Musnad Ahmad — Hadith 23391
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَعَكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى قَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ تَغَنَّى فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر کو جب بخار ہو ا تو وہ کہنے لگے "ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ "حضرت بلال کو جب بخار کچھ کم ہو تا تو وہ یہ شعر پڑھتے "ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ "فخ" میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور"جلیل" نامی گھاس ہو گی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور شامہ اور طفیل میرے سامنے آسکیں گے، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا فرما، جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا۔ "
-