قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي سَمِعْتُهُ وَحْدِي قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَخْتَطِفَانِ أَوْ قَالَ يَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کر دیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھو ڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَتْ فَرِيضَةُ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الَّذِي يَصُومُهُ وَتَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی علیہ السلام بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی علیہ السلام یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نبی علیہ السلام ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهَا إِنِّي أَعْرِفُ غَضَبَكِ إِذَا غَضِبْتِ وَرِضَاكِ إِذَا رَضِيتِ قَالَتْ وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ يَا مُحَمَّدُ وَإِذَا رَضِيتِ قُلْتِ يَا رَسُولَ اللَّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ان سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہو تی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جا تا ہے اور جب تم راضی ہو تی ہو تو مجھے اس کا بھی پتہ چل جاتا ہے، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کو اس کا کیسے پتہ چل جاتا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم ناراض ہو تی ہو تو تم "یامحمد" کہتی ہو اور جب تم راضی ہو تو تم "یارسول اللہ" کہتی ہو۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي مِنْ السَّمَاءِ جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي بِذَلِكَ فَقُلْتُ نَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَحْمَدُكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آسمان سے میری براءت کا حکم نازل ہوا تو نبی علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور مجھے اس کی اطلاع دی تو میں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں، آپ کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّمَا أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فِي الْإِفَاضَةِ قَبْلَ الصُّبْحِ مِنْ جَمْعٍ لِأَنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِي وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے باہر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کررہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي حُرَّةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يُصَلِّي افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہو تے تو نماز کا آغا ز دو خفیف رکعتوں سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو ہر ڈنک والی چیز سے جھاڑ پھونک کر نے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوَتْرُ وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام ظہر کی نماز سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، اور میرے گھر واپس آکر دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے، رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہو تے، رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر بھی تلاوت اور رکوع وسجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور جب طلوع صبح صادق ہو جا تی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر باہر جاکر لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ قَالَ مَسْرُوقٌ فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا بِيَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ وَهِيَ تُحَدِّثُ بِذَلِكَ ثُمَّ تُقِيمُ فِينَا حَلَالًا
مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کر تی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا أَسْدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا فَإِذَا جَاوَزَنَا كَشَفْنَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں، اور سوار ہمارے سامنے سے گذر رہے تھے، جب وہ ہمارے قریب آتے تو ہم اپنے سر سے چادر سرکا کر اپنے چہرے پر لٹکا لیتے اور جب وہ گذر جاتے تو ہم اسے ہٹا دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ سَجَدَ وَجْهِي لِمَنْ خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ تلاوت میں فرمایا کرتے تھے"میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اسے قوت شنوائی و گویائی عطاء فرمائی اور یہ سجدہ بھی اسی کی تو فیق اور مدد سے ہوا ہے"۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خبر کا انتظار ہوتا اور اس میں تاخیر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر طرفہ کا یہ شعر پڑھا کر تے تھے کہ "تیرے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تو نے زادِراہ نہ دیا ہو گا۔"
-
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّ الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، الا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے ہوں تو دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو تی۔
-
أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا بُرْدٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَقَامِهِ وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِي الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہو تے تھے اور دروازہ بند ہو تا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ جا کر کھڑے ہو جا تے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
-
أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔
-
حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ فَوَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ وَقَالَ وَا نَبِيَّاهْ وَا خَلِيلَاهْ وَا صَفِيَّاهْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا منہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان رکھ دیا اور اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں پر رکھ دیئے اور کہنے لگے ہائے میرے نبی، ہائے میرے خلیل، ہائے میرے دوست۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْمُكْتَبِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ وَقَالَ يَحْيَى يُشْخِصُ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا قَالَتْ وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ قَالَ يَحْيَى وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ يُشْخِصُ رَأْسَهُ وَقَالَ افْتِرَاشَ السَّبُعِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرات کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور ہر دو رکعتوں پر "التحیات" پڑھتے تھے، اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے تھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھا لے، اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَيَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز جو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام یہ دعا فر ما تے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ فَانْتَقَمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ بِأَيْسَرِهِمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَأْثَمًا فَإِنْ كَانَ مَأْثَمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الا یہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جا تا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کر تے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جا تیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہو تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّهُ يَعْنِي لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے اگر کسی کو بخار ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دلیا بنانے کا حکم دیتے تھے، جب وہ تیار ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کھانے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ غمگین آدمی کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور بیمار آدمی کے دل کی پریشانیوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کچیل کو پانی کے ذریعے کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ
معاذہ رحمۃ اللہ علیہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے "ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کر تے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا فَقَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک چادر "جسے ملبدہ کہا جاتا ہے" اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعًا كَانَ لِعَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نمازِ جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي أَوْ قَالَتْ فِي حِجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب اپنا وصی مقرر فرمایا؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا، انہوں نے ایک طشت منگوایا، بالآ خر میری گود میں ہی ان کی روح نے پرواز کیا اور مجھے معلوم بھی نہ ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا وصی کب مقرر فرما دیا؟
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي تَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ"۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فَيُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہو گئی اور جسم مبارک بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتَا مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسند یدہ عمل کو ن سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُمَرٍو عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ وَيُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ ثُمَّ يُصَلِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کو نا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّها قَالَتْ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى غَيْرَ أَنَّ أَوَّلَ قِيَامِهِ أَطْوَلُ مِنْ آخِرِهِ وَأَوَّلَ رُكُوعِهِ أَطْوَلُ مِنْ آخِرِهِ فَقَضَى صَلَاتَهُ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا، اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہو گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ایام کی حالت میں ہو تیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ خُصَيْفٍ وَمَرْوَانَ بْنِ شُجَاعٍ قَالَ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ مَرْوَانُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَتْ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَرْبِطُ الْمِسْكَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَفَلَا تَرْبِطُونَهُ بِالْفِضَّةِ ثُمَّ تَلْطَخُونَهُ بِزَعْفَرَانَ فَيَكُونَ مِثْلَ الذَّهَبِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ خُصَيْفٍ وَحَدَّثَنَا مَرْوَانُ قَالَ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ أُمِّ سَلَمَةَ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم تھوڑا سا سونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کر لیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہو جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا قَالَتْ فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ قَالَتْ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِهِ فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ كُنْتَ أَقْسَمْتَ شَهْرًا فَعَدَّتْ الْأَيَّامُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَاةَ ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يُعْرَفْنَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتاتھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں"فواسق" میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا تَسْتَعِينُهَا وَكَانَتْ مُكَاتَبَةً فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَاءَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی "افلح" نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یا رسول اللہ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَأَعْطَيْتُهَا تَمْرَةً فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ فَكَانَ يُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْفَرَائِضِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہو جائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہو نا زیادہ بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِشَاءِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَإِذَا أَصْبَحَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي الْبَتَّةَ وَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ تَزَوَّجَنِي وَإِنَّمَا عِنْدَهُ مِثْلُ هُدْبَتِي وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَنْهَى هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا کہ مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کرلیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر فرمایا شاید تم رفاعہ کے پاس واپس جانے کی خواہش رکھتی ہو؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو، اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سوگئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے، اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہاہو، اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمَا قَالَا لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَتَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ مُرْ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ قَالُوا بَلَى قَالَ يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى قَالَ وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَأَثَّمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَرَاجَعَتْهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ إِنَّكُمْ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا تھا، نبی علیہ السلام نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی (بقول راوی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا) کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہی حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے فرما دیا تھا کہ لوگوں سے کہہ دو، وہ نماز پڑھ لیں، عبداللہ واپس جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا کہ اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چنانچہ وہ نماز پڑھانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو فوراً پہچان گئے کیونکہ ان کی آواز بلند تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ عمر کی آواز نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور مومنین اس سے انکار کرتے ہیں، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے، اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوا تھا اور گنہگار بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَصُومُ
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ان دونوں نے فرمایا بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھےسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنِ النَّخَعِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ وَإِلَّا فَرُشَّهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اس لئے جب تم اسے دیکھا کرو تو کپڑے کو دھولیا کرو، ورنہ پانی چھڑک دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ وَرِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي وَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُهَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ وَأَسْتَغْفِرَهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سبحانَ اللہِ وَ بِحَمدِہِ اَ ستَغفِر اللہ وَ اَ تُو بُ اِ لَیک کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میں آپ کو یہ کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِذَا جَاءَ نَصر اللہِ وَ الفَتحُ پوری سورت تلاوت فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلَا الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میری براءت کی آیات نازل ہوئیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کرکے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور جب نیچے اترے تو دو آدمیوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا چنانچہ انہیں سزا دی گئی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَكَانَتْ امْرَأَتُهُ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ابْتَاعَ جَارِيَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ مَعَهُ فَابْتَغَى لَهَا نَعْلَيْنِ فَلَمْ يَجِدْهُمَا فَقَطَعَ لَهَا خُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ شِهَابٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ فَتَرَكَ ذَلِكَ
نافع "جن کی بیوی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ام ولدہ تھی، ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک باندی خریدی، اور اسے آزاد کر کے اپنے ساتھ حج پر چلنے کا حکم دیا، اس کے لئے جو تیاں تلاش کی گئیں لیکن وہ نہیں ملیں تو انہوں نے ٹخنوں سے نیچے سے موزوں کو کاٹ کر وہی اسے پہنا دیئے، بعد میں صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو موزے پہننے کی اجازت دیتے تھے چنانچہ انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَأَفْتِلُ قَلَائِدَ الْبُدْنِ بِيَدَيَّ ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْبُدْنُ مَكَّةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف قربانی کے جانور بھیج دیتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے، جب تک کہ جانور مکہ مکرمہ نہ پہنچ جاتے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَى الصِّرَاطِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت یَومَ تُبدَلُ ا لا رضُ غَیرَ الارضِ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یارسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور نماز سے فارغ ہو کر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ طَافُوا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَالَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر جب منی سے واپس آئے تو حج کا طواف اور سعی کی اور جن لوگوں نے حج قران کیا تھا انہوں نے صرف ایک ہی مرتبہ طواف و سعی کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَانَةً تَحَدَّثَ مَعِي وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً نَامَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز تہجد پڑھ کر جب فارغ ہوتے تو لیٹ جاتے تھے، اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ باتیں کر تے اور اگر میں سو رہی ہوتی تو خود بھی سوجاتے یہاں تک کہ مؤذن آجاتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ أَوْ إِنِّي تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ وَعَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرَ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ وَقَالَتْ فِي حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ فِي رَمَضَانَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طور پر وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ فَلَا يَعْصِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَأَحَلُّوا حِينَ طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَلَمْ يُحِلُّوا إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ لوگوں نے عمرے کا اور بعض لوگوں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، پھر جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، انہوں نے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے احرام کھول لیا، اور جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا وہ دس ذی الحجہ سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ بِالْحَجِّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ الدِّينَارِ فَصَاعِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ كَذَاكُمْ الْبِرُّ كَذَاكُمْ الْبِرُّ وَقَالَ مَرَّةً عَنْ عَائِشَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہو ا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں، نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَرَّةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَهَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ أَوْ يُشَبِّهُونَ قَالَ سُفْيَانُ سَوَاءٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کر تے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کر تی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے اجتناب نہیں فرماتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ جَاءَ عَمِّي بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّمَا هُوَ عَمُّكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے چچا نے میرے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، وہ تمہارے چچا ہیں، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ اخْتَصَمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ قَالَ عَبْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ وَقَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرْ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ قَالَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد ابن زمعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یارسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ شَغَلَنِي أَعْلَامُهَا اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہوکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے "جو ایک فرق کے برابر ہوتا تھا" غسل جنابت کرلیا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ بَلْ السَّامُ عَلَيْكُمْ وَاللَّعْنَةُ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ قَالَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ فَقَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السامُ عَلیکَ کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا! اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے، انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وَ عَلیکمُ (تم پر ہی موت طاری ہو)۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کیلئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ لوگوں نے عمرے کا اور بعض لوگوں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرْ الْفَيْءُ بَعْدُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہو تی تھی، اور اس وقت تک سایہ نمایاں نہیں ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نِسَاءً مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنْ الْغَلَسِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ اندھیرے کی وجہ سے انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قراءت سنی تو فرمایا انہیں آل داؤد کی خوش الحانی کا ایک حصہ دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَسَمِعَ كَلَامَهَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً مَا تَرَى هَذِهِ تَرْفُثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا کہ مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کرلیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کی باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر فرمایا شاید تم رفاعہ کے پاس واپس جانے کی خواہش رکھتی ہو؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو، اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ وَقَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَقَالَ مَرَّةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجزز مدلجی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے دیکھا کہ حضرت زید اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہا ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش و خرم میرے یہاں تشریف لائے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ مشروب وہ ہو تا تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَاضَتْ صَفِيَّةُ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ قُلْتُ حَاضَتْ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ قَالَ فَلْتَنْفِرْ إِذًا أَوْ قَالَ فَلَا إِذًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَالزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَنِي أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ وَالَّذِي أُرْضِعَتْ عَائِشَةُ مِنْ لَبَنِهِ هُوَ أَخُوهُ فَجَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّمَا هُوَ عَمُّكِ قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ هُوَ عَمُّكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی "افلح" نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہا تھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا طَوِيلًا لَيْسَ أَحْفَظُهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَّا قَلِيلًا دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اشْتَكَى فَجَعَلَ يَنْفُثُ فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ نَفْثَ آكِلِ الزَّبِيبِ وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى شَكْوَاهُ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنَّ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ فَأَذِنَّ لَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مُتَّكِئًا عَلَيْهِمَا أَحَدُهُمَا عَبَّاسٌ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَفَمَا أَخْبَرَتْكَ مَنْ الْآخَرُ قَالَ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ
عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین! ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سانس آنے لگا، ہم نے اسے اس شخص کے سانس سے تشبیہ دی جو کشمش کھاتا ہے، اور نبی کا معمول ازواجِ مطہرات کے پاس جانے کا تھا، جب بیماری بڑھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے عبیداللہ سے پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو دوسرے آدمی کے متعلق نہیں بتایا کہ وہ کون تھا؟ انہوں نے کہا نہیں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہا تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر غسل کر کے روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی ہے؟ انہوں نے فرمایا سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ وَقَالَ مَرَّةً رَجُلٌ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ النَّاسُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی ، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس طرح فرمایا، پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بد ترین آدمی وہ ہو گا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کیلئے چھوڑ دیا ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گو یا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ فَقَالَ أَرْضِعِيهِ فَقَالَتْ كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ! میں اپنے یہاں سالم کے آنے جانے سے (اپنے شوہر) حذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلا دو، انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو بڑی عمر کا آدمی ہے، میں اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہے؟ تھوڑے عرصے بعد وہ دوبارہ آئیں اور عرض کیا کہ اب مجھے حذیفہ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفٍ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ قَالَ لَهَا اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ قُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مقامِ سرف میں انہیں "ایام" شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ کے طواف کے علاوہ تم وہی کام کرتی رہو جو حاجی کریں، وہ کہتی ہیں کہ جب ہم منیٰ میں تھے تو میرے پاس کہیں سے گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَكَتَ عَنِّي هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ نَعَمْ
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کر تے تھے؟ کچھ دیر تک تو وہ خاموش رہے، پھر کہنے لگے ہاں! بیان کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ خَرَجْنَا لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہماری نیت صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی تھی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ قُلْتُ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ فَلَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِيئَتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَلَى الْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ فَأَتَيْتُ عَمْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ وَقَرَأَتْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو ا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو تا ہے، میں عمرہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہو رہا ہے، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت فرمائی"کوئی بوجھ اٹھا نے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا ئے گا"۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيْ أُمَّتْ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ سَوَاءً ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ قُلْتُ فَأَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِهِ قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا اماں جان! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے حوالے سے کچھ بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (تہجد کی) نماز رمضان اور غیر رمضان سب میں یکساں تھی، یعنی تیرہ رکعتیں جن میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل ہوتی تھیں، میں نے عرض کیا کہ اب مجھے ان کے نفلی روزوں کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اواقت اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي إِلَّا مَا يَدْخُلُ بَيْتِي قَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند نے آکر بار گاہِ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! ابوسفیان ایک ایسے آدمی ہیں جن میں کفایت شعاری کا مادہ کچھ زیادہ ہی ہے، اور میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ گھر میں لاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے مال میں سے اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو جائے لیکن یہ ہو بھلے طریقے سے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ فَلَبِثْنَا حَتَّى إِذَا رَهِقَنِي اللَّحْمُ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ هَذِهِ بِتِيكِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ تَقَدَّمُوا فَتَقَدَّمُوا ثُمَّ قَالَ لَهَا تَعَالَيْ أُسَابِقْكِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اُس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَل مَكَّةَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی حصے سے داخل ہوئے تھے اور نشیبی حصے سے باہر نکلے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ قَالَ كَفِّنُونِي فِي ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَاشْتَرُوا ثَوْبًا آخَرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید سحولی کپڑوں میں دفن کیا گیا تھا، حضرت صدیق اکبر صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے مرض الوفات میں) مجھ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں دفن دیا گیا تھا؟ میں نے بتایا تین کپڑوں میں، انہوں نے فرمایا مجھے بھی ان دو کپڑوں میں کفن دینا اور تیسرا کپڑا خرید لینا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ
ابو سلمہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کر و، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَتَحَجَّرُهَا بِاللَّيْلِ خَفِيَ عَلَيَّ شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ مِنْ سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُونَ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کر تے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے (اس سے آگے ایک جملہ مجھ پر مخفی رہ گیا جو میں سفیان سے اچھی طرح سن نہ سکا) مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو جاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتاتا مگر تم اکتا جاؤ گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ وہ تا تھا جو دائمی ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ يَعْنِي هَذَا مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخِفُّ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى أَقُولَ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَمْ لَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔"
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ وَلَا أَدْرِي هَذَا أَوْ غَيْرَهُ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ اشْتَكَتْ عَائِشَةُ فَطَالَ شَكْوَاهَا فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ قَالَ هَذِهِ امْرَأَةٌ مَسْحُورَةٌ سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا قَالَتْ نَعَمْ أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقَ قَالَ وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً قَالَتْ بِيعُوهَا فِي أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا
عمرہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوگئیں اور ان کی بیماری کا دورانیہ بہت زیادہ لمبا ہوگیا، اسی دوران مدینہ منورہ میں ایک طبیب آیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کے متعلق اس سے پوچھا، اس نے کہا کہ تم جس عورت کی یہ کیفیت بتا رہے ہو، اس عورت پر تو جادو کیا گیا ہے اور اس پر اسکی باندی نے جادو کروایا ہے، تحقیق پر اس باندی نے اقرار کر لیا کہ ہاں! میں نے آپ پر سحر کر وایا ہے، میں چاہتی تھی کہ آپ فوت ہوں تو میں آزاد ہو سکوں، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس باندی سے کہہ رکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو گی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقیقت سامنے آنے پر فرما یا اس باندی کو عرب میں سب سے طاقتور لوگوں کے ہاتھ بیچ دو اور اسکی قیمت اس جیسی ایک باندی پر خرچ کردو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُونَ فِيهِ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نمازِ جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَائِشَةَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهَا قَالَ سُفْيَانُ الْوَشِيقَةُ مَا طُبِخَ وَقُدِّدَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے گو شت کی بوٹیاں پیش کی گئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ مشروب وہ ہو تا تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي فَأَضْرِبَكَ بِهَا قَالَ فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ قَالُوا يَا أَبَا شِبْلٍ سَلْهَا قَالَ لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ فَسَأَلُوهَا فَقَالَتْ كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اور ان کے کچھ ساتھی حج کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ ان میں سے کسی نے یہ کہدیا کہ روزہ دار آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے اور اس کے جسم سے اپنا جسم لگا سکتا ہے۔ تو ان میں سے ایک آدمی جس نے دو سال تک شب بیداری کی تھی اور دن کو روزہ رکھا تھا، کہنے لگا میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی کمان اٹھا کر تجھے دے ماروں، اس نے کہا کہ تھوڑا سا انتظار کرلو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر ان سے یہ مسئلہ پوچھ لینا، چنانچہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بوسہ دیدیا کر تے تھے اور اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے، لوگوں نے کہا اے ابوشبل! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسکی مزید وضاحت پوچھو، انہوں نے کہا کہ آج میں ان کے یہاں بے تکلف کھلی گفتگو نہیں کر سکتا، چنانچہ لوگوں نے خود ہی پوچھ لیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کر تے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ يَعْنِي أَبَا يَعْفُورٍ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ تَذْكُرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ قَالَ سُفْيَانُ وَاحِدَةٌ مِنْ آخِرِ وَجَدَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَت جگا فرماتے، اپنے اہلِ خانہ کو جگاتے اور کمر بند کس لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَبِيًّا لِلْأَنْصَارِ لَمْ يَبْلُغْ السِّنَّ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ قَالَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک انصاری بچہ فوت ہو گیا تو) میں عرض کیا یا رسول اللہ! انصار کا یہ نابالغ بچہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہیں کوئی اور بات کہنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور یہ اسی وقت ہو گیا تھا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ مُنْذِرٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ عَائِشَةَ تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ قَالَتْ وَفِيهِمْ أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں گناہوں کا غلبہ ہو جائے تو اللہ اہلِ زمین پر اپنا عذاب نازل فرمائیگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ کی اطاعت کرنے والے لوگوں کے ان میں ہونے کے باوجود؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر وہ اہلِ اطاعت اللہ کی رحمت کیطرف منتقل ہو جائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَمَّةٍ لَهُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہو ئے جب تک کہ عورتیں ان کیلئے حلال نہ کردی گئیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْهُ هَذَا قَالَ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، کچھ لوگوں نے کہا یارسول اللہ! ہم نہیں سمجھتے تھے کہ بات یہاں تک جا پہنچے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اسکی جگہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔
-
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کر دیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَعْصِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامًا عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں، اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی، اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کیطرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقامِ "ابطح" میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلادھار ہو اور نفع بخش.
-
قَالَ وَسَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاكِ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا مسواک۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي اسْتَحَضْتُ فَقَالَ دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا نَسِيئَةً فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا، اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ يَعْلَى عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَل بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ وَقَالَ مَرَّةً عُتِقَتْ خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَتْ وَأَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کا خاوند آزاد آدمی تھا، جب بریرہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خیارِ عتق دے دیا، اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں کہ اس کے مالک اسے بیچنا چاہتے تھے لیکن وَلاء کی شرط نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جس وقت نکاح کیا تو ان کی عمر نوے سال تھی اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ الصَّلَاةَ يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَتْ أَلَا أَرَاهُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گذرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹو ٹ جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا ہے، حالانکہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چارپائی کی پائنتی کی جانب سے کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ با جودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے اور اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا إِلَى الْبَيْتِ فَقَلَّدَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا اور اس کے گلے میں قلادہ باندھ دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْه بِهَا خَطِيئَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے ایک درجہ بلند اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَكُفِّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے ایک درجہ بلند اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحَى أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ قَالَ فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ لَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مہمان قیام پذیر ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا زرد رنگ کا لحاف اسے دینے کا حکم دیا، وہ اسے اوڑھ کر سوگیا، خواب میں اس پر غسل واجب ہو گیا، اسے اس بات سے شرم آئی کہ اس لحاف کو گندگی کے نشان کے ساتھ ہی واپس بھیجے اس لئے اس نے اسے پانی سے دھو دیا اور پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس بھیج دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس نے ہمارا لحاف کیوں خراب کیا؟ اس کیلئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ اسے انگلیوں سے کھر چ دیتا، کئی مرتبہ میں نے بھی اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثَانِ ذَاكَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ لَا أَحْفَظُ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ قَالَ انْتَظِرِي فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ ثُمَّ الْقَيْنَا وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ وَافِينَا بِجَبَلِ كَذَا وَكَذَا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ كَذَا وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ أَوْ قَدْرِ نَفَقَتِكِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ دو عبادتیں (حج اور عمرہ) کر کے جا رہے ہیں اور میں ایک ہی عبادت (حج) کر کے جا رہی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انتظار کرلو، جب پاک ہو جاؤ تو تنعیم جا کر وہاں سے عمرے کا احرام باندھ لینا، پھر عمرہ کر کے فلاں فلاں پہاڑ پر ہم سے آملنا، لیکن یہ تمہارے حصے یا خرچ کے مطابق ہو گا، یا جیسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو وَهُوَ يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت عبدللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر کے بال کھول لیا کریں، انہوں نے فرمایا عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو غسل کر تے وقت سر کے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں، وہ انہیں سر منڈوا دینے کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین مرتبہ سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَغْتَسِلَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہو تا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے، پھر جب سونے کے بعد بیدار ہوتے تب غسل فرماتے ۔
-
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی۔ وہ تم میں سے کس میں ہو سکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثر ت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن کریم پر عمل فر ماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا وَلَا مَرِيضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاهِدًا فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
قابوس اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے ایک عورت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کیلئے بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نماز کی پابندی کرنا زیادہ محبوب تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان میں طویل قیام فرماتے تھے اور خوب اچھی طرح رکوع و سجود کرتے تھے اور وہ نماز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے خواہ تندرست ہوں یا بیمار، غائب ہوں یا حاضر تو وہ فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نعش کو بسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي حَزْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کی اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَتْ فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں، وہ کہتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق وہ اتنی ہی مقدار بنتی تھی کہ جس میں کوئی اتر آئے اور کوئی چڑھ جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ يَعْنِي رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ بہت بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، حالانکہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہو تی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانا چاہتے تو میرے پاؤں میں چٹکی کا ٹ دیتے ، میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور وہ سجدہ کر لیتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْفَقَتْ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِذَا أَطْعَمَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيةَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُ ذَلِكَ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ قَالَ حَدَّثَتْنِى عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ قَالَ سَمِعْتُ خِلَاسًا قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَبِيتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ قَالَتْ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَهُ لَمْ يَعْدُ مَكَانَهُ وَصَلَّى فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چادر میں لیٹ جایا کر تے تھے باوجودیکہ میں ایام سے ہوتی تھی، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر مجھ سے کچھ لگ جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی جگہ کو دھولیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں اور پھر اسی میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ أَوْ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّكُمْ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے یا اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فر ما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ لَا يَنْقُصُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ شَيْئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيْهَا يَهُودِيَّةٌ اسْتَوْهَبَتْهَا طِيبًا فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ فَقَالَتْ أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِلْقَبْرِ عَذَابًا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، اس نے مجھ سے خوشبو مانگی، میں نے اسے دے دی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، وہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قبر میں بھی عذاب ہو تا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لوگوں کو قبروں میں عذاب ہو تا ہے جنہیں درندے اور چوپائے سنتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا قَالَتْ فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَاهَدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً وَكَذَا وَكَذَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترشی کے ساتھ انہیں سخت سست کہا، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! جس کو بھی آپ کی جانب سے خیر پہنچی ہو، لیکن ان دونوں کو خیر نہیں پہنچی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے اپنے رب سے عہد کیا ہے کہ کہ اگر میں کسی مومن کو لعنت ملامت کروں تو تو ان کلمات کو اس کے لئے مغفرت اور عافیت وغیرہ کا ذریعہ بنا دے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ قَوْمٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمایاں ہو گئے ، پھر فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، بخدا میں ان سب سے زیادہ خدا کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا قَالَتْ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پر وردگار! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام تھا جو میں نے سنا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَرَقَهَا سَارِقٌ فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَتْ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَيَحْيَى الْمَعْنَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ قِيلَ فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَكَلَّمَ قَالَ سُكُوتُهَا إِذْنُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، کسی نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقُلْنَا أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا قَالَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ قَالَتْ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، وہ کہتی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیروے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ پیر کا دن ختم ہو کر منگل کی رات شروع ہوئی تو وہ فوت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَ وَعُتِقَتْ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَتْ وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کے حوالے سے تین قضیے سامنے آئے، اس کے مالک چاہتے تھے کہ اسے بیچ دیں اور وراثت کو اپنے لئے مشروط کرلیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کر تا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا، اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا ( اپنے خاوند سے نکاح ختم کر دیا) نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کر دیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہو تاہے، اور اس کی طرف سے تمہارے لئے ہدیہ ہو تا ہے لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةٌ تَدْخُلُ عَلَيْهَا تَذْكُرُ مِنْ اجْتِهَادِهَا قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمَةَ وَأَخَذَ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْخَمِيصَةَ هِيَ خَيْرٌ مِنْ الْأَنْبِجَانِيَّةِ قَالَ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ يَقْرَأُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی"جتنی اللہ کو منظور ہوتی"نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانَ فَيَدْعُو لَهُمْ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچوں کو لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی بہا دو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى مَعْنَاهُ يَعْنِي لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات "جو سود سے متعلق ہیں" نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ لَقَدْ جَاءَتْ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُكَلِّمُهُ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کو گھیرے ہوئے ہے، ایک جھگڑنے والی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہی تھی، میں گھر کے ایک کونے میں ہونے کے باوجود اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی لیکن اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی: " اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑا کر رہی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ حَمْزَةُ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چا ہو تو رکھ لو، اور چاہو تو نہ رکھو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةً وَإِنَّ مَوَادَّ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کا ایک مادہ ہو تا ہے اور قریش کا مادہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ تُبَالَةَ بِنْتِ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ فَنَطْرَحُهَا فِي السِّقَاءِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا أَوْ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا کر تے تھے اور وہ اس طرح کہ ہم لوگ ایک مٹھی کشمش یا کھجور لے کر اسے مشکیزے میں ڈال دیتے اور اوپر سے پانی ڈالتے تھے، رات بھر وہ یوں ہی پڑا رہتا اور صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمالیتے ، اگر دن کے وقت ایسا کیا جا تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اسے نوش فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس شانے کی کوئی ہڈی یا تختی لے کر آؤ کہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھوا دوں جس میں ان سے اختلاف نہ کیا جا سکے، جب عبدالرحمن کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر! اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کردیں گے کہ آپ کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحِسَابِ وَلَكِنَّ ذَلِكَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہو جائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا "عنقریب آسان حساب لیا جائے گا" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہو گا وہ تو سر سری پیشی ہوگی، اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرما یا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ قَالَتْ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ قَالَتْ رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ يُخَافِتُ بِهِ قَالَتْ رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَافَتَ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں غسل فرمالیتے تھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں، اس پر میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے، اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے یا آخر میں؟ انہوں نے فر مایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں ، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرات فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفَهُمْ بِأَهْلِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کامل ترین ایمان والا وہ آدمی ہو تا ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہوں اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُكِحَتْ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ مَوْلَاهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ قَالَ وَكَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ السُّلْطَانُ الْقَاضِي لِأَنَّ إِلَيْهِ أَمْرَ الْفُرُوجِ وَالْأَحْكَامِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہو جائے گا، اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
-
قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا غَسَلَتْ مَنِيًّا أَصَابَ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادۂ منویہ کو دھو دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ وَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمْ الَّذِينَ عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوهُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں، اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے ، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص مشقت اور برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَ فَقَالَتْ أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَتْ كَذَاكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ وَقَالَ يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السَّحُورَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ قُلْنَا لِعَائِشَةَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ فَذَكَرَهُ
ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مسروق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی ہیں، ان میں سے ایک صحابی افطار میں بھی جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی، جبکہ دوسرے صحابی افطار میں بھی تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی، انہوں نے فرمایا کہ افطار اور نماز میں عجلت کون کر تے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کر تے تھے، اور دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ قَالَ أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ فَيَتَجَاوَزَ عَنْه إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ عَنْه حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! میرا حساب آسان کر دیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگذر کیا جائے، عائشہ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہو جائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرمادیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهِ إِذَا مَرِضَ فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى الرَّفِيقُ الْأَعْلَى يَعْنِي وَفَاضَتْ نَفْسُهُ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گر گئی ، یہ دیکھ کر میں وہ دعائیں پڑھنے لگیں جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے موقع پر پڑھتے تھے لیکن اس موقع پر انہوں نے وہ دعائیں نہیں پڑھی تھیں، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا رفیق اعلیٰ، رفیق اعلیٰ اور اسی دم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کر گئی، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہو جاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ حَوِّلِي هَذَا فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَهُ قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، جب کوئی آدمی گھر میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے اس کی نظر اسی پر پڑتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں، ہم اسے اوڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ سَائِبَةَ عَنْ عَائِشَةَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ وَأَمَرَنَا بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ قَالَ إِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنِّي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کر دیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَيَقُولُ أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونِيهِ فَتَقُولُ لَا مَا أَصْبَحَ عِنْدَنَا شَيْءٌ كَذَاكَ فَيَقُولُ إِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَخَبَأْنَاهَا لَكَ قَالَ مَا هِيَ قَالَتْ حَيْسٌ قَالَ قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے، اور روزے سے ہوتے، پھر پوچھتے کہ آج صبح تمہارے پاس کچھ ہے جو تم مجھے کھلا سکو؟ وہ جواب دیتیں کہ نہیں، آج ہمارے پاس صبح کے اس وقت کچھ نہیں ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ پھر میں روزے سے ہی ہوں، اور کبھی آتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ دیتیں کہ ہمارے پاس کہیں سے ہدیہ ہے جو ہم نے آپ کے لئے رکھا ہوا ہے جیسا کہ ایک موقع پر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ حیس(ایک قسم کا حلوہ) ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے صبح تو روزے کی نیت کی تھی، پھر اسے تناول فرما لیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ أَبِي وَكَانَ ثِقَةً وَيُقَالُ لَهُ ابْنُ عَمَّارِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ مَدِينِيٌّ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُضِّلَتْ الْجَمَاعَةُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جماعت کے ساتھ نماز کی فضیلت تنہا نماز پڑھنے پر پچیس درجے زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَا عَائِشَةُ مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ فَجَاءَتْ مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوْ الثَّمَانِيَةِ أَوْ التِّسْعَةِ فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ لَقِيَهُ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ پانچ سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جبکہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کر دو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ رَبِّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثر ت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ رَبِّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن پر عمل فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہو تا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ فَأَقُولُ قَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں"۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ أَتَى مَسْرُوقٌ عَائِشَةَ فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ قَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَمَنْ أَخْبَرَكَ بِمَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور عرض کیا اے ام المومنین! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ! تمہاری بات سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں، تم ان تین باتوں سے کیوں غافل ہو؟ جو شخص بھی تمہارے سامنے یہ باتیں بیان کرے ، وہ جھوٹ بولتا ہے، جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی"نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے، نیز یہ آیت کہ کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ سے اس باتیں کرے، سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو یا پردہ کے پیچھے سے ہو۔" اور جو شخص تمہیں آئندہ کل کی خبر یں دے، وہ جھوٹ بولتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی "اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور جو شخص تمہیں یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چھپایا ہے، تو وہ بھی جھوٹ بولتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی "اے رسول! وہ تمام چیزیں پہنچا دیجئے جو آپ پر نازل کی گئی ہیں۔" البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل امین کو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحُمَّى أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّى أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار یا اس کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہو تی ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينَا إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ قَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! ابوسفیان ایک ایسے آدمی ہیں جن میں کفایت شعاری کا مادہ کچھ زیادہ ہی ہے، اور میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتاہے جو وہ گھر میں لاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے مال میں سے اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو جائے لیکن یہ ہو بھلے طریقے سے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقِدُونَ فِيهِ نَارًا لَيْسَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللَّحْمِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مہینہ مہینہ ایسا گذر جاتا تھا جس میں وہ آگ تک نہیں جلاتے تھے، اور ان کے پاس کھجور اور پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہو تا تھا، الا یہ کہیں سے گوشت آجائے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَيَقُولُ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں اعتکاف کر تے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي يَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا يَكْشِفُ الْكَرْبَ إِلَّا أَنْتَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
عروہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یہاں کبھی بھی عصر کے بعد دو رکعتیں ترک نہیں فرمائیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان بستر پر لیٹی ہوتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگتے تو مجھے جگا دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی نے جادو کردیا، جس کے اثر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے، حالانکہ وہ نہیں کیا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ فَيُسَلِّمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ ذَبَحُوا شَاةً قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا قَالَ كُلُّهَا قَدْ بَقِيَ إِلَّا كَتِفَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب اس کا صرف شانہ باقی بچا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں سمجھو کہ اس شانے کے علاوہ سب کچھ بچ گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ وَابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ و عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا فُلَانَةُ لِامْرَأَةٍ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ، اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کر و جن کی تم میں طاقت بھی ہو، بخدا اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھانا پیش کردیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّمَا قَالَ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، انہیں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ قَالَ جَاءُوا بِعُسٍّ فِي رَمَضَانَ فَحَزَرْتُهُ ثَمَانِيَةَ أَوْ تِسْعَةَ أَوْ عَشْرَةَ أَرْطَالٍ فَقَالَ مُجَاهِدٌ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِمِثْلِ هَذَا
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ لوگ ماہ رمضان میں ایک بڑا پیالہ لے کر آئے، میں نے اندازہ لگایا کہ اس میں آٹھ نو یا دس رطل پانی ہو گا، تو مجاہد نے بتایا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے پانی سے غسل فرمالیا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ يَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا الَّذِي نَهَيْتَ عَنْهُ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنْهُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَافَّتْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دفعہ بقر عید کے قریب اہل دیہات میں غونیا کی بیماری پھیل گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کا گوشت کھاؤ اور صرف تین دن تک ذخیرہ کرکے رکھو، اس واقعے کے بعد کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ! لوگ اپنی قربانی کے جانوروں سے فائدہ اٹھاتے تھے، اور ان کی چربی پگھلا لیا کر تے تھے اور اس کے مشکیزے بنا لیا کر تے تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اب کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اس بیماری کی وجہ سے منع کیا تھا جو پھیل رہی تھی، اب تم اسے کھاؤ صدقہ کرو یا ذخیرہ کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کر دیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جا تا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ أَتَصَدَّقْ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری والدہ کی روح قبض ہو گئی ہے، میرا گمان یہ ہے کہ اگر وہ کچھ بول سکتیں تو کچھ صدقہ کرنے کا حکم دیتیں ، اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو کیا انہیں اس کا اجر ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں!
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَبِي وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْمَعْنَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبِي قَالَ وَكِيعٌ إِنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ ایک کنیسے کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور جس میں تصاویر بھی تھیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تھا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنالیتے تھے، اور وہاں یہ تصویرں بنا لیتے تھے، وہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین مخلوق ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ أَبِي سَهْلَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوا لِي بَعْضَ أَصْحَابِي قُلْتُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ لَا قُلْتُ عُمَرُ قَالَ لَا قُلْتُ ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ قَالَ لَا قَالَتْ قُلْتُ عُثْمَانُ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ تَنَحَّيْ جَعَلَ يُسَارُّهُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ فِيهَا قُلْنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُقَاتِلُ قَالَ لَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے پاس بلاؤ، میں نے عرض کیا ابوبکر کو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا عمر کو، فرمایا نہیں، میں عرض کیا عمر کو؟ فرمایا نہیں، میں عرض کیا عثمان کو بلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہاں سے ہٹ جانے کے لئے فرمایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدلتا رہا، پھر جب یوم الدار کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو ہم نے ان سے کہا امیر المومنین! آپ قتال کیوں نہیں کر تے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میں اس پر ثابت قدم رہوں گا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتْ الْكِلَابُ قَالَتْ أَيُّ مَاءٍ هَذَا قَالُوا مَاءُ الْحَوْأَبِ قَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ فَيُصْلِحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ
قیس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمراہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کروادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہو گی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ يَقُولُ إِنَّهُ يُصِيبُ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسُ الْبَصَرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سانپوں کو جو دم کٹے ہوں یا دودھاری ہوں مارنے کا حکم دیتے تھے کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ لِيُحَنِّكَهُ فَأَجْلَسَهُ فِي حَجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ قَالَ وَكِيعٌ فَأُتْبِعَهُ إِيَّاهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچوں کو لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی بہادو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كَانَ يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ فَيَغْسِلُهُمَا قَالَ وَكِيعٌ يَغْسِلُ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ أُصُولَ شَعَرِ رَأْسِهِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ اغْتَرَفَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهُنَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ غَرَفَ بِيَدَيْهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے، اور جب یقین ہو جاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی رات کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی "جتنی اللہ کو منظور ہوتی" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسِيرٍ فَلَهَوْتُ عَنْهُ فَذَهَبَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْأَسِيرُ قَالَتْ لَهَوْتُ عَنْهُ مَعَ النِّسْوَةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَا لَكِ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ أَوْ يَدَيْكِ فَخَرَجَ فَآذَنَ بِهِ النَّاسَ فَطَلَبُوهُ فَجَاءُوا بِهِ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ فَقَالَ مَا لَكِ أَجُنِنْتِ قُلْتُ دَعَوْتَ عَلَيَّ فَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ أَنْظُرُ أَيُّهُمَا يُقْطَعَانِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَوْ مُؤْمِنَةٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَطُهُورًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں ایک قیدی کو لے کر آئے، میں عورتوں کے ساتھ لگ کر اس سے غافل ہو گئی اور وہ بھا گ گیا، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو فرمایا وہ قیدی کہاں گیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں عورتوں کے ساتھ لگ کر غافل ہو گئی تھی، اسی دوران وہ بھاگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کرے تمہارے ہاتھ ٹوٹیں، یہ تم نے کیا کیا؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر جا کر لوگوں میں اس کی منادی کرا دی، لوگ اس کی تلاش میں نکلے اور اسے پکڑ لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ تم دیوانی تو نہیں ہوگئیں؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے مجھے بددعادی تھی، اس لئے میں اپنے ہاتھ پلٹ کر دیکھ رہی ہوں کہ ان میں سے کون سا ہاتھ ٹوٹے گا؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اللہ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اور دوسرے انسانوں کی طرح مجھے بھی غصہ آتا ہے، سو میں نے جس مومن مرد و عورت کو بددعا دی ہو تو اسے اس کے حق میں تزکیہ اور طہارت کا سبب بنادے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ قَالَ يَحْيَى أُرَاهُ سَمَّى لِي أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ وَلَكِنْ نَسِيتُ اسْمَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ حَرْبٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ فِي بَيْتِهِ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا نَقَضَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کردیتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي قُلْتُ كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ لَا تَلُدُّونِي قَالَ لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں، ان کے منہ میں دوا ٹپکا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اشارہ سے منع کرتے رہ گئے کہ میرے منہ میں دوا نہ ڈالو، ہم سمجھے کہ یہ اسی طرح ہے جیسے ہر بیمار دوائی کو ناپسند کرتاہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ میرے منہ میں دوا نہ ڈالو، اب عباس کے علاوہ اس گھر میں کوئی بھی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے ، کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهُ أَجْرًا وَكَفَّارَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے لئے باعث اجر اور کفارہ بن جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حَاتِمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مرد و عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوںگے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس وقت کا معاملہ اس سے بہت سخت ہو گا کہ لوگ اس طرف توجہ کر سکیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَيْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوِّلِيهِ فَإِنِّي إِذَا رَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ نَلْبَسُهَا يَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں، ہم اسے اوڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُعَذَّبُ فِي الْقُبُورِ قَالَ عَائِذٌ بِاللَّهِ فَرَكِبَ مَرْكَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَةِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ قَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ أَيْسَرَ مِنْ سُجُودِهِ الْأَوَّلِ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فَتَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک یہودی عورت کچھ مانگنے آئی اور کہنے لگی کہ اللہ تمہیں عذاب قبر سے بچائے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہمیں قبروں میں عذاب ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی پناہ! اور سواری پر سوار ہوگئے، اسی دوران سورج گرہن ہو گیا، میں بھی نکلی اور دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ ابھی حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے، وہ اپنے مصلیٰ پر تشریف لے گئے ، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کی نیت باندھ لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر کافی دیر تک کھڑے رہے، پھر دوبارہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا، پھر لمبا سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے لیکن اس مرتبہ کا قیام پہلی رکعت کی نسبت مختصر تھا، اسی طرح پہلا رکوع پہلی رکعت کے پہلے رکوع ، قیام پہلے قیام سے ، دوسرا رکوع پہلے رکوع سے اور سجدہ پہلے سجدہ کی نسبت مختصر تھا، اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اسی دوران سورج بھی روپوش ہوگیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبروں میں تمہاری آزمائش اس طرح ہوگی جیسے دجال کے ذریعے آزمائش ہوگی، اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ثُمَّ يُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْتِ عَائِشَةَ فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ حَكِيمٌ وَعَرَفَتْهُ قَالَ نَعَمْ أَوْ بَلَى قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَتِهِ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وَتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِي رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخِذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقْتَ أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً
حضرت زرارہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کا ارادہ کیا تو وہ مدینہ منورہ آگئے اور اپنی زمین وغیرہ بیچنے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ خرید سکیں اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کریں تو جب وہ مدینہ منورہ میں آگئے اور مدینہ والوں میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاۃ طیبہ میں چھ آدمیوں نے بھی اسی طرح کا ارادہ کیا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اس طرح کرنے سے روک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں ہے؟ جب مدینہ والوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنی اس بیوی سے رجوع کیا جس کو وہ طلاق دے چکے تھے اور اپنے اس رجوع کرنے پر لوگوں کو گواہ بنا لیا۔ پھر وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا کی طرف آئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا میں تجھے وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں جانتا ہے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ کون ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تو ان کی طرف جا اور ان سے پو چھ پھر اس کے بعد میرے پاس آ اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس سے باخبر کرنا۔ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا) کہ میں پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلا (اور پہلے میں) حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لے کر چلو۔ وہ کہنے لگے کہ میں تجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف لے کر نہیں جاسکتا کیونکہ میں نے انہیں اس بات سے روکا تھا کہ وہ ان دو گروہوں(علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ) کے درمیان کچھ نہ کہیں تو انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان پر قسم ڈالی تو وہ ہمارے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف آنے کے لئے چل پڑے اور ہم نے اجازت طلب کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہو ئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حکیم بن افلح کو پہچان لیا اور فرمایا کیا یہ حکیم ہیں؟ حکیم کہنے لگے کہ جی ہاں! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ سعد بن ہشام ہیں، آپ(عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا : ہشام کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ عامر کا بیٹا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عامر پر رحم کی دعا فرمائی اور اچھے کلمات کہے۔ میں نے عرض کیا اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتایئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا پڑھتا ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تو تھا، حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہو کر جاؤں اور مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی نماز) کے قیام کے بارے میں بتائیے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے یاایھا المزمل نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء ہی میں رات کا قیام فرض کردیا تھا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک سال رات کو قیام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک آسمان میں روک دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو پھر رات کا قیام (تہجد) فرض ہونے کے بعد نفل ہو گیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم آپ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ کو رات کو جب چاہتا بیدار کردیتا تو آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور نو رکعات نماز پڑھتے۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کر تے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کر تے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے۔ پھر آپ سلام پھیرتے اور سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے۔ پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔ اے میرے بیٹے! پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نور رکعتیں ہوئی۔ اے میرے بیٹے! اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند فرماتے کہ اس پر دوام (ہمیشگی) کی جائے اور جب آپ پر نیند کا غلبہ ہو تا یا کوئی درد وغیرہ ہوتی کہ جس کی وجہ سے رات کا قیام (تہجد) نہ ہو سکتا ہو تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھتے اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ نے صبح تک ساری رات نماز پڑھی ہو اور نہ ہی یہ کہ آپ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور ان سے اس ساری حدیث کو بیان کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سچ فرمایا اور اگر میں ان کے پاس ہو تا یا ان کی خدمت میں حاضری دیتا تو میں یہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بالمشافہ (براہ راست) سنتا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي حَزْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر اور بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کی اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي فَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں مجھ سے نکاح فرمایا اور شوال ہی میں مجھے ان کے یہاں رخصت کیا گیا، اب یہ بتاؤ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ کس بیوی کا حصہ تھا؟ (لہٰذا یہ کہنا کہ شوال کا مہینہ منحوس ہے، غلط ہے) اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند فرماتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی ماہ شوال ہی میں ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھا پی سکتے ہو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں، وہ کہتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق وہ اتنی ہی مقدار بنتی تھی کہ جس میں کوئی اتر آئے اور کوئی چڑھ جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ يَعْنِي رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا إِلَيَّ ثُمَّ سَجَدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں میں چٹکی بھر دیتے ، میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور وہ سجدہ کر لیتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيْ أُمَّتَاهُ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَالَتْ تِسْعًا قَائِمًا وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا اماں جان! نماز عشأ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نور کعتیں کھڑے ہو کر، دو رکعتیں بیٹھ کر اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہو تے وقت کچھ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہو تے وقت یوں کہتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں رہے گا اور اس کا منہ مٹی کے علاوہ کسی چیز سے نہیں بھر سکتا، ہم نے تو مال بنایا ہی اس لئے تھا کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰ ۃ ادا کی جائے، اور جو تو بہ کر تا ہے، اللہ اس کی تو بہ کو قبول فرمالیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبْغَضُ الرِّجَالِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں بو سہ دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ أَنَا وابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ إِنَّا لَنَسْمَعُهَا تَسْتَنُّ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا أُمَّتَاهُ مَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ مَا يَقُولُ قُلْتُ يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَسِيَ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَ وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ فَمَا قَالَ لَا وَلَا نَعَمْ سَكَتَ
عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! عروہ نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں(لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید کی اور نہ تردید ، بلکہ خاموش رہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي وَكُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے، اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ایام سے ہونے کے باوجود دھو دیتی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَ عَلَیہِ وَ رَحمَۃُ اللَہِ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی ایام میں خصوصی اعمال کے متعلق پوچھا ا نہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی۔ وہ تم میں سے کس میں ہو سکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہو تا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِنْسَانٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا نَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبر کو ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس عمل سے بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِىءٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کر تا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کر تا ہے، اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي فَعُمَرُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلی امتوں میں کچھ لوگ محدث(جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہو تا ہو) ہوئے تھے، اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نعش کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہو جائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہو سکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بے خبری میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وبائی علاقہ تھا، جس کی بناء پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی اے اللہ ! ہمیں مدینہ کی ویسی ہی بلکہ اس سے زیادہ محبت عطاء فرما جیسے ہم مکہ سے محبت کر تے ہیں، اسے ہمارے موافق فرما، اس کے مد اور صاع میں ہمارے لئے برکتیں پیدا فرما اور یہاں کا بخار جحفہ کی طرف منتقل فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنْ الْعَمَلِ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَتْ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی ایسے کام کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں اور وہ کہتے یا رسول اللہ ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو جاتے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ لِحَاجَتِهَا لَيْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ وَكَانَتْ امْرَأَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جَسِيمَةً فَوَافَقَهَا عُمَرُ فَأَبْصَرَهَا فَنَادَاهَا يَا سَوْدَةُ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ أَوْ كَيْفَ تَصْنَعِينَ فَانْكَفَأَتْ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ لَهَا عُمَرُ وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِي يَدِهِ فَقَالَ لَقَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجاب کا حکم نازل ہو نے کے بعد ایک مرتبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قضاء حاجت کے لئے نکلیں، چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر دور سے ہی پکارا سودہ! بخدا جب تم نکلتی ہو تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتیں اس لئے دیکھ لیا کرو کہ کس کیفیت میں باہر نکل رہی ہو، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا الٹے قدموں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئیں ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات ذکر کی ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی، اسی لمحے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو نے لگی، جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں وہ ہڈی اسی طرح تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اپنی ضروریات کے لئے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُقَبِّلُ الصِّبْيَانَ فَوَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَزَعَ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ بچوں کو چومتے ہیں؟ بخدا ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو اس بات پر قدرت نہیں ہے کہ جب اللہ ہی نے تیرے دل سے رحمت کو کھینچ لیا ہے (تو میں کیسے ڈال دوں؟)۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں ایک تیر آکر لگا جو قریش کے "حبان بن عرقہ" نامی ایک آدمی نے انہیں مارا تھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ہی ان کا خیمہ لگوا دیا تاکہ قریب ہی سے ان کی عیادت کرلیا کریں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَعَلَى رَأْسِهِ الْغُبَارُ قَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهَا اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ قَالَ هَاهُنَا فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقَتَّلَ الْمُقَاتِلَةُ وَتُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ قَالَ هِشَامٌ قَالَ أَبِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبریل اس حال میں حاضر ہوئے کہ ان کے سر پر گردوغبار پڑا ہوا تھا اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا؟ بخدا میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ ان کی طرف روانہ ہو جائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس طرف؟ انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہاں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے، اور وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اپنے قلعوں سے اتر نے کے لئے تیار ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، انہوں نے فرمایا میں یہ فیصلہ کر تا ہوں کہ ان کے جنگجو لوگ قتل کر دیئے جائیں، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور ان کا مال و دولت تقسیم کرلیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ قَالَتْ فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَطَأْطَأَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ حَتَّى شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الْمَعْنَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ جَعَلْتُهَا عَلَى أُسِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّ قُرَيْشًا يَوْمَ بَنَتْهَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ خِلْفًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہو تا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کر تا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اس کا ایک دروازہ پیچھے سے بھی نکالتا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَيَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي فَإِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَمَّقْنَ مِنْهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُهُنَّ عَلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مری ہے کہ کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہو جاتیں، اور جوں ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا فَأَدْرَكَتْهُمْ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریۃً ایک ہار لیا تھا، دوران سفر وہ کہیں گر کر گم ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وہ ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا، ہار تو انہیں مل گیا لیکن نماز کا وقت ہو گیا تھا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے کا ارادہ کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما دیا، اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، بخدا آپ پر جب بھی کوئی مشکل پیش آئی ہے جسے آپ ناگوار سمجھتی ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے اسی میں آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے خیر رکھ دیا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنْ يَفْعَلَ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ قَالَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ شَعَرْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوْ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ أَرْوَانَ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا أَحْرَقْتَهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا قَالَتْ فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی "جس کا نام لبید بن اعصم تھا" نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کر لیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتا دیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پوچھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشئہ غلاف میں، اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتایا کہ "اروان" نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہو تا ہے، اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگا کر تے تھے کہ اے اللہ! میں جہنم کے فتنے سے اور عذاب جہنم سے، قبر کے فتنے سے اور عذاب قبر سے، مالداری کے فتنے اور تنگدستی کے فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیتا ہے، اور میرے گناہوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ پیدا فرما دے، اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، گناہوں اور تاوان سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قِيلَ لَهَا إِنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ قَالَتْ وَهِلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّمَا قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْمَيِّتِ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِجُرْمِهِ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو تا ہے، کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہو گیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میت والے اس پر رو رہے ہو تے ہیں اور اسے اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہورہا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي مَرَضِهِ وَهُوَ جَالِسٌ فَصَلَّى وَخَلْفَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کر دیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جا تا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ فَقَالَ عَمَّارٌ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ فَقَالَتْ السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى حَتَّى أَعَادَهَا عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِهْتِ قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا الْأَشْتَرُ قَالَتْ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي قَالَ نَعَمْ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَهُ قَالَتْ أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مَنْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ كَفَرَ بَعْدَمَا أَسْلَم أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِهَا
عمرو بن غلاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، عمار اور اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان! السلام علیک انہوں نے جواب میں فرمایا: السلام علی من اتبع الھدی "(اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار نے دو تین مرتبہ انہیں سلام کیا اور پھر کہا کہ بخدا آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور اے عمار! تم نے یا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جانا، یا کسی شخض کو قتل کرنا جس بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِىءٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ تَكُنْ صَلَاةٌ أَحْرَى أَنْ يُؤَخِّرَهَا إِذَا كَانَ عَلَى حَدِيثٍ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَمَا صَلَّاهَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعًا أَوْ سِتًّا وَمَا رَأَيْتُهُ يَتَّقِي عَلَى الْأَرْضِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنِّي أَذْكُرُ أَنَّ يَوْمَ مَطَرٍ أَلْقَيْنَا تَحْتَهُ بَتًّا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى خَرْقٍ فِيهِ يَنْبُعُ مِنْهُ الْمَاءُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ بَتًّا يَعْنِي النِّطَعَ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
شریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی گفتگو میں مشغول ہوتے تو نماز عشاء سے زیادہ کسی نماز کو موخر کرنے والے نہ تھے، اور نماز عشاء پڑھ کر جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ضرور پڑھتے تھے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین پر کسی چیز سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ ایک دن کا واقعہ مجھے یاد ہے کہ بارش ہورہی تھی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے موٹا کپڑا بچھا دیا، تو میں نے دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس سے پانی اندر آرہا تھا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَزَّمَةً ثُمَّ قَالَ لِي يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ
شریح حارثی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیہات میں جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی تو ڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات سردی کی صبح میں وحی نازل ہو تی تھی اور ان کی پیشانی پسینے سے تر ہوجاتی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھ سے نکاح فرمانے سے تین سال قبل ہی وہ فوت ہو گئی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا بکثرت ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں لکڑی کے ایک عظیم الشان مکان کی خوشخبری دے دیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کر تے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعَلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی حصے سے داخل ہوئے تھے اور عمرے میں نشیبی حصے سے داخل ہوئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَزِعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَفَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَدْتُ يَدِي فَوَقَعَتْ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مُنْتَصِبَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں سخت خوفزدہ ہو گئی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نے ہاتھ بڑھا کر محسوس کرنے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے ٹکرا گئے جو کھڑے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، اور یہ دعا فر مارہے تھے کہ اے اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ فَذَكَرَ مِنْ بُكَائِهِنَّ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَإِنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ فَزَعَمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْثُوا فِي وُجُوهِهِنَّ التُّرَابَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ وَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا قَالَ لَكَ وَلَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ، اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہو یدا تھے ، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کر دو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے ، بخدا تو وہ کر تا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دیتے ہیں اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ يَجْعَلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ثَوْبًا يَعْنِي الْفَرْجَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کے جسم کے ساتھ اپنا جسم ملا لیتے تھے اور اپنے اور ان کے درمیان کپڑا حائل رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنْ الْإِزَارِ فِي النَّارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہو گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَى وَيُحِبُّ الْعَسَلَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ لَهُ ذَلِكَ فَقُولِي لَهُ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِرَ قَالَ لَا قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ قُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ قَالَ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیزیں اور شہد محبوب تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے اور انہیں اپنا قرب عطا فرماتے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو معمول سے زیادہ وقت تک ان کے پاس رکے رہے ، میں نے اس کے متعلق پوچھ گچھ کی تو مجھے معلوم ہو ا کہ حفصہ کو ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کا ایک برتن ہدیہ میں بھیجا ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ شہد پلایا ہے (جس کی وجہ سے انہیں تاخیر ہوئی) میں نے دل میں سوچا کہ بخدا میں ایک تدبیر کروں گی، چنانچہ میں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے اس واقعے کا تذکرہ کیا اور ان سے کہلایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم ان سے کہہ دینا یا رسول اللہ! کیا آپ نے مغافیر (ایک خاص قسم کا گوند جس میں بد بو ہو تی ہے) کھایا ہے؟ وہ کہیں گے کہ نہیں ، تم ان سے کہنا کہ پھر یہ بد بو آپ کے منہ سے کیسی آرہی ہے؟ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے بہت سخت نفرت ہے، اس لئے وہ کہہ دیں گے کہ مجھے حفصہ نے شہد پلایا ہے ، تم ان سے کہہ دینا کہ شاید شہد کی مکھی اس کے درخت پر بیٹھ گئی ہو گی، میں بھی ان سے یہی کہوں گی، اور صفیہ! تم بھی ان سے یہی کہنا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے تو وہ کہتی ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تمہارے خوف سے میں یہ بات اسی وقت کہنے لگی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دروازے پر ہی تھے، بہر حال! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو میں نے حسب پروگرام وہی بات کہہ دی اور وہی سوال جواب ہوئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی یہیں کہا، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کو شہد نہ پلاؤں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی طلب نہیں ہورہی، اس پر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کو چھڑادیا، میں نے ان سے کہا کہ تم تو خاموش رہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا وَمَا عَلِمْتُ بِهِ فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي نَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي سُوءًا قَطُّ وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَ كَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كَانُوا مِنْ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ حَتَّى كَادُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ فِي الْمَسْجِدِ شَرٌّ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ فَسَكَتَتْ فَعَثَرَتْ الثَّانِيَةَ فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ثُمَّ عَثَرَتْ الثَّالِثَةَ فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَانْتَهَرْتُهَا فَقُلْتُ عَلَامَ تَسُبِّينَ ابْنَكِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ فَقُلْتُ فِي أَيِّ شَأْنِي فَذَكَرَتْ لِي الْحَدِيثَ فَقُلْتُ وَقَدْ كَانَ هَذَا قَالَتْ نَعَمْ وَاللَّهِ فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَكَانَ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَمْ أَخْرُجْ لَهُ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا وَوَعَكْتُ فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَإِذَا أَنَا بِأُمِّ رُومَانَ فَقَالَتْ مَا جَاءَ بِكِ يَا ابْنَتَهْ فَأَخْبَرْتُهَا فَقَالَتْ خَفِّضِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتْ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ تَكُونُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقُلْنَ فِيهَا قُلْتُ وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي قَالَتْ نَعَمْ قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْبَرْتُ فَبَكَيْتُ فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ فَقَالَ لِأُمِّي مَا شَأْنُهَا قَالَتْ بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ أَمْرِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ يَا ابْنَتَهْ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا عِنْدِي حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَتَشَهَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا وَظَلَمْتِ تُوبِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَقَدْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ فَقُلْتُ أَلَا تَسْتَحْيِي مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَقُولَ شَيْئًا فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْهُ فَقَالَ أَقُولُ مَاذَا فَقُلْتُ لِأُمِّي أَجِيبِيهِ فَقَالَتْ أَقُولُ مَاذَا فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَاهُ تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قُلْتُ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُكُمْ وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ لَتَقُولُنَّ قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ وَمَا أَحْفَظُ اسْمَهُ صَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ فَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَتَئِذٍ فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَسْتَبِينُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ فَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا فَقَالَ لِي أَبَوَايَ قُومِي إِلَيْهِ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ الْجَارِيَةَ عَنِّي فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَنَامُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ خَمِيرَتَهَا أَوْ عَجِينَتَهَا شَكَّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ قَالَ عُرْوَةُ فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَى مَنْ قَالَهُ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ وَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَمَّا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيهِ الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ ومِسْطَحٌ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ يَعْنِي مِسْطَحًا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى وَاللَّهِ إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ يُغْفَرَ لَنَا وَعَادَ أَبُو بَكْرٍ لمِسْطَحٍ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ بِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میرے متعلق لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے اور جن کا مجھے علم نہیں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، شہادتین کا اقرار کیا، اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی جو اس کے شایان شان ہو ، اور امابعد کہہ کر فرمایا کہ مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو جنہوں نے میرے گھر والوں پر الزام لگایا ہے، بخدا میں اپنے گھر والوں پر اور جس شخص کے ساتھ لوگوں نے انہیں متہم کیا ہے، کوئی برائی نہیں جانتا بخدا وہ جب بھی میرے گھر آیا ہے، میری موجودگی میں ہی آیا ہے اور میں جب بھی سفر پر گیا ہوں وہ میرے ساتھ رہا ہے، یہ سن کر حضرت سعد بن معا ذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گردنیں اڑا دیں پھر قبیلہ خزرج کا ایک آدمی کھڑا ہوا، ام حسان بن ثابت اسی شخص کے گروہ میں تھی، اور کہنے لگا کہ آپ غلط کہتے ہیں، اگر ان لوگوں کا تعلق قبیلہ اوس سے ہو تا تو آپ ان کی گردنیں اڑائے جانے کو کبھی اچھا نہ سمجھتے، قریب تھا کہ مسجد میں ان دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی ہوجاتی۔ بہر حال! اسی دن کی شام کو میں قضاءِ حاجت کے لئے نکلی ، میرے ساتھ ام مسطح تھیں، راستے میں ان کا پاؤں چادر میں الجھا اور وہ گر پڑیں، ان کے منہ سے نکلا مسطح ہلاک ہو، میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو کیوں برا بھلا کہہ رہی ہیں؟ وہ خاموش ہوگئیں، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآ خر انہوں نے کہا کہ میں تو اسے تمہاری وجہ سے ہی برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے ان سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے مجھے ساری بات بتائی، میں نے ان سے پوچھا کیا واقعی اس طرح ہوچکا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! جب میں اپنے گھر آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سلام کرکے حال دریافت کیا تو میں نے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہاں جانے سے میری غرض یہ تھی کہ والدین سے یقینی خبر مجھے معلوم ہوجائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے جاکر پوچھا اماں لوگ کیا چرچا کررہے ہیں۔ والدہ نے کہا بیٹی تم کو گھبرانا نہ چاہیے خدا کی قسم اکثر ایسا ہو تا ہے کہ جو عورت خوبصورت ہوتی ہے اور اپنے شوہر کی چہیتی ہو تی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں ہمیشہ اس میں عیب نکالتی رہتی ہیں۔ سبحان اللہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا والد صاحب کو اس کا علم ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے پوچھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی؟ انہوں نے کہا ہاں! اس پر میرے آنسو نکل آئے اور میں رونے لگی، والد صاحب جو گھر کے اوپر تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے میری آواز سنی تو نیچے آکر والدہ سے پوچھا اسے کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ اسے بھی وہ واقعہ معلوم ہو گیا ہے اس لئے رو رہی ہے، انہوں نے فرمایا بیٹا! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اپنے گھر واپس چلی جاؤ، چنانچہ میں چلی گئی، تھوڑی دیر بعد وہ دونوں میرے یہاں آگئے، اور میرے پاس ہی رہے یہاں تک کہ عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر کے بعد تشریف لے آئے، میرے دائیں بائیں میرے والدین تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑھا اور حمدوثناء کے بعد فرمایا: عائشہ !میں نے تیرے حق میں اس قسم کی باتیں سنی ہیں اگر تو گناہ سے پاک ہے تو عنقریب خدا تعالیٰ تیری پاک دامنی بیان کردے گا اور اگر تو گناہ میں آلودہ ہوچکی ہے تو خدا تعالیٰ سے معافی کی طالب ہو اور اسی سے توبہ کر کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کر تا ہے تو خداتعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ معاف کر دیتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ کلام کرچکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے اور ایک قطرہ بھی نہ نکلا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے حضرت کو جواب دیجئے۔ والد نے کہا خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے والدہ سے کہا تم جواب دو انہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا کی قسم میں نہیں جانتی کیا جواب دوں۔ میں اگرچہ کم عمر لڑکی تھی اور بہت قرآن بھی پڑھی نہ تھی لیکن میں نے کہا خدا کی قسم مجھے معلوم ہے کہ یہ بات آپ نے سنی ہے اور یہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کروں (اور خدا گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے خدا کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا فَصَبرُ جَمِیلُ وَاللَہُ المُستَعَا نُ عَلَی ماَ تَصِفُونَ۔ اسی وقت آپ پر اپنی کیفیت کے ساتھ وحی نازل ہوئی یہاں تک کہ چہرہ مبارک سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگا حالانکہ یہ واقعہ موسم سرما کا تھا جب وحی کی حالت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے سب سے پہلے یہ الفاظ فرمائے عائشہ خدا تعالیٰ نے تیری پاک دامنی بیان فرما دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تعظیم دے اور آپ کا شکریہ ادا کر کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ تیری پاک دامنی کا اظہار کیا۔ میں نے کہا خدا کی قسم میں نہیں اٹھوں گی اور نہ کسی کا شکریہ یا تعریف سوائے خدا کے کروں گی کیونکہ اسی نے میری پاک دامنی کا اظہار کیا ہے۔ قبل ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر بھی آئے تھے اور باندی سے میرے متعلق دریافت فرمایا، اس نے کہا کہ میں اس میں کوئی عیب نہیں جانتی ، صرف اتنی بات ضرور ہے کہ وہ سوتی ہے تو پیچھے سے بکری آکر اس کا گوندھا ہو ا آٹا کھا جاتی ہے، کسی آدمی نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کرو، اس نے کہا بخدا میں اس کے متعلق اسی طرح جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ٹکڑے کے متعلق جانتا ہے، اور جس آدمی کے متعلق یہ بات کہی گئی تھی جب اسے یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے کہا سبحان اللہ! بخدا میں نے تو کسی عورت کا پردہ اٹھا کر کبھی دیکھا ہی نہیں، پھر وہ راہ خدا میں شہید ہو گیا تھا، البتہ زینب بنت جحش کو اللہ نے ان کے دین کی وجہ سے بچا لیا اور انہوں نے اچھی بات ہی کہی، لیکن ان کی بہن حمنہ ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہو گئی،اس مسئلے میں منافق عبداللہ بن ابی"جو سب سے آگے تھا مسطح اور حسان بن ثابت ملوث تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسطح بن اثاث کو رشتہ داری اور اس کی غربت کی وجہ سے مصارف دیا کرتے تھے لیکن آیت مذکورہ کو سن کر کہنے لگے خدا کی قسم اب میں کبھی اس کو کوئی چیز نہ دوں گا۔ اس پر خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی "وَ لاَ یَاتَلِ اُولوُالفَضلِ مِنُکم الی قولہ غَفُور رَحیِم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کہنے لگے خدا کی قسم میں دل سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میری مغفرت فرما دے۔ یہ کہہ کر پھر مسطح کو وہی خرچ دینے لگے جو پہلے دیا کر تے تھے اور فرمایا خدا کی قسم اب میں کبھی خرچ بند نہیں کروں گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَاكَ قَالَ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہو تی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جا تا ہے اور جب تم راضی ہو تی ہو تو مجھے اس کا بھی پتہ چل جاتا ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو اس کا کیسے پتہ چل جا تا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ناراض ہو تی ہو تو تم لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ کہتی ہو اور جب تم راضی ہو تو تم لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام کہتی ہو ، میں نے عرض کی آپ صحیح فرماتے ہیں لیکن بخدا میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں(دل میں کوئی بات نہیں ہوتی)۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ فَيَقُولُونَ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُرَى ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ قَلْبًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی ایسے کام کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں اور وہ کہتے یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوجاتے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگتے تھے اور فرماتے کہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق سب سے زیادہ جانتا اور تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدْ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَرَفَقُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جنگ بعاث ایک ایسا دن تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پہلے رونما کر دیا تھا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس سے قبل اہل مدینہ متفرق ہوچکے تھے، ان کے سردار قتل ہو چکے تھے اور اسلام میں داخل ہو نے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے سامنے نرم ہو چکے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ بَرَاءَتِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُمْ وَحَدَّهُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میری برائت کی آیات نازل ہوئیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کر کے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور جب نیچے اترے تو دو آمیوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا چنانچہ انہیں سزا دی گئی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَتَحَجَّرُهَا عَلَيْنَا بِاللَّيْلِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَسَمِعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ صَلَاتَهُ فَأَصْبَحُوا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّاسِ فَكَثُرَ النَّاسُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْوَمَهَا وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا وَقَالَ يَزِيدُ حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کر دیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَأَرَانِي الْقَمَرَ حِينَ طَلَعَ فَقَالَ تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الْغَاسِقِ إِذَا وَقَبَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہا تھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيَّ عَنْ جَسْرَةَ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَتْ إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنْ الْبَوْلِ فَقُلْتُ كَذَبْتِ فَقَالَتْ بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ مَا هَذِهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ فَقَالَ صَدَقَتْ قَالَتْ فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس نے اس کی تکذیب کی، اس نے اپنی بات پر اصرار کر تے ہوئے کہا کہ ہم تو کپڑے یا جسم کی کھال پر پیشاب لگ جا نے سے اس کو کھرچ ڈالتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے جاچکے تھے، جبکہ دوران گفتگو ہماری آوازیں اونچی ہوگئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ماجرا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس یہودیہ کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے، پھر اس دن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز بھی پڑھائی، اس کے بعد بلند آواز سے یہ دعاء ضرور کی کہ اے جبریل و میکا ئیل اور اسرافیل کے رب اللہ! مجھے جہنم کی گرمی اور عذاب قبر سے محفوظ فرما۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ السَّائِبِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَإِنْ كُنْتُ لَآخُذُ الْعَرْقَ فَآكُلُ مِنْهُ ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی، اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرکے انہیں بوسہ دیتے ، پھر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھا دیتے۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَيَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ تَذْكُرُ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخَى عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَلَمَّا قَامُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَذِنْتَ لَهُمَا وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَيْتَ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحْيِي مِنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ سے ابوبکروعمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں بخدا جس سے فرشتے حیاء کر تے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُسَيْلَةُ هِيَ الْجِمَاعُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عسیلہ (شہد) سے مراد جماع ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو عَتِيقٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْمَسَاحِي الْمُرُورُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کس جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پو چھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ نہ کیا ہو یا ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ نُسِّيتُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلادی جو میں بھول گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّحِمُ مَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رشتہ جوڑتا ہے اللہ اسے جوڑتا ہے اور جو شخص رشتہ توڑتا ہے اللہ اسے توڑتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي فَارْفُقْ بِهِ وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! جو شخص میری امت پر نرمی کرے تو اس پر نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں کہتے تھے اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے۔ اے بزرگی اور عزت والے! تو بہت بابرکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ فَكَانُوا يَرُوحُونَ كَهَيْئَتِهِمْ فَقِيلَ لَهُمْ لَوْ اغْتَسَلْتُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے اور اسی حال میں جمعہ کیلئے آجاتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کاش! تم غسل ہی کرلیتے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ عَلَى حَالٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُونُ لَهُ سَاعَةٌ مِنْ اللَّيْلٍ يَقُومُهَا فَيَنَامُ عَنْهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سو جاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جا تا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ
اسود رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کے متعلق سوال پوچھا تو ا نہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سوتے تھے اور آخری حصے میں قیام فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ مَوْلىً لِعَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا نَظَرْتُ إِلَى فَرْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ پر نظر نہیں ڈالی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنْ الْعَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا وَلَوْ كَانَ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا لَاسْتَخْلَفَ أَبَا بَكْرٍ أَوْ عُمَرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس حال میں ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحۃً کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد فرماتے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ رَبَاحٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي وَلَا يَأْتِي فَأَتَاهُ مَلَكَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا بَالُهُ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِيمَ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ فِي جُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ رَاعُوفَةٍ فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْنَ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَ اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَتَى الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَاللَّهِ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَكَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ أَنَّكَ كَأَنَّهَا تَعْنِي أَنْ يَنْتَشِرَ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ قَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی "جس کا نام لبید بن اعصم تھا" نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادوکر دیا تھا، جس کے نتیجے میں چھ ماہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں ، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتا دیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پوچھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا کہ ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشئہ غلاف میں اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتایا کہ "اروان" نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا یا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہو تا ہے، اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَهُ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَهَا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَدَعَاهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَحْرِقْهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی "جس کا نام لبید بن اعصم تھا" نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کر لیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتا دیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے ، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پوچھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا کہ ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشئہ غلاف میں اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتایا کہ "اروان" نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہوتا ہے، اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَحْدِي قَرَأَهُ عَلَيَّ وَأَنَا أَسْمَعُ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَرْقَ فَأَتَعَرَّقُهُ ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَيُعْطِينِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جا تا، میں ایام سے ہوتی، اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہو تا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہو تا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف ، صفا مروہ کی سعی، اور رمی جمار کا حکم صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ بِرَفْعِ الرَّاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت فروح و ریحان راء کے ضمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ابو سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: اے ابوسلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ ! موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ سَجَدَاتٍ لَا يَجْلِسُ بَيْنَهُنَّ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْخَامِسَةِ ثُمَّ يُسَلِّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے، درمیان میں نہیں بیٹھتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فِيهِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يُصِبْهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے "طاعون" کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنا دیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر ا جر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور وہ ان کے سامنے عرض میں لیٹی ہو تی تھیں اور فرماتے تھے کہ جن عورتوں کے سامنے تم نماز پڑھتے ہو، کیا وہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہوتیں؟
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بیمار ہو گئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ عنہا بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ا جازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کررہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ "شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کر تا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔" پھر میں نے عامر رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ "کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کررہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ "پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ "ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ"فخ"میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس "اذخر" اور "جلیل" نامی گھاس ہوگی۔ "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما، اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا زَنَتْ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا وَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا وَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہو جائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے، پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سر زد ہو نے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا وَخَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں قرات سے پہلے سات اور پانچ تکبیریں کہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ فَأَرْشَدَ اللَّهُ الْإِمَامَ وَعَفَا عَنْ الْمُؤَذِّنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور موذن امانت دار ہوتا ہے، اس لئے اللہ امام کو ہدایت دے اور موذن کو معاف فرمائے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ طَرَقَتْنِي الْحَيْضَةُ مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأَخَّرْتُ فَقَالَ مَا لَكِ أَنُفِسْتِ قَالَتْ لَا وَلَكِنِّي حِضْتُ قَالَ فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ ثُمَّ عُودِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہوگئے، اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہو ئی تھی، سو میں پیچھے ہٹ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہو گئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایام شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ يَعْنِي فِي الْكُسُوفِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں بلند آواز سے قرات فرمائی تھی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھروں کے لئے بھی رکھا کرو، اور انہیں اپنے لئے قبرستان نہ بنایا کرو۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ خَدِيجَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ فَأَحْسِبُهُ لَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثِيَابَ بَيَاضٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے انجام کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں خواب میں سفید کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے، اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ جہنمی ہو تے تو ان کے اوپر سفید کپڑے نہ ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ قَالَ إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا هَلَكْنَا إِذًا فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی "جو شخص برا کام کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، تو وہ کہنے لگا کہ اگر ہمیں ہمارے عمل کا بدلہ دیا جائے گا تو ہم تو ہلاک ہو جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا ہاں! البتہ مومن کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں جسمانی ایذاء اور مصیبت کی شکل میں دے دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا قَالَ مُعَاوِيَةُ ضَحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَقَالَتْ كَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کھول کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ حلق کا کوا نظر آنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے، اور جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوئے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہو تا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہو چکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا طَرَقَتْهَا الْحَيْضَةُ مِنْ اللَّيْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ وَفِيهِ دَمٌ فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ اغْسِلِيهِ فَغَسَلَتْ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الثَّوْبَ فَصَلَّى فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے ایام شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارے سے کپڑا دکھایا جس پر خون لگا ہو ا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز ہی اشارے سے انہیں وہ کپڑا دھونے کا حکم دیا، انہوں نے خون کی جگہ سے اسے دھویا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اس میں نماز پڑھ لی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہو جائے گا اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْكَافِرُ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَمُوتُ فَيَبْكِيهِ أَهْلُهُ فَيَقُولُونَ الْمُطْعِمُ الْجِفَانَ الْمُقَاتِلُ الَّذِي فَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَذَابًا بِمَا يَقُولُونَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کفار قریش میں سے ایک آدمی مر رہا تھا اور اس کے اہل خانہ اس پر روتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ دیگیں بھر کر کھلانے والا اور جنگجو آدمی تھا، اور ان کے اس کہنے کے اوپر اللہ تعالیٰ اس کے عذاب میں مزید اضافہ کردیتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَمْ تَرَوْهُ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اچھائی کے ساتھ تذکرہ ہو ا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن کریم سیکھ رہا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسِي خَبِيثَةٌ وَلَكِنْ يَقُولُ نَفْسِي لَقِسَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ أَوْ جِنَازَةٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، الا یہ کہ وہ مسجد میں ہو یا کسی شہید کے جنازے میں۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَقِيَ عَشْرٌ مِنْ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَاعْتَزَلَ أَهْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَت جگا فرماتے، اپنے اہل خانہ کو جگاتے اور کمر بند کس لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ صَاحِبِ الرُّمَّانِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ كَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن عرش الہٰی کی طرف سبقت لے جانے والے لوگ کون ہوں گے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے کہ اگر انہیں ان کا حق مل جائے تو قبول کرلیتے ہیں، جب مانگا جائے تو دیدیتے ہیں اور لوگوں کے لئے وہی فیصلہ کرتے ہیں جو اپنے لئے کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا مَكَّةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّتَاهُ لَا أَعْجَبُ مِنْ فَهْمِكِ أَقُولُ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ أَبِي بَكْرٍ وَلَا أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالشِّعْرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ أَقُولُ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ أَوْ وَمِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ وَلَكِنْ أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالطِّبِّ كَيْفَ هُوَ وَمِنْ أَيْنَ هُوَ قَالَ فَضَرَبَتْ عَلَى مَنْكِبِهِ وَقَالَتْ أَيْ عُرَيَّةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْقَمُ عِنْدَ آخِرِ عُمْرِهِ أَوْ فِي آخِرِ عُمْرِهِ فَكَانَتْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ وُفُودُ الْعَرَبِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَتَنْعَتُ لَهُ الْأَنْعَاتَ وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ
عروہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتے تھے کہ اماں جان! مجھے آپ کی فقاہت پر تعجب نہیں ہو تا کیونکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں، مجھے آپ کے شعر اور ایام ناس کے علم پر بھی تعجب نہیں ہو تا کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں جو کہ تمام لوگوں میں سب سے بڑے عالم تھے، مجھے جو تعجب ہو تا ہے وہ آپ کے علم طب پر ہو تا ہے کہ وہ آپ کو کیسے، کہاں سے اور کیونکر حاصل ہوا؟ انہوں نے ان کے کندھے پر ہا تھ مار کر کہا اے عروہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے آخری ایام میں بیمار ہو گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر طرف سے وفود عرب آتے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مختلف قسم کی چیزیں تشخیص کرتے تھے اور میں ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کرتی تھی، بس وہیں سے یہ چیزیں میں نے حاصل کرلیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ عَلَيْهِمْ السَّلَامُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ مِرْطٌ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہو تا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ جِهَادُكُنَّ أَوْ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّها قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ أَهْلِكَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِي فَقَالَ أَرْسِلِي إِلَى شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَكِ الْبَابَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ بِلَيْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلِّي فِي الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ حِينَ بَنَوْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی تمام ازواج بیت اللہ میں داخل ہو چکی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیبہ کے پاس پیغام بھیج دو، وہ تمہارے لئے بیت اللہ کا دروازہ کھول دیں گے، چنانچہ انہوں نے شیبہ کے پاس پیغام بھیج دیا، شیبہ نے جواب دیا کہ ہم لوگ تو زمانہ جاہلیت میں بھی اسے رات کے وقت کھولنے کی جرأت نہیں کر سکے اور نہ ہی اسلام میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تم حطیم میں نماز پڑھ لو، کیونکہ تمہاری قوم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے بیت اللہ سے باہر چھوڑ دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّا لَسْنَا مِثْلَكَ فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا یارسول اللہ ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کیفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نا راض ہو گئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا بخدا مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا اتَّبَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَّبِعُكَ لِأُصِيبَ مَعَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ فَتَبِعَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا، وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کے لئے جارہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ، اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی سوال پوچھا، اس مرتبہ اس نے اثبات میں جواب دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْتُونِي بِوَضُوءٍ فَسَأَلْتُ فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ قَالَتْ فَبَدَرْتُهَا فَأَخَذْتُهُ أَنَا فَتَوَضَّأَ فَرَفَعَ طَرْفَهُ أَوْ عَيْنَهُ أَوْ بَصَرَهُ إِلَيَّ فَقَالَ أَنْتِ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ قَالَتْ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالَ مَا أَنَا فَعَلْتُهُ وَلَكِنْ قِيلَ لِي قَالَتْ وَكَانَ سَأَلَهُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ فَقَالَ أَفْقَهُهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ وَذَكَرَ فِيهِ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ لَمْ أَحْفَظْهُمَا
حضرت درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا میرے پاس وضو کا پانی لاؤ، میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک برتن کی طرف تیزی سے بڑھے، میں پہلے پہنچ گئی اور اسے لے آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نگاہیں اٹھا کر مجھ سے فرمایا تم مجھ سے ہو، اور میں تم سے ہوں، پھر ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر منبر یہ سوال کیا تھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي لُبَابَةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَخْلِطُ فِي الْعِشْرِينَ الْأُولَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَصَلَاةٍ فَإِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ جَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند اور نماز دونوں کام کرتے تھے اور جب آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوب محنت کرتے اور تہبند کس لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَعَلْنَاهُ مَرَّةً فَاغْتَسَلْنَا يَعْنِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایسا کیا تو غسل کیا تھا، مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو (تو غسل کرے)۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! جس طرح تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے، سیرت بھی اچھی کردے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَيْكُنَّ بِالْبَيْتِ فَإِنَّهُ جِهَادُكُنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے اوپر اپنے گھروں کو لازم کر لو کیونکہ تمہارا جہاد حج ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طُعْمَةٍ وَلَا إِشْرَاهٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طُعْمَةٍ وَإِشْرَاهٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ دنیا سر سبز اور شیریں ہے، سو جسے ہم کوئی چیز اپنی خوش اور اچھے کھانے کی دے دیں جس میں اس کی صبری شامل نہ ہو تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور جس شخص کو ہم اس میں سے کوئی چیز اپنی خوشی کے بغیر اور اچھے کھانے کے علاوہ دیدیں جس میں اس کی بے صبری بھی شامل ہو تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِي فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِي بِيَوْمِهَا مَعَ نِسَائِهِ قَالَتْ وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری کا دن مجھے دے دیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کا دن مجھے دیتے تھے اور وہ پہلی خاتون تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح فرمایا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَقَامُوا فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ اقْعُدُوا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ الْإِمَامُ يُؤْتَمُّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کر دیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جا تا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے حائضہ ہونے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرمالیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَنْ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالُوا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ قَالَ الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ حُكْمَهُمْ لِأَنْفُسِهِمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن عرش الہٰی کی طرف سبقت لے جانے والے لوگ کون ہوں گے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے کہ اگر انہیں ان کا حق مل جائے تو قبول کر لیتے ہیں، جب مانگا جائے تو دیدیتے ہیں اور لوگوں کے لئے وہی فیصلہ کرتے ہیں جو اپنے لئے کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُتَيْبَةُ مَنْ غُفِرَ لَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں عورت فوت ہوگئی اور اسے راحت نصیب ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی سے فرمایا اصل راحت تو اسے ملتی ہے جو جنت میں داخل ہوجائے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِنْ الدُّنْيَا وَلَا أَعْجَبَهُ أَحَدٌ قَطُّ إِلَّا ذُو تُقًى
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز اور اہل تقویٰ کے علاوہ کوئی آدمی پسند نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ مُوسَى إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ عَنْهُ وَلِيُّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی فوت ہوجائے اور اس کے ذمے کچھ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی جانب سے روزے رکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّهُ عَرَضَ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى يَزِيدَ فَعَرَفَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا مَيِّتٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ فَلْيَصُمْهُ عَنْهُ وَلِيُّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے کچھ روزے ہوں تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ولی اس کی جانب سے روزے رکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أُعْجِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَلَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهَا ذُو تُقًى
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز اور اہل تقویٰ کے علاوہ کوئی آدمی پسند نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ قَالَ قَالَ أَبِي فَذَكَرَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوس کو نہ ستائے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ قَالَ أَبِي يَذْكُرُهُ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمَرَ مَالِهِ فَأَحْصَيْنَاهُ وَحَشَدْنَاهُ لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَصَبْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فَنَقَصْنَا عَلَيْهِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَاهُ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَا يَضَعُ لَنَا شَيْئًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّى لَا أَصْنَعُ خَيْرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَاءَهُ فَقَالَ أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ مَا شِئْتَ فَوَضَعَ مَا نَقَصُوا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ، آپ پر قربان ہوں، میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں آدمی سے اس کی زمین کے پھل خریدے، ہم نے اس فصل کو کاٹا اور پھلوں کو الگ کیا تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو معزز کیا، ہمیں اس میں سے صرف اتنا ہی حاصل ہو سکا جو ہم خود اپنے پیٹ میں کھا سکے یا برکت کی امید سے کسی مسکین کو کھلا دیں، اس طرح ہمیں نقصان ہو گیا، ہم مالک کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمارے اس نقصان کی تلافی کردے تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ وہ ہمارے نقصان کی کوئی تلافی نہیں کرے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کیا اس نے نیکی نہ کرنے کی قسم کھا لی؟ اس آدمی کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اگر آپ چاہیں تو میں ان کے نقصان کی تلافی کردوں(اور مزید پھل دے دوں) اور اگر آپ چاہیں تو میں انہیں پیسے دے دیتا ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر اس نے ان کے نقصان کی تلافی کردی۔
-
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ فَقَالَ أَبِي يَذْكُرُهُ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَوْ رَأَى حَالَهُنَّ الْيَوْمَ مَنَعَهُنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکا کرو اور انہیں چاہیے کہ پر اگندہ حالت میں آیا کریں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے۔
-
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا ثِمَارَكُمْ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَتَنْجُوَ مِنْ الْعَاهَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے پھلوں کو اس وقت تک نہ بیچا کرو جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوظ نہ ہوجائیں۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ البَجَلِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ قَالَ وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُهُمْ قَالَ لَا أَمْلِكُ أَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَزَعَ مِنْكَ الرَّحْمَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ بچوں کو چومتے ہیں؟ بخدا ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو اس بات پر قدرت نہیں ہے کہ جب اللہ ہی نے تیرے دل سے رحمت کو کھینچ لیا ہے (تو میں کیسے ڈال دوں؟)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ سِوَى تَكْبِيرَتَيْ الرُّكُوعِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہتے تھے، جو رکوع کی تکبیروں کے علاوہ ہوتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ فَغَسَلَ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ اجْتَزَأَ بِذَلِكَ أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ قَالَتْ بَلْ كَانَ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ
بنو سواء کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّلَفُّتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران نماز دائیں بائیں دیکھنے کا حکم پو چھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اچک لینے والا حملہ ہوتاہے جو شیطان انسان کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہو تا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ امور مسلمین میں سے کسی چیز کی ذمہ داری عطاء فرمائے اور اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمالے تو اسے ایک سچا وزیر عطا فرمادیتا ہے جو بادشاہ کو بھول جانے پر یاد دلاتا ہے اور یاد رہنے پر اعانت کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ الْخُزَاعِيُّ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! معمولی گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہو سکتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بے ہوشیوں میں مدد فرما۔
-
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ قَالَتْ فَأَمَرْتُ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا قَالَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا يَا عَائِشَةُ لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا تو وہ کچھ لے کر آیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زُرْعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا گھر ہے اس شخص کا جس کا کوئی گھر نہ ہو، اور مال ہے اس شخص کا جس کا کوئی مال نہ ہو، اور دنیا کے لئے وہی جمع کر تا ہے جس کے پاس عقل نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ قَالَ قُلْتُ يَا خَالَةُ فَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگے نہیں چلتی تھی، عروہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رُومَانَ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ مَا رَأَى مُنْخُلًا وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ قُبِضَ قُلْتُ كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ قَالَتْ كُنَّا نَقُولُ أُفٍّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھلنی نہیں دیکھی اور کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی، بعثت سے لے کر وصال تک یہی حالت رہی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ لوگ جو کی روٹی چھانے بغیر کس طرح کھا لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ"اف" کہتے جاتے تھے (تکلیف کے ساتھ حلق سے اتارتے تھے، یا صرف منہ سے پھونک مار لیا کرتے تھے)
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَخْرُجُ نُجَاهِدُ مَعَكُمْ قَالَ لَا جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ وَهُوَ لَكُنَّ جِهَادٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ وَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ مِنْهُ إِذَا شَرِبْتَهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ يَقْضِي عَلَى بَابِهِ قَالَ أَبِي وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ وَرَوَى عَنْه مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ وَرَبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہو، اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔یحییٰ بن واضح کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ میں نے ابوعثمان عمرو بن سلیم کو دیکھا کہ ان کے دروازے پر فیصلہ کیا جا رہا ہے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ وہی ہیں جن سے مہدی بن میمون، مطرف بن طریف، ربیع بن صبیح اور لیث بن ابی سلیم روایات نقل کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "السلام علیکم دار قوم مومنین" تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ رَفَعَتْهُ قَالَتْ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الرِّفْقَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرمالیتا ہے تو ان میں نرمی پیدا فرما دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا "جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کردے" کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ وَيَصُومُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے اور نماز کے لئے چلے جاتے اور میں ان کی قرات سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا الْحِجَابُ
ابوسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا، اور غسل کرنے لگیں ، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا، اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ صُخَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِّمُوا مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُوا مِنْ الْوِلَادَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہو تے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہو، اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ آمِنَةَ الْقَيْسِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أُوكِئَ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صرف انہی مشکیزوں کا پانی پیا کرو جن کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ وَقَالَ لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھیں، اس دوران انہوں نے اپنے اونٹ پر لعنت بھیجی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دینے کا حکم دیا اور فرمایا میرے ساتھ کوئی ملعون چیز نہیں جانی چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ وَالْأَشْيَبُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے حائضہ ہونے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُبَاشِرُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کے جسم سے جسم لگا تا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہبند باندھنے کی جگہ سے اوپر کے جسم سے وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد نبوی میں منبر لگوایا تا کہ وہ اشعار کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کریں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ روح القدس سے حسان کی تائید کر تا ہے کیونکہ وہ اس کے رسول کا دفاع کر تے ہیں۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنْ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ وَالطِّيبُ فَأَصَابَ ثِنْتَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ وَلَمْ يُصِبْ الطَّعَامَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں اچھی معلوم ہوتی تھیں کھانا، عورتیں اور خوشبو، دو چیزیں تو انہیں کسی درجے میں حاصل ہو گئیں لیکن ایک چیز نہ مل سکی، عورتیں اور خوشبو آپ کو مل گئی لیکن کھانا نہیں ملا۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِاللَّيْلِ فَيَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ ذَلِكَ صَدَقَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سوجاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ يَبْكِي فَقَالَ مَا لِصَبِيِّكُمْ هَذَا يَبْكِي فَهَلَّا اسْتَرْقَيْتُمْ لَهُ مِنْ الْعَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بچہ کیوں رورہا ہے؟ تم اس کی نظر کیوں نہیں اتارتے؟
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ فَهُوَ حَبْرٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَهَذَا أَرَى أَنَّ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْأَعْرَجِ وَلَكِنْ كَذَا كَانَ فِي الْكِتَابِ فَلَا أَدْرِي أَغْفَلَهُ أَبِي أَوْ كَذَا هُوَ مُرْسَلٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم کی ابتدائی سات سورتیں حا صل کرلے وہ بہت بڑا عالم ہے۔گذشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوَتْرِ مِنْ الْعَشْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب قدر کو عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ طُولِهِنَّ وَحُسْنِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
ابو سلمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پو چھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سوجاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُنْتَفَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا قَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَآذِنِّي فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابویونس"جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں" کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کے لئے قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھ دوں اور فرمایا جب تم اس آیت حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى پر پہنچو تو مجھے بتانا، چنانچہ میں جب وہاں پہنچا تو انہیں بتا دیا، انہوں نے مجھے یہ آیت یوں لکھوائی حَا فِظُوا عَلَی الصَلاۃِ الوُسطَی وَصَلَاۃِ العَصرِ وَ قُو مُوالِلَہِ قَا نِتِینَ اور فرمایا کہ میں نے یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر یا بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ مِنْ آلِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَنَعَ أَمْرًا مِنْ غَيْرِ أَمْرِنَا فَهُوَ مَرْدُودٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَمًا وَحَشْوُهُ لِيفٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ فَقَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ آخِرَهُ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ يُسِرُّ أَوْ يَجْهَرُ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ وَنَامَ قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً
عبداللہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں غسل فرما لیتے تھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں، اس پر میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے، اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے پو چھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے یا آخر میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرات فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَيُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ فَقُلْتُ قَدْ قَضَى قَالَتْ فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ فَنَظَرَ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا فَقَالَ مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جا تا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جا تا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو اچھی طرح اپنے ذہن میں محفوظ کرلیا تھا، مرض الوفات میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا کہ اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے سوچا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، پھر مجھے وہ بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، چنانچہ اب جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے اپنی گردن اٹھا کر اوپر کو دیکھا، میں سمجھ گئی کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت ہمیں ترجیح نہ دیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں" ارشاد ربانی ہے" ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء کرام علیم السلام اور صدیقین"۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُمِّلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ثُمَّ جَهِدَ فِي قَضَائِهِ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِهِ فَأَنَا وَلِيُّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص قرض کا بوجھ اٹھا ئے اور اسے ادا کر نے کی کوشش کرتے ہوئے فوت ہوجائے لیکن وہ قرض ادا نہ کر سکا ہو تو میں اس کا ولی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُبَارَكُ عَنْ أُمِّهِ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي مِنْ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَهْلِكُ مِنْ النَّاسِ قَوْمُكِ قَالَتْ قُلْتُ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ أَبَنِي تَيْمٍ قَالَ لَا وَلَكِنْ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا وَتَنَفَّسُ عَنْهُمْ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا قُلْتُ فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ قَالَ هُمْ صُلْبُ النَّاسِ فَإِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنو تیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہو جائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش لوگوں کی پشت ہوں گے اس لئے جب وہ ہلاک ہوجائیں گے تو عام بھی لوگ ہلاک ہونے لگیں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَا ذَلِكَ ثُمَّ اغْتَسَلَا مِنْهُ يَوْمًا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایسا کیا تو غسل کیا تھا، (مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو تو غسل کرے) ۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ مِنْ حِينِ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ وَمَنْ حِينِ تَصُوبُ حَتَّى تَغِيبَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے تا آنکہ وہ بلند ہو جائے اسی طرح غروب کے وقت منع فرمایا ہے تاآنکہ وہ مکمل غروب ہوجائے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَأَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ أَذَانِهِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجَ مَعَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤ ذن پہلی اذان دے کر فارغ ہو تا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤ ذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا قُلْتُ رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ قَالَ وَرَأَيْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ قَالَ سُفْيَانُ الدَّخِيلُ الضَّيْفُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ک ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کر تے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبریل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جب دیا "وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ قَالَ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ هُوَ جِهَادُ النِّسَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یارسول اللہ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الشَّنِّيُّ مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ
عمران بن حطان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرتا رہا، اس دوران قاضی کا تذکرہ آگیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن عدل وانصاف کرنے والے قاضی پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ تمنا کرے گا کہ اس نے کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے متعلق بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ مَا اسْمُكَ فَقَالَ شِهَابٌ فَقَالَ أَنْتَ هِشَامٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دوسرے سے یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے جواب دیا شہاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام ہشام ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا فَقُلْتُ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ فَسَكَتَ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ قَالَتْ فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ وَلَا كَرَامَةَ يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ عائشہ! اگر ہمارے پاس کوئی ہو تا جو ہم سے باتیں ہی کر تا (تو وقت گذر جاتا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کسی کو بھیج کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، تھوڑی دیر بعد پھر وہی بات دہرائی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خادم کو بلا کر اس کے کان میں سرگوشی کی، وہ چلا گیا، کچھ ہی دیر بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے، پھر فرمایا عثمان! اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین چاہیں کہ تم اسے اتار دو تو تم اسے اتار نہ دینا، یہ کوئی عزت والی بات نہ ہوگی، یہ جملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو تین مرتبہ فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لَاحِقٍ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ لِي مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ وَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلَ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ فَيَخْرُجَ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى الشَّامِ مَدِينَةٍ بِفِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ فَيَنْزِلَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ يَمْكُثَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے دجال کا خیال آگیا، اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دجال میری زندگی میں نکل آیا تو میں تمہاری اس سے کفایت کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کا خروج اصفہان کے علاقے "یہودیہ" سے ہوگا اور وہ سفر کرتا ہوا مدینہ منورہ آئے گا اور ایک جانب پڑاؤ کرے گا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اور اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہوں گے، اور مدینہ منورہ میں جو لوگ برے ہوں گے وہ نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، پھر وہ شام روانہ ہو جائے گا اور فلسطین کے ایک شہر میں باب لد کے قریب پہنچے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو جائے گا اور وہ اسے قتل کر دیں گے اور اس کے بعد چالیس سال تک زمین میں منصف حکمران اور انصاف کرنے والے قاضی کے طور پر زندہ رہیں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْكَعْبَةِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی، اور رمی جمار کا حکم صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ تا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ قَالَ شِبْرٌ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ قَالَ فَذِرَاعٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ فَقَالُوا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ قَالَ غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ قَالُوا فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ قَالَ التَّسْبِيحُ وَالتَّقْدِيسُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو لوگوں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا، یہ دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! درندے اور درخت آپ کو سجدہ کرسکتے ہیں تو ہمیں اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ آپ کو سجدہ کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبادت صرف اپنے رب کی کرو اور اپنے "بھائی کی عزت کرو، اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حکم دے کہ اس زرد پہاڑ سے اس سیاہ پہاڑ پر یا اس سیاہ پہاڑ سے اس سفید پہاڑ پر منتقل ہو جائے تو اس کے لئے یونہی کرنا اس کے حق میں مناسب ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي صَلَاةِ الْإِنَابَةِ فَيَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يَسْجُدُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز توبہ کے لئے کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ رکوع کرتے پھر سجدہ فرماتے، پھر تین مرتبہ رکوع کرتے اور سجدہ فرماتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَرَأَ فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رصدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ پر پہنچ کر نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا ، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا، اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہو گیا تھا پھر فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی زندگی اور موت سے گہن نہیں لگتا، اس لئے جب ایسا ہو تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جایا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّ هِلَالٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى غَيْمًا إِلَّا رَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ الْهَيْجَ فَإِذَا مَطَرَتْ سَكَنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے، اور جب بارش ہو جاتی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ نِسَائِهِ فَاتَّبَعْتُهُ فَأَتَى الْمَقَابِرَ ثُمَّ قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ قَالَتْ ثُمَّ الْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ وَيْحَهَا لَوْ اسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ قَالَ ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " السلام علیکم دار قوم مومنین" تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑ گئی اور فرمایا افسوس! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ عَاصِمٍ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنْ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لَهُ قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ لَهُ إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ"آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کر دیں اور جیسے چاہیں اپنے قریب کر لیں۔ ۔ ۔ ۔ تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیا کرتے تھے، ہم میں سے جس کی بھی باری کا دن ہو تا، عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ میرے اختیار میں ہے تو میں آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دینا چاہتی۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَهَا يَوْمَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری کا دن مجھے دے دیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کا دن مجھے دیتے تھے اور وہ پہلی خاتون تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح فرمایا تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرَ رَحِمِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہو جائے اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم سہل ہو (نطفہ قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی کھانے لگتا ہے اور جو شخص بائیں ہاتھ سے پیتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی پینے لگتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَرَدُّوهُ فَقَالَتْ إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَاقْبَلِيهِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ
مطلب بن حنطب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ، لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کر لیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جا رہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جارہے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔
-
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا، اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، بعد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔
-
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي تَمْرِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً أَوْ قَالَ تِرْيَاقًا أَوَّلَ بُكْرَةٍ عَلَى الرِّيقِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی کھجور یں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ و قَالَ قُتَيْبَةُ صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے، اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے تھے، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر تم خیر کی بات کرو تو وہ قیامت تک کے لئے اس پر مہر بن جائیں گے اور اگر کوئی دوسری بات کرو تو وہ اس کا کفارہ بن جائیں گے اور وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ فَقَالَتْ وَمَا هُوَ قَالَتْ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَتْ فَقُلْتُ قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ قَالَتْ فَفَرِحَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک بستر پر سوجاتی تھی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی، البتہ میرے اوپر کپڑا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَمِنْ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے یا طلوع آفتاب سے پہلے ایک رکعت پالے تو اس نے اس نماز کو پالیا۔
-
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ بِخِطْمِيٍّ وَأَشْنَانٍ وَدَهَنَهُ بِشَيْءٍ مِنْ زَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ قَالَتْ وَحَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً فَأَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ نِسَاءَهُ وَتَرَكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْمَرْتَ نِسَاءَكَ وَتَرَكْتَنِي فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ثُمَّ لِتَقْضِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ قَالَتْ فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے سر کو خطمی اور اشنان سے دھو لیتے اور تھوڑا سا زیتون کا تیل لگا لیتے جو زیادہ نہ ہو تا تھا، ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حج کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دیگر بیویوں کو عمرہ کرادیا اور مجھے چھوڑ دیا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بھائی عبدالرحمن سے فرمایا کہ اپنی بہن کو لے جاؤ تاکہ یہ عمرہ کرلے اور تم انہیں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرا لاؤ، ان کا عمرہ مکمل ہو جائے تو حصبہ" سے کوچ کرنے کا رات سے پہلے میرے پاس انہیں لے آؤ، گو یا مقام حصبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف میری وجہ سے قیام فرمایا تھا۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَقَالَ حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ ثُمَّ قَالَ اسْتَحِدِّيهَا بِحَجَرٍ فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا ایک ایسا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں دیکھتا ہوا، سیاہی میں بیٹھتا ہو (مکمل کالا سیاہ ہو) چنانچہ ایسا جانور قربانی کے لئے پیش کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کر لو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور یہ کہتے ہو ئے ذبح کر دیا بسم اللہ، اے اللہ! محمد و آل محمد اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جانب سے اسے قبول فرما۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا ثُمَّ وَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قلادہ باندھ کر اشعار کرتے اور انہیں بیت اللہ کی طرف روانہ کرکے خود مدینہ منورہ میں رہتے اور حلال چیزوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر حرام نہ کرتے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَطْحَاءِ لَيْلَةَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کی رات "حصباء" سے رات کے وقت روانگی اختیار فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتْ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی بیٹی کے نکاح کا ارادہ فرماتے تو اس کے پردے میں جا کر بیٹھتے اور فرماتے کے فلاں آدمی فلاں عورت کا ذکر کر رہا تھا، اور اس میں اس بیٹی کا اور اس سے نکاح کی خواہش رکھنے والے آدمی کا نام ذکر فرماتے، اگر وہ خاموش رہتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نکاح فرمادیتے اور اگر اسے وہ رشتہ ناپسند ہو تا تو وہ پردہ ٹھیک کرنے لگتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نکاح نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ الْعَيْشِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِذَنْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے لوگ میت پر رورہے ہو تے ہیں اور اسے قبر میں اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہورہا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ الْقَوْمُ مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَهُمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں چھینک آگئی ، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! میں کیا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحَمدُ لِلَہِ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! میں کیا کہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمدُ للہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اسے کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے یَرحَمُک اللہ کہو۔ چھینکنے والے نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں انہیں کیا جواب دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں یھدِیکمُ اللہ وَ یصلح بالکم کہہ دو۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُجَاهِدُ مَعَكَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ أَبَدًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بہترین اور خوبصورت جہاد حج ہی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سننے کے بعد اب میں کبھی حج ترک نہ کروں گی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ وَأُتِيَ بِجِنَازَتِهِ أَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ أَنْ يُمَرَّ بِهِ عَلَيْهَا فَشُقَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَتْ لَهُ فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَصَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَمَرَتْ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يُمَرَّ بِهَا عَلَيْهَا فَمُرَّ بِهَا عَلَيْهَا فَبَلَغَهَا أَنْ قَدْ قِيلَ فِي ذَلِكَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی ، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنْ الْوَسَخِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کر لیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ اسْتَتِرِي مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنَّهَا تَسُدُّ مِنْ الْجَائِعِ مَسَدَّهَا مِنْ الشَّبْعَانِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے عائشہ! جہنم کی آگ سے کوئی رکاوٹ تیار کرلو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو، کیونکہ کھجور بھی بھوکے آدمی کو سہارا دے دیتی ہے جو سیراب آدمی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ابْنَةَ طَلْحَةَ تَذْكُرُ وَذُكِرَ عِنْدَهَا الْمُحْرِمُ يَتَطَيَّبُ فَذَكَرَتْ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُنَّ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ثُمَّ يَغْتَسِلْنَ وَهُوَ عَلَيْهِنَّ يَعْرَقْنَ وَيَغْتَسِلْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ
عمرو بن سوید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عائشہ بنت طلحہ کے سامنے محرم کے خوشبو لگانے کا مسئلہ بیان ہو رہا تھا، انہوں نے بتایا کہ ام المومینن حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں، انہوں نے اپنے سر کے بال چپکا رکھے تھے اور یہ پٹی انہوں نے احرام سے پہلے باندھ رکھی تھی، پھر وہ اس پٹی کو سر پر باندھے باندھے غسل کرلیتی تھیں، انہیں پسینہ آتا تو وہ غسل کر لیتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهَا عَائِشَةُ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْجًا حَتَّى يَرَى غَيْمًا فَإِذَا أَمْطَرَ ذَلِكَ الْغَيْمُ ذَهَبَ ذَلِكَ الْهَيْجُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہیجان کے آثار کبھی نہیں دیکھے، ہاں! اگر کوئی بادل نظر آجاتا (تو اس کے آثار واضح ہوتے) اور جب وہ بادل برس جاتا تو وہ اثرات بھی ختم ہو جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ وَقَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ أَخُو الْعَشِيرَةِ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف سے طرح متوجہ ہیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید بارگاہ رسالت میں اس کا بڑا اونچا مقام ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو یہ بات معلوم ہو جاتی کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کیا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں کے لئے ضرور آتے خواہ انہیں اپنے گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آنا پڑتا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنِ الْأَشْعَثِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کا استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَرَّى صَوْمَ شَعْبَانَ وَصَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ إِذَا أُصِيبَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهَا فَتَفَرَّقَ نِسَاءُ الْجَمَاعَةِ عَنْهَا وَبَقِيَ نِسَاءُ أَهْلِ خَاصَّتِهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثُمَّ أَمَرَتْ بِثَرِيدٍ فَيُثْرَدُ وَصَبَّتْ التَّلْبِينَةَ عَلَى الثَّرِيدِ ثُمَّ قَالَتْ كُلُوا مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ التَّلْبِينَةَ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ
عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو جماعت کی عورتوں کے جانے کے بعد جب خاص ان کے گھر کی عورتیں رہ جاتیں تو وہ ایک ہانڈی چڑھانے کا حکم دیتیں جس میں دلیا پکایا جاتا، پھر ثرید بنانے کا حکم دیتیں پھر اس دلیے کو ثرید پر ڈال کر فرماتیں اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دلیا مریض کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور غم کے کچھ اثرات کو دور کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى فَإِنَّهُمْ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ وَلَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں "جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے" ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ وَجَدَ أَوْ رَأَى بِهِ عَيْبًا فَرَدَّهُ بِالْعَيْبِ فَقَالَ الْبَائِعُ غَلَّةُ عَبْدِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک غلام خریدا، اسے اپنے کام میں لگایا، پھر اس میں کوئی عیب نظر آیا تو بائع کو واپس لوٹا دیا، بائع کہنے لگے کہ میرے غلام نے جتنے دن کام کیا ہے اس کی مزدوری ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أُتِيتُ بِسَارِقٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ خَالَتِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْ لَا تَعْجَلَ فِي أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ حَتَّى آتِيَكَ فَأُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مَنْ عَائِشَةَ فِي أَمْرِ السَّارِقِ قَالَ فَأَتَتْنِي وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوا فِي رُبُعِ الدِّينَارِ وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ رُبُعُ الدِّينَارِ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَالدِّينَارُ اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا قَالَ وَكَانَتْ سَرِقَتُهُ دُونَ رُبُعِ الدِّينَارِ فَلَمْ أَقْطَعْهُ
یحییٰ بن غسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو ابوبکر بن محمد بن عمرہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی جو اس زمانے میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک چور لایا گیا تو مجھے میری خالہ عمرہ بنت عبدالرحمن نے یہ پیغام بھجوایا کہ میرے آنے تک اس شخص کے معاملے میں عجلت نہ کر، میں تمہیں آکر بتاتی ہوں کہ چور کے حوالے سے میں نے حضرت عائشہ سے کیا حدیث سنی ہے، چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوتھائی دینار چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا کرو، لیکن اس سے کم میں نہ کاٹا کرو، اس زمانے میں چوتھائی دینار تین درہم کے برابر تھا، اور ایک دینار بارہ درہم کے ہو تا تھا اور اس نے جو چوری کی تھی وہ چوتھائی دینار سے کم تھی لہٰذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى دَوْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رُئِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ قَالَتْ وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَاكَ لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ سے کہا کہ اے ام المومنین! اس دفعہ تو چاند ٢٩ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا عَائِشَةُ قَوْمُكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا قَالَتْ فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي قَالَ وَمَا هُوَ قَالَتْ تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَّتِكَ بِكَ لَحَاقًا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ وَمِمَّ ذَاكَ قَالَ تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا وَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ قَالَتْ فَقُلْتُ فَكَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ دَبًى يَأْكُلُ شِدَادُهُ ضِعَافَهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمْ السَّاعَةُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ فَسَّرَهُ رَجُلٌ هُوَ الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنو تیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بیماری ہوگی جس میں مضبوط لوگ کمزوروں کو کھا جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہوجائے گی۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدُمُهَا فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنْ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ قَالَتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ لَا وَعَمَّ ذَاكَ قَالَتْ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا إِلَّا قَالَتْ وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُذُبٌ لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَتْ ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَاكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَيُّهَا النَّاسُ أَظَلَّتْكُمْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت کیا کرتی تھی، حضرت عائشہ اس کے ساتھ جب بھی کوئی نیکی کرتیں تو وہ انہیں یہ دعا دیتی کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس یہودیہ کے ساتھ میں جب بھی کوئی بھلائی کرتی ہوں تو وہ یہی کہتی ہے کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جھوٹی نسبت کردیتے ہیں قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہ ہوگا۔تھوڑے عرصے بعد "جب تک اللہ کو منظور ہوا" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت اپنے کپڑے اوپر لپیٹے ہوئے اس حال میں نکلے کہ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور بآ واز بلند فرما رہے تھے کہ اے لوگو! تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا گئے ہیں، اے لوگو! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے، اے لوگو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو اور عذاب قبر برحق ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ قَالَ يُونُسُ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اعتکاف کی حالت میں کسی ضرورت کی وجہ سے گھر میں داخل ہوتی اور وہاں کوئی شخص بیمار ہو تا تو میں محض گذرتے بڑھتے اس کی خیریت دریافت کر لیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے کنگھی کر دیتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا ضرورت گھر میں نہ آتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَلْيَكُنْ لَنَا وَلَاؤُكِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَتْ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدلِ کتابت ادا کردیتی ہوں لیکن تمہاری وَلاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کر لیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کرو دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگر چہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگالے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ قَالَ إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَمْ يَأْمُرْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ إِنَّمَا فَعَلَتْهُ هِيَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام حبیبہ بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو ایک رگ کا خون ہے اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ بُدْنِهِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی کا جانور بھیجتے تھے، اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ فَذَكَرَتْ حَيْضَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَنْفِرْ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ فَقَالَ إِنَّ بَعْضَ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے اور فرمایا دیکھو تو سہی، ابھی مجزز آیا تھا، اس نے دیکھا کہ زید اور اسامہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْعَدَوِيَّةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَارُّ مِنْ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنْ الزَّحْفِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمَّتِهَا عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَرَعَةٍ مِنْ الْغَنَمِ مِنْ الْخَمْسَةِ وَاحِدَةٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ پہلونٹھی کے بچے میں سے پانچ بکریاں ہوجائیں تو ایک بکری اللہ کے نام پر صدقہ کردی جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنْ الْقُرْآنِ فَهُوَ حَبْرٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم کی ابتدائی سات سورتیں حاصل کرلے وہ بہت بڑا عالم ہے۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَعَكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى قَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ تَغَنَّى فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر کو جب بخار ہو ا تو وہ کہنے لگے "ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ "حضرت بلال کو جب بخار کچھ کم ہو تا تو وہ یہ شعر پڑھتے "ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ "فخ" میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور"جلیل" نامی گھاس ہو گی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور شامہ اور طفیل میرے سامنے آسکیں گے، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا فرما، جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا۔ "
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَجَعَلَ يُطَأْطِئُ لِي مَنْكِبَيْهِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، تاکہ میں بھی دیکھ سکوں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي سَائِبَةُ مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعُونَ بِهَذَا الرُّمْحِ قَالَتْ هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ نَقْتُلُهُنَّ بِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ
سائبہ "جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندھیں تھیں" کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ غَيْرَ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْبَتْرَاءِ فَإِنَّهُمَا تَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ وَتَقْتُلَانِ أَوْلَادَ الْحَبَالَى فِي بُطُونِهِمْ فَمَنْ لَمْ يَقْتُلْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا بِهِمَا حَسَنٌ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ الْمَعْنَى وَالْإِسْنَادُ عَنْ عَنْ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کر دیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔حدیث نمبر (٢٥٠٣٩اور٢٥٠٤٠) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کے ساتھ تخلیق میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ عِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہو تا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے ، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ تُصَلِّي وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى أَنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت حجش "جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں" سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ "معمول کے ایام" نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہو جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں، اور اپنی بہن زینب حجش کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي زَبَّانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ وَأَنَا فِي الْبَيْتِ فَيَفْصِلُ بَيْنَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ بِتَسْلِيمٍ يُسْمِعُنَاهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں کمرے میں ہوتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں اور وتر کے درمیان سلام پھیر کر "جس کی آواز ہم سنتے تھے" وصل فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہو تا تھا جو دائمی ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ فَقَالَ دَعْهُنَّ يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔
-
وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ فَأَقْعُدُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
حضرت عائشہ مزید کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی، اب تم خود اندازہ لگا لو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل تماشے کی کتنی رغبت ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ تقریباً وہ پو را مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنِي بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ الدَّوْسِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
سالم سدوسی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَتْ فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ أَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلْبِرَّ أَرَدْتُنَّ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشَرَ شَوَّالٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ارادے کا ذکر فرمایا تو حضرت عائشہ نے ان سے اعتکاف کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ حضرت عائشہ نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ ان کے لئے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیں، انہوں نے اجازت لی تو حضرت حفصہ کے حکم پر ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت زینب نے بھی اپنا خیمہ لگا نے کا حکم دے دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ نماز پڑھ کر واپس آجاتے تھے، اس دن مسجد میں بہت سارے خیمے دیکھے تو فرمایا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عائشہ، حفصہ، زینب کے خیمے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہو؟ میں اعتکاف ہی نہیں کرتا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور عید گذرنے کے بعد شوال کے دس دن کا اعتکاف فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عُتْبَةُ يَعْنِي ابْنَ ضَمْرَةَ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى غُطَيْفٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَنْ الرَّجُلُ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى غُطَيْفِ بْنِ عَازِبٍ فَقَالَتْ ابْنُ عُفَيْفٍ فَقَالَ نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَرَكَعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ نَعَمْ
عبداللہ بن ابی قیس "جو غطیف بن عفیف کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا، انہوں نے پوچھا کون آدمی ہے؟ عرض کیا کہ میں عبداللہ ہوں، غطیف کا غلام، انہوں نے پوچھا جس کے والد کا نام عفیف ہے؟ عرض کیا جی ام المومنین! پھر انہوں نے حضرت عائشہ سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں!
-
وَسَأَلَهَا عَنْ ذَرَارِيِّ الْكُفَّارِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِلَا عَمَلٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
انہوں نے کفار کے نابالغ بچوں کے متعلق پوچھا تو حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ہوں گے، حالانکہ میں نے یہ عرض بھی کیا تھا کہ یا رسول اللہ! بغیر کسی عمل کے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ معلوم ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إِلَّا الْحِمَارُ وَالْكَافِرُ وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی نماز گدھے ، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں تو گندے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست بد اخلاقی کا نام ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مُكَاتِبًا لَهَا دَخَلَ عَلَيْهَا بِبَقِيَّةِ مُكَاتَبَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ أَنْتَ غَيْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَيْرَ مَرَّتِكَ هَذِهِ فَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ رَهَجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان کا ایک مکاتب غلام ان کے پاس اپنا بقیہ بدل کتابت ادا کرنے کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ آج کے بعد تم میرے پاس نہیں آسکو گے، البتہ تم اپنے اوپر جہاد فی سبیل اللہ کو لازم کر لینا کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان آدمی کے دل میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار خلط ملط ہو جائے تو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اسلام میں دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کے اذان دینے کے بعد دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی سفر میں پڑھی ہے اور نہ حضر میں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِي يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ كَيْفَ يَلْعَبُونَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ وَاقْدُرْ قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں اپنے حجرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی، اب تم خود اندازہ کر لو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی؟
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ الشَّمْسَ لَطَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَرْقَسَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اتَّخَذْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ الصُّوَرُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَتَكَهُ وَقَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پر دہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لئے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ إِنَّا لَا نَعْلَمُ الْحَرَامَ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے دور رہتے اور نہ ترک فرماتے، ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ احرام سے انسان بیت اللہ کے طواف کے بعد ہی نکلتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا حَائِضٌ فَقَالَ عَقْرَى أَحَابِسَتُنَا هِيَ قَالُوا إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَنَفَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ مَا سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَرَّةً
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے اور روانہ ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنْ الْفَرَائِضِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ بخدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی ، البتہ میں یہ نماز پڑھ لیتی ہوں، نیز فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہو جائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہو نا زیادہ بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِذَهَبٍ كَانَتْ عِنْدَنَا فِي مَرَضِهِ قَالَتْ فَأَفَاقَ فَقَالَ مَا فَعَلْتِ قَالَتْ لَقَدْ شَغَلَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْكَ قَالَ فَهَلُمِّيهَا قَالَ فَجَاءَتْ بِهَا إِلَيْهِ سَبْعَةَ أَوْ تِسْعَةَ أَبُو حَازِمٍ يَشُكُّ دَنَانِيرَ فَقَالَ حِينَ جَاءَتْ بِهَا مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ وَمَا تُبْقِي هَذِهِ مِنْ مُحَمَّدٍ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا کہ وہ سونا خرچ کردوں جو ہمارے پاس موجود تھا، افاقہ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ حُسَيْنٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ قُلْتُ يَا خَالَةُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّهُ كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُسْتَتِرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ فَهَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَتَّكِئَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَسَائِرُ جَسَدِهِ فِي الْمَسْجِدَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا جسم مسجد میں ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَقَدْ نَفِسْتُ وَأَنَا مُنَكِّسَةٌ فَقَالَ لِي أَنَفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَحْسِبُ النِّسَاءَ خُلِقْنَ إِلَّا لِلشَّرِّ فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ ابْتُلِيَ بِهِ نِسَاءُ بَنِي آدَمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام "سرف" میں میرے پاس تشریف لائے، مجھے اس وقت ایام شروع ہو گئے تھے اور میں سر لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہارے ایام شروع ہوگئے؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! اور میرا تو خیال ہے کہ عورتوں کو شر کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں بنی آدم کی ساری عورتیں ہی مبتلا ہوتی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ أَنْ ضَرَبَ مَنْكِبَهُ وَقَالَ يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي ثَلَاثًا فَقُلْتُ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ قَالَتْ نَسِيتُهُ وَاللَّهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمْ يَرْضَ بِالَّذِي أَخْبَرْتُهُ حَتَّى كَتَبَ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ اكْتُبِي إِلَيَّ بِهِ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ بِهِ كِتَابًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی کو بلا بھیجا، وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گفتگو کے آخر میں حضرت عثمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا بخدا میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی، وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ روایت حضرت امیر معاویہ کو سنائی لیکن وہ صرف میرے کہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ام المومنین کو خط لکھا کہ مجھے یہ لکھ کر بھجوا دیجئے، چنانچہ انہوں نے وہ حدیث ایک خط میں لکھ کر حضرت معاویہ کو بھیج دی۔
-
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ عَمَّنْ سَمِعَ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَمَشَى حَافِيًا وَنَاعِلًا وَانْصَرَفَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر بھی پانی پیا ہے اور بیٹھ کر بھی، برہنہ پاؤں بھی چلے ہیں اور جوتے پہن کر بھی، اور دائیں جانب سے بھی واپس آئے ہیں اور بائیں جانب سے بھی۔
-
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ فُوَيْسِقٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو "فویسق" (نقصان دہ) قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔
-
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنْ الدَّوَابِّ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں "فواسق" میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے، بچھو، چیل، چوہا، باؤلا، کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ فَحَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسُوا بِشَيْءٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنْ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقِرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے "کاہنوں" کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ جو بات بتاتے ہیں وہ سچ ثابت ہو جاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ ثابت ہونے والی وہ بات کسی جن نے فرشتوں سے سن کر اچک لی ہو تی ہے، پھر وہ اپنے موکل کے کان میں مرغے کی آواز کی طرح اس ڈال دیتا ہے جس میں وہ کاہن سو سے بھی زیادہ جھوٹ ملا کر آگے بیان کر دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ وَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ فَإِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں سورج گرہن ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ پر پہنچ کر نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبار کھا، اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہو گیا تھا پھر فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی زندگی اور موت سے گہن نہیں لگتا، اس لئے جب ایسا ہو تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جایا کرو۔
-
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بِاثْنَيْنِ بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا اللہ تعالیٰ کفارہ فرما دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ عائشہ! حضرت جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَعَلَیِہ السَلاَمُ وَرَحمَۃ اللَہِ اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کچھ دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ فَقَالَتْ بَلَى فَقَالَ فَأَحِبِّي هَذِهِ لِعَائِشَةَ قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَخَرَجَتْ فَجَاءَتْ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُنَّ بِمَا قَالَتْ وَبِمَا قَالَ لَهَا فَقُلْنَ لَهَا مَا أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ فَارْجِعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ فَاسْتَأْذَنَتْ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَزْوَاجُكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي زَيْنَبُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَطَفِقْتُ أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى يَأْذَنُ لِي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ قَالَتْ فَوَقَعْتُ بِزَيْنَبَ فَلَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَفْحَمْتُهَا فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات، نے حضرت فاطمہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئی اور کہنے لگیں یارسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیا ری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہونے والی گفتگو بتا دی، جسے سن کر انہوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کر سکیں، آپ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ نے کہا بخدا اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کر دیئے (طعنے) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہو گیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ كَانَتْ تِلْكَ صَلَاتَهُ يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُنَادِي لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھا نے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ قَالَتْ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنْ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے اے اللہ! عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال اور زندگی اور موت کے فتنے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یارسول اللہ! آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَمَّا مَسَّتْ النَّارُ فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِثَوْبٍ حِبَرَةٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ وَهِيَ تَقُولُ لِي أَشَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ فَارْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا تُفْتَنُ الْيَهُودُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ یہ کہہ رہی تھی کیا تمہیں معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کی ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کی مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ ثُمَّ يَحْيَا فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخْذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ إِنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جا تا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی، جب اس سے افاقہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں چھت کی طرف اٹھ گئیں اور فرمایا اے اللہ! رفیق اعلیٰ سے ملا دے، میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ الصِّيَامِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَكَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمِ الْخَمِيسِ وَالِاثْنَيْنِ
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي زِيَادٍ خِيَارِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ الْبَصَلِ فَقَالَتْ إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ
ابوزیاد خیار ابن سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے لہسن کھانے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری کھانا جو کھایا تھا اس میں لہسن شامل تھا۔
-
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ عَلَيْهِمْ السَّلَام يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کو ملا کر رکھنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں، اور جو شخص صفوں کا درمیانی خلاء پر کردے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ قَالَ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں جمع کئے جاؤ گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مرد و عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن ہر آدمی کی ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسروں سے بے نیاز کردے گی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کر تے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کر تے کہ اے اللہ! خوب موسلادھار اور خو شگوار بنا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اپنی طرف سے اس کا تبادلہ بھی فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ لَا يَقِفُ عِنْدَهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری دن ظہر کی نماز پڑھ کر واپس منیٰ کی طرف روانہ ہوتے اور ایام تشریق وہیں گذارے، زوال شمس کے بعد جمرات کی رمی فرماتے تھے، ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے تھے، اور جمرہ اولیٰ اور جمرہ ثانیہ کی رمی کر کے رک جاتے تھے اور کافی دیر کھڑے رہ کر دعائیں کرتے تھے، لیکن تیسرے جمرے کی رمی کے بعد نہیں رکتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ فَمَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَنَلْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی سے کوئی احسان کیا ہو تو اسے اس کا بدلہ اتارنا چاہیے اور جو شخص ایسا نہ کرسکے وہ اس کا اچھے انداز میں ذکر ہی کر دے کیونکہ اچھے انداز میں ذکر کرنا بھی شکر یہ ادا کرنے کا طرح ہے، اور جو شخص ایسی چیز سے اپنے آپ کو سیراب ظاہر کر تا ہو جو اسے حاصل نہ ہو تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ إِذَا دَهَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَعْتُ فَرْقَةً مِنْ فَوْقِ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ لَهُ نَاصِيَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تیل لگاتی تھی تو مانگ سر کے اوپر سے نکالتی تھی اور پیشانی کو چھوڑ دیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا عَائِشَةُ قَوْمُكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا قَالَتْ فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي فَقَالَ وَمَا هُوَ قَالَتْ تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَّتِكَ بِكَ لَحَاقًا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ وَعَمَّ ذَاكَ قَالَ تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا فَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ قَالَتْ فَقُلْتُ فَكَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ دَبًى يَأْكُلُ شِدَادُهُ ضِعَافَهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمْ السَّاعَةُ وَالدَّبَى الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنوتیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہو جائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بیماری ہوگی جس میں مضبوط لوگ کمزوروں کو کھا جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ قَالَتْ وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَلِكَ لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ سے کہا کہ اے ام المومنین! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ هِشَامٍ شَيْئًا إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہو تا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَأَنَا أَقُولُ لَهُ أَبْقِ لِي أَبْقِ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لیے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ قُلْتُ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ قَالَتْ لَا تَفْعَلْ أَمَا تَقْرَأُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وُلِدَ لَهُ
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی تھا، کیا تم نے قرآن کریم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں پڑھا "وانک لعلی خلق عظیم" میں نے عرض کیا کہ میں گوشہ نشین ہو نا چاہتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے، تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے یہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مِنْ النِّسَاءِ مَا رَأَيْنَا لَمَنَعَهُنَّ مِنْ الْمَسَاجِدِ كَمَا مَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا قُلْتْ لِعَمْرَةَ وَمَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا قَالَتْ نَعَمْ
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرئیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَنَمِ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میری نظروں کے سامنے اب بھی وہ منظر موجود ہے، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ وَهِشَامٍ وَيُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ دَعَوَاتٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُكْثِرُ تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ فَقَالَ إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِيِّ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ وَإِذَا شَاءَ أَقَامَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہو تا ہے اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ يَوْمَئِذٍ عُذِّبَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ ذَاكَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ عُذِّبَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا "عنقریب آسان حساب لیا جائے گا" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی، اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتا ب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ابْنِ قُرَيْظَةَ الصَّدَفِيِّ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاجِعُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ قَالَتْ نَعَمْ إِذَا شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارِي وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِذْ ذَاكَ إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ فَلَمَّا رَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اعْتَزَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پو چھا کیا ایام کی حالت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھ لیٹ جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں، میں جب اپنا ازار باندھ لیتی تھی، کیونکہ اس وقت ہمارے پاس ایک ہی بستر ہو تا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے مجھے دوسرا بستر دیدیا تو میں الگ ہوجاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْنُ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہو جائے اور اس کا مہر آسان ہو۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہے، اسے نماز والا وضو کرلینا چاہیے۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَتْ أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَيْهِ
حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورت آل عمران اور سورت نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتْ الْمَاءَ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ تَرِبَتْ يَدَاكِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعِيهَا وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشْبَهَ أَخْوَالَهُ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت "خواب" دیکھے اور اسے "پانی" کے اثرات نظر آئیں تو کیا وہ بھی غسل کرے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! حضرت عائشہ نے اس عورت سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں (کیا عورت بھی اس کیفیت سے دوچار ہوتی ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اسے چھوڑ دو، بچے کی اپنے والدین سے مشابہت اسی وجہ سے تو ہوتی ہے کہ اگر عورت کا "پانی" مرد کے"پانی" پر غالب آجائے تو بچہ اپنے ماموں کے مشابہہ ہوتاہے، اور اگر مرد کا "پانی" عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ اس کے مشابہہ ہوتاہے۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا فَشَقَّتْ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا قَالَتْ فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهَا بِهَا مِنْ النَّارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بچیوں کو اٹھائے میرے پاس آئی، میں نے اسے تین کھجور یں دی، اس نے ان میں سے ہر بچی کو ایک ایک کھجور دے دی، اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف بڑھائی، لیکن اسی وقت اس کی بچیوں نے اس سے مزید کھجور مانگی تو اس نے اسی کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کرکے انہیں دے دیا، مجھے اس واقعے پر بڑا تعجب ہوا، بعد میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے لئے اس بناء پر جنت واجب کر دی اور اسے جہنم سے آزاد کردیا۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَرْسَلْتُ بَرِيرَةَ فِي أَثَرِهِ لِتَنْظُرَ أَيْنَ ذَهَبَ قَالَتْ فَسَلَكَ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَوَقَفَ فِي أَدْنَى الْبَقِيعِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَرَجَعَتْ إِلَيَّ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ خَرَجْتَ اللَّيْلَةَ قَالَ بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت گھر سے نکلے، میں نے بریرہ کو ان کے پیچھے یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع کی طرف چل پڑے، وہاں پہنچ کر اس کے قریبی حصے میں کھڑے رہے، پھر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرکے واپس آگئے، بریرہ نے مجھے واپس آکر اس کی اطلاع کر دی، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ رات کو کہاں گئے تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ ان کے لئے دعا کروں۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخَرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی دو مرتبہ کوئی نماز اس کے آخری وقت میں نہیں پڑھی حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے سال لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص حج سے پہلے عمرہ کر نا چاہے تو وہ ایسا کر لے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہدی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے) صرف حج کیا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ فَقَالَ لِي صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنْ الْبَيْتِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حطیم میں داخل کر دیا اور فرمایا اگر تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے لیکن تمہاری قوم کے پاس جب حلال سرمایہ کم ہو گیا تو انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اس حصے کو اس تعمیر سے باہر نکال دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ بِسْمِ اللَّهِ بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مریض پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے"بسم اللہ" ہماری زمین کی مٹی میں ہم میں سے کسی کا لعاب شامل ہوا، تا کہ ہمارے رب کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفاء یابی ہو۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَقَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجور سے گھٹی دی اور فرمایا یہ عبداللہ ہے تم ام عبداللہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَيْهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ إِلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَكِ فَانْتَصِرِي فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب میرے گھر میں غصے کی حالت میں اجازت لئے بغیر آگئیں اور مجھے پتہ بھی نہ چلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے جب ابوبکر کی بیٹی اپنی قمیض پلٹتی ہے (تو آپ کو مسحور کرلیتی ہے) پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئیں لیکن میں نے ان سے اعراض کیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا بدلہ لے سکتی ہو، چنانچہ میں ان کی طرف متوجہ ہوئی اور پھر میں نے دیکھا کہ ان کے منہ میں ان کا تھوک خشک ہو گیا ہے اور وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے پا رہیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر خوشی کے آثار دیکھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ قَالَ لَا يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ فَقَالَتْ أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ
عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی گھر میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ وَقَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ وَهُوَ شِفَاءٌ مِنْ الْبَاسُورِ عَائِشَةُ تَقُولُهُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے اور یہ بواسیر کے مرض کی شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ
ابوسلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں دفن دیا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو کتنا کتنا مہر دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج (میں سے ہر ایک) کو بارہ اوقیہ اور ایک نش دیا تھا، تم جانتے ہو کہ "نش" کیا ہوتاہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، ا نہوں نے فرمایا نصف اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہ ہے وہ مہر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الْأَشْعَثُ الْكُوفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الدَّائِمُ قُلْتُ فَأَيُّ سَاعَةٍ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّرْخَةَ
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبیلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَتْ أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ قَالَتْ تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا قَالَ حُمَيْدٌ فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ فَقَالَ لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایا بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہوا، اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن محرز کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے دو مہینوں کا ذکر کیا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور محسوس ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہو تا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ إِحْدَانَا تَحِيضُ أَتُجْزِئُ صَلَاتَهَا فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَفْعَلُ ذَلِكَ
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے "ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْمَاهِرَ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ تَشْتَدُّ عَلَيْهِ قِرَاءَتُهُ فَلَهُ أَجْرَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنْ اللَّيْلِ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ النَّهَارِ قَالَتْ وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا حَتَّى الصَّبَاحِ وَلَمْ يَقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ يُتِمُّهُ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ حَتَّى مَاتَ
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا اے ام المومنین ! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوڑ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے، اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ أَخْطَأَ سَمْعُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِعَمَلِهِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهَا وَاللَّهِ مَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے! حضرت ابن عمر سے سننے میں چوک ہوگئی ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر پر گذر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے اس کے اعمال کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رورہے ہیں ورنہ بخدا کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار رکعتیں اور اللہ کو جتنی رکعتیں منظور ہوتیں، اس پر اضافہ بھی فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ وَثَابِتٌ عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِ يَوْمِي فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ قَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ نے ان سے کہا کہ عائشہ! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہوں ، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا گیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پیچھے ہٹو، آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرما دے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ سے راضی ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرَهَا فَقَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا فَقَالَ أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتَ تَفْعَلُ قَالَ جِئْتُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا فَقَالَتْ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالَ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا أَوْ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ أَيَّتُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَإِحْدَاهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَتْ أَيَّتُهُمَا قُلْتُ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ أَوْ قَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حَرْفٌ
ابو خلف "جو بنو جمح کے آزاد کردہ غلام ہیں" کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو چشمہ زمزم کے پاس تھیں اور اس وقت پوری مسجد میں اس کے علاوہ کہیں اور سایہ نہ تھا، انہوں نے فرمایا ابوعاصم یعنی عبید بن عمیر کو خو ش آمدید، تم ہم سے ملاقات کے لئے کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے عرض کیا اس خوف سے کہ کہیں آپ اکتا نہ جائیں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، عبید نے عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کون سی آیت؟ عبید نے عرض کیا" کہ یہ آیت اس طرح ہے الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا یا اس طرح ہے الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قراءتوں میں سے کون سی قرات پسند ہے؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرات تو مجھے تمام دنیا و مافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی؟ عبید نے عرض کیا الذین یاتون ما ا تو ا انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں(دونوں کا مادہ ایک ہی ہے)
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الضَّبِّيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ فَقَالَ مَا هَذَا يَا عُمَرُ قَالَ مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لئے تشریف لے گئے، ان کے پیچھے حضرت عمر ایک پیالے میں پانی لے کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت کے بعد پوچھا عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کے وضو کے لئے پانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو ضرور ہی کروں کیونکہ اگر میں ایسا کرنے لگوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا بھانجے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یہاں کبھی بھی عصر کے بعد دو رکعتیں ترک نہیں فرمائیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ قَدْ حِضْنَ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ فَقَالَ شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کرکے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کردو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ فَإِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنْ الْبُكَاءِ فَقَالَ مُرُوهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ دَعِينِي فَإِنَّكُنَّ أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ لِيَؤُمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ لِيَصُبَّ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ حَتَّى يُنَقِّيَهُ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَهُ غَسْلًا حَسَنًا ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ فَإِذَا خَرَجَ غَسَلَ قَدَمَيْهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو پہلے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرمگاہ کو اچھی طرح دھوتے، پھر اس ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے، تین مرتبہ چہرہ دھوتے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے، تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے اور اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھولیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنِي خَمْسُ نِسْوَةٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ لَهُ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَصْنَعُ الشَّيْءَ وَلَمْ يَصْنَعْ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ رَأَيْتُهُ يَدْعُو فَقَالَ شَعَرْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ فَقَالَ أَتَانِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي فَقَالَ أَحَدُهُمَا مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ الْآخَرُ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُبِّ أَوْ جُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي ذِي أَرْوَانَ قَالَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ عَائِشَةَ قَالَ وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرَجْتَهُ لِلنَّاسِ فَقَالَ أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ شَفَانِي وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی"جس کا نام لبید بن اعصم تھا" نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتا دیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پو چھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتا یا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشئہ غلاف میں، اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتیا کہ "اروان" نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ کو بتایا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہو تا ہے، اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا آخَرُ ثُمَّ طَلَّقَهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمَسَّهَا قَالَ لَا يَنْكِحُهَا الْأَوَّلُ حَتَّى تَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهِ وَيَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق پوچھا "جسے اہل یمن پیتے تھے" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَفَكَانَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ فَقَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ تَرْجِعِينَ عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ
قیس کہتے ہیں کہ جب عائشہ صدیقہ رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ نے پوچھا یہ کون ساچشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمرا ہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کر وادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہو گی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ لِعَائِشَةَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ فَقَالَتْ سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ فَسَأَلَهَا عَنْ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَتْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آرہی ہے، انہوں نے فرمایا شرماؤ نہیں ، پوچھ لو، میں تمہاری ماں ہوں، چنانچہ انہوں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی پر "چھا جائے" لیکن انزال نہ ہو، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ يَعْنِي الْقَرِيعِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَمَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ تَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَعَنْ الْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نقیر ، دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ النَّاسِ كُلُّهُمْ يَشْفَعُ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ أَبِي حُصَيْنٌ هَذَا صَالِحُ الْحَدِيثِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَذَكَرَتْ الْوُضُوءَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَأْمُرُ بِطَهُورِهِ وَسِوَاكِهِ فَلَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَتْ فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُبِضَ قُلْتُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً فَلَا تَبَتَّلْ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقُهَ فَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مُكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ
ایک مرتبہ سعد بن ہشام ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے تھے اور نویں رکعت پر وتر بناتے تھے، اور بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے، حضرت عائشہ نے وضو کا بھی ذکر کر تے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے بیدار ہوتے تو وضو کا پانی اور مسواک لانے کا حکم دیتے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ رکعتیں پڑھتے اور ساتویں پر وتر بنالیتے تھے اور بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھ لیتے، اور وصال تک اسی طرح کرتے رہے، میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے گوشہ نشینی کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی اس میں کیا رائے ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا "ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ان کی بیویاں اور اولاد بنائی تھی" لہٰذا تم گوشہ نشین نہ ہونا، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کر بصرہ پہنچے اور کچھ ہی عرصے بعد "مکران" کی طرف نکل پڑے اور وہیں بہترین اعمال کے ساتھ شہید ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ النَّخَعِيِّ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكَ فَارْشُشْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اس لئے جب تم اسے دیکھا کرو تو کپڑے کو دھو لیا کرو، ورنہ پانی چھڑک دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَقْضِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ لَقَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَقْضِي شَيْئًا مِنْ الصَّلَاةِ
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہو گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے "ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں"فواسق" میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا، کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ كَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِنْسَانٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا نَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبر کو ایک مرتبہ بھینچا جا تا ہے، اگر کوئی شخص اس عمل سے بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ سَعْدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ سَعْدٌ الَّذِي يَشُكُّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی مسلسل دو دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بھی ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ إِمْلَاءً عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَهَذَا الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کیساتھ ہو گا اور جو شخص مشقت برداشت کرکے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّكُمْ أَمْلَكُ لِإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ قَالَتْ فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنْ الشَّمْسِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو رباسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا حکم دیا، نماز کا اعلان کر دیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہو گئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالباً اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر "سمع اللہ لمن حمدہ" کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دو بارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ الْأَشْعَثِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى وَأُوَافِي قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ النَّاسُ فَقَالُوا لِعَائِشَةَ وَاسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ قَالَتْ إِنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَأَذِنَ لَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ کہ کاش! میں بھی حضرت سودہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کر لیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ بِمِنًى وَقَدْ أَفَاضَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا قَالَ لِمَ قُلْتُ حَاضَتْ قَالَ أَوَلَمْ تَكُنْ قَدْ أَفَاضَتْ قُلْتُ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَتْ بَلَى شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ فَارْتَحِلِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ طواف زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طواف زیارت کے بعد " ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ هَذِهِ الْمُرَحَّلَاتِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ وَالْمِرْطُ مِنْ أَكْسِيَةٍ سُودٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہو تا اور دوسرا کو نا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمَيْنَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ تَعْجِزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ مِنْ أُضْحِيَّتِهَا سِقَاءً ثُمَّ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَكَذَا وَكَذَا نَسِيَهُ سُلَيْمَانُ
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے مٹکی کی نبیذ کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم عورتیں اس بات سے بھی عاجز ہو کہ اپنی قربانی کے جانور کی کھال کا کوئی مشکیزہ ہی بنالو، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور فلاں فلاں چیز سے منع فرمایا ہے۔ "فلاں فلاں چیز" کی وضاحت سلیمان بھول گئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَكْمَلَ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کامل ترین ایمان والا وہ آدمی ہوتاہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہوں اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى دَوْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
سالم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَصَدَّقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لِلزَّوْجِ بِمَا اكْتَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَأَخْبَرْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بِقَوْلِهَا فَقَالَ لِي أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ فَقُلْتُ إِنَّهُ لِي صَدِيقٌ فَأُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنِي فَقَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا فَقَالَ عَائِشَةُ إِذَنْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہو ا تو انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے، میں نے مروان بن حکم کو یہ حدیث سنائی تو اس نے مجھ سے کہا کہ حضرت عائشہ کی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کو سنا کر آؤ، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے دوست ہیں، آپ مجھے اس سے معاف ہی رکھیں تو بہتر ہے ، اس نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ان کے پاس ضرور جاؤ، چنانچہ میں اور مروان حضرات ابوہریرہ کی طرف روانہ ہو گئے اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق زیادہ جانتی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہو تی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَتَجِيءُ عَائِشَةُ فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ فَتُرَجِّلُهُ وَهِيَ حَائِضٌ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کر دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میں نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَتْ لِي عَمْرَةُ أَعْطِنِي قِطْعَةً مِنْ أَرْضِكَ أُدْفَنْ فِيهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی تو ڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ أَقُولُ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں"۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ أَوْ خَشَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَزْيَدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَقَرَّ وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات "جو سود سے متعلق ہیں" ہیں نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے، ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہو تا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہو جائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے، اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حواس میں آجائے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنِي عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ قَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَمَّا فِي مَوَاطِنَ ثَلَاثَةٍ فَلَا الْكِتَابُ وَالْمِيزَانُ وَالصِّرَاطُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین جگہوں پر نہیں، حساب کتاب کے موقع پر، میزان عمل کے پاس اور پل صراط پر۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ أَيْنَ النَّاسُ قَالَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اس آیت یَوم تُبدَ لُ الارضُ غَیرَ الاَرضِ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر اور یہ ایسا سوال ہے جو تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا قَالَ بِشْرٌ هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے"شعار" میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے، بشر کہتے ہیں کہ "شعار"سے مراد وہ کپڑا ہے جو جسم پر اوپر والے کپڑے کے نیچے پہنا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور افطار کرنے تک جب چاہتے مجھے بو سہ دے دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ الْجَنَابَةِ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَيَتَتَبَّعُ أُصُولَ شَعَرِهِ فَإِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ كُلَّهَا أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ و قَالَ عُرْوَةُ غَيْرَ أَنَّهُ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَهُ ثُمَّ فَرْجَهُ
حضرت عائشہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے، اور جب یقین ہو جاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ وَشَعَرِهِ فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا قَالَ مُطَرِّفٌ قُلْتُ لِعَامِرٍ فِي رَمَضَانَ قَالَ سَوَاءٌ عَلَيْكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر جنبی ہوتے ، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹک رہا ہے، اور میں ان کی قرات سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَأَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَةٍ أَصَابَتْ ثَوْبِي فَقَالَتْ مَا هَذَا قُلْتُ جَنَابَةٌ أَصَابَتْ ثَوْبِي فَقَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّهُ يُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِهِ هَكَذَا وَوَصَفَهُ مَهْدِيٌّ حَكَّ يَدَهُ عَلَى الْأُخْرَى
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ نے مجھے جنابت کے نشانات دھوتے ہوئے دیکھا جو میرے کپڑوں پر لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے کپڑوں پر جنابت کے نشان لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر یہ نشان لگ جا تے تو وہ اس طرح کر دیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں، راوی نے رگڑتے ہوئے دکھا یا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ وَرَوْحٌ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ قَالَ عَفَّانُ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَالَ رَوْحٌ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہو تا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے، اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حو اس میں آجائے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ فَقَالَتْ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس میں مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابوقحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ كَانَ جُنُبًا فَاغْتَسَلَ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہو تے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہو تی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہو تے، جب پہلی اذان ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہو تے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے، اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَكَانَ لِي أَخًا وَصَدِيقًا فَقُلْتُ أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ وَثَبَ وَمَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَمَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہو تے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہو تی تو اپنی حاجت پوری کر تے ، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہو تے، جب پہلی اذان ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہو تے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ قَالَ قُلْتُ لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ قَالَ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سناؤ، جو ام المومنین حضرت عائشہ نے صرف تم سے ہی بیان کی ہو کیونکہ وہ بہت سی چیزیں صرف تم سے بیان کر تی تھیں اور عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی جس کا پہلا حصہ مجھے یاد ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (یہاں تک پہنچ کر اسود رک گئے) آگے حضرت ابن زبیر نے اسے مکمل کر دیا کہ میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ حَدَّثَنَا بِهِ حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے، یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے) ۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْ عَمٍّ أَوْ ابْنِ أَخٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہو تے ہیں مثلاً ماموں، چچا، بھتیجا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں عورت فوت ہو گئی اور اسے راحت نصیب ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی سے فرمایا اصل راحت تو اسے ملتی ہے جس کی بخشش ہو جائے۔
-
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ إِنْ شَاءَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھوکر کھاتے پیتے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً وَكَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَائِمًا فَلَمَّا كَبُرَ وَثَقُلَ كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا وَكَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ حَتَّى يُرِيدَ أَنْ يُوتِرَ فَيَغْمِزُنِي فَأَقُومُ فَيُوتِرُ ثُمَّ يَضْطَجِعُ حَتَّى يَسْمَعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يُلْصِقُ جَنْبَهُ الْأَرْضَ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور اکثر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور جسم بھاری ہو گیا تو اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ رہے ہو تے تھے تو میں اسی بستر پر ان کے سامنے لیٹی ہو تی تھی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرماتے تھے، اور جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں بھی کھڑی ہوکر وتر پڑھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جا تے، جب اذان کی آواز سن لیتے تو اٹھ کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھتے پھر اپنے پہلو کو زمین پر لگا دیتے اور اس کے بعد نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن کسی شخص کا حساب نہیں کیا جائے گا کہ اسے بخش دیا جائے، مسلمان تو اپنے اعمال کا انجام اپنی قبر میں ہی دیکھ لیتا ہے، ارشاد ربانی ہے" اس دن کسی کے گناہ سے متعلق کسی انسان یا جن سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی"۔ ۔ ۔ ۔ اور "مجرم اپنی علامات سے پہچان لئے جائیں گے۔ "
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ نَظَرَ إِلَيْهِ فَهَتَكَهُ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کر دیئے ، جس کے میں نے دو تکیے بنا لیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ٹیک لگا لیا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكُنْتِ تَغْتَسِلِينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کر تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ فَقَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقُلْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ فَقَرَأَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ حَتَّى بَلَغَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی تو میں اس سے ناواقف تھی، کچھ عرصے بعد مجھے اس کے متعلق پتہ چلا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی، نزولِ وحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی، بہر کیف! نزول وحی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا یا اور پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے ، اور فرمایا عائشہ! خوشخبری قبول کرو، میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت الَذِینَ یَرمُونَ المُحصَنَاتِ حَتی بَلَغَ مُبرَوُونَ مِمَا بَقُولوُ نَ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَ الْخِيَارُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا لَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قُلْتُ مَا هُوَ فَقَرَأَ آيَةَ الْخِيَارِ فَقُلْتُ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرِحَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہو ئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر تی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ إِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَأُبَادِرُهُ وَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کر تے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لیے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ قَالَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْمِسْوَرُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا فَقُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی، حضرت عائشہ کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّه عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینا ریا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔ ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ "حدثنا" لکھا ہوا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مُهِلًّا بِالْحَجِّ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ الْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا اشْتَكَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِكَفِّهِ رَجَاءَ بَرَكَةِ يَدِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کر تے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہو جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو محض انسانی ضرورت کی وجہ سے ہی گھر میں داخل ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ قَالَتْ كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِ رَمَضَانَ وَاحِدَةً كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَقَلْبِي لَا يَنَامُ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیررمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ قَالَتْ وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ قَالَتْ فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا قَالَتْ فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ قَالَتْ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ مَا فَعَلَتْ السِّتَّةُ قَالَ أَوْ السَّبْعَةُ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ قَالَتْ فَدَعَا بِهَا ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ فَقَالَ مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ایک دن میں اور عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کاش! تم دونوں نے اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو تا جس دن وہ بیمار ہوئے تھے، میرے پاس اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ یا سات دینار پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں تقسیم کردوں، لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے فرصت نہ مل سکی، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تندرست ہوگئے، اور مجھ سے ان کے متعلق پوچھا کہ ان چھ (یاسات) دیناروں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا بخدا اب تک نہیں ہو سکا، آپ کی بیماری نے مجھے مصروف کر دیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگوایا اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمانے لگے اللہ کے نبی کا کیا گمان ہو گا، اگر وہ اللہ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا دَلَّهُمْ عَلَى بَابِ الرِّفْقِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! نرمی سے کام لیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی رہنمائی کردیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفْسِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی عجوہ کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں ہر سحر یا زہر سے شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ قَالَ لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا ، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءٌ أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی عجوہ کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھانے میں شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ إِذْ ضَحِكَ فِي مَنَامِهِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ هَذَا الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَيْدَاءَ خُسِفَ بِهِمْ مَصَادِرُهُمْ شَتَّى يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ قُلْتُ وَكَيْفَ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ جَمَعَهُمْ الطَّرِيقُ مِنْهُمْ الْمُسْتَبْصِرُ وَابْنُ السَّبِيلِ وَالْمَجْبُورُ يَهْلِكُونَ مَهْلِكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى
ام المومنین حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، سوتے سوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ پر حملے کا ارادہ کریں گے، اس ایک آدمی کی وجہ سے جو حرم شریف میں پناہ گزین ہو گا، جب وہ مقام بیداء تک پہنچیں گے تو سب کے سب زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے اور ان سب کے اٹھنے کی جگہ مختلف ہو گی کیونکہ اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا، میں نے عرض کیا کہ یہ کیا بات ہو ئی کہ ان سب کے اٹھنے کی جگہیں مختلف ہوں گی اور اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل اس لشکر میں کئی لوگ صرف دیکھنے کے لئے کئی مسافر اور کئی زبردستی شامل کئے گئے ہوں گے، یہ سب ایک ہی جگہ پر ہلاک ہو جائیں گے لیکن اپنی نیتوں کے اعتبار سے مختلف جگہوں سے اٹھائے جائیں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الرِّجَالِ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ كَأَنَّ لَيْسَ فِيهِ طَعَامٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ گھر جس میں کھجور نہ ہو، ایسے ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَقِيعِ الْبُسْرِ وَهُوَ الزَّهْوُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جگہ سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے، جہاں لوگوں کا گندہ پانی اکٹھا ہوجاتا ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمَرَةَ أَرْضِهِ فَأَتَيْنَاهُ نَسْتَوْضِعُهُ وَاللَّهِ مَا أَصَبْنَا مِنْ ثَمَرِهِ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا أَكَلْنَا فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ شِئْتَ الثَّمَرَ كُلَّهُ وَإِنْ شِئْتَ مَا وَضَعُوا فَوَضَعَ عَنْهُمْ مَا وَضَعُوا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ، آپ پر قربان ہوں، میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں آدمی سے اس کی زمین کے پھل خریدے، ہم نے اس فصل کو کاٹا اور پھلوں کو الگ کیا تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو معزز کیا، ہمیں اس میں سے صرف اتنا ہی حاصل ہو سکا جو ہم خود اپنے پیٹ میں کھا سکے یا برکت کی امید سے کسی مسکین کو کھلا دیں، اس طرح ہمیں نقصان ہوگیا، ہم مالک کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمارے اس نقصان کی تلافی کر دے تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ وہ ہمارے نقصان کی کوئی تلافی نہیں کرے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کیا اس نے نیکی نہ کرنے کی قسم کھا لی؟ اس آدمی کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اگر آپ چاہیں تو میں ان کے نقصان کی تلافی کردوں (اور مزید پھل دے دوں) اور اگر آپ چاہیں تو میں انہیں پیسے دے دیتا ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر اس نے ان کے نقصان کی تلافی کردی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْ الشَّهْرِ جَاءَ لِيَدْخُلَ فَقُلْتُ لَهُ أَلَمْ تَحْلِفْ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩کا بھی ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَتَأْمَنَ مِنْ الْعَاهَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو اس وقت تک بیچنے کی ممانعت فرمائی ہے، جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوظ نہ ہوجائیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو قُدَامَةَ الْعُمَرِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ قَالَتْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ تُصَلِّي الضُّحَى وَتَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
ام ذرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور وہ فرماتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف چار رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران نماز دائیں بائیں دیکھنے کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اچک لینے والا حملہ ہو تا ہے جو شیطان انسان کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ قَالَتْ أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا قَالَتْ إِنَّهَا حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَهَا لَيْسَ فِي يَدِهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے "ایام" اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صَوْمَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے روزے کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَمَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيُرَقِّعُ ثَوْبَهُ
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَالِمٌ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا يَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ سَالِمٌ فَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ نَأْخُذَ بِهَا مِنْ قَوْلِ عُمَرَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، سالم کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے قول کو لینے سے سنت رسول پر عمل کرنے کا حق زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ ثُمَّ قَالَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ مَرَّتَيْنِ و قَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ و قَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي فَكَانَ أَبِي
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو فرمایا ابوبکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ وہ ایک تحریر لکھ دے اور ابوبکر کے معاملے میں کوئی طمع رکھنے والا طمع نہ کرسکے اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا نہ کرسکے، پھر فرمایا اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کر دیں گے کہ ابوبکر کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ خَالِهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنْ الْوَسْوَسَةِ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنْ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ
حضرت عائشہ سے مریو ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے اپنے آپ کو پیش آنے والے وساوس کی شکایت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں ایسے وسو سے آتے ہیں کہ ہمیں وہ زبان پرندے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ ہم آسمان سے نیچے گر پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ فَقَالَتْ مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ قُلْتُ لَهَا مَا لَكِ قَالَتْ عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُثْمَانَ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے شوہر موجود ہیں یا کہیں گئے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ہونا بھی نہ ہونے کی طرح ہے، میں نے کہا کیا مطلب؟ انہوں نے کہا کہ عثمان دنیا اور عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے، تھوڑی دیر بعد بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ پات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! کیا تم ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہو جن پر ہم ایمان لائے؟ انہوں نے عرض کیا جی یارسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ہمارے اسوہ پر عمل کیوں نہیں کرتے؟گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سُفْيَانَ وَذَكَرَ رَجُلًا آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنْ أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَادَ إِلَى أَهْلِهِ وَاغْتَسَلَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے تھے، پھر جب سونے کے بعد رات کے آخری پہر میں بیدار ہوتے تو دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس جاتے اور پھر غسل فرماتے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ فَتَكَنَّيْ بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا
ابوبکر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج کا انتقال ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، میں عمرہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، البتہ وہ بھول گئے ہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گذرے تھے جس پر لوگ رورہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہورہا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے شروع، درمیان اور آخر ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، چنانچہ مرنے سے کچھ پہلے وہ جہنمیوں والے اعمال کرنے لگتا ہے اور اسی حال میں مر کر جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہو تا ہے لہٰذا مرنے سے کچھ پہلے وہ اہل جنت والے اعمال کرنے لگتا ہے اور اس حال میں مر کر جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يَفْرِجُونَ دُونَهُ حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَرَهِقُوهُ فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ وَقَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْقَوْمُ فَقَالَ كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ لَقَدْ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عرب کے دیہاتی لوگ بڑی کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا، مہاجرین کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ بنانے لگے اور اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے گھر کی چوکھٹ تک پہنچ پائے، وہ دیہاتی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان کے حوالے کی اور خود تیزی سے چوکھٹ کی طرف بڑھے اور گھر میں داخل ہو گئے اور فرمایا ان پر خدا کی لعنت ہو، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ! یہ لوگ تو ہلاک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر! ہرگز نہیں، میں نے اپنے رب سے یہ شرط ٹھہرا رکھی ہے "جس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی" کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور ان چیزوں سے تنگ ہوتا ہوں جن سے عام لوگ تنگ ہوتے ہیں، اب اگر کسی مسلمان کے لئے میرے منہ سے کوئی جملہ نکل جائے تو اسے اس شخص کے حق میں کفارہ بنا دے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا امْرَأَةً امْرَأَةً فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک ایک زوجہ کے پاس نہ جاتے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور مباشرت کے سوا ہمارے جسم کو چھو لیتے تھے، یہاں تک کہ اس زوجہ کے پاس پہنچ جاتے جس کی اس دن باری ہوتی اور اس کے یہاں رات گذارتے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ وَايْمُ اللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ لَيَمُرُّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللُّحَيْمُ وَمَا هُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَهْلَ دُورٍ مِنْ الْأَنْصَارِ جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ فَكُلُّ يَوْمٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ يَعْنِي فَيَنَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ وَلَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا قَرِيبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِيرٍ فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ لَا يَفْنَى فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ فَلَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ كِلْتُهُ وَايْمُ اللَّهِ لَأَنْ كَانَ ضِجَاعُهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ و قَالَ الْهَاشِمِيُّ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ وَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا ضِجَاعُهُ
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے، بخدا اے بھانجے! آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے، اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں، یعنی پانی اور کھجور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو الماری میں اتنا بھی کھانا نہ تھا جسے کوئی جگر رکھنے والا کھا سکے، صرف تھوڑے سے جو کے دانے تھے، لیکن میں انہیں ایک طویل عرصے تک کھاتی رہی تاہم وہ ختم نہ ہوئے، ایک دن میں نے انہیں ناپ لیا اور وہ ختم ہو گئے، کاش! میں نے انہیں ماپا نہ ہو تا، اور بخدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نُوقِشَ الْمُحَاسَبَةَ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ قَوْلُهُ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ ذَاكَ الْعَرْضُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا "عنقریب آسان حساب لیا جائے گا" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہو گی، اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ مُوسَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْظٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِحَاجَتِهِ فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَإِنَّهَا تُجْزِئُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھروں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ تَصَدَّقَتْ بِشَيْءٍ فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے بریرہ سے کہا تو وہ کچھ لے کر آئی، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ فَقُلْتُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ أَنْتَ الطَّبِيبُ وَأَنْتَ الشَّافِي وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ أَوْ وَجِعَ فَلَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ صَلَّى بِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو یہ دعا پڑھتے" اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَوْ نَامَ صَلَّى بِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُهُ قَامَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ وَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ عَمَلًا يُثْبِتُهُ
حضرت عائشہ سے مری ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نین کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے، اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَاهُمْ ثُمَّ يَعُودُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس آجاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ آخِرَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ قَالَتْ نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرُ الْوَزَغِ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِقَتْلِهِ
سائبہ"جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندی تھیں" کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِهِ وَهُوَ يُلَبِّي قَيْلَ لِسُلَيْمَانَ أَفِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ مَا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ
ام موسیٰ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناجائز بچہ بھی اگر اپنے ماں باپ جیسے کام کرنے لگے تو وہ تیسرا شر ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ الْعِينِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی آنکھوں والے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے پھر باہر نکلتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْدَى إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کیطرف روانہ کیا تھا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ قَالَ وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص برداشت کرکے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّى
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگتے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هُرَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن فوت ہوئے تھے بدھ کی رات تدفین عمل میں آئی تھی۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَعَلْنَاهُ مَرَّةً فَاغْتَسَلْنَا فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایسا کیا تو غسل کیا تھا، مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو (تو غسل کرے)
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنْ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِمَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ قَالَ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَدَقُّ مِنْ الشَّعْرِ وَأَحَدُّ مِنْ السَّيْفِ عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن کوئی دوست اپنے دوست کو یاد رکھے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! تین جگہوں پر تو بالکل نہیں، ایک تو میزان عمل کے پاس، جب تک کہ اس کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری یا ہلکا نہ ہو جائے دوسرے اس وقت جب ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا کہ وہ دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں ہاتھ میں، اور تیسرے اس وقت جب جہنم سے ایک گردن باہر نکلے گی، وہ غیظ و غضب سے ان پر الٹ پڑے گی اور تین مرتبہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتا رہا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا، اور مجھے ہر ظالم سرکش پر مسلط کیا گیا ہے، پھر وہ انہیں لپیٹے گی اور جہنم کی تاریکیوں میں پھینک دے گی۔ اور جہنم پر ایک پل ہو گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کانٹے اور آنکڑے ہوں گے جو ہر اس شخص کو پکڑ لیں گے جسے اللہ چاہے گا، پھر کچھ لوگ اس پر پلک جھپکنے کی مقدار میں، کچھ بجلی کی طرح، کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور کچھ دوسرے سواروں کی طرح سے گذر جائیں گے اور فرشتے یہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار! بچانا، بچانا، اسی طرح کچھ لوگ صحیح سلامت بچ جائیں گے، کچھ زخمی ہوکر بچ جائیں گے اور کچھ چہروں کے بل جہنم میں گر پڑیں گے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ قَالَ أَبِي وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث وکیع رحمۃ اللہ علیہ سے بھی منقول ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا يَبْدَأُ بِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ السِّوَاكَ وَآخِرُهُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہو تے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ وَحَجَّاجٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ ائْتِ عَلِيًّا فَاسْأَلْهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا سَافَرْنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا قَالَ أَسْوَدُ فِي حَدِيثِهِ وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مَسَحْنَا عَلَى خِفَافِنَا
شریح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے موزوں پر مسح کرنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جا کر حضرت علی سے یہ مسئلہ پوچھو، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ہم سفر پر ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَجْمَرْتُ رَأْسِي إِجْمَارًا شَدِيدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْنَاهُ وَقَرَّبَ مَجْلِسَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَكُ تَشْكُو هَذَا الرَّجُلَ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ شَرِّ النَّاسِ الَّذِينَ إِنَّمَا يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ شَرِّهِمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب جگہ عطاء فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس طرح فرمایا، پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہو گا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لئے چھوڑ دیا ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَنْتَبِهُ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے، پھر بیدار ہوتے اور دوبارہ یونہی سوجاتے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ قَالَ قُلْتُ حَدِّثِينِي عَنْ ذَاكَ قَالَتْ صَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا فَقُلْتُ لِجَارِيَتِي اذْهَبِي فَإِنْ جَاءَتْ هِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَتْهُ قَبْلُ فَاطْرَحِي الطَّعَامَ قَالَتْ فَجَاءَتْ بِالطَّعَامِ قَالَتْ فَأَلْقَتْهُ الْجَارِيَةُ فَوَقَعَتْ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ وَكَانَ نِطْعًا قَالَتْ فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اقْتَصُّوا أَوْ اقْتَصِّي شَكَّ أَسْوَدُ ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكِ فَمَا قَالَ شَيْءٌ
بنو سواء کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی واقعہ سنایئے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا، ادھر حضرت حفصہ نے بھی کھانا پکا لیا، میں نے اپنی باندی کو سمجھا دیا کہ جا کر دیکھ اگر حفصہ کھانا لے آئیں اور پہلے رکھ دیں تو تم وہ کھانا گرا دینا، چنانچہ حضرت حفصہ کھانا پہلے لے آئیں، باندی نے اسے گرادیا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، نیچے دستر خوان بچھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جمع کرنے لگے اور فرمایا کہ اس برتن کے بدلے میں دوسرا برتن قصاص کے طور پر وصول کرلو، لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِرَاشِهِ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ بَعْضَ نِسَائِهِ فَتَبِعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْمَقَابِرِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ قَالَتْ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ وَيْحَهَا لَوْ تَسْتَطِيعُ مَا فَعَلَتْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "سلام علیکم دار قوم مومنین" تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرمایا اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑ گئی اور فرمایا افسوس! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ ابْنِ عُمَرَ شَكَّ شَرِيكٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ عَلَى الْخُمْرَةِ
حضرت عائشہ یا ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر سجدہ کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهَا فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي عَرُوسٌ مَرِضَتْ فَتَمَرَّقَ شَعَرُهَا أَفَأَصِلُ فِيهِ فَقَالَتْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ أَوْ قَالَتْ الْوَاصِلَةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہو گئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي ابْنَةً عَرُوسًا وَإِنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّقَ شَعَرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہو گئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْعَتَكِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زُوِّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہو گئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَتْ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَكِ لَيْسَ بِيَدِكِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ مِنْ يَدِكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَدَ صَعْبًا لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي بِهِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع وسجود فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ فَقَالَتْ لَا تَفْعَلْ أَلَمْ تَقْرَأْ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلِدَ لَهُ
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین! میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے" تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوئہ حسنہ موجود ہے" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے یہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ وَلَا رَهْوُ بِئْرٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَتْهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً فَقَالَ لَهَا اقْطَعِيهِ وِسَادَتَيْنِ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَكُنْتُ أَتَوَسَّدُهُمَا وَيَتَوَسَّدُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک چادر خریدی جس پر کچھ تصویریں بنی ہوئی تھیں، ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس سے چھپر کھٹ بنائیں گی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہیں دکھایا، اور اپنا ارادہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لو، میں نے ایسا ہی کیا اور میں بھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے ٹیک لگالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ قَالَ وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي بِهَا قَالَ فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَأَسَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ النَّارِ
سالم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ عَنْ حَبَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُقْرِئُكِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبریل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں ، انہوں نے جواب دیا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ لِلصَّلَاةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي وَأَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹپک رہا ہے، اور میں ان کی قرات سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ فَإِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعِبَ وَاشْتَدَّ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر ہو تے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لارہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ حَدِّثِينِي بِأَحَبِّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگر چہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَمَّا عَلِيٌّ فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا وَأَمَّا عَمَّارٌ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس ایک آدمی آیا اور حضرت علی و عمار کی شان میں گستاخی کرنے لگا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت علی کے متعلق تو میں کچھ کہہ ہی نہیں سکتی (کہ انکا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ وہ تو واضح ہے) اور جہاں تک حضرت عمار کا تعلق ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان اختیار حاصل ہو تو وہ اسی راستے کو اختیار کرے جو ان میں سے زیادہ بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کا ولیمہ دو مد جو سے بھی کیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا قُلْتُ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا رَكَعَ جَالِسًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَشْهَدُ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ فِي يَوْمِي قَطُّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دور رکعتیں ضرور پڑھیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ وَيَدْخُلُ مَعِي فِي لِحَافِي وَأَنَا حَائِضٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " ایام کی حالت میں" بھی میرے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے، اور اسی حالت میں میرے لحاف میں بھی آجاتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ السُّلَمِيُّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْعُمْرَةِ بَعْدَ الْحَجِّ قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي أَخِي فَخَرَجْتُ مِنْ الْحَرَمِ فَاعْتَمَرْتُ
عیسیٰ بن عبدالرحمن اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے حج کے بعد عمرے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیجا، میں نے حرم سے باہر جا کر احرام باندھا اور عمرہ کرلیا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ وَيَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحْيِي مِنْهُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتیں ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اسکا حکم دو، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِرَادَةَ أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کردیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث سن کر فرمایا بخدا اگر حضرت عائشہ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ
حضرت عائشہ سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے کہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الا یہ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کر لیتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ انْتُهِكَ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةٌ هِيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہو تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جا تا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تا کہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہو جائے۔
-
حَدَّثَنَا أُرَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہو تے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ایک تھالی میں انہیں کچھ کھجوریں ہدیہ کیں، انہوں نے تھوڑی سی کھالیں اور کچھ چھوڑ دیں، اس عورت نے کہا آپ کو قسم دیتی ہوں کہ آپ یہ باقی کھجوریں بھی کھالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم پوری کردو، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحِي مِنْهُمْ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا اسْتَمَعْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً فَإِنَّ عُثْمَانَ جَاءَهُ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ جَاءَهُ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ فَحَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ عَلَى أَنْ أَصْغَيْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُكَ قَمِيصًا تُرِيدُكَ أُمَّتِي عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ فَلَمَّا رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَبْذُلُ لَهُمْ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا خَلْعَهُ عَلِمْتُ أَنَّهُ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات (جب وہ دوسرے سے کر رہے ہوں) کان لگا کر کبھی نہیں سنی، البتہ ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ حضرت عثمان غنی دوپہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سمجھی کہ شاید وہ خواتین کے معاملات میں گفتگو کررہے ہیں تو مجھے غیرت آئی اور میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما رہے تھے، عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، پھر جب میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان لوگوں کے سارے مطالبات پورے کردیتے ہیں سوائے خلافت سے دستبرداری کے تو میں سمجھ گئی کہ یہ وہی عہد ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مَسْرُوقٍ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِمَرِيضٍ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِي النِّعْمَةَ قَالَ وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَأَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو انصار کے کچھ لوگوں سے خریدنا چاہا تو انہوں نے"ولاء" کی شرط لگا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا، اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا (اپنے خاوند سے نکاح ختم کر دیا) اس کا خاوند غلام تھا، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کر دیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے، اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْبَيْتِ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ مَا هَذَا قَالُوا عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ قَالَ فَارْتَجَّتْ الْمَدِينَةُ مِنْ الصَّوْتِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَالَ إِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اپنے گھر میں بیٹھی تھیں کہ مدینہ منورہ میں ایک شور و غلغلہ کی آواز سنائی دی، انہوں نے پوچھا کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا قافلہ شام سے آیا ہے، اور اس میں ہر چیز موجود ہے، راوی کہتے ہیں کہ یہ قافلہ سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا اور مدینہ منورہ میں اس کا ایک غلغلہ بلند ہو گیا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہو تے ہوئے دیکھا ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا اگر میرے لئے ممکن ہو ا تو میں کھڑا ہونے کی حالت میں ہی جنت میں داخل ہوں گا، یہ کہہ کر انہوں نے ان اونٹوں کا سارا سامان حتیٰ کہ رسیاں تک راہ خدا میں خرچ کر دیں۔ فائدہ: اس حدیث کو محدثین نے موضوع روایت قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَفَّانُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَالَ عَفَّانُ قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِهِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
-
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں مبارک ورم آلود ہو جاتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ أَبِي قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ قَالَتْ فَقُلْتُ وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَمَعِي شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت میرے پاس چلے گئے، مجھے بڑی غیرت آئی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور میری کیفیت دیکھ کر فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے؟ کیا تمہیں غیرت آئی؟ میں نے عرض کیا کہ میرے جیسی بیوی آپ جیسے شوہر پر غیرت کیوں نہیں کھائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تمہارے شیطان نے پکڑ لیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کہ کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي أَمْرٍ يُنْتَهَكُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُرْمَةٌ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہو تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جا تا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَسِطُوهَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَجَعَلْنَاهُنَّ وِسَادَتَيْنِ يَعْنِي السِّتْرَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے کاٹ کر دو تکیے بنالو۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پھر ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لیے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ خَوَّاتِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ عَمْرٍو بِنْتِ خَوَّاتٍ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَهَا مَرَضٌ فَسَقَطَ شَعَرُهَا فَهُوَ مُوَفَّرٌ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُمَشِّطَهُ وَهِيَ عَرُوسٌ أَفَأَصِلُ فِي شَعَرِهَا قَالَتْ عَائِشَةُ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَلَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ قَالُوا مَا كَانَ أَبُوكِ فَحَّاشًا فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ فَمَا رَأَيْتِينِي قُلْتُ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ يُصِيبُهُمْ مَا أَقُولُ لَهُمْ وَلَا يُصِيبُنِي مَا قَالُوا لِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیکم یہ سن کر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ تم پر ہی اللہ کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت طاری ہو، اس پر وہ یہودی کہنے لگے کہ تمہارے والد تو اس طرح کی گفتگو نہیں کرتے ، جب وہ چلے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وَعَلَیکُم (تم پر ہی موت طاری ہو) میں جو کہوں گا وہ انہیں جا پہنچے گا لیکن جو وہ کہیں گے، وہ مجھے نہیں پہنچے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَسَقَطَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَإِنَّ زَوْجَهَا قَدْ أَشْقَانِي أَفَتَرَى أَنْ أَصِلَ بِرَأْسِهَا فَقَالَ لَا فَإِنَّهُ لُعِنَ الْمَوْصُولَاتُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ الْأَيْلِىُّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ مَسْحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
حضرت عائشہ! سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں جمع کر تے اور ان پر سورت اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر پھو نکتے اور جہاں جہاں تک ممکن ہو تا اپنے جسم پر ان ہاتھوں کو پھیر لیتے اور سب سے پہلے اپنے سر اور چہرے اور سامنے کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے اور تین مرتبہ اس طرح کرتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَقْنِي عَلَى مَنْكِبَيْهِ لِأَنْظُرَ إِلَى زَفْنِ الْحَبَشَةِ حَتَّى كُنْتُ الَّتِي مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْهُمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِي عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَتَعْلَمُ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ قُلْتُ أَنْهَارًا قَالَ لَا بَلْ أَوْدِيَةً ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں ، انہوں نے فرمایا اچھا واقعی تمہیں معلوم نہیں ہو گا، اہل جہنم کے کانوں کی لو سے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت حائل ہو گی اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی، میں نے عرض کیا "نہریں" فرمایا نہیں بلکہ وادیاں، پھر دوبارہ پو چھا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا اچھا ، واقعی تمہیں معلوم نہیں ہو گا، مجھے حضرت عائشہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پو چھا تھا قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان لپیٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تو یارسول اللہ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم کے پل پر ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ فَقُلْتُ عَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَ عَلیہِ السلاَم وَرَحمَۃُ اللہِ یارسول اللہ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا أَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ وَيُونُسَ وَعَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور مرض میں شدت آگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيٌّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ قَالَ عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے، جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے تھے، اور ہر زوجہ مطہرہ کو دن اور رات میں اس کی باری دیتے تھے، البتہ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری کا دن اور رات حضرت عائشہ کو ہبہ کردی تھی اور مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا سَكَتَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب مؤذن اذانِ فجر سے خاموش ہو تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ ابْنَةُ هَمَّامٍ قَالَتْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَأَخْلَوْهُ لِعَائِشَةَ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مَا تَقُولِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ كَانَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ لَوْنُهُ وَيَكْرَهُ رِيحَهُ وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَيْكُنَّ بَيْنَ كُلِّ حَيْضَتَيْنِ أَوْ عِنْدَ كُلِّ حَيْضَةٍ
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی، البتہ تم پر دو ماہواریوں کے درمیان اسے حرام نہیں کیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ أَنَّ أُمَّهُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہو تی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَمَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى ثُمَّ قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قَدْ كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر آئے اور سیدھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ایک یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے چادر ہٹائی اور جھک کر بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر فرمایا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا اور جو موت آپ کے لئے لکھی گئی تھی، وہ آپ کو آگئی۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ قَالَتْ فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قَالَ مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے فرمایا اللہ نے مجھے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کوئی بیوی نہیں دی، وہ مجھ سے اس وقت ایمان لائی جب لوگ کفر کررہے تھے، میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کررہے تھے، اپنے مال سے میری ہمدردی اس وقت کی جب کہ لوگوں نے مجھے اس سے دور رکھا، اور اللہ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جب کہ میری دوسری بیویوں سے میرے یہاں اولاد نہ ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ
حضرت عائشہ نے ایک مرتبہ عروہ سے فرمایا کیا تمہیں ابوہریرہ سے تعجب نہیں ہوتا؟ وہ آئے اور میرے حجرے کی جانب بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیثیں بیان کرنے لگے اور میرے کانوں تک اس کی آواز آتی رہی، میں اس وقت نوافل پڑھ رہی تھی، وہ میرے نوافل ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے، اگر میں انہیں ان کی جگہ پر پالیتی تو انہیں بات پلٹا کر ضرور سمجھاتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ وَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کر تے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لیے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ بِمَكَّةَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ وَدَخَلَ بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد جب مجھ سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور مدینہ منورہ میں پھر میری رخصتی اس وقت ہوئی جب میں نو سال کی تھی۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی اور وہ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ جانور اپنی گردن زمین پر ڈال دیتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا يَا بُنَيَّةُ أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أَبَتِ كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ جُدُدٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے پوچھا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے عرض کیا ابا جان! ہم نے انہیں یمن کی تین نئی سفید سحولی چادروں میں کفن دیا تھا، جس میں قمیض تھی اور نہ ہی عمامہ، بس انہیں اس میں لپیٹ دیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أُخْتِي لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ تَعْظِيمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَمْرًا عَجِيبًا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَأْخُذُهُ الْخَاصِرَةُ فَيَشْتَدُّ بِهِ جِدًّا فَكُنَّا نَقُولُ أَخَذَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِرْقُ الْكُلْيَةِ لَا نَهْتَدِي أَنْ نَقُولَ الْخَاصِرَةَ ثُمَّ أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَاشْتَدَّتْ بِهِ جِدًّا حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ وَخِفْنَا عَلَيْهِ وَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَظَنَنَّا أَنَّ بِهِ ذَاتَ الْجَنْبِ فَلَدَدْنَاهُ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفَاقَ فَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ لُدَّ وَوَجَدَ أَثَرَ اللَّدُودِ فَقَالَ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَلَّطَهَا عَلَيَّ مَا كَانَ اللَّهُ يُسَلِّطُهَا عَلَيَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ إِلَّا عَمِّي فَرَأَيْتُهُمْ يَلُدُّونَهُمْ رَجُلًا رَجُلًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَمَنْ فِي الْبَيْتِ يَوْمَئِذٍ فَتَذْكُرُ فَضْلَهُمْ فَلُدَّ الرِّجَالُ أَجْمَعُونَ وَبَلَغَ اللَّدُودُ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلُدِدْنَ امْرَأَةٌ امْرَأَةٌ حَتَّى بَلَغَ اللَّدُودُ امْرَأَةً مِنَّا قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ لَا أَعْلَمُهَا إِلَّا مَيْمُونَةَ قَالَ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنِّي وَاللَّهِ صَائِمَةٌ فَقُلْنَا بِئْسَمَا ظَنَنْتِ أَنْ نَتْرُكَكِ وَقَدْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَدَدْنَاهَا وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے بھانجے! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا کی تعظیم کرتے ہوئے، اس دوران ایک تعجب خیز چیز دیکھی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوکھ میں درد ہو تا اور بہت شدید ہوجاتا، ہم سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرق النساء کی شکایت ہے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس عارضے کو "خاصرہ" کہتے ہیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ درد شروع ہو ا، اور اتنا شدید ہو ا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، ہمیں اندیشے ستانے لگے، لوگ بھی خوفزدہ ہو گئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "ذات الجنب" کی شکایت تھی، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی اور طبیعت کچھ سنبھلی تو آپ کو اندازہ ہو گیا کہ ان کے منہ میں دوا ٹپکائی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اثر محسوس کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالا نکہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، گھر میں میرے چچا کے علاوہ کوئی آدمی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے، چنانچہ میں نے دیکھا کہ ان سب کے منہ میں ایک ایک مرد کو لے کر دواڈالی گئی، پھر حضرت عائشہ نے اس موقع پر گھر میں موجود افراد کی فضیلت کا ذکر کیا اور فرمایا جب تمام مردوں کے منہ میں دوا ڈالی جا چکی اور ازواج مطہرات کی باری آئی تو ایک ایک عورت کے منہ میں دوا ڈالی گئی، فرمایا تم کیا سمجھتی ہو کہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم دلائی، اور ہم نے ان کے منہ میں بھی دوا ڈال دی جبکہ اے بھانجے! بخدا وہ روزے سے تھیں۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجَمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَيَشْرَبَ قَالَتْ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو کر کھاتے پیتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ أَكَلَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو کر کھاتے پیتے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ نَاسًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَتْ أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّمَامَ فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ وَسُورَةَ النِّسَاءِ ثُمَّ لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ
حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورت بقرہ، آل عمران اور سورہ نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلَّ وَمَنْ أَهَلَّ فَأَهْدَى فَلَا يَحِلَّ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ لوگوں نے عمرے کا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر گئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور وہ ہدی کا جانور نہیں لایا ، وہ تو حلال ہو جائے اور جو لایا ہے وہ حلال نہ ہو، اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا ہو، وہ اپنا حج مکمل کرے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں سے تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
-
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ لَا أُرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور دو رکعتیں پڑھ لیتے، غالباً وہ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ سَلَمَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحَ بِغُسْلٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب ان کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔
-
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ مُعْرِضًا عَنْهُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ فَقَالَ تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے ہدیہ آیا جس میں سونے کا ایک ہار بھی تھا، اور اس میں حبشی نگینہ لگا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بے توجہی سے لکڑی کے ذریعے اٹھا یا اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا پیاری بیٹی! یہ زیور تم پہن لو۔
-
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ عَنْ عَامِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ قَالَ لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مردے کو غسل دے اور اس کے متعلق امانت کی بات بیان کر دے اور اس کا کوئی عیب "جو غسل دیتے وقت ظاہر ہوا ہو" فاش نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اپنی پیدائش کے دن ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مردے کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ اس کے قریب رہے بشرطیکہ کچھ جانتا بھی ہو اور اگر کچھ نہ جانتا ہو تو اسے قریب رکھو جس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے پاس امانت اور تقویٰ کا حظ وافر موجود ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكُونُ جُنُبًا فَيُرِيدُ الرُّقَادَ فَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَرْقُدُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ایسی زمین کو آباد کرے جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو تو وہی اس کا حقدار ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا مُسْلِمٌ إِلَّا كُفِّرَ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مُنْهَبِطًا قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ سُنْدُسٍ مُعَلَّقًا بِهِ اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک مرتبہ حضرت جبریل کو ان کی اصلی شکل میں اترتے ہوئے دیکھا، انہوں نے زمین و آسمان کے درمیان ساری جگہ کو پر کیا ہوا تھا، اور سندس کے کپڑے پہن رکھے تھے جن پر موتی اور یا قوت جڑے ہوئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ مُعَاذَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَتُجْزِئُ إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَفْعَلُ ذَلِكَ أَوْ قَالَتْ لَمْ يَأْمُرْنَا بِذَلِكَ قَالَ حَدَّثَنَاه بَهْزٌ وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ وَقَالَ عَنْ وَعَنْ
معاذہ رحمۃ اللہ علیہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے "ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جا تا تھا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْمُجَاشِعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَادُ النِّسَاءِ حَجُّ هَذَا الْبَيْتِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کا جہاد حج ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اس پر بعض اوقات اضافہ بھی کرلیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتیں ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ يَدَهُ فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا کر خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفُكُّ الْعَانِيَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ وَيُحْسِنُ الْجِوَارَ فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں مہمان نوازی کرتا، قیدیوں کو چھڑاتا، صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْنَى عَلَيَّ فَقَالَ إِنَّكُنَّ لَأَهَمُّ مَا أَتْرُكُ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي وَاللَّهِ لَا يَعْطِفُ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوْ الصَّادِقُونَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے، اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَدْ اشْتَدَّتْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دیکھتے کہ ہوا تیز ہو تی جا رہی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَ قُلْتُ وَلَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں"جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے" ارشاد فرمایا کہ یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَدْرِ مُدٍّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرمالیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْنَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا فَقَالَ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا فَقَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَنَا بِهِ لُحُوقًا فَعَرَفْنَا بَعْدُ إِنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا مِنْ الصَّدَقَةِ وَكَانَتْ امْرَأَةً تُحِبُّ الصَّدَقَةَ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً قَصَبَةً نَذْرَعُهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام ازواج مطہرات جمع تھیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے آکر ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ تم میں سب سے زیادہ لمبا ہوگا، ہم ایک لکڑی لے کر اس سے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگے، حضرت سودہ بنت زمعہ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا نکلا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جلد ہی حضرت سودہ ان سے جاملیں، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد صدقہ خیرات میں کشادگی تھی اور وہ صدقہ خیرات کرنے کو پسند کرنے والی خاتون تھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا تَسَوَّكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات یا دن کے جس حصے میں بھی سوکر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْكُمْ فَلَيُقَطَّعَنَّ رِجَالٌ دُونِي فَلَأَقُولَنَّ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَلَيُقَالَنَّ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو لوگ حوضِ کوثر پر میرے پاس آئیں گے میں ان کا انتظار کروں گا، کچھ لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ پروردگار! یہ میرے امتی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے پیچھے کیا عمل کئے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹتے چلے گئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَرْقُدُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ رُبَّمَا اضْطَجَعَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دور رکعتیں پڑھ کر بعض اوقات دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي قَالَتْ فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ لَمْ أَجِدْ رِيحًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو ان کا سر مبارک میرے حلق اور سینہ کے درمیان تھا اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نکلی تو اس کے ساتھ ایک ایسی مہک آئی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَطَافَ وَلَمْ يَحْلِلْ وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَطَافَ مَنْ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ وَحَاضَتْ هِيَ فَقَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ حَجِّنَا فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ لَيْلَةُ النَّفْرِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجٍّ فَقَالَ أَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ انْطَلِقِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ فَقَالَ عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَمَا كُنْتِ طُفْتِ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَى قَالَ لَا بَأْسَ فَانْفِرِي قَالَتْ فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْلِجًا وَهُوَ مُصْعِدٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهِمْ أَوْ هُوَ مُنْهَبِطٌ عَلَيْهِمْ وَأَنَا مُصْعِدَةٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ نے بھی طواف وسعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا۔ حضرت عائشہ ایام سے تھیں، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کرکے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کر آؤ اور فلاں جگہ پر آکر ہم سے ملنا۔اسی دوران حضرت صفیہ کے "ایام" شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں ، اب روانہ ہو جاؤ، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر رہے تھے اور میں اوپر چڑھ رہی تھی۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ فَقَالَ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَ تَوَضَّئِي بِهَا قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ قَالَ تَوَضَّئِي بِهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! جب میں پاک ہو جاؤں تو غسل کس طرح کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوشبو لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کیا کرو، اس نے پھر یہی سوال کیا تو سبحان اللہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ہی پھیر لیا، اور پھر فرمایا اس سے پاکی حاصل کرو، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقصد ہے؟ چنانچہ میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقصد ہے؟
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَبُو لُبَابَةَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَحَدَّثَنِيهِ مَكْحُولٌ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جس چیز کے ذریعے کسی عورت کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کرتا ہے مثلاً مہر یا کوئی اور سامان تو وہ اس عورت کی ملکیت میں ہوتا ہے، اور جس چیز سے اس عورت کے باپ، بھائی یا سرپرست کا معاملہ نکاح کے بعد اکرام کیا جا تا ہے تو وہ اس کا ہو جا تا ہے اور انسان کی بیٹی یا بہن اس بات کی زیادہ حقدار ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا اکرام کیا جائے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ يَعْنِي أَنْ لَا يُفْشِيَ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْيَلِهِ أَقْرَبُ أَهْلِهِ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَلْيَلِهِ مِنْكُمْ مَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ أَوْ أَمَانَةٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مردے کو غسل دے اور اس کے متعلق امانت کی بات بیان کردے اور اس کا کوئی عیب "جو غسل دیتے وقت ظاہر ہوا ہو" فاش نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اپنی پیدائش کے دن ہو تا ہے، پھر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مردے کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ اس کے قریب رہے بشرطیکہ کچھ جانتا بھی ہو اور اگر کچھ نہ جانتا ہو تو اسے قریب رکھو جس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے پاس امانت اور تقویٰ کا حظ و افر موجود ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْعَقْرَبُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں"فواسق" میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَاسًا كَانُوا يَتَعَبَّدُونَ عِبَادَةً شَدِيدَةً فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ وَكَانَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ عبادت میں بہت محنت مشقت برداشت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایا بخدا میں اللہ کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتا ئے گا لیکن تم اکتا جاؤ گے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ اغْتَسَلَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي مُبَادَرَةً
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا قُلْتُ سَمِعْتَهُ مِنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ نَعَمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دے دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ ضَبٌّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ شِبْرًا قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً أَسْوُقُهُنَّ قَالَ فَذِرَاعٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ كَانَ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ فَأَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ إِنَّهُ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدیقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا فَقَالَ مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ قَالُوا النَّخْلُ يُؤَبِّرُونَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلُحَ فَلَمْ يُؤَبِّرُوا عَامَئِذٍ فَصَارَ شِيصًا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنَكُمْ بِهِ وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ کھجور کی پیوند کاری ہورہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ پیوند کاری نہ کریں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو، چنانچہ لوگوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی، جس کی وجہ سے اس سال کھجور کی فصل اچھی نہ ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر لوگوں نے پیوند کاری نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور اگر دین کا معاملہ ہو تو اسے لے کر میرے پاس آیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقُدُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَجْلِسُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب سو کر بیدار ہو تے تو مسواک کرتے، وضو کرتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ، ہر دو رکعتوں پر بیٹھ کر سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ پھر پانچویں رکعت پر ہی بیٹھتے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں میں نبیذ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ فَقَالَتْ كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا ائْتَزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ بِيَدَيْهَا وَنَحْرِهَا
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، پھوپھی اور خالہ نے ان سے پوچھا کہ جب آپ میں سے کسی کو 'ایام" آجاتے تو آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم کشادہ تہبند باندھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی چھاتی اور سینہ لگاسکتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ يَزِيدُ الرِّشْكُ أَخْبَرَنِي عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا قَالَتْ نَعَمْ أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا أَيَّامَ الْعَشْرِ قَطُّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا ثَقُلَ عَنْ ذَلِكَ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا قَالَ قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی "اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں، اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔ ۔ ۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
-
حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ شَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ التَّيْمِيِّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنْ الْعِشَاءِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ فَقِيلَ لَهُ أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ قَالَ مَرَّتَيْنِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ صبح کے وقت کسی مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ باتے تھے، ہم اسے شراب بننے دیتے تھے اور نہ ہی اس کا تلچھٹ بناتے تھے، شام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اسے بھی نوش فرمالیتے، اگر کچھ پانی بچتا تو میں اسے فارغ کر دیتی یا بہا دیتی تھی، اور مشکیزہ دھو دیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلے میں وہم ہو گیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَلِعُمْرَتِكِ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا ، مکہ مکرمہ پہنچیں لیکن ابھی بیت اللہ کا طواف نہ کرنے پائی تھیں کہ ان کے " ایام"شروع ہو گئے انہوں نے حج کا احرام باندھنے کے بعد تمام مناسک حج ادا کیے، دس ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارا طواف حج اور عمرہ دونوں کے لئے کافی ہو جائے گا، انہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے بھائی عبدالرحمن کے ہمراہ تنعیم بھیج دیا اور انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِيَ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤ ذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھےأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے معدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا کر خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہو تی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ صَعْبٍ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک مضبوط اونٹ پر سوار ہوئی تو اسے مارنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہو تی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ قَالَ بَهْزٌ إِنَّ رَجُلًا مِنْ النَّخَعِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ فَاحْتَلَمَ فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ قَالَ بَهْزٌ هَكَذَا قَالَ شُعْبَةُ فَقَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أَفْرُكَهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ هَمَّامَ بْنَ الْحَارِثِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے یہاں ایک مہمان قیام پذیر ہوا، حضرت عائشہ نے اپنا زرد رنگ کا لحاف اسے دینے کا حکم دیا، وہ اسے اوڑھ کر سوگیا، خواب میں اس پر غسل واجب ہو گیا، اسے اس بات سے شرم آئی کہ اس لحاف کو گندگی کے نشان کے ساتھ ہی واپس بھیجے اس لئے اس نے اسے پانی سے دھو دیا اور پھر حضرت عائشہ کے پاس واپس بھیج دیا، حضرت عائشہ نے فرمایا کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدھی بات کہا کرو، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا کرو اور خوشخبریاں دیا کرو، کیونکہ کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جاسکیں گے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائیمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام مجھ مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّبَتُّلِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا شَدِيدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَا عَائِشَةُ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ فَقُلْتُ مَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ مِنْ الطَّعَامِ قَالَ مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ قُلْتُ فَأَيُّ الْمَالِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ قَالَ غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ مِنْ الْمَاءِ وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا طَعَامَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، میں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى قَالَ أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ أَوْ ابْنُ مُدْرِكٍ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى فَقُلْتُ أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرُغَ فَقَالُوا هَيْهَاتَ فَقُلْتُ لِآذِنِهَا كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَقَالَ قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ أَخُو عَازِبٍ نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَسَأَلْتُهَا عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا رَأَوْا الْهِلَالَ أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ زَادَ لَزِدْتُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَاكَ أَوْ شَيْئًا نَحْوَهُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي وَسَأَلْتُهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَتْ فَجَاءَتْهُ عِنْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَشُغِلَ فِي قِسْمَتِهِ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّاهَا وَقَالَتْ عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَقُولُ بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ وَسَأَلْتُهَا عَنْ الْيَوْمِ الَّذِي يُخْتَلَفُ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَتْ لَأَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَالَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِذَاكَ مِنَّا سَمِعْت أَبِي يَقُولُ يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ صَالِحُ الْحَدِيثِ قَالَ أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُوسَى هُوَ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ
عبداللہ بن ابی موسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مد رک یا ابن مدرک نے کچھ سوالات پوچھنے کے لئے حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے سوچا کہ ان کے فارغ ہونے تک بیٹھ کر انتظار کرلیتا ہوں لیکن لوگوں نے بتایا کہ انہیں بہت دیر لگے گی، میں نے انہیں اطلاع دینے والے سے پوچھا کہ میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں؟ اس نے کہا کہ یوں کہو: السَلَا مُ عَلَیکَ اَ یُھَا النَبِیُ وَرَحمَتُ اللہِ وَ بَرَ کَاتُہ، السَلَامُ عَلَینا وَ عَلَی عِبَادِ اللہِ الصَالِحِینَ السَلاَ مُ عَلیَ اُمَھِاتِ المُومِنِینَ میں اس طرح سلام کرکے اندر داخل ہو ا اور ان سے سوالات پوچھنے لگا، انہوں نے فرمایا عازب کے بھائی ہو، وہ کتنا اچھا گھرانہ ہے۔ پھر میں نے ان سے مسلسل روزے "جن میں افطاری نہ ہو" رکھنے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ نے اس طرح روزے رکھے تھے لیکن صحابہ کرام مشقت میں پڑ گئے تھے اس لئے چاند دیکھتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ مہینہ مزید آگے چلتا تو میں بھی روزے رکھتا رہتا (اس پر نکیر فرمائی) کسی نے کہا کہ آپ خود بھی تو اس طرح کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ پھر میں نے ان سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو زکوٰ ۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، زکوٰ ۃ کا وہ مال ظہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور نماز عصر تک اسے تقسیم کرنے میں مشغول رہے، اس دن عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے اوپر قیام اللیل کو لازم کر لو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، اگر بیمار ہو تے تو بیٹھ کر پڑ ھ لیتے، میں جانتی ہوں کہ تم میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں فرض نمازیں پڑھ لوں ، یہی کافی ہے لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پھر میں نے ان سے اس دن کے متعلق پوچھا جس کے رمضان ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہو جائے تو انہوں نے فرمایا کہ میرے نزدیک شعبان کا ایک روزہ رکھ لینا رمضان کا ایک روزہ چھوڑنے سے زیادہ محبوب ہے، اس کے بعد میں وہاں سے نکل آیا اور یہی سوالات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھے، تو ان میں سے ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہم سے زیادہ یہ باتیں جانتی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَذَهَبْتُ لِأَقُولَ فَانْتَزَعَ يَدَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرنے فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پروردگار! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ قَالَ فَقُلْنَا الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذًا لَدَابَّةُ سُوءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ شُعْبَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فِيمَا أَظُنُّ
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ عروہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا عورت اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر، انہوں نے فرمایا پھر تو عورت بہت برا جانور ہوئی، میں نے تو وہ وقت دیکھا ہے جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ فَصَلَّى
اسود کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَلْقَمَةَ وَشُرَيْحَ بْنَ أَرْطَاةَ كَانَا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا سَلْهَا عَنْ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لَا أَرْفُثُ عِنْدَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
علقمہ اور شریح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، دوسرے نے کہا کہ آج میں ان کے یہاں بے تکلف کھلی گفتگو نہیں کر سکتا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود ہی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے اور تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے لہٰذا تم ان کا مال رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَشْرَبُ مِنْ الْإِنَاءِ فَيَأْخَذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی، اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍ
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی رات پر دوسری رات کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّجُلِ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ هَلْ يُمْسِكُ عَمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ قَالَ فَسَمِعْتُ صَوْتَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ ثُمَّ قَالَتْ قَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُرْسِلُ بِهِنَّ ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ
مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایک آدمی اپنی ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے تو کیا وہ ان تمام چیزون سے اجتناب کرے گا جن سے محرم اجتناب کرتا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہوکر مقیم رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمَّةٍ لَهُ سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ يَتِيمٍ فِي حِجْرِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا بَكَّارٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ الصَّنْعَانِيَّ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ إِنَّمَا ذَاكُمْ الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہو جائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہو گی، اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتےاے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْآيَاتِ آيَاتِ الرِّبَا مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات جو سود سے متعلق ہیں نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ وَكَانَ إِذَا بَقِيَتْ عَلَيْهِ ثَلَاثُونَ آيَةً أَوْ أَرْبَعُونَ قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کا کچھ حصہ بھی بیٹھ کر نہ پڑھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ قُلْتُ فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کر سکے، اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنے قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھا لیتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذَهَبْتُ أَحْكِي امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحِبُّ أَنْ حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا أَعْظَمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اُتاروں، اور نہ اسے پسند کروں، (میں نے کہہ دیا یارسول اللہ! صفیہ تو اتنی سی ہے، اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ يَعْنِي امْرَأَتَهُ قَالَتْ لَا قُلْتُ أَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
اسود بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ روزہ دار اپنے بیوی کے جسم سے اپنا جسم ملا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اس طرح نہیں کر لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبولگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا فَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً يُدَاوِمُ عَلَيْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریبا شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھے جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو، اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَفْطِرِي فَقَالَتْ أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ
عطاء خراسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، وہ عرفہ کا دن تھا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں، اور ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ روزہ کھول لیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں، اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی، اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ فَلَا تَطْهُرُ فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنْ الرَّحِمِ فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قُرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهُ فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُصَلِّ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش جو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ معمول کے ایام نہیں ہیں ، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہو جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں، اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ وَأَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وَتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ وَسَطَهُ وَآخِرَهُ وَأَوَّلَهُ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ حَتَّى مَاتَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے آغاز، درمیان اور آخر ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ابْنَةَ زَمْعَةَ قَالَتْ فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبدزمعہ رضی عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یارسول االلہ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، اور سعد رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، کیونکہ بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھ سکا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ثُمَّ لَا يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھدی کا جانور بھیج دیتے تھے اور پھر وہ کام نہیں کرتے تھے جو محرم کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ مَرَّةٍ حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد نبوت کا کچھ حصہ باقی نہیں رہے گا، البتہ مبشرات رہ جائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہھم نے پوچھا یا رسول اللہ! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب جو کوئی آدمی اپنے متعلق خود دیکھتا ہے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَإِنَّا لَجُنُبَانِ وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے، ہم تو جنبی ہوتے لیکن پانی جنبی نہیں ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنِي إِمَّا قَالَ كَثِيرٌ وَإِمَّا قَالَ عَبْدُ رَبِّهِ شَكَّ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ لِعَائِشَةَ عَلَيْهَا بَعْضُهُ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ
امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے لحاف میں نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْكِرْمَانِيُّ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّتَاهُ حَدِّثِينِي شَيْئًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اماں جان! مجھے کوئی ایسی حدیث سنائے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پرندے بھی تقدیر کے مطابق ہی اڑتے ہیں (اس لئے کسی کے دائیں بائیں اڑنے میں نحوست نہیں ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال سے خوش ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ وَبِيصُ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ آمُرَهُمْ بِذَلِكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، مجھے ان سے یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَنُعْمَانُ أَوْ أَحَدُهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الایہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محار م خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور حضرت جبریل علیہ السلام سے ملاقات کے بعد جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرنے کے لئے آتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت میں تیز آندھی سے بھی زیادہ ہوجاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ قَالَتْ فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ قَالَتْ وَجَعَلَ لَا يَفْطِنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَجَعَلْتُ أُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطَنَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَهَكَذَا الْآنَ أَمَا كَانَتْ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكَ إِلَّا فِي خِلَابَةٍ كَمَا أَرَى وَسَبَّتْ عَائِشَةَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهَا فَتَأْبَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبِّيهَا فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ فَقَالَتْ إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا فَأَتَتْهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ أَمَا كَفَاكَ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ فَقُلْتَ لَهَا إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ قَالَتْ وَكَانَتْ تَغْشَى عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ عِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ إِلَّا أَنَّ سُلَيْمًا قَالَ أُمُّ سَلَمَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آئی ہوئی تھیں، رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے، اور ان سے دل لگی کرتے ہوئے انہیں ہاتھ سے چھیڑنے لگے، انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ وہاں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی موجود ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارے کرنے لگی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے، یہ دیکھ کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا اب اس طرح ہو گا، کیا ہم میں سے کوئی عورت جب آپ کے پاس خلوت میں ہوتی ہے تو کیا اس طرح ہوتا ہے جیسے میں اب دیکھ رہی ہوں، پھر وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سخت ست کہنے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ نہ مانیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم بھی ان سے بدلہ لو ، چنانچہ میں نے ان سے بدلہ لیا اور ان پر غالب آگئی۔ اس کے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا وہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور انہیں بتایا کہ عائشہ نے انہیں سخت ست کہا ہے اور تمہیں بھی اس طرح کہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عائشہ نے ہمیں اس طرح کہ ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا رب کعبہ کی قسم! وہ تمہارے باپ کی چہیتی ہے، اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واپس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلی گئیں اور ان سے یہ بات ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ عائشہ نے ہمیں اس اس طرح کہا ہے اور فاطمہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے ان سے کہہ دیا کہ رب کعبہ کی قسم! وہ تمہارے باپ کی چہیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے احرام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ قَالَتْ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بِالْكُوفَةِ فَقَالَ التَّيَمُّنَ بِمَا اسْتَطَاعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يَغْرِفُ قَبْلَهَا وَتَغْرِفُ قَبْلَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے چلو بھرنے کی کوشش کرتے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْهُ يَقُولُ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی ایک بڑی مقدار پینے سے نشہ چڑھتا ہوا۔ اسے ایک چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ الْأَحْزَابِ دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ لِيَغْتَسِلَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ أَوَقَدْ وَضَعْتُمْ السِّلَاحَ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا؟ بخدا میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجایئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام دروازے کے درمیان سے نظر آرہے تھے اور ان کے سر پر گردوغبار اٹا ہوا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَيْنِ فَأَضَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر بد سے حفاظت کے لئے دم کرتی تھی اور وہ اس طرح کہ میں اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھتی اور یہ دعا کرتی اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی نماز میں رکوع میں لا الہ الا انت کہتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ
ابو بردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک چادر جسے ملبدہ کہا جاتا ہے اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اعتکاف کیا تو انہیں ایک طے شدہ حد سے زیادہ ایام آنے لگے۔ اور وہ زردی اور سرخی دیکھتی تھیں ، اور بعض اوقات ہم ان سے نیچے طشت رکھ دیتے تھے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ السُّدِّىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہِ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَتْ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ وَدَعَتْ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً فَقَالَتْ لِي سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ مِنْ اللَّيْلِ أُوكِئُهُ وَأُعَلِّقُهُ فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء نقیر، مقیر اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا، پھر انہوں سے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی ، اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تو جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما ، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ ثَابِتٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ وَفِي إِبِلِ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكِ فَقَالَتْ أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً لَا يَأْتِيهَا قَالَتْ حَتَّى يَئِسْتُ مِنْهُ وَحَوَّلْتُ سَرِيرِي قَالَتْ فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ بَعْدُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ قَالَ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صفیہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو ماہ یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے۔ وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں نا امید ہو گئی اور اپنی چارپائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہو گئے)۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهُ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی۔ اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی "اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں۔ ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں، اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَ فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٌ فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَتِ هُوَ خَلِقٌ قَالَ إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ قَالَ فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ وَدُفِنَ لَيْلًا وَمَاتَتْ عَائِشَةُ فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، انہوں نے پوچھا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس چیز میں کفن دیا تھا، ہم نے بتایا تین سفید یمنی سحولی چادروں میں، جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا، وہ کہتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیرو کے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مر جاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں، اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک دھاری دار یمنی چادر دی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لپیٹ دیا گیا، پھر لوگوں نے وہ چادر نکال کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چادروں میں کفن دے دیا، عبداللہ نے اپنی چادر لے لی اور کہنے لگے میں اس چادر کو اپنے کفن میں شامل کر لوں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم لگا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی رائے یہ ہوئی کہ میں اس چیز کو اپنے کفن میں شامل نہیں کروں گا جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں شامل نہیں ہونے دی، بہرحال! وہ منگل کی رات کو انتقال کرگئے اور راتوں رات ہی ان کی تدفین بھی ہو گئی، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے انہیں بھی رات ہی کو دفن کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَآزِرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جا سکتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہوتی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہو جاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَقَالَتْ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَقَالَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ فَفَعَلَتْ فَقَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدِهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا الْأَعْرَابِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سنبلہ بارگاہ نبوت میں دودھ کا ہدیہ لے کر حاضر ہوئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور فرمایا اے ام سنبلہ! یہ تمہارے ساتھ کیا چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! دودھ ہے، جو میں آپ کے لئے ہدیہ لائی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سنبلہ! اسے نکالو، انہوں نے نکالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابوبکر کو دو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، دوسری مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ڈالنے کو کہا، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انڈیل کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمانے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کا دودھ نوش فرما رہے تھے اور وہ جگر کو ٹھندک بخش رہا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یارسول اللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! یہ لوگ گنوار نہیں ہیں، یہ تو ہمارا دیہات ہیں اور ہم ان کا شہر ہیں، جب انہیں بلایا جائے تو یہ لبیک کہتے ہیں، یہ گنوار نہیں ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ تُجْزِئُ عَنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھرں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ تَمُرَّ عَلَيْهَا فِي الْمَسْجِدِ فَبَلَغَهَا أَنْ قِيلَ فِي ذَلِكَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ بَهْزٌ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيَّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي بِهِ قَالَ بَهْزٌ فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً فَاسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ وَأَذِنَ لِي وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ حَتَّى يَقِفَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کاش! میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منی میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کر لیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اس کی اجازت لے رکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تَقْضِيهِ لِي خَيْرًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی ہے اے اللہ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خوہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کر دینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کر دینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کر ے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ قَالَتْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ
ابونوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَنْ تَأْتَزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ قَالَ وَأَنَا صَائِمٌ قَالَتْ فَأَهْوَى إِلَيَّ فَقَبَّلَنِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَوُادُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ عَلَى الصِّرَاطِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تبدل الارض غیر الارض۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا تَقُولُونَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ قَالَ يَقُولُونَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ عروہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا عوت اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر، انہوں نے فرمایا پھر تو عورت بہت برا جانور ہوئی، میں نے تو وہ وقت دیکھا ہے جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کر دیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کر لیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں تو دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ومَسْرُوقًا يَقُولَانِ نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي يَوْمٍ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّها قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَعِنْدَنَا جَارِيَتَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثَ يَوْمٌ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عِبَادَ اللَّهِ أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ عِبَادَ اللَّهِ أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَإِنَّ الْيَوْمَ عِيدُنَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجاری رہی تھیں، اور جنگ بعاث کا ذکر کر رہی تھیں جس میں اوس و خزرج کے بڑے بڑے رؤساء مارے گئے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو۔ کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ قَالَتْ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ قَالَتْ ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ قَالَتْ فَقُلْتُ بَلْ السَّامُ عَلَيْكُمْ وَغَضَبُ اللَّهِ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ بِهِ اللَّهُ قَالَتْ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ مَهْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْءٌ وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک یہودی آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس نے آکر "السام علیک" کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف "وعلیک" کہہ دیا میں نے کچھ بولنا چاہا لیکن رک گئی، تین مرتبہ وہ اسی طرح آیا اور یہی کہتا رہا، آخر کار میں نے کہہ دیا کہ اے بندروں اور خنزیروں کے بھائی! تم پر ہی موت اور اللہ کا غضب نازل ہو، کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس انداز میں آداب کرتے ہو، جس میں اللہ نے انہیں مخاطب نہیں کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا رک جاؤ، اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کو پسند نہیں فرماتا، انہوں نے ایک بات کہی، ہم نے انہیں اس کا جواب دے دیا، اب ہمیں تو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی البتہ ان کے ساتھ قیامت تک لے لئے یہ چیز لازم ہو جائے گی، یہ لوگ ہماری کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں جس کی ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے اور یہ لوگ اس سے گمراہ رہے، اسی طرح یہ لوگ ہم سے امام کے پیچھے آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ عَلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ صَبَبْتُ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتَقْتُكِ فَاسْتَأْمَرَتْ مَوَالِيَهَا فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا اگر تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں تو میں ایک ہی مرتبہ تمہاری ساری قیمت ادا کرکے تمہیں آزاد کر دیتی ہوں، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کر لیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي ذِي الْحَاجَةِ مِنْ النَّاسِ وَفِي أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْمِسْوَرُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا قُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِنُّ عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحْنَا عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَحُتُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اسے (مادئہ منویہ کو) کھرچ دیا کرتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ حَتَّى يَنْفُخَ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سوتے تو خراٹے لینے لگتے، پھر بیدار ہو کر نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھنے لگتے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبِي بَكْرٍ وَلَا عُمَرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر کی نماز اس کے آخر وقت میں اور عصر کی نماز اول وقت میں، اسی طرح مغرب کی نماز آخر وقت میں اور عشاء کی نماز اول میں پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي وَمَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بغلی بنائی گئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِفَاجِرٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناگہانی موت کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کے لیے تو یہ راحت ہے اور گنہگار کے لئے افسوس کی پکڑ ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا قَالَتْ فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ ایک نوجوان عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے باپ نے میرا نکاح اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دیا ہے، وہ میرے ساتھ گھٹیا باتیں کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے معاملے کا اختیار دے دیا، سو کہنے لگی کہ میرے باپ نے جو نکاح کر دیا ہے، میں اسی کو برقرار رکھتی ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ عورتوں کو بتا دیں کہ باپ کو اس معاملے میں جبر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنو عبدالمطلب، میں اللہ کے یہاں تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ مجھ سے جتنا چاہو مال لے لو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بات بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلاعذر کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ عَظِيمَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مُوجَأَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاے یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صحت مند اور بڑے مینڈھوں کی قبربانی فرمائی جو خوبصورت تھے۔ سینگ دار تھے اور خصی تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ بَعْدَ شَهْرٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور مہینے بعد انہیں کھا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصَّغِيرَاءِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا سَعَةٌ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَلَبَنَيْتُهَا وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ قَالَتْ فَلَمَّا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا فَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ قَالَتْ فَكَانَتْ كَذَلِكَ فَلَمَّا ظَهَرَ الْحَجَّاجُ عَلَيْهِ هَدَمَهَا وَأَعَادَ بِنَاءَهَا الْأَوَّلَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میرے پاس وقت کی گنجائش ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے از سر نو اس کی تعمیر کرتا، اور اس کے دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے، پھر جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے اس عمارت کو گرا کر اس کے دروازے بنا دیئے اور وہ تعمیر اسی طرح رہی، پھر جب حجاج بن یوسف ان پر غالب آیا گیا تو اس نے خانہ کعبہ کو دوبارہ شہید کر کے پہلی تعمیر پر لوٹا دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَكَتْ امْرَأَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ قِصَرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اغْتَبْتِيهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود کی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی اور اس کے ٹھگنے ہونے کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی غیبت کی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَكَتْ امْرَأَةً فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں، اور نہ اسے پسند کروں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُرِقَ لِي ثَوْبٌ فَجَعَلْتُ أَدْعُو عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ سُرِقَ ثَوْبٌ لَهَا فَدَعَتْ عَلَى صَاحِبِهَا فَقَالَ لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مر گیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَائِضُ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حائضہ عورت تمام مناسک حج ادا کرے گی، لیکن بیتُ اللہ کا طواف نہیں کرے گی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ فَقَالَ إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں سے باہر تشریف لے گئے تو بڑے خوش اور ہشاش بشاش تھے، لیکن تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جب آپ میرے یہاں سے گئے تو خوش اور ہشاش بشاش تھے، اور اب واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں، فرمایا میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی کیوں نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَتْ هَذِهِ خَادِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهَا الْجَارِيَةُ حَبَشِيَّةٌ فَقَالَتْ كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ عِشَاءً فَأُوكِئُهُ فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بنا یا کرتی تھی، اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکادیتی تھی، جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُصَلِّي الْمُسْتَحَاضَةُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مستحاضہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ اس کا خون چٹائی پر ٹپک رہا ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرٌ مِنْ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقٌ بِالْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ قَالَ زَكَرِيَّا قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پورے دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیرناف بال صاف کرنا، اور استنجاء کرنا، راوی کہتے ہیں کہ دسویں چیز میں بھول گیا شاید وہ کلی کرنا ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ السَّحَرِ إِلَّا وَهُوَ عِنْدِي نَائِمًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْنَ مَعَهُ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ يَغْتَسِلْنَ فِيهِ وَيَعْرَقْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحْرِمَاتٍ
عمروبن سوید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عائشہ بنت طلحہ کے سامنے محرم کے خوشبو لگانے کا مسئلہ بیان ہو رہا تھا، انہوں نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں، انہوں نے اپنے سر کے بال چپکا رکھے تھے اور یہ پٹی انہوں نے احرام سے پہلے باندھ رکھی تھی، پھر وہ اس پٹی کو سر پر باندھے باندھے غسل کر لیتی تھیں، انہیں پسینہ آتا تو وہ غسل کر لیتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلُوهَا اسْتَقْبَلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ بَعْضُهُ عَلَيْهَا وَهِيَ حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ رضی اللہ عنہا پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے حالانکہ میں "ایام" سے ہوتی تھی
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا احْمَرَّ وَجْهُهُ فَإِذَا مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل دیکھتے تو رخ انور سرخ ہو جاتا اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلا دھار ہو اور نفع بخش۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينِ يَعْنِي الْحَسْوَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ تَزَلْ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَلْقَى أَحَدَ طَرَفَيْهِ يَعْنِي يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اس وقت تک ہنڈیا چولہے پر چڑھی رہتی تھی جب تک دو میں سے کوئی ایک کام نہ ہو جاتا یعنی تندرستی یا موت۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُقَيْلٍ عَنْ بُهَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ يَعْنِي الْمَوْتَ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کلونجی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنْ الْعَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ ذَكَّرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جو میں بھول گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ بُرْدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ يَنَامَ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ الْجَنَابَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سونے سے پہلے غسل فرمالیتے تھے اور کبھی غسل سے پہلے سو جاتے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سونے سے پہلے اور کبھی سونے کے بعد وتر پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ لَهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي شَيْئًا مِنْ الشِّعْرِ قَالَتْ نَعَمْ شِعْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ كَانَ يَرْوِي هَذَا الْبَيْتَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ "اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہو گا"۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا رَكِبَتْ جَمَلًا فَلَعَنَتْهُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْكَبِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوئیں تو اس پر لعنت بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سواری نہ کرو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَّ بُزَاقًا فِي الْمَسْجِدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے لئے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ میں نے جنت میں عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی دیکھی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أُسَامَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بالکل واضح ہوتی تھی اور ہر شخص اسے سمجھ لیتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّيْتُ صَلَاةً كُنْتُ أُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَبِي نُشِرَ فَنَهَانِي عَنْهَا مَا تَرَكْتُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ایک نماز پڑھتی ہوں جو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بھی پڑھا کرتی تھی اگر میرے والد بھی زندہ ہوکر مجھے اس سے منع کریں تو میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ فَقَالَتْ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ كَافِرٍ إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ
کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے متعلق فرمائی تھی کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے، اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی، اور رمی جمار کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ و قَالَ أُسَامَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُسَامَةَ عَثَرَ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَدَمِيَ قَالَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ وَيَقُولُ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهَا وَلَكَسَوْتُهَا حَتَّى أُنْفِقَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گر پڑے اور ان کے خون نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چوسنے اور فرمانے لگے اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ نہ کیا ہو یا ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو ، تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ رَجُلٌ كَانَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَآزِرِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں لیکن عورتوں کو پھر بھی اجازت نہیں دی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّمَا هِيَ سُهَيْلَةُ بِنْتُ سَهْلٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ وَأَنْ تَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہیلہ بنت سہل کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب ان کے لئے ایسا کرنا مشکل ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کر کے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي فَضْلَ الْمَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهَا إِذْ مَرَّ رَجُلٌ قَدْ ضُرِبَ فِي خَمْرٍ عَلَى بَابِهَا فَسَمِعَتْ حِسَّ النَّاسِ فَقَالَتْ أَيُّ شَيْءٍ هَذَا قُلْتُ رَجُلٌ أُخِذَ سَكْرَانًا مِنْ خَمْرٍ فَضُرِبَ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ مُنْتَهِبٌ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا رُءُوسَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ
عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، وہاں سے ایک آدمی گذرا جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے پر شراب پینے کی وجہ سے مارا جا رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب لوگوں کی آہٹ سنی تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ میں نے بتایا کہ ایک آدمی کو شراب کے نشے میں مد ہوش پکڑ لیا گیا ہے اسے مارا جا رہا ہے، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص شراب پیتا ہے وہ شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا، جو شخص بدکاری کرتا ہے وہ بدکاری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، جو شخص چوری کرتا ہے وہ چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا اور جو شخص کوئی قیمتی چیز "جس کی طرف لوگ سر اٹھا کر دیکھتے ہوں" لوٹتا ہے، وہ لوٹتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے تم ان کاموں سے بچو، بچو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ فَاسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي فَقَالَتْ أَطْعِمُونِي أَعَاذَكُمْ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ قَالَ وَمَا تَقُولُ قُلْتُ تَقُولُ أَعَاذَكُمْ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ وَسَأُحَذِّرُكُمُوهُ تَحْذِيرًا لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُونَ وَعَنِّي تُسْأَلُونَ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَصَدَّقْنَاهُ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا وَيُقَالُ عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا فَيُقَالُ لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي فَيُقَالُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ فَيَقُولُ سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا فَتُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكَ ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا كُنْتَ عَلَى الشَّكِّ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُعَذَّبُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ وَاخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَيُقَالُ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ فُلَانٌ فَيُقَالُ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي وَيُقَالُ بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ قَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي مِنْهُ ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ فَمَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ فُلَانٌ فَيُقَالُ لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنْ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَيُقَالُ لَهُ وَيَرُدُّ مِثْلَ مَا فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ سَوَاءً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عوت میرے دروازے پر آکر کھانا مانگتے ہوئے کہنے لگی کہ مجھے کھانا کھلاؤ اللہ تمہیں دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے محفوط رکھے، میں نے اسے اپنے پاس روکے رکھا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے، میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ یہودیہ کیا کہہ رہی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا کہہ رہی ہے؟ میں نے کہا یہ کہہ رہی ہے کہ اللہ تمہیں دجال اور عذابِ قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ پھیلا کر اللہ سے دجال اور عذابِ قبر کی آزمائش سے بچنے کی دعاء کرنے لگے، پھر فرمایا جہاں تک فتنہ دجال کا تعلق ہے تو کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا نہ ہو، اور میں تمہیں اس کے متعلق اس طرح متنبہ کروں گا کہ کسی نبی نے اپنی امت کو نہ کہا ہو گا، یاد رکھو! وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہو سکتا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان"کافر" لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا۔ باقی رہا فتنہ قبر تو میرے ذریعے تمہاری آزمائش کی جائے گی اور میرے متعلق تم سے پوچھا جائے گا، اگر مرنے والا نیک آدمی ہو تو فرشتے اسے اس کی قبر میں اس طرح بٹھاتے ہیں کہ اس پر کوئی خوف اور گھبراہٹ نہیں ہوتی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے کس دین میں وقت گذارا؟ وہ کہتا ہے اسلام میں، پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون آدمی تھا جو درمیان میں تھا؟ وہ کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، اور ہم نے ان کی تصدیق کی، اس پر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ برا ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، تم شک میں مبتلا تھے، اسی حال میں مرے اور اسی حال میں اٹھائے جاؤ گے (انشاء اللہ) پھر اسے سزا دی جاتی ہے، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ! "جو پاکیزہ جسم میں رہا" یہاں سے نکل، قابل تعریف ہوکر نکل اور روح و ریحان کی خوشخبری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے، آواز آتی ہے کون؟ جواب دیا جاتا ہے؟ "فلاں" آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا، خوش آمدید! قابل تعریف ہوکر داخل ہو جاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاتات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگارعالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہگار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح" جو خبیث جسم میں رہی" نکل، قابل مذمت ہو کر نکل کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر، اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، پوچھا جاتا ہے کون؟ بتایا جاتا ہے کہ "فلاں" وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی، کوئی خوش آمدید نہیں، اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ جا، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، چنانچہ وہ آسمان سے واپس آ کر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلے مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہگار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي دِقْرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَتْ كُنَّا نَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَرَأَتْ عَلَى امْرَأَةٍ بُرْدًا فِيهِ تَصْلِيبٌ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ اطْرَحِيهِ اطْرَحِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَحْوَ هَذَا قَضَبَهُ
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اسے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کر دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ احْتَرَقَ فَسَأَلَهُ مَا شَأْنُهُ فَقَالَ أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ فَأَتَاهُ مِكْتَلٌ يُدْعَى الْعَرَقَ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں جل گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا) اسی اثناء میں میں ایک آدمی ایک گدھے پر سوار ہوکر آیا، اس کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکر ا تھا (وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ میرا صدقہ ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے؟ وہ کھڑا ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہاں موجود ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَ أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جاگ رہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹی تھیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی نیک آدمی آج پہرہ دیتا، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ میں نے اسلحہ کے کھنکھنانے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے؟ اس نے جواب دیا میں سعد بن مالک ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسے آنا ہوا انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ! آپ کی چوکیداری کے لئے آیا ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نیند کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ فَفَطَّرَتْنِي فَكَانَتْ ابْنَةَ أَبِيهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ وَكَانَتْ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِحَيْضَةٍ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي قَالَ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا "جو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کسی رگ کا خون ہے، دم حیض نہیں اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرو چنانچہ وہ اسی طرح کرتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصَّرَ أَحَلَّ مِمَّا حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم تین قسموں میں منقسم تھے، ہم میں سے بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا ، بعض نے صرف حج کا اور بعض نے صرف عمرے کا، سو جس شخص نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا، وہ تو اس وقت تک حلال نہیں ہوا جب تک حج کے تمام ارکان مکمل نہ کرلیے، اور جس نے عمرے کا احرام باندھ کر طواف، سعی اور قصر کرلیا تھا، وہ حج کا احرام باندھنے تک حلال ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ وَرَائِي يَعْنِي حِسَّ الْأَرْضِ قَالَتْ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ قَالَتْ فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ قَالَتْ وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَتْ فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ لَيْتَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ سَبْغَةٌ لَهُ يَعْنِي مِغْفَرًا فَقَالَ عُمَرُ مَا جَاءَ بِكِ لَعَمْرِي وَاللَّهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءٌ أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ قَالَتْ فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا قَالَتْ فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا عُمَرُ وَيْحَكَ إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَتْ وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ فَقَالَ لَهُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ قَالَتْ وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ وَمَوَالِيَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَرَقَى كَلْمُهُ وَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَكَفَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَوِيًّا عَزِيزًا فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي صَيَاصِيهِمْ وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَنَقْعُ الْغُبَارِ فَقَالَ أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعَتْ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ قَالَتْ فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ فَقَالَ مَنْ مَرَّ بِكُمْ فَقَالُوا مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ وَسِنُّهُ وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَتْ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ قِيلَ لَهُمْ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ قَالُوا نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَنَزَلُوا وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ فَقَالُوا يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ قَالَتْ وَأَنَّى لَا يُرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمْ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ قَدْ آنَ لِي أَنْ لَا أُبَالِيَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزَلُوهُ فَقَالَ عُمَرُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْكُمْ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ وَقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ وَيُقْسَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ قَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَتْ فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَتْ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ قَالَ عَلْقَمَةُ قُلْتُ أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَالَتْ كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر لوگوں کے نشانات قدم کی پیروی کرتے ہوئے نکلی، میں نے اپنے پیچھے زمین کے چیرنے کی آواز سنی، میں نے پلٹ کر دیکھا تو اچانک میرے سامنے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آ گئے، ان کے ساتھ ان کا بھتیجا حارث بن اوس تھا جو ڈھال اٹھائے ہوئے تھا، میں زمین پر بیٹھ گئی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے گذر گئے، انہوں نے لوہے کی زرہ پہن رکھی تھی اس سے ان کے اعضاء باہر نکلے ہوئے تھے جن کے متعلق مجھے نقصان کا اندیشہ ہونے لگا، کیونکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تمام لوگوں میں عظیم تر اور طویل تر تھے، وہ میرے قریب سے گذرتے ہوئے یہ رجزیہ شعر پڑھ رہے تھے تھوڑی دیر انتطار کرو، لڑائی اپنا بوجھ اٹھائے گی اور وہ موت کتنی اچھی ہے جو وقت مقررہ پر آجائے۔ اس کے بعد میں وہاں سے اٹھی اور ایک باغ میں گھس گئی، دیکھا کہ وہاں مسلمانوں کی جماعت موجود ہے، جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور ان میں سے ایک آدمی کے سر پر خود بھی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہا نے مجھے دیکھ کر فرمایا تم کیوں آئی ہو؟ بخدا تم بڑی جری ہو، تم اس چیز سے کیسے بے خطر ہو گئی ہو کہ کوئی مصیبت آجائے یا کوئی تمہیں پکڑ کر لے جائے؟ وہ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں تمنا کرنے لگی کہ اس وقت زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں، اسی دوران اس آدمی نے اپنے چہرے سے خود ہٹایا تو وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہنے لگے ارے عمر ! آج تو تم نے بہت ہی حد کر دی، اللہ کے علاوہ کہاں جانا ہے اور کہاں پکڑ کر جمع ہونا ہے۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر مشرکین قریش میں سے ایک آدمی "جس کا نام ابن عرقہ تھا" تیر برسانے لگا اور کہنے لگا کہ یہ نشانہ روکو کہ میں ابن عرقہ ہوں، وہ تیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ گیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اس وقت تک موت نہ دیجئے گا جب تک میری آنکھیں بنو قریظہ کے معاملے میں ٹھندی نہ ہو جائیں، بنو قریظہ کے لوگ زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف اور آزاد کردہ غلام تھے، بہر حال! ان کا زخم بھر گیا اور اللہ نے مشرکین پر آندھی مسلط کردی، اور لڑائی سے مسلمانوں کی کفایت فرمالی اور اللہ طاقتور غالب ہے۔ اس طرح ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ واپس جلے گئے، عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے، بنو قریظہ واپس اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آگئے اور اسلحہ اتار کر حکم دیا کہ چمڑے کا ایک خیمہ مسجد میں سعد کے لئے لگا دیا جائے، اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے، غبار جن کے دانتوں پر اپنے آثار دکھا رہا تھا، وہ کہنے لگے کہ کیا آپ نے اسلحہ اتار کر رکھ دیا؟ بخدا ملائکہ نے تو ابھی تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوجائے اور ان سے قتال کیجئے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ پہنی اور لوگوں میں کوچ کی منادی کرادی اور روانہ ہو گئے۔ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بنوغنم پر ہوا جو کہ مسجد نبوی کے آس پاس رہنے والے پڑوسی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ابھی تمہارے پاس سے کوئی گذر کرگیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی گذر کرگئے ہیں، دراصل حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی، دانت اور چہرہ حضرت جبریل علیہ السلام کے مشابہہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے قریب پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا اور پچیس دن تک محاصرہ جاری رکھا، جب یہ محاصرہ سخت ہوا اور ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا تو انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دو، انہوں نے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں مشورہ مانگا تو انہوں نے اشارے سے بتایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم سعد بن معاذ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات مان لی انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہیں ایک گدھے پر سوار کرکے لایا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان پڑا ہوا تھا، ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں گھیر رکھا تھا اور وہ ان سے کہہ رہے تھے کہ اے ابو عمر! یہ تمہارے ہی حلیف، آزاد کردہ غلام اور کمزور لوگ ہیں اور وہ جنہیں تم جانتے ہو، لیکن وہ انہیں کچھ جواب دے رہے تھے، اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کر رہے تھے، جب وہ ان کے گھروں کے قریب پہنچ گئے تو اپنے قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اب وہ وقت آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کروں، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ انہیں سواری سے اتارو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا آقا تو اللہ تعالیٰ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اتارو، لوگوں نے انہیں اتارا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے متعلق فیصلہ کرو، انہوں نے کہا کہ میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو افراد قتل کئے جائیں ان کے بچے قید کر لئے جائیں اور ان کا مال و دولت تقسیم کر لیا جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ اور رسول کے فیصلے کے مطابق ان کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ اگر تو نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کی جنگوں کا کچھ حصہ باقی رکھا ہے تو مجھے زندہ رکھ اور اگر تو نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان جنگوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے تو مجھے اپنے پاس بلالے، قبل ازیں وہ تندرست ہو چکے تھے اور صرف ایک بالی کے برابر زخم دکھائی دے رہا تھا لیکن یہ دعا کرتے ہوئے وہ زخم دوبارہ پھوٹ پڑا اور وہ اپنے اس خیمے میں واپس چلے گئے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ان کے لئے لگوایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکروعمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں اپنے حجرے کے اندر حضرت عمر اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز میں امتیاز کر رہی تھی، اور یہ لوگ اسی طرح تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ" ہ آپس میں رحم دل ہیں۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا اماں جان! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت کیا کیفیت تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی پر آنسو نہیں بہاتے تھے، البتہ جب بہت غمگین ہوتے تو اپنی ڈاڑھی مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ فَيُصَلِّي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ مِنْ أَثَرِ الْغَسْلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے چلے گئے تھے اور مجھے ان کے کپڑوں پر پانی کے نشانات نظر آرہے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے تو وہ ناقص ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فِي سَاعَةٍ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ بِالْبَابِ قَائِمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي انْتَظَرْتُكَ لِمِيعَادِكَ فَقَالَ إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا وَلَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ وَكَانَ تَحْتَ سَرِيرِ عَائِشَةَ جِرْوُ كَلْبٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكِلَابِ حِينَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی وقت آنے کا وعدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت مقرہ پر ان کا انتظار کرتے رہے، لیکن جب وہ نہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلے، دیکھا کہ دروازے پر کھڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آپ کے وعدہ کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، انہوں نے جواب دیا کہ گھر کے اندر کتا موجود ہے اور ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویریں ہوں، دراصل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسی وقت باہر نکال دیا گیا اور صبح ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ لَمْ أَرَهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَصْبَغُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ الْجُرَشِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ وَبِمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ قَالَتْ كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيُهَلِّلُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا وَيَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي عَشْرًا وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضِّيقِ يَوْمَ الْحِسَابِ عَشْرًا
ربیعہ جرشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو کیا دعا پڑھتے تھے اور کس چیز سے آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ تکبیر کہتے تھے، دس مرتبہ الحمد، دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ لا الہ الا اللہ اور دس مرتبہ استغفر اللہ کہتے تھے، اور دوسری مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے، اے اللہ ! میں حساب کے دن کی تنگی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ وَكُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم رمی کر چکو اور سر کا حلق کروالو تو تمہارے لئے خوشبو، سلے ہوئے کپڑے اور دوسری تمام چیزیں"سوائے عورتوں کے" حلال ہوگئیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ایام کی حالت میں ہوتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سَجْدَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجَ مَعَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے۔ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھا نے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب موذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ موذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہھم کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا سب کو کفایت کر جاتا اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پرھ لیا کرے بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَهَا أَخُوهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَدَعَتْ بِمَاءٍ قَدْرَ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَصَبَّتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا اور غسل کرنے لگیں، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا، (اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا)۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر شرمگاہ کو دھوتے، پھر دونوں ہاتھ دھو کر کلی کرتے، ناک میں پانی ڈالتے اور سر پر پانی ڈالتے، پھر سارے جسم پر پانی بہاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا قَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ
معاذہ رحمۃ اللہ علیہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تم خارجی ہو گئی ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے"ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ فَقُلْتُ أَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ قَالَ لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ وَعَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ عَفَّانُ وحَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ قَالَ عَفَّانُ وَيَقُولُ هَذِهِ قِسْمَتِي ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی باریاں مقرر فرما رکھی تھیں اور وہ ان کے درمیان انصاف سے کام لیتے اور فرماتے تھے اے اللہ! جتنا مجھے اختیار ہے اس کے اعتبار سے میں یہ کر لیتا ہوں، اب اس کے بعد جس چیز میں تجھے اختیار ہے اور مجھے کوئی اختیار نہیں، مجھے ملامت نہ کرنا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَوُادَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَ فَقُلْتُ فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتَهَا كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا تَحَرَّجَ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ جو فرمان ہے فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجے! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے تو پھر آیت اس طرح ہوتیفَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا دراصل اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار کے لوگ" منات" کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص اس کا احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہٰذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ فَقُلْتُ وَا رَأْسَاهْ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ قَالَتْ فَقُلْتُ غَيْرَى كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَ وَأَنَا وَا رَأْسَاهْ ادْعُوا إِلَيَّ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَيَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلَى وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہورہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ زندگی میں ہو جائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کرکے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے؟ آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہائے میرا سر، اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہے گا اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا کہ خلافت کا زیادہ مستحق میں ہوں، اور اللہ اور تمام مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی کو نہیں مانیں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہو جائے، دوسرے بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے، اور تیسرے مجنوں یہاں تک کہ اپنے ہوش وحو اس میں آ جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي خَلَفٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا أَوْ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ أَيَّتُهُمَا قَالَ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَكَذَاكَ أُنْزِلَتْ وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حُرِّفَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ابو خلف کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے؟الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا۔ یا اس طرح ہےيُؤْتُونَ مَا أَتَوْا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قرائتوں میں سے کون سی قرات پسند ہے؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرات تو مجھے تمام دنیاو مافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی؟ عبید نے عرض کیا الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا۔ انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں (دونوں کا مادہ ایک ہی ہے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جُعِلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ بَيَاضَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَادَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ قَالَتْ كَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلاپن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَزِيدَ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَعْنَى قَالَا أَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ الْعَدَوِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنَا مُعَاذَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيَّةُ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنْ الزَّحْفِ
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے، اس میں ثابت قدم رہنے والا شہید کی طرح ہو گا، اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ مَئُونَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ با برکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضَرِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَحَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ فَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالزَّكَاةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ يَرْوِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو، اس کی طرح نہیں کرے گا جس کا کوئی حصہ نہ ہو اور اسلام کا حصہ تین چیزیں ہیں، نماز، روزہ اور زکوۃ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کا سر پرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا اور تیسرے یہ کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اللہ اسے ان ہی میں شمار فرماتا ہے اور ایک چوتھی بات بھی ہے جس پر اگر میں قسم اٹھالو تو امید ہے کہ میں اس میں بھی حانث نہیں ہوں گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کی دنیا میں پردہ پوشی فرمایا ہے، قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فَقَالَتْ لِي هَلْ لَكِ إِلَى أَنْ تُرْضِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَأَجْعَلُ لَكِ يَوْمِي قُلْتُ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ اخْتَمَرَتْ بِهِ قَالَ عَفَّانُ لِيَفُوحَ رِيحُهُ ثُمَّ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي يَوْمِهَا فَجَلَسَتْ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ فَلَيْسَ هَذَا يَوْمَكِ فَقُلْتُ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ خَبَرِي قَالَ عَفَّانُ فَرَضِيَ عَنْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ عائشہ! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے راضی کر دو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پیچھے ہٹو آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرمادے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہوگئے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِاللَّبَنِ قَالَ كَمْ فِي الْبَيْتِ بَرَكَةً أَوْ بَرَكَتَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ پیش کیا جاتا تو فرماتے گھر میں کتنی برکتیں ہیں۔
-
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ صَلِّ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَكَ أَهْلَ الْيَمَنِ عَنْ الصَّلَاةِ إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ
شریح کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نماز عصر کے بعد قضاء نماز کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا پڑھ سکتے ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم یعنی اہل یمن کو طلوع آفتاب کے وقت نوافل پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيِّهِ كَانَ فَقَالَتْ لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے راوی نے پوچھا کہ مہینہ کے کس حصے میں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ مہینے کے کس حصے میں رکھیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى فِي مَسَاكِنَ لَهُ بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ لِإِنْسَانٍ فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ اجْمَعْ ثَلَاثَةً فِي مَكَانِ وَاحِدٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَأَمْرُهُ رَدٌّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ قَوْمًا وَقَالَ الْخَفَّافُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مُضْطَجِعَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا قُلْتُ رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ قَالَ وَرَأَيْتِيهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ قَالَ سُفْيَانُ الدَّخِيلُ الضَّيْفُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبریل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جواب دیا "وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ برکاتہ" اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَدْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنَّ بَعْضَ مِرْطِي عَلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ الدِّيْلِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ عَنْ دَوُادَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السِّوَاكُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ وَفِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اور کلونجی میں "سام" کے علاوہ ہر مرض کی شفاء موجود ہے، صحابہ رضی اللہ عنہھم نے پوچھا یا رسول اللہ! "سام" سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خبر کا انتظار ہوتا اور اس میں تاخیر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر طرفہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ "تیرے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تو نے زادِراہ نہ دیا ہو گا۔"
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگاتے اور سو جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ
لمیس کہتی ہیں کی ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایک عورت اپنے شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے، انہوں نے فرمایا اپنے آپ سے اس چیز کو دور کرو جس کو اللہ تعالیٰ نظر کرم نہیں فرماتا، پھر ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خطاب کر کے"اماں جان" کہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں، بلکہ میں تو تمہاری بہن ہوں، اور فرمایا کہ ماہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند اور نماز دونوں کام کرتے تھے اور جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوب محنت کرتے اور تہبند کس لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا قُولِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا عَلَيْكِ بِالْجَوَامِعِ الْكَوَامِلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ان کا ارادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کا تھا لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کامل چیزوں کو اختیار کرو، جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا مطلب پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو، اے اللہ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتاہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کے رقیب کر دینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کر دینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں سمجھی شاید اپنی کسی باندی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں کہ پروردگار! میرے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ عُمَانِيَّانِ أَوْ قَطَرِيَّانِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّ هَذَيْنِ ثَوْبَانِ غَلِيظَانِ تَرْشَحُ فِيهِمَا فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ وَإِنَّ فُلَانًا قَدْ جَاءَهُ بَزٌّ فَابْعَثْ إِلَيْهِ يَبِيعُكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ قَالَ قَدْ عَرَفْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبَيَّ أَيْ لَا يُعْطِينِي دَرَاهِمِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ أُرَاهُ قَالَ قَدْ كَذَبَ لَقَدْ عَرَفُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ قَالَ أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمان کے دو کپڑے تھے جو بہت موٹے تھے، انہوں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یہ دونوں کپڑے بہت موٹے ہیں، جب یہ گیلے ہو جاتے ہیں تو اور بھی وزنی ہو جاتے ہیں، فلاں آدمی کے پاس کچھ کپڑے آئے ہیں، کسی آدمی کو اس کے پاس بھیج دیجئے کہ وہ آپ کو دو کپڑے فروخت کردے اور آپ کشادگی ہونے پر اسے ادائیگی کردیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس ایک آدمی کو بھیج دیا، وہ کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا ارادہ ہے، یہ چاہتے ہیں کہ میرے کپڑے لیجائیں اور مجھے میرے دراہم نہ دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اس نے غلط کہا، یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، بات میں سب سے زیادہ سچا اور امانت کو سب سے بڑھ کر ادا کرنے والا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبٍّ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَائِبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ وَقَالَ إِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْوَلَدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الدَّائِمُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَقُلْتُ فَأَيُّ حِينٍ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے۔ میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَثُ أَخِيرًا كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ وَطُهُورِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلا وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تحَدَّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ قَالَ تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَتْ أَسْمَاءُ وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ تَبْتَغِي أَثَرَ الدَّمِ وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ قَالَ تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَهَّرِينَ فَتُحْسِنِينَ الطُّهُورَ أَوْ أَبْلِغِي الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے " غسل حیض" کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں "غسل جنابت" کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو، اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھےسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کر دیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ فَقَالَتْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔
-
وَقَالَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنْ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں، اسی لئے وہ اس کے درمیان کی چیزوں کو چھوڑ دیتے تھے۔
-
قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بعُمَرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نیک لوگوں کا تذکرہ کیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی تذکرہ کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَخِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرَفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتِيهِ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام ایک ترکی گھوڑے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ وہ جبریل علیہ السلام تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فُلَيْتٍ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا۔ میں اپنے اوپر اور قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ بُصَاقًا أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھوک دیکھا تو اسے مٹی میں مل دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ رَخَّصَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ فَقَالَ جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخَرَجَ بِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور جمرے کے پاس پہنچ کر ان سے جا ملا اور وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کے لئے جارہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ اور اسے کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے، اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی سوال پوچھا، اس مرتبہ اس نے اثبات میں جواب دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ قَالَتْ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ
عبداللہ بن ابی قیس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعتوں پر وتر بناتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار اور تین پر، چھ اور تین پر، دس اور تین پر، لیکن تیرہ رکعتوں سے زیادہ اور سات سے کم پر وتر نہیں بناتے تھے اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ فَقَالَتْ كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ قَالَ قُلْتُ لَهَا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ قَالَتْ كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ
عبداللہ بن ابی قیس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے تھے یا سونے کے بعد؟ انہوں نے فرمایا کبھی سونے سے پہلے غسل فرما لیتے تھے اور کبھی سونے کے بعد پھر میں نے یہ پوچھا کہ یہ بتایئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرات فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ بِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال رکھتے تھے کہ کسی دوسرے مہینے کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال نہیں رکھتے تھے اور چاند دیکھ کر روزہ رکھ لیتے تھے اور اگر آسمان ابر آلود ہوتا تو تیس دن کی گنتی پوری کر کے پھر روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ حَدَّثَهُ قَالَ كَتَبَ مَعِي مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ قَالَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَدَفَعْتُ إِلَيْهَا كِتَابَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنِّي كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ يَوْمًا مِنْ ذَاكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ لَكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلَا أُرْسِلُ لَكَ إِلَى عُمَرَ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لَا ثُمَّ دَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُقَمِّصَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ وَاللَّهِ لَقَدْ أُنْسِيتُهُ حَتَّى مَا ظَنَنْتُ أَنِّي سَمِعْتُهُ
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر میرے ہاتھ حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر وہ خط ان کے حوالے کیا تو وہ کہنے لگیں، بیٹا! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں اور حفصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو خاموش رہے، پھر فرمایا نہیں، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو بلانے کے لئے کہا، تب بھی یہی ہوا، پھر ایک آدمی کو بلا کر کچھ دیر اس سے سرگوشی کی، تھوڑی ہی دیر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوگئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا : اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا بخدا میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ قَالَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لَهُمَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَسْتَمِعُ هَذَا الْحَدِيثَ فَيَقُولُ لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ مِنْ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ يَوْمَ بَدْرٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوئہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں پڑی ہوئی گھنٹیاں توڑ دی جائیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بالغ لڑکی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے کہ وہ قبول نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الطِّيَرَةَ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ فَغَضِبَتْ غَضَبًا شَدِيدًا فَطَارَتْ شُقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ وَشُقَّةٌ فِي الْأَرْضِ فَقَالَتْ إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بے اصل قرار دیا ہے)
-
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے ہاہر ہوتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ فَذُهِبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ قَالَ إِنَّمَا هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ امْرَأَةٍ قَالَ عَفَّانُ مِنْ عَجُوزَةٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ مِنْ نِسَاءِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ قَالَتْ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ تَمَعُّرًا مَا كُنْتُ أَرَاهُ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَنْظُرَ أَرَحْمَةٌ أَمْ عَذَابٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہو گئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہو گیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ رَقَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَنْ أَشُقَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اتنی تاخیر کردی کہ رات کا اکثر حصہ بیت گیا اور مسجد والے بھی سو گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو نماز عشاء کا صحیح وقت یہ ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ یا رسول اللہ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا قُولِي لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبِّينِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَحِبِّيهَا فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ لَهَا فَقُلْنَ إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ قَالَتْ عَائِشَةُ هِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتُمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ قَالَتْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا قَالَتْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا مِنْهَا وَأَكْثَرَ صَدَقَةً وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ غَرْبٍ حَدٍّ كَانَ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفِيئَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہونے والی گفتگو بتا دی، جسے سن کر انھوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کر سکیں، آپ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا بخدا اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کر دئیے (طعنے) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرادیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ سے اچھی، کثرت سے صدقہ کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، اور اللہ کی ہر عبادت میں اپنے آپ کو گھلانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، البتہ سوکن کی تیزی ایک الگ چیز ہے جس میں وہ برابری کے قریب آتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ الْآيَةَ قَالَتْ فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ فَوَاللَّهِ مَا بَايَعَنَا إِلَّا عَلَى هَذَا قَالَتْ فَنَعَمْ إِذًا فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے آیت بیعت کی شرائط پر بیعت لینا شروع کر دی، اس پر فاطمہ نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں اے خاتون! مطمئن رہو، بخدا ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انہی شرائط پر بیعت کی ہے، تو فاطمہ نے کہا کہ پھر صحیح ہے اور انہوں نے اس آیت کی شرائط پر بیعت کرلی۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ مُوسَىِ بْنِ سَرْجِسٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ وَيَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! معمولی گناہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہو سکتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي شَأْنٍ آخَرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا میں سمجھی کہ شاید اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ کہ رہے ہیں۔سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اس پر میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس حال میں ہیں اور میں کس سوچ میں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَوْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ فَمَا تَبْتَغِي بِذَلِكَ قَالَ أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا افْتَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَّتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہو جائے، تو میں لوگوں کو نصیحت کردوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالنے لگے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کے وصال تک ا نہیں "ام عبد اللہ" کہا جاتا رہا، حالانکہ ان کے یہاں اولاد نہیں ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَاكَ الْبِرُّ كَذَاكَ الْبِرُّ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں، نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں دراصل وہ اپنی والدہ کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْكَذِبِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَةَ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت بُری نہ تھی بعض اوقات اگر کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بول دیتا تو یہ چیز اسے مستقل ملامت کرتی رہتی حتیٰ کہ پتہ چلتا کہ اس نے اس سے توبہ کرلی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ لِي قُومِي فَأَوْتِرِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے تھے، جب فارغ ہو جاتے تو مجھ سے فرما دیتے کہ کھڑے ہوکر وتر پڑھ لو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِيَ الْإِرْبَةِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَا هُنَا لَا يَدْخُلْ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آتا تھا، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسے عورتوں کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کی پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگئے، اس وقت وہ مخنث ایک عورت کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ اسے یہ باتیں بھی معلوم ہوں گی، اس لئے آج کے بعد یہ تمہارے پاس کبھی نہ آئے، چنانچہ ازواج مطہرات اس سے پردہ کرنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَخِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ عَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرْفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ رَأَيْتِيهِ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام ایک ترکی گھوڑے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ وہ جبریل علیہ السلام تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءٌ أَوْ تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى الرِّيقِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مقام عالیہ کی کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھانے میں شفاء ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا قَالَتْ قِفْ بِي فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَآهَا قَالَتْ أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ وَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنْ الْجِنِّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک آزاد کردہ غلام" جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری کو آگے سے ہانکتا تھا" کہتا ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کان میں کسی گھنٹی کی آواز پر جاتی جو آگے سے آرہی ہوتی تو وہ اس سے فرماتیں کہ روکو، اور اتنی دیر تک انتطار کرتی رہتیں جب تک کہ وہ آواز آنا بند نہ ہو جاتی، اور اگر وہ اسے دیکھ لیتیں تو فرماتیں کہ مجھ جلدی سے لے چلو، تاکہ میں اس کی آواز نہ سن سکوں اور فرماتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، جنات اس کے تابع ہوتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُرْسَلُ عَلَى الْكَافِرِ حَيَّتَانِ وَاحِدَةٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ وَأُخْرَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ تَقْرِضَانِهِ قَرْضًا كُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کافر پر دو سانپ مسلط کئے جاتے ہیں، ایک اس کے سرہانے کی جانب سے اور ایک پاؤں کی جانب سے اور وہ دونوں اسے ڈستے ہیں اور جب فارغ ہوتے ہیں تو دوبارہ شروع ہوجاتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَابَةِ وَالْحِجَامَةِ وَغَسْلِ الْمَيِّتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار چیزوں کی بناء پر غسل کیا جائے گا، جمعہ کے دن اور جنابت کی وجہ سے اور سینگی لگوانے کی وجہ سے اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُزَوَّجُ الْمَرْأَةُ لِثَلَاثٍ لِمَالِهَا وَجَمَالِهَا وَدِينِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے تین وجوہات کی بناء پر شادی کی جاتی ہے اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسن وجمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، اللہ تمہارا بھلا کرے تم دین والی کو ترجیح دینا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنْ الْوَسَخِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ فَقَالَتْ مَا هُوَ قَالَتْ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَتْ فَقُلْتُ قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَتْ فَفَرِحَ لِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ "میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَتْ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہاے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَرْفَجَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَأَخْشَى أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنْ الْآفَاقِ فَلَا يَسْتَطِيعُ دُخُولَهُ فَيَرْجِعُ وَفِي نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو فرمایا میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسَاءَ بِالْكَلَامِ بِهَذِهِ الْآيَةِ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا قَالَتْ وَمَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کر لیتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ مِنْ الْمَاءِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى الْمَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی شخص نے پوچھا کہ مرد و عورت کے درمیان تعلقات پر غسل کب واجب ہوتاہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرماتے تھے جب انزال ہوجاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ وَيُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ أَوْ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ شَكَّ ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَتْ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سب سے پہلے سچے خوابوں کے ذریعے ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے صبح کی روشنی کی طرح اس کی تعبیر نمایاں ہوکر سامنے آجاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَالَتْ رُبَّمَا رَفَعَ وَرُبَّمَا خَفَضَ
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرات فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْعَةٍ قَطُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ لَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور دو رکعتیں پڑھ لیتے ، غالبا وہ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنے ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَّهُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ قَالَ عَطَاءٌ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور فرماتے تھے کہ کیا یہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پوپھیاں نہیں ہوتیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ جَمَعَ يَدَيْهِ فَيَنْفُثُ فِيهِمَا ثُمَّ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ قَالَ عُقَيْلٌ وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا! سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں جمع کرتے اور ان پر سورت اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر پھونکتے اور جہاں جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر ان ہاتھوں کو پھیر لیتے اور سب سے پہلے اپنے سر اور چہرے اور سامنے کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آٹھ رکعتیں کھڑے ہوکر پڑھیں، پھر دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھیں، جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ مُوسَىِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنْ الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ قَالَتْ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ جب کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہو گئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہو گیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ فَأَنَا وَلِيُّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص فرض کا بوجھ اٹھائے اور اسے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوت ہوجائے لیکن وہ قرض ادا نہ کر سکا ہو تو میں اس کا ولی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ وَقَعَ الطَّاعُونُ فِي بَلَدِهِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے "طاعون" کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنا دیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوا اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ أَوْ فِي جَنَازَةِ قَتِيلٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، الا یہ کہ وہ مسجد میں ہو یا کسی شہید کے جنازے میں۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ وَحُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ فَقَالَ دِبَاغُهَا طَهُورُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار جانوروں کی کھال کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی دباغت ہی ان کی طہارت ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ فُوَيْسِقٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمْرَ بِقَتْلِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکلی کو (نقصان دہ) قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَىِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ قَالَ لَيْثٌ وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ أَلَا أَسْتَحِي مِمَّنْ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابِسٌ مِرْطًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی آپ نے کپڑا سمیٹنے کے لئے فرمایا جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ سے ابوبکر و عمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں بخدا جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ امْرَأَتِهِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ فَقَالَ لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَسَأَلَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ
ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں سفر سے واپس آئے، ہم نے انہیں قربانی کا گوشت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ میں جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق خود نہ پوچھ لوں، اسے نہیں کھاؤں گا، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ذی الحجہ سے دوسری ذی الحجہ تک اسے کھا سکتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتْ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ
عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اہل خانہ میں سے کوئی فوت ہوجاتا تو جماعت کی عورتوں کے جانے کے بعد جب خاص ان کے گھر کی عورتیں رہ جاتیں تو وہ ایک ہانڈی چڑھانے کا حکم دیتیں جبس میں دلیا پکایا جاتا، پھر ثرید بنانے کا حکم دیتیں پھر اس دلیے کو ثرید پر ڈال کر فرماتیں اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دلیا مریض کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور غم کے اثرات کو دور کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ الْغَائِطِ قَالَ غُفْرَانَكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو یوں کہتے" غُفْرَانَكَ۔ "اے اللہ! میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! جس طرح تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے، سیرت بھی اچھی کردے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِإِزَائِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَعْفُرَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ دَخَلَ الْمَنْزِلَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ أَطْوَلَ مِنْهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ لَا يَفْصِلُ فِيهِنَّ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَرْكَعُ وَهُوَ جَالِسٌ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ جَالِسٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر گھر میں تشریف لے آتے تھے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، اس کے بعد اس کی نسبت لمبی دو رکعتیں مزید پڑھتے، پھر تین وتر پڑھتے اور ان میں وقفہ نہ کرتے۔ پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ جس میں بیٹھ کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھے بیٹھے ہی سجدے میں چلے جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ثَلَاثًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى قُبِضَ وَمَا رُفِعَ مِنْ مَائِدَتِهِ كِسْرَةٌ قَطُّ حَتَّى قُبِضَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کے دستر خوان سے کبھی روٹی کا ٹکڑا نہیں اٹھایا گیا حتیٰ کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
-
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتَلَفْتُ فِيهِ مَنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ قَالَ يَحْيَى قَالَ أَبُو سَلَمَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هَمْزُهُ وَنَفْخُهُ وَنَفْثُهُ قَالَ أَمَّا هَمْزُهُ فَهَذِهِ الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ بَنِي آدَمَ وَأَمَّا نَفْخُهُ فَالْكِبْرُ وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے اے اللہ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے! پوشیدہ ظاہر چیزوں کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کرسکتا ہے، ان اختلافی معاملات میں مجھے اپنے حکم سے صحیح راستے پر چلا، کیونکہ تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے۔ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے، اے اللہ! میں شیطان مردود کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ تم بھی اللہ سے یہ پناہ مانگا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! شیطان کے ہمز نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "ہمز" سے مراد موت ہے جو بنی آدم کو آتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ قَالَ أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكَ أَنْتَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا بخدا مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَلِلْأَمَةِ وَقَالَتْ كَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کر دیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ شَيْئًا مِنْ الشِّعْرِ قَالَتْ قَدْ كَانَ يَتَمَثَّلُ مِنْ شِعْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَيَقُولُ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔" اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا"
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي مِنْ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ الْقَرْنُ الَّذِينَ أَنَا فِيهِ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ زمانہ جس میں میں ہوں، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَبْغُضَ أُسَامَةَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص کے لئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا مناسب نہیں ہے جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو، اسے چاہیے کہ اسامہ سے محبت کرے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَإِنَّا لَجُنُبَانِ وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ ہم تو جنبی ہوتے ہیں لیکن پانی جنبی نہیں ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنْ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جائیں اور اس کے پاس گناہوں کا کفارہ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے غم میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ كُنَّا مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى الْحُجْرَةِ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ السِّوَاكِ أَوْ سِوَاكَهَا وَهِيَ تَسْتَنُّ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تَسْتَمِعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ وَمَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّهِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمْرَةٍ أَوْ عُمْرَةً إِلَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعَهُ وَمَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ
عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ مسواک کر رہی تھی اور مجھے اس کی آواز آرہی تھی، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبد الرحمٰن پر رحم فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں(لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّبَتُّلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي لَوْ جَلَسَ حَتَّى أَقْضِيَ سُبْحَتِي لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عروہ سے فرمایا کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تعجب نہیں ہوتا؟ وہ آئے اور میرے حجرے کی جانب بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیثیں بیان کرنے لگے اور میرے کانوں تک اس کی آواز آتی رہی، میں اس وقت نوافل پڑھ رہی تھی، وہ میرے نوافل ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے، اگر میں انہیں ان کی جگہ پر پا لیتی تو انہیں بات پلٹا کر ضرور سمجھاتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْتَرَ مِنْهَا وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ عَلَى ظَهْرِهِ فَإِنَّهُمَا يَقْتُلَانِ الصَّبِيَّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَيُغَشِّيَانِ الْأَبْصَارَ مَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کر دیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے ہم میں سے نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انتہائی کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ الْحَدِيثُ حَدِيثَ خُرَافَةَ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِنَّ دَهْرًا طَوِيلًا ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنْ الْأَعَاجِيبِ فَقَالَ النَّاسُ حَدِيثُ خُرَافَةَ قَالَ أَبِي أَبُو عَقِيلٍ هَذَا ثِقَةٌ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازوج مطہرات کو رات کے وقت ایک کہانی سنائی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو خرافہ جیسی کہانی معلوم ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ "خرافہ" کون تھا؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک آدمی تھا جسے زمانہ جاہلیت میں ایک جن نے قید کر لیا تھا اور وہ آدمی ایک طویل عرصے تک ان میں رہتا رہا، پھر وہ لوگ اسے انسانوں میں چھوڑ گئے اور اس نے وہاں جو تعجب خیز چیزیں دیکھی تھیں، وہ لوگوں سے بیان کیا کرتا تھا، وہاں سے لوگوں نے مشہور کر دیا کہ "خرافہ کی کہانی ہے"
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَوُادُ يَعْنِي الْعَطَّارَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا دَوُادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرْتْهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ قَالَ فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنْ الشَّمْسِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، حکم دیا، نماز کا اعلان کردیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالبا اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر"۔ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دوبارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا اگر قریش کے فخر و غرور میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ کے یہاں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعِقَّ عَنْ الْجَارِيَةِ شَاةً وَعَنْ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَأَمَرَنَا بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کردیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُعَيِّرُ النِّسَاءَ اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَعْرِضَ نَفْسَهَا بِغَيْرِ صَدَاقٍ فَنَزَلَ أَوْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنْ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ قَالَتْ إِنِّي أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان عورتوں پر طعنہ زنی کرتی تھیں جو خود اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتی تھیں اور ان کی رائے یہ تھی کہ کسی عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے آپ کو بغیر مہر کے پیش کر دیتی ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کر لیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ قَالَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ثُمَّ يُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الہٰی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَسُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ كَمَا انْبَسَطَ إِلَى الْآخَرِ وَلَمْ يَهَشَّ لَهُ كَمَا هَشَّ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ فُلَانٌ فَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ هَشَشْتَ لَهُ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ بِهِ مَا صَنَعْتَ لِلْآخَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ اتُّقِيَ لِفُحْشِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، جب وہ چلا گیا تو ایک اور آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت اچھا آدمی ہے، لیکن جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کی طرح اس سے ہشاش بشاش ہو کر اس کی جانب توجہ نہ فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس اس طرح فرمایا، پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی اور دوسرے آدمی کے ساتھ اس طرح نہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہو گا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کیلئے چھوڑ دیا ہو گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَدَنَوْتُ مِنْ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنْ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبُكُمْ وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرُكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں کچھ گھٹن ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے، میں نے حجروں کے قریب ہوکر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو، اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعائیں قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد مانگو تو میں تمہاری مدد نہ کروں۔
-
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ يُحَدِّثُ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صف میں تھے۔
-
حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
-
حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جس شخص کو نرمی کا حصہ دیا گیا، اسے دنیا و آخرت کی بھلائی کا حصہ مل گیا اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی شہروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ فَقَسَمَ لِلْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ قَالَ أَبِي قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فَقَسَمَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کر دیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَاتَانِ لَمْ يَتْرُكْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دو نمازیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشیدہ یا علانیہ کبھی ترک نہیں فرمائیں، عصر کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ يَخَافُ اللَّهَ قَالَ لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يُصَلِّي وَيَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يُخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت۔ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ۔ کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بدکاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ بِهِ عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے بار بار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں، اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو حَتَّى أَسْمَعَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَلَا تُعَاقِبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِنْ آذَيْتُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی تاکہ میں بھی سن لوں کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي لَيْلَتِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّدَقَةِ فَذَكَرَتْ شَيْئًا قَلِيلًا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِي وَلَا تُوعِي فَيُوعَى عَلَيْكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا تو وہ کچھ لے کر آیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُبَاعُ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَنْجُوَ مِنْ الْعَاهَةِ قَالَ أَبِي خَارِجَةُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے پھلوں کو اس وقت تک نہ بیچا کرو جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوط نہ ہوجائیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ قَالَ إِنَّمَا هُوَ عُرُوقٌ أَوْ قَالَ عِرْقٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا "جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے" کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضْرِيُّ أَنَّهُ شَهِدَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ قَالَ وَسِهَامُ الْإِسْلَامِ الصَّوْمُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَهُ وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَاءَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَالرَّابِعَةُ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَبْدٍ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو، اس کی طرح نہیں کرے گا جس کا کوئی حصہ نہ ہو اور اسلام کا حصہ تین چیزیں ہیں، نماز، روزہ اور زکوٰۃ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کا سرپرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا، اور تیسرے یہ کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اللہ اسے ان ہی میں شمار فرماتا ہے، اور ایک چوتھی بات بھی ہے جس پر اگر میں قسم اٹھا لوں تو امید ہے کہ میں اس میں بھی حانث نہیں ہوں گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتا ہے، قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بیمار ہوتے تو حضرت جبریل علیہ السلام انہیں یہ پڑھ کر دم کرتے " اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں کہ وہ ہر بیماری سے آپ کو شفاء دے، حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے اور ہر نظر بد والے کے شر سے۔"
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا اسْتَاكَ قَبْلَ الْوُضُوءِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی رات یا دن کے جس حصے میں بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔
-
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا، اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ إِذَا طَمِثْتُ شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارًا ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعَارَهُ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب "ایام" سے ہوتی تو اپنا تہبند اچھی طرح باندھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْغَلَّةَ بِالضَّمَانِ سَمِعْتُ مِنْ قُرَّانَ بْنِ تَمَّامٍ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ وَكَانَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بَاقِيًا وَفِيهَا مَاتَ ابْنُ الْمُبَارَكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ بَيْنَهُمَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے اور وہ برتن دونوں کے درمیان ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَلْفِيتُهُ بِالسَّحَرِ الْآخِرِ إِلَّا نَائِمًا عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاخْتَنَثَهَا وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت کے پاس تشریف لے گئے، اس کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ لگا کر کھڑے کھڑے پانی پیا۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ ثُمَّ أُخِذَ عَنْهُ قَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹا گیا تھا، بعد میں اسے ہٹا دیا گیا تھا، قاسم کہتے ہیں کہ اس کپڑے کا کچھ حصہ ان تک ہمارے پاس موجود ہے۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاغْتَسَلْنَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ایک مرتبہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تو بعد میں غسل کرلیا۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عِكْرِمَةَ وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالْقِدْرِ فَيَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُصِيبُ مِنْهُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے تو اس میں سے ہڈی والی بوٹی نکالتے اور اسے تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اور نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ فَيُوضَعُ لَهُ الْإِنَاءُ فِيهِ الْمَاءُ فَيُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ فَيَغْسِلُهَا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَيُفْرِغُ بِهَا عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ يَغْرِفُ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَيَصُبُّهَا عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہو جاتا تو ان کے لئے پانی کا برتن رکھا جاتا اور وہ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے، پھر دائیں ہاتھ کو برتن میں داخل کر کے اس سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے اور شرمگاہ کو دھوتے، پھر تین مرتبہ کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر چہرہ اور دونوں بازو دھوتے، پھر تین چلو پانی لے کر سر پر بہاتے، پھر غسل کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ رَبِيعَةَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ رضی عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَى رَجُلًا يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں، اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہارے تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ سَجَدَاتٍ لَا يَجْلِسُ بَيْنَهُنَّ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ يُسَلِّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے، ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتے تھے بلکہ آخر میں بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ احرام سے پہلے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے جس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لِي يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عُرْوَةَ هِشَامٌ يُخْبِرُ بِهِ عَنِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ يُقَالُ لَهُ طَلْحَةُ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ تَنَاوَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ فَقَالَ وَأَنَا صَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَنِعُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہ سمجھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہھم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَجَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت نکلے تو کالے بالوں کی ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز جو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ أُسَامَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُسَامَةُ لَا أَرَاكَ تُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو لوگوں سے عاریۃً چیزیں مانگتی تھی اور پھر بعد میں مکر جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کا ٹنے کا حکم دے دیا، اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اوس سلسلے میں ان سے بات چیت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسامہ! کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود کے بارے بات کر رہے ہو؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم سے پہلے لوگ صرف اس لئے ہلاک ہو گئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو لوگ اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کر لتیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخزومیہ عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ قَالَتْ كَانَ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ يُهِلُّ لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنَاةُ صَنَمٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطُوفَ بِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کا یہ جو فرمان ہےإِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ کے متعلق مروی ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار کے لوگ"مناۃ" کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص اس کا احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، اس لئے جو شخص حج یا عمرہ کرے، اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقَرَأَ عَلَيَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَقُلْتُ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ الْمُؤْمِنَاتِ إِلَّا بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ وَلَا وَلَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کا امتحان اسی آیت سے کرتے تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا "جب آپ کے پاس مومن عورتیں آئیں"
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَدَأَ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ حَتَّى بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا اس معاملے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ يَأْتِينِي أَحْيَانًا لَهُ صَلْصَلَةٌ كَصَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَنْفَصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ وَذَلِكَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي صُورَةِ الرَّجُلِ أَوْ قَالَ الْمَلَكِ فَيُخْبِرُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغامِ الہٰی سمجھ چکا ہوتا ہوں، اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ثُمَّ يُخَيِّرُونَ يَهُودَ أَيَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَمْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَيُفَرَّقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التَّمْرِ وَقَالَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیبر کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تھے، جب کھجور کھانے کے قابل ہو جاتی تو وہ اس کا اندازہ لگاتے تھے، پھر یہودیوں کو اس بات کا اختیار دے دیتے تھے کہ وہ اس اندازے کے مطابق اسے لیتے ہیں یا مسلمانوں کو دیتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ پھل کھانے اور الگ کرنے سے پہلے زکوۃ کا حساب لگا لیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي قَالَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنْ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمْرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنْ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ عَنْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ھدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے، اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَهِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زیبر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میں بیمار ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کے لیے روانہ ہو جاؤ اور یہ شرط ٹھہرا لو کہ اے اللہ! میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں تو نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ أُخْبِرَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَائِضٌ فَقَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ فَأُخْبِرَ أَنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ فَأَمَرَهَا بِالْخُرُوجِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی للہ عنہا کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْفَأْرَةِ وَالْغُرَابِ وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں "فواسق" میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے ، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں"فواسق" میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا، اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہو گیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جنہیں کسی کی موت و حیات سے گہن نہیں لگتا، جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو اللہ کی کبریائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیا کرو، نماز اور خیرات کیا کرو، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے زیادہ کسی کو اس بات پر غیرت نہیں آسکتی کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی بدکاری کرے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بخد اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہوتا جو مجھ معلوم ہے تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتُنَا قَالَ أَوَلَمْ تَكُنْ أَفَاضَتْ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ فَنَفَرَ بِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طواف زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ فَقِيلَ لَهَا وَكَانَتْ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کاش! میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کر لیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اس کی اجازت لے رکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى أَقُولَ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرْجِعُ نِسَاؤُكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ لَيْسَ مَعَهَا عُمْرَةٌ فَأَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْبَطْحَاءِ وَأَمَرَهَا فَخَرَجَتْ إِلَى التَّنْعِيمِ وَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَحْرَمَتْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَتَتْ الْبَيْتَ فَطَافَتْ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصَّرَتْ فَذَبَحَ عَنْهَا بَقَرَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤںگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خاطر بطحاء میں رک گئے اور اپنے بھائی عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم روانہ ہو گئیں، وہاں عمرے کا احرام باندھا اور بیتُ اللہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور قصر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے گائے ذبح کی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ أَيْ أُمَّهْ كَيْفَ كَانَ صِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَلَمْ أَرَهُ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَرَوْحٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ يُوتِرُ بِسَجْدَةٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کو نماز گیارہ رکعتوں پر مشتمل ہوتی تھی اور ایک رکعت پر وتر بناتے تھے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنِ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَبْطَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَبَسَكِ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ قَالَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے میں تاخیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! تمہیں کس چیز نے رکے رکھا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے اچھی تلاوت کرنے والا نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یااللہ کا شکر جس نے میری امت میں تم جیسا آدمی بنایا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ قَالَ نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورتیں پر بھی جہاد فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں قتال نہیں ہے یعنی حج اور عمرہ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیص اور عمامہ نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحِي فَتَسْكُتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، میں نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أُنْكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَإِنَّ السُّلْطَانَ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہو جائے گا، اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ يَطْلُبُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجِهَادِ فَقَالَ بِحَسْبِكُنَّ الْحَجُّ أَوْ قَالَ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازورں کے متعلق مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ لِي رُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں سوجاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا بعض اوقات سونے سے پہلے غسل کرلیتے تھے اور بعض اوقات غسل سے پہلے سوجاتے تھے البتہ وضو کرلیتے تھے، میں نے کہا اس اللہ کا شکر ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا ( اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ مِنْ بَيْنِ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بخدا میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے، اور حبشی صحن میں کرتب دکھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وہ کرتب دکھانے کے لئے اپنی چادر سے پردہ کرنے لگے، میں ان کے کانوں اور کندھے کے درمیان سر رکھے ہوئے تھی، پھر وہ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی واپس چلی گیئں، اب تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ فَيَأْتِينِي صَوَاحِبِي فَإِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْنَ مِنْهُ فَيَأْخُذُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّهُنَّ إِلَيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی، میری سہیلیاں آ جاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہو جاتیں، اور جو ںہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مِنْهُ بِالْمُعَوِّذَاتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں"معوذات" پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْغَيْثَ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ الْبِرُّ كَذَلِكَ الْبِرُّ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَرَضٍ أَوْ وَجَعٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِذَنْبِهِ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا أَوْ النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت یا بیماری پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ قَالَتْ فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ وَهُوَ مَعِي فِي الْمِرْطِ ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ وَجَلَسَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُثْمَانُ فَكَأَنَّكَ احْتَفَظْتَ فَقَالَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي لَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ خَشِيتُ أَنْ لَا يَقْضِيَ إِلَيَّ حَاجَتَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ میں ان کے ساتھ ایک چادر میں بیٹھی ہوئی تھی، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ سے ابوبکروعمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں، اگر میں انہیں اسی حال میں آنے کی اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت (جس کے لئے وہ آئے تھے) پوری نہ کر پاتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي زَوْجًا وَلِي ضَرَّةً وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي أَقُولُ أَعْطَانِي كَذَا وَكَسَانِي كَذَا وَهُوَ كَذِبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ! میری شادی ہوئی ہے لیکن میرے شوہر کی ایک دوسری بیوی یعنی میری سوکن بھی ہے، بعض اوقات میں اپنے آپ کو اپنے شوہر کی طرف سے اپنی سوکن کے سامنے بڑا برا ظاہر کرتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ اس نے مجھے فلاں چیز دی اور فلاں کپڑا پہنایا تو کیا یہ جھوٹ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ ملنے والی چیز سے اپنے آپ کو سیراب ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا قَالَتْ نَعَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا سُرِّيَ عَنْهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ إِلَى رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم باربار گھر میں داخل ہوتے اور باہر جاتے اور آگے پیچھے ہوتے، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہو چکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں دردناک عذاب تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی قرات سنی تو فرمایا انہیں آل داؤد کی خوش الحانی کا ایک حصہ دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلَهَا رَجُلٌ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ مِنْ اللَّيْلِ إِذَا قَرَأَ قَالَتْ نَعَمْ رُبَّمَا رَفَعَ وَرُبَّمَا خَفَضَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً قَالَ فَهَلْ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی نے پوچھا یہ بتائیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرات فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَإِذَا فَجَرَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور جب صبح ہو جاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ موذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ وَكَانَ جَارًا لَهُ أَخْبَرَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے اور پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے، جب وہ کمزور ہوگئے تو سات رکعتوں پر وتر بناتے اور بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت حاضر ہوئے۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات نماز پڑھتے، ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے، پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے، پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ فَذَكَرَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَإِنَّهُ لَيُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ قَالَتْ وَكَانَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اسی وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہو جائے ( اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ وَهِيَ دُونَ قِرَاءَتِهِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ وَأَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا وَزَادَ قَالَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَتَصَدَّقُوا وَصَلُّوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوی میں سورج گرہن ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا، اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہو گیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شمس و قمر کو کسی کی موت یا حیات سے گہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم یہ دیکھو تو نماز کی طرف فورا متوجہ ہوجایا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْهَا أَنَّهُمَا شَرَعَا جَمِيعًا وَهُمَا جُنُبٌ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہارے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الْمُعْتَكِفِ وَكَيْفَ سُنَّتُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ وَهُوَ حَيٌّ قَالَ يَرَوْنَ أَنَّهُ فِي الْإِثْمِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَظُنُّهُ قَوْلَ دَاوُدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَرْسَلَتْ هِيَ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ مُرُّوا بِهِ عَلَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى عَلَيْهِ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ النَّاسِ حِينَ يُنْكِرُونَ هَذَا فَوَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَهْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ الْمَوْتُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ هَذَا الْحَدِيثُ هُوَ هَكَذَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَفِي الِاعْتِكَافِ عَنْ عَائِشَةَ وَحْدَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتی کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا قَطُّ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ
عروہ بن زیبر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں جب بھی عصر کے بعد آئے، تو دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبِي وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعْتُ أَهْلَ عَائِشَةَ يَذْكُرُونَ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْإِنْصَابِ لِجَسَدِهِ فِي الْعِبَادَةِ غَيْرَ أَنَّهُ حِينَ دَخَلَ فِي السِّنِّ وَثَقُلَ مِنْ اللَّحْمِ كَانَ أَكْثَرُ مَا يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم کو عبادت میں بہت زیادہ تھکا دیتے تھے، البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھنے لگی اور جسم مبارک گوشت سے بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى صَارَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھنے لگی اور جسم مبارک گوشت سے بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الْمُقْبِلَةَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ قَالَتْ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ نَاسٌ كَثِيرٌ حَتَّى كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّى كَادَ الْمَسْجِدُ يَعْجَزُ عَنْ أَهْلِهِ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ قَالَتْ حَتَّى سَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمْ اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجَزُوا عَنْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو گئے، صبح ہوئی تو لوگوں نے ایک دوسرے سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کو گھر سے نکلے تھے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھی تھی، چنانچہ اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق باہر تشریف لائے اور نماز پڑھنے لگے، لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہو گئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو "نماز، نماز" کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، تو حید و رسالت کی گواہی دی اور امابعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوچلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس سے عاجز آ جاؤ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرمادیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کر سکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ أَخْبَرَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ بِأَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ أَمَامَ الصُّبْحِ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ عَطَاءٍ مِرَارًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل کے معاملے میں فجر سے پہلے کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفلی نماز کو اتنی پابندی نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَاهِرُ فِي الْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ قَالَتْ فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا قَالَتْ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کا خاوند آزاد آدمی تھا، جب بریرہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خیار عتق دے دیا، اس نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں کہ اس کے مالک اسے بیچنا چاہتے تھے لیکن ولاء کی شرط نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، اگر وہ آزاد ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ کو کبھی اختیار نہ دیتے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْمِخْضَبَ فَيَغْتَسِلُ مِنْهُ مِنْ الْجَنَابَةِ بَعْدَمَا يُصْبِحُ ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ ذَلِكَ صَائِمًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹب کے پاس آکر اس سے غسل فرماتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پاس سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مُغْتَسَلِهِ حَيْثُ يَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل خانے سے باہر نکل آتے تو اس کے بعد پاؤں دھوتے تھے ( کیونکہ غسل کرنے کی جگہ میں غسل کا پانی کھڑا ہوتا تھا)
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانُ الْكَيِّ التَّكْمِيدُ وَمَكَانُ الْعِلَاقِ السَّعُوطُ وَمَكَانُ النَّفْخِ اللَّدُودُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا داغ کے ذریعے علاج کرنے کی بجائے، ٹکور کی جائے، گلے اٹھانے کی بجائے، ناک میں دوا ڈالی جائے اور جھاڑ پھونک کی بجائے منہ میں دوا ڈالی جائے، (یہ چیزیں متبادل کے طور پر موجود ہیں)
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ فَأُلْقُوا فِي الطُّوَى عُتْبَةُ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ جَزَاكُمْ اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ا ن لوگوں یعنی عقبہ اور ابوجہل وغیرہ کے پاس سے گذرے جنہیں کنویں میں پھینک دیا گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا اللہ تمہیں نبی کی قوم کی طرف سے بدترین بدلہ دے، یہ لوگ کتنے برے طریقے سے بھگانے والے اور کتنی سختی سے تکذیب کرنے والے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہھم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میری بات ان سے کچھ زیادہ نہیں سمجھ رہے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِغُ يَمِينَهُ لِمَطْعَمِهِ وَلِحَاجَتِهِ وَيُفْرِغُ شِمَالَهُ لِلِاسْتِنْجَاءِ وَلِمَا هُنَاكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ضروریات کے لے تھا اور بایاں ہاتھ استنجاء وغیرہ کرنے کے لئے۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ إِلَى الْحُجْرَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَافَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ایام کی حالت میں تہبند باندھ لیتی تھی اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاف میں گھس جاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مُرُوا أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ قَالَ بَهْزٌ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، ہمیں خود بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ أَفَاضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَرَاقَّهُ حَتَّى إِذَا أَنْقَى أَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الطَّهُورَ وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اچھی طرح دھوتے، شرمگاہ دھوتے، پھر دیوار پر ہاتھ مل کر اسے دھوتے، پھر وضو فرماتے تھے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَيَخْتِمُهَا بِالتَّسْلِيمِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرات کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنِ النَّخَعِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ فَنَفْتِلُ لَهَا قَلَائِدَهَا ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ قَالَ تَقُولِينَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتایئے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ عَنْ كَهْمَسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا قَالَتْ بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فَقَالَتْ الْمُفَصَّلَ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ يَزِيدُ يَقْرِنُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الا یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آتے، میں نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سورتیں نماز میں پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا مفصلات، میں نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہینہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو اور یہ معمول تا دم آخر چلتا رہا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِىءٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا وَكَانَ مِنْهُ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ فَإِنَّهُ لَا يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
شریح حارثی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہوئیں جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَيُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ حَتَّى أَقُولَ دَعْ لِي دَعْ لِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لیے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ قَالَتْ نَعَمْ وَيُزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ قَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَوْعِيَةِ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَانِدٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک دشمن رگ کا خون ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرٌ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهَا فَقَالَ أَخِّرِيهِ عَنِّي قَالَتْ فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اسے دور کرو، چنانچہ میں نے اسے وہاں سے ہٹا لیا اور اس کے تکیے بنا لیے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ وَخُيِّرَتْ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا فَقَالَ لَا أَدْرِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولاء اپنے لئے مشروط کرلی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کرو، کیونکہ غلام کی وراثت اس کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کر دیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے، اور اس کی طرف سے تمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد آدمی تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ وَكَيْفَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا قَالَ كَانَ يَخْرُجُ مَعَ خَالِهِ الْأَسْوَدِ قَالَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَائِشَةَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ
ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے جاتے تھے اور ان کے گھر میں داخل ہوجاتے تھے، راوی نے پوچھا کہ ابراہیم نخعی ان کے یہاں کیسے چلے جاتے تھے؟ انہوں جواب ملا کہ وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے اور اسود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان عقد مواخات و مودت قائم تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ أَقُولُ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں"
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ قُلْنَا لِعَائِشَةَ إِنَّ فِينَا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ قَالَ فَقُلْتُ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَتْ كَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مسرق حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی ہیں، ان میں سے ایک صحابی افطار میں بھی جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی، جبکہ دوسرے صحابی افطار میں بھی تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی " انہوں نے فرمایا کہ افطار اور نماز میں عجلت کون کرتے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے، اور دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے اور پاکیزہ کمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَفَكَانَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ فَنَاوَلْتُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں اس کا کوئی مقام و مرتبہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ حَجَّاجٌ عَنْ رَجُلٍ قَالَ دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَنْتُنَّ اللَّاتِي تَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ سِتْرًا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ حَجَّاجٌ إِلَّا هَتَكَتْ سِتْرَهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر پنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کر دیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كَانَ يُؤْتَى بِإِنَائِهِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَصُبُّ مِنْ الْإِنَاءِ عَلَى فَرْجِهِ فَيَغْسِلُهُ ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَيَغْسِلُهَا ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو پہلے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرمگاہ کو اچھی طرح دھوتے، پھر اس ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے، تین مرتبہ چہرہ دھوتے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے، تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ فَتَتَّزِرُ ثُمَّ يُضَاجِعُهَا قَالَ هَذَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب میں وہاں سے اٹھنا چاہتی اور سامنے سے گذرنا اچھا نہ لگتا تو میں کھسک جاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَتْ دِيمَةً
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قَالَتْ إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ
ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ آپ کے پاس آپ کا غلام بے جھجک آتا ہے، لیکن مجھے اس کا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا، انہوں نے فرمایا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں آپ کے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے، حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے یہاں سالم کے آنے جانے سے (اپنے شوہر) ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے یہاں آسکے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْروِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كَانَتْ إِحْدَانَا حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ تَدْخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يُجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے، اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور درگذر فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ غَضِبَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي قَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، محسوس ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کر لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہو سکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! عذاب قبر برحق ہے، اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نماز بھی پڑھتے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں عذاب قبر سے پناہ مانگی
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ وَحَجَّاجٌ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَجَّاجٌ وَبَهْزٌ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ بَهْزٌ : ابْنُ وَرْدَانَ وَقَالَ حَجَّاجٌ مُجَاهِدُ بْنُ وَرْدَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ فَقَالَ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ قَالَ بَهْزٌ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مر گیا' اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِهِ فَقَالَ لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَهُ قَالَ فَسَأَلَ أَبِي عَائِشَةَ وَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْتَضِحُ طِيبًا
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا آدمی اپنے احرام پر (احرام کی نیت سے قبل) خوشبو لگا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایسا کرنے سے زیادہ پسند یہ کہ اپنے کپڑوں پر تار کول مل لوں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی مسئلہ پوچھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا جواب بھی ان سے زیادہ ذکر کردیا تو انہوں نے فرمایا ابوعبدالرحمن پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے، پھر صبح کو احرام کی نیت کر لیتے اور ان کے احرام سے خوشبو مہک رہی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ الْمَعْلُومَةَ مِنْ الشَّهْرِ فَقَالَتْ نَعَمْ
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہینے میں متعین دنوں کا روزہ رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں!
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ فَقَالَ وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَأَرَاهُمْ يَتَرَدَّدُونَ قَالَ الْحَكَمُ كَأَنَّهُمْ أَحْسَبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا أَحَلُّوا قَالَ رَوْحٌ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسَبُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو غصے کی حالت میں تھے، میں نے کہا یارسول اللہ! آپ کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ اللہ اسے جہنم رسید کر ے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی، میں نے لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا، پھر انہیں تردد کا شکار دیکھ رہا ہوں، اگر یہ چیز جواب میرے سامنے آئی ہے، پہلے آجاتی تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لاتا بلکہ یہاں آ کر خرید لیتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھولا جیسے لوگوں نے احرام کھول لیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولاء اپنے لئے مشروط کرلی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے، اور اس کی طرف سے تمہارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہذا تم اسے کھا سکتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد آدمی تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہیوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً وَقَدْ حَاضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَانْفِرِي إِذًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے بعد واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے خیمے کے دوازے پر غمگین اور پریشان دیکھا کیونکہ ان کے ایا م شروع ہو گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں ، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہو جاؤ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْروِ بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَجَّاجٌ ابْنُ عَوْفٍ و حَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ قَالَ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَبَّلَنِي قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ لِي سَعْدٌ طَلْحَةُ عَمُّ أَبِي سَعْدٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَ بَهْزٌ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سَعْدٌ وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ وَهِيَ حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا قَالَتْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ قَالَ رَوْحٌ إِنَّهُ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا "ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء کرام علیہ السلام اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے"۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا كَانَ مِنْ السَّحَرِ أَوْتَرَ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَإِلَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرما لیتے اور نماز کے لئے چلے جاتے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا قَالَا نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا كَانَ يَوْمُهُ الَّذِي يَكُونُ عِنْدِي إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے ، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِلْأَسْوَدِ حَدِّثْنِي عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ لَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے کوئی حدیث سناؤ، جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف تم سے ہی بیان کی ہو کیونکہ وہ بہت سی چیزیں صرف تم سے بیان کرتی تھیں اور عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی جس کا پہلا حصہ مجھے یاد ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کردیا تھا۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا بخدا اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق ہے۔
-
حَدَّثَنَا قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا قَالَتْ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے، اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَوَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَاخْرُجْنَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ کیا صفیہ نے تمہارے ساتھ طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر روانہ ہوجاؤ۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی"افلح" نے "جو ان کے رضاعی چچا تھے" آیت حجاب کے نزول کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نا محرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی البتہ میں پڑھتی ہوں۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَى أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رُدِّي هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَكَادَ يَفْتِنُنِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش ونگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو گئے ، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا۔ چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوچلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ اور یہ رمضان کی بات ہے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پھر صبح کی اذان سن کر دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا حَتَّى أَسَنَّ فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً ثُمَّ رَكَعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی "جتنی اللہ کو منظور ہوتی" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے رکوع میں جاتے تھے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی "جتنی اللہ کو منظور ہوتیں" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا قَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ثُمَّ قَالَتْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو یونس "جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں" کہتے ہیں مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کے لئے قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھ دوں اور فرمایا جب تم اس آیت حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى پر پہنچو تو مجھے بتانا، چنانچہ میں جب وہاں پہنچا تو انہیں بتا دیا، انہوں نے مجھے یہ آیت تو لکھوائی حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ اور فرمایا کہ میں نے یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجہ میں وہ عمل ان پر فرض ہو جائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں ) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہو نا زیادہ بہتر ہے۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلَاثِ أَنَّهَا عُتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کے حوالے سے تین قضیے سامنے آئے، وہ آزاد ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا ، اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا (اپنے خاوند سے نکاح ختم کر دیا) نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتاہے، اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہذا تم اسے کھا سکتے ہو۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ أُدْخِلُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی کی آواز آئی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا، میں نے عرض کے یارسول اللہ! یہ آدمی آپ کے گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ فلاں آدمی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا کی طرف تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر فلاں آدمی یعنی میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے پاس بھی آسکتا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیو نکہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٌ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنْ الْغَلَسِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعَنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي مِنْ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ النَّاسُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحَضِيرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر پر روانہ ہوئے ، جب ہم مقامِ بیداء یا ذات الحبیش میں پہنچے تو میرا ہار کہیں گر کر گم ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وہ ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا، اور لوگ وہاں رک گئے ، ادھر نماز کا وقت ہو گیا تھا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے دیکھئے تو سہی، عائشہ نے کیا کر دیا؟ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ رکوا دیا جہاں پانی نہیں ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو روک دیا جب کہ ان کے پاس پانی تک نہیں ہے، اور انہوں نے مجھے سخت ڈانٹا اور جو اللہ کو منظور ہوا ، وہ مجھے کہا اور اپنے ہاتھ میری کوکھ میں چبھونے لگے اور میں اپنی ران پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی وجہ سے حرکت بھی نہ کر سکی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی سوتے رہے اور صبح تک لوگوں کو پانی نہ ملا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما دیا، اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے آل ابی بکر یہ! تمہاری پہلی برکت نہیں ہے، وہ کہتی ہیں کہ جس اونٹ پر میں سوار تھی، جب اسے اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دیا، وہ بھی روزے سے تھے اور میں بھی۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبندے کے ساتھ حمام میں جا سکتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ كَانَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ عَنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہو اور وہاں رہنے والے بھوکے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ قَالَتْ أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ فَذَكَرَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے "ایام" اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَبْقَى عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا إِلَّا فِي شَعْبَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنْ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرِيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے اور حطیم کی جانب سے چھ گز زمین بیت اللہ میں شامل کردیتا، کیونکہ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ امْرِئٍ يَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ مِنْ اللَّيْلِ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سوجاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَا يَدَعُ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ خَالَتِهِ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنا قلادہ باندھتے تھے، پھر میرے والد کے ساتھ اسے بھیج دیتے ، اور ہدی کا جانور ذبح ہونے تک کوئی حلال چیز نہ چھوڑتے تھے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہو ا جب تک ان کے لئے عورتیں حلال نہیں کردی گئیں۔ فائدہ : دراصل یہ سورت احزاب کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ اب آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے ، بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ إِنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتِبَةً لِأُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَا فَأَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَهُمْ فَتُخْبِرَهُمْ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْتَاعَهَا فَأُعْتِقَهَا فَقَالُوا إِنْ جَعَلْتِ لَنَا وَلَاءَهَا ابْتَعْنَاهَا مِنْهَا فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمِرْجَلُ يَفُورُ بِلَحْمٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا قُلْتُ أَهْدَتْهُ لَنَا بَرِيرَةُ وَتُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا فَقَالَ هَذَا لبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ قَالَتْ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ انصار کے کچھ لوگوں کی "مکاتبہ" تھی، میں نے اسے خرید نے کا ارادہ کیا اور اس سے کہا کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ میں تمہیں خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں، وہ کہنے لگے کہ اگر آپ اس کی ولاء ہمیں دینے کا وعدہ کریں تو ہم اسے آپ کو بیچ دیتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولا اسی کو ملتی ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو ہنڈ یا میں گوشت ابل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہاں سے آیا؟ میں نے عرض کیا کہ بریرہ نے ہمیں ہدیہ دیا ہے اور اسے صدقہ میں ملا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بریرہ کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ غلام کے نکاح میں تھی، جب وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیتے ہوئے فرمایا کہ چاہو تو اسی غلام کے نکاح میں رہو اور چاہو تو جدائی اختیار کرلو۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیجے تھے، وہ ان کے پاس پہنچ چکے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ عَائِشَةَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ دَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ فَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ تُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے دو پہر گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع تشریف لے گئے، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "السلام علیکم دار قوم مومنین" تم لوگ ہم سے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ الْقَاسِمَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگر تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقِيلُو ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عام طور پر جرائم میں ملوث نہ ہونے والے افراد کی معمولی لغزشوں کی نظر انداز کر دیا کرو، الا یہ کہ حدود اللہ کا معاملہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ التَّارِكُ الْإِسْلَامَ وَالْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہوکر بدکاری کرے، یا قصاصاً قتل کرنا پڑے یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کردے اور جماعت سے جدا ہو جائے ۔گذشتہ حدیث اس سند سے حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي قَالَتْ أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ أَوْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ مِنْ عَذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ لَهُ مِنْ نَسَبٍ أَوْ رَحِمٍ قَالُوا لَا قَالَ أَعْطُوا مِيرَاثَهُ بَعْضَ أَهْلِ قَرْيَتِهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى أَهْلِ قَرْيَتِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مر گیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدُ لَبَّتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ .
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ الْأَمْرَ يَرْغَبُونَ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، بخدا میں ان سب سے زیادہ خدا کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَرِضَ يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں "معوذات" پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ أُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتَهُ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کر دیتی اور انسانی ضرورت کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر نہ آتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ إِثْمٌ فَإِذَا كَانَ فِيهِ إِثْمٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں اور ان میں سے ایک وتر پڑھتے تھے اور جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ قَالَتْ كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ غَمَزَنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ تَنَحَّيْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں پر چٹکی بھر دیتے اور مجھے پیچھے ہٹنے کے لئے فرما دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّهْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً تِسْعًا قَائِمًا وَثِنْتَيْنِ جَالِسًا وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ النِّدَاءَيْنِ يَعْنِي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَبَيْنَ الْإِقَامَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، نو رکعتیں کھڑے ہو کر اور دو بیٹھ کر، پھر صبح کی اذان سن کر دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ قُلْتُ يَا أُمَّهْ وَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے، اور ہمارے گزارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ قَالَتْ قُلْتُ وَهِيَ عِنْدِي قَالَ ائْتِينِي بِهَا فَجِئْتُ بِهَا وَهِيَ مَا بَيْنَ التِّسْعِ أَوْ الْخَمْسِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ بِهَا وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ إِنْ كُنْتُ لَأَتَّزِرُ ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب "ایام" سے ہوتی تو اپنی تہبند اچھی طرح باندھ لیتی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا قَامَ اغْتَسَلَ وَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ثُمَّ يَصُومُ بَقِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور وہ سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو غسل کرلیتے اور جس وقت باہر نکلتے تو ان کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے بقیہ حصے میں روزہ رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَبِمَ أَدْعُو قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے ، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ وَصَلَّى خَلْفَهُ نَاسٌ بِصَلَاتِهِ ثُمَّ نَزَلَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَكَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ كَثُرُوا فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ غَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَلَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فِي ذَلِكَ مَا شَأْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْزِلْ فَسَمِعَ مَقَالَتَهُمْ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ وَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْكُمْ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ قِيَامُ هَذَا الشَّهْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو گئے ، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہو گئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہو گئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو "نماز' نماز" کہتے ہوئے بھی سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے ، پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس سے عاجز آ جاؤ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ بِمَ أَدْعُو قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، لہذا مجھے بھی معاف فرمادے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا وَلَا يَدَعُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑ تے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُهُمَا قَالَتْ فَأَظُنُّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِنَحْوٍ مِنْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ سے فجر کی سنتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں مختصر پڑھتے تھے اور میر ا خیال ہے کہ اس میں سورت کافرون سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ قَالَ مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلَائِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ بِهِ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہو ا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ ک جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طوری پر وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ الْقَصَّابَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ قَامَ فَقَرَأَ قَدْرَ عَشْرِ آيَاتٍ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَكَعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی "جتنی اللہ کو منظور ہوتی" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو کر دس یا زیادہ آیات پڑھتے پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بُرْدٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ بَابُنَا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَفْتَحْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہو تا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے ، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ جا کر کھڑے ہو جاتے ، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ مَرْدُودٌ وَإِنْ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وہ شرط جوکتاب اللہ میں موجود نہ ہو ، وہ نا قابل قبول ہوگی، اگرچہ سینکڑوں مرتبہ اسے شرط ٹھہرا لیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا كُنْتُ أَدْعُو بِهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَوْ مَا كُنْتُ أَسْأَلُهُ قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والاہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ الْعَصْرَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ فَجَلَسَ مَعَهُ قَالَ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا قَالَ ذَاكَ مَا يُفْتِيهِمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا قَالَ فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا فَقَالَتْ لَمْ يَحْفَظْ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَذِهِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي فَسَأَلْتُهُ قُلْتُ إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا قَالَ إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَأَتَانِي بِلَالٌ فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا فَلَا نَدَعُهُمَا فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی ، نماز کے بعد انہوں نے کچھ لوگوں کو نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ، وہ اندر چلے گئے، اسی اثناء میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے جن کے ہمراہ میں بھی تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ساتھ تخت پر بٹھایا اور ان سے پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے جو میں نے لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کا حکم دیتے ہوئے ، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس کا فتویٰ دیتے ہیں ، اتنے میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر ! آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں یہ نماز پڑھی ہے۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ، یہ کیسی دو رکعتیں ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ ابن زبیر صحیح طرح یاد نہیں رکھ سکے، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یہاں عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں۔اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسیم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑ نا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ بخدا میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت ہی کرنا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنِ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں کہتے تھے اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے! تو بہت بابرکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ مَوْتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ وَكَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ الْيَوْمِ فَقَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَمًا فِي أُمَّتِي وَأَنِّي إِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعَلَمَ أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ وَأَسْتَغْفِرَهُ فَقَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! میں آپ کو کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والاہے، اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا پوری سورت تلاوت فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ قَالَ فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ نَسْأَلُهُمَا عَنْ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ قَالَ وَقَالَتْ الْأُخْرَى كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ قَالَ فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ قَالَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ
عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی ، مروان نے مجھ سے کہا یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتا دو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا، مروان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے خیال اور گمان پر فتویٰ دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ خَالِدٍ وَهِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ و حَدَّثَنَا عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي عَلِيًّا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ بِهِمَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں یہ سورتیں پست آواز سے پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَخْبَرَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ عُمَرُ مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلَا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ عِرَاكٌ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكِعَابُ مِنْ خِدْرِهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عید گاہ لے جایا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ حَفْصَةُ أَوْ هُمَا تَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہا سے یا دونوں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ فَانْسَلَلْتُ فَقَالَ لِي أَحِضْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكَ ثُمَّ عُودِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہو گئے ، اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، سو میں پیچھے کھسک گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہو گئے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایا م شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِسَابِ الْيَسِيرِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ فَقَالَ الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ وَلَا يُصِيبُ عَبْدًا شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَاصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میر ا حساب آسان کردیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے، عائشہ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہو جائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ فَقُلْتُ وَمَا هَذَا الْأَمْرُ قَالَتْ فَتَلَا عَلَيَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أُشَاوِرُ أَبَوَيَّ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ وَقَالَ سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ فَلَا تُخْبِرْهُنَّ بِالَّذِي اخْتَرْتُ فَلَمْ يَفْعَلْ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ ثُمَّ يَقُولُ قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں کو کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کو چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری دوسری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی چیز کھوں گا، میں نے عرض کیا کہ آپ انہیں اس چیز کے متعلق نہ بتائیے گا جسے میں نے اختیار کیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور وہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بتا کر کہتے تھے کہ عائشہ نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا لیکن ہم نے اسے طلاق نہیں سمجھا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ وَهِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى بَعْدَ أَنْ أَفَاضَتْ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَسَى أَنْ تَحْبِسَنَا قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ قَالَ فَلْتَنْفِرْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو منیٰ میں ہی ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہئیے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا أَمَةً وَلَا عَبْدًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری، اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتُجْزِئُ الْحَائِضُ الصَّلَاةَ قَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ حِضْنَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَجْزِينَ
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ازواجِ مطہرات کو "ایام" آتے تھے تو کیا انہیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا؟
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَيُّ سَاعَةٍ تُوتِرِينَ لَعَلَّهُ قَالَتْ مَا أُوتِرُ حَتَّى يُؤَذِّنُونَ وَمَا يُؤَذِّنُونَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَتْ وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَعَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَكُلُوا وَاشْرَبُوا فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ بِلَالًا لَا يُؤَذِّنُ كَذَا قَالَ حَتَّى يُصْبِحَ
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ وتر کس طرح پڑھتی ہیں؟شاید انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس وقت وتر پڑھتی ہوں جب مؤذن اذان دینے لگیں اور مؤذن طلوع فجر کے وقت اذان دیتے ہیں، نیز انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے، ایک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے عمروبن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن ام مکتوم اس وقت اذان دیتے ہیں جب رات باقی ہوتی ہے اس لئے اس کے بعد تم کھا پی سکتے ہو ، یہاں تک کہ بلال اذان دے دیں، تو ہاتھ اٹھا لیا کرو، کیونکہ بلال اس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک صبح نہیں ہوجاتی۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ عِنْدَ إِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہو نے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ يُحْرِمُ وَلِحِلِّهِ حِينَ يُحِلُّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وصَخْرٌ وَحَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا لِحُرْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہو نے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَيُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ وَعَطَاءً يَذْكُرُونَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْلَالِهِ وَعِنْدَ إِحْرَامِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَمْرَةَ عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى إِنِّي لَأَشُكُّ أَقَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَمْ لَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں"۔
-
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَكْتَنِينَ قَالَتْ بِمَنْ أَكْتَنِي قَالَ اكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کوئی کنیت کیوں نہیں رکھ لیتیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ کس کے نام پر کنیت رکھوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ ہوگئی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ الرِّبَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات "جو سود سے متعلق ہیں" نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے سامنے تلاوت فرمایا اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ وَأَعْتَقَ وَوَلِيِّ النِّعْمَةِ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا فَخُيِّرَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے، جو غلام کو آزاد کرے اور اس کا خاوند آزاد تھا، سو اسے اختیار دے دیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ يَوْمَ عِيدٍ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَطَّلِعُ مِنْ عَاتِقِهِ فَأَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے، میں انہیں دیکھتی رہی اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا اسے چھوڑ دو ، کیونکہ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنو عبدالمطلب، میں اللہ کے یہاں تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ مجھ سے جتنا چاہو مال لے لو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ طَلْحَةُ عَنْ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ إِلَى أَقْرَبِهِمَا بَابًا مِنْكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو وَمَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنِ الْمُطَّلِبِ يَعْنِي ابْنَ حَنْطَبٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پا لیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا قَالَ سُفْيَانُ عُلِمْنَ وَأَشُكُّ فِي الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ مُوَرِّثُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ نَعَمْ أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ لَهَا مِمَّ ذَاكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کھانا حرام قراد دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے، اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھا لیتے تھے، میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ الْمَعْنَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنْ الشَّمْسِ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنا دیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میدان منی میں تو جو آگے بڑھ جائے ، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگرچہ میں ایام سے ہوتی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کا بوسہ لے لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءٍ وَلَا نَقْضِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے "ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ قَالَ أَبُو كَامِلٍ أُمُّ حَبِيبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ فَقَالَ لَيْسَ هَذَا بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ فَتَعْلُو حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ ثُمَّ تُصَلِّي
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت حجش (جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں) سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ "معمول کے ایام" نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں، اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي تَرَجُّلِهِ وَفِي طُهُورِهِ وَفِي نَعْلِهِ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَوْ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں ، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُ
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا توا نہوں نے فرمایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مصروف ہو گئے، یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا، عصر کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر آخر دم تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ترک نہیں فرمایا، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے ہم یہ نماز پڑھتے تھے، بعد میں ہم نے اسے چھوڑ دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْقُرْآنُ
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم سورہ مائدہ پڑھتے ہوئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ یہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے، اس لئے تمہیں اس میں جو چیز حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو اس سورت میں حرام قرار دیا گیا ہو اسے حرام سمجھو، پھر میں نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا قرآن۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانَ ثُمَّ يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینے میں روزے رکھنا سب سے زیادہ محبوب تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں رہنے والے بھوکے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا وَقَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمَدْنَ إِلَى حُجَزِ أَوْ حُجُوزِ مَنَاطِقِهِنَّ فَشَقَقْنَهُ ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْهُ خُمُرًا وَأَنَّهَا دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الطُّهُورِ مِنْ الْمَحِيضِ فَقَالَ نَعَمْ لِتَأْخُذْ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَلْتَطَّهَّرْ ثُمَّ لِتُحْسِنْ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا ثُمَّ لِتُلْزِقْ بِشُؤُونِ رَأْسِهَا ثُمَّ تَدْلُكْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ طُهُورٌ ثُمَّ تَصُبَّ عَلَيْهَا مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ تَأْخُذْ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَلْتَطَّهَّرْ بِهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْنِي عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ تَتْبَعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ قَالَ عَفَّانُ ثُمَّ لِتَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا مِنْ الْمَاءِ وَلْتُلْصِقْ شُؤُونَ رَأْسِهَا فَلْتَدْلُكْهُ قَالَ عَفَّانُ إِلَى حُجَزٍ أَوْ حُجُوزٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " غسل حیض" کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر طہارت حاصل کرو ، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں "غسل جنابت" کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو، اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے ، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ صَدَقَةَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ابْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَتْ إِحْدَاهُمَا كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ
جمیع بن عمیر "جن کا تعلق بنوتیم اللہ بن ثعلبہ سے تھا" کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا، ان میں سے ایک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے وقت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو نماز والا وضو فرماتے تھے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہاتے تھے، اور ہم اپنی مینڈھیوں کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ مرتبہ پانی بہاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی
-
وَقَالَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنْ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم کہتے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهِ إِثْمٌ فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ک جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صَوْمِهِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہنیے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباًشعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو کہ جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو، اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ثُمَّ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں ، پھر وتر، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہوکر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَعْنِي قَصِيرَةً فَقَالَ لَقَدْ مَزَجْتِ بِكَلِمَةٍ لَوْ مُزِجَ بِهَا مَاءُ الْبَحْرِ مَزَجَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں، اور نہ اسے پسند کروں، میں نے کہہ دیا یا رسول اللہ! صفیہ تو اتنی سی ہے، اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے۔
-
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ يَعْنِي حَدِيثَ جَابِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ تَوَضَّأَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنْ الْأَيَّامِ شَيْئًا قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ كَانَ يُطِيقُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کر تے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حا لانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْتَرِي بَرِيرَةَ وَأَشْتَرِطُ لَهُمْ الْوَلَاءَ قَالَ اشْتَرِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ أَوْ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے بار گاہِ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! بریرہ کو آزاد میں کروں اور ولاء اس کے مالکوں کے لئے مشروط کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ الْعَشْرَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَسْنَدَهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے نہیں رکھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ قَالَ وَكِيعٌ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن کریم پر عمل فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ پر نظر نہیں ڈالی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَيُصْبِحُ صَائِمًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہی ہوتے، اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلادھار اور نفع بخش۔
-
حَدَّثَنَا عبدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالا نکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ فَيَأْمُرُ الَّذِي يَسُوقُهَا لَهُ مِنْ مَعْلَمٍ قَدْ أَمَرَهُ فَيُقَلِّدُهَا وَلَا يَزَالُ مُحْرِمًا حَتَّى يُحِلَّ النَّاسُ قَالَ فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہاں ایک آدمی جو خانہ کعبہ کی طرف ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے اور لے جانے والے سے کوئی علامت مقرر کرلیتا ہے، اس کے گلے میں قلادہ باندھتا ہے اور جب تک لوگ حلال نہیں ہو جاتے وہ بھی محرم بن کر رہتا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹاکرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کی ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے یہاں تک کہ لوگ واپس آجاتے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام "ابطح" میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا، اس لئے جو چاہے پڑاؤ کرلے ، اور جو چاہے نہ کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات "جو سود سے متعلق ہیں" نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے سامنے تلاوت فرمایا اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُحْرِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہوکر مقیم رہتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ الَّذِي هُوَ أَيْسَرُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا ثُمَّ يُقِيمُ عِنْدَنَا وَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَمِ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُحْرِمُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ غَنَمًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے اور جو کا م پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ قَالَ أَبِي و قَالَ وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ قَالَ يَحْيَى تَرَكَ شُعْبَةُ حَدِيثَ الْحَكَمِ فِي الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَسُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ الطِّيبَ قَالَ أَحَدُهُمَا فِي رَأْسِ أَوْ شَعَرِ وَقَالَ الْآخَرُ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبولگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ يَحْيَى أَمْلَاهُ عَلَيَّ هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَرْدَفَهَا فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ نَحْوَهُ قَالَ وَكِيعٌ وَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ قَالَ عُرْوَةُ فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے، اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ رَأَتْ عَائِشَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ يَتَوَضَّأُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَحْسِنْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ شَهِيدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے اور تمہارے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اسوہ حسنہ موجود ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہو، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ الْحَارِثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاكِ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا مسواک۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی، اور اس کا پانی پی لتیی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہو تا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مَا بَالَ مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلا عذر کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ وَمُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی بیوی کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیض اور عمامہ نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ أَوْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا قَالَ وَمَا شَأْنُهَا قُلْتُ حَاضَتْ قَالَ أَمَا كَانَتْ أَفَاضَتْ قُلْتُ بَلَى وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدُ قَالَ فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ فَنَفَرَ بِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد "ایام" آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ فَقَالَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْهُمْ فَطَلَّقَهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَتِي هَذِهِ فَقَالَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ أَوْ يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ هِشَامٌ شَكَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو قریظہ کی ایک عورت آئی جسے اس کے پہلے شوہر نے طلاق دے دی، پھر اس نے کسی اور سے شادی کر لی اور اس نے بھی اسے طلاق دے دی ، وہ عورت کہنے لگی کہ میرے دوسرے شوہر کے پاس تو اس کپڑے کے ایک کونے جیسی چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو، اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ شَكَّ يَحْيَى فِي ثَلَاثٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں تین مرتبہ پڑھتے تھےسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ فَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو، اور چاہو تو نہ رکھو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ أَغْتَرِفُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور اس سے چلو بھرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَأَقُولُ أَبْقِ لِي أَبْقِ لِي كَذَا قَالَ أَبِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ مَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرَةَ وَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ وَقَالَ نَعَمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَرَاهُ عَلَى ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَنِيَّ فَأَحُكُّهُ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً فَأَفْرُكُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر مادہ منویہ کانشان دکھائی دیتا تو اسے کھرچ دیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا يَعْنِي فِي فَرْكِ الْمَنِيِّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جَارَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ أَقْرَبُهُمَا مِنْكِ بَابًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ قَالَ قُلْتُ لِمِقْسَمٍ أُوتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي قَالَ لَا وَتْرَ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِيَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ وْ مُجَاهِدٍ فَقَالَا لِي سَلْهُ عَمَّنْ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ عَنِ الثِّقَةِ عَنْ عَائِشَةَ ومَيْمُونَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حکم کہتے ہیں کہ میں نے مقسم سے پوچھا میں تین رکعتوں پر وتر بنا کر نماز کے لئے جا سکتا ہوں تاکہ نماز فوت نہ ہو جائے؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر تو صرف پانچ یا سات رکعتوں پر بنائے جاتے ہیں، میں نے یہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ مقسم سے اس کا حوالہ پوچھو چنانچہ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ دو ثقہ راویوں کے حوالے سے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مجھ تک پہنچایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَإِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرات کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک سیدھے کھڑے نہ جاتے، اور جب ایک سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور ہر دو رکعتوں پر "التحیات" پڑھتے تھے، اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھالے، اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کو عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کر دیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يُحِلَّ إِذَا طَافَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ دُخِلَ عَلَيَّ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَاكَ لِلقَاسِمِ فَقَالَ جَاءَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ لِخَمْسٍ بَقِيَتْ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو، وہ اپنے احرام کو باقی رکھے، اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ حلال ہو جائے، دس ذی الحجہ کو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَنِي عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ قُلْتُ لَا آذَنُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی "افلح" نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ وَقَالَ وَكِيعٌ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ لَا قَالَ يَحْيَى لَيْسَ ذَلِكَ الْحَيْضُ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي قَالَ يَحْيَى قُلْتُ لِهِشَامٍ أَغُسْلٌ وَاحِدٌ تَغْتَسِلُ وَتَوَضُّؤٌ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ نَعَمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حیض نہیں، ایک رگ کا خون ہے اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي بِطَائِفَةٍ مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأَنْزِلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ قَدْ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَاحْتَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِي كَانُوا يَرْحَلُونَ بِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ قَالَتْ كَانَتْ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُهَبِّلْهُنَّ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرْ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا فَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ فَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُوا إِلَيَّ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ وَرَاءَ الْجَيْشِ فَأَدْلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيَّ الْحِجَابُ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي فَوَاللَّهِ مَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ وَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ كَيْفَ تِيكُمْ فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَمَا نَقِهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُتَّخَذَ الْكُنُفُ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا وَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ وَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَمَا قُلْتِ تَسُبِّينَ رَجُلًا قَدْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَتْ أَيْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ كَيْفَ تِيكُمْ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَبَوَيَّ فَقُلْتُ لِأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ أَيْ بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتْ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَيْهَا قَالَتْ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ لِيَسْتَشِيرَهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ قَالَتْ فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنْ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلْ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ قَالَتْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ قَالَ أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَقَدْ أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنْ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنْ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ قَالَتْ وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَاكَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَايَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي قَالَتْ فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي شَيْءٌ قَالَتْ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ ثُمَّ تُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ فَقَالَ مَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِأُمِّي أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنْ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ تُصَدِّقُونِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي قَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ وَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنْ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْيِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنْ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَاتِ بَرَاءَتِي قَالَتْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرِي وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ أَوْ مَا بَلَغَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ قَالَ بَهْزٌ قُلْتُ لَهُ ابْنُ كَيْسَانَ قَالَ نَعَمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ قَالُوا قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ آذَنَ لَيْلَةَ الرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ وَقَالَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ وَقَالَ يُهَبَّلْنَ وَقَالَ فَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي وَقَالَ قَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ وَيُحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ إِلَّا أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ كَانَ يُقَالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ وَقَالَتْ وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَقَالَ لَهَا ضَرَائِرُ وَقَالَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ وَقَالَ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ وَقَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ قَالَتْ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ وَقَالَ قَلَصَ دَمْعِي وَقَالَ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا وَقَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدًا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَإِسْنَادَهُ وَقَالَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ وَقَالَ يُهَبِّلُهُنَّ وَقَالَ تَيَمَّمْتُ وَقَالَ فِي الْبَرِّيَّةِ وَقَالَ لَهَا ضَرَائِرُ وَقَالَ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ وَقَالَ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَقَالَ قَلَصَ دَمْعِي وَقَالَ تُحَارِبُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تھے تو بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے تھے جس بیوی کا نام نکل آتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے ایک مرتبہ کسی جہاد کے موقع پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈالا تو میرا نکل آیا، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دی اور چونکہ پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا اس لئے میں ہودج کے اندر سوار تھی ہودج ہی اٹھایا جاتا تھا اور وہی اتارا جاتا تھا۔ (اسی طرح) ہم برابر چلتے رہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جہاد سے فارغ ہوکر واپس ہوئے اور واپس ہوکر مدینہ منورہ کے قریب آگئے تو ایک شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کا اعلان کیا۔ اعلان ہونے کے بعد میں اٹھی اور لشکر سے آگے بڑھ گئی اور رفع ضرورت کے بعد اپنے کجاوہ کے پاس آگئی، یہاں جو سینہ ٹٹول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ موضع ظفار کے پوتھ کا بنا ہوا میرا ہار کہیں ٹوٹ کر گر گیا۔ میں لوٹ کر ہار کی جستجو کرنے لگی اور ہار تلاش کرنے کی وجہ سے (جلد) واپس نہ ہو سکی ادھر جو لوگ مجھے کجاوہ پر سوار کرایا کرتے تھے انہوں نے میرے ہودج کو اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی اور ان کا خیال یہی ہوا کہ میں ہودج کے اندر موجود ہوں کیونکہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں بھاری بھر کم اور فربہ اندام نہ ہوتی تھیں کیونکہ عورتوں کی خوراک کم ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ اٹھاتے وقت لوگوں کو علم نہ ہو سکا اور میں تو ویسے ہی کم عمر لڑکی تھی۔لوگ اونٹ اٹھا کر چل دئے اور لشکر کے چلے جانے کے بعد مجھے ہار مل گیا۔ پڑاؤ پر لوٹ کر آئی تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ مجبوراً میں نے اسی جگہ پر بیٹھے رہنے کا قصد کیا جہاں اتری تھی۔ اور یہ خیال کیا کہ جب میں وہاں نہ ہوں گی تو لوگ میرے پاس لوٹ کر آئیں گے وہاں بیٹھے بیٹھے میں نیند سے مغلوب ہوکر سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سلمی لشکر کے پیچھے رہ گئے تھے۔ صبح کو میری جگہ پر آکر کسی کو سوتے ہوئے انسان کا بدن دیکھ کر انہوں نے مجھے پہچان لیا کیونکہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھے پہچان کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ میں ان کی آواز سن کر بیدار ہوگئی اور چادر سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اس کے علاوہ خدا کی قسم نہ میں نے کچھ کلام کیا نہ انہوں نے مجھ سے کوئی لفظ کہا۔ پھر انہوں نے جھک کر اپنا اونٹ بٹھا دیا اور اونٹ کے اگلے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھا (تاکہ اونٹ اٹھ نہ جائے) میں کھڑی ہوکر اونٹ پر سوار ہوگئی وہ مہار پکڑ کر آگے آگے اونٹ لے کر چل دیئے یہاں تک کہ کڑکتی دوپہر ہی میں ہم لشکر میں پہنچ گئے کیونکہ لشکر والے ایک جگہ پڑاؤ پر اتر گئے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد کچھ لوگ مجھ پر افترا بندی کرکے ہلاک ہو گئے اور اس طوفان کا اصل بانی منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مدینہ منورہ پہنچ کر میں ایک مہینہ کے لئے بیمار ہوگئی اور لوگ طوفان انگیزوں کے قول کا چرچا کرتے تھے اور مجھے اس کا علم نہ تھا ہاں بیماری کی حالت میں مجھے شک ضرور ہوتا تھا کیونکہ جو مہربانیاں گذشتہ بیماریوں کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھتی تھی وہ اس بیماری میں نہیں دیکھتی تھی، صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر سلام کرکے اتنا پوچھ لیتے تھے کہ تمہارا کیا حال ہے اور یہ پوچھ کر واپس چلے جاتے تھے اس سے مجھے شک ضرور ہوتا تھا لیکن برائی کی مجھے کچھ اطلاع نہ تھی۔ آخر کار جب مجھے کچھ صحت ہوئی تو میں مسطح کی ماں کے ساتھ رفع ضرورت کے لئے خالی میدان کی طرف گئی کیونکہ میدان ہی رفع ضرورت کا مقام تھا اور صرف رات کے وقت ہی ہم وہاں جاتے تھے اور یہ ذکر اس وقت کا ہے جب کہ مکانوں کے قریب بیت الخلاء نہ ہوتے تھے جاہلیت کا طریقہ ہم کو بیت الخلاء بنانے سے تکلیف ہوتی تھی۔ ام مسطح ابورہم بن عبدالمطلب کی بیٹی تھی اور اثاثہ بن عباد بن مطلب کی بیوی تھی ام مسطح کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خالہ تھی جب ہم دونوں ضرورت سے فارغ ہو کر اپنے مکان کے قریب آئے تو ام مسطح کا پاؤں چادر میں الجھا اور وہ گرگئی، گرتے ہوئے اس نے کہا مسطح ہلاک ہو، میں نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہی ہو، کیا آپ ایک ایسے آدمی کو برا بھلا کہہ رہی ہو جو غزوہ بدر میں شریک تھا، اس نے کہا او بیوقوف لڑکی کیا تو نے مسطح کا قول نہیں سنا؟ میں نے کہا مسطح کا قول کیا ہے؟توام مسطح نے مجھے افترا بندوں کے قول کی خبر دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ سن کر میری بیماری میں اور اضافہ ہو گیا، جب میں اپنے گھر آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سلام کہہ کر کے حال دریافت کیا تو میں نے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہاں جانے سے میری غرض یہ تھی کہ والدین سے یقینی خبر مجھے معلوم ہو جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے جا کر پوچھا اماں لوگ کیا چرچا کر رہے ہیں۔والدہ نے کہا بیٹی تم کو گھبرانا نہ چاہیے خدا کی قسم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو عورت خوبصورت ہوتی ہے اور اپنے شوہر کی چہیتی ہوتی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں ہمیشہ اس میں عیب نکالتی رہتی ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ لوگ! یہ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔ اس شب میں رات بھر روتی رہی صبح تک میرے آنسو نہ تھمے اور نہ آنکھوں میں نیند آئی اور صبح کو بھی میں روتی رہی ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا کیونکہ وحی میں توقف ہوگیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دو حضرات سے مشورہ کیا اور مجھے طلاق دینے کے متعلق دریافت کیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے میری پاک دامنی ہی بیان کی اور وہی مشورہ دیا جس کی محبت اہل بیت تقاضا کرتی تھی۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کر دیا کہ وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہم ان میں نیکی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا نے آپ کے لئے کوئی تنگی نہیں کی ہے اس کے سوا عورتیں بھی بہت ہیں۔ آپ باندی سے دریافت فرمائیے وہ آپ سے سچ سچ بیان کردے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلا کر فرمایا کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تجھے کبھی شک پڑا ہو۔ بریرہ نے کہا قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حقانیت کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے اس میں نکتہ چینی کے قابل کبھی کوئی بات نہیں دیکھی ہاں چونکہ وہ نوعمر لڑکی ہے آٹا چھوڑ کر سو جاتی تھی اور بکری آکر آٹا کھا جاتی تھی۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور منبر پر جا کر عبداللہ بن ابی سے معذرت کرنے کو فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: اے گروہ مسلمانان کون شخص میرا بدلہ لے سکتا ہے جس کی طرف سے مجھے اپنی بیوی کے متعلق تکلیف پہنچی ہے۔ خدا کی قسم میں اپنی بیوی میں نیکی کے سوا کچھ نہیں جانتا اور جس شخص کا لوگوں نے نام لیا ہے اس کوبھی میں نیک ہی جانتا ہوں اور وہ تو میرے گھر میں بغیر میری ہمراہی کے جاتا بھی نہ تھا۔ یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ لوں گا۔ اگر وہ (فتنہ پرور) قبیلہ اوس میں سے ہوگا تو میں اس کی گردن ماردوں گا اور اگر ہمارے خزرجی بھائیوں میں سے ہو گا تو جو آپ حکم دیں گے ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ یہ سن کر ایک شخص (سعد بن عبادہ) کھڑا ہوا یہ شخص حسان کی ماں کا رشتہ کا بھائی تھا اور قبیلہ خزرج کا سردار تھا اگرچہ یہ نیک آدمی تھا لیکن حمیت آگئی اور قوم کی حمیت کی وجہ سے کہنے لگا سعد تو جھوٹا ہے خدا کی قسم تو اس کو نہیں مارے گا اور نہ مار سکے گا اور اگر وہ تیری قوم میں ہوتا تو اس کے مارے جانے کو نہ چاہتا۔ ادھر سے سعد بن معاذ کا چچیرا بھائی اسید بن حضیر جواب دینے کو کھڑا ہوا اور سعد بن عبادہ سے کہا تو جھوٹا ہے خدا کی قسم ہم اس کو مارڈالیں گے یقینا تو منافق ہے کہ منافقوں کی طرف سے لڑتا ہے۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں قبیلے (اوس و خزرج) مشتعل ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہوگئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اس روز بھی دن بھر روتی رہی نہ آنسو بند ہوئے نہ آنکھوں میں نیند آئی اسی طرح دو راتیں اور ایک دن بغیر سوئے گزر گیا آنکھ سے آنسو نہ تھمتا تھا اور میرا خیال تھا کہ رونے سے میرا جگر پھٹ جائے گا۔ صبح کو میرے والدین میرے پاس آئے وہ بیٹھے ہی تھے کہ ایک انصاری عورت نے آنے کی اجازت طلب کی میں نے اجازت دے دی وہ بھی آ کر میرے ساتھ رونے لگی تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور السلام علیکم کرکے بیٹھ گئے وہ تہمت کے دن سے اس وقت تک میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اس وقت آکر بیٹھے اور ایک مہینہ تک میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نہ ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑھا اور حمدوثناء کے بعد فرمایا عائشہ! میں نے تیرے حق میں اس قسم کی باتیں سنی ہیں اگر تو گناہ سے پاک ہے تو عنقریب خدا تعالیٰ تیری پاک دامنی بیان کردے گا اور اگر تو گناہ میں آلودہ ہو چکی ہے تو خداتعالیٰ سے معافی کی طالب ہو اور اسی سے توبہ کر کیونکہ بندہ جب گناہ کا اقرار کرکے توبہ کرتا ہے تو خداتعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ معاف کردیتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ کلام کر چکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے اور قطرہ بھی نہ نکلا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے حضرت کو جواب دیجئے۔ والد نے کہا خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے والدہ سے کہا تم جواب دو انہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا کی قسم میں نہیں جانتی کیا جواب دوں۔ میں اگرچہ کم عمر لڑکی تھی اور بہت قرآن بھی پڑھی نہ تھی لیکن میں کہا خدا کی قسم مجھے معلوم ہے کہ یہ بات آپ نے سنی ہے اور یہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اگر میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو عیب سے پاک کہوں گی تو آپ کو یقین نہیں آسکتا اور اگر میں ناکردہ گناہ کا آپ کے سامنے اقرار کروں (اور خدا گواہ ہے کہ میں اس سے پاک ہوں) تو آپ مجھ کو سچا جان لیں گے خدا کی قسم مجھے اپنی اور آپ کی مثال سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کوئی نہیں ملتی انہوں نے کہا تھا-فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون۔ یہ کہہ کر میں بستر پر جا کر لیٹ گئی خدا کی قسم مجھے اپنی براءت کا یقین تو تھا اور یہ بھی یقین تھا کہ خدا تعالیٰ میری براءت ظاہر فرمائے گا لیکن یہ خیال نہ تھا کہ خدا تعالیٰ میرے حق میں قرآن ( کی آیت ) نازل فرمائے گا جو (قیامت تک) پڑھی جائے گی کیونکہ میں اپنی ذات کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ خدا تعالیٰ میرے کسی امر کے متعلق کلام فرمائے گا۔ ہاں مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خواب ضرور نظر آئے گا جس میں خدا تعالیٰ میری پاک دامنی ظاہر فرمائے گا۔ لیکن خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور نہ گھروالوں میں سے کوئی باہر نکلا تھا کہ آپ پر اپنی کیفیت کے ساتھ وحی نازل ہوئی یہاں تک کہ چہرہ مبارک سے موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگا حالانکہ یہ واقعہ موسم سرما کا تھا جب وحی کی حالت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے سب سے پہلے یہ الفاظ فرمائے عائشہ خدا تعالیٰ نے تیری پاک دامنی بیان فرما دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تعظیم دے اور آپ کا شکریہ ادا کر کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ تیری پاک دامنی کا اظہار کیا۔ میں نے کہا خدا کی قسم میں نہیں اٹھوں گی اور نہ کسی کا شکریہ یا تعریف سوائے خدا کے کروں گی کیونکہ اسی نے میری پاک دامنی کا اظہار کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے میری برات کے متعلق یہ دس آیتیں نازل فرمائی تھیںِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مسطح بن اثاثہ کو رشتہ داری اور اس کی غربت کی وجہ سے مصارف دیا کرتے تھے لیکن آیت مذکورہ کو سن کر کہنے لگے خدا کی قسم اب میں کبھی اس کو کوئی چیز نہ دوں گا۔ اس پرخدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے خدا کی قسم میں دل سے چاہتا ہوں کہ خد ا تعالیٰ میری مغفرت فرما دے۔ یہ کہہ کر پھر مسطح کو وہی خرچہ دینے لگے جو پہلے دیا کرتے تھے اور فرمایا خدا کی قسم اب میں کبھی خرچ بند نہیں کروں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تھا کہ تم کو کیا علم ہے؟ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے آنکھ کان محفوظ رکھنا چاہتی ہوں،(تہمت لگانا نہیں چاہتی) میں نے ان میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہی (حسن و جمال میں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تما م بیویوں میں میرا مقابلہ کرتی تھی لیکن خوف خدا نے ان کو (مجھ پر تہمت لگانے سے) محفوظ رکھا لیکن ان کی بہن اس سے لڑتی ہوئی آئی (کہ تم نے تہمت کیوں نہ لگائی) چنانچہ جہاں اور افتراء انگیز تباہ حال ہوئے وہاں وہ بھی ہلاک ہو گئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ جب سفر پر جانے کا اراداہ کرتے تھے تو بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے تھے جس بیوی کا نام نکل آتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے........ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی کہ موضع ظفار کے پوتھ کا بنا ہوا میرا ہار کہیں ٹوٹ کر گر گیا، پڑاؤ پر لوٹ کر آئی تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ مجبوراًمیں نے اس جگہ پر بیٹھے رہنے کا قصد کیا جہاں اتری تھی، حضرت عروہ کہتے ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ عبداللہ بن ابی کے سامنے جب اس معاملہ کی گفتگو کی جاتی تھی تو وہ کان لگا کر سنتا تھا اور واقعہ کی تائید کرتا تھا اور اس کو شہرت دیتا تھا۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ افترا بندوں میں حسان بن ثابت مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش کے نام تو مجھے معلوم ہیں اور لوگوں کے نام میں جانتا نہیں اتنا ضرور ہے کہ افترا انگیزوں کی جماعت تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے اور اس کا بانی مبانی عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ عروہ کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے حسان کو برا کہا جائے اور فرماتی تھیں کہ یہی وہ شخص ہے جس نے یہ شعر کہا تھا ۔ " میرا باپ میرا دادا اور میری آبرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تم لوگوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے"۔ یہ ذکر اس وقت کا ہے جب کہ مکانوں کے قریب بیت الخلاء نہ ہوتے تھے جاہلیت کا طریقہ ہم کو بیت الخلاء بنانے سے تکلیف ہوتی تھی۔ چونکہ وہ نوعمر لڑکی ہے وہ نوعمر لڑکی ہے آٹا چھوڑ کر سو جاتی تھی اور بکری آکر آٹا کھا لیتی تھی۔ یہ سن کر سعد بن عبادہ کھڑا ہوا یہ شخص حسان کی ماں کا رشتہ کا بھائی تھا اور قبیلہ خزرج کا سردار تھا اگرچہ یہ آدمی نیک تھا لیکن حمیت آگئی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ کلام کر چکے تو میرے آنسو بالکل تھم گئے۔ ان کی بہن ان سے لڑتی ہوئی آئی (کہ تم نے تہمت کیوں نہ لگائی ) چنانچہ جہاں اور افتراء انگیز تباہ حال ہوئے وہاں وہ بھی ہلاک ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہ شخص جس پر تہمت لگائی گئی تھی، کہتا تھا قسم خدا کی میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا (نہ حلال طریقہ سے نہ حرام......) بعد میں وہ ایک جہاد میں شہید ہو گیا تھا۔ (٢٦١٤٣) گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مختلف الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَايَ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَلَمْ يَمْرُرْ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيْ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ قَدْ رَأَيْتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ أُرِيتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا حَرَّتَانِ فَخَرَجَ مَنْ كَانَ مُهَاجِرًا قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَ تَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ مِنْ وَرَقِ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسًا فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلَانٍ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدَاءٌ لَهُ أَبِي وَأُمِّي إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لَأَمْرٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَالصُّحْبَةَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَبَّ الْجِهَازِ وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ نِطَاقِهَا فَأَوْكَتْ الْجِرَابَ فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ فَمَكَثَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے جب سے ہو ش سنبھالا، اپنے والدین کو دین کی پیروی کرتے ہوئے ہی پایا اور کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ دن کے دونوں حصوں میں یعنی صبح شام رسول اللہ ہمارے گھر تشریف نہ لاتے ہوں۔ لیکن جب مسلمانوں کو زیادہ ایذا دی جانے لگی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سرزمین حبش کی طرف ہجرت کرنے کے ارادہ سے چل دیئے، مقام برک الغماد پر ابن دغنہ سردار قبیلہ قارہ ملا اور کہنے اے ابو بکر ! کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے................ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں ہی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرما دیا تھا کہ تمہاری ہجرت گاہ مجھے خواب میں دکھا دی گئی ہے جو دو پتھریلی زمینوں کے درمیان واقع ہے اور اس میں کجھور کے درخت بہت ہیں چنانچہ جن لوگوں نے مدینہ کو ہجرت کی انہوں نے تو کر ہی لی، باقی جو لوگ ترک وطن کرکے ملک حبش کو چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ کو لوٹ آئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تیاری کرلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ذرا ٹھہرو! امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کے میرے ماں باپ نثار، کیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی امید ہے؟ فرمایا ہاں! چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لینے کے لئے رک گئے اور دو اونٹنیوں کو کیکر کے پتے کھلا کر چار مہینے تک پالتے رہے۔ ایک روز دوپہر کی سخت گرمی کے وقت ہم مکان کے اندر بیٹھے تھے کہ کسی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم منہ لپیٹے ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا وقت نہ تھا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے والدین حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نثار، اس وقت کسی اہم کام کی وجہ سے تشریف لائے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی تو اندر تشریف لا کر فرمایا، ان پاس والے آدمیوں کو باہر کردو کیونکہ ایک پوشیدہ بات کرنا ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یہ تو صرف گھر والے ہی ہیں ارشادفرمایا مجھے یہاں سے ہجرت کر جانے کی اجازت مل گئی، حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے کہا کیا مجھے رفاقت کا شرف ملے گا؟ فرمایا: ہاں! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والدین نثار، ان دونوں اونٹنیوں میں سے آپ ایک لے لیجئے فرمایا میں مول لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے دونوں کے سفر کا سامان نہایت جلد تیار کردیا اور ایک تھیلا کھانے کا تیار کر کے رکھ دیا، اسماء نے اپنے کمر بند کا ٹکڑا کاٹ کر اس سے تھیلے کا منہ باندھ دیا، اسی وجہ سے ان کا نام ذات النطاق ہوگیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کوہ ثور کے غار میں چلے گئے اور تین رات دن تک وہیں چھپے رہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي مَلِيحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا فَقَدْ هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ هَذِهِ الْمُرَحَّلَاتِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ وَالْمِرْطُ مِنْ أَكْسِيَةٍ سُودٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ غَيْرُكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء شے تاخیر کر دی حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ مُسْتَتِرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةُ تَمَاثِيلَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ حَسَنَةُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ هَذِهِ فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ مَهْ مَهْ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَأَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ۔ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، بخدا اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤگے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمْ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلًا يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر آنے کی اجازت چاہی اور السَّامُ عَلَيْكُمْ کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا! اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے، انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے،وَعَلَيْكُمْ ( تم پر ہی موت طاری ہو)۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِيهِ قَدْرُ الْفَرَقِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے جس میں ایک فرق کے برابر پانی آتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ عَلَمٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلَاتِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہوکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے نقش ونگار نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ الشَّمْسُ مِنْ حُجْرَتِي طَالِعَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ أَوْ رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے"سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ"
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
-
قَالَتْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلوع و غروب کے وقت کا اہتمام کر کے اس میں نماز نہ پڑھا کرو۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ قَالَتْ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَطَيَّبْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ يَسْتَنُّ بِهِ فَثَقُلَتْ يَدُهُ وَثَقُلَ عَلَيَّ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مَرَّتَيْنِ قَالَتْ ثُمَّ قُبِضَ تَقُولُ عَائِشَةُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی ، اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گر گئی اور فرمایا " اللہم الرفیق الاعلیٰ " اور اس دم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کر گئی، بہر حال! اللہ کا شکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَالْأَنْصَارِيُّ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر "ذریرہ" خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طواف زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْتُلُوا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام النَّارَ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقْتُلُهُنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھپکلی کو مار دیا کرو، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر " اسے بھڑکانے کے لئے" پھونکیں مار رہی تھی، اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے مار دیا کرتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فَهُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد زمعہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمَيِّتِ مَيْتًا كَمِثْلِ كَسْرِهِ حَيًّا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ قُلْتُ أَبَيْنَهُمَا جُدُرُ الْمَسْجِدِ قَالَتْ لَا فِي الْبَيْتِ إِلَى جُدُرِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَلِمَاتٍ كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ قَالَ كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ وَيَذْكُرُهُنَّ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن طاؤس کہتے ہیں کہ ان کے والد نماز عشاء کے دوسرے تشہد میں چند کلمات کہا کرتے تھے اور انہیں بہت اہمیت دیتے تھے اور وہ کلمات یہ تھے " میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال کے شر سے "عذاب قبر سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں"۔ اور وہ ان کلمات کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ قَالَ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ قَالَ فَمَكَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ رَهْبَةً ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ فَقُلْتُ لَقَدْ حَدَّثَنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ قَالَ مَا هُوَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَحَدَّثَهُ عَنِّي أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے یہاں سالم کے آنے جانے سے (اپنے شوہر) حذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلاؤ، تم اس پر حرام ہو جاؤگی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ فَمَوْلًى وَأَخٌ فِي الدِّينِ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَيَرَانِي فُضُلًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهِ مِنْ الرَّضَاعَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہا نے سالم کو " جو ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے" اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنا لیا تھا، زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور اسے وراثت کا حق دار بھی قرار دیتے تھے، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی انہیں ان کے اباؤ و اجداد کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی ہے اگر تمہیں ان کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور آزاد کردہ غلام ہیں ۔اس کے بعد لوگ انہیں ان کے باپ کے نام سے پکارنے لگے جس کے باپ کا نام معلوم نہ ہوتا وہ دینی بھائی اور موالی میں شمار ہوتا، اسی پس منظر میں ایک دن حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کر دیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پانچ گھونٹ اپنا دودھ پلاؤ چنانچہ اس کے بعد سالم رضی اللہ عنہا ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ قَالَ رَوْحٌ أَبُو الْجُعَيْدِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ لَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَرَدَدْتُهُ فَقَالَ لِي هِشَامٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ قَالَ فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَوْ يَدُكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد (یا ابوالجعید یا ابوالقعیس) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَزَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ مَا شَاءَ قُلْتُ عَمَّنْ تَأْثُرُ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ ذَلِكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ عورتیں ا ن کے لئے حلال نہ کر دی گئیں۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَمَّةٍ لَهُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری اولاد تمہاری سب سے پاکیزہ کمائی ہے لہذا تم اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں سخت خوفزدہ ہو گئی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نے ہاتھ بڑھا کر محسوس کرنے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے ٹکرا گئے جو کھڑے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور یہ دعا فرما رہے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ وَدَخَلَ فِي عُمْرَةٍ مِنْ كُدًى
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی حصے سے داخل ہوئے تھے اور عمرے میں نشیبی حصے سے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَتَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات سردی کی صبح میں وحی نازل ہوتی تھی اور ان کی پیشانی پسینے سے تر ہو جاتی ۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خَلَائِلِهَا مِنْهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھ سے نکاح فرمانے سے تین سال قبل ہی وہ فوت ہو گئی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا بکثرت ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں لکڑی کے ایک عظیم الشان مکان کی خوشخبری دے دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا أَرَدْتِ الْحَجَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً فَقَالَ لَهَا حُجِّي وَاشْتَرِطِي فَقَالَ قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ضاعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، وہ کہنے لگیں کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میں بیمار ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کے لئے روانہ ہو جاؤ اور یہ شرط ٹھہرا لو کہ اے اللہ! میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں تو نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا اور وہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُولُ إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے گھر کے جس کمرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد کی قبریں تھیں، میں وہاں اپنے سر پر دوبٹہ نہ ہونے کی حالت میں بھی چلی جاتی تھی کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ یہاں صرف میرے شوہر اور والد ہی تو ہیں ، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی تدفین ہوئی تو بخدا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حیاء کی وجہ سے میں جب بھی اس کمرے میں گئی تو اپنی چادر اچھی طرح لپیٹ کر ہی گئی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہئے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہو جائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بے خبری میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ قَالُوا حَاضَتْ قَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ قَالُوا إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ قَالَ فَلَا إِذًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنْ الْبُكَاءِ قَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ مِنْ الْبُكَاءِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ صَوَاحِبَ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَالْتَفَتَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ فَقَالَتْ لَمْ أَكُنْ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں ، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، میں نے حفصہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو آہ و بکاء کی وجہ سے کچھ سنا نہیں پائیں گے اس لئے آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلا م پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) یہ سن کر حضصہ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ مجھے تم سے بھلائی حاصل نہیں ہوئی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَفِي تَرَجُّلِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے پھر کام میں وضو کرنے میں ، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَصُومُ يَعْنِي أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کیا یا سول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو ، اور چاہو تو نہ رکھو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ وَلَكِنْ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوءِ الصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو اختیار فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عُمَارَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی اولاد بھی اس کی پاکیزہ کمائی ہے لہذا ان کا مال تم رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَسُلَيْمَانُ وَحَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ قَالَ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ فَقُلْتُ الْجَرِّ أَوْ الْحَنْتَمِ قَالَ مَا أَنَا بِزَائِدِكَ عَلَى مَا سَمِعْتُ
ام المونین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِي عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَقْضِي لَهُ بِمَا يَقُولُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ فَلَا يَأْخُذْهَا
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کر دے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں، (اس لئے یاد رکھو! ) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، لہذا اسے چاہئے کہ وہ نہ لے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي أَشْعَثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدَّائِمُ مِنْ الْعَمَلِ قَالَ فَقُلْتُ أَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے ، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ قِيلَ فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي فَتَسْكُتُ قَالَ فَهُوَ إِذْنُهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، کسی نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَكِلْتَاهُمَا قَالَتَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَيَا مَرْوَانَ فَحَدَّثَاهُ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَّا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُمَاهُ فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرَاهُ قَالَ هُمَا قَالَتَاهُ لَكُمَا قَالَا نَعَمْ قَالَ هُمَا أَعْلَمُ إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ
عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ دونوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کر لیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتا دو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو یہ بات فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، البتہ وہ دونوں زیادہ بہتر جانتی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ فَيَغْتَسِلُ بَعْدَمَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ ثُمَّ يُتِمُّ صِيَامَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہو جاتا اور ان کا ارادہ روزہ رکھنے کا ہوتا تو وہ طلوع فجر کے بعد غسل کر کے اپنا روزہ مکمل کر لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُفْتِينَا أَنَّهُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صِيَامَ لَهُ فَمَا تَقُولِينَ فِي ذَلِكَ فَقَالَتْ لَسْتُ أَقُولُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَدْ كَانَ الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَأَرَى حَدَرَ الْمَاءِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يُصَلِّي الْفَجْرَ ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ان کی رائے معلوم کی، انہوں نے فرمایا میں تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، بعض اوقات مؤذن اذان دیتا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان پانی بہتے ہوئے دیکھتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور اس دن روزہ رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا تَعْنِي إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کفارہ ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي حَرَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز دو حفیف رکعتوں سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ الْحَيَّةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ سَوَاءٍ قَالَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ الْعَقُورُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں" فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل ، باؤلا کتا اور کوا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ كُرْسُفٍ يَعْنِي قُطْنًا قَالَتْ لَيْسَ فِي كَفَنِهِ قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دے گیا تھا جن میں کوئی قمیض اور عمامہ نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ قَالَ لَا اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ صَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ وَقَدْ قَالَ وَكِيعٌ اجْلِسِي أَيَّامَ أَقْرَائِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے کیا میں نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُجَاوِرٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي فَأَغْسِلُهُ وَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَتْلُو الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرمالیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَانِبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ عَلَيَّ مِرْطٌ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر " جو کہ ایام سے ہوتی تھیں" ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي رَكْعَةٍ قَالَتْ الْمُفَصَّلُ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا مفصلات۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا بَعْدَمَا دَخَلَ فِي السِّنِّ حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر " جتنی اللہ کو منظور ہوتی" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرُّوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، الا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے ہوں تو دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہو جاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ فَمَاتَ وَهُوَ يُوتِرُ بِالسَّحَرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَوَسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ وَسُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ فَذَكَرَهُمَا جَمِيعًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَيْقَظَنِي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُومِي فَأَوْتِرِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جگا کر فرماتے اٹھو اور وتر پڑھ لو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنَمْ فَلَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہئے ، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بے خبری میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ جَاءَ عَمَّارٌ وَمَعَهُ الْأَشْتَرُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ لَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ قَالَ بَلَى وَإِنْ كَرِهْتِ قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا الْأَشْتَرُ قَالَتْ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ أَرَدْتُ قَتْلَهُ وَأَرَادَ قَتْلِي قَالَتْ أَمَا لَوْ قَتَلْتَهُ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُحِلُّ دَمَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا إِحْدَى ثَلَاثَةٍ رَجُلٌ قَتَلَ فَقُتِلَ أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ، عمار اور اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان! انہوں نے فرمایا میں تیری ماں نہیں ہوں، اس نے کہا بخدا آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے ، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَصَابَتْهُ بُحَّةٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے مرض الوفات میں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا کہ اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء اکرام علیہ السلام اور صدیقین ، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت بہت عمدہ ہے" تو میں سمجھ گئی کہ انہیں اختیار دے دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور سب سے آخر میں بیٹھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَهَلْ كَانَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مبغوض آدمی وہ ہے جو نہایت جھگڑالو ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَهُوَ الرَّجُلُ يَزْنِي وَيَسْرِقُ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ قَالَ لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ وَيُصَلِّي وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت "الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ " کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بد کاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَكَذَّبْتُهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ حَتَّى تَسْمَعَ أَصْوَاتَهُمْ الْبَهَائِمُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی ، اور کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، وہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لوگوں کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے جنہیں درندے اور چوپائے سنتے ہیں۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ هَلَكَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ يَا عَائِشَةُ ذَاكَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ فَقَدْ هَلَكَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہو جائے گا، میں نے عرض کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی، اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا ، وہ تو عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ امْرَأَةً وَقَالَتْ مَرَّةً حَكَتْ امْرَأَةً وَقَالَتْ إِنَّهَا قَصِيرَةٌ فَقَالَ اغْتَبْتِهَا مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں، اور نہ اسے پسند کروں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَشَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا كَانَ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَا عُزِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کر دیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ فَصَلَّى
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ هَذَا غَاسِقٌ إِذَا وَقَبَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ ا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَقَالَ وَكِيعٌ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ أَوْ قَالَ وَهُوَ يَبْكِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نعش کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ قَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان ایک ایسے آدمی ہیں جن میں کفایت شعاری کا مادہ کچھ زیادہ ہی ہے، اور میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ گھر میں لاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کے مال میں سے اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو جائے لیکن یہ ہو بھلے طریقے سے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملالیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا قَطُّ وَلَا امْرَأَةً وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الا یہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شوال کے مہینے میں مجھ سے نکاح فرمایا اور شوال ہی میں مجھے ان کے یہاں رخصت کیا گیا، اب یہ بتاؤ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ کس بیوی کا حصہ تھا؟ (لہذا یہ کہنا کہ شوال کا مہینہ منحوس ہے، غلط ہے) اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند فرماتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی ماہ شوال ہی میں ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں موجود نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہوگی ، اگرچہ سینکڑوں مرتبہ اسے شرط ٹھہرا لیا جائے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بَيْتًا بِمِنًى يُظِلُّكَ قَالَ لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم منی میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنا دیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، میدان منی میں تو جو آگے بڑھ جائے ، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ الْبَيْتَ لَيْلًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لئے رات کے وقت تشریف لے گئے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَيْسَ نُزُولُ الْمُحَصَّبِ بِالسُّنَّةِ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقامِ " ابطح" میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ صَفِيَّةَ فَقَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ قَالَ فَلَا إِذًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہوگئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہماری نیت صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور ) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ تَعْنِي بَرِيرَةَ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے، اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں جہنم کے فتنے سے اور عذاب جہنم سے ، قبر کے فتنے سے اور عذاب قبر سے مالداری کے فتنے اور تنگدستی کے فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، میرے گناہوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ پیدا فرما دے ، اے اللہ ! میں سستی ، بڑھاپے ، گناھوں اور تاوان سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے ، جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو نا پسند کرتا ہے، اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَقَالَ أَنْتَ بِالْخِيَارِ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو، اور چاہو تو نہ رکھو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ الْمَعْنَى عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَأَخْبَأْنَا لَكَ مِنْهُ فَقَالَ أَدْنِيهِ فَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے ، اور روزے سے ہوتے، پھر پوچھتے کہ آج صبح کے اس وقت تمہارے پاس کچھ ہے جو تم مجھے کھلا سکو؟ وہ جواب دیتیں کہ نہیں، آج ہمارے پاس صبح کے اس وقت کچھ نہیں ہے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ پھر میں روزے سے ہی ہوں، اور کبھی آتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ دیتیں کہ ہمارے پاس سے کہیں سے ہدیہ آیا ہے جو ہم نے اپ کے لئے رکھا ہوا ہے اور حیس (ایک قسم کا حلوہ) ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے صبح تو روزے کی نیت کی تھی، پھر اسے تناول فرما لیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِكَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک بیوی کو روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے پھر وہ ہنسنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے ، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرےبِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ مُعَلَّمَةٌ وَكَانَ يَعْرِضُ لَهُ عَلَمُهَا فِي الصَّلَاةِ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ان کی سادہ چادر لے لی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ شَعَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے کنگھی کر دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَلِّدُهَا ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا مُقَلَّدَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكِ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! شفاء تیرے ہی قبضے میں ہے، اس بیماری کو تیرے علاوہ کوئی بھی دور نہیں کر سکتا "۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ بِمَ أَدْعُو قَالَ تَقُولِينَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
حضرت عائشہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يُدْرِكْ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ قَالَ أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک انصاری بچہ فوت ہو گیا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم انصار کا یہ نا بالغ بچہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہیں کو ئی بات کہنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پید ا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور یہ اسی وقت ہو گیا تھا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ يَحْيَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ بُهَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْفَالَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ إِنْ شِئْتِ أَسْمَعْتُكِ تَضَاغِيَهُمْ فِي النَّارِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ بچوں کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہیں جہنم میں ان کی چیخوں کی آوازیں سنا سکتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ عَلَّقْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ قَالَتْ فَهَتَكَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چاک کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَكَانَ اخْتَصَمُوا فِي عَبْدٍ اشْتَرَاهُ رَجُلٌ فَوَجَدَ بِهِ عَيْبًا وَقَدْ اسْتَغَلَّهُ فَقَالَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا قَالَ يَزِيدُ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام کا جواب دیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ سَمِعَهُ مِنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي قَالَ وَكِيعٌ الْغَثَيَانُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میر ا دل سخت ہو گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حلانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَتْ وَإِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ جَهِدَ النَّاسُ ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ گندم کے کھانے سے کبھی پیٹ نہیں بھرا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کر سکے ، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَسْوَدُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ قَالَ أَسْوَدُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ وَالْفَأْرَةُ فَاسِقَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ نافرمان جانور ہوتا ہے، اسی طرح بچھو ، کوا اور چوہا بھی نافرمان ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَ لَهَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ قَالَتْ وَهِلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمَا وَهِلَ يَوْمَ قَلِيبِ بَدْرٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ يَعْنِي الْكَافِرَ
کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کو اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، حضرت عائشہ فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہو گیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے، اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتَبَةً وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ نے اپنے مالک سے " مکاتب" کا معاملہ کر رکھا تھا اور اس کا شوہر ایک غلام تھا، لہذا جب وہ آزاد ہوئی تو اسے نکاح برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار مل گیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَأْثَمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے ، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا فَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، وہ ہاتھوں سے ٹٹولنے لگیں تو ان کے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو جا لگے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ پروردگار! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما ، اور اس کا تزکیہ فرما کیونکہ تو ہی سب سے بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور کار ساز ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ فَكَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ فِي الْبَيْتِ فَإِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَنَ فَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر جاتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی ، البتہ میں پڑھتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنْ الْخِضَابِ فَقَالَتْ لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ لِأَنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَاءَهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ قَالَ الْأَعْمَشُ رَقِيقٌ وَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي فَلَا يَسْتَطِيعُ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي فَلَا يَسْتَطِيعُ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں گے ، اس لئے آپ عمر کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا، ہم نے بھی اپنی بات دہرا دی ، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، تم تو یوسف والیاں ہو، چنانچہ میں نے والد صاحب کے پاس پیغام بھیج دیا۔کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مرض سے تحفیف محسوس ہوئی ، اور وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح نکلے کہ ان کے پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب محسوس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ہی رہو، اور خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک جانب بیٹھ گئے، اب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ ثَلَاثًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ دھویا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي الْوُضُوءِ وَالتَّرَجُّلِ وَالتَّنَعُّلِ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً الِانْتِعَالِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب امکان اپنے پھر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَكُنْتُ أَتَعَرَّقُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی ، اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا۔ اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عُرْوَةُ قُلْتُ لَهَا مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ قَالَ فَضَحِكَتْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لئے چلے گئے اور نیا وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ وہ آپ ہی ہو سکتی ہیں، تو وہ ہنسنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لئے چلے گئے اور نیا وضو نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی بہا دیا، دھویا نہیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى قَالَا لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ مَنْ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ فَمَنْ الْبِكْرُ قَالَتْ ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَمَنْ الثَّيِّبُ قَالَتْ سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ قَالَ فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَتْ انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَ وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ ارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ انْتَظِرِي وَخَرَجَ قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ قَدْ كَانَ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ مَوْعِدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ الْفَتَى فَقَالَتْ يَا ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ لَعَلَّكَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُهُ فِي دِينِكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ إِنْ تَزَوَّجَ إِلَيْكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ آقَوْلَ هَذِهِ تَقُولُ قَالَ إِنَّهَا تَقُولُ ذَلِكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ لِخَوْلَةَ ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ مَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ وَدِدْتُ ادْخُلِي إِلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَاكَ لَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَهُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ الْحَجِّ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَ فَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ قَالَ كُفْءٌ كَرِيمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ قَالَتْ تُحِبُّ ذَاكَ قَالَ ادْعُهَا لِي فَدَعَيْتُهَا قَالَ أَيْ بُنَيَّةُ إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمْ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْءٌ كَرِيمٌ أَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ادْعِيهِ لِي فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَجَاءَهَا أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنْ الْحَجِّ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ لَعَمْرُكَ إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فِي السُّنْحِ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَنَا وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ فَجَاءَتْنِي أُمِّي وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ تَرْجَحُ بِي فَأَنْزَلَتْنِي مِنْ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ بِي عِنْدَ الْبَابِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَجْلَسَتْنِي فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَتْ هَؤُلَاءِ أَهْلُكِ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِمْ وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكِ فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
ابو سلمہ رحمتہ اللہ علیہ اور یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں تو خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا " جو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور شوہر دیدہ بھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کنواری لڑکی کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے محبوب آدمی کی بیٹی یعنی عائشہ بنت ابی بکر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا شوہر دیدہ کون ہے، انہوں نے عرض کیا سودہ بنت زمعہ، جو آپ پر ایمان رکھتی ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور دونوں کے یہاں میرا تذکرہ کر دو۔چنانچہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سیدنا صدیق اکبر کے گھر پہنچیں اور کہنے لگیں اے ام رومان ! اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیرو برکت داخل کرنے والا ہے، ام رومان نے پوچھا وہ کیسے ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ابوبکر کے آنے کا انتظار کر لو، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت خولہ رضی اللہ عنہا اور ان کے درمیان بھی یہی سوال جواب ہوتے ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا جائز ہے؟ کیونکہ وہ تو ان کی بھتیجی ہے، خولہ رضی اللہ عنہا واپس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں جا کر کہہ دو کہ میں تمہارا اور تم میرے اسلامی بھائی ہو ، اس لئے تمہاری بیٹی سے میرے لئے نکاح کرنا جائز ہے، انہوں نے واپس آکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ جواب بتا دیا، انہوں نے فرمایا تھوڑی دیر انتظار کرو اور خود باہر چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد ام رومان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگا تھا، اور بخدا ابوبکر نے کبھی بھی وعدہ کر کے وعدہ خلافی نہیں کی تھی، لہذا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے مطعم بن عدی کے پاس گئے ، اس کے پاس اس کی بیوی ام الفتی بھی موجود تھی ، وہ کہنے لگی، اے ابن ابی قخافہ! اگر ہم نے اپنے بیٹے کا نکاح آپ کے یہاں کر دیا تو ہو سکتا ہے کہ آپ ہمارے بیٹے کو بھی دین میں داخل کر لیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے پوچھا کہ کیا تم بھی یہی رائے رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس کی بات صحیح ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل آئے اور ان کے ذہن پر وعدہ خلافی کا جو بوجھ تھا وہ اللہ نے اس طرح دور کر دیا اور انہوں نے واپس آکر خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے یہاں بلا کر لے آؤ، خولہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال تھی۔ اس کے بعد خولہ رضی اللہ عنہا وہاں سے نکل کر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں او ران سے کہا کہ اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیروبرکت داخل کرنے والا ہے ، سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا وہ کیسے ؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس اپنی جانب سے پیغام نکاح دیکر بھیجا ہے، انہوں نے کہا بہتر ہے کہ تم میرے والد کے پاس جا کر ان سے اس بات کا ذکر کرو، سودہ کے والد بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور ان کی عمر اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ وہ حج نہیں کر سکتے تھے، خولہ ان کے پاس گئیں اور زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق انہیں اداب کہا، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ بتایا کہ میں خولہ بنت حکیم ہوں، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟خولہ نے کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ نے سودہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا ہے، زمعہ نے کہا کہ وہ تو بہترین جوڑ ہے، تمہاری سہیلی کی کیا رائے ہے؟خولہ نے کہا کہ اسے یہ رشتہ پسند ہے، زمعہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ، خولہ نے انہیں بلایا تو زمعہ نے ان سے پوچھا پیاری بیٹی ! ان کا کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اسے تم سے اپنا پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے اور وہ بہترین جوڑ ہے تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ان سے تمہارا نکاح کر دوں؟ سودہ رضی اللہ عنہا نے حامی بھر لی ، زمعہ نے مجھ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لے آؤ ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور زمعہ نے ان سے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا، چند دنوں کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا، اسے اس رشتے کا علم ہوا تو وہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کہتے تھے تمہاری زندگی کی قسم ! میں اس دن بڑی بیوقوفی کر رہا تھا جب سودہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہونے پر میں اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم نے " مقام سخ" میں بنو حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لے آئے اور کچھ انصاری مرد و عورت بھی اکٹھے ہو گئے ، میری والدہ مجھے لے آئیں جبکہ میں دو درختوں کے درمیان جھولا جھول رہی تھی، اور میرے سر پر کسی وجہ سے بہت تھوڑے بال تھے، انہوں نے مجھے جھولے سے نیچے اتارا، مجھے پسینہ آیا ہوا تھا، اسے پونچھا اور پانی سے میرا منہ دھلایا، اور مجھے لے کر چل پڑیں ، حتیٰ کہ دروازے پر پہنچ کر رک گئیں ، میری سانس پھول رہی تھی ، جب میری سانس بحال ہوئی تو وہ مجھے گھر لے کر داخل ہو گئیں ، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ایک چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے، اور انصار کے کچھ مرووعورت بھی موجود تھے، میری والدہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بٹھا دیا اور کہنے لگیں کہ یہ آپ کے گھر والے ہیں ، اللہ آپ کو ان کے لئے اور انہیں آپ کے لئے مبارک فرمائے، اس کے بعد مردوعورت یکے بعد دیگرے وہاں سے جانے لگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں ہی میرے ساتھ تخلیہ فرمایا، میری اس شادی کے لئے کوئی اونٹ ذبح نہ ہوا اور نہ بکری ، تا آنکہ سعد بن عبادہ نے ہمارے یہاں ایک پیالہ بھیجا جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت بھیجتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے اور اس وقت میری عمر نو سال کی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ آيَةُ التَّخْيِيرِ قَالَ بَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ قَالَتْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ قَالَ اللَّهُ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ إِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا أُؤَامِرُ فِي ذَلِكَ أَبَوَيَّ أَبَا بَكْرٍ وَأُمَّ رُومَانَ قَالَتْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَقْرَأَ الْحُجَرَ فَقَالَ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقُلْنَ مِثْلَ الَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔الخ ۔ " میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں اور والدین سے مشورے کی ضرورت نہیں سمجھتی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور دیگر ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف چلے گئے اور فرمایا عائشہ نے یہ کہا ہے اور دیگر ازواج نے بھی وہی جواب دیا جو انہوں نے دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُحَنِّكُهُمْ وَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ فَبَالَ فِي حِجْرِهِ صَبِيٌّ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَ الْبَوْلَ الْمَاءَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچے کو لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ هَذِهِ فُلَانَةٌ وَهِيَ تَقُومُ اللَّيْلَ أَوْ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ قَالَ فَكَرِهَ ذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ، اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، بخدا اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَرْقُدُ عَلَيْهِ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ سَلَامٌ عَلَيْكَ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ أَشْيَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ ظُهْرًا فِي بَيْتِهِمْ وَلَيْسَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا ابْنَتَاهُ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ إِذَا هُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَكَانَ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمًا أَنْ يَأْتِيَ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ جَاءَ ظُهْرًا فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِلَّا أَمْرٌ حَدَثَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْبَيْتَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ عَيْنٌ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّحَابَةَ قَالَ الصَّحَابَةَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خُذْ إِحْدَى الرَّاحِلَتَيْنِ وَهُمَا الرَّاحِلَتَانِ اللَّتَانِ كَانَ يَعْلِفُ أَبُو بَكْرٍ يُعِدُّهُمَا لِلْخُرُوجِ إِذَا أُذِنَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ إِحْدَى الرَّاحِلَتَيْنِ فَقَالَ خُذْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارْكَبْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالملک بن مروان نے انہیں ایک خط لکھا جس میں ان سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے جواب میں لکھا " ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اما بعد! آپ نے مجھ سے کئی چیزوں کے متعلق پوچھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ اس دن وہ ظہر کے وقت اپنے گھر میں تھے، اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی صرف دو بیٹیاں عائشہ اور اسماء تھیں، اچانک سخت گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے، قبل ازیں کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ دن کے دونوں حصوں یعنی صبح شام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر نہ آتے ہوں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے والدین حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نثار، اس وقت کسی اہم کا م کی وجہ سے حضور تشریف لائے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی تو اندر تشریف لا کر فرمایا، ان پاس والے آدمیوں کو باہر کر دو کیونکہ ایک پوشیدہ بات کرنا ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یہ تو صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے ہی ہیں ارشاد فرمایا مجھے یہاں سے ہجرت کر جانے کی اجازت مل گئی ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا مجھے رفاقت کا شرف ملے گا؟ فرمایا : ہاں! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والدین نثار، ان دونوں اونٹنیوں میں سے آپ ایک لے لیجئے فرمایا میں مول لیتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا وَيُقِيمُ فِينَا حَلَالًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَصْدُرَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ إِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا فَقَالُوا إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَلْتَنْفِرْ إِذًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُكِ إِذَا كُنْتِ غَضْبَى وَإِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ وَإِذَا رَضِيتِ قُلْتِ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جاتا ہے اور جب تم راضی ہوتی ہو تو مجھے اس کا بھی پتا چل جاتا ہے، جب تم ناراض ہوتی ہو تو تم لا ورب ابراہیم کہتی ہو اور جب تم راضی ہوتی ہو تو لا ورب محمد کہتی ہو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہ سمجھتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هَارُونَ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت فروح وریحان راء کے ضمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ لَهَا إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ وَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ لَهُمْ فَذَكَرَتْهُ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلِي فَفَعَلَتْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدلِ کتابت ادا کر دیتی ہوں لیکن تمہاری وَلاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا ، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کر لیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگا لے ، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَعْنَى عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ فَلَا تُصَدِّقْهُ مَا بَالَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بات کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلا عذر کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ كَانَتْ امْرَأَةً ثَبْطَةً ثَقِيلَةً اسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ دَفْعِهِ مِنْ جَمْعٍ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں، کاش! میں نے بھی اس سے اجازت لے لی ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سُتِرْتُ بِنَمَطٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ قَالَتْ فَنَحَّاهُ قَالَتْ وَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آئے تو میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکایا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہٹا دیا ، پھر میں نے اس کے دو تکیے بنا لئے ۔
-
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ وَحِينَ رَمَى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَتْ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ تُرْضِعُونَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرا رضاعی بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کر لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہو سکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے ( جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے) ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ فَإِذَا قَامَ تَوَضَّأَ وَصَلَّى مَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَى أَهْلَهُ وَإِلَّا مَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَإِنْ كَانَ أَتَى أَهْلَهُ نَامَ كَهَيْئَتِهِ لَمْ يَمَسَّ مَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ أَوَّلِ الْأَذَانِ وَثَبَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ وَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَلَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے ، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرما لیتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد کی طرف چلے جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ الْمَعْنَى عَنْ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَكُونُ حَائِضًا فَآخُذُ الْعَرْقَ فَأَتَعَرَّقُهُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَأَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا ، میں ایام سے ہوتی ، اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اس طرح میں ایک ہڈی پکڑ کا اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٍ قَتَلَ فَقُتِلَ أَوْ رَجُلٍ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ رَجُلٍ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے ۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قُبِضَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیص اور عمامہ نہ تھا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَالْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ عَنِ الْبَهِيِّ قَالَ شَرِيكٌ قَالَ الْعَبَّاسُ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ فَسَكَتَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ فَسَكَتَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ عَلِيًّا فَسَكَتَ قُلْنَا أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ قَالَ بَلَى قَالَ أَرْسَلْنَا إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءَ فَخَلَا بِهِ فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے پاس بلاؤ، میں نے عرض کیا ابوبکر کو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا عمر کو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا علی کو؟ وہ پھر خاموش رہے، میں نے عرض کیا عثمان کو بلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہاں سے ہٹ جانے کے لئے فرمایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدلتا رہا۔
-
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُرِقَتْ مِخْنَقَتِي فَدَعَوْتُ عَلَى صَاحِبِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَبِّخِي عَلَيْهِ دَعِيهِ بِذَنْبِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بد دعائیں دیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کے دن طواف زیارت کو رات تک کے لئے مؤخر کر دیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ قَالَ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا "جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے" کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ خَازِنَ الْبَيْتِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ نَكْبَةٌ شَوْكَةٌ وَلَا وَجَعٌ إِلَّا رَفَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے باربار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں ، اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُسَمُّونَ أَوْ تَدْعُونَ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ سَجْدَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَيَأْتِيهِ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو وہ مختصر پڑھتے ، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے ، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی ، البتہ میں پڑھتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا مِنْ النَّاسِ مِنْ أَحَدٍ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ قَالَ وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ لَيْلَةً فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے، اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ دِقْرَةَ أُمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَتْ كُنَّا نَطُوفُ مَعَ عَائِشَةَ بِالْبَيْتِ فَأَتَاهَا بَعْضُ أَهْلِهَا فَقَالَ إِنَّكِ قَدْ عَرَقْتِ فَغَيِّرِي ثِيَابَكِ فَوَضَعَتْ ثَوْبًا كَانَ عَلَيْهَا فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا عَلَيَّ مُصَلَّبًا فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ قَالَتْ فَلَمْ تَلْبَسْهُ
دقرہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ طواف کر رہے تھے کہ ان کے پاس ان کے اہل خانہ میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو پسینہ آرہا ہے، کپڑے بدل لیجئے، چنانچہ انہوں نے اوپر کے کپڑے اتار دیئے ، میں نے ان کے سامنے اپنی چادر پیش کی چس پر صیلب کا نشان بنا ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کپڑے پر صلیب کا نشان دیکھتے تو اسے ختم کر دیتے تھے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ چادر نہیں اوڑھی ۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ بَلَغَ مَرْوَانُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَلَا يَصُومَنَّ يَوْمَئِذٍ فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَاكَ فَانْطَلَقَتْ مَعَهُ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ الْقَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَحَدِّثْهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَجَارِي وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِمَا يَكْرَهُ فَقَالَ أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَلْقَيَنَّهُ قَالَ فَلَقِيَهُ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَكَ بِمَا تَكْرَهُ وَلَكِنَّ الْأَمِيرَ عَزَمَ عَلَيَّ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ حَدَّثَنِيهِ الْفَضْلُ
ابو بکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا ، مروان کو پتہ چلا تو ایک مرتبہ اس نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کر لیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی ، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہا کو بتا دو، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں، میں اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتا کہ ان کے سامنے کوئی ناگوار بات رکھوں ، اس نے مجھے قسم دے دی، چنانچہ میں نے اس سے ملاقات کی اور انہیں بتا دیا کہ میں تو آپ کے سامنے اسے بیان نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن گورنر صاحب نے مجھے قسم دے دی تھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات مجھ سے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیا ن کی تھی۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ
حسن کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تو قرآن تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيْ أُمَّهْ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ لَمْ يَكُنْ يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ قَالَ أَتَيْنَا عَائِشَةَ لِنَسْأَلَهَا عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَاسْتَحَيْنَا فَقُمْنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهَا فَمَشَيْنَا لَا أَدْرِي كَمْ ثُمَّ قُلْنَا جِئْنَا لِنَسْأَلَهَا عَنْ حَاجَةٍ ثُمَّ نَرْجِعُ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهَا فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا جِئْنَا لِنَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ فَاسْتَحَيْنَا فَقُمْنَا فَقَالَتْ مَا هُوَ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا قُلْنَا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے "مباشرتِ صائم" کا حکم پوچھنے لگے ، لیکن ان سے پوچھتے ہوئے شرم آئی اس لئے ان سے پوچھے بغیر ہی کھڑے ہو گئے ، تھوڑی دور ہی چل کر گئے تھے " جس کی مسافت مجھے یاد نہیں" کہ ہمارے دل میں خیال آیا کہ ہم ان سے ایک ضروری بات پوچھنے کے لئے گئے تھے اور بغیر پوچھے واپس آگئے ، یہ سوچ کر ہم واپس آگئے اور عرض کیا ام المومنین ! ہم آپ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آئے تھے لیکن شرم کی وجہ سے پوچھے بغیر ہی چلے گئے تھے ، انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو، ہم نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ يَقْضِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنْ الْجَنَابَةِ قَالَ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ حَزَرَتْهُ صَاعًا بِصَاعِكُمْ هَذَا
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ غسل جنابت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا پانی کفایت کر جاتا تھا؟ اس پر انہوں نے ایک برتن منگوایا، میں نے اس کا اندازہ کیا تو وہ موجودہ صاع کے برابر ایک صاع تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ثُمَّ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعًا قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا قَالَتْ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا قُلْتُ كَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا قَالَتْ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے ، اور میرے گھر واپس آکر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، پھر عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے ، رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہوتے، رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور جب طلوع صبح صادق ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے ، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُبَايِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنْ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تَمَلُّ النَّاسُ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أَلْقَيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنْ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کے ایک واعظ " جس کا نام ابن ابی السائب تھا " سے فرمایا کہ تین باتیں ہیں جنہیں میرے سامنے ماننے کا اقرار کرو، ورنہ میں تم سے جنگ کروں گی، اس نے پوچھا وہ کیا؟ اے ام المومنین ! میں آپ کے سامنے ان کو تسلیم کرنے کا اقرار کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ دعا میں الفاظ کی تک بندی سے اجتناب کیا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایسا نہیں کرتے تھے، دوسرے یہ کہ جمعہ میں لوگوں کے سامنے صرف ایک مرتبہ وعظ کہا کرو، اگر نہ مانو تو دو مرتبہ ورنہ تین مرتبہ، تم اس کتاب سے لوگوں کو اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرو، اور تیسرے یہ کہ میں تمہیں کبھی اس طرح نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کے درمیان قطع کلامی کرنے لگو، بلکہ انہیں چھوڑے رکھو، اگر وہ تمہیں آگے بڑھنے دیں اور گفتگو میں شریک ہونے کا حکم دیں تب ان کی گفتگو میں شریک ہوا کرو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ يَقُولُهُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدئہ تلاوت میں فرمایا کرتے تھے" میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے قوت شنوائی و گویائی عطاء فرمائی اور یہ سجدہ بھی اس کی توفیق اور مدد سے ہوا ہے "۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے جن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ "تخلیہ" فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا فَقَالَ لَا أَبُوكَ أَبُوهَا قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ هُوَ عَمُّكَ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح" نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کر دیا کہ یار سول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے صرف سورت فاتحہ پڑھی ہو۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ بَعَثَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ أَوْ أَمْسَكْتُ وَقَطَعَ فَقَالَ الَّذِي تُحَدِّثُهُ أَعَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ فَقَالَتْ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مِصْبَاحٌ لَائْتَدَمْنَا بِهِ إِنْ كَانَ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایہ بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہو، اگر ہمارے پاس چراغ ہوتا تو اسی کے ذریعے سالن حاصل کر لیتے اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکارتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی "جتنی اللہ کو منظور ہوتی" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے ، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَإِذَا رُمْحٌ مَنْصُوبٌ فَقَالَتْ مَا هَذَا الرُّمْحُ فَقَالَتْ نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ ثُمَّ حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ جَعَلَتْ الدَّوَابُّ كُلُّهَا تُطْفِئُ عَنْهُ إِلَّا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَنْفُخُهَا عَلَيْهِ
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الصِّرَاطِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت " یوم تبدل الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ" کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَيَزِيدُ الْمَعْنَى قَالَا أَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّوَرَ قَالَتْ الْمُفَصَّلَ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا تَامًّا سِوَى رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا قُلْتُ أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ ثُمَّ عُمَرُ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ فَسَكَتَتْ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا مفصلات۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الا یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آئے ہوں۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہنیہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ اکرام میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ انہوں نے فرمایا عمر، میں نے پوچھا اس کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ تو وہ خاموش رہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ أَبِي قِلَابَةَ خُرُوجَ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَتْ الْكِعَابُ تَخْرُجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خِدْرِهَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عیدگاہ لے جایا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ أَنْ يَكْرَهَ الْمَوْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَكْرَهُهُ فَقَالَ لَا لَيْسَ بِذَاكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرَامَتِهِ فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يُحِبُّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ وَالْمُنَافِقَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهَوَانِهِ فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ يَكْرَهُ لِقَاءَهُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو نا پسند کرتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ناملنے کی ناپسندیدگی کا مطلب اگر موت سے نفرت ہے تو ہم میں بخدا ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ مراد نہیں بلکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندئہ مومن کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو ثواب اور عزت تیار کر رکھی ہوتی ہے وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چنانچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اسے اللہ سے ملنے کی چاہت ہوتی ہے اور اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی کافر کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو عذاب اور ذلت تیار کر رکھی ہوتی ہے، وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چنانچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادہ بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَيُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فَقَالَتْ مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنْ الْحُمَّةِ وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنْ الْكِيرِ
امیر سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ان دو آیتوں کا مطلب پوچھا " اگر تم اپنے دلوں کی باتوں کو ظاہر کر دیا یا چھپاؤ، دونوں صورتوں میں اللہ تم سے اس کا محاسبہ کرے گا " اور یہ کہ جو " شخص کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بد لہ دیا جائے گا " تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیتوں کے متعلق پوچھا ہے آج تک کسی نے مجھ سے ان کے متعلق نہیں پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے عائشہ! اس سے مراد وہ پے درپے آنے والی مصیبتیں ہیں جو اللہ اپنے بندے پر مسلط کرتا ہے، مثلاً کسی جانور کا ڈس لینا، تکلیف پہنچ جانا اور کانٹا چبھ جانا، یا وہ سامان جو آدمی آستین میں رکھے اور اسے گم کر بیٹھے ، پھر گھبرا کر تلاش کرے تو اسے اپنے پہلو کے درمیان پائے حتیٰ کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے، جیسے بھٹی سے سرخ سونے کی ڈلی نکل آتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ اسْتِقْبَالَ الْقِبْلَةِ بِالْفُرُوجِ فَقَالَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ قَالَتْ عَائِشَةُ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا حَوِّلُوا مَقْعَدَتِي نَحْوَ الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کر دو۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ حِضْتُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ قُلْتُ حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَتْ وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ فَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّيْتُ بِعُمْرَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہو گئے ہیں ، کاش ! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے ، وہ ایسا کر سکتا ہے ، الا یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ فَوَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور اون کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَلْقَتْ لَنَا وَسَادَةً وَجَذَبَتْ إِلَيْهَا الْحِجَابَ فَقَالَ صَاحِبِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ قَالَتْ وَمَا الْعِرَاكُ وَضَرَبْتُ مَنْكِبَ صَاحِبِي فَقَالَتْ مَهْ آذَيْتَ أَخَاكَ ثُمَّ قَالَتْ مَا الْعِرَاكُ الْمَحِيضُ قُولُوا مَا قَالَ اللَّهُ الْمَحِيضُ ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ وَأَنَا حَائِضٌ
یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اجازت طلب کی، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھا اور خود اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، پھر میرے ساتھی نے پوچھا کہ اے ام المومنین! " عراک" کے متعلق آپ کیا فرماتی ہیں! انہوں نے فرمایا عراک کیا ہوتا ہے؟ میں نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مارا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روکتے ہوئے فرمایا تم نے اپنے بھائی کو ایذا پہنچائی، پھر فرمایا عراک سے کیا مراد ہے؟ حیض، تو سیدھا سیدھا وہ لفظ بولو جو اللہ نے استعمال کیا ہے، یعنی حیض ، بعض اوقات میں حائضہ ہوتی تھی لیکن پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کو بوسہ دے دیا کرتے تھے اور میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پردہ حائل ہوتا تھا۔
-
ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِبَابِي مِمَّا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قُلْتُ يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ وَعَصَبْتُ رَأْسِي فَمَرَّ بِي فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا شَأْنُكِ فَقُلْتُ أَشْتَكِي رَأْسِي فَقَالَ أَنَا وَا رَأْسَاهْ فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ إِنِّي قَدْ اشْتَكَيْتُ وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ فَأْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ أَوْ صَفِيَّةَ وَلَمْ أُمَرِّضْ أَحَدًا قَبْلَهُ فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبَيَّ إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا فَجَاءَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَاسْتَأْذَنَا فَأَذِنْتُ لَهُمَا وَجَذَبْتُ إِلَيَّ الْحِجَابَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ فَقَالَ وَا غَشْيَاهْ مَا أَشَدُّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَا فَلَمَّا دَنَوَا مِنْ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ يَا عُمَرُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَبْتَ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَفَعْتُ الْحِجَابَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَا نَبِيَّاهْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَا صَفِيَّاهْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ وَا خَلِيلَاهْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ فَقَالَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ فَبَايَعُوهُ
پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب میرے گھر کے دروازے سے گزرتے تھے تو کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے تھے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچا دیتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو کچھ نہیں کہا، دو تین مرتبہ جب اسی طرح ہوا تو میں نے اپنی باندی سے کہا کہ میرے لئے دروازے پر تکیہ لگا دو، اور میں اپنے سر پر پٹی باندھ کر وہاں بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا عائشہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا میرے سر میں درد ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بھی سر میں درد ہو رہا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے ، تھوڑی دیر گزری تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ چادر میں لپیٹ کر اٹھائے چلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں رہے اور دیگر ازواج کے پاس یہ پیغام بھجوا دیا کہ میں بیمار ہوں اور تم میں سے ہر ایک کے پاس باری باری آنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لئے تم اگر مجھے اجازت دے دو تو میں عائشہ کے یہاں رک جاؤں؟ ان سب نے اجازت دے دی، اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کرنے لگی حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی کی تیماداری نہیں کی تھی۔ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک میرے کندھے پر رکھا ہوا تھا کہ اچانک سر مبارک میرے سر کی جانب ڈھک گیا میں سمجھی کہ شاید آپ میرے سر کو بوسہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے لعاب کا ایک قطرہ نکلا اور میرے سینے پر آٹپکا ، میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں سمجھی کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی ہے چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چادر اوڑھا دی، اسی دوران حضرت عمر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما آگئے ، انہوں نے اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دے دی، اور اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہا ہائے غشی! نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی کی شدت کتنی ہے، تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کھڑے ہوئے جب وہ دونوں دروازے کے قریب پہنچے تو مغیرہ بن شعبہ کہنے لگے اے عمر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ تم فتنہ پرور آدمی ہو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کی ختم نہ کر دے ۔تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی آگئے ، میں نے حجاب اٹھا دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر " اناللہ وانا الیہ راجعون" پڑھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔ پھر سرہانے کی جانب سے آئے اور منہ مبارک پر جھک کر پیشانی کو بوسہ دیا اور کہنے لگے ہائے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تین مرتبہ اسی طرح کیا اور دوسری مرتبہ ہائے میرے دوست اور تیسری مرتبہ ہائے میرے خلیل کہا، پھر مسجد کی طرف نکلے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے تقریر اور گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہ فرما دے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے" آپ بھی دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں"۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ کہ" محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی بہت رسول گذر چکے ہیں، کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے"۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں، مذکورہ آیات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا یہ آیات کتاب اللہ میں موجود ہیں؟ میرا شعور ہی اس طرف نہیں جاسکا کہ یہ آیت بھی کتاب اللہ میں ہی موجود ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو! یہ ابوبکر ہیں اور مسلمانوں کے بزرگ ہیں اس لئے ان کی بیعت کرلو، چنانچہ لوگوں نے ان کی بیعت کر لی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ صدیقہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ قَالَ فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوبصورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد کر طرف سے قربان کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعُ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسا ن سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے، اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ عَنِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ و قَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَسْوَدُ وَقَالَ مَرَّةً السُّدِّيُّ أَوْ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ وَذَاكَ أَنَّ ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ لَهُ فِي الْبَيْتِ إِنَّهُمْ يَذْكُرُونَهُ عَنْكَ عَنْ السُّدِّيِّ فَقَالَ السُّدِّيِّ أَوْ زِيَادٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ رَفَعَتْهُ قَالَتْ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِنْ تَتُوبَا لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات زینب بنت جحش کے پاس رک کر ان کے یہاں شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے یہ معاہدہ کر لیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں ، وہ یہ کہہ دے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس جب گئے تو اس نے یہ بات کہہ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور آئندہ کبھی نہیں پیوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنے اوپر ان چیزوں کو کیوں حرام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حلال قرار دے رکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " اگر تم دونوں (عائشہ اور حفصہ ) توبہ کرلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ نَامَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَصَامَ يَوْمَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کر لیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ قَالَتْ عَائِشَةُ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَاءَ رَائِبَةً قَالَتْ قُلْتُ لَا شَيْءَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَتُخْبِرِنَّنِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرَتْهُ قَالَ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي قُلْتُ نَعَمْ فَلَهَزَنِي فِي ظَهْرِي لَهْزَةً فَأَوْجَعَتْنِي وَقَالَ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ عَلَيْكِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ قَالَ نَعَمْ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ خُفْيَتَهُ مِنْكِ وَلَمْ يَكُنْ لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ جَلَّ وَعَزَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَتْ فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن کہا : کیا میں آپ کو اپنی اور اپنی ماں کے ساتھ بیتی ہوئی بات نہ سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر ٹھہرے کہ آپ نے گمان کر لیا کہ میں سو چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے جوتا پہنا اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو اہستہ سے بند کر دیا۔ میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہونے کو طویل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا ۔ پھر واپس لوٹے اور میں بھی لوٹی آپ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی۔ آپ دوڑے تو میں بھی دوڑی۔ آپ پہنچے تو میں بھی پہنچی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا : اے عائشہ ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے۔ میں نے کہا کچھ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بتا دو ورنہ مجھے باریک بین خبردار یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ کو دے دی۔ فرمایا میں اپنے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تو تھی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر (از راہ محبت) مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی پھر فرمایا تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ فرماتی ہیں جب لوگ کوئی چیز چھپاتے ہیں تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تونے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس لئے نہیں آئے کہ تونے اپنے کپڑے اتار دیئے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تو سو چکی ہے اور میں نے تجھے بیدار کرنا پسند نہ کیا میں نے یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی۔جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لئے مغفرت مانگیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو : " اللہ ہم سے جانے والوں پر رحمت فرمائے اور پیچھے جانے والوں پر ، ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں"۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةُ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلْتُ عَامِرًا فَقَالَ وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلْتُ بِلَالًا فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةٍ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم بیمار ہوگئے ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے" ۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں بلال سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ" فح" میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر" اور " جلیل" نامی گھاس ہوگی۔ " حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما، اور اسکی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً تِسْعًا قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى مِنْ الصُّبْحِ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے ، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ مَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں فجر کی دو رکعتوں کے ساتھ پڑھتے ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنًا دَمًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھر ا ہوا دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ قيسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَرَاةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ قَالَتْ بَلْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ
بنو سوارہ کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَثَرَ بِأُسْكُفَّةِ أَوْ عَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي عَنْهُ أَوْ نَحِّي عَنْهُ الْأَذَى قَالَتْ فَتَقَذَّرْتُهُ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ ثُمَّ يَمُجُّهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَكَسَوْتُهُ وَحَلَّيْتُهُ حَتَّى أُنْفِقَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گر پڑھے اور ان کے خون نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کی گندگی صاف کر دو، مجھے وہ کام اچھا نہ لگا تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چوسنے اور فرمانے لگے لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ الشِّعْرَ قَالَتْ رُبَّمَا تَمَثَّلَ شِعْرَ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَقُولُ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مِنْ لَمْ تُزَوِّدِ
شریخ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا " ۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْحَارِثِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ قَالَتْ فَبَدَا مَرَّةً فَبَعَثَ إِلَيَّ نَعَمَ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي نَاقَةً مُحَرَّمَةً قَالَ حَجَّاجٌ لَمْ تُرْكَبْ وَقَالَ يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ الرِّفْقُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
شریخ حارثی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیہات میں جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل ) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے ایک ایسی اوٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کرتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي السَّمَاءِ سَحَابًا أَوْ رِيحًا اسْتَقْبَلَهُ مِنْ حَيْثُ كَانَ وَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَرِّهِ فَإِذَا أَمْطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز ہی میں ہوتے ، اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلا دھار ہو اور نفع بخش۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزُمِّلَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ يَا خَدِيجَةُ لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً قَالَتْ خَدِيجَةُ أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِي خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ وَكَانَ رَجُلًا قَدْ تَنَصَّرَ شَيْخًا أَعْمَى يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَلَ عَلَى مُوسَى يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ قَطُّ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی فرمایا مجھے کوئی چیز اوڑھا دو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کمبل اوڑھا دیا گیا، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ! مجھے تو اپنے اوپر کسی مصیبت کے نازل ہونے کا خطرہ ہونے لگا تھا، دو مرتبہ فرمایا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ بشارت قبول کیجئے بخدا آپ کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ بٹاتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ، انہوں نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے، اور عربی زبان میں انجیل پڑھ چکے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ چچا جان! اپنے بھتیجے کی بات سنیئے ، ورقہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام چیزیں بیان کر دیں جو انہوں نے دیکھی تھیں، روقہ نے کہا کہ یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، اے کاش! اس وقت مجھ میں طاقت ہو اور میں زندہ ہوں جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا جی ہاں! جو شخص بھی آپ جیسی دعوت لے کر آیا لوگوں نے اس سے عداوت کی، اور اگر مجھے آپ کا زمانہ ملا تو میں آپ کی مضبوط مدد کروں گا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَاءَكَ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات قضاءِ حاجت کے لیے خالی میدانوں کی طرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت سودہ قضاء حاجت کیلئے نکلیں چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے ) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے ، انہوں نے حضرت سودہ کو دیکھ کر دور ہی سے پکارا سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ، اور یہ بات انہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے کی امید میں کہی تھی، چنانچہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں ، انہیں زندگی بھی دو۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنْ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ وہ پڑھتی تھیں اور کہتی تھیں کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہو جائے (اور پھر وہ نہ کر سکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ وَاللَّهِ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَأْثَمْ فَإِذَا كَانَ الْإِثْمُ كَانَ أَبْعَدَهُمْ مِنْهُ وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کو اختیار فرما لیتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کو اس نسبت سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) گزشتہ حدیث اور دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ قَالَتْ فَقُلْنَا قَدْ حَاضَتْ قَالَتْ فَقَالَ عَقْرَى حَلْقَى مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا قَالَتْ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَلَا إِذًا مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا تو ہم نے بتایا کہ ان کے " ایام" شروع ہوگئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، وہ ٹھہرنے پر مجبور کر دے گی؟ ہم نے کہا یاسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَالَتْ فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں گے، اس لئے آپ عمر کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا، ہم نے بھی اپنی بات دہرا دی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تم تو یوسف والیاں ہو، چنانچہ میں نے والد صاحب کے پاس پیغام بھیج دیا۔کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مرض میں تحفیف محسوس ہوئی، اور وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح نکلے کہ ان کے پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب محسوس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ہی رہو۔ اور خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک جانب بیٹھ گئے۔ اب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَعْصِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مَا سَمِعْتُهُ إِلَّا مِنْ أَبِي عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ وَطَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ أَيْلَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ لَيْسَ هَذَا بِالْكُوفَةِ إِنَّمَا هَذَا عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فَقُلْتُ لَهُمْ امْضُوا إِلَى أَبِي خَيْثَمَةَ فَإِنَّ سَمَاعَهُمْ بِالْكُوفَةِ وَاحِدٌ مِنْ ابْنِ نُمَيْرٍ فَذَهَبُوا فَأَصَابُوهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ دِقْرَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُ امْرَأَةً عَلَيْهَا خَمِيصَةٌ فِيهَا صُلُبٌ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ انْزَعِي هَذَا مِنْ ثَوْبِكِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اس سے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کر دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے گوشت کی بوٹیاں پیش کی گئیں ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول نہیں فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو حَتَّى إِنِّي لَأَسْأَمُ لَهُ مِمَّا يَرْفَعُهُمَا يَدْعُو اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشْرٌ فَلَا تُعَذِّبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ شَتَمْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَإِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى الطَّبَّاعَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا قَالَتْ وَلَمْ يَكُنْ فِي الْبُيُوتِ يَوْمَئِذٍ مَصَابِيحُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ وَقَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ مقامِ" ابطح" میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِ مُحَمَّدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوب صورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربان کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا فَمَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے ) ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُذِلَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہند بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم قبول اسلام سے پہلے روئے زمین پر آپ کے خیموں والوں سے زیادہ کسی کو ذلیل کرنا مجھے پسند نہ تھا اور اب آپ کے خیمے والوں سے زیادہ کسی کو عزت دینا مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بات اسی طرح ہے، پھر ہند نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان مال خرچ کرنے میں ہاتھ تنگ رکھتے ہیں، اگر میں ان کے مال سے ان ہی کے بچوں پر ان کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کر لیا کروں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلے طریقے سے ان پر خرچ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعًا فَلَمَّا ثَقُلَ وَأَسَنَّ صَلَّى سَبْعًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے ، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَسَرَّ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِرَاءَةَ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْبِتْعِ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ يُسْكِرُ فَهُوَ حَرَامٌ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نیند کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَجَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ وَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ هَذِهِ الْهُدْبَةِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهَا لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ يَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کر لیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر ! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے ؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر شاید تم رفاعہ کے پاس جانے کی خواہش رکھتی ہو؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو، اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ دَخَلَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَحْسِبُ اسْمَهَا خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بَاذَّةُ الْهَيْئَةِ فَسَأَلْتُهَا مَا شَأْنُكِ فَقَالَتْ زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لَهُ فَلَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا أَفَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ فَوَاللَّهِ إِنِّي أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظُكُمْ لِحُدُودِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن معظون کی اہلیہ مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حالت میں آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کیا حالت ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر شب بیدار اور صائم النہار ہیں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! ہم پر رھبانیت فرض نہیں کی گئی، کیا میری ذات میں تمہارے لئے اسوئہ حسنہ نہیں ہے؟ بخدا تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والا میں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لِأَخِيهِ سَعْدٍ أَتَعْلَمُ أَنَّ ابْنَ جَارِيَةِ زَمْعَةَ ابْنِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ رَأَى سَعْدٌ الْغُلَامَ فَعَرَفَهُ بِالشَّبَهِ وَاحْتَضَنَهُ إِلَيْهِ وَقَالَ ابْنُ أَخِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَجَاءَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ بَلْ هُوَ أَخِي وَوُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ جَارِيَتِهِ فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنُ أَخِي انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا لَمْ يَرَ النَّاسُ شَبَهًا أَبْيَنَ مِنْهُ بِعُتْبَةَ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ هُوَ أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ جَارِيَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَوَاللَّهِ مَا رَآهَا حَتَّى مَاتَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد زمعہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص اپناجھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عبد بن زمعہ کا کہنا تھا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، اور حضرت سعد یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ مَسْرُورًا فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ الْمُدْلِجِيُّ وَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا نَائِمَيْنِ فِي ثَوْبٍ أَوْ فِي قَطِيفَةٍ وَقَدْ خَرَجَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے اور فرمایا دیکھو تو سہی ؟ ابھی مجزز آیا تھا، اس نے دیکھا کہ زید اور اسامہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهُمَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ الْبِرُّ تُرِدْنَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کی ہی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے ، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ارادے کا ذکر فرمایا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اعتکاف کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیا گیا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حکم پر ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی اپنا خیمہ لگانے کو حکم دے دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن مسجد میں بہت سارے خیمے دیکھے تو فرمایا کیا تم اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہو؟ میں اعتکاف ہی نہیں کرتا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور عید گزرنے کے بعد شوال کے دس دن کا اعتکاف فرمایا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا، اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِهِمْ فَقَالَ أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا حَوِّلُوا مَقْعَدِي قِبَلَ الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کر دو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا بَدَّنَ وَلَحُمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ عَفَّانُ فَلَمَّا لَحُمَ وَبَدَّنَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ اغْتَسَلَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْجَبَلِيُّ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ السَّائِبَ سَأَلَ عَائِشَةَ فَقَالَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ إِلَّا جَالِسًا فَكَيْفَ تَرَيْنَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا مِثْلُ نِصْفِ صَلَاتِهِ قَائِمًا
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سائب نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں صرف بیٹھ کر ہی نماز پڑھ سکتا ہوں تو آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے نصف ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قرات کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَتْ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّوا لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَ ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا " اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجھے! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے پھر آیت اس طرح ہوتی " فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے لوگ " مناۃ" کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشل کے قریب اسکی پوجا کرتے تھے اور جو شخص احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے ، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةَ بِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ
عبدالعزیز بن جریخ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا پہلی رکعت میں "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" دوسری میں "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" اور تیسری میں" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " اور معوذتین کی تلاوت فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يُطِيلُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَكَانَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا وَسَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَهْرَ رَمَضَانَ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر طویل نماز پڑھتے تھے، جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے ، پھر میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے ، اور مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهْ قَالَ بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ قَالَ مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ قُلْتُ لَكِنِّي أَوْ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے میرے یہاں تشریف لائے ، میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ میری زندگی میں ہو جائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کر کے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے، آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے، پھر مرض الوفات شروع ہوگیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ عَنْ صَفِيَّهَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْهَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ ابْنَةٌ لِي سَقَطَ شَعْرُهَا أَفَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ قَالَتْ سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتِ عَنْهُ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَلَقَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ
عبادہ بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ذیقعدہ میں ہی عمرہ کیا تھا اور انہوں نے تین عمرے کئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَمْسٍ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ رَقِيقٌ مِنْ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ أَوْ يُرْبَطُ بِهِ قَالَ لَا اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں سے منع فرمایا ہے، ریشم اور سونا پہننے سے ، سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے ، سرخ زین پوش سے اور ریشمی لباس سے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر تھوڑا سا سونا مشک کے ساتھ ملا لیا جائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، تم اسے چاندی کے ساتھ ملا لیا کرو، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کر لیا کرو۔ عبداللہ بن شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا كَانَ يُدْعَى لِأَبِي حُذَيْفَةَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ كِتَابَهُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَنَحْنُ فِي مَنْزِلٍ ضَيِّقٍ فَقَالَ أَرْضِعِي سَالِمًا تَحْرُمِي عَلَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کر دیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنا دودھ پلا دو، تم اس پر حرام ہو جاؤ گی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهُ نَفْسًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ کے گھر میں ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس اور ایک دوسرے آدمی ( بقول راوی وہ حضرت علی تھے لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا ) کے سہارے پر وہاں سے نکلے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے۔
-
قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَوْ عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہو جائے ، تو میں لوگوں کو نصیحت کر دوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالنے لگے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ۔
-
قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَ بِهِ جَعَلَ يُلْقِي خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَ تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہودونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
-
قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر آگئے تو فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابورقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گیں، کیونکہ حضرت ابوبکر جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے، اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہو ا تھا اور گنہگا بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تین مرتبہ تلبیہ کہتے تھےلَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا وَكَانَ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَقْرَبْهَا إِلَّا هَبَّةً وَاحِدَةً لَمْ يَصِلْ مِنْهَا إِلَى شَيْءٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَحِلُّ لِزَوْجِي الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلِّي لِزَوْجِكِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَتْ فَعَلَّقْتُ عَلَى بَابِي قِرَامًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ قَالَتْ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْزِعِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اسے اتار دو۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صَوْمَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کر لیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کر لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ انْتَقَمَ لَهُ وَلَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا، اور اپنے ہاتھ سے کبھی کسی پر ضرب نہیں لگائی الا یہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَكُونِي فَاحِشَةً قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ قَالَ أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ حَتَّى فَرَغَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، ( جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا و علیکم، یہ سن کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اتنی کھلی بات کرنے والی نہ بنو، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، و علیکم ( تم پر ہی موت طاری ہو)
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح" میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَيَعْلَى أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاكِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ وَيَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ إِلَى آخِرِهَا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے تھے "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي"
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ وَحَدَّثَنَاهُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحَمِيرِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُقَابِلَ السَّرِيرِ وَأَنَا عَلَيْهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ فَذَكَرَهُمَا جَمِيعًا وَقَالَ رِجْلَيْ السَّرِيرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہیں تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا ہے، حالانکہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چار پائی کی پائنتی کی جانب کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَيَنَامُ وَيَسْتَيْقِظُ وَيُصْبِحُ جُنُبًا فَيُفِيضُ عَلَيْهِ مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کی غسل واجب ہو جاتا اور ان کا ارادہ روزہ رکھنے کا ہوتا تو وہ سو جاتے اور جب بیدار ہوتے تو اپنے جسم پر پانی بہاتے اور وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ لِأَنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گو یا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا دِرْعًا وَأَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا، اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي قَالَ فَكَانَتْ تُلَبِّي بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا إِلَّا فِي آخِرِهَا فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَّ مِنْ الْقِبْلَةِ مُخَاطًا أَوْ بُصَاقًا أَوْ نُخَامَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سانپوں کو دودھاری ہوں قتل کر دیا کرو، کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کر دیتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہو گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ فَكَانَ يَجْلِسُ فَيَقْرَأُ حَتَّى إِذَا غَبَرَ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی" نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے ، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے اور اس میں چلو بھرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ هُوَ وَأَهْلُهُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ لِلنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ فَقِيلَ إِنَّهَا حَائِضٌ فَقَالَ لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ قَالَ فَلَا إِذًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایام آنا شروع ہوگئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد ایام آنے لگے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عِنْدَهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ هَذِهِ فُلَانَةُ لَا تَنَامُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي يُدَاوِمُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ، اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن میں طاقت بھی ہو، بخدا اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْتُلْ الْمُحْرِمُ الْفَأْرَةَ وَالْغُرَابَ وَالْحِدَأَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْعَقْرَبَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا محرم ان چیزوں کو مار سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُتَوَفَّى وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے واقع ہوئی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے اللہ ! مجھے معاف فرما دے ، مجھ پر رحم فرما دے اور رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں متعکف ہوتے اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر ان کے قریب کر دیتے اور وہ اسے کنگھی کر دیتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی چادروں میں کفن دیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ عَنْ عِائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت نمازِ جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کر دے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کر لی جاتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَالَتْ قُلْتُ لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُ قَالَتْ قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُؤْمَرُ وَلَا نُؤْمَرُ فَيَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا يَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
معاذہ رحمتہ اللہ علیہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہو گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَمَعَهُ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى الثَّانِيَةَ فَاجْتَمَعَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرُ مِنْ الْأُولَى فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَوْ الرَّابِعَةُ امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ حَتَّى اغْتَصَّ بِأَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا زَالَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَكَ الْبَارِحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ أَمْرُهُمْ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْهِمْ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ يَعْنِي صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے ، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ، تیسرے دن بھی یہی ہوا، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے حتیٰ کہ میں بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے ، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلا م پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کو گواہی دی اور اما بعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً وَلَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا كَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ أَيْسَرُهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْ الْإِثْمِ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَكُونَ هُوَ يَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا ، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الا یہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خدا وندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے ، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى النِّسَاءَ الْيَوْمَ نَهَاهُنَّ عَنْ الْخُرُوجِ أَوْ حَرَّمَ عَلَيْهِنَّ الْخُرُوجَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاحَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا رَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ وَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے ایک علاقے میں بھیجا، وہاں ایک آدمی نے زکوۃ کی ادائیگی میں ابوجہم سے جھگڑا کیا، ابوجہم نے اسے مارا اور زخمی ہوگیا، اس قبیلے کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قصاص دلوائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قصاص کا مطالبہ چھوڑ دو، میں تمہیں اتنا مال دوں گا، لیکن وہ لوگ راضی نہ ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مقدار میں مزید اضافہ کیا، لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے ، البتہ تیسری مرتبہ اضافہ کرنے پر وہ لوگ راضی ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضا مندی کے متعلق بتا دوں؟ انہوں نے کہا جی ضرور۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قبیلہ کے یہ لوگ میرے پاس قصاص کی درخواست لے کر آئے تھے، میں نے انہیں اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور یہ راضی ہو گئے ہیں، پھر ان سے فرمایا کیا تم راضی ہو گئے ؟ انہوں نے انکار کر دیا، اس پر مہاجرین کو بہت غصہ آیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکنے کا حکم دے دیا، وہ رک گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر مقررہ مقدار میں مزید اضافہ کر دیا اور فرمایا اب تو راضی ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتا دوں؟ انہوں نے کہا جی ضرور، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ان سے پوچھا کیا تم راضی ہو گئے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں!
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ حَدِيثًا ثُمَّ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ قَالَ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ يَا خَدِيجَةُ مَالِي فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ وَقَدْ خَشِيتُ عَلَيَّ فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنْ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي مَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونَ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ وَتَقَرُّ نَفْسُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَيَرْجِعُ فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ وَفَتَرَ الْوَحْيُ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اول سچی خوابوں سے وحی کا نزول شروع ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے وہ بالکل صبح روشن کی طرح ٹھیک پڑتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم خلوت پسند ہوگئے تھے اور غار حرا میں جا کر گوشہ گیری اختیار کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی روز تک وہیں پر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اسی اثناء میں گھر پر بالکل نہ آتے تھے لیکن جس وقت کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تھا تو پھر اتنے ہی دنوں کا کھانا لے کر چلتے تھے، آخر کار اسی غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ ایک فرشتہ نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا پڑھئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) یہ سن کر اس فرشتہ نے مجھ کو پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں بے طاقت ہوگیا، پھر اس فرشتہ نے مجھ کو چھوڑ کر کہا پڑھئے! میں نے کہا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس نے دوبارہ مجھ کو پکڑ کر اس قدر دبوچا کہ مجھ میں طاقت نہیں رہی، اور پھر چھوڑ کر مجھ سے کہا پڑھئے میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تیسری بار اس نے مجھ کو اس قدر زور سے دبایا کہ میں بے بس ہوگیا اور آخر کار مجھ کو چھوڑ کر کہا! کہ " پڑھ " اپنے رب کے نام کی برکت سے جس نے ( ہر شئ کو ) پیدا کیا ( اور ) انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھ اور تیرا رب بڑے کرم والا ہے " ۔ ( ام المومنین فرماتی ہیں) آپ یہ بات پڑھتے ہوئے گھر تشریف لائے تو اس وقت آپ کا دل دھڑک رہا تھا، چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر آپ نے فرمایا مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو کپڑا اوڑھایا، جب آپ کی بے قراری دور ہوئی اور دل ٹھکانے ہوا تو ساری کیفیت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بیان فرمائی اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا خدا کی قسم! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، آپ کو بالکل فکر نہ کرنی چاہیے ، خدائے تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرے گا کیونکہ آپ تو برادر پرور ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، کمزوروں کا کام کرتے ہیں ، مہمان نوازی فرماتے ہیں اور جائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ۔ ورقہ نے دور جاہلیت میں عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا اور انجیل کا ( سریانی زبان سے) عبرانی میں ترجمہ کر کے لکھا کرتے تھے، بہت ضعیف العمر اور نابینا بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس کے پاس پہنچ کر کہا ابن عم ذرا اپنے بھتیجے کی حالت تو سنئے ! ورقہ بولا کیوں بھتیجے کیا کیفیت ہے؟ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا ورقہ سے بیان کر دیا جب ورقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال سن چکے تو بولے یہ فرشتہ وہی ناموس ہے، جس کو خدائے تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا کاش! میں عہد نبوت میں جوان ہوتا کاش! میں اس زمانہ میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو قوم والے ( وطن سے ) نکالیں گے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ بولے جی ہاں! جو شخص بھی آپ کی طرح دین الٰہی لایا ہے اس سے عداوت کی گئی ہے، اگر میں آپ کے عہد نبوت میں موجود ہوا تو کافی امداد کروں گا، لیکن اس کے کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور سلسلہ وحی بند گیا، فترتِ وحی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ کئی مرتبہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانے کا ارادہ کیا، لیکن جب بھی وہ اس ارادے سے کسی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبریل علیہ السلام سامنے آجاتے اور عرض کرتے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے برحق رسول ہیں، اسے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش ٹھنڈا اور دل پر سکون ہو جاتا تھا، اور وہ واپس آجاتے ، پھر جب زیادہ عرصہ گذر جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور حضرت جبریل علیہ السلام انہیں تسلی دیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَبَشَةَ لَعِبُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْكِبِهِ حَتَّى شَبِعْتُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے ، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي يَلْعَبْنَ مَعِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری سہلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ قَالَ لِي عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی بھیجا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّتْ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر دوام بھی فرماتے تھے، اور انہیں سب سے زیادہ پسند بھی وہی نماز تھی جس پر دوام ہو، اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہو اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔
-
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ فَبَعَثَ مَعِي أَخِي فَاعْتَمَرْتُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا اور میں نے عمرہ کر لیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔
-
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَزَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَتَرَكَ صَلَاةَ السَّفَرِ عَلَى نَحْوِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابتداء نماز کی دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم الٰہی کے مطابق حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا، اور سفر کی نماز کو اسی حالت پر دو رکعتیں ہی رہنے دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَأْتِي بِصَوَاحِبِي فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری سہیلیاں آجاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں، اور جوں ہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ وَتَسَاقَطَ شَعَرُهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا فَأَصِلُ شَعْرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُوصِلَاتِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ النَّصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيُّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو اپنی داڑھی کا خلال بھی فرماتے تھے۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى السَّامِيُّ حَدَّثَنَا بُرْدٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے ، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہو جاتے ، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے کنگھی کر دیتی حلانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِنَحْوِ الْمُدِّ قَالَ يَزِيدُ بِقَدْرِ الْمُدِّ قَالَ يَزِيدُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أَوْ مُعَاذَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ وَقَالَ بِقَدْرِ الْمُدِّ وَبِقَدْرِ الصَّاعِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِقَدْرِ الْمُدِّ أَوْ نَحْوِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا يَحْمِلُكِ عَلَى الدَّيْنِ وَلَكِ عَنْهُ مَنْدُوحَةٌ قَالَتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يُدَانُ وَفِي نَفْسِهِ أَدَاؤُهُ إِلَّا كَانَ مَعَهُ مِنْ اللَّهِ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ صَلَاتِهِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ کہہ سکیں اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے! تو بہت با برکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہم میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ ایام کی حالت میں ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے اور جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُعَاذَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي عَمْرَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى إِنْ كُنْتُ لَأَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں " ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ قَالَتْ فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَعَتَبَةُ الْبَابِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ الْمَنِيُّ غَسَلَ مَا أَصَابَ مِنْ ثَوْبِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ فِي ثَوْبِهِ ذَلِكَ مِنْ أَثَرِ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادئہ منویہ کو دھو دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے چلے گئے تھے اور مجھے ان کے کپڑوں پر پانی کے نشانات نظر آرہے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لِي مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ قَالَ قُلْتُ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فَقُلْتُ أَجَلْ وَلَكِنْ أَخْبِرِينِي قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشَاءَ الْآخِرَةِ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا كَانَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَ الْقِرَاءَةِ فِيهِنَّ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ قَالَتْ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسَنَّ وَلَحُمَ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِرَاءَةِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَرُبَّمَا لَمْ يُغْفِ حَتَّى يَجِيءَ بِلَالٌ فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ
سعد بن ہشام رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا سعد بن ہشام ، انہوں نے فرمایا اللہ تمہارے والد پر اپنی رحمتیں نازل کرے، میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی نماز) قیام کے بارے میں بتائے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نمازِ عشاء پڑھا کر اپنے بستر پر آتے ، درمیان رات میں بیدار ہو کر وضو کرتے ، مسجد میں داخل ہوتے اور آٹھ رکعتیں مساوی قرات ، رکوع اور سجود کے ساتھ پڑھتے ، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے ، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے اور سر رکھ کر لیٹے رہتے ، اور ان کے اونگھنے سے پہلے ہی بعض اوقات حضرت بلال رضی اللہ عنہ آکر نماز کی اطلاع دے جاتے ، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، حتیٰ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک بھاری اور عمر زیادہ ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ معمول میں آٹھ کی بجائے چھ رکعتیں کر دیں، باقی معمول وہی رہا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ وَقَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنَا قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يَقُولُ سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ وَضُوءُهُ مُغَطًّى وَسِوَاكُهُ اسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا شَاءَ مِنْ الْقُرْآنِ وَقَالَ مَرَّةً مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ الْقُرْآنِ فَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَإِنَّهُ يَقْعُدُ فِيهَا فَيَتَشَهَّدُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ جَالِسٌ فَيُصَلِّي جَالِسًا رَكْعَتَيْنِ فَهَذِهِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا يَقْعُدُ إِلَّا كَمَا يَقْعُدُ فِي الْأُولَى وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَاعِدًا فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَائِمًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ كَأَنَّهُ يُوقِظُنَا بَلْ يُوقِظُنَا ثُمَّ يَدْعُو بِدُعَاءٍ يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر سو جاتے تھے، پھر بیدار ہوتے تو وضو کا پانی ڈھکا ہوا اور مسواک ان کے قریب ہی ہوتی، آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور آٹھ رکعات نماز پڑھتے ۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے ، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ سلام پھیرتے ، سلا م پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئیں ، اور وفات تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح رہی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ وَلَا يُجْزِئُ بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے، اور وہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور درگذر فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ دُهْنٍ يَجِدُهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَصِيصَ الدُّهْنِ فِي شَعَرِهِ وَلَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ فَمَا يَعْتَزِلُ مِنَّا امْرَأَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اورگویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اور اسے بھیج کر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ طَوِيلًا قَاعِدًا وَيُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ طَوِيلًا قَائِمًا فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
عبداللہ بن شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ قَالَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا، (میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟'') انہوں نے فرمایا اے ابو عائشہ! اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَقَدَمَيْهِ وَمَسَحَ يَدَهُ بِالْحَائِطِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَكَأَنِّي أَرَى أَثَرَ يَدِهِ فِي الْحَائِطِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غسل کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر شرمگاہ اور پاؤں دھوتے، ہاتھ کو دیوار پر ملتے ، اور اس پر پانی بہاتے، گویا ان کے ہاتھ کا دیوار اوپر نشان میں اب تک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کر دیتے ۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ قَالَتْ كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو ان کی زرہ تیس صاع جَو کے عوض گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَنْ تَحْتَجِبَ مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد بن زمعہ سے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ ان کے انتقال تک انہیں دیکھ نہیں سکا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَالَتْ كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ
علقمہ بن وقاص لیثی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں کس طرح پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرات تو بیٹھ کر کرتے تھے لیکن جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّهْ فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے، اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَإِنْ كَانَتْ لَتَدْخُلُ الْمِرْكَنَ مَمْلُوءًا مَاءً فَتَغْتَمِسُ فِيهِ ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ وَإِنَّ الدَّمَ لَغَالِبُهُ فَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زینب بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُحْرِمُ وَحِينَ يَحِلُّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے ، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ فَأَفْطَرَتْنِي وَكَانَتْ ابْنَةُ أَبِيهَا فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیے میں آئی ، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ فَأَعْطَتْهَا فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ فَلَمَّا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ فَقَالَ لَا قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودیہ عورت نے ان سے کچھ مانگا، انہوں نے اسے وہ دے دیا، اس نے کہا کہ اللہ تمہیں عذابِ قبر سے محفوظ رکھے، انہیں اس پر تعجب ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ان سے اس کا ذکر کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ لَقَدْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ فَمَا تَرَكَ شَيْئًا كَانَ يَصْنَعُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے اور کوئی چیز نہ چھوڑتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کر دیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھ لیتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ نافرمان جانور ہوتا ہے ، اسی طرح بچھو، کوا اور چوہا بھی نافرمان ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ السِّوَاكَ لَمَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ الْقِرَاءَةَ فِيهِمَا وَذَكَرَتْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فجر کی سنتون میں قرات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سری قرات فرماتے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس میں سورت کافروں اور سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتِهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ فَقَالَتْ إِنِّي لَأَرَى بَنَاتِكِ قَدْ حِضْنَ أَوْ حَاضَ بَعْضُهُنَّ قَالَتْ أَجَلْ قَالَتْ فَلَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ وَقَدْ حَاضَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي فَتَاةٌ فَأَلْقَى إِلَيَّ حَقْوَهُ فَقَالَ شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَإِنِّي لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا أَوْ لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے ، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کر کے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کر دو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ لِحُرْمِهِ وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے ، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ لِي أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ قَالَتْ قُلْتُ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نکلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے دعا فرما رہے تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو گیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِقَدْرِ الْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِقَدْرِ الصَّاعِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةٌ وَإِنَّ مَادَّةَ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کا ایک مادہ ہوتا ہے اور قریش کا مادہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً رَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَكَانَ يَقُولُ نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا يَقْرَءُونَهُمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ دو سورتیں کتنی اچھی ہیں "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور " وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ يَعْنِي عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِي أَبُو الضُّحَى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کھرچ دیا کرتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يَجْلِسُ عَلَى الْخَلَاءِ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَكَرِهُوا ذَلِكَ فَحَدَّثَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَوَقَدْ فَعَلُوهَا حَوِّلِي مَقْعَدِي إِلَى الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کر دو۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشُقُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے اسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اسے زمین سے ملا کر اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَنْجَالٌ وَغَرْقَدٌ فَاشْتَكَى آلُ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَةِ أَبِي فَأَذِنَ لِي فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ قُلْتُ هَجَرَ وَاللَّهِ أَبِي ثُمَّ أَتَيْتُ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ فَقُلْتُ أَيْ عَامِرُ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَ وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فُوقِهِ قَالَتْ فَأَتَيْتُ بِلَالًا فَقُلْتُ يَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَخٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَحَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى خُمٍّ وَمَهْيَعَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم بیمار ہو گئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار ہو گئے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے " ۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہو گی " ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب رکھ جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما، اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے یہاں تین قسم کے دفتر ہوں گے، ایک قسم کے دفتر (رجسڑ) تو ایسے ہوں گے جن کی اللہ کوئی پرواہ نہیں کرے گا، ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، اور ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، ایسے رجسڑ جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے " جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے ، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے، اور وہ رجسڑ جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے جن کا بہر صورت بدلہ لیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَمَّا حَيْثُ بَكَيْتُ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكْتُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بلایا، ان کے ساتھ سر گوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، تو بعد میں حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَاهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الطِّيَرَةُ مِنْ الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ فَغَضِبَتْ فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ وَقَالَتْ وَالَّذِي أَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ مَا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّمَا قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بدشگونی لیا کرتے تھے ( اسلام نے ایسی چیزوں کو بے اصل قرار دیا ہے)
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ عَنْ أُمِّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ أَفَكَانَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً يَعْنِي الْغَيْمَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ قَالَتْ فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ فَقَالَ وَمَا يُدْرِينِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور وہ اندر باہر اور آگے پیچھے ہونے لگتے ، جب وہ برس جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے کے تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں عذاب تھا۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ قِرَاءَتَهُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ كَثُرُوا فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کر دیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیو نکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا رَكَعَ جَالِسًا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى قَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكِ جِبْرِيلُ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ " انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَاتِ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کے طعنوں کا خوف کر رہے تھے۔ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے " ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا قَالَ وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرات لمبی ہو جاتی ہے ، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ طَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ حَوِّلِيهِ فَإِنِّي إِذَا رَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ يَلْبَسُهَا تَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح کی ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللَّهِ الْمُبَرَّأَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَمْ أُكَذِّبْهَا
مسروق کہتے ہیں کہ مجھ سے صدیقہ بنت صدیق، حبیب اللہ علیہ السلام کی چہیتی اور ہر تہمت سے مبرا ہستی نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ، اس لئے میں ان کی تکذیب نہیں کر سکتا۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ عَنْ كَهْمَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ فَمِنْ الرِّجَالِ قَالَتْ أَبُوهَا
عبداللہ بن شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی؟ انہوں نے بتایا عائشہ سے کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ مردوں میں سے؟ انہوں نے فرمایا عائشہ کے والد سے ۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ مَكَّةَ وَلَا الْمَدِينَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سگے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يُرَقِّعُ الثَّوْبَ وَيَخْصِفُ النَّعْلَ أَوْ نَحْوَ هَذَا
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے ہر کوئی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور کپڑوں پر خود پیوند لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا عَلِمْنَا أَيْنَ يُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالْمَسَاحِي الْمُرُورُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي لَيْثٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينِ الْبَغِيضِ النَّافِعِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ يَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنْ الْوَسَخِ وَقَالَتْ كَانَ إِذَا اشْتَكَى مِنْ أَهْلِهِ إِنْسَانٌ لَا تَزَالُ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَحَدُ طَرَفَيْهِ وَقَالَ يَعْنِي رَوْحٌ بِبَغْدَادَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ شَيْئًا لَا تَزَالُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کر لیتا ہے نیز اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے کوئی بیمار ہو جاتا تو آگ پر ہنڈیا مسلسل چڑھی رہتی ، یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک کام (موت یا صحت مند) ہو جاتا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ وَالضَّحَّاكُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَابِ وَقُمْتُ وَرَاءَهُ أَنْظُرُ فِيمَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ عَطَاءٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ و قَالَ ابْنُ عُمَيْرٍ هُمْ حَبَشٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے ، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ
بنانہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ان کے یہاں ایک بچی آئی جس کے پاؤں میں گھونگھرو تھے اور ان کی بجنے کی آواز آرہی تھی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے پاس اس بچی کو نہ لاؤ، الا یہ کہ اس کے گھنگھرو اتار دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، بنانہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور ایسے قافلے کے ساتھ بھی فرشتے نہیں جاتے جس میں گھنٹیاں ہوں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے ہی رکھتے رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَاصِمٍ مَوْلًى لِقُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ قُرَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ أَنَا لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ عَنْ قُرَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا أَوْفَى بْنُ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمِ وَلَا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وباء ، حنتم، نقیر اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو، کشمش اور کجھور کو ملا کر یا کچی اور پکی کجھور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ أَبَا نَهِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرُوهَا فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فَيُوتِرُ
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ لوگوں سے تقریر کے دوران فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو صبح کا وقت ہو جائے اور اس نے وتر نہ پڑھے ہوں تو اب اس کے وتر نہیں ہوں گے، کچھ لوگوں نے یہ بات جا کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بعض اوقات صبح ہونے پر بھی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْلُتُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الْإِذْخِرِ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ وَيَحُتُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنے کپڑوں سے مادہ منویہ کو " اذخر " گھاس کے عرق سے دھو لیا کرتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اگر وہ مادہ خشک ہوگیا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھرچ دیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا تَمْرَةً فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کجھور دی ، اس نے کجھور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے ، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے" لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي بَعْدَ ذَلِكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ قَالَ أَبِي أَبُو عَطِيَّةَ اسْمُهُ مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے ، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے" لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ "
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ
ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے ، اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے ، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کر لے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہو جائے ، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے ، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کر دیا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ إِنِّي مَا خَفِيَتْ عَلَيَّ مِنْهُنَّ لَيْلَةٌ إِنَّمَا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٩ ٢ کا بھی ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا نُكَذِّبُهُ قَالَ أَخْبَرْتُ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ وَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، انہوں نے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عبدالرحمن کی اللہ بخشش فرمائے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا ، انہوں نے تو یہ فرمایا تھا کہ مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ وَكَانَ يَوْمٌ فِيهِ تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ فَلَمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے ، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو اس دن بیہودہ گوئی اور شورو غل نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دینا یا لڑنا چاہے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے "سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ"
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے "سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ"
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ قَالَ أَبِي وَإِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي إِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ وَهِمَ شُعْبَةُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وباء حنتم اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنِ شُمَيْسَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَامَ إِلَيْهَا إِنْسَانٌ فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نیند سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَعَوَّذُ مِنْ الْمَغْرَمِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے، اے اللہ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے ، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہوسکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو، اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ شَهْرٌ مَا نَخْتَبِزُ فِيهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ يُهْدُونَ مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بخدا آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی ، الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے، اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دوہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور ، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے ، اللہ انہیں جزائے خیر دے ، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرمالیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ لِحَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِينَ أَحْرَمَ وَحِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر میں اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر " ذریرہ " خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے ، اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَهَلَّ بِأَطْيَبِ مَا قَدَرْتُ عَلَيْهِ مِنْ طِيبِي
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائی ہے جو میرے پاس دستیاب ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ وَحَمَّادٍ وَمَنْصُورٍ وَسُلَيْمَانَ عَنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ سُلَيْمَانُ فِي شَعْرِ وَقَالَ مَنْصُورٌ فِي أُصُولِ شَعْرِهِ وَقَالَ الْحَكَمُ وَحَمَّادٌ فِي مَفْرِقِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَقَالَ أَتَيْتُ غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ نَافِعًا فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا فَرَجَعَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا قَالَ ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو فَبَعَثَهُ إِلَيْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا
عبد الرحمن بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طور پر حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کر لیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کر لیتے تھے، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کر لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ثُمَّ أَغْتَسِلُ فَأَصُومُ قَالَ الرَّجُلُ إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا إِنَّكَ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَ بِمَا أَتَّقِي
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر نماز کا وقت آجائے ، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کیفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا، ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور غصے کے آثار چہرئہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا بخدا مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَهِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهَا نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا ، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ فَقَالَتْ قُلْتُ يَرْجِعُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَنَا أَرْجِعُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ قَالَ وَلِمَ ذَاكَ قَالَتْ قُلْتُ إِنِّي حِضْتُ قَالَ ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ اصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ قَالَتْ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى مِنًى ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى عَرَفَةَ ثُمَّ وَقَفْنَا مَعَ النَّاسِ ثُمَّ وَقَفْتُ بِجَمْعٍ ثُمَّ رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَمَيْتُ الْجِمَارَ مَعَ النَّاسِ تِلْكَ الْأَيَّامَ قَالَتْ ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي أَوْ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِهَا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ احْمِلْهَا خَلْفَكَ حَتَّى تُخْرِجَهَا مِنْ الْحَرَمِ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ فَتُخْرِجُهَا إِلَى الْجِعِرَّانَةِ وَلَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَانْطَلَقْنَا وَكَانَ أَدْنَى إِلَى الْحَرَمِ التَّنْعِيمُ فَأَهْلَلْتُ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ فَطُفْتُ بِهِ وَطُفْتُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَارْتَحَلَ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَفْعَلُ ذَلِكَ بَعْدُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا ، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے ، وہ ایسا کر سکتا ہے ، الا یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کوا پنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ واپس جائیں اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَنَزَلْنَا الشَّجَرَةَ فَقَالَ مَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِحَجَّةٍ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِحَجَّةٍ قَالَتْ وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَذَرِي عُمْرَتَكِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَمَرَنِي فَاعْتَمَرْتُ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي تَرَكْتُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے، اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے ، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ أَوْ لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَا إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ قَالَ فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ فَقَالَتْ وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مَا هَكَذَا كَانَ يَقُولُ وَلَكِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةُ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے ( اسلام نے ایسی چیزوں کو بے اصل قرار دیا ہے)
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ اللَّهَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پرھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کر جاتا، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے ، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرے "بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ"
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ مَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک تصویر والی چادر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دورازے پر ہی کھڑے رہے ، اندر نہ آئے ، میں نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، مجھ سے کیا غلطی ہوئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا یہ چادر کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ آپ کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لئے خریدی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو اور فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْجَدَلِيَّ يَقُولُ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَمْ يَكُ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے، اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور در گذر فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ قَالَ أَبِي وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ يَعْنِي نَافِعٌ هَذَا قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ إِلَى الشَّامِ أَوْ إِلَى مِصْرَ قَالَ فَتَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي قَدْ تَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَتْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ رِزْقٌ فِي شَيْءٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ فَأَتَيْتُ الْعِرَاقَ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَاللَّهِ مَا رَدَدْتُ الرَّأْسَ مَالٍ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ أَوْ قَالَتْ الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثْتُكَ
نافع کہتے ہیں کہ میں شام یا مصر میں تجارت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں نے عراق جانے کی تیاری کر لی لیکن روانگی سے پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین ! میں عراق جانے کی تیاری کر چکا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم اپنی تجارت کی جگہ چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا کسی چیز کے ساتھ رزق وابستہ ہو تو وہ اسے ترک نہ کرے الا یہ کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہو جائے یا وہ بگڑ جائے ، تاہم میں پھر بھی عراق چلا گیا، واپسی پر ام المومنین کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین ! بخدا مجھے اصل سرمایہ بھی واپس نہیں مل سکا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلی ہی حدیث سنا دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَأَحْلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ حَلُّوا مِنْ الْعُمْرَةِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس معاملے کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا علم بعد میں ہوا تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور کبھی نہ لاتا اور ان لوگوں کے ساتھ ہی احرام کھول دیتا جنہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتٍ مَرَّتْ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْحَوْلَاءُ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه وَهْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَرَّتْ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى فَذَكَرَهُ وَقَالَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْأَمُ حَتَّى تَسْأَمُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت " حولاء " آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنا عمل کیا کرو جتنی طاقت تم میں ہے، بخدا اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کوئی منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اسْتَقْصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ ک تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں لوٹا نہیں دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا بخدا اگر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کند ھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے ، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِلَّا إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کر دیتی اور وہ گھر میں صرف وضو کے لئے ہی آتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ اشْتَرَيْتُ نَمَطًا فِيهِ صُورَةٌ فَسَتَرْتُهُ عَلَى سَهْوَةِ بَيْتِي فَلَمَّا دَخَلَ كَرِهَ مَا صَنَعْتُ وَقَالَ أَتَسْتُرِينَ الْجُدُرَ يَا عَائِشَةُ فَطَرَحْتُهُ فَقَطَعْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَقَدْ رَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا وَفِيهَا صُورَةٌ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے ، میں نے ایک تصویروں والا پردہ خریدا ہوا تھا جسے میں نے اپنے گھر کے صحن میں لٹکا لیا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو میرے اس کارنامے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اور فرمایا اے عائشہ ! دیواروں کو پردوں سے ڈھانپ رہی ہو؟ چنانچہ میں نے اسے اتار کر اسے کاٹا اور دو تکئے بنا لئے اور تصویر کی موجودگی میں ہی میں نے اس پر اپنے آپ کو ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ أَجْرٌ أَوْ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةُ وَالشَّوْكَةُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ وَهِيَ تَقُولُ أُشْعِرْتُ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُوَدُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُشْعِرْتُ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ کہہ رہی تھی کیا معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائیگا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھ پر وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ يَسْجُدُ فِي السَّجْدَةِ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے ، جب مؤذن اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے ، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے ، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے ، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أَذْكُرُ لَكِ أَمْرًا وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تُذَاكِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا فَقُلْتُ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں ، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا ، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَجَدْتُ فِي مَوْضِعٍ عَنْ عُرْوَةَ وَمَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَمْرَةَ كِلَاهُمَا قَالَهُ عُثْمَانُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نِسَاءً مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ إِلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنْ الْغَلَسِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ارْفَعِي عَنَّا حَصِيرَكِ هَذَا فَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَفْتِنَ النَّاسَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا عائشہ! اس چٹائی کو ہمارے پاس سے اٹھا لو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ فتنے میں نہ پڑھ جائیں۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو شَدَّادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كُنَّا بِالْحُرِّ انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ وَهُوَ يَقُولُ وَا عَرُوسَاهْ قَالَتْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِي الْخِطَامَ فَأَلْقَيْتُهُ فَأَعْقَلَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، حر کے پاس پہنچ کر ہم واپس روانہ ہوئے، میں اپنے اونٹ پر سوار تھی، جو سب سے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ببول کے درختوں کے درمیان تھے، اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن رہی تھی، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں ہائے میری دلہن! بخدا میں ابھی اسی اونٹ پر تھی کہ ایک منادی نے پکار کر کہا کہ اس کی لگام پھنک دو، میں نے اس کی لگام پھنک دی تو اللہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَهُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى قَالَ أَبِي وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ الصَّوَابُ مَوْلًى لِبَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا
عبداللہ بن ابی موسی ( اور زیادہ صحیح رائے کے مطابق عبداللہ بن ابی قیس) " جو کہ بنو نصر بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام تھے " سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا ہے قیام اللیل کو کبھی نہ چھوڑنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، حتیٰ کہ اگر بیمار ہوتے یا طبیعت میں چستی نہ ہوتی تو بھی بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَتَتْ سَهْلَةُ ابْنَةُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا وَاضِعَةٌ ثَوْبِي ثُمَّ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ الْآنَ بَعْدَمَا شَبَّ وَكَبِرَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ يَذْهَبُ بِالَّذِي تَجِدِينَ فِي نَفْسِكِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم سالم میرے یہاں آتا تھا، میں اپنا دوپٹہ وغیرہ اتارے رکھتی تھی، لیکن اب جب وہ بڑی عمر کا ہوگیا ہے اور اس کے بال بھی سفید ہو گئے تو اس کے آنے پر میرے دل میں بوجھ ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلا دو، یہ بوجھ دور ہو جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہتے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ الْأَيْلِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ يُتَأَذَّى مِنْهُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیز نا پسند تھی کہ ان سے ایسی مہک آئے جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو ، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کیلئے تین دن سے سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں ، پھر وتر ، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے ، اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا ، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو، اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پرھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يُحْرِمْ مِنْهُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر بھی کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ وَأَنَا شَاهِدَةٌ عَنْ وَصْلِ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَكَانَ عَمَلُهُ نَافِلَةً لَهُ
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک عورت نے ان سے نبی کے صوم وصال کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اعمال کر سکتی ہو، ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے تھے اور ان کے اعمال تو نفلی تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَهِيَ جَدَّةُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيِّ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ فَقَالَتْ لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا وَقَالَتْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ وَأَنَا حَائِضٌ نَائِمَةٌ قَرِيبًا مِنْهُ
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ عورت کے متعلق پوچھا جس کے کپڑوں کو دم حیض لگ جائے ، تو انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں تین مرتبہ مسلسل ایام آتے اور میں اپنے کپڑے نہ دھو پاتی تھی، اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میرے جسم پر جو کپڑا ہوتا تھا، اس کا کچھ حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا تھا، اور میں ایام کی حالت میں ان کے قریب سو رہی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دَايَنَ النَّاسَ بِدَيْنٍ يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ حَرِيصٌ عَلَى أَدَائِهِ كَانَ مَعَهُ مِنْ اللَّهِ عَوْنٌ وَحَافِظٌ وَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ نَهَارٍ بِنْتُ دِفَاعٍ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي آمِنَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا شَهِدَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُتَّصِلَةَ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کو مل دل کر صاف کرنے والی، جسم گودنے والی اور گودوانے والی، بال ملانے اور ملوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ عَنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اورگویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ وَأَرْسَلَهَا عَمُّهَا فَقَالَ إِنَّ أَحَدَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ شَتَمُوهُ فَقَالَتْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ وَإِنَّ جِبْرِيلَ لَيُوحِي إِلَيْهِ الْقُرْآنَ وَإِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ اكْتُبْ يَا عُثَيْمُ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَهُ تِلْكَ الْمَنْزِلَةَ إِلَّا كَرِيمًا عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہیں ان کے چچا نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرنے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو ان پر لعنت کرے، اس پر خدا کی لعنت نازل ہو، بخدا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے اے عثیم! لکھو اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی، سوائے فرض نمازوں کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَلَّ مِنْ قَتْلِ الدَّوَابِّ وَالرَّجُلُ مُحْرِمٌ أَنْ يَقْتُلَ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةَ وَلَدَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا محرم ان چیزوں کو مار سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا ، ایک مرتبہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بچھو نے ڈس لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَفَّانُ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ قَالَ وَمَا يُؤْمِنُنِي وَإِنَّمَا قُلُوبُ الْعِبَادِ بَيْنَ أُصْبُعَيْ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُقَلِّبَ قَلْبَ عَبْدٍ قَلَّبَهُ قَالَ عَفَّانُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ وَأَمَرَنَا أَنْ نَعُقَّ عَنْ الْجَارِيَةِ شَاةً وَعَنْ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کر دیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لِأَحَدِكُمْ التَّمْرَةَ وَاللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ایک کجھور اور لقمہ کی اس پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا تَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاتِ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ سَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَأَخَّرَ قَالَ مُعَاوِيَةُ تَأَخَّرْ وَقَالَ لَهُمَا أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ قَالَتْ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی؟ فرمایا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب بوجھل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا نہیں ، یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو ، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب آدمی تھے، کہنے لگے اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں، چنانچہ ان دنوں میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے جن میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو، چنانچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کر دی، انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی ، البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ فَلَيْسَ مِنْ رَجُلٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَيْتِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " طاعون " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنا دیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ يُخَلِّلُ بِأَصَابِعِهِ أُصُولَ الشَّعْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے، اور تین مرتبہ پانی بہاتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَ أَبِي وَأَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَدَعُ فِي بَيْتِهِ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَدْ كَانَ خَالَطَ ثِيَابَنَا الْحَرِيرُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کر دیتے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابو سلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ الْحَنَفِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الرَّقَاشِيَّ يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جَرَّةً مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ مَا يُصْنَعُ فِي هَذِهِ
ابو سعید رقاشی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پردہ کے پیچھے سے مجھے ایک مٹکا دکھایا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جیسے مٹکے بنانے سے منع فرماتے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا عائشہ! اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ فِي بِئْرٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَدْعُو لَهُمْ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَدْعُوَ لَهُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع اور وہاں مدفون مسلمانوں کے لئے دعا فرماتے تھے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان کیلئے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّبَتُّلِ قَالَ عَبْد اللَّهِ فَحَدَّثَنِيهِ أَبِي فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ يَحْيَى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرما لیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ قَالَ أَبِي قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنْ الْبِنَاءِ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
ابو قزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس میں شامل کر دیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا ، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین ! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین سے سنی ہے ، تو عبدالملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر برقرار رہنے دیتا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَّا رَكَعَ عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے بعد جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے تو وہاں دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَلَيْسَ ذُكِرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ فَقَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے تو غسل کر کے روزہ رکھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا طَافَ بِالْبَيْتِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَطَافُوا أَمَرَهُمْ فَحَلُّوا قَالَتْ وَكُنْتُ قَدْ حِضْتُ فَوَقَفْتُ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ فَأَرْسَلَ مَعِي أَخِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کو ازواج مطہرات اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی طواف و سعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ نہیں تھا۔ میں ایام سے تھی، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کے یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَمْكُثُ قَالَتْ وَكَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوَتْرُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز پڑھتے تھے تو سب سے آخری نماز وتر کی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا نُرِيدُ الْحَجَّ فَلَمْ أَطُفْ فَقُلْتُ يَرْجِعُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى قَالَ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَأَمَرَهَا فَنَفَرَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، میں نے عرض کیا یار سول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤںگی؟ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں ، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں ، اب روانہ ہو جاؤ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا دَعَا وَقَالَ سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کر کے یہ ضرور کہا "سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي"
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ مِنْ الطِّيبِ حَتَّى أَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ قَبْلَ النَّفْرِ فَسَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كُنْتِ طُفْتِ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ فَنَفَرَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رونگی سے پہلے حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں ، اب روانہ ہو جاؤ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسَارِعُ إِلَى شَيْءٍ مَا يُسَارِعُ إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف جتنی سبقت فرماتے تھے، کسی اور چیز کی طرف نہ فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَصِيفٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ ثَلَاثِينَ سَنَةً عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَجْمَرْتُ شَعْرِي إِجْمَارًا شَدِيدًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنِ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پرھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا دَخَلَ تَسَوَّكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے توسب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے ، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَادُرِ الْمَاءِ فِي شَعْرِهِ وَجِلْدِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے ، ان کے بالوں اور جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے اور وہ نماز کیلئے چلے جاتے اور میں ان کی قرات سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا مَا يُبَالِي مَا قَبَّلَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنْ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچا رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَائِلٌ قَالَ سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ وَإِنْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا، اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ اعْتَلَجَ نَاسٌ فَأَصَابَ طُنُبُ الْفُسْطَاطِ عَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَضَحِكُوا فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوكُهُ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُطِيعٌ الْغَزَّالُ عَنْ كُرْدُوسٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبِيلِهِ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی ، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْلَا ذَلِكَ أَبْرَزَ قَبْرَهُ وَلَكِنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْ سَالِمًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ سالم کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دے ، پھر وہ اس رضاعت کی وجہ سے ان کے یہاں چلا جاتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَرِجْلِي فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُهَا فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رو رہی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی ، جب وہ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ الْمُقِيمُ فِيهَا كَالشَّهِيدِ وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنْ الزَّحْفِ
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے ، اس میں ثابت قدم والا شہید کی طرح ہوگا، اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ الْعَدَوِيَّةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَارُّ مِنْ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنْ الزَّحْفِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا ۔
-
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى بِهَا طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔
-
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوْتَرَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر پڑھ لیتے تو بیٹھے بیٹھے دو کعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ شَجَّاحٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ بِنْتُ هُذَامٍ الْهُنَائِيَّةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ رُبَّمَا رَأَيْتُ فِي ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَابَةَ فَأَفْرُكُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے بھی اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنْ اللَّهِ حَارِسٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص پر کوئی قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی فکر میں ہو تو اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ لگا رہتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرِضَ قَرَأَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَيَنْفُثُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا ثَقُلَ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِمَا وَأَمْسَحُ بِيَمِينِهِ الْتِمَاسَ بَرَكَتِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر بیمار ہو جاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیتے تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہو جائے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ وَأَبُو الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ فِي رَمَضَانَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِثَلَاثِ مَسَاكِنَ لَهُ فَقَالَ الْقَاسِمُ يُخْرَجُ ذَاكَ حَتَّى يُجْعَلَ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ وَقَدْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کر لیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَأَبُو الْمُنْذِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا فَقَدْ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ قَالَ أَبِي وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ آذَى لِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے کسی دوست کی تذلیل کرتا ہے وہ مجھ سے جنگ کو حلال کر لیتا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے زیادہ بندہ کسی چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرتا اور بندہ میرا قرب حاصل کرنے کے لئے مسلسل نوافل پڑھتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے عطاء کرتا ہوں اور اگر دعاء کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہوں اور مجھے اپنے کسی کام میں ایسا تردد نہیں ہوتا جیسا اپنے بندے کی موت پر ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور میں اسے تنگ کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ بَشَرًا مِنْ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک بشر تھے، وہ اپنے کپڑوں کو صاف کر لیتے تھے، بکری کا دودھ دو لیتے تھے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَا يَرَى بَلَلًا قَالَ لَا غُسْلَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کا حکم پوچھا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے خواب یاد نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ غسل کرے گا، سائل نے پوچھا کہ جو آدمی سمجھتا ہو کہ اس نے خواب دیکھا ہے لیکن اسے تری نہ آئے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ہے، حضرت ام سلیم نے عرض کیا اگر عورت ایسی کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس پر بھی غسل واجب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیونکہ عورتیں مردوں کا جوڑا ہی تو ہیں۔
-
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَصَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ أَوْ فَهُمْ فَاحْذَرْهُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں، اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ، اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں ، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں ۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہذا ان سے بچو۔
-
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الٰہی سمجھ چکا ہوتا ہوں، اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقَعَ أَهْلَهُ ثُمَّ أَصْبَحَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى وَصَامَ يَوْمَهُ ذَلِكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کر لیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ثَقُلَ وَبَدَّنَ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَكَ فَيَقُولُ اللَّهُ فَيَقُولُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقْرَأْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اور وہ جواب دے کہ اللہ نے ، پھر وہ یہ سوال کرے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے تو ایسی صورت میں اسے یوں کہنا چاہیے " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " اس سے وہ دور ہو جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنْ الْإِزَارِ فِي النَّارِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي بِبَعْضِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے ، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کیں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الْوَاشِمَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْمُتَوَاصِلَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کو مل دل کرنے صاف کرنے ، جسم گودنے اور گودوانے ، بال ملانے اور ملوانے سے منع فرمایا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مِرَارًا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ سَمِعَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو، وہ اس طرح واضح گفتگو فرماتے تھے کہ اسے ہر سننے والا محفوظ کر لیتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ وَقَالَ لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھیں، اس دوران انہوں نے اپنے اونٹ پر لعنت بھیجی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دینے کا حکم دیا اور فرمایا میرے ساتھ کوئی ملعون چیز نہیں جانی چاہیے ۔
-
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ عَنْ قُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ فَذَكَرَ قِصَّةً فَقَالَتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي لَهَا فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَسَاءَ الْوُضُوءَ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
ابو سلمہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ فَلَا تُعَاقِبْنِي أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ وَشَتَمْتُهُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنْ اللَّيْلِ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ النَّهَارِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ دَاوُدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرے میں سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ نِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنْ الْغَلَسِ أَوْ قَالَ لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي دَارٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ حَسَنٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي إِذْ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَرْجِعُ قَالَ جَيْشٌ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى فَقَالَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ ثَلَاثًا حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ
حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے ، اور انا للہ پڑھنے لگے ، میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے کہ آپ انا للہ پڑھ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امت کا ایک لشکر شام کی جانب سے آئے گا اور ایک آدمی کو گرفتار کرنے کے لئے بیت اللہ کا قصد کرے گا، اللہ اس آدمی کی اس لشکر سے حفاظت فرمائے گا اور جب وہ لوگ ذوالحلیفہ سے مقام بیداء کے قریب پہنچیں گے تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور انہیں مختلف جگہوں سے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا بات ہوئی کہ ان سب کو دھنسایا تو اکٹھے جائے گا اور اٹھایا مختلف جگہوں سے جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ اس لشکر میں بعض لوگوں کو زبر دستی شامل کرلیا گیا ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ وَفِي كِتَابِ يَعْقُوبَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مَكَانَ الْحَيَّةِ الْفَأْرَةُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے ، بچھو، چوہا، چیل ، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ النَّوْمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ نَوْمُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ عَسَى أَنْ يَذْهَبَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے ، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہو سکتا ہے کہ استغفار کرنے لگے اور بے خبری میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ شَتَمْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے ، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ فَقَالَتْ لِرَسُولِهِ يَا بُنَيَّ إِنِّي لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَرَدُّوهُ فَقَالَتْ إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَاقْبَلِيهِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ
مطلب بن حطیب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے ، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کر لیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ تَأَخَّرْتُ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے ، میں سمجھ جاتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگے ہیں لہذا میں پیچھے ہٹ جاتی ۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح نہیں ہوا اور بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
-
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْفُقْ بِمَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي وَشُقَّ عَلَى مَنْ شَقَّ عَلَيْهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ! جو شخص میری امت پر نرمی کرے تو اس پر نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں ثنیہ اذخر سے داخل ہوئے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ قَالَتْ وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ ذُكِرَ أَنَّ الْحُمَّى صَرَعَتْهُمْ فَمَرِضَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ الْعَنْ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَقُوا قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ صَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ قَالَ فَكَانَ الْمَوْلُودُ يُولَدُ بِالْجُحْفَةِ فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتَّى تَصْرَعَهُ الْحُمَّى حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي حَدِيثَ حَمَّادٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْمَوْلُودِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے ! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی اور کیا شامہ اور طفیل میرے سامنے واضح ہو سکیں گے؟ اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا " حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما، اور اس کی وباء حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ صَوَاحِبِي لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَكَانَتْ تُدْعَى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے ( بھانجے ) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ انتقال تک انہیں " ام عبداللہ " کہہ کر پکارا جاتا رہا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ كَانَ جِبْرِيلُ يُعِيذُهُ بِهِ وَيَدْعُو لَهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ قَالَتْ فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ بِهِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَدْعُو لَهُ بِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ ارْفَعِي عَنِّي قَالَ فَإِنَّمَا كَانَ يَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو میں ان پر وہی کلمات پڑھ کر دم کرنے لگی جن سے حضرت جبریل علیہ السلام انہیں دم کرے تھے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام نشان بھی نہ چھوڑے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑ کر یہ دعاء پڑھنے لگی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا لو، یہ ایک خاص وقت تک ہی مجھے نفع دے سکتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے ، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُسْلِمَ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا قَصَّرَ مِنْ ذُنُوبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ قَالَتْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَيَقُولُ اكْتُبْ عُثْمَانُ قَالَتْ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ ان کے چچا نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیو نکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو لعنت کرے، اس پر خدا کی لعنت نازل ہو ، بخدا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے ! عثمان ! لکھو ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں سے ان کا نکاح کیا تھا، اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ فَأَغْسِلُهُ بِالْخِطْمِيِّ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے خطمی سے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ قِلَادَةُ جَزْعٍ فَقَالَ لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ فَقَالَتْ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِ أُمَامَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس پر مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابو قحافہ کی بیٹی لے گئی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلٌ مِنْ الْإِبِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدْ اعْتَلَّ فَلَوْ أَنَّكِ أَعْطَيْتِيهَا بَعِيرًا قَالَتْ أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ فَتَرَكَهَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى رَفَعَتْ سَرِيرَهَا وَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا يَرْضَى عَنْهَا قَالَتْ فَإِذَا أَنَا بِظِلِّهِ يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ، دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہوگیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے، وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں ناامید ہوگئی اور اپنی چار پائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا ( اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہوگئے)
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَاتُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں مؤخر کر دیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
-
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ جِمَاعٍ لَا احْتِلَامٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لئے نکلتے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل کا وجوب اختیاری طور پر ہوتا تھا، غیر اختیاری طور پر نہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَسَبْعِينَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اسْتُحِضْتُ قَالَ دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَيْفَ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَيَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ نَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ قَالَ لَوْ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَنْقُضَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ
ابوقزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، وہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس کی تعمیر میں شامل کر دیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین ! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، تو عبد الملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر بر قرار رہنے دیتا ۔
-
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَنْبَرِيُّ يُكْنَى أبَا سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ مَدَّتْ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ فَقَالَتْ بَلْ امْرَأَةٌ فَقَالَ لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً غَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرتبہ پردے کے پیچھے سے ایک عورت نے ہاتھ بڑھا کر ایک تحریر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا مجھے کیا خبر کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا؟ اس عورت نے جواب دیا کہ میں عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم عورت ہو تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگ لو۔
-
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَنَمِ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میری نظروں کے سامنے اب بھی وہ منظر موجود ہے، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وراثت میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجنا چاہا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے ، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی اور وہ گھر میں صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی آتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ تُنْتَهَكُ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہ لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر بیمار ہو جاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی ، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہو جائے۔
-
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَثِيرٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَرَاهُ فِي مِرْطِ إِحْدَانَا ثُمَّ يَفْرُكُهُ يَعْنِي الْمَاءَ وَمُرُوطُهُنَّ يَوْمَئِذٍ الصُّوفُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی چادر پر مادہ منویہ کے اثرات دیکھتے تو اسے کھرچ دیتے تھے اور اس دور میں ان کی چادریں اون کی ہوتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَا أَغْسِلُ قَالَ أَبُو قَطَنٍ قَالَتْ مَرَّةً أَثَرَهُ وَقَالَتْ مَرَّةً مَكَانَهُ حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ مَعْنَاهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچ دیتی تھی اور کپڑے کو دھوتی نہیں تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي إِلَيْهِ حَفْصَةُ وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ الْيَوْمَ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں ، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ سَبْيٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی، اس دوران یمن کے قبیلہ خولان سے کچھ قیدی آئے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا، پھر جب مضر کے قیبلہ بنو عنبر کے قیدی آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَقَالَتْ لِي إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَأَفَاقَ فَقَالَ افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ فَقُلْتُ لَكِ أَبِي أَوْ أَبُوكِ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَفَتَحْنَا الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ادْنُهْ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ادْنُهْ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ادْنُهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ لَهُ اخْرُجْ قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ أَوْ قَالَتْ اللَّهُمَّ صِدْقٌ
ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ یہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں آپ کی قسم دیکھ کر پوچھتی ہوں ، اگر میں غلط کہوں تو آپ میری تصدیق نہ کریں اور صحیح کہوں تو تکذیب نہ کریں، آپ کو معلوم ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوگئی، میں نے آپ سے پوچھا کیا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا؟ آپ نے کہا مجھے کچھ معلوم نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہو گیا اور انہوں نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو، میں نے آپ سے پوچھا کہ میرے والد آئے ہیں یا آپ کے ؟ آپ نے جواب دیا مجھے کچھ معلوم نہیں ہم نے دروازہ کھولا تو وہاں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا میرے قریب آجاؤ ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سرگوشی میں کچھ باتیں کیں جو آپ کو معلوم ہیں اور نہ مجھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا میری بات سمجھ گئے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! تین مرتبہ اس طرح سرگوشی اور اس کے بعد یہ سوال جواب ہوئے ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اب تم جا سکتے ہو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا اسی طرح ہے اور یہ بات سچی ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا وَيُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ فَقُلْتُ وَمَا هَذَا الْأَمْرُ قَالَتْ فَتَلَا عَلَيَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ فَقُلْتُ وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُشَاوِرَ أَبَوَيَّ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ وَقَالَ سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ فَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ ثُمَّ يَقُولُ قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ الخ" میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی بات رکھوں گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی بتا دیتے تھے، کہ عائشہ نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کر لیا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو اختیار دیا، ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور ) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ تین دن کے بعد میں حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اورگویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا صَلَّى قَائِمًا وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا صَلَّى قَاعِدًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِهِ حَيًّا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
-
حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ مَكْحُولٌ حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ رِيَاطٍ يَمَانِيَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین یمنی چادروں میں کفنایا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَنَا جَارِيَةٌ لَمْ أَحْمِلْ اللَّحْمَ وَلَمْ أَبْدُنْ فَقَالَ لِلنَّاسِ تَقَدَّمُوا فَتَقَدَّمُوا ثُمَّ قَالَ لِي تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ فَسَكَتَ عَنِّي حَتَّى إِذَا حَمَلْتُ اللَّحْمَ وَبَدُنْتُ وَنَسِيتُ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ لِلنَّاسِ تَقَدَّمُوا فَتَقَدَّمُوا ثُمَّ قَالَ تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي فَجَعَلَ يَضْحَكُ وَهُوَ يَقُولُ هَذِهِ بِتِلْكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی ، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ قَالَتْ فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْعَتَبَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنْ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واقعہ افک کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! اگر تم سے گناہ کا ارادہ ہوگیا ہو تو اللہ سے استغفار کیا کرو کیونکہ گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہی ہے۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيَّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَهِرَ بَعْدَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے پہلے کبھی سوئے اور نہ عشاء کے بعد کبھی قصہ گوئی کی۔
-
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فُرِضَتْ ثَلَاثًا لِأَنَّهَا وِتْرٌ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ لِأَنَّهَا وَتْرٌ وَالصُّبْحَ لِأَنَّهُ يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرات لمبی کی جاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے تھے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنِ النَّخَعِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَلِطَعَامِهِ وَكَانَتْ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنِ النَّخَعِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى وَكَانَتْ الْيُمْنَى لِوُضُوئِهِ وَلِمَطْعَمِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دو رکعتیں ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ قَبْلَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ فَقَالَتْ سَلْ مَا بَدَا لَكَ فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ فَقَالَتْ إِذَا اخْتَلَفَ الْخِتَانَانِ وَجَبَتْ الْجَنَابَةُ فَكَانَ قَتَادَةُ يُتْبِعُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ فَعَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُهُ
عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے حیاء آتی ہے؟ انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو کہ میں تمہاری ماں ہوں ، میں نے عرض کیا ام المومنین ! غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب شرمگاہیں ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد قتادہ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے تو ہم غسل کرتے تھے ، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ جملہ حدیث کا حصہ یہ یا قتادہ کا قول ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ و قَالَ مَرَّةً أُخْرَى الْخَفَّافُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصِيبُ مِنْ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَكَذَا قَالَ الْخَفَّافُ مَرَّةً أُخْرَى
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کا بوسہ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کر جاتا ، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے ، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لے بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سُئِلَ سَعِيدٌ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع وسجود میں یہ پرھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
-
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ إِلَى أَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُرِيدُ قَتْلَهُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کی طرف کسی دھاری دار آلے سے اشارہ کرتا ہے اور قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے قتل کر نا جائز ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ کے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ ظاہر کرنے والا تھا " ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْقِدْرَ فَيَأْخُذُ الذِّرَاعَ مِنْهَا فَيَأْكُلُهَا ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے تو اس میں سے ہڈی والی بوٹی نکالتے اور اسے تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اور نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ أَبُو بَكْرِ بْنِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا فَقَالَ لَهَا إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجْنِبُ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ فَكَفَّ أَبُو هُرَيْرَةَ
ابو بکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو ، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کا روزہ نہ ہوا، حضرت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے ، پھر غسل کر لیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کر لیتے تھے، مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث کہلوا بھیجی اور وہ اپنی رائے بیان کرنے سے رک گئے۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ بَعْضُنَا إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنَا عَنْكِ أَنَّكِ قُلْتِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ أَجَلْ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ہمیں آپ کے حوالے سے یہ حدیث معلوم ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے؟ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمْنَا طَافُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَتْ وَكُنْتُ حَائِضًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَطُوفَ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ نِسَاؤُكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنَا أَرْجِعُ بِحَجَّةٍ فَقَالَ لِي انْطَلِقِي مَعَ أَخِيكِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ ثُمَّ مِيعَادُ مَا بَيْنِي وَبَيْنِكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ فَلَقِيتُهُ بِلَيْلٍ وَهُوَ مُهْبِطٌ أَوْ مُصْعِدٌ قَالَتْ وَقَالَتْ بِنْتُ حُيَيٍّ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَى حَلْقَى مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ أَلَيْسَ قَدْ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَى فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْفِرِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی طواف و سعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایام سے تھیں، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کر آؤ اور فلاں جگہ پر ہم سے ملنا۔ اسی دوران حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے " ایام " شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں ، اب روانہ ہو جاؤ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر رہے تھے اور میں چڑھ رہی تھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قَالَتْ قَدْ عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي وَأَنَا فِي لِحَافِي فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ تِلْقَاءِ رِجْلَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں او رگدھوں کے برابر کر دیا ہے، حالانکہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چارپائی کی پائنتی کی جانب سے کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور ) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ لَعَلَّكُنَّ مِنْ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّا لَنَفْعَلُ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پر دے کو چاک کر دیتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدٌ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہوئے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِيهِ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا نَرَى كَيْفَ نَصْنَعُ أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ السِّنَةَ حَتَّى وَاللَّهِ مَا مِنْ الْقَوْمِ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ نَائِمًا قَالَتْ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ فَقَالَ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ قَالَتْ فَثَارُوا إِلَيْهِ فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قَمِيصِهِ يُفَاضُ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَالسِّدْرُ وَيُدَلِّكُهُ الرِّجَالُ بِالْقَمِيصِ وَكَانَتْ تَقُولُ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل کا ارادہ کیا تو لوگوں کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا اور وہ کہنے لگے بخدا! ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں، عام مردوں کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو کپڑوں سے خالی کریں یا کپڑوں سمیت غسل دے دیں؟ اس اثناء میں اللہ نے ان پر اونگھ طاری کر دی، اور بخدا ایک آدمی ایسا نہ رہا جس کی ٹھوڑی اس کے سینے پر نہ ہو اور وہ سو گیا ، پھر گھر کے کسی کونے سے کسی آدمی کی باتوں کی آواز آئی جسے وہ نہیں جانتے تھے اور وہ کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کپڑوں سمیت ہی غسل دو، چنانچہ لوگ آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دینے لگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر بیری کا پانی انڈیلا جانے لگا اور قمیص کے اوپر سے ہی جسم مبارک کو ملا جانے لگا، حضرتحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر مجھے پہلے ہی وہ بات سمجھ میں آجاتی تو جو بعد میں سمجھ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل ان کی ازواج مطہرات ہی دیتیں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوْ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ قَالَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَنْصِبَ لَهُ حَصِيرًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَتَرَكَ الْحَصِيرَ عَلَى حَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَتْ وَأَمْسَى الْمَسْجِدُ رَاجًّا بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ وَثَبَتَ النَّاسُ قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ النَّاسِ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِكَ الْبَارِحَةَ بِمَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَحَشَدُوا لِذَلِكَ لِتُصَلِّيَ بِهِمْ قَالَتْ فَقَالَ اطْوِ عَنَّا حَصِيرَكِ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ غَافِلٍ وَثَبَتَ النَّاسُ مَكَانَهُمْ حَتَّى خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَقَالَتْ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَيْلَتِي هَذِهِ غَافِلًا وَمَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي تَخَوَّفْتُ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَاكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رمضان المبارک میں لوگ رات کے وقت مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں میں نماز پڑھا کرتے تھے، جس آدمی کو تھوڑا سا قرآن یاد ہوتا اس کے ساتھ کم و بیش چھ آدمی کھڑے ہو جاتے اور اس کے ساتھ نماز پڑھتے ، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حجرے کے دروازے پر چٹائی بچھانے کا حکم دیا، میں نے اسی طرح کیا، پھر نماز عشاء کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان رات میں گھر سے نکلے اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو گئے ، صبح ہوئی تو لوگوں نے ایک دوسرے سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کو گھر سے نکلے تھے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھی تھی، چنانچہ اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق باہر تشریف لائے اور نماز پڑھنے لگے ، لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا ، چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے ، حتیٰ کہ میں نے بعض لوگوں کو " نماز ' نماز " کہتے ہوئے سنا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں نکلے ، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو سلام پھیر کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، توحید و رسالت کی گواہی دی اور اما بعد کہہ کر فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہو چلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ لہٰذا اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي قَالَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ خویلہ بنت حکیم پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حال آئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا عائشہ! خویلہ کی یہ خراب حالت کیوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ ایسی عورت ہے جس کا شوہر نہیں کیونکہ وہ سارا دن روزہ رکھتا ہے اور ساری رات نماز پڑھتا ہے تو یہ ایسے ہی جیسے کسی کا شوہر نہ ہو، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو اسی حال میں چھوڑ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! کیا تم میری سنت سے اعراض کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں بخدا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی سنت کا تو میں متلاشی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اس لئے اے عثمان! اللہ سے ڈرو ، کہ تمہارے اہل خانہ، مہمان اور خود تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا روزہ بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو، نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے حولاء بنت تویت نامی عورت گذری، کسی نے بتایا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت رات بھر نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو رسی باندھ کر اس سے لٹک جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چاہیے کہ جب تک طاقت ہو، نماز پڑھتی رہے اور جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ وَكَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو نہ روکا جائے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ الْعَجْوَةُ فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ قَالَتْ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّه إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ اذْهَبْ إِلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ مَنْ يَقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک یا کئی اونٹ خریدے اور اس کا بدلہ ایک وسق ذخیرہ کھجور ( عجوہ) قرار دی اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کجھوریں تلاش کیں تو نہیں مل سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے اور فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے تم سے ایک وسق ذخیرہ کجھور کے عوض اونٹ خریدے ہیں لیکن میرے پاس اس وقت کجھوریں نہیں ہیں، وہ اعرابی کہنے لگا ہائے! میرے ساتھ دھوکہ ہوگیا لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہنے لگے تجھ پر اللہ کی مار ہو، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دھوکہ دیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار بات کہہ سکتا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اور ہر مرتبہ اس نے یہی کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے ڈانٹا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ وہ بات سمجھ نہیں پا رہا تو اپنے کسی صحابی سے فرمایا خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں اگر تمہارے پاس ایک وسق ذخیرہ کجھور ہوں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم تہمیں واپس لوٹا دیں گے، ان شاء اللہ۔ وہ صحابی چلے گئے ، پھر واپس آکر بتایا کہ وہ کہتی ہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کجھوریں موجود ہیں ، آپ کسی آدمی کو بھیج دیجئے جو آکر لے جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ اور پوری کر کے دے دو، وہ صحابی اس اعرابی کو لے گئے اور اسے پوری پوری کجھوریں دے دیں، پھر اس اعرابی کا گذر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے تھے تو وہ کہنے لگا " جزاک اللہ خیرا " آپ نے پورا پورا ادا کر دیا اور خوب عمدہ ادا کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین بندے وہی پورا کرنے والے اور عمدہ طریقے سے ادا کرنے والے ہی ہوں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجْتُهَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا فَلَمْ يَسْمَعْ لَعِبًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ كَذَا وَكَذَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میری پرورش میں ایک انصاری بچی تھی، میں نے اس کا نکاح کر دیا اس کی شادی والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو کوئی کھیل کود کی آواز نہ سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! انصار کا یہ قبیلہ فلاں چیز کو پسند کرتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ مَا خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، ان میں سے جس کے نام نکل آتا ، اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے ۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ لَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹے کے متعلق حکم نازل کر دیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں، جس کی وجہ سے اب مجھے ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نظر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دس گھونٹ اپنا دودھ پلا دو، چنانچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھتی تھیں کہ یہ حکم سب مسلمانوں کے لئے عام ہے، اور دیگر ازواج مطہرات اسے سالم مولی ابی حذیفہ کے ساتھ خاص سمجھتی تھیں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرًا فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ وَدَخَلَتْ دُوَيْبَةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آیت رجم نازل ہوئی تھی اور بڑی عمر کے آدمی کو دس گھونٹ دودھ پلانے سے رضاعت کے ثبوت کی آیت نازل ہوئی تھی، جو میرے گھر میں چار پائی کے نیچے ایک کاغذ میں لکھی پڑی ہوئی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور ہم ان کی طرف مشغول ہوگئے تو ایک بکری آئی اور اسے کھا گئی۔ فائدہ : ہر ذی شعور آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعُتِقَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ ایک غلام کے نکاح میں تھی، وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے معاملات کا اختیار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ سُجِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ بِثَوْبٍ حِبَرَةٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے ( یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلا انبیاء کرام علیہم السلام اور صدیقین ، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے۔ "
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ سَعْدٌ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَتْ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمَةٌ فَقَالَ وَأَنَا صَائِمٌ ثُمَّ قَبَّلَنِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَائِمَةٌ قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ ثُمَّ قَبَّلَنِي حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ وَإِنَّهُ إِنْ قَامَ فِي مُصَلَّاكَ بَكَى فَمُرْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلْيُصَلِّ بِهِمْ قَالَتْ فَقَالَ مَهْلًا مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ فَعُدْتُ لَهُ فَقَالَ مَهْلًا مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ فَعُدْتُ لَهُ فَقَالَتْ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو ( جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِي حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ہے تو ان کا سر میری گود میں تھا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَلْقَاهُ السَّحَرَ الْآخِرَ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَايَعْتُكِ كَلَامًا وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ مَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں سے اس آیت کی شرائط پر امتحان لیا کرتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کے پاس مومن عورتیں ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری اور بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی، اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو آپ انہیں بیعت کر لیا کریں اور اللہ سے ان کے لئے بخشش کی دعا کیا کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے " حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو مومن عورت ان شرائط کا اقرار کر لیتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زبان سے کہہ دیتے کہ میں نے تمہیں بیعت کر لیا ہے، بخدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ لگا کر بیعت نہیں لی، بلکہ صرف یہی کہہ کر بیعت فرما لیتے تھے کہ میں نے تمہیں بیعت کر لیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بخدا میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے ، اور حبشی صحن میں کرتب دکھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وہ کرتب دکھانے کے لئے اپنی چادر سے پردہ کرنے لگے، میں ان کے کانوں اور کندھے کے درمیان تھی، پھر وہ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں واپس چلی گئیں، اب تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ایک نو عمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنَّا فُضُلٌ وَإِنَّا كُنَّا نَرَاهُ وَلَدًا وَكَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ تَبَنَّاهُ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ مِنْ دُونِ النَّاسِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ سے سالم کو " جو ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے " اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو بنا لیا تھا، زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور اسے وراثت کا حق دار بھی قرار دیتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی انہیں ان کی آباؤ اجداد کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی ہے " ۔اسی پس منظر میں ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا ، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کر دیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پانچ گھونٹ اپنا دودھ پلادو، چنانچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے، اس وجہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جس شخص کو " خواہ وہ بڑی عمر کا ہوتا " اپنے گھر آنے کی اجازت دینا مناسب سمجھتیں تو اپنی کسی بہن یا بھانجی سے اسے دودھ پلوا دیتیں اور وہ ان کے یہاں آتا جاتا، لیکن حضرت ام سلمہ اور دیگر ازواجِ مطہرات اس رضاعت سے کسی کو اپنے یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں کہ ہمیں معلوم نہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ رخصت صرف سالم کے لئے ہو۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَاءَكَ قَالَتْ فَلَمْ يَفْعَلْ قَالَتْ وَكَانَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْنَ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَرَآهَا عُمَرُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات قضاءِ حاجت کے لئے خالی میدانوں کی طرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت سودہ قضاءِ حاجت کے لئے نکلیں ، چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا ( اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے ، انہوں نے حضرت سودہ کو دیکھ کر دور سے ہی پکارا سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ، اور یہ بات انہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے کی امید میں کہی تھی ، چنانچہ آیت حجاب نازل ہو گئی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ فُوَيْسِقٌ قَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو نقصان دہ قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ فَقَالَتْ شَعَرْتُ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَاعَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا يُفْتَنُ الْيَهُودُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ یہ کہہ رہی تھی کیا تمہیں معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ جَاءَهَا أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ وَأَبُو الْقُعَيْسِ أَرْضَعَ عَائِشَةَ فَجَاءَهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ حَتَّى ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنِي لَهُ حِينَ يَأْتِيكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں داخل ہونیکی اجازت مانگی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کر دیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ وَنَفِسَتْ فِيهَا أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَّيْتُ لِأَهْلِكِ الَّذِي عَلَيْكِ عَدَّةً وَاحِدَةً أَيَفْعَلُنَّ ذَلِكَ وَأُعْتِقُكِ فَتَكُونِي مَوْلَاتِي فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكَ لَنَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَلَا مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی ، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدلِ کتابت ادا کر دیتی ہوں لیکن تمہاری وَلاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگا لے ، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ طَامِثٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فَيَتَّكِئُ إِلَى أُسْكُفَّةِ بَابِ عَائِشَةَ فَتَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے ، میں اپنے حجرے ہی میں بیٹھ کر اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ لَهَا صَلَاةُ الْعَتَمَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ الصَّلَاةَ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرَكُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر کر دی ، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے ، اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا یہ اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَتْ كَانَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا كَانَتْ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَمَّ اللَّهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا فِي الْحَضَرِ وَأَقَرَّ الصَّلَاةَ عَلَى فَرْضِهَا الْأَوَّلِ فِي السَّفَرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، سوائے مغرب کے کہ اس کی تین رکعتیں ہی تھیں، پھر اللہ نے حضر میں ظہر اور عشاء کو مکمل کر دیا اور سفر میں ابتدائی فرضیت کو برقرار رکھا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي رَافِعٍ مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ قَالَ تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ آذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا آذَيْتُهُ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا رَافِعٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمْ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَقَامَ فَضَرَبَنِي فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَيَقُولُ يَا أَبَا رَافِعٍ إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ باندی سلمی " جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو رافع کی بیوی تھی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ابو رافع نے اسے مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع سے پوچھا کہ اے ابو رافع ! تمہارا ان کے ساتھ جھگڑا ہوگیا؟ ابو رافع نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمی! تم نے اسے کیا تکلیف پہنچائی ہے؟ سلمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی ، البتہ نماز پڑھتے پڑھتے ان کا وضو ٹوٹ گیا تھا تو میں نے ان سے کہہ دیا کہ اے ابو رافع ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دے رکھا ہے کہ اگر کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کرے ، بس اتنی بات پر یہ کھڑے ہو کر مجھے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنسنے لگے اور فرمایا اے ابو رافع ! اس نے تو تمہیں خیر کی ہی بات بتائی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فَضْلُ الصَّلَاةِ بِالسِّوَاكِ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ سِوَاكٍ سَبْعِينَ ضِعْفًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک کے ساتھ نماز کی فضیلت مسواک کے بغیر پڑھے جانے والی نماز پر ستر گناہ زیادہ ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِتُرْبَانَ بَلَدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ وَأَمْيَالٌ وَهُوَ بَلَدٌ لَا مَاءَ بِهِ وَذَلِكَ مِنْ السَّحَرِ انْسَلَّتْ قِلَادَةٌ لِي مِنْ عُنُقِي فَوَقَعَتْ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِالْتِمَاسِهَا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ الْقَوْمِ مَاءٌ قَالَتْ فَلَقِيتُ مِنْ أَبِي مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ مِنْ التَّعْنِيفِ وَالتَّأْفِيفِ وَقَالَ فِي كُلِّ سَفَرٍ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْكِ عَنَاءٌ وَبَلَاءٌ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الرُّخْصَةَ بِالتَّيَمُّمِ قَالَتْ فَتَيَمَّمَ الْقَوْمُ وَصَلَّوْا قَالَتْ يَقُولُ أَبِي حِينَ جَاءَ مِنْ اللَّهِ مَا جَاءَ مِنْ الرُّخْصَةِ لِلْمُسْلِمِينَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ مَاذَا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِي حَبْسِكِ إِيَّاهُمْ مِنْ الْبَرَكَةِ وَالْيُسْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے، جب مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک علاقے " تربان " جہاں پانی نہیں ہوتا " تو سحری کے وقت میرے گلے سے ہار ٹوٹ کر گر پڑا ، اسے تلاش کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، یہاں صبح صادق ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی تھا نہیں، مجھے اپنے والد صاحب کی طرف سے جو طعنے سننے کو ملے وہ اللہ ہی جانتا ہے کہ مسلمان کو ہر سفر میں تمہاری وجہ سے ہی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ دیر بعد اللہ نے تیمم کی رخصت نازل فرما دی ، اور لوگوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی ، یہ رخصت دیکھ کر والد صاحب نے مجھ سے کہا بیٹا ! بخدا مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیرے رکنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے کتنی آسانی اور برکت نازل فرما دی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلْتُهَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ هُوَ جُنُبٌ وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَتْ كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَنَامُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا یا کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدھی بات کہا کرو، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا کرو اور خوشخبریاں دیا کرو ، یاد رکھو! تم سب سے کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکیں گے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
-
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ قَالَ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ يَعْنِي حِضْتِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ قَالَتْ ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَفَضْتُ يَعْنِي طُفْتُ قَالَتْ فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ قَالَتْ فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنِّي أَنْعَسُ فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ حَتَّى جَاءَ بِي التَّنْعِيمَ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا ، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں ، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کر سکتا ہے، الا یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی ، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہیلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا يَذْكُرُ النَّاسُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفَ وَقَدْ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَشْرَافٌ مِنْ النَّاسِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَحِضْتُ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ مَعَكُمْ عَامِي هَذَا فِي هَذَا السَّفَرِ قَالَ لَا تَفْعَلِي لَا تَقُولِي ذَلِكَ فَإِنَّكِ تَقْضِينَ كُلَّ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ إِلَّا أَنَّكِ لَا تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَمَضَيْتُ عَلَى حَجَّتِي وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَحَلَّ كُلُّ مَنْ كَانَ لَا هَدْيَ مَعَهُ وَحَلَّ نِسَاؤُهُ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ كَثِيرٍ فَطُرِحَ فِي بَيْتِي فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنْ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي فَاتَتْنِي قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي الْحَجِّ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَحَلَلْنَ بِعُمْرَةٍ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ وَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى حُرْمِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا ، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہو گئے ہیں ، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کر سکتا ہے، الا یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی ، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ قَالَ حِينَ قَالُوا خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بِهِ ذَاتُ الْجَنْبِ إِنَّهَا مِنْ الشَّيْطَانِ وَلَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيُسَلِّطَهُ عَلَيَّ
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا لوگ بھی خوفزدہ ہو گئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " ذات الجنب " کی شکایت تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالانکہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا۔
-
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا أَسْمَعُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْبِضْ نَبِيًّا حَتَّى يُخَيِّرَهُ قَالَتْ فَلَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخِرُ كَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْهُ وَهُوَ يَقُولُ بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنْ الْجَنَّةِ قَالَتْ قُلْتُ إِذًا وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الَّذِي كَانَ يَقُولُ لَنَا إِنَّ نَبِيًّا لَا يُقْبَضُ حَتَّى يُخَيَّرَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، انکی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر ملا دیا جائے ( یا دنیا میں بھیج دیا جائے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت وصال جب قریب آیا تو میں نے ان کے منہ سے آخری کلمہ جو سنا وہ یہ تھا " رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں " مجھے وہ بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، اور میں سمجھ گئی کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت ہمیں ترجیح نہ دیں گے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حِينَ دَخَلَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ قَالَتْ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ نَظَرًا عَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أَلَنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ قَالَتْ فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدِّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ وَهُوَ يَقُولُ بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنْ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَالَتْ وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وصال کے دن مسجد سے واپس آکر میری گود میں لیٹ گئے، اسی دوران حضرت صدیق اکبر کے گھر کا کوئی فرد ہاتھ میں سبز مسواک لئے ہوئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اس طرح دیکھا کہ میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے اسے لے کر چبا کر نرم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عمدگی سے مسواک کی جس طرح میں انہیں پہلے کرتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھ دیا، میں نے محسوس کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری ہو رہا ہے، میں نے ان کے چہرے پر نظر ڈالی تو ان کی نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے " جنت میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ " میں نے کہا آپ کو اختیار دیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ، آپ نے اسے اختیار کر لیا اور اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ وَأَضْرِبُ وَجْهِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمَارَةَ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ قَالَتْ مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ مَحَمَّدٌ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَتْ فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو باربار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو ، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
-
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ قَالَ قُلْتُ لِمَعْمَرٍ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ نَعَمْ
رباح کہتے ہیں کہ میں نے معمر سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال بیٹھنے کی حالت میں ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ جزیرہ عرب میں دو دینوں کو نہ رہنے دیا جائے (صرف ایک دین ہو اور وہ اسلام ہو) ۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا قَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ مَا صَنَعُوا
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و انصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ قَالَتْ فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صِدْعَيْنِ فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ وَقَامَتْ طَائِفَةٌ تُجَاهَ الْعَدُوِّ قَالَتْ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتْ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ قَالَتْ فَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامَتْ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ ذات کے موقع پر لوگوں کو نماز خوف پڑھائی ، اور وہ اس طرح کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ایک گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور جو لوگ پیچھے کھڑے تھے انہوں نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر رکے رہے اور مقتدیوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کر لیا، اور کھڑے ہو کر ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پہلے گروہ کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور اس گروہ نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنالی، تکبیر کہی اور خود ہی رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کہا تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا۔اس کے بعد دونوں گروہ اکٹھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساتھ لے کر رکوع کیا، پھر سب نے اکٹھا سجدہ کیا، اور اکٹھے سر اٹھایا اور ان میں سے ہر رکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی کے ساتھ ادا کیا اور حتی الامکان اسے مختصر کرنے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ، اس طرح تمام لوگ مکمل نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سا تھ شریک ہو گئے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَةً عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ صُدْغَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تیل لگاتی تھی تو مانگ سر کے اوپر سے نکالتی تھی اور پیشانی کو چھوڑ دیتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَا يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے تو وہ ناقص ہوتی ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزَّبِيرِ قَالَ حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزَّبِيرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ قَالَ فَقَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی ۔ ابو امامہ " جو اس مجلس میں عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے " کہنے لگے اے ابو عبداللہ ! شاید انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہوتی تھی ، عروہ نے کہا کہ میں آپ کو یقینی بات بتا رہا ہوں اور آپ شک کی بناء پر اسے رد کر رہے ہیں، انہوں نے یہی فرمایا تھا کہ میں ان کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ اللَّيْلِ سِتٌّ مِنْهُنَّ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے چھ رکعتیں دو دو کر کے ہوتی تھیں، اور پانچوں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ فَارِعِ أُجُمِ حَسَّانَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ احْتَرَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ قَالَتْ وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ فَأَتَى رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَيْهِ غِرَارَةٌ فِيهَا تَمْرٌ قَالَ هَذِهِ صَدَقَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا فَقَالَ هَا هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ وَأَيْنَ الصَّدَقَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا عَلَيَّ وَلِي فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ أَنَا وَعِيَالِي شَيْئًا قَالَ فَخُذْهَا فَأَخَذَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " ام حسان " کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں جل گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا، اسی ثناء میں میں ایک آدمی گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کجھوروں کا ایک ٹو کرا تھا، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرا صدقہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں یہاں موجود ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کر دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے علاوہ اور کس پر صدقہ ہو سکتا ہے؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ نہیں پاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم ہی یہ لے جاؤ، چنانچہ اس نے وہ لے لیا۔
-
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الْكَلَاعِيُّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيِّ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ابْنَةِ عُثْمَانَ صَاحِبِ الْكَعْبَةِ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعَتْهَا مِنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ
محمد بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے عدی بن عدی کندی کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے مجھے خانہ کعبہ کے کلید بردار شیبہ بن عثمان کی صاحبزادی صفیہ کے پاس کچھ چیزیں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی تھیں، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے مجھے جو حدیثیں سنائیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا ہے زبر دستی مجبور کرنے پر دی جانے والی طلاق یا آزادی واقع نہیں ہوتی۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنْ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى قَالَ فَقَالَ لَهُمْ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ عَلِمُوا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے مقتولین قریش کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ایک گڑھے میں پھینک دیا جائے ، چنانچہ انہیں پھینک دیا گیا، سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس کا جسم اپنی زرہ میں پھول گیا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ہلانا چاہا لیکن مشکل پیش آئی تو اسے وہیں رہنے دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال کر اسے چھپا دیا اور گڑھے میں باقی سب کو پھینکنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل قلیب! تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا ؟ کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مردوں سے بات کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا بخدا یہ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے سچا وعدہ کیا تھا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ جانتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہیں سنتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کے لیے مال بھیجا، جس میں وہ ہار بھی شامل تھا ، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا اور انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ابوالعاص سے شادی کے موقع پر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس ہار کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید رقت طاری ہو گئی ، اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی چھوڑ دو اور اس کا بھیجا ہوا مال اسے واپس لوٹا دو، لوگوں نے عرض کیا ٹھیک ہے، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ انہوں نے ابوالعاص کو چھوڑ دیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ہار بھی واپس لوٹا دیا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النِّسَاءَ قَدْ غَلَبْنَنَا وَفَتَنَّنَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَيْهِنَّ فَأَسْكِتْهُنَّ قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ يَقُولُ وَرُبَّمَا ضَرَّ التَّكَلُّفُ أَهْلَهُ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَسْكِتْهُنَّ فَإِنْ أَبْيَنَ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ قَالَتْ قُلْتُ فِي نَفْسِي أَبْعَدَكَ اللَّهُ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ نَفْسَكَ وَمَا أَنْتَ بِمُطِيعٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ ، اور عبدالرحمن بن رواحہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر آئی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کر دو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور کہنے لگا میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، بخدا تو وہ کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دیتے اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً قَالَتْ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ قَالَتْ أَنَا وَاللَّهِ قَالَتْ قُلْتُ وَيْلَكِ وَمَا لَكِ قَالَتْ أُقْتَلُ قَالَتْ قُلْتُ وَلِمَ قَالَتْ حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ قَالَتْ فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا وَكَثْرَةِ ضَحِكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی صرف ایک عورت کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا، وہ بھی میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی ، جبکہ باہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قوم کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے اس کا نام لے کر کہا کہ فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ کہنے لگا واللہ! یہ تو میں ہوں، میں نے اس سے کہا افسوس! یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگی کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، میں نے اس سے پوچھا وہ کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک حرکت ایسی کی ہے، چنانچہ اسے لیجا کر اس کی گردن اڑا دی گئی ، بخدا میں اپنے تعجب کو کبھی بھلا نہیں سکتی کہ وہ کتی ہشاش بشاش تھی اور ہنس رہی تھی جبکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ وَقَدْ أَصَابَنِي مِنْ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي قَالَ فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ قَالَتْ فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویریہ بنت حارث ، ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آگئیں، حضرت جویریہ نے ان کے مکاتبت کر لی، وہ بڑی حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا تھا، اس کی نظر ان پر جم جاتی تھی ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، بخدا جب میں نے انہیں اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو مجھے طبیعت پر بوچھ محسوس ہوا اور میں سمجھ گئی کہ میں نے ان کا حسن و جمال دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر ضرور توجہ فرمائیں گے، چنانچہ وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں جویریہ بنت حارث ہوں، جو اپنی قوم کا سردار تھا، میرے اوپر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے ، میں ثابت بن قیس یا اس کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں ، میں نے اس سے اپنے حوالے سے مکاتبت کر لی ہے اور اب آپ کے پاس کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر آئی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بدل کتابت کر کے میں تم سے نکاح کر لوں، انہوں نے حامی بھر لی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، ادھر لوگوں میں خبر پھیل گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے، لوگ کہنے لگے کہ یہ سسرال والے بن گئے، چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے غلام آزاد کر دیئے ، یوں اس شادی کی برکت سے بنی مصطلق کے سو گھرانوں کو آزادی نصیب ہو گئی، اپنی قوم کے لئے اس سے عظیم برکت والی عورت میرے علم میں نہیں۔
-
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ أَفْلَتَ بْنِ خَلِيفَةَ قَالَ أَبِي سُفْيَانُ يَقُولُ فُلَيْتٌ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ وَهُوَ عِنْدِي فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ أَخَذَتْنِي رِعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقَلَّنِي أَفْكَلُ فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ فَرَمَيْتُ بِهَا قَالَتْ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ قَالَتْ قَالَ أَوْلَى قَالَتْ قُلْتُ وَمَا كَفَّارَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ طَعَامٌ كَطَعَامِهَا وَإِنَاءٌ كَإِنَائِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے روئے انور پر غصے کے آثار نظر آئے ، میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ وہ آج مجھ پر لعنت کریں پھر میں نے عرض کے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
-
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مُذْ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ طَعَامٍ حَتَّى تُوُفِّيَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى تُوُفِّيَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک مسلسل پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی مریض کو لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ توہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی ، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا اكْتَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ أَجْرُهُمْ مِنْ أَجْرِ بَعْضٍ شَيْئًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔
-
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے ، اے اللہ میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔
-
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ جُنُبًا لَمْ يَصُمْ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ إِنَّهُ لَا يَقُولُ شَيْئًا قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَغْتَسِلُ فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَيَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالْمَاءُ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ ذَلِكَ صَائِمًا
ابو بکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا ان کی بات کی کوئی اصلیت نہیں، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے ، پھر غسل کر لیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کر لیتے ، پھر بلال آکر نماز کی اطلاع دیتے ، وہ باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھا دیتے اور پانی ا ن کے جسم پر ٹپک رہا ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَنْهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ كَانَ يَنْهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ قُلْتُ فَالسُّفُنُ قَالَتْ إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ وَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا لَمْ أَسْمَعْ
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو نا پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے " سفن " کے متعلق پوچھا تو فرمایا جو سنا وہ بیان کر دیا اور جو نہیں سنا ، وہ بیان نہیں کیا۔
-
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہو سکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
-
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ فِي الْخَمْرِ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اس کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَبُو الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا وَكَانَ الْجِدَارُ بَسْطَةً وَأَشَارَ عَامِرٌ بِيَدِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے سے نہیں نکلی ہوتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كُنَّا لَنَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَبْعَثُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْضَائِهَا إِلَى صَدَائِقِ خَدِيجَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں لکڑی کے ایک عظیم الشان مکان کی خوشخبری دے دوں۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھپکلی نافرمان جانور ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ غَسَلَ يَدَهُ ثُمَّ أَكَلَ وَشَرِبَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کچھ پینا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَهِيَ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى عِوَجٍ فِيهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت تو پسلی کی طرح ہوتی ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے، اس سے تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَذَلِكَ بِمَا كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ ذِكْرِهِ إِيَّاهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آیا، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا بکثرت ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الشَّيْءَ مِنْ الدَّمِ يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ قَالَتْ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ عُرُوقٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَهَاشِمٌ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ وَقَالَ هَاشِمٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ وَقَالَ هَاشِمٌ عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان در رکعتیں پڑھتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ قَالَ قُلْتُ فِي أَيِّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي قَالَتْ كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّى
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے ۔
-
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ ثُمَّ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کر لیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ سَمِعْتُ شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ فِي أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور مدینہ منورہ ہجرت سے دو تین سال پہلے مجھ سے نکاح فرمایا جبکہ میری عمر سات سال کی تھی، جب ہم مدینہ منورہ آئے تو ایک دن کچھ عورتیں میرے پاس آئیں ، میں اس وقت جھولا جھول رہی تھی اور بخار کی شدت سے میرے بہت سے بال جھڑ کر تھوڑے ہی رہ گئے تھے ، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے تیار کرنے لگیں اور بناؤ سنگھار کر کے مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تخلیہ فرمایا، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلَيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ الْأَحْزَابِ دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ يَغْتَسِلُ وَجَاءَ جِبْرِيلُ فَرَأَيْتُهُ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَوَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ فَقَالَ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ احزاب سے فارغ ہو گئے تو غسل کرنے کے لئے غسل خانے میں چلے گئے، اتنی دیر میں حضرت جبریل علیہ السلام آگئے، میں نے دروازے کے سوراخ سے انہیں دیکھا کہ ان کے سر پر گردوغبار ہے، اور وہ کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا؟ ہم نے تو اب تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو جائیے ۔
-
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَيْنِ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بد سے یوں دم کرتی تھی " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی " ۔
-
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و عَنْ بَعْضِ شُيُوخِهِمْ أَنَّ زِيَادًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ حَدَّثَهُمْ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي وَأَضْرِبُهُمْ وَأَسُبُّهُمْ فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَسْبِ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَيُكَذِّبُونَكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ إِنْ كَانَ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ عَلَيْهِمْ وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قِبَلَكَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَهْتِفُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهُ مَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ يَعْنِي عَبِيدَهُ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سامنے بیٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے کچھ غلام ہیں، وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، خیانت بھی کرتے ہیں اور میرا کہا بھی نہیں مانتے ، پھر میں انہیں مارتا ہوں اور برا بھلا کہتا ہوں، میرا ان کے ساتھ کیا معاملہ رہے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خیانت ، جھوٹ اور نافرمانی اور تمہاری سزا کا حساب لگایا جائے گا، اگر تمہاری سزا ان کے جرائم سے کم ہوئی تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہوگی اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں کے برابر نکلی تو معاملہ برابر برابر ہوجائیگا، تمہارے حق میں ہوگا اور نہ تمہارے خلاف اور اگر سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو اس اضافے کا تم سے بدلہ لیا جائے گا، اس پر وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رونے لگا اور چلانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیا ہوا؟ کیا یہ قرآن کریم میں یہ آیت نہیں پڑھتا اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے، لہٰذا کسی پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا اور وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہوا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں، اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سے بہتر کوئی حل نہیں پاتا کہ ان سب غلاموں کو اپنے سے جدا کر دوں، اس لئے میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرات کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔
-
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا الْكَوْثَرُ قَالَتْ نَهَرٌ أُعْطِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا بُطْنَانُ الْجَنَّةِ قَالَتْ وَسَطُهَا حَافَّتَاهُ دُرَّةٌ مُجَوَّفٌ
ابو عبیدہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ " کوثر " سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک نہر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " بطنانِ جنت " میں دی گئی ہے، میں نے پوچھا کہ " بطنانِ جنت " سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا وسط جنت اور اس کے دونوں کنارے پر جوف دار موتی لگے ہوں گے۔
-
هَذِهِ الْأَحَادِيثُ زِيَادَاتُ عَبْد اللَّهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى آخِرِهَا فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا خَادِمًا وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ مَا نِيلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَانْتَقَمَهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ قَالَتْ مَا عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَانِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ الَّذِي هُوَ الْأَيْسَرُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
عبداللہ کہتے ہیں کہ آگے کی بقیہ تمام احادیث میں نے اپنے والد کے مسودے میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا ، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الا یہ کہ راہ خدا میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے، الا یہ کہ وہ گناہ ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
-
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ كِلَاهُمَا يَغْتَرِفُ مِنْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے اور اس سے چلو بھرتے تھے۔
-
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہو گیا ہے۔
-
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَتَرَتْ عَلَى بَابِهَا دُرْنُوكًا فِيهِ خَيْلٌ أُولَاتُ أَجْنِحَةٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَمَرَهَا فَنَزَعَتْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارنے کا حکم دیا تو انہوں نے اسے اتار دیا۔
-
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ لَمْ يَخْرُجْ مِنْ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو مسجد سے صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی نکلتے تھے۔
-
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ فَوَاللَّهِ مَا هُمَا بِكَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَا مُتَزَيِّدَيْنِ إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ وَمَرَّ بِأَهْلِهِ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُعَذِّبُهُ فِي قَبْرِهِ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ، کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ اپنے والد کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اشارہ نقل کرتے ہیں کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، بخدا وہ جھوٹ بولنے والے نہیں، انہیں غلط بات بھی نہیں بتائی گئی اور نہ انہوں نے دین میں اضافہ کر لیا، در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یہودی کی قبر پر گزر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے ، اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔
-
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ قَالَ حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ لَاسْتَخْلَفَهُ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی کسی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا، اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے ۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
-
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ هَذَا آخِرُ مُسْنَدِ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ مسروق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جبکہ وہ محرم ہوتے تھے۔
-