TrueHadith

اگر کوئی وقوف عرفہ نہ پائے تو کیا کرے؟

Sunan Abu DawoodHadith 1664

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بُکَيْرُ بْنُ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَائَ نَاسٌ أَوْ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَی الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَائَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًی ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِذَلِکَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَکَذَلِکَ رَوَاهُ مِهْرَانُ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الْحَجُّ الْحَجُّ مَرَّتَيْنِ وَرَوَاهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الْحَجُّ مَرَّةً

محمد بن کثیر، سفیان، بکیر، عطاء، عبدالرحمن، بن یعمر الدیلی سے روایت ہے کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں تھے تو چند نجد کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا پس اس نے پکار کر پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کس طرح ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے بلند آواز میں جواب دیا کہ حج عرفہ کے دن ہے جو شخص دسویں شب کو فجر سے پہلے عرفہ میں آجائے گا تو اسکا حج پورا ہو جائیگا اور منی میں رہنے کے تین دن ہیں جس نے دو دن کے اندر کوچ کرنے میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھالیا اور وہ یہی پکارتے چلا گیا ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسکو مہران نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے الحج الحج دو مرتبہ کہا ہے۔ اور یحیی بن سعید القطان نے سفیان سے الحج صرف ایک مرتبہ ذکر کیا ہے۔ وقوف عرفہ فرض ہے اسکا وقت نویں تاریخ کے زوال سے لے کر دسویں تاریخ کی شب میں طلوع فجر تک ہے اس کے درمیان اگر ایک ساعت بھی ٹھہر گیا تو اسکا حج صحیح ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 1665

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْقِفِ يَعْنِي بِجَمْعٍ قُلْتُ جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَکْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَکْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَکَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَتَی عَرَفَاتَ قَبْلَ ذَلِکَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَی تَفَثَهُ

مسدد، یحیی، اسماعیل، عامر، حضرت عروہ بن مضرس الطائی سے روایت ہے کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موقف میں آیا یعنی مزدلفہ میں میں نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں طے کے پہاڑوں میں سے چلا آتا ہوں میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا ہے اور خود کو بھی تھکایا ہے خدا کی قسم مجھے راستہ میں کوئی پہاڑ نہیں ملا جس پر میں نہ ٹھہرا ہوں تو کیا میرا حج درست ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ اس نماز کو پائے (یعنی مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز) اور وہ اسکے بعد پہلی رات کو یا دن کو عرفات میں ٹھہرچکا ہو تو اسکا حج پورا ہو گیا پس وہ اپنا میل کچیل دور کرے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 1666

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًی وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ فَقَالَ لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا وَأَشَارَ إِلَی مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ وَالْأَنْصَارُ هَا هُنَا وَأَشَارَ إِلَی مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ

احمد بن حنبل، عبدالرزاق، معمر، حمید، اعرج، محمد بن ابراہیم، حضرت عبدالرحمن بن معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منی میں لوگوں کے سامنے تقریر کی اور انکو اپنے ٹھکانوں میں اتارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کے داہنی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا انصار یہاں اتریں پھر باقی لوگوں کے لیے حکم ہوا کہ وہ ان کے (مہاجرین و انصارکے) ارد گرد اتریں۔

-

Permalink