TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 23725 · A B C

Musnad AhmadHadith 23725

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أُخْتِي لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ تَعْظِيمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَمْرًا عَجِيبًا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَأْخُذُهُ الْخَاصِرَةُ فَيَشْتَدُّ بِهِ جِدًّا فَكُنَّا نَقُولُ أَخَذَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِرْقُ الْكُلْيَةِ لَا نَهْتَدِي أَنْ نَقُولَ الْخَاصِرَةَ ثُمَّ أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَاشْتَدَّتْ بِهِ جِدًّا حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ وَخِفْنَا عَلَيْهِ وَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَظَنَنَّا أَنَّ بِهِ ذَاتَ الْجَنْبِ فَلَدَدْنَاهُ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفَاقَ فَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ لُدَّ وَوَجَدَ أَثَرَ اللَّدُودِ فَقَالَ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَلَّطَهَا عَلَيَّ مَا كَانَ اللَّهُ يُسَلِّطُهَا عَلَيَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ إِلَّا عَمِّي فَرَأَيْتُهُمْ يَلُدُّونَهُمْ رَجُلًا رَجُلًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَمَنْ فِي الْبَيْتِ يَوْمَئِذٍ فَتَذْكُرُ فَضْلَهُمْ فَلُدَّ الرِّجَالُ أَجْمَعُونَ وَبَلَغَ اللَّدُودُ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلُدِدْنَ امْرَأَةٌ امْرَأَةٌ حَتَّى بَلَغَ اللَّدُودُ امْرَأَةً مِنَّا قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ لَا أَعْلَمُهَا إِلَّا مَيْمُونَةَ قَالَ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنِّي وَاللَّهِ صَائِمَةٌ فَقُلْنَا بِئْسَمَا ظَنَنْتِ أَنْ نَتْرُكَكِ وَقَدْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَدَدْنَاهَا وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ

عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے بھانجے! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا کی تعظیم کرتے ہوئے، اس دوران ایک تعجب خیز چیز دیکھی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوکھ میں درد ہو تا اور بہت شدید ہوجاتا، ہم سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرق النساء کی شکایت ہے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس عارضے کو "خاصرہ" کہتے ہیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ درد شروع ہو ا، اور اتنا شدید ہو ا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، ہمیں اندیشے ستانے لگے، لوگ بھی خوفزدہ ہو گئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "ذات الجنب" کی شکایت تھی، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی اور طبیعت کچھ سنبھلی تو آپ کو اندازہ ہو گیا کہ ان کے منہ میں دوا ٹپکائی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اثر محسوس کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالا نکہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، گھر میں میرے چچا کے علاوہ کوئی آدمی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے، چنانچہ میں نے دیکھا کہ ان سب کے منہ میں ایک ایک مرد کو لے کر دواڈالی گئی، پھر حضرت عائشہ نے اس موقع پر گھر میں موجود افراد کی فضیلت کا ذکر کیا اور فرمایا جب تمام مردوں کے منہ میں دوا ڈالی جا چکی اور ازواج مطہرات کی باری آئی تو ایک ایک عورت کے منہ میں دوا ڈالی گئی، فرمایا تم کیا سمجھتی ہو کہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم دلائی، اور ہم نے ان کے منہ میں بھی دوا ڈال دی جبکہ اے بھانجے! بخدا وہ روزے سے تھیں۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات