Jami' Tirmidhi — Hadith 242
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَکَعَ أَحَدُکُمْ فَقَالَ فِي رُکُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُکُوعُهُ وَذَلِکَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ وَذَلِکَ أَدْنَاهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَنْقُصَ الرَّجُلُ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ مِنْ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَنَّهُ قَالَ أَسْتَحِبُّ لِلْإِمَامِ أَنْ يُسَبِّحَ خَمْسَ تَسْبِيحَاتٍ لِکَيْ يُدْرِکَ مَنْ خَلْفَهُ ثَلَاثَ تَسْبِيحَاتٍ وَهَکَذَا قَالَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ
علی بن حجر، عیسیٰ بن یونس، ابن ابى ذئب، ابن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو تین مرتبہ (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ) پڑھے تو اس کا رکوع مکمل ہوگیا اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے اور جب سجدہ کرے تو تین مرتبہ (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی) کہے اس کا سجدہ پورا ہوگیا اور یہ اس کی کم از کم مقدار ہے اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر سے بھی روایت ہے امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے اس لئے کہ عون بن عبداللہ بن عتبہ کی حضرت ابن مسعود سے ملاقات ثابت نہیں ہے اور اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ رکوع اور سجدے میں کم از کم تین تسبیحات پڑھنا مستحب ہے اور ابن مبارک سے مروی ہے کہ امام کے لئے کم از کم پانی مرتبہ تسبیحات پڑھنا مستحب ہے تاکہ نمازی تین تسبیحات پڑھ سکیں اور اسی طرح کہا ہے اسحاق بن ابراہیم نے بھی
Sayydina Ibn Masud (RA) reported that the Prophet (SAW) said, When one of you goes into ruku, he must recite three times : (Glory be to my Lord, the Mighty). His bowing is complete (on that), and this is the least (that he may recite). And when he goes into prostration, he must recite three times: (Glory be to my Lord, the Most High). His prostration is complete (on that), and this is the least (that he may recite).’