TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 4157 · Explanation of Respect

Sunan Abu DawoodHadith 4157

Narrated by Anas ibn Malik

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْئٍ يَکْرَهُهُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ قَالَ أَبُو دَاوُد سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا کَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَی رُؤْيَةِ الْهِلَالِ فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ

عبیداللہ بن عمر بن میسرہ، حماد بن زید، سلم علوی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس پر زرد نشان تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ جس کسی کا سامنا کرتے تو اس کی کسی ایسی بات کا اس کے سامنے بہت کم تذکرہ کرتے تھے جو اسے ناگوار ہوتی چنانچہ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کاش تم اسے حکم دیتے کہ وہ زرد نشان کو اپنے جسم سے دھو دیتا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ سلم (جن سے روایت مروی ہے) علوی نہیں ہے وہ نجومی تھا اور ایک مرتبہ حضرت عدی بن ارطاة کے پاس روئیت ہلال کے سلسلہ میں گواہی دی تو آپ نے اس کی گواہی قبول نہیں فرمائی۔

Narrated Anas ibn Malik: A man who had the mark of yellowness on him came to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). The apostle of Allah (peace_be_upon_him) rarely mentioned anything of a man which he disliked before him. When he went out, he said: Would that you asked him to wash it from him.

Permalink

See the full chapter: حسن معاشرت کا بیان