TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 23500 · A B C

Musnad AhmadHadith 23500

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرَهَا فَقَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا فَقَالَ أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتَ تَفْعَلُ قَالَ جِئْتُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا فَقَالَتْ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالَ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا أَوْ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ أَيَّتُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَإِحْدَاهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَتْ أَيَّتُهُمَا قُلْتُ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ أَوْ قَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حَرْفٌ

ابو خلف "جو بنو جمح کے آزاد کردہ غلام ہیں" کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو چشمہ زمزم کے پاس تھیں اور اس وقت پوری مسجد میں اس کے علاوہ کہیں اور سایہ نہ تھا، انہوں نے فرمایا ابوعاصم یعنی عبید بن عمیر کو خو ش آمدید، تم ہم سے ملاقات کے لئے کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے عرض کیا اس خوف سے کہ کہیں آپ اکتا نہ جائیں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، عبید نے عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کون سی آیت؟ عبید نے عرض کیا" کہ یہ آیت اس طرح ہے الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا یا اس طرح ہے الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قراءتوں میں سے کون سی قرات پسند ہے؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرات تو مجھے تمام دنیا و مافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی؟ عبید نے عرض کیا الذین یاتون ما ا تو ا انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں(دونوں کا مادہ ایک ہی ہے)

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات