Musnad Ahmad — Hadith 2411
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کانام " مغیث " تھا میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، بریرہ کے آقاؤں نے اس کی فروخت کو اپنے لئے ولاء کے ساتھ مشروط کیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے بریرہ کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہوگئی ہے)
-