Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَهُ عَنْ الرَّجُلِ الشَّيْئُ لَمْ يَقُلْ مَا بَالُ فُلَانٍ يَقُولُ وَلَکِنْ يَقُولُ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ کَذَا وَکَذَا
عثمان بن ابوشیبہ، عبدالحمید حمانی، اعمش، مسلم، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی آدمی سے کوئی ناگوار بات پیش آتی تو آپ یہ نہ کہتے کہ فلاں کو کیا ہوگیا؟ (اس آدمی کا نام نہ لیتے) بلکہ یہ فرماتے تھے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا جو اس اس طرح کہتے ہیں۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Prophet (peace_be_upon_him) was informed of anything of a certain man, he would not say: What is the matter with so and so that he says? But he would say: What is the matter with the people that they say such and such?
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْئٍ يَکْرَهُهُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ قَالَ أَبُو دَاوُد سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا کَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَی رُؤْيَةِ الْهِلَالِ فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ
عبیداللہ بن عمر بن میسرہ، حماد بن زید، سلم علوی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس پر زرد نشان تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ جس کسی کا سامنا کرتے تو اس کی کسی ایسی بات کا اس کے سامنے بہت کم تذکرہ کرتے تھے جو اسے ناگوار ہوتی چنانچہ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کاش تم اسے حکم دیتے کہ وہ زرد نشان کو اپنے جسم سے دھو دیتا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ سلم (جن سے روایت مروی ہے) علوی نہیں ہے وہ نجومی تھا اور ایک مرتبہ حضرت عدی بن ارطاة کے پاس روئیت ہلال کے سلسلہ میں گواہی دی تو آپ نے اس کی گواہی قبول نہیں فرمائی۔
Narrated Anas ibn Malik: A man who had the mark of yellowness on him came to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). The apostle of Allah (peace_be_upon_him) rarely mentioned anything of a man which he disliked before him. When he went out, he said: Would that you asked him to wash it from him.
Narrated by AbuSalamah ; AbuHurayrah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَکِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَاهُ جَمِيعًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ غِرٌّ کَرِيمٌ وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ
نصربن علی، ابواحمد، سفیان، حجاج بن فرافعہ، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن آدمی بھولا بھالا (دھوکہ کھانے والا) اور شریف ہوتا ہے اور فاسق انسان دھوکہ باز اور کمینہ ہوتا ہے۔
Narrated AbuSalamah ; AbuHurayrah: The Prophet (peace_be_upon_him) said: The believer is simple and generous, but the profligate is deceitful and ignoble.
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ ثُمَّ قَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ قَالَ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَکَهُ النَّاسُ لِاتِّقَائِ فُحْشِهِ
مسدد، سفیان، ابن منکدر، حضرت عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، آپ نے فرمایا کہ برے خاندان کا بیٹا ہے یا فرمایا برے خاندان کا آدمی ہے۔ پھر فرمایا کہ اسے اجازت دیدو۔ جب وہ داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے نرم گفتاری سے پیش آئے۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نرم گفتاری سے پیش آئے حالانکہ آپ نے اس کے لیے کچھ کہا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہوگا جسے دنیا میں لوگوں نے چھوڑ دیا ہو اس کی فحش گوئی اور بدخلقی کے سبب۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A man asked permission to see the Prophet (peace_be_upon_him), and the Prophet (peace_be_upon_him) said: He is a bad member of the tribe. When he entered, the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) treated in a frank and friendly way and spoke to him. When he departed , I said: Apostle of Allah! When he asked permission, you said: He is a bad member of the tribe, but when he entered, you treated him in a frank and friendly way. The Apostle of Allah replied: Aisha! Allah does not like the one who is unseemly and lewd in his language.
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ أَخْبَرَنَا مُبَارَکٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا الْتَقَمَ أُذُنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُنَحِّي رَأْسَهُ حَتَّی يَکُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأَسَهُ وَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَتَرَکَ يَدَهُ حَتَّی يَکُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ
احمد بن منیع، ابوقطن، مبارک، ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی آدمی نہیں دیکھا کہ اس نے اپنا منہ آپ کے کان پر رکھا ہو اور آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو۔ یہاں تک کہ وہی شخص اپنا سر ہٹاتا تھا پہلے۔ اور میں نے کوئی آدمی نہیں دیکھا کہ اس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو اور آپ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو (پہلے) یہاں تک کہ وہی خود اپنا ہاتھ چھڑا لیتا تھا۔
Narrated Anas ibn Malik: I never said that when any man brought his mouth to the ear of the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) and he withdrew his head until the man himself withdrew his head, and I never saw that when any man took him by his hand and he withdrew his hand, until the man himself withdrew his hand.
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْروٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَلَّمَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا اسْتَأْذَنَ قُلْتَ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ فَقَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ الَّذِينَ يُکْرَمُونَ اتِّقَائَ أَلْسِنَتِهِمْ
موسی بن اسماعیل، حماد، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی آپ کے پاس آنے کی، آپ نے فرمایا کہ برے خاندان کا بھائی ہے پھر جب وہ داخل ہوگیا تو آپ نے بشاشت سے اس کا ستقبال کیا اور اس سے گفتگو فرمائی جب وہ نکل گیا تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس نے آپ سے اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ برے خاندان کا بھائی ہے اور جب وہ داخل ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے بشاشت سے ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ فحش گو اور گندی بات کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ عباس عنبری، اسود بن عامر، شریک، اعمش، مجاہد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں کہ اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ لوگوں میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جن کی تعظیم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کی جائے۔
-