Musnad Ahmad — Hadith 23578
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ فَقَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقُلْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ فَقَرَأَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ حَتَّى بَلَغَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی تو میں اس سے ناواقف تھی، کچھ عرصے بعد مجھے اس کے متعلق پتہ چلا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی، نزولِ وحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی، بہر کیف! نزول وحی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا یا اور پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے ، اور فرمایا عائشہ! خوشخبری قبول کرو، میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت الَذِینَ یَرمُونَ المُحصَنَاتِ حَتی بَلَغَ مُبرَوُونَ مِمَا بَقُولوُ نَ۔
-