Sunan Darimi — Hadith 2938
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ حَمَّادٍ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ فَقَالَ ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ فَقَالَ الْأَوْسَطُ أَنَا أُجِيزُ وَقَالَ الْأَكْبَرُ لَا أُجِيزُ قَالَ هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثُلُثَهُ فَلَهُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ الَّذِي أَجَازَ وَقَالَ حَمَّادٌ يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا وَقَالَ عَامِرٌ الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ
ایک ایسا شخص جس کے تین بیٹے ہوں وہ شخص کہے کہ میر ایک تہائی مال میرے سب سے چھوٹے بیٹے کے لیے ہے درمیانہ بیٹا یہ کہے کہ میں اسے درست قرار دیتا ہوں اور بڑا بیٹا یہ کہے کہ میں اسے درست قرار نہیں دیتا۔ ایسے شخص کے بارے میں حماد یہ کہتے ہیں کہ یہ وراثت نو حصوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے تین حصے نکال لیے جائیں گے اس شخص کو اپنا ایک حصہ ملے گا اور ایک اس شخص کا حصہ ملے گا جس کے لیے اس نے درست قرار دیا ہے۔ حماد بیان کرتے ہیں ایک حصہ ان تینوں کی طرف سے واپس کیا جائے گا۔ عامر فرماتے ہیں جس شخص نے اسے واپس کیا ہے اس نے اپنے حصے میں سے اسے واپس کیا ہے۔
-