Musnad Ahmad — Hadith 22884
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَتْ فَرِيضَةُ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الَّذِي يَصُومُهُ وَتَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی علیہ السلام بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی علیہ السلام یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نبی علیہ السلام ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
-