TrueHadith

دعوی کرنا اور انکار۔

Sunan DarimiHadith 2934

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ اعْتَرَفَ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ لِرَجُلٍ وَأَقَامَ آخَرُ بَيِّنَةً بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ الْمَيِّتُ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقَالَ الْمَالُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُفْلِسًا فَلَا يَجُوزُ إِقْرَارُهُ

حسن بصری فرماتے ہیں جو شخص موت کےوقت یہ اعتراف کرے کہ میں نے کسی شخص کے ایک ہزار درہم دینے ہیں اور پھر کوئی اور شخص گواہی کے ذریعے یہ ثابت کردے کہ اس نے مرنے والے سے ایک ہزار درہم لینے ہیں جبکہ میت نے وراثت میں ایک ہزار درہم چھوڑے ہوں تو حسن فرماتے ہیں یہ مال دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا البتہ اگر وہ مرحوم مفلس ہو تو اس کا اقرار درست نہیں ہوگا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2935

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ قُلْتُ لِشَرِيكٍ كَيْفَ ذَكَرْتَ فِي الْأَخَوَيْنِ يَدَّعِي أَحَدُهُمَا أَخًا قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي نَصِيبِهِ قُلْتُ مَنْ ذَكَرَهُ قَالَ جَابِرٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِيٍّ

ابونعیم بیان کرتے ہیں میں نے شریک سے دریافت کیا جب دو بھائیوں میں سے ایک بھائی کسی اور بھائی کے بارے میں دعوی کرے تو اس بارے میں آپ نے کیا بات ذکر کی تھی تو انہوں نے جواب دیا وہ دعوی کرنے والے شخص کے حصے میں سے ہی اس بھائی کو شامل کیا جائے گا میں نے دریافت کیا یہ بات کس نے ذکر کی ہے انہوں نے جواب دیا یہ بات جابر نے عامر کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2936

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْإِخْوَةِ يَدَّعِي بَعْضُهُمْ الْأَخَ وَيُنْكِرُ الْآخَرُونَ قَالَ يَدْخُلُ مَعَهُمْ بِمَنْزِلَةِ عَبْدٍ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ فَيَعْتِقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ قَالَ وَكَانَ عَامِرٌ وَالْحَكَمُ وَأَصْحَابُهُمَا يَقُولُونَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا فِي نَصِيبِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِهِ

اعمش بیان کرتے ہیں جب کچھ بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایک بھائی کے بارے میں دعوی کریں اور دیگر بھائی اس کا انکار کریں تو اس کے بارے میں ابراہیم نخعی فرماتے ہیں اس بھائی کو ان کے ہمراہ ایک ایسے غلام کے طور پر رکھاجائے گا جو ان بھائیوں کے درمیان مشترک ہو اور پھر ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کردے۔ عامر حکم اور انکے شاگرد یہ کہتے ہیں کہ اس بھائی کو صرف اس شخص کے حصے میں شامل کیا جائے گا جس نے اس کے بھائی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2937

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ وَكِيعٍ قَالَ إِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ فَادَّعَى أَحَدُهُمَا أَخًا وَأَنْكَرَهُ الْآخَرُ قَالَ كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ هِيَ مِنْ سِتَّةٍ لِلَّذِي لَمْ يَدَّعِ ثَلَاثَةٌ وَلِلْمُدَّعِي سَهْمَانِ وَلِلْمُدَّعَى سَهْمٌ

وکیع بیان کرتے ہیں جب دوبھائی موجود ہوں اور ان دونوں میں سے کوئی ایک شخص کسی ایک کے بھائی ہونے کا اقرار کرے اور دوسرا بھائی اس کا انکار کردے تو شیخ ابن ابی لیلی فرماتے ہیں وہ وراثت چھ حصوں میں تقسیم ہوجائے گی تین حصے اس شخص کو ملیں گے جس نے دعوی نہیں کیا تھا (یعنی اس شخص کے بھائی ہونے کا اقرار کیا تھا) جس شخص کے بارے میں دعوی کیا تھا اسے دو حصے ملیں گے اور جو دعوی کرنے والا تھا اسے ایک حصہ ملے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2938

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ حَمَّادٍ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ فَقَالَ ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ فَقَالَ الْأَوْسَطُ أَنَا أُجِيزُ وَقَالَ الْأَكْبَرُ لَا أُجِيزُ قَالَ هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثُلُثَهُ فَلَهُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ الَّذِي أَجَازَ وَقَالَ حَمَّادٌ يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا وَقَالَ عَامِرٌ الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ

ایک ایسا شخص جس کے تین بیٹے ہوں وہ شخص کہے کہ میر ایک تہائی مال میرے سب سے چھوٹے بیٹے کے لیے ہے درمیانہ بیٹا یہ کہے کہ میں اسے درست قرار دیتا ہوں اور بڑا بیٹا یہ کہے کہ میں اسے درست قرار نہیں دیتا۔ ایسے شخص کے بارے میں حماد یہ کہتے ہیں کہ یہ وراثت نو حصوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے تین حصے نکال لیے جائیں گے اس شخص کو اپنا ایک حصہ ملے گا اور ایک اس شخص کا حصہ ملے گا جس کے لیے اس نے درست قرار دیا ہے۔ حماد بیان کرتے ہیں ایک حصہ ان تینوں کی طرف سے واپس کیا جائے گا۔ عامر فرماتے ہیں جس شخص نے اسے واپس کیا ہے اس نے اپنے حصے میں سے اسے واپس کیا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2939

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ فِي رَجُلٍ أَقَرَّ بِأَخٍ قَالَ بَيِّنَتُهُ أَنَّهُ أَخُوهُ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں شریح نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے کسی بھائی کا اقرار کیا تھا یہ فرمایا تھا اسے ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ یہ اس کا بھائی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2940

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ فِي رَجُلٍ أَقَرَّ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ مُضَارَبَةً وَأَلْفٍ دَيْنًا وَلَمْ يَدَعْ إِلَّا أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ كَانَ لِصَاحِبِ الْمُضَارَبَةِ

حارث عکلی ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو مرتے وقت ایک ہزار درہم مضاربت کا اعتراف کرے اور ایک ہزار روپے قرض ہونے کا اعتراف کرے اور وراثت میں صرف ایک ہزار درہم چھوڑے حارث عکلی فرماتے ہیں سب سے پہلے وہ اس کا قرض دیا جائے گا جو بچ جائے گا وہ مضاربت سے متعلق فریق وصول کریں گے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2941

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَلَاثَةَ بَنِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ يَدَّعِي مِائَةَ دِرْهَمٍ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَقَرَّ لَهُ أَحَدُهُمْ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ بِالْحِصَّةِ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ مَا أُرَى أَنْ يَكُونَ مِيرَاثًا حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ

شعبی فرماتے ہیں جو شخص فوت ہوجائے اس نے تین سو درہم چھوڑے ہوں اور تین بیٹے چھوڑے ہوں اور پھر ایک شخص آئے جو میت سے ایک سو درہم کی وصولی کا دعویدار ہو اور پھر ان تین بیٹوں میں سے کوئی اس کے حق میں اقرار کرے تو شعبی فرماتے ہیں اس بیٹے کے حصے میں اسے شامل کیا جائے گا پھر اس کے بعد شعبی نے فرمایا میرا یہ خیال ہے کہ وراثت اس وقت تک تقسیم نہیں ہوگی جب تک قرض ادانہ کر دیا جائے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2942

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْأَشْعَثِ عَنْ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَاقْتَسَمَا الْأَلْفَيْ دِرْهَمٍ وَغَابَ أَحَدُ الِابْنَيْنِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَحَقَّ عَلَى الْمَيِّتِ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ يَأْخُذُ جَمِيعَ مَا فِي يَدِ هَذَا الشَّاهِدِ وَيُقَالُ لَهُ اتَّبِعْ أَخَاكَ الْغَائِبَ وَخُذْ نِصْفَ مَا فِي يَدِهِ

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جو شخص فوت ہوجائے اور دو بیٹے چھوڑ دے اور دو ہزار درہم چھوڑ کر جائے اور وہ دونوں بیٹے ان دوہزار کو تقسم کرلیں ان دونوں بیٹوں میں سے ایک اگر موجود نہ ہو اور ایک شخص آکرمیت سے ایک ہزار درہم کی وصولی کا حق ثابت کردے تو حسن فرماتے ہیں وہ شخص موجود بیٹے سے ایک ہزار درہم وصول کرے گا اور اس بیٹے سے کہا جائے گا کہ اب تم اپنے غیر موجود بھائی کے پاس جانا اور اسکے پاس جورقم موجود ہے اسمیں سے اپنانصف حصہ وصول کرلینا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2943

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِذَا أَقَرَّ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ فَهُوَ عَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب ورثاء میں سے کوئی ایک قرض کا اقرار کرے تو وہ قرض اس کے حصے سے ادا کیا جائے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2944

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا شَهِدَ اثْنَانِ مِنْ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ إِذَا كَانُوا عُدُولًا وَقَالَ الشَّعْبِيُّ عَلَيْهِمَا فِي نَصِيبِهِمَا

ابراہیم نخعی فرماتے ہیں جب ورثا میں سے دولوگ قرض کے بارے میں گواہی دیں تو یہ پورے مال میں سے دی جائے گی بشرطیکہ وہ گواہ عادل ہوں۔ شعبی فرماتے ہیں ان دونوں گواہوں کے مخصوص حصے میں سے ادائیگی کی جائے گی۔

-

Permalink