TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے ۔

Sahih MuslimHadith 4705

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَکَلَّمَاهُ بِشَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ وَمَا ذَاکِ قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا

زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابی ضحی مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو آدمی آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں بات کی میں نہیں جانتا کہ وہ کیا بات تھی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا تو آپ نے ان دونوں آدمیوں پر لعنت کی اور ان کو برا کہا تو جب وہ دونوں آدمی چلے گئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ان دونوں آدمیوں کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ تکلیف اور کسی کو نہ پہنچی ہوگی آپ نے فرمایا وہ کس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے اور انہیں برا کہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں جاتنی کہ میں نے اپنے پروردگار سے کیا شرط لگائی ہے میں نے کہا اے اللہ میں ایک انسان ہوں تو میں نے مسلمانوں میں سے جس پر لعنت کروں یا اسے برا کہوں تو تو اسے اس کے گناہوں کی پاکی اور اجر بنا دے۔

A'isha reported that two persons visited Allah's Messenger (may peace be upon him) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said: Allah's Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Don't you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232115)

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ و قَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَی فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ جعلی بن حجر سعدی علی بن حجر سعدی اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت میں ملاقات کی ان کو برا کہا اور ان پر لعنت کی اور انہیں نکال دیا۔

This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of 'Isa (the words are): "He had a private meeting with them and hurled malediction upon them and cursed them and sent them out."

Permalink

Sahih MuslimHadith 4706

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَکَاةً وَرَحْمَةً

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ میں تو ایک انسان ہوں اور مسلمانوں میں سے جس آدمی کو برا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: O Allah, I am a human being and for any person amongst Muslims upon whom I hurl malediction or invoke curse or give him whipping make it a source of purity and mercy.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232117)

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَکَاةً وَأَجْرًا

ابن نمیر، ابی اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورة حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں پاکیزگی اور اجر کا ذکر ہے۔

Jabir reported Allah's Apostle (may peace be upon him) a hadith like it but with a slight variation of wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232118)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَی جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of A'mash and in the hadith transmitted on the authority of 'Isa the words are: Make it a source of reward, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Huraira (the words are): "Make it a source of mercy."

Permalink

Sahih MuslimHadith 4707

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَکَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو ہرگز وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں نے صرف ایک انسان ہوں جس مومن کو میں تکلیف دوں اس کو برا کہوں اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو تو اسے اس کے لئے رحمت اور پاکیزگی اور ایسا باعث قرب بنا دے کہ وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔

Abu Huraira reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: O Allah, I make a covenant with Thee against which Thou wouldst never go. I am a human being and thus for a Muslim whom I give any harm or whom I scold or upon whom I invoke curse or whom I beat, make this a source of blessing, purification and nearness to Thee on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232120)

حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَوْ جَلَدُّهُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ

ابن ابی عمر سفیان، ابوزناد حضرت ابوالزناد اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad with a slight variation of wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232121)

حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

سلیمان بن معبد سلیمان بن حرب حماد بن زید ایوب عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

A hadith like this has been reported on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4708

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی النَّصْرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ کَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَإِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ کَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید سالم نضر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے اللہ میں جس مومن بندے کو برا کہوں تو تو اسے اس بندے کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کو ذریعہ بنا دے۔

Salim, the freed slave of Nasriyyin, said: I heard Abu Huraira as saying that he heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: O Allah, Muhammad is a human being. I lose my temper just as human beings lose temper, and I have held a covenant with Thee which Thou wouldst not break: For a believer whom I give any trouble or invoke curse or beat, make that an expiation (of his sins and a source of) his nearness to Thee on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4709

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِکَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حرملہ بن یحیی ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے اللہ میں جس مومن بندے کو برا کہوں تو تو اسے اس بندے کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کا ذریعہ بنا دے۔

Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: O Allah, for any believing servant whom I curse make that as a source of nearness to Thee on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4710

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِکَ کَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

زہیر بن حرب، عبد بن حمید زہیر یعقوب بن ابراہیم، ابن اخی ابن شہاب عمہ سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ارشاد فرماتے ہیں اے اللہ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں اور تو ہرگز وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کا بھی برا کہوں یا اسے سزا دوں تو قیامت کے دن اسے اس کے لئے کفارہ کر دے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: I have held covenant with Thee which Thou wouldst not break, so for any believer whom I curse or beat, make that an expiation on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4711

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَکُونَ ذَلِکَ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا

ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں تو صرف ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے رب تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے جس بندے کو میں سب و شتم کروں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنا دے۔

Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: I am a human being and I have made this term with my Lord, the Exalted and Glorious: For any servant amongst Muslims whom I curse or scold, make that a source of purity and reward.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232126)

حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابن ابی خلف روح عبد بن حمید ابوعاصم، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4712

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ کَبِرْتِ لَا کَبِرَ سِنُّکِ فَرَجَعَتْ الْيَتِيمَةُ إِلَی أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْکِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَکِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتْ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَکْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا يَکْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّی لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَی يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّکَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَکْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَکْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَی رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَی کَمَا يَرْضَی الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ کَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَکَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ و قَالَ أَبُو مَعْنٍ يُتَيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنْ الْحَدِيثِ

زہیر بن حرب، ابومعن رقاشی زہیر اسحاق بن ابی طلحہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم کے پاس ایک یتیم بچی تھی اور وہ ام انس تھی رسول اللہ نے اسے دیکھا تو فرمایا یہ تو وہی بچی ہے تو تو بڑی ہوگئی ہے اللہ کرے تیری عمر بڑی نہ ہو یہ سن کر وہ لڑکی ام سلیم کے پاس روتے ہوئے آئی ام سلیم نے کہا اے بیٹی تجھے کیا ہوا اس لڑکی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بد دعا دی ہے کہ میری عمر بڑی نہ ہو تو اب میں کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی یا اس نے کہا میرا زمانہ زیادہ نہ ہوگا تو حضرت ام سلیم جلدی میں اپنے سر پر چادر اوڑھتے ہوئے نکلی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ سے ملاقات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے ام سلیم تجے کیا ہوا حضرت ام سلیم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یتیم بچی کے لئے بد دعا کی ہے آپ نے فرمایا اے ام سلیم وہ کیا حضرت ام سلیم نے عرض کیا اس بچی کا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ بد دعا دی ہے کہ اس کی عمر بڑی نہ ہو اور نہ اس کا زمانہ بڑا ہو راوی کہتے ہیں کہ اس کی عمر بڑی نہ ہو اور نہ اس کا زمانہ بڑا ہو راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ یہ سن کر ہنسے پھر فرمایا اے ام سلیم کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے شرط لگائی ہے اور میں نے عرض کیا ہے کہ میں ایک انسان ہوں میں راضی ہوتا ہوں جس طرح کہ انسان راضی ہوتا ہے اور مجھے غصہ آتا ہے جس طرح کہ انسان کو غصہ آتا ہے تو اگر میں اپنی امت میں سے کسی آدمی کو بد دعا دوں اور وہ اس بد دعا کا مستحق نہ ہو تو اس بد دعا کو اس کے لئے پاکیزگی کا سبب بنا دینا اور اسے اس کے لئے ایسا قرب کرنا کہ جس سے وہ قیامت کے دن تجھ سے تقرب حاصل کرے۔ راوی ابومعن نے تینوں جگہ یتیمہ تصغیر کے ساتھ ذکر کیا۔

Anas b. Malik reported that there was an orphan girl with Umm Sulaim (who was the mother of Anas). Allah's Messenger (may peace be upon him) saw that orphan girl and said: O, it is you; you have grown young. May you not advance in years! That slave-girl returned to Umm Sulaim weeping. Umm Sulaim said: O daughter, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle (may peace be upon him) has invoked curse upon me that I should not grow in age and thus I would never grow in age, or she said, in my (length) of life. Umm Sulaim went out wrapping her head-dress hurriedly until she met Allah's Messenger (may peace be upon him). He said to her: Umm Sulaim, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle, you invoked curse upon my orphan girl. He said: Umm Sulaim, what is that? She said: She (the orphan girl) states you have cursed her saying that she might not grow in age or grow in life. Allah's Messenger (may peace be upon him) smiled and then said: Umm Sulaim, don't you know that I have made this term with my Lord. And the term with my Lord is that I said to Him: 1 am a human being and I am pleased just as a human being is pleased and I lose temper just as a human being loses temper, so for any person from amongst my Ummah whom I curse and he in no way deserves it, let that, O Lord, be made a source of purification and purity and nearness to (Allah) on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4713

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَائَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْکُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْکُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی قُلْتُ لِأُمَيَّةَ مَا حَطَأَنِي قَالَ قَفَدَنِي قَفْدَةً

محمد بن مثنی، عنبری ابن بشار ابن مثنی امیہ بن خالد شعبہ، ابی حمزہ قصاب حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ تشریف لے آئے تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے دونوں کندھوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں آیا اور پھر میں نے عرض کیا وہ کھا رہے ہیں ابن عباس کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر آ کر عرض کیا وہ کھانا کھا رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ابن المثنی نے کہا میں نے امیہ سے کہا حطانی کیا ہے انہوں نے کہا تھپکی دینا۔

Ibn Abbas reported: I was playing with children that Allah's Messenger (may peace be upon him) happened to pass by (us). I hid myself behind the door. He (the Holy Prophet) came and he patted upon my shoulders and said: Go and call Mu'awiya. I returned and said: He is busy in taking food. He again asked me to go and call Mu'awiya to him. I went (and came back) and said that he was busy in taking food, whereupon he said: May Allah not fill his belly! Ibn Muthanna, said: I asked Umm Umayya what he meant by the word Hatani. He said: It means "he patted my shoulders".

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232129)

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ

اسحاق بن منصور نضر بن شمیل شعبہ، ابوحمزہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو اچانک رسول اللہ تشریف لے آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپ گیا پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abbas with a slight variation of wording.

Permalink