TrueHadith

جس مال کی زکوۃ دی جاتی ہے تو وہ کنز نہیں ہے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم میں زکواۃ نہیں

Sahih BukhariHadith 1316

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ قال حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَنْ کَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ زَکَاتَهَا فَوَيْلٌ لَهُ إِنَّمَا کَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّکَاةُ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طُهْرًا لِلْأَمْوَالِ

احمد بن شیب بن سعید، یونس، شیب بن سعید، ابن شہاب، خالد بن اسلم سے روایت کرتے ہیں فرمایا ہم عبداللہ بن عمر کے ساتھ نکلے تو ایک اعرابی نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ کے قول (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) 9۔ التوبہ : 34) کی تفسیر بتائیے۔ ابن عمر نے فرمایا کہ جس نے اسے جمع کیا اور زکوۃ نہ دی تو اس کے لئے خرابی ہے اور یہ زکوۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا حکم ہے تب زکوۃ کی آیت نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کو مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنایا۔

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 1317

Narrated by Abu Said

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَقال أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ قال أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ

اسحاق بن یزید، شعیب بن اسحاق، اوزاعی، یحیی بن ابی کثیر، عمرو بن یحیی بن عمارہ اپنے باپ یحیی بن عمارہ بن ابی الحسن ان سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ ہے اور نہ پانچ وسق سے کم (غلہ یا کھجور) میں زکوۃ ہے۔

Narrated Abu Said: Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "No Zakat is due on property mounting to less than five Uqiyas (of silver), and no Zakat is due on less than five camels, and there is no Zakat on less than five Wasqs." (A Wasqs equals 60 Sa's) & (1 Sa=3 K gms App.) ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1318

Narrated by Zaid bin Wahab

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ سَمِعَ هُشَيْمًا أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْزَلَکَ مَنْزِلکَ هَذَا قَالَ کُنْتُ بِالشَّأْمِ فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ فِي الَّذِينَ يَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الْکِتَابِ فَقُلْتُ نَزَلَتْ فِينَا وَفِيهِمْ فَکَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فِي ذَاکَ وَکَتَبَ إِلَی عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْکُونِي فَکَتَبَ إِلَيَّ عُثْمَانُ أَنْ اقْدَمْ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُهَا فَکَثُرَ عَلَيَّ النَّاسُ حَتَّی کَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْنِي قَبْلَ ذَلِکَ فَذَکَرْتُ ذَاکَ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لِي إِنْ شِئْتَ تَنَحَّيْتَ فَکُنْتَ قَرِيبًا فَذَاکَ الَّذِي أَنْزَلَنِي هَذَا الْمَنْزِلَ وَلَوْ أَمَّرُوا عَلَيَّ حَبَشِيًّا لَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ

علی بن ہاشم، ہشیم، حصین، زید بن وہب روایت کرتے ہیں کہ میں ربذہ سے گزرا، تو ابوذر سے ملا اور ان سے پوچھا کہ آپ کو اس مقام میں کس چیز نے پہنچایا؟ انہوں نے بتایا میں شام میں تھا تو مجھ میں اور معاویہ میں آیت (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 9۔ التوبہ : 34) کی تفسیر میں اختلاف ہوا۔ معاویہ نے کہا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں نے کہا ہمارے اور اہل کتاب دونوں کے لئے نازل ہوئی اور اس سلسلہ میں میری ان سے خوب بحث ہوئی انہوں نے عثمان مجھے لکھا کہ مدینہ چلے آو۔چنانچہ میں چلا آیا تو لوگوں کا میرے پاس اس طرح ہجوم ہونے لگا گویا اس سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہ تھا میں نے یہ عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو ایسی جگہ گوشہ نشین ہوجاؤ جو مدینہ کے قریب ہو یہی چیز تھی جس کے سبب سے میں اس جگہ میں مقیم ہوں اور اگر مجھ پر کسی حبشی کو امیر مقرر کردیں تو میں سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔

Narrated Zaid bin Wahab: I passed by a place called Ar-Rabadha and by chance I met Abu Dhar and asked him, "What has brought you to this place?" He said, "I was in Sham and differed with Muawiya on the meaning of (the following verses of the Quran): 'They who hoard up gold and silver and spend them not in the way of Allah.' (9.34). Muawiya said, 'This verse is revealed regarding the people of the scriptures." I said, It was revealed regarding us and also the people of the scriptures." So we had a quarrel and Mu'awiya sent a complaint against me to 'Uthman. 'Uthman wrote to me to come to Medina, and I came to Medina. Many people came to me as if they had not seen me before. So I told this to 'Uthman who said to me, "You may depart and live nearby if you wish." That was the reason for my being here for even if an Ethiopian had been nominated as my ruler, I would have obeyed him . ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1319

Narrated by Al-Ahnaf bin Qais

حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ جَلَسْتُ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَائِ بْنُ الشِّخِّيرِ أَنَّ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ جَلَسْتُ إِلَی مَلَإٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَائَ رَجُلٌ خَشِنُ الشَّعَرِ وَالثِّيَابِ وَالْهَيْئَةِ حَتَّی قَامَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَی عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ثُمَّ يُوضَعُ عَلَی حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ کَتِفِهِ وَيُوضَعُ عَلَی نُغْضِ کَتِفِهِ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيِهِ يَتَزَلْزَلُ ثُمَّ وَلَّی فَجَلَسَ إِلَی سَارِيَةٍ وَتَبِعْتُهُ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَأَنَا لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ فَقُلْتُ لَهُ لَا أُرَی الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ کَرِهُوا الَّذِي قُلْتَ قَالَ إِنَّهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا قَالَ لِي خَلِيلِي قَالَ قُلْتُ مَنْ خَلِيلُکَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتُبْصِرُ أُحُدًا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَی الشَّمْسِ مَا بَقِيَ مِنْ النَّهَارِ وَأَنَا أُرَی أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْسِلُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ کُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ وَإِنَّ هَؤُلَائِ لَا يَعْقِلُونَ إِنَّمَا يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّی أَلْقَی اللَّهَ

عیاش، عبدالاعلی، جریری، ابوالعلاء، احنف بن قیس، ح، اسحاق بن منصور، عبدالصمد، عبدالحارث، جویری، ابوالعلاء بن شخیر، احنف بن قیس نے بیان کیا کہ میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک شخص آیا جس کے بال اور کپڑے سخت تھے اور شکل سے پراگندی ظاہر ہوتی تھی یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کھڑا ہو کر اس نے سلام کیا اور کہا کہ مال جمع کرنے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ایک پتھر جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر وہ ان کی چھاتی پر رکھا جائے گا جو ان کے مونڈے کی ہڈی کے پاس سے (آر پار ہو کر) نکل جائے گا، اور وہ پتھر ہلتا رہے گا پھر وہ مڑا اور ایک ستون کے پاس جا بیٹھا میں بھی اس کے پیچھے گیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا اور میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے، میں نے اس سے کہا کہ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اس بات سے ناراض ہوئے جو تم نے کہی، اس نے کہا وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے، حالانکہ میرے خلیل (دوست) نے کہا ہے، میں نے پوچھا آپ کے خلیل کون ہیں ؟ کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا اے ابوذر کیا تم احد پہاڑ کو دیکھتے ہو ؟ میں نے آفتاب کو دیکھا کہ دن کا کون سا حصہ باقی رہ گیا ہے اور میں گمان کرنے لگا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ضرورت کے لئے بھیجے گے، میں نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا کہ مجھے پسند نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تین اشرفیوں کے سوا میں کل خرچ (خیرات) نہ کروں اور یہ لوگ کچھ بھی نہیں سمجھتے یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور ان سے دنیا کی کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور نہ دین کے متعلق کوئی بات ان سے پوچھوں گا یہاں تک کہ اللہ سے مل جاوں

Narrated Al-Ahnaf bin Qais: While I was sitting with some people from Quraish, a man with very rough hair, clothes, and appearance came and stood in front of us, greeted us and said, "Inform those who hoard wealth, that a stone will be heated in the Hell-fire and will be put on the nipples of their breasts till it comes out from the bones of their shoulders and then put on the bones of their shoulders till it comes through the nipples of their breasts the stone will be moving and hitting." After saying that, the person retreated and sat by the side of the pillar, I followed him and sat beside him, and I did not know who he was. I said to him, "I think the people disliked what you had said." He said, "These people do not understand anything, although my friend told me." I asked, "Who is your friend?" He said, "The Prophet said (to me), 'O Abu Dhar! Do you see the mountain of Uhud?' And on that I (Abu Dhar) started looking towards the sun to judge how much remained of the day as I thought that Allah's Apostle wanted to send me to do something for him and I said, 'Yes!' He said, 'I do not love to have gold equal to the mountain of Uhud unless I spend it all (in Allah's cause) except three Dinars (pounds). These people do not understand and collect worldly wealth. No, by Allah, Neither I ask them for worldly benefits nor am I in need of their religious advice till I meet Allah, The Honorable, The Majestic." ' ________________________________________

Permalink