TrueHadith

کیا اپنے صدقہ کے مال کو خرید سکتا ہے ؟ اور غیروں کے صدقہ کو خریدنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ نبی نے صرف صدقہ دینے والے کو خریدنے سے منع فرمایا ہے اور دوسروں کو منع نہیں فرمایا ۔

Sahih BukhariHadith 1394

Narrated by 'Abdullah bin 'Umar

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ فَبِذَلِکَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَتْرُکُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً

یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، سالم، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں خیرات کیا، پھر دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ اپنی خیرات کو دوبارہ واپس نہ لو، اسی سبب سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی خیرات کی ہوئی چیز خریدتے تو اسے صدقہ کردیتے۔

Narrated 'Abdullah bin 'Umar: Umar bin Al-Khattab gave a horse in charity in Allah's Cause and later he saw it being sold in the market and intended to purchase it. Then he went to the Prophet and asked his permission. The Prophet said, "Do not take back what you have given in charity." For this reason, Ibn 'Umar never purchased the things which he had given in charity, and in case he had purchased something (unknowingly) he would give it in charity again. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1395

Narrated by 'Umar

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي کَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَشْتَرِي وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ وَإِنْ أَعْطَاکَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتهِ کَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

عبداللہ بن یوسف، مالک بن انس، زید بن اسلم، اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا دیا۔ جس شخص کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اس کو خراب کردیا، تو میں نے اسے خریدنا چاہا اور میں نے سمجھا کہ وہ اسے سستا بیچے گا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا اسے نہ خریدو اور اپنے صدقہ کو واپس نہ لو، اگرچہ وہ تم کو ایک درہم میں دے، اس لئے کہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قے کو کھائے۔

Narrated 'Umar: Once I gave a horse in Allah's Cause (in charity) but that person did not take care of it. I intended to buy it, as I thought he would sell it at a low price. So, I asked the Prophet (p.b.u.h) about it. He said, "Neither buy, nor take back your alms which you have given, even if the seller were willing to sell it for one Dirham, for he who takes back his alms is like the one who swallows his own vomit." ________________________________________

Permalink