق

Explanation of Agriculture and Sharecropping

1.کھیتی اور میوہ دار درخت لگانے کی فضیلت، جب کہ لوگ اس سے کھائیں اور اللہ تعالیٰ کا قول، بتلاؤ تو کہ جو تم کھیتی کرتے ہو کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اس کو اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں، تو اس کو چوراچورا کرکے رکھ دیں ۔2.کھیتی کے آلات میں مصروف ہونے یا حد سے زیادہ تجاوز کرنے کی برائی کا بیان ۔3.کھیت کی حفاظت کے لئے کتا پالنے کا بیان ۔4.گائے بیل کو کھیتی کے لئے استعمال کرنے کا بیان ۔5.جب کوئی شخص کہے کہ میرے چھوہارے وغیرہ کے درختوں میں تو محنت کر اور پھل میں ہم دونوں شریک ہو جائیں ۔6.کھجوروں اور پھل والے درختوں کے کاٹنے کا بیان۔ الخ7.یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے ۔8.نصف یا اس کے قریب پیداوار پر کاشت کرنے کا بیان اور قیس بن مسلم نے ابوجعفر سے نقل کیا، انہوں نے بیان کیا، کہ مدینہ میں مہاجرین کا کوئی ایسا گھر نہ تھا، جو تہائی اور چوتھائی پر کاشت نہ کرتا ہو اور علی، سعد بن مالک، عبداللہ بن مسعود، عمر بن عبدالعزیز، قاسم، عروہ اور ابوبکرکے خاندان کے لوگ اور عمر اور علی کے خاندان لوگ اور ابن سیرین نے بھی مزارعت کی اور عبدالرحمن بن اسود نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمن بن یزید کا کھیتی میں شریک رہتا، اور حضرت عمر نے لوگوں سے اس شرط پر معاملہ کیا، کہ اگر بیج حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیں تو آدھی پیداواران لوگوں کی ہوگی اور اگر وہ لوگ بیج لائیں، تو اسی طرح آدھی پیدا وار ان لوگوں کی ہوگی، اور حسن نے کہا، کہ اگر زمین ان میں سے کسی ایک کی ہو اور دونوں اس میں خرچ کریں تو پیداوار برابر تقسیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور زہری کا بھی یہی خیال ہے۔ اور حسن نے کہا کہ روئی اس شرط پر چنی جائے کہ آدھی آدھی دونوں کی ہو گی، تو حرج نہیں اور ابراہیم ابن سیرین، عطائ، حکم، زہری اور قتادہ نے کہا کہ کپڑا تہائی یا چوتھائی پر ( جولاہے) کو دینے میں کوئی حرج نہیں اور معمر نے کہا کہ مویشی تہائی اور چوتھائی پر ایک مدت معین کے لئے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں ۔9.اگر مزارعت میں سال نہ متعین کرے ۔10.(یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے)11.یہود سے مزارعت (بٹائی) کرنے کا بیان ۔12.ان شرطوں کا بیان جو مزارعت میں مکروہ ہیں ۔13.کسی قوم کے روپیہ سے بغیر ان کی اجازت کے کاشتکاری کرے، اور اس میں ان کی بہتری ہو ۔14.اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوقاف اور خراج کی زمین اور ان میں بٹائی اور معاملہ کرنے کا بیان اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا، کہ اصل زمین کو وقف کردو، چنانچہ اس طور پر اسے فروخت نہ کیا جائے بلکہ اس کا پھل( آمدنی) کھایا جائے، چنانچہ حضرت عمر نے اس کو وقف کر دیا ۔15.بنجر اور غیر آباد زمین کو آباد کرنے والے کا بیان ۔ حضرت علی نے کوفہ کی غیر آباد زمین میں اس کو مناسب سمجھا تھا کہ وہ آباد کرنے والے کی ملک ہے اور حضرت عمر نے فرمایا، جس نے غیر آباد زمین کو آباد کیا، وہ اسی کی ہے ۔ اور عمرو بن عوف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح نقل کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں کے حق میں نہ ہو، اور نہ کسی ظالم شخص کا اس میں حق ہے اور اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔16.اگر زمین کا مالک کہے، کہ میں تجھ کو اس پر اس وقت تک قائم رکھوں گا جب تک اللہ تجھے قائم رکھے اور کوئی مدت معین نہیں کی، تو وہ دونوں آپس کی رضا مندی تک معاملہ رکھیں گے ۔17.اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شتکاری اور پھلوں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے ۔18.سونا چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے کا بیان، ابن عباس نے فرمایا، کہ جو کام کرنا چاہتے ہو، اس میں سب سے زیادہ بہتر یہ ہے، کہ اپنی خالی زمین کو ایک سال تک کے لئے کرایہ پر دو ۔19.درخت لگا نے کا بیان۔