TrueHadith

عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad AhmadHadith 1741

أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُذْهِبِ الْوَاعِظُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ وَمُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1742

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو جو اللہ تنہا چاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1743

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے حکمت و دانائی کی دعاء فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1744

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ اسْقُونِي فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنْ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا مجھے پانی پلاؤ، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1745

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سنی سنائی خبر عینی مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1746

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ان ہی کے یہاں تھے، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لیے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بالوں کی ایک لٹ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1747

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کوخیار عتق مل گیا ( اور اس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر مغیث سے علیحدگی اختیار کرلی) تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لوگوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کے لئے کہا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ تمہارا شوہر ہے، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کا حکم دے رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں اور انہیں اختیار دے دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا ، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر آل مغیرہ کا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1748

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1749

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک٦٥برس تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1750

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الطَّعَامُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1751

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ وَإِذَا لَمْ يَجِدْ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1752

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1753

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1754

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ هَلُمَّ الْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا ادھر آ کر میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ہاں ! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1755

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ مِنْ الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1756

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ آیت قرآنی " ولاتجھر بصلاتک و لاتخافت بہا " جس وقت نازل ہوئی ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں روپوش تھے، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اتنی بلند آواز سے قرات نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1757

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالُوا هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ هَابِطٌ مِنْ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ حَتَّى أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَاءَ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَاءَ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ قَالَ هُشَيْمٌ يَعْنِي لِيفٌ وَهُوَ يُلَبِّي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر وادی ازرق پر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ وادی ازرق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گویا ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت موسی علیہ السلام کو ٹیلے سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بآواز بلند تلبیہ کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " ثنیہ ہرشی" نامی جگہ پر پہنچ گئے اور فرمایا کہ یہ کون سا " ٹیلہ " ہے، لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ثنیہ ہرشی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہاں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام کو ایک سرخ، گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، انہوں نے اون کا بنا ہوا جبہ زیب تن کر رکھا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کی ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1758

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَصْحَابُنَا مِنْهُمْ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَرَ بَدَنَتَهُ مِنْ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اسکے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1759

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ الْأَسْدِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ وَقَالَ إِنَّا مُحْرِمُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ اسدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کی ٹانگ پیش کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ واپس لوٹا کر فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1760

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَجَعَلَ يَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1761

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فَجَعَلَ يَقُولُ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو مناسک حج میں سے کسی کو مقدم کر دے اور کسی کو مؤخر؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1762

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ فَقَالَ رَجُلٌ وَلِلْمُقَصِّرِينَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ فَقَالَ الرَّجُلُ وَلِلْمُقَصِّرِينَ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے، ایک صاحب نے عرض کیا قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1763

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1764

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتْ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَأَنْجَاهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صُومِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روزے رکھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1765

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب اپنی سواریوں کی طرف لوٹتے ہیں یعنی سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، اس کی کیا حقیت ہے؟ فرمایا یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1766

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ ذُو الرُّوحِ غَرَضًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1767

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی اور ایک لمبی سورت کی تلاوت فرمائی، پھر رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر قراءت کی، پھر رکوع کر کے دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہو کر قراءت، رکوع اور دو سجدے کیے، اس طرح دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1768

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ قَالَ فَعُرِفَ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بے دخل کیا گیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ افسوس کے ساتھ فرمانے لگے ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا اور اناللہ پڑھنے لگے اور فرمایا کہ یہ ضرور ہلاک ہو کر رہیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جن لوگوں سے قتال کیا گیا، انہیں اب اجازت دی جاتی ہے (کہ تلوار اٹھالیں ) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے، اسی وقت وہ سمجھ گئے کہ اب قتال ہو کر رہے گا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اذن قتال کے سلسلے میں یہ سب سے پہلی آیت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1769

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ عَاقِدًا وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہو گا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1770

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنْ قُدِرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ الشَّيْطَانُ أَبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آ کر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1771

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ أَوْ قَالَ عَامَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لیے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1772

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِي عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ فَقَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ وَلَمْ يَسْمَعْ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ مِنْ أَبِي التَّيَّاحِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اٹھارہ اونٹ دے کر کہیں بھیجا اور اسے جو حکم دینا تھا دے دیا، وہ آدمی چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بتائیے، اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں تربتر کر لینا، پھر اس کے سینے پر لگانا، لیکن تم یا تمہارے رفقاء میں سے کوئی اور اس کا گوشت نہ کھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1773

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا فَقَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1774

و قَالَ لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ فَمَحَوْا زِينَتَهُ وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ

اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر لعنت فرمائے، جو ایام حج میں سے ایک عظیم ترین دن کو پائے اور پھر اس کی زینت مٹا ڈالے، حج کی زینت تو تلبیہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1775

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ وَكُنْتُ قَاتِلَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فَقَالَ وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہوسکی؟)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1776

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بری مثال ہمارے لیے نہیں ہے، جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1777

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ مجھے اسی سال اٹھا لیا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1778

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالظُّهْرِ وَالْعَصْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران مغرب اور عشاء،ظہر اور عصر کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1779

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ مَلْعُونٌ مَنْ كَمَهَ أَعْمَى عَنْ طَرِيقٍ مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1780

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابو العاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو نکاح نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1781

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بِالْبَيْتِ فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ صَدَقْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے تمام کونوں کا استلام کرنے لگے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ ان دو کونوں کا استلام کیوں کر رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استلام نہیں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو ترک نہیں کیا جا سکتا، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی کہ تمہارے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1782

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْعَمَّتَيْنِ وَالْخَالَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی اور خالہ کو یا دو پھوپھیوں اور دوخالاؤں کو جمع کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1783

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا السَّدَى وَالْعَلَمُ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيَّ قَالَ قَالَ خُصَيْفٌ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُصْمَتِ مِنْهُ فَأَمَّا الْعَلَمُ فَلَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش ونگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کے نقش و نگار ریشم کے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1784

حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَامِرِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد مسواک فرمایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1785

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَرُمِيَ بِنَجْمٍ عَظِيمٍ فَاسْتَنَارَ قَالَ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ كُنَّا نَقُولُ يُولَدُ عَظِيمٌ أَوْ يَمُوتُ عَظِيمٌ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ أَكَانَ يُرْمَى بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنْ غُلِّظَتْ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيُخْبِرُونَهُمْ وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ سَمَاءً حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ وَيَزِيدُونَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِذَا قَضَى رَبُّنَا أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ فَيَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ وَيَأْتِي الشَّيَاطِينُ فَيَسْتَمِعُونَ الْخَبَرَ فَيَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيَرْمُونَ بِهِ إِلَيْهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَزِيدُونَ فِيهِ وَيَقْرِفُونَ وَيَنْقُصُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب زمانہ جاہلیت میں اس طرح ہوتا تھا تو تم لوگ کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم کہتے تھے کسی عظیم آدمی کی پیدائش یا کسی عظیم آدمی کی موت واقع ہونے والی ہے (راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کیا زمانہ جاہلیت میں بھی ستارے پھینکے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں ! لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سختی ہوگئی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ستاروں کا پھینکا جانا کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں ہوتا اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے ، پھر اس آسمان والے فرشتے جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہو جاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے ، پھر اس آسمان والے فرشتے جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہو جاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1786

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمَا قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَلَمَّا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو با ربار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1787

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو فرمایا کہ٢٩ کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1788

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1789

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِنَّ نَبِيُّ اللَّهِ وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ فَقِيلَ لَهُ فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ فَغَضِبَ مِنْهَا وَقَالَ أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض نمازوں میں جہری قراءت فرماتے تھے اور بعض میں خاموش رہتے تھے، اس لئے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قراءت فرماتے تھے ان میں ہم بھی قراءت کرتے ہیں اور جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے تھے، ہم بھی ان میں سکوت کرتے ہیں، کسی نے کہا شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سری قراءت فرماتے ہوں؟ اس پر وہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے کہ کیا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تہمت لگائی جائے گی؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1790

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1791

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً وَيُسْنِدُ ذَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھو لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1792

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رِدْفُهُ فَقَالَتْ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مزدلفہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1793

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے ہم ایک صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گئے، اسے چڑنے کے لئے چھوڑ دیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1794

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِسُفْيَانَ قَوْلُهُ إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَذَا فِي الْحَدِيثِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام " کدید " میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل کو بطور حجت لیا جاتا ہے، سفیان سے کسی نے پوچھا کہ یہ آخری جملہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے یا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا؟ تو انہوں نے فرمایا حدیث میں یہ لفظ اسی طرح آیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1795

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ اقْضِهِ عَنْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے؟ فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1796

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات پر قسم دلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم نہ دلاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1797

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1798

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وادی محسر میں نہ رکو اور ٹھیکری کی کنکریاں اپنے اوپر لازم کر لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1799

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1800

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَمَنْ أَنْتُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَتْ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم " روحاء" نامی جگہ میں تھے کہ سواروں کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور فرمایا آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا مسلمان، پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا پیغمبر ہوں، یہ سنتے ہی ایک عورت جلدی سے گئی، اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1801

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ غَيْرَهُ قَالَ سَمِعْتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں ایک مرتبہ اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، لوگ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! نبوت کی خوشخبری دینے والی چیزوں میں سوائے ان اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں بچا جو ایک مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لئے کسی کو دکھائے جاتے ہیں، پھر فرمایا مجھے رکوع یا سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، اس لئے تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب توجہ سے دعاء مانگا کرو ، امید ہے کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1802

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کو اللہ کے عذاب جیسا عذاب نہ دو۔ (آگ میں جلا کر سزا نہ دو)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1803

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر صدقہ دینے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1804

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا قَالَ سَفْيَانُ كَذَا أَحْسَبُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے کنوئیں سے ڈول نکال کر اس کا پانی کھڑے کھڑے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1805

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّرْبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا قَالَ مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پی رہے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہ دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پینے کا حق تو تمہارا ہے لیکن اگر تم چاہو تو میں خالد کو ترجیح دے کریہ دے دوں؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مشروب پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1806

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ فَلَمْ يَزَلْ بِهَا بَنُو أَخِيهَا قَالَتْ أَخَافُ أَنْ يُزَكِّيَنِي فَلَمَّا أَذِنَتْ لَهُ قَالَ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ يُفَارِقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا طَيِّبًا وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَنَزَلَتْ فِيكِ آيَاتٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَلَيْسَ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا يُتْلَى فِيهِ عُذْرُكِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْ تَزْكِيَتِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، وہ کہنے لگیں مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آ کر میری تعریفیں کریں گے، بہرحال! انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ آپ کے اور دیگر دوستوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا تو آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، بخدا! میری تو خواہش ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (کہ میں برابر سرابر چھوٹ جاؤں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1807

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَهَا إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہو جائے اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے ہی طے ہوچکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1808

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1809

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ مَا ضَرَّهُ الشَّيْطَانُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1810

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ

عبدالعزیز بن رفیع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہی چیز چھوڑی ہے جو دو لوگوں کے درمیان ہے (یعنی قرآن کریم) ہم محمد بن علی کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، بہتر ہوتا کہ وہ (وحی کا لفظ استعمال کرتے (تاکہ حدیث کو بھی شامل ہوجاتا)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1811

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ وَقَالَ مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن کریم کا نزول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی تھی کہ اسے ساتھ ساتھ یاد کرتے جائیں، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ اپنی زبان کو مت حرکت دیں اور آپ جلدی نہ کریں ، اسے جمع کرنا اور پڑھنا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ چکیں تب آپ پڑھا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1812

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ فَكُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے تو لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگتے، راوی کہتے ہیں کہ ہم عمرو سے کہتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1813

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا صَنَعَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ فَصَلَّى فَحَوَّلَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کر کے کھڑے ہوگئے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1814

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً غُرْلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران خطبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن، پیدل اور غیر مختون ہونگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1815

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسِّلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَادْفِنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُهِلًّا وَقَالَ مَرَّةً يُهِلُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھے، ایک آدمی حالت احرام میں اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1816

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ آیت ذیل کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے کہ اس سے مراد آنکھوں کی وہ رؤیت ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج دکھائی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1817

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1818

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ قَالَ وَأَنَا أَظُنَّ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا اے ابو الشعثاء! میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں، اسی طرح مغرب کو اس کے آخر وقت میں عشاء کو اول وقت میں پڑھ لیا ہوگا؟ (اسی کو انہوں نے جمع بین الصلاتین سے تعبیر کر دیا) تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال بھی یہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1819

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو قَالَ أَبُو الشَّعْثَاءِ مَنْ هِيَ قَالَ قُلْتُ يَقُولُونَ مَيْمُونَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1820

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1821

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے رمل اس لئے کیا تھا کہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1822

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو أَوَّلًا فَحَفِظْنَا عَنْ طَاوُسٍ وَقَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ أَبِي وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ وَقَالَ عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1823

قَالَ أَبِي و قَالَ سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1824

قَالَ أَبِي و قَالَ سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وادی محصب کچھ بھی نہیں ہے، وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منزل کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1825

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا کافی حصہ اللہ کی مشیت کے مطابق بیت گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ! عورتیں اور بچے تو یوں ہی سو گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1826

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعَرَهُ وَثِيَابَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیاہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1827

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1828

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ قَالَ ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ مُقِيمًا غَيْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِيًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں مقیم ہونے کی حالت میں نہ کہ مسافر ہونے کی حالت میں (مغرب اور عشاء کی) سات اور (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1829

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَوْسَجَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہو گیا، اس کا کوئی وارث نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کر دیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث عطاء فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1830

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ أَوْ قَالَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تک چاند کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھو، یایہ فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1831

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ وَقَالَ مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَوَضَّأُ قَالَ لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1832

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لَهُ حَدَّثْتَنِي قَالَ لَا مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کی آواز سے ہوتا تھا ۔ فائدہ : اس سے مراد اختتام نماز کے بعد جب امام سر پر ہاتھ رکھ کر ا للہ اکبر یا استغفر اللہ کہتا ہے، وہ تکبیر ہے، ورنہ نماز کا اختتام تکبیر پر نہیں، سلام پر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1833

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ إِلَى الْحَجِّ وَإِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا قَالَ انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1834

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ وَقَالَ مَرَّةً دُمُوعُهُ الْحَصَى قُلْنَا يَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي هَذَى اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَمَرَ بِثَلَاثٍ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَوْصَى بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنْ الثَّالِثَةِ فَلَا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا وَقَالَ مَرَّةً أَوْ نَسِيَهَا و قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا أَوْ نَسِيَهَا

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑےحتی کہ ان کے آنسوؤں سے وہاں پڑی کنکریاں تربتر ہوگئیں، ہم نے پوچھا اے ابوالعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں اضافہ ہو گیا تھا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، لوگوں میں اختلاف پیدا ہو گیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں یہ مناسب نہ تھا، لوگ کہنے لگے کہ کیا ہوگیا، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہکی بہکی باتیں کر سکتے ہیں؟ جا کر دوبارہ پوچھ لو کہ آپ کی منشاء کیا ہے؟چنانچہ لوگ واپس آئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، آنے والے مہمانوں کا اسی طرح اکرام کرو جس طرح میں کرتا تھا اور تیسری بات پر سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے سکوت اختیار کیا ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ جان بوجھ کر خاموش ہوئے تھے یا بھول گئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1835

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْفِرُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ لوگ حج کر کے جس طرح چاہتے تھے چلے جاتے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص بھی اس وقت تک واپس نہ جائے جب تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1836

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے اور اس کی مدت متعین کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1837

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ غَيْرَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ شَهْرَ رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشوراء کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1838

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1839

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1840

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ سَالِمٍ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَسَخَهَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَهَا قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى

حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا پھر توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کیے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ قاتل کے ساتھ لپٹا ہوا ہوگا اور کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟ بخدا! اللہ نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی تھی اور اسے نازل کرنے کے بعد کبھی منسوخ نہیں فرمایا، تم پر افسوس ہے، اسے ہدایت کہاں ملے گی؟ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے، جہمور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کرلے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت وہ جہنم سے کسی نہ کسی وقت ضرور نجات پاجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1841

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک اس قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا اور ایک نجرانی حلے میں اور حلے میں دو کپڑے ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1842

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1843

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1844

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هِشَامٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک٦٥برس تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1845

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ وَفِي قَوْلِهِ يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ قَالَ كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ وَفِي قَوْلِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ قَالَ هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنْ الْأَرْضِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آخری وہ سختی جس سے مسلمان کا سامنا ہوگا ، وہ موت ہے، نیز وہ فرماتے ہیں کہ " یوم تکون السماء کالمہل " میں لفظ " مہل " سے مراد زیتون کے تیل کا وہ تلچھٹ ہے جو اس کے نیچے رہ جاتا ہے اور " آناء اللیل " کامعنی رات کا درمیان ہے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ علم کے چلے جانے سے کیا مراد ہے ؟ اس سے مراد زمین سے علماء کا چلے جانا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1846

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص جس کے پیٹ میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1847

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دے دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار! مجھے عمدگی کے ساتھ داخل فرما اور عمدگی کے ساتھ نکلنا نصیب فرما اور اپنے پاس سے مجھے ایسا غلبہ عطاء فرما جس میں تیری مدد شامل ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1848

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہو سکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1849

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے "۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1850

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1851

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةُ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا ذکر کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1852

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1853

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرِنِي الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْكَ فَإِنِّي مِنْ أَطَبِّ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُرِيكَ آيَةً قَالَ بَلَى قَالَ فَنَظَرَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ ادْعُ ذَلِكَ الْعِذْقَ قَالَ فَدَعَاهُ فَجَاءَ يَنْقُزُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَقَالَ الْعَامِرِيُّ يَا آلَ بَنِي عَامِرٍ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَسْحَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو عامر کا ایک آدمی آیا، اس نے کہا یا رسول اللہ! مجھے اپنی وہ مہر نبوت دکھائیے جو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، میں لوگوں میں بڑا مشہور طبیب ہوں (اس کا علاج کر دیتا ہوں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کو ٹالتے ہوئے فرمایا کیا میں تمہیں ایک معجزہ نہ دکھاؤں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے ایک درخت پر نگاہ ڈال کر فرمایا اس ٹہنی کو آواز دو، اس نے آواز دی تو وہ ٹہنی اچھلتی کودتی ہوئی آ کر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنی جگہ واپس چلی جاؤ، چنانچہ وہ اپنی جگہ واپس چلی گئی، یہ دیکھ کر بنو عامر کا وہ آدمی کہنے لگا اے آل بنی عامر! میں نے آج کی طرح کا زبردست جادوگر کبھی نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1854

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَإِنَّ عَادًا أُهْلِكَتْ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1855

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى قَالَ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِهِ مَرَّتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ " آنکھ نے جو دیکھا، دل نے اس کی تکذیب نہیں کی" سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسم نے اپنے دل کی آنکھوں سے اپنے پروردگار کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1856

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا يَعْنِي الذَّكَرَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہو، وہ اسے زندہ درگور کرے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھے اور نہ ہی لڑکے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1857

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ١٩دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے، اس لئے ہم بھی جب سفر کرتے ہیں اور١٩دن تک ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعت کر کے یعنی قصر کر کے نماز پڑھتے ہیں اور جب اس سے زیادہ دن ٹھہرتے ہیں تو چار رکعتیں یعنی پوری نماز پڑھتے ہیں.

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1858

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مِنْ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1859

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَكَانَ عِكْرِمَةُ يَكْرَهُ بَيْعَ الْفَصِيلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع وشراء میں محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عکرمہ اس کھیتی کی بیع وشراء کو مکروہ جانتے تھے جو ابھی تیار نہ ہوئی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1860

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشَ يَنْهَاهُمْ أَنْ يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جرش کی طرف ایک خط لکھا جس میں انہیں اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1861

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تدفین کے بعد ایک صاحب کی قبر پر نماز جنازہ پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1862

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ يُنْقَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ قَالَ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهَرَاقُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کشمش پانی میں بھگوئی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے آج، کل اور پرسوں کی شام تک نوش فرماتے، اس کے بعد کسی دوسرے کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1863

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَجْلَحُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟) یوں کہو جو اللہ تن تنہا چاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1864

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحراء میں نماز پڑھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور سترہ کے کچھ نہیں تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1865

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو کسی سریہ میں بھیجا اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ سوچ کر آگے روانہ کر دیا کہ میں پیچھے رہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لوں، پھر ان کے ساتھ جا ملوں گا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آپ زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کر دیں تو آپ ان کی اس صبح کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1866

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ وَعَنْ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ وَعَنْ الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يَخْرُجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَعَنْ الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ

عطاء کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ایک خط میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بچوں کو قتل کرنے کے متعلق دریافت کیا اور یہ پوچھا کہ " خمس " کس کا حق ہے؟ بچے سے یتیمی کا لفظ کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتوں کو جنگ میں لے کر نکلا جا سکتا ہے؟ کیا غلام کا مال غنیمت میں کوئی حصہ ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں لکھا کہ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اگر تم خضر علیہ السلام ہو کر مومن اور کافر میں فرق کر سکتے ہو تو ضرور قتل کرو، جہاں تک خمس کامسئلہ ہے تو ہم یہی کہتے تھے کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم کا خیال ہے کہ ہمارا حق نہیں ہے، رہا عورتوں کا معاملہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں لیکن جنگ میں شریک نہیں ہوتی تھیں اور بچے سے یتیمی کا داغ اس کے بالغ ہونے کے بعد دھل جاتا ہے اور باقی رہا غلام تو مال غنیمت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ انہیں بھی تھوڑا بہت دے دیا جاتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1867

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلًا خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ لَيْسَ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ يَعْنِي مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1868

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِي عَنْهَا قَالَ فَقَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَمَا كُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1869

حَدَّثَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1870

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَفِي عُمَرِهِ كُلِّهَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَاءُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج اور تمام عمروں میں طواف کے درمیان رمل کیا ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، عمرفاروق، عثمان غنی اور تمام خلفاء رضی اللہ عنہم نے بھی کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1871

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ عَنْ مِهْرَانَ أَبُو صَفْوَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1872

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمُحَارِبِيَّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مَهْرَانَ أَبُو صَفْوَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1873

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1874

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا قَالَ هِشَامٌ وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ ادا کر دے (اس کی بیوی مطلقہ نہیں ہو گی) اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے تھے کہ تمہارے لیے اللہ کے پیغمبر میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1875

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ وَاللَّهِ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ لَيْسَ ثَلَاثًا أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ قَالَ مُوسَى فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ فَقُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِنَّ الْخَيْلَ كَانَتْ فِي بَنِي هَاشِمٍ قَلِيلَةً فَأَحَبَّ أَنْ تَكْثُرَ فِيهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عبد مامور تھے، بخدا! انہوں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں، راوی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حسن سے ملا اور ان سے کہا کہ عبداللہ بن عبیداللہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ بنو ہاشم میں گھوڑوں کی تعداد تھوڑی ہے، وہ ان میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1876

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَالَتْ أَلَا نُطْعِمُكُمْ مِنْ هَدِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَنَا أُمُّ حُفَيْدٍ قَالَ فَجِيءَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ كَأَنَّكَ تَقْذَرُهُ قَالَ أَجَلْ قَالَتْ أَلَا أُسْقِيكُمْ مِنْ لَبَنٍ أَهْدَتْهُ لَنَا فَقَالَ بَلَى قَالَ فَجِيءَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لِي الشَّرْبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا فَقُلْتُ مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِسُؤْرِكَ عَلَيَّ أَحَدًا فَقَالَ مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ حُفَيْدٍ أَهْدَتْ إِلَى أُخْتِهَا مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں موجود تھے، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا ہم آپ کو وہ کھانا نہ کھلائیں جو ہمیں ام عفیق نے ہدیہ کے طور پر بھیجا ہے، انہوں نے کہا کیوں نہیں ، چنانچہ ہمارے سامنے دو بھنی ہوئی گوہ لائی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں؟ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ دودھ پیش نہ کروں جو ہمارے پاس ہدیہ کے طور پر آیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسل نے فرمایا کیوں نہیں، چنانچہ دودھ کا ایک برتن لایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم چاہو تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دے لو؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعا کرے کہ اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطاء فرما اور اس سے بہترین کھلا اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعا کرے کہ اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطاء فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما، کیونکہ کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1877

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَكِيعٌ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ الْبَوْلِ قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا قَالَ وَكِيعٌ تَيْبَسَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قَبْرِهِمَا فَذَكَرَهُ وَقَالَ حَتَّى يَيْبَسَا أَوْ مَا لَمْ يَيْبَسَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر دو قبروں پر ہوا، فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹہنی لے کر اسے چیر کر دو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک حصہ گاڑھ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا شاید ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکورہ ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1878

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو ، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1879

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ فَيَرَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرًا ثَوْبَهُ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ التُّومَةَ وَالْقِلَادَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ ونصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1880

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کردے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنابدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1881

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا قَالَ حَاتِمٌ يَعْنِي عِدَّةَ شَعْبَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو تیس کا عدد پورا کرو اور نیا مہینہ شروع نہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1882

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَسَارَ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھومتی رہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانگی سے قبل عرفات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کیے کھڑے ہوئے تھے لیکن ہاتھوں کی بلندی سر سے تجاوز نہیں کرتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوگئے تو اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے مزدلفہ پہنچے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ کے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1883

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حَبِيبِ بْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوكَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِي نِعْمَةٍ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُعْطِي حَقَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں اس شخص کی مثال نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور برے لوگوں سے بچتا رہے، نیز دوسرا وہ شخص جو اللہ کی نعمتوں میں زندگی بسر کر رہا ہو، مہمان نوازی کرتا ہوں اور اس کے حقوق ادا کرتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1884

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1885

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ شَاةِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1886

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْتَ تُفْتِي الْحَائِضَ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُفْتِي بِذَلِكَ قَالَ إِمَّا لَا فَاسْأَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَجَعَ زَيْدٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ فَقَالَ مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا کہ جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسکا حکم دیا تھا؟ بعد میں حضرت زید رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1887

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1888

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ قَالَ الْخَطُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ " او اثرۃ من علم" سے مراد تحریر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1889

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مُخَوَّلٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى وَفِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1890

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی پھر تازہ وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1891

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1892

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكْ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ كَمْ تُصَلِّي بِالْبَطْحَاءِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1893

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِلَى شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ أَخُو أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى إِلَيَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے۔ پروردگار! میری مدد فرما، میرے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور ہدایت کو میرے اوپر آسان فرما، جو مجھ پر زیادتی کرے، اس پر میری مدد فرما، پروردگار! مجھے اپنا شکرگذار، اپنا ذاکر، اپنے سے ڈرنے والا اپ نافرمانبردار، اپنے سامنے عاجز، اور اپنے لیے آہ وزاری اور رجوع کرنے والا بنا، پروردگار! میری توبہ کو قبول فرما، میرے گناہوں کو دھو ڈال، میری دعائیں قبول فرما، میری حجت کو ثابت فرما، میرے دل کو رہنمائی عطاء فرما، میری زبان کو درستگی عطاء فرما اور میرے دل کی گندگیوں کو دور فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1894

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1895

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ الْخِنْصَرُ وَالْإِبْهَامُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1896

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ إِلَّا اقْتَبَسَ بِهَا شُعْبَةً مِنْ السِّحْرِ مَا زَادَ زَادَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اس قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1897

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص نیکی کارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتاہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1898

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا أَوْ عَرْقًا فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1899

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ مَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَلَّا دَبَغْتُمُوهُ فَإِنَّهُ ذَكَاتُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی؟ کیونکہ دباغت سے تو کھال پاک ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1900

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1901

حَدَّثَنَا يَحْيَى سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَمَاتَتْ أَفَأَصُومُهُ عَنْهَا قَالَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1902

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَالْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالَ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ قَالَ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1903

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1904

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ فَقَالُوا إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا قَالَ مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ قَالَ يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمْ الْجِزْيَةَ قَالَ مَا هِيَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَامُوا فَقَالُوا أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا قَالَ وَنَزَلَ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ و حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ و قَالَ أَبِي قَالَ الْأَشْجَعِيُّ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواجہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، خواجہ ابو طالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابو جہل آکر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ خواجہ ابو طالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، خواجہ ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا، انہوں نے پوچھا وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا " لاالہ الااللہ " یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورت ص نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ "ان ہذا لشیء عجاب" پر پہنچے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1905

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ فَقَالَ اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ قَالَ مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ

ایک مرتبہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا تعلق خراسان سے ہے، ہمارا علاقہ ٹھنڈا علاقہ ہے اور اس نے شراب کے برتنوں کا ذکر کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو چیزیں نشہ آور ہیں مثلا کشمش یا کھجور وغیرہ، ان کی شراب سے مکمل طور پر اجتناب کرو، اس نے پوچھا کہ مٹکے کی نبیذ کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1906

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا يَعْنِي الْكَعْبَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گویا وہ شخص میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں جو انتہائی کالا سیاہ اور کشادہ ٹانگوں والا ہوگا اور خانہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھیڑ ڈالے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1907

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي قَارِظٌ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1908

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1909

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بادصبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1910

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1911

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهَا وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ وَوَجَدَ خُفَّيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا قُلْتُ لَمْ يَقُلْ لِيَقْطَعْهُمَا قَالَ لَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1912

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَرَّزَ فَطَعِمَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1913

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ تواتر کے ساتھ٤٣ برس کی عمر میں شروع ہوا، دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور٦٣برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1914

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ كَذَا وَكَذَا وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز کا فطرانہ یہ مقرر فرمایا اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا ۔ فائدہ : اس حدیث کی مزید و ضاحت کے لئے حدیث نمبر٣٢٩١دیکھئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1915

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو١٣رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1916

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِمَّنْ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْمَغْنَمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ وَالْمُقَيَّرِ قَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا تعارف پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کو ہماری طرف سے خوش آمدید، یہاں آکر آپ رسول ہوں گے اور نہ ہی شرمندہ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں ہی حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتادیں؟ نیز انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پغمبر ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے) اور فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1917

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1918

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ قَالَ وَلِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نےجو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1919

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْنَا إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنَّا فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَتَوْا بِغَنَمِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گذرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1920

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ الْمَعْنَى عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَرَابَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَنَزَلَتْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا " قل لا اسألکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی " تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جوقرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کر لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1921

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ لَنَا نَاضِحَانِ فَرَكِبَ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا نَاضِحًا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری کی ایک عورت سے " جس کا نام حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا لیکن راوی بھول گئے " فرمایا کہ اس سال ہمارے ساتھ حج پر جانے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہمارے پاس پانی لانے والے دو اونٹ تھے، ایک پر میرا شوہر اور بیٹا سوار ہو کر حج کے لئے چلے گئے تھے اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے تھے تاکہ ہم اس پر پانی بھر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے گا تو آپ اس میں عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1922

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کے بعد بوسہ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1923

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْشَرُ النَّاسُ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1924

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ و قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ

ابوالحکم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے، اس لئے جو شخص اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نبیذ کو حرام سمجھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1925

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ فِطْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ كَيْفَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا فَأَمَرَ بِهِمْ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِمْ قُوَّةً

ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا اس میں آدھا سچ ہے اور آدھاجھوٹ، میں نے عرض کیا وہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1926

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ بَعْدَمَا كَبِرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1927

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى أَبِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عَتَقَا هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا قَالَ نَعَمْ قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمربن معتب کہتے ہیں کہ ابو نوفل کے آزاد کرہ غلام ابو حسن نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی غلام کے نکاح میں کوئی باندھی ہو اور وہ اسے دو طلاقیں دے کر آزاد کر دے تو کیا وہ دوبارہ اس کے پاس پیغام نکاح بھیج سکتا ہے؟ فرمایا ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1928

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَلَا بَهْزٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1929

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے امام کے خطبہ کے دوران بات چیت کرے تو اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے بہت سا بوجھ اٹھا رکھا ہو، اور جو اس بولنے والے سے کہے کہ خاموش ہو جاؤ اس کا کوئی جمعہ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1930

حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنْ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ كَثِيرٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کاش! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کرلیں، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1931

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا بِمَكَّةَ وَعَشْرًا بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ مَنْ يَقُولُ ذَلِكَ لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَخَمْسًا وَسِتِّينَ وَأَكْثَرَ

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں دس سال تک وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال تک، انہوں نے فرمایا کون کہتا ہے؟ یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ وحی کا نزول دس سال ہوا ہے اور ٦٥ یا اس سے زیادہ (سال انہوں نے عمر پائی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1932

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا قَالُوا شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ مِرَارًا قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرما لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ حرمت والا دن، پھر پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر، پھر پوچھا کہ یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ، فرمایا یاد رکھو! تمہارا مال و دولت، تمہاری جان اور تمہاری عزت ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس حرمت والے شہر اور اس حرمت والے مہینے میں، اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ دہرایا، پھر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف بلند کر کے کئی مرتبہ فرمایا کہ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بخدا! یہ ایک مضبوطی تھی پروردگار کی طرف، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو جو موجود ہے، وہ غائب تک یہ پیغام پہنچا دے، میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1933

قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ الطَّحَّانُ الصَّغِيرُ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أُرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سانپوں کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ وہ پلٹ کر ہمارا پیچھا کریں گے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے، ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے، اس وقت سے اب تک ان کے ساتھ صلح نہیں کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1934

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی پہلی رکعت میں قولو آمنا باللہ وماانزل الینا وما انزل الی ابراہیم الی آخر اور دوسری رکعت میں آمنا باللہ واشہد بانا مسلمون کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1935

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَرَسِّلًا فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ لَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خشوع وخضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، کسی قسم کی زیب وزینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے لیکن تمہاری طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1936

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ ابْنَةُ عَمِّي وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو بھی لے آئے، جب مدینہ منوہ پہنچے تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہوگیا ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، حضرت زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولی (آزاد کردہ غلام) ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1937

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ فَقَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدِيقٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِيَهُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ يُهْدِيهَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَبِعْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا فُلَانٍ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ قَالَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا قَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ

عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے شراب کی تجارت کے متعلق مسئلہ دریافت کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف یادوس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست رہتا تھا ، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے فلاں ! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابو فلاں! تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحاء میں بہا دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1938

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْكِتَابَ عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي كُلِّ رَمَضَانَ فَإِذَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلَةِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ أَصْبَحَ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ فَلَمَّا كَانَ فِي الشَّهْرِ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ عَلَيْهِ عَرْضَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطاء فرما دیتے اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1939

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی کہ ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1940

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ لِيَقْسِمَ لَهَا قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یہ میمونہ ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چار پائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں ) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ و اللہ اعلم)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1941

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ مَا يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَالْأُخْرَى آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی پہلی رکعت میں "قولوا آمناباللہ وماانزل الیناوماانزل الی ابراہیم" اور دوسری رکعت میں "آمنا باللہ واشہد بانامسلمون" کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1942

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1943

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا بہترین سرمہ" اثمد " ہے جو آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1944

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ لَقِيَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً

حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا شادی کرلو، اس بات کو کچھ عرصہ گذر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہوگئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی بیویاں زیادہ تھیں ( تو تم کم ازکم ایک سے ہی شادی کرلو، چار سے نہ سہی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1945

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ فَأَكَلَ مِنْ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذَا أَرْسَلْتَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى صَاحِبِهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي كَذَا قَالَ أَسْبَاطٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم شکاری کتا شکار پر چھوڑو اور وہ شکار میں سے کچھ کھالے تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لیے روک رکھا ہے اور اگر تم شکاری کتا چھوڑو اور وہ جاکر شکار کو مار ڈالے لیکن خود کچھ نہ کھائے تو تم اسے کھالو کیونکہ اب اس نے وہ شکار اپنے مالک کے لئے کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1946

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ الْوَتْرُ وَالنَّحْرُ وَصَلَاةُ الضُّحَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر تو فرض ہیں لیکن تمہارے لیے وہ نفل ہیں ، ایک وتر، دوسرے (صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود) قربانی اور تیسرے چاشت کی نماز۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1947

حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ مُزْدَلِفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ طلوع آفتاب سے قبل روانہ ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1948

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1949

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى يَدْعُوَهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1950

حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بَنَاتَهُ وَنِسَاءَهُ أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادیوں اور ازواج مطہرات کو عیدین میں نکلنے کا حکم دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1951

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَاسْتَفْتَحَ مِنْ الْآيَةِ الَّتِي انْتَهَى إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہوگئے اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1952

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1953

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ فِي السَّفَرِ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سفر میں جو شخص روزہ رکھے یا جو شخص روزہ نہ رکھے، کسی میں کیڑے مت نکا لو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور چھوڑا بھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1954

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ أَوْ غَيْرِهِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ أَوْ قَالَ فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ سے دو یا چار فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک بستی میں عاشوراء کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیغام بھجوایا کہ جو شخص صبح سے اب تک کچھ کھاپی چکا ہے، وہ دن کے بقیہ حصے میں کچھ نہ کھائے اور جس نے اب تک کچھ کھایا نہیں، اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو مکمل کرلے (یعنی مغرب تک کھانے پینے سے رکا رہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1955

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَتْ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی، اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کرلیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھاتا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر اس ہی کے پاس واپس لوٹا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1956

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وضو اچھی طرح اور مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1957

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر پر نماز پڑھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1958

حَدَّثَنِي وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ لِصِغَرِي قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَ لَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً

عبدالرحمن بن عابس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا ہاں! اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1959

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَصَفٌّ خَلْفَهُ فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں ، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1960

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ قَالَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسًا فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَطَاوُسٌ يَسْمَعُ حَدَّثَنَا طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَكَمَا تُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا فَصَلِّ فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً وَصَلِّهَا فِي السَّفَرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر اور حضر کی نماز کی رکعتیں مقرر فرما دی ہیں چنانچہ ہم حضر میں اس سے پہلے اور بعد میں بھی نماز پڑھتے تھے، اس لئے تم سفر میں بھی پہلے اور بعد میں نماز پڑھ سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1961

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَبِالْوَتْرِ وَلَمْ يُكْتَبْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1962

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب "سبح اسم ربک الاعلی" کی تلاوت فرماتے تو یہ بھی کہتے سبحان ربی الاعلی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1963

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالَ وَادِي عُسْفَانَ قَالَ لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمْ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمْ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ کا گذر وادی عسفان پر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابو بکر! یہ کون سی وادی ہے؟ انہوں نے عرض کیا وادی عسفان، فرمایا یہاں سے حضرت ہود اور حضرت صالح علیہماالسلام ایسی سرخ جوان اونٹنیوں پر ہو کر گذرے ہیں جن کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی، ان کے تہبند عباء تھے اور ان کی چادریں چیتے کی کھالیں تھیں اور وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ کے حج کے لئے جارہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1964

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ وَيَوْمَ السَّبْتِ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَدَمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جمعرات سے پہلے والی رات کو نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جمعرات کے دن، جمعہ کے دن اور ہفتہ کی شام تک نوش فرماتے، اس کے بعد اگر عصر تک کچھ بچ جاتی تو کسی دوسرے کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1965

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1966

حَدَّثَنِي وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ آدَمُ هَذَا هُوَ أَبُو يَحْيَى بْنُ آدَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ تم سے ان سب کا حساب لےگا " تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر قلبی طور پر ایسی بے چینی محسوس ہوئی جو اس سے قبل نہیں ہوئی تھی (کہ دلی ارادہ کا بھی حساب کتاب ہوگا تو کیا بنے گا) لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم یہی کہو، ہم نے سن لیا، ہم نے اطاعت کی اور سر تسلیم خم کر دیا، چنانچہ اللہ نے ان کے دلوں میں پہلے سے موجود ایمان کو مزید راسخ کر دیا اور سورت بقرہ کی یہ اختتامی آیات نازل فرمائیں جن کا ترجمہ یہ ہے" پیغمبر اس چیز پر ایمان لے آئے جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئی اور مومنین بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں ، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لے آئے اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پیغمبر میں تفریق روا نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی، پروردگار! ہمیں معاف فرما اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، انسان کو انہی چیزوں کا فائدہ ہوگا جو اس نے کمائیں اور انہیں چیزوں کا نقصان ہوگا جو اس نے کمائیں، پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہو جائے تو اس پر ہمارا مؤاخذہ نہ فرمایا اور ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، پروردگار! ہم پر اس چیز کا بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے، ہم سے درگذر فرما، ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمار آقا ہے، اس لئے تو ہی کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1967

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم ان لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا پیغمبر ہوں اگر وہ تمہاری اس بات پر اطاعت کریں تو انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ اس بات میں بھی تمہاری اطاعت کر لیں تو انہیں یہ بتانا کہ اللہ نے ان کے مال پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان ہی کے غرباء میں تقیسم کر دی جائے گی، جب وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو ان کے عمدہ مال چھانٹی کرنے سے اپنے آپ کو بچانا اور مظلوم کی بددعاء سے ڈرتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1968

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1969

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1970

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ جو تیل سے چکنا ہوگیا تھا، باندھ رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1971

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَصَفْوَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُدِيمُوا إِلَى الْمَجْذُومِينَ النَّظَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل نہ دیکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1972

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنْ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فِي الْوَصِيَّةِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کاش! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کر لیں ، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1973

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ قَالَ صَدَقَ قَوْمِي وَكَذَبُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ وَلَكِنَّهُ قَدِمَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَتَحَدَّثُوا أَنَّ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ هَزْلًا وَجَهْدًا وَشِدَّةً فَأَمَرَ بِهِمْ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ لِيُرِيَهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُصِبْهُمْ جَهْدٌ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا اس میں آدھا سچ ہے اور آدھا جھوٹ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو دکھا سکیں کہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1974

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَلَا تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی کہ ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1975

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1976

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجُبْنَةٍ قَالَ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعُوا السِّكِّينَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے لاٹھی سے ہلانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھریاں رکھ دو، اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1977

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَعَطَاءٍ قَالَا الْأُضْحِيَّةُ سُنَّةٌ وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالْأُضْحِيَّةِ وَالْوَتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1978

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ قَالَ سُفْيَانُ بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنَى لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَزَادَ سُفْيَانُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا إِخَالُ أَحَدًا يَعْقِلُ يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبد المطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1979

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ جَاءَ فَنَامَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور آکر سوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1980

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے پھر جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1981

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا نَدْرِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَلَكِنَّا نَقْرَأُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت کرتے تھے یا نہیں؟ (کیونکہ ہم تو بچے تھے اور پہلی صفوں میں کھڑے نہیں ہو سکتے تھے) البتہ ہم خود قراءت کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1982

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1983

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بٹائی پر زمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1984

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے کوئی حرج نہیں جوانہوں نے پہلے کھا لیا (یاپی لیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1985

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنَى لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1986

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ فَقَالَ رَجُلٌ وَالطِّيبُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَاكَ أَمْ لَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو تو عورت کے علاوہ ہر چیز تمہارے لیے حلال ہوجائے گی، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر " سک" نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1987

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کے دونو پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان سے فاسد خون نکلوایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1988

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑویوں پر گدھوں کو کودنے کے لئے چھوڑنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1989

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چند اوقیہ کا منافع ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1990

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الْخَمْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1991

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُهَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبد المطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہٹا دیا ( اور برابر نماز پڑھتے رہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1992

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ فَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ثُمَّ يُؤْخَذُ بِقَوْمٍ مِنْكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي قَالَ فَيُقَالُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُذْ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ الْآيَةَ إِلَى إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ ونصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کیے جاؤگے ارشاد ربانی ہے ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذے وعدہ اور ہم یہ کر کے رہیں گے، پھر مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائیگا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں ۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں، یہ آپ کے وصال اور اور ان سے آپ کی جدائی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کہیں گے کہ میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1993

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيَدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں انہیں زبان پر لانے سے بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ آسمان سے گر پڑوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنی تدبیر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1994

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ وَمَنْ بَنَى بِنَاءً فَلْيَدْعَمْهُ حَائِطَ جَارِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب راستے (کی پیمائش) میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو اور جو شخص کوئی عمارت بنائے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1995

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَسَارَعَ قَوْمٌ فَقَالَ امْتَدُّوا وَسُدُّوا لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً يَدَهَا تَعْدُو حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون سےچلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1996

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1997

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَاغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَوَضَّأَ مِنْ فَضْلِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1998

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1999

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْعَنْقَزِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ قَدْ بَرَّتْ يَمِينُكَ وَقَدْ تَمَّ الشَّهْرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو ایک ماہ تک چھوڑے رکھا، جب٢٩ دن گذر گئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی قسم پوری ہوگئی اور مہینہ بھی مکمل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2000

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ فِطْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ ثَنَا فِطْرٌ عَنْ شُرَحْبِيلَ أَبِي سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا مَا صَحِبَتَاهُ دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی دو بہنیں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے گا، بعض طرق میں دو بیٹیوں کا تذکرہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2001

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا دَعَاهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2002

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوْحٌ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ عِشْتُ قَالَ رَوْحٌ لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2003

حَدَّثَنِي يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سب سے یکسو ہو کر ایک اللہ کے لئے ہو اور کشادہ وسیع ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2004

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ قَالَ يَزِيدُ مِنْ أَذًى كَانَ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2005

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لیے تھے رہن رکھی ہوئی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2006

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر٤٠ برس تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد١٣برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ٣٦ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2007

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنْ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیتے تھے جو مسلمان ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجاتے تھے چنانچہ غزوہ طائف کے موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو آزاد کر دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2008

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسل حضرات حسنین رضی اللہ عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے، میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2009

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَى رَجُلٌ رُؤْيَا فَجَاءَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ ظُلَّةً تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا وَكَأَنَّ النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَكَأَنَّ سَبَبًا مُتَّصِلًا إِلَى السَّمَاءِ وقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً وَكَأَنَّ سَبَبًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَجِئْتَ فَأَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ فَعَلَّاكَ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا فَعَلَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمَا فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمْ فَأَخَذَ بِهِ فَقُطِعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْبُرُهَا لَهُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ فَحَلَاوَةُ الْقُرْآنِ فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَأَمَّا السَّبَبُ فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ تَعْلُو فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ رَجُلٌ عَلَى مِنْهَاجِكَ فَيَعْلُو وَيُعْلِيهِ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمَا رَجُلٌ يَأْخُذُ بِأَخْذِكُمَا فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ رَجُلٌ يُقْطَعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ قَالَ أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے خواب دیکھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا جس سے شہد اور گھی ٹپک رہے ہیں اور لوگ آکر ان چیزوں کو اٹھا رہے ہیں کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی درمیانہ، پھر مجھے محسوس ہوا کہ ایک رسی ہے جو آسمان تک چلی گئی ہے، آپ تشریف لائے اور اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر ایک دوسرا آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی پکری اور اوپر چرھ گیا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اسے بھی بلندی پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی تھام کر اوپر چڑھنا شروع کیا اور اللہ نے اسے بھی اوپر تک پہنچا دیا، اس کے بعد جو آدمی آیا اور اس نے رسی پکڑ کر اوپر چڑھنا شروع کیا تو وہ رسی کٹ گئی، تھوڑی دیر بعد وہ رسی جڑ گئی اور اس آدمی نے بھی اس کے ذریعے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ اللہ نے اسے بھی او پر پہنچا دیا۔ یہ خواب سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ اجازت دیں تو اس خواب کی تعبیر میں بیان کروں؟ اور اجازت ملنے پر کہنے لگے کہ سائبان سے مراد تو اسلام ہے، شہد اور گھی سے مراد قرآن کی حلاوت ہے جو کسی کو کم، کسی کو زیادہ اور کسی کو درمیانی حاصل ہوتی ہے، باقی رہی رسی تو اس سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ ہیں، جس کی بنا پر اللہ آپ کو بھی اونچائی تک پہنچاتا ہے، آپ کے بعد ایک شخص آتا ہے وہ بھی آپ کے طریقے اور راستے پر چلتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے بھی او پر پہنچا دیتا ہے، تیسرے آدمی کا بھی یہی حال ہوتا ہے اور چوتھا آدمی آتا ہے تواس کا راستہ منقطع ہوجاتا ہے، بعد میں جوڑ دیا جاتا ہے اوراللہ اسے بھی او پر پہنچا دیتا ہے ، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی؟ فرمایا کچھ صحیح بیان کی اور کچھ میں غلطی ہوئی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مجھے ضرور مطلع فرمائیے (کہ میں نے کیا غلطی کی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم نہ دو گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2010

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَمُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2011

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، یا رسول اللہ! فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور راہ خدا میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہوجائے یا شہید ہو جائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2012

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ قَالَ إِنَّ دِبَاغَهُ قَدْ ذَهَبَ بِخَبَثِهِ أَوْ رِجْسِهِ أَوْ نَجَسِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار جانوروں کی کھالوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2013

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2014

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عمرو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے، جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے، اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے، جب اچھی طرح سیراب ہو جائے تو اسے قئی کر دے اور پھر اسی قئی کو چاٹنا شروع کردے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2015

حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2016

حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو ، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2017

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں ، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2018

حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَيَنْزِلُ فِيهِ قُرْآنٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2019

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ وَلَمْ يُصَلِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2020

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ امْرَأَةٌ هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظَرَ غَضْبَانَ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَبَكَتْ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ مَهْلًا يَا عُمَرُ ثُمَّ قَالَ ابْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنْ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنْ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنْ الشَّيْطَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے، (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جاملو (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا) اس پر عورتیں رونے لگیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا عمر! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ وپکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2021

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَقَالَ هُنَّ وَقْتٌ لِأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ مَرَّ بِهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ مِنْ وَرَاءِ الْمِيقَاتِ فَإِهْلَالُهُ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ إِهْلَالُهُمْ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور جس کا گھر میقات سے پیچھے ہو تو وہ جہاں سے ابتداء کرے، وہ یہیں سے احرام باندھ لے، حتی کہ اہل مکہ کا حرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2022

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ قَالَ لَا قَالَ فَنِكْتَهَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا؟ یا تم نے اسے صرف چھوا ہوگا؟ انہوں نے نہا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2023

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ فَقَالَ أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو ایک آدمی دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کپڑے سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2024

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ وَأَنَّهَا مِنْ اللَّهِ تَعَالَى وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنِّي لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَاجْتَمَعَتْ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا قَدْ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ هِلَالٌ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا فَقَالَ هِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ مِمَّا جِئْتُ بِهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ وَ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ إِذْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ يَعْنِي فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْوَحْيِ فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ الْآيَةَ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا هِلَالُ فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا فَقَالَ هِلَالٌ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَاكَ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلُوا إِلَيْهَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهَا فَجَاءَتْ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا فَقَالَ هِلَالٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ كَذَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا فَقِيلَ لِهِلَالٍ اشْهَدْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ قِيلَ يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا فَشَهِدَ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ قِيلَ لَهَا اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنَّهُ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى هِيَ بِهِ وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا وَقَالَ إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْسِحَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَانٌ قَالَ عِكْرِمَةُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ وَكَانَ يُدْعَى لِأُمِّهِ وَمَا يُدْعَى لِأَبِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور اس پر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو انہیں اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ حکم آپ پر اسی طرح نازل ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! سنتے ہو کہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کا برا نہ منائیے کیونکہ یہ بہت باغیرت آدمی ہیں، بخدا انہوں نے ہمیشہ صرف کنواری عورت سے ہی شادی کی ہے اور جب کبھی انہوں نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دی ہے تو کسی دوسرے آدمی کو ان کی اس مطلقہ بیوی سے بھی ان کی شدت غیرت کی وجہ سے شادی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ حکم برحق ہے اور اللہ ہی کی طرف سے آیا ہے، لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ اگر میں کسی کمینی عورت کو اس حال میں دیکھوں کہ اسے کسی آدمی نے اپنی رانوں کے درمیان دبوچ رکھا ہو اور میں اس پر غصہ میں بھی نہ آؤں اور اسے چھیڑوں بھی نہیں ، پہلے جا کر چارگواہ لے کر آؤں ، بخدا! میں تو جب تک گواہ لے کر آؤں گا اس وقت تک وہ اپنا کام پورا کر چکا ہوگا ۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تھوڑی دیر بعد ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آگئے، یہ ہلال ان تین میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور بعد میں ان کی توبہ قبول ہوگئی تھی اور یہ عشاء کے وقت اپنی زمین سے واپس آئے، تو اپنی بیوی کے پاس ایک اجنبی آدمی کو دیکھا، انہوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں لیکن تحمل کا مظاہر کیا ، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں رات کو اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس کے پاس ایک اجنبی آدمی کو پایا، میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بڑی شاق گذری اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگواری کا اظہار فرمایا ، انصار بھی اکٹھے اور کہنے لگے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا، ہم اسی میں مبتلا ہو گئے، اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ کو سزا دیں گے اور مسلمانوں میں ان کی گواہی کو ناقابل اعتبار قرار دے دیں گے، لیکن ہلال کہنے لگے کہ بخدا! مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ضرور بنائے گا، پھر ہلال کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! مجھے محسوس ہو رہاہے کہ میں نے جو مسئلہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے، وہ آپ پر شاق گذرا ہے، اللہ جانتا ہے کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان پر سزا جاری کرنے کا حکم دینے والے ہی تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوگیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ متغیر ہونے سے اسے پہچان لیتے تھے اور اپنے آپ کو روک لیتے تھے، تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے فراغت ہوجاتی، چنانچہ اس موقع پر یہ آیت لعان نازل ہوئی کہ جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگائیں اور ان کے پاس سوائے ان کی اپنی ذات کے کوئی اور گواہ نہ ہو تو ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سے نزول وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا ہلال! تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ نے تمہارے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیا، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اپنے پروردگار سے یہی امید تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی بیوی کو بلاؤ، چنانچہ لوگ اسے بلا لائے، جب وہ آگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے مذکورہ آیات کی تلاوت فرمائی اور انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے۔ ہلال کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم بخدا میں اس پر الزام لگانے میں سچا ہوں، جبکہ ان کی بیوی نے تکذیب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرا دو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) ہلال سے کہا گیا ہے کہ آپ گواہی دیجئے، انہوں نے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں، جب پانچیں مرتبہ کہنے کی باری آئی تو ان سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈرو، دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تم پر سزا کو ثابت کر سکتی ہے، انہوں نے کہا اللہ نے جس طرح مجھے کوڑے نہیں پڑھنے دیئے، وہ مجھے سزا بھی نہیں دے گا اور انہوں نے پانچویں مرتبہ یہ قسم کھا لی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر ان کی بیوی سے اسی طرح چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر اس بات پر گواہی دینے کے لئے کہا گیا کہ ان کا شوہر اپنے الزام میں جھوٹا ہے، جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈر، دنیا کی سزا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تجھ پر سزا بھی ثابت کر سکتی ہے، یہ سن کر وہ ایک لمحے کے لئے ہچکچائی، پھر کہنے لگی، واللہ میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں مرتبہ یہ قسم کھا لی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو بیوی پر اللہ کاغضب نازل ہو، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، نہ اس عورت کو اس کے شوہر کی طرف منسوب کیا جائے اور نہ اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائی جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزادی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیرجدائی ہوئی تھی۔ اور فرمایا کہ اگر اس عورت کے یہاں پیدا ہونے والا بچہ سرخ و سفید رنگ کا ہو، ہلکے سرین اور پتلی پنڈلیوں والا ہو تو وہ ہلال کا ہوگا اور اگر گندمی رنگ کا ہو، گھنگھریالے بالوں والا، بھری ہوئی پنڈلیوں اور بھرے ہوئے سرین والا ہو تو یہ اس شخص کا ہوگا جس کی طرف اس عورت کو متہم کیا گیا ہے، چنانچہ اس عورت کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا، اس کا رنگ گندمی، بال گھنگھریالے بھری ہوئی پنڈلیاں اور بھرے ہوئے سرین تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو فرمایا کہ اگر اس قسم کا پاس لحاظ نہ ہوتا تو میرا اور اس عورت کا معاملہ ہی دوسرا ہوتا، عکرمہ کہتے ہیں کہ بعد میں بڑا ہو کر وہ بچہ مصر کا گورنر بنا، لیکن اسے اس کی ماں کی طرف ہی منسوب کیا جاتا تھا ، باپ کی طرف نہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2025

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيُكْتَبَنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ

حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2026

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهِ لَمَمًا وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا قَالَ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا لَهُ فَتَعَّ تَعَّةً فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ فَشُفِيَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھاناخراب کر دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2027

حَدَّثَنَا بَهْزٌ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ وَشَكَا إِلَيْهِ ضَعْفَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بے نیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2028

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ قَالَ عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ قُلْتُ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ فَأَصْبِحْ مِنْهَا صَائِمًا قُلْتُ أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا ہاں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2029

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ لَيْثًا سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو ، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2030

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ سَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا عُوفِيَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے ( أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ) کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2031

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ شَفَاهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ قَدْ أُخِّرَ يَعْنِي فِي أَجَلِهِ و حَدَّثَنِي يَزِيدُ لَمْ يَشُكَّ فِي رَفْعِهِ وَوَافَقَهُ عَلَى الْإِسْنَادِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے اور یہ دعاء کرتا ہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں، جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطاء فرمائے، اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے بشرطیکہ اس کی موت کے وقت میں مہلت باقی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2032

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بہن سے کہو کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2033

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2034

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ قَالَ رَوْحٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَحَلَّ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ طَلْحَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھ لیا، جس کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا، وہ تو حلال ہوگیا، ان لوگوں میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب بھی تھے، انہوں نے بھی اپنا اپنا احرام کھول لیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2035

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا قَالَ جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَزَلَ وَحْيٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى قَالَ وَأَنَّى لَهُ بِالتَّوْبَةِ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آخِذًا قَاتِلَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ بِيَسَارِهِ وَآخِذًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ شِمَالِهِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قُبُلِ الْعَرْشِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ عَبْدَكَ فِيمَ قَتَلَنِي

حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو عمدا قتل کیا ہو؟ انہوں نے کہا اس کی سزا جہنم ہے جسمیں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر وحی آ نہیں سکتی، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کیے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ عرش کے سامنے آکر کہے گا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا؟ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2036

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ قَالَ ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ فِي السِّقَاءِ قَالَ شُعْبَةُ مِثْلَ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ أَوْ صَبَّهُ قَالَ شُعْبَةُ وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ أَوْ صَبَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پیر کے دن اور منگل کو عصر تک(غالبا بدھ کی عصر تک) اسے نوش فرماتے، اس کے بعد کسی خادم کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2037

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت فرعون غرق ہو رہا تھا ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس اندیشے سے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنا شروع کر دی کہ وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لے (اور اپنے سیاہ کار ناموں کی سزا سے بچ جائے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2038

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَفِ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حاملہ جانور کے حمل میں ادھار کی بیع کرنا سود ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2039

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ الشَّهِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَاءَ مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنِي وَفُلَانًا غُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَتَرَكَكَ

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ سے کہا کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہماری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس سفر سے واپس آئے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2040

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ أَوْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ قَالَ فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ سَبَبْتَنِي أَوْ شَتَمْتَنِي أَوْ نَحْوَ هَذَا قَالَ وَجَعَلَ يَحْلِفُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَالْآيَةُ الْأُخْرَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ عیلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2041

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ قَتَادَةَ فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا وہ کانا ہوگا ، سفید کھلتا ہوا رنگ ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبدالعزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں گے تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ حدیث قتادہ کے سامنے پڑھی تو انہوں نے بھی یہی حدیث سنائی (تصدیق کی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2042

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ يَشُقُّ عَلَيَّ الْقِيَامُ فَأْمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبی اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں، بیمار بھی رہتا ہوں اور مجھ پر قیام میں بھی بڑی مشقت ہوتی ہے، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئے جس میں اللہ کی طرف سے شب قدر ملنے کا امکان ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عشرہ اخیرہ کی ساتویں رات (٢٧ویں شب) کو لازم پکڑو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2043

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِي فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ثُمَّ بَعَثَ بِي إِلَى مُعَاوِيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا ، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2044

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2045

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنِ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يُحِلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے، اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2046

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقِدْرٍ فَأَخَذَ مِنْهَا عَرْقًا وَكَتِفًا فَأَكَلَهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2047

قَالَ هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عاشوراء کا روزہ رکھا کرو ، لیکن اس میں بھی یہودیوں کی مخالفت کیا کرو، اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی ملا لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2048

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا احْتَجَمَ احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ قَالَ فَدَعَا غُلَامًا لِبَنِي بَيَاضَةَ فَحَجَمَهُ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ مُدًّا وَنِصْفًا قَالَ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَحَطُّوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ وَكَانَ عَلَيْهِ مُدَّانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا، اس نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطاء فرمائی اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کر دیا، ورنہ پہلے اس پر پورے دو مد تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2049

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهِيَ تَمَامٌ وَالْوَتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ

حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت پڑھنے کا طریقہ متعین فرما دیاہے اس لئے یہ دو رکعتیں ہی مکمل ہیں ، نامکمل نہیں ، اور سفر میں وتر پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2050

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ لِبَيْضِهَا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے لئے تعمیر مسجد میں حصہ لیتا ہے خواہ وہ " قطا" پرندے کے انڈے دینے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر تعمیر فرما دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2051

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ قَالَ تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَنِي بِهَا قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِي الْهَدْيِ جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ مَا أَسْنَدَ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ إِلَّا وَاحِدًا وَأَبُو جَمْرَةَ أَوْثَقُ مِنْ أَبِي حَمْزَةَ

ابوجمرہ الضبعی کہتے ہیں کہ میں نے حج تمتع کی نیت سے احرام باندھا، لوگوں نے مجھے منع کیا، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آکر یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ تم یہ کر لو، پھر میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر مجھے نیند آگئی، خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تیرا عمرہ بھی مقبول ہے اور تیرا حج بھی مبرور ہے، میں جب خواب سے بیدار ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا، اس پر انہوں نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور فرمایا کہ ہدی میں اونٹ، گائے، بکری یا سات حصوں والے جانور میں شرکت بھی ہوسکتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2052

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کردیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2053

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَالْجَلَّالَةِ وَأَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2054

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ لَا يُسْنِدُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ

نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اسی دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہوگیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2055

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2056

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گذاری، وہ کہتے ہیں کہ میں تکیے کی چوڑائی پر سر رکھ کر لیٹ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ اس کی لمبائی والے حصے پر سر رکھ کر لیٹ گئے، نبی صلی اللہ سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے اور اپنے چہرہ مبارک کو اپنے ہاتھوں سے مل کر نیند کے آثار دور کرنے لگے، پھر سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، اس سے وضو کیا اور خوب اچھی طرح کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ عیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسل کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا، اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے مروڑنا شروع کر دیا ( اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں، پھر اسی طرح دو دو رکعتیں کر کے کل بارہ رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھے اور پھر لیٹ گئے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں ، اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2057

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ قَالَ عَمَّارٌ فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں ، راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کر لی بعد میں پتہ چلا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2058

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنُ بِكَ قَالَ وَتَفْعَلُونَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدَعَا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ قَالَ بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی تم ایمان لے آؤگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2059

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2060

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو ، اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2061

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَمَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ ونصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2062

حَدَّثَنِي أَبِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! آپ نے قریش کے پہلوؤں کو عذاب کا مزہ چکھا دیا، اب ان کے پچھلوں کو اپنے انعام کا مزہ بھی دکھا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2063

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم، موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2064

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ثُمَّ خَطَبَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَطَبَ وَعُمَرُ ثُمَّ خَطَبَ وَعُثْمَانُ ثُمَّ خَطَبَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم موجود رہے ہیں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2065

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز دو رکعتیں کر کے پڑھائیں، ان دونوں رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سورت فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور اس پر کسی سورت کا اضافہ نہیں کیا (غالبا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ پہنچ سکی ہوگی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2066

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رُكِزَتْ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میدان عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سامنے رکھ کر نماز پڑھائی، جبکہ اس نیزے کے ورے گدھے بھی گذر رہے تھے (کیونکہ وہ نیزہ بطور سترہ کے استعمال کیا جا رہا تھا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2067

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے دو غلام نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا، جن میں سے ایک حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا کرتے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2068

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2069

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي فَإِنْ اللَّهُ قَضَى بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء "بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي" پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں ، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2070

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ يَا سَعِيدُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ قَالَ فَعُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا سَعِيدُ أَتَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهُمْ نِسَاءً

حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (میری حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ، فرمایا شادی کرلو، اس بات کو کچھ عرصہ گذر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہوگئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی بیویاں زیادہ تھیں ( تو تم کم ازکم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2071

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ فَبَلَّهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے باہر نکلے تو دیکھا کہ بائیں کندھے پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی ہے، وہاں پانی نہیں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی لے کر اس جگہ کو تربتر کر لیا اور نماز کے لئے چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2072

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! جبرئیل امین علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کر دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے، اپنے ناخن نہیں کاٹتے، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے، اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2073

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ أَنْ يَشْفِيَهُ إِلَّا عُوفِيَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2074

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ فَدَعَا بِمَاءٍ وَاسْتَسْقَى فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ زمزم کے قریب میرے پاس سے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پینے کے لئے پانی منگوایا، میں زمزم سے بھر کر ایک ڈول لایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2075

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ وَابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَيَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى قَالَ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى قَالَ يَعْقُوبُ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا، امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بد دعاء فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2076

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کر لینے کا حکم دیا (اور بعد میں قضاء کر لی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2077

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ نے " قاحہ " نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2078

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى وَيُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فِي مِحَفَّةٍ فَأَخَذَتْ بِضَبْعِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ پالکی میں ایک بچہ بھی تھا، اس نے اس بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کا حج ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2079

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2080

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَعَنَا بَدَنَتَانِ فَأَزْحَفَتَا عَلَيْنَا فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ لِي سِنَانٌِ هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ سِنَانٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُهَنِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَمْ يَحُجَّ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ

موسی بن سلمۃ کہتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ ایک دفعہ اپنے گھر سے سفر پر نکلے، ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں ، راستے میں وہ تھک گئیں تو سنان نے مجھ سے کہا کیا خیال ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں؟ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد صاحب بہت بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب تک وہ حج بھی نہیں کر سکے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2081

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا بِهَا الْكُرُومُ وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّاتِهَا الْخَمْرُ فَقَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ فَأَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاوِيَةِ عَلَى إِنْسَانٍ مَعَهُ فَأَمَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ قَالَ بِبَيْعِهَا قَالَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا وَأَكْلَ ثَمَنِهَا قَالَ فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ

عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں انگوروں کی بڑی کثرت ہے اور وہاں کی سب سے اہم تجارتی چیز شراب ہے، انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ دوس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست رہتا تھا ، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے فلاں ! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے تمہارے پیچھے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2082

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا سَارَ وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ فَيَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ حَسَنٌ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَلِنَزَلَ مَنْزِلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب وہ کہیں پڑاؤ کرتے اور انہیں وہ جگہ اچھی لگتی تو وہ ظہر کو مؤخر کر دیتے تاکہ ظہر اور عصر میں جمع صوری کر دیں اور اگر وہ روانہ ہوتے اور انہیں کہیں پڑاؤ کرنے کا موقع نہ ملتا تب بھی وہ ظہر کو موخر کر دیتے تاکہ کسی منزل پر پہنچ جائیں اور وہاں ظہر اور عصر کے درمیان جمع صوری کرلیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2083

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2084

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَىْ نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوتا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ کیا تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھوہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2085

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ فَقَالَ عِكْرِمَةُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھا دی اور وضو نہیں فرمایا، عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی حالت میں بھی وضو ٹوٹنے سے محفوظ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2086

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَيْسٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ثُمَّ نَامُوا ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا قَالَ قَيْسٌ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سو کر بیدار ہوئے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز! اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، راوی نے ان کے وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2087

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ حَسَنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَامَ حَتَّى نَفَخَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گذاری، رات کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ کر سو گئے حتی کہ خر اٹے لینے لگے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2088

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطَ الرَّأْسِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے شب معراج حضرت موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں ، نیز میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ وسفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2089

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا وَلَا سُكْنَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2090

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2091

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ يَعْنِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2092

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ قَالَ نَعَمْ فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا تمہارے بارے مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا بات میرے متعلق معلوم ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کرلیا تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2093

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأَدُسُّهُ فِي فِي فِرْعَوْنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2094

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2095

حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2096

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ فَقَالَ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَجَلْ قَالَ فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ قَالَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں ، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا پھر وہ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! شاید اس کا شوہر راہ خدا میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کریہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر راہ خدا میں، جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، اس آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لیے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2097

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2098

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ مَا أَحْفَظُهُ إِلَّا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ الْجَزَرِيُّ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةِ نَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنْ الْكَيِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں ، سینگی لگوانے میں اور آگ کے ذریعے زخم کو داغنے میں ، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2099

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ يَعْقُوبُ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ قَالَ إِسْحَاقُ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2100

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَنْ يَسَارِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا أَتْلُوهُمَا فِي ظُهُورِهِمَا أَسْمَعُ كَلَامَهُمَا فَطَفِقَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ رُكْنَ الْحَجَرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَلِمْ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فَيَقُولُ مُعَاوِيَةُ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ فَطَفِقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَزِيدُهُ كُلَّمَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ الرُّكْنَيْنِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، ان کی بائیں جانب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور ان دونوں کے پیچھے میں تھا اور ان دونوں حضرات کی باتیں سن رہا تھا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب حجر اسود کا استلام کرنے لگے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کونوں کا (جو اب آئیں گے) استلام نہیں کیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابن عباس! مجھے چھوڑ دیجئے، کیونکہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے، لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب کسی رکن پرہاتھ رکھتے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ان سے برابر یہی کہتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2101

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا عُمْرَةً مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْ قَابِلٍ وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2102

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمْ الْكَافِرُونَ وَ أُولَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ وَ أُولَئِكَ هُمْ الْفَاسِقُونَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْيَهُودِ وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى ارْتَضَوْا أَوْ اصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنْ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَذَلَّتْ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ وَلَمْ يُوطِئْهُمَا عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصُّلْحِ فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ وَلَقَدْ صَدَقُوا مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنْ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا وَاللَّهِ نَزَلَتْ وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات جو نازل فرمائی ہیں کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں، وہ ظالم ہیں ، وہ فاسق ہیں یہ یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے نازل ہوئی تھیں زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر غالب آگیا تھا اور ان لوگوں میں اس فیصلے پر رضا مندی کے ساتھ صلح ہوگئی تھی کہ غالب آنے والے قبیلے نے مغلوب قبیلے کے جس آدمی کو بھی قتل کیا ہوگا، اس کی دیت پچاس وسق ہوگی اور مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے جس آدمی کو قتل کیا ہوگا، اس کی دیت سو وسق ہوگی، یہ لوگ اس معاہدے پر برقرار رہے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد یہ دونوں گروہ ہی مغلوب ہو کر رہ گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی لشکر کشی فرمائی اور نہ ان کی زمینوں کو روندہ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاہدہ صلح کرلیا، اس دوران مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، اس غالب قبیلے نے مغلوب قبیلے والوں کو کہلا بھیجا کہ ہمیں دیت کے سو وسق بھیجو، مغلوب قبیلے والوں نے کہا کہ کیا یہ بات بھی ان قبیلوں میں ہوسکتی ہے جن کا دین بھی ایک ہو، نسب بھی ایک ہو اور شہر بھی ایک ہو اور کسی کی دیت پوری اور کسی کی نصف ہو؟ پہلے ہم لوگ تمہیں یہ مقدار تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے دیتے رہے لیکن اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں، ہم تمہیں یہ دیت کسی صورت نہیں دے سکتے، قریب تھا کہ ان دونوں گروہوں میں جنگ چھڑ جائے کہ یہ دونوں گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بنانے پر راضی ہوگئے۔ پھر غالب قبیلے کو یاد آیا اور وہ کہنے لگا کہ بخدا! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان کی نسبت دگنی دیت نہیں دلوائیں گے اور یہ لوگ کہہ بھی ٹھیک رہے ہیں کہ یہ ہمارے ڈر، خوف اور تسلط کی وجہ سے ہمیں دگنی دیت دیتے رہے ہیں اس لئے کسی ایسے آدمی کو خفیہ طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجو جو ان کی رائے سے تمہیں باخبر کر سکے، اگر وہ تمہیں وہی دیت دلواتے ہیں جو تم چاہتے ہو تو انہیں اپنا حکم بنالو اور اگر وہ نہیں دلواتے تو تم ان سے اپنا دامن بچاؤ اور انہیں اپنا ثالث مقرر نہ کرو۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خفیہ طور پر بھیجا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے معلوم کر کے اس کی مخبری کرسکیں، جب وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کی ساری تفصیلات اور ان کے عزائم سے باخبر کر دیا، اور یہ آیات نازل فرمائیں، اے پیغمبر! آپ کو وہ لوگ غم میں مبتلا نہ کر دیں جو کفر میں آگے بڑھتے ہیں ان لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں ۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے نازل ہوئی ہے اور اللہ نے اس آیت میں یہی دو گروہ مراد لئے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2103

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَسْتَمِعْ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَةً وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا اور جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2104

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ السِّقَايَةِ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدًا لَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ قَالَ عَنْ أَيِّ بَالِهِ قَالَ قُلْتُ عَنْ صِيَامِهِ قَالَ إِذَا أَنْتَ أَهْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا قُلْتُ كَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیت السقایہ حاضر ہوا ، وہ اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشوراء کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا ہاں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2105

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2106

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنْ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ قَالَ فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي قَالَ الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ بھی موجود نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ اس طرح مقرر فرمایا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت سکھا دیں، ایک دن ایک بچہ اپنے باپ کے پاس روتا ہوا آیا، باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ استاد نے مارا ہے، وہ کہنے لگا کہ خبیث! بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، آئندہ تم کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2107

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمْ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَقَالَ ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن شہداء کے متعلق یہ حکم دیا کہ ان سے لو ہے کے ہتھیار اور کھالیں اتار لی جائیں اور فرمایا انہیں ان کے خون کے ساتھ انہی کپڑوں میں دفن کردو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2108

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنْ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ فَرَجَعَ تَائِبًا فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ وَخَلَّى عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جاملا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جس نے ایمان کے بعد کفر کیا ہو، اس کی قوم نے اسے یہ آیت پہنچا دی اور وہ توبہ کر کے واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توبہ قبول فرما لی اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2109

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو ، اور تمہارا بہترین سرمہ" اثمد " ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2110

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي وَمَشَى حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ ثُمَّ يَرْمُلُ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَتْ سُنَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں رمل کیا ہے، رکن یمانی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رفتار سے چلتے رہتے اور جب حجر اسود پر پہنچتے تو رمل شروع کر دیتے اور چار چکر عام رفتار سے لگائے اور یہ سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2111

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا الْحَذَّاءُ عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَقْبِلًا الْحُجَرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا رخ کر کے مسجد حرام میں تشریف فرما تھے، کہ اچانک آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکرا کر فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیتا ہے تو ان پر اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2112

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُعَلَّى الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْعُرَنِيُّ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَ بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ وَخَلَّيْتُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَفَلَا تَقُولُونَ الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ

حسن عرفی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ یہ تذکرہ چھڑ گیا کہ کتا، گدھا اور عورت نمازی کے آگے سے گذر جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر قرار دے کر اچھا نہیں کیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ میں خود ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگیا تو میں اس سے اتر پڑا اور اسے چھوڑ کرخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی مجھے میرے فعل سے منع فرمایا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک بچی آکر صفوں میں گھس گئی اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی اس بچی کو منع فرمایا، نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گذرنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا، اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نمازی کے آگے سے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2113

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي أَبَا الْمَلِيحِ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ وَصَارَتْ عُمْرَةً كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص حج کے لئے آیا، بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو اس کا حج پورا ہوگیا اور عمرہ ہو گیا، اللہ کا طریقہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2114

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا سَيْفٌ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2115

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ حَدَّثَنَا فُرَاتٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ قَالَ فَقَالَ لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوْا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے، اگر یہودی موت کی تمنا کر لیتے تو مر جاتے اور انہیں جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا اور اگر وہ لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لئے آئے تھے، باہر نکلتے تو اپنے گھر اس حال میں لوٹ کر جاتے کہ اپنے مال و دولت اور اہل خانہ میں سے کسی کو نہ پاتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2116

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَجَعَلَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا فَقَالَ نَاوِلُونِي فَرُفِعَ لَهُ الدَّلْوُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَهُ نُسُكًا وَيَغْلِبُونَكُمْ عَلَيْهِ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام کیا اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں پر تشریف لائے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو عم اس میں سے پانی نکال رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانی پلاؤ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا گیا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش کر کے فرمایا اگر لوگ اسے بھی حج کا رکن نہ سمجھ لیتے اور تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ ڈول بھر بھر کر پانی نکالتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2117

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ قَالَ فَلِذَلِكَ كَرِهَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار ہونے کی حالت میں محرم ہو کر سینگی لگوائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی، اسی بناء پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2118

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنْ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنْ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن اعلان کر دیا کہ جو غلام ہمارے پاس آجائے گا، وہ آزاد ہے، چنانچہ کوئی غلام جن میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے وہاں سے نکل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2119

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ قَالَ ثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ خَبِيثُ الدِّيَةِ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2120

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے وقت یا اس کے بعد جمرات کی رمی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2121

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل بدر٣١٣ افراد تھے ۔ جن میں ٧٦مہاجرین بھی شامل تھے،غزوہ بدر میں مشرکین کو١٧رمضان بروز جمعہ ہزیمت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2122

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَحْ يُسْمَحْ لَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا در گذر سے کام لیا کرو ، تم سے درگذر کی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2123

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَحْ يُسْمَحْ لَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کثرت سے استغفار کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم سے کشادگی اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیں گے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء فرمائیں گے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2124

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُمْ وَإِنَّا كُنَّا نُرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ هُمْ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلَهُ عَنْ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ وَقَدْ انْقَضَى يُتْمُهُ وَسَأَلَهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَسَأَلَهُ عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا خط پڑھ کر اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہوسکتا ہے تو میں کبھی بھی اسے جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہوجائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہوگئی، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں ، ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2125

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ قَالَ وَلَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2126

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَسَأَلُوهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ لَا قَالَ فَقَالُوا فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ قَالَ خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ

حضرت عبداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور قریش کے کچھ نوجوان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں ، ہم نے پوچھا کہ شاید آہسۃ آواز میں قرات فرما لیتے ہوں؟ انہوں نے فرمایا خوامش! یہ تو اور بھی زیادہ برا ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عبد مامور تھے، بخدا! انہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2127

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَّلَ نَاسًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ بِلَيْلٍ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهُ قَالَ ضَعَفَتَهُمْ وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شُعْبَةُ شَكَّ فِي ضَعَفَتَهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کے کچھ افراد کو مزدلفہ کی رات جلدی روانہ کر دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2128

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ قَالَ هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِمْ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مِنْ حَيْثُ بَدَأَ حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا اور فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کو لئے بھی جو حج وعمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2129

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصِيبُ مِنْ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2130

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا سلسہ چالیس برس کی عمر میں شروع ہوا، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور٦٣برس کی عمر میں آپ کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2131

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر پر سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2132

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِشَرَابٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ قَائِمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، میں ایک ڈول میں زمزم لے کر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2133

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَى خَالَتَهُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ إِلَى سِقَايَةٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى قَالَ وَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي مِنْ خَلْفِهِ حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، وضو کرکے کھڑے ہوگئے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2134

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا أَوْ عُسُيًّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کرلیا ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے " وقد بلغت من الکبر عتیا" (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) او عسیا (عین کے پیش اور سین کے ساتھ) ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2135

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2136

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَهِيكٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے نام سے پناہ مانگے، اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر تم سے مانگے، اسے دے دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2137

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ زَمْعَةَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2138

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا وَالرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2139

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَهَا جَائِزَةٌ وَمَنْ أَرْقَبَ رُقْبَى فَهِيَ لِمَنْ أُرْقِبَهَا جَائِزَةٌ وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً ثُمَّ عَادَ فِيهَا فَهُوَ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی دینے سے وہ اس کی ہو جاتی ہے جسے دی گئی، اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2140

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2141

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر قربانی کی پھر حلق کر وایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2142

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ لَمَّا أَسْلَمَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ مِنْ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا فَعَدَّ عَلَيْهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ ثُمَّ الزَّكَاةَ ثُمَّ صِيَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ حَجَّ الْبَيْتِ ثُمَّ أَعْلَمَهُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَسَأَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضمام بن ثعلبہ جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا جب اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرائض اسلام مثلا نماز وغیرہ کے متعلق سوالات کیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے پانچ نمازیں ذکر کیں اور ان پر کچھ اضافہ نہ فرمایا، پھر زکوۃ، روزہ اور حج کا ذکر فرمایا، پھر وہ چیزیں بتائیں جو اللہ نے ان پر حرام قرار دے رکھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس سے فارغ ہوئے تو ضمام کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے مجھے جو حکم دیا ہے میں ان شاء اللہ اس کے مطابق کروں گا اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس دو چوٹیوں والے اپنی یہ بات سچ کر دکھائی تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2143

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور اس کے باغات کو نصف پر بٹائی کے لیے دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2144

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے جو سرخ یا سیاہ رنگت والا میری امت میں شامل ہو جائے گا وہ اس میں ہی شمار ہوگا اور میرے لیے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔ وضاحت کے لئے حدیث نمبر٢٧٤٢میں دیکھئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2145

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّبَّاغَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ كَبَّرَ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَيْسَتْ تِلْكَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ تو جب رکوع سجدے میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے، میں نے یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2146

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَّتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَجَاءَتَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ فَلَمْ يَنْصَرِفْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَرَرْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَنَحْنُ عَلَى حِمَارٍ فَجِئْنَا فَدَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے، اسی طرح ایک مرتبہ میں اور ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، ہم اپنے گدھے پر سوار تھے، ہم لوگ آئے اور نماز میں شامل ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2147

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ غِلْمَةِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاحِدًا خَلْفَهُ وَوَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد المطلب کے ایک بچے کو اٹھا کر اپنے پیچھے سوار کر لیا اور دوسرے کو اپنے آگے بٹھا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2148

حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2149

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اداء کی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2150

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنْ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں میں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2151

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ مِنْ رَافِعَةٍ يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى نَزَلَ جَمْعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ منادی کرنے کے لئے فرمایا کہ لوگو! گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2152

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھاٹی میں داخل ہو کر وہاں اترے، پانی بہایا، وضو کیا اور سوار ہوگئے اور نماز نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2153

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ

حضرت فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کرلو تو کیا وہ ادا ہوجائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس دوران حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2154

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِأَصَابِعِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ایک یہودی کا گذر ہوا ، وہ کہنے لگا کہ اے ابو القاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھائے گا اور اس شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر دانی کرنے کا حق تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2155

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ عیہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آکر لے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2156

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ خِرِّيتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَبَدَتْ النُّجُومُ وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَجَعَلَ يَقُولُ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ قَالَ فَغَضِبَ قَالَ أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَجَدْتُ فِي نَفَسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ فَوَافَقَهُ

عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کر دیا، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے، راوی حدیث عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے متلعق کچھ خلجان سا پیدا ہوا ، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی اس کی موافقت کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2157

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَوْ أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ مِنْ ذَرَارِيَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَجَعَلَ يَعْرِضُ ذُرِّيَّتَهُ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ أَيْ رَبِّ كَمْ عُمْرُهُ قَالَ سِتُّونَ عَامًا قَالَ رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُ مِنْ عُمْرِكَ وَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ وَأَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَهُ قَالَ إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ عَامًا فَقِيلَ إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَشَهِدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیات تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں ، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنالیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کردی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2158

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمْ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ قَالَ فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالَ فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ الْآيَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالارادہ جنات کو قرا ن کریم کی تلاوت نہیں سنائی تھی اور نہ ہی انہیں دیکھا تھا، اصل میں ہوا یوں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے ساتھ عکاظ نامی مشہور بازار تشریف لے گئے تھے، اس وقت تک شیاطین اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ حائل ہو چکی تھی اور ان پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے تھے، شیاطین پریشان ہو کر اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو قوم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمار اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹیں حائل ہوگئی ہیں اور ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے ہیں، قوم نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے، تم مشرق اور مغرب میں پھیل جاؤ اور معلوم کرو کہ وہ کون سی چیز ہے جس کی بناء پر تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے؟ چنانچہ یہ لوگ اس کا سبب معلوم کرنے کے لئے مشرق اور مغرب میں پھیل گئے، ان میں سے جو شیاطین تہامہ کی طرف گئے تھے، واپسی میں ان کا گذر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کے ارادے سے ایک باغ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان کے کانوں میں قرا ن کریم کی ا واز پڑی تو انہوں نے اسے توجہ سے سننا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے۔ پھر جب یہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے ہماری قوم! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ ا یت نازل فرمائی قل اوحی الی۔ ۔ ۔ ۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف وحی جنات کے قول کی ہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2159

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور جس کا گھر میقات سے پیچھے ہو تو وہ جہاں سے ابتداء کرے، وہ یہیں سے احرام باندھ لے، حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2160

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2161

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصَبِيحَةِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ كُلُّهُ وَفِي كِتَابِهِ لِصُبْحٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ اشہر حرم میں عمرہ کرنا زمین پر ہونے والے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور وہ محرم کے مہینے کو صفر کا مہینہ بھی بنا ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرناحلال ہو جاتا ہے۔ اتفاق سے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ حج کا احرام باندھ کر پہنچے تو وہ تاریخ چار ذی الحجہ کی صبح تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس احرام کو عمرہ کا احرام بنالیں؟ لوگوں نے اسے بہت بڑی بات سمجھا اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسا حلال ہونا ہوا ؟ فرمایا مکمل طور پر حلال ہونا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2162

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ كَيْفَ ذَلِكَ قَالَ ذَلِكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دراہم کے بدلے دراہم ہوں اور غلہ مؤخر ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2163

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَذَبَنِي فَجَرَّنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے میں نے بھی کھڑے ہو کر وضو کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں قیام یکساں تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2164

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى مَتَى تُضِلُّ النَّاسَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ قَالَ تَأْمُرُنَا بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَقَدْ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُرْوَةُ كَانَا هُمَا أَتْبَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَ بِهِ مِنْكَ

ایک مرتبہ عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو بہکاتے رہیں گے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ عروہ نے کہا کہ آپ ہمیں اشہر حج میں عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں جبکہ حضرات شیخین نے اس کی ممانعت فرمائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، عروہ نے کہا کہ وہ دونوں اتباع رسول میں بھی آپ سے بڑھ کر تھے اور علم میں بھی آپ سے آگے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2165

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ لِتَحُجَّ رَاكِبَةً وَلْتُهْدِ بَدَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بے نیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطورہدی کے لے جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2166

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا قَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لیے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2167

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ فَعَلْتَ وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا ، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس للہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ کام کیا ہے، لیکن تمہارے لاالہ الا اللہ کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے گناہ معاف ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2168

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ شَيْخٌ مِنْ النَّخَعِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِأُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَلَأَقُولَنَّ أَصْحَابِي فَلَيُقَالَنَّ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَلَأَقُولَنَّ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِلَى فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ قَالَ شُعْبَةُ أَمَلَّهُ عَلَى سُفْيَانَ فَأَمَلَّهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ مَكَانَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ ونصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کیے جاؤ گے ارشاد ربانی ہے ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ اور ہم یہ کر کے رہیں گے، پھر مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جاگا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں ۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پرودگار! یہ میرے ساتھی ہیں ، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں، یہ آپ کے وصال اور ان سے آپ کی جدائیگی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کہیں گے کہ میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ کی ان سے جدائی کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2169

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، در حقیقت وہ محکمات ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2170

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2171

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ جَاءَ بِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهَاجَرَ فَوَضَعَهُمَا بِمَكَّةَ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ جَاءَتْ مِنْ الْمَرْوَةِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ وَقَدْ نَبَعَتْ الْعَيْنُ فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَيْنَ بِيَدِهَا هَكَذَا حَتَّى اجْتَمَعَ الْمَاءُ مِنْ شَقِّهِ ثُمَّ تَأْخُذُهُ بِقَدَحِهَا فَتَجْعَلُهُ فِي سِقَائِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ عَيْنًا سَائِحَةً تَجْرِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ساتھ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہاالسلام کو لے کر آئے اور ان دونوں کو مکہ مکرمہ میں اس جگہ چھوڑ دیا جہاں آج کل چاہ زمزم موجود ہے ، اس کے بعد راوی نے ساری حدیث ذکر کی اور کہا کہ پھر حضرت ہاجرہ علیہاالسلام مروہ سے اسماعیل کی طرف آئیں تو ایک چشمہ ابلتا ہوا دکھائی دیا، وہ چشمہ کے گرد اپنے ہاتھ سے چار دیواری کرنے لگیں ، یہاں تک کہ پانی ایک کونے میں جمع ہوگیا، پھر انہوں نے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ اس چشمے کو یوں چھوڑ دیتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2172

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ إِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِيًّا وَإِمَّا كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنی ہوئی دستی کا گوشت یا شانے کا گوشت ناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2173

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً ثُمَّ قَالَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا وَلَكِنْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ قَالَ فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ قَالَ لَا قَالَ فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي قَالَ وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ بَدَنَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی، اگر پہلے آجاتی تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے لوگوں نے کیا ہے، لیکن قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ الغرض تمام لوگوں نے احرام کھول لیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی کا جانور تھا، ادھر حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کے احرام کی نیت سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ہدی کا جانور ہے انہوں نے عرض کیا نہیں، فرمایا جس حالت پر ہو، اسی پر ٹھہرے رہو، میں اپنی ہدی کے ایک ثلث جانور تمہیں دیتا ہوں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدی کے سو اونٹ تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2174

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً قَالَ عَفَّانُ فَسَأَلْتُ أَعْرَابِيًّا فَقَالَ بَعْضُهُ عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ وَشُفِيَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھاناخراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2175

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَشَلَ مِنْ قِدْرٍ عَظْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہنڈیا سے نکال کر ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2176

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ

حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2177

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ فَقُلْتُ مَا الْمُتَرَجِّلَاتُ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ الْمُتَشَبِّهَاتُ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، میں نے اس کا مطلب پوچھا تو فرمایا وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2178

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2179

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2180

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا اردہ نہ کیا ہو اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2181

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ وَتَرَكْنَاهُ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْصَرِفْ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَشْتَدَّانِ حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْصَرِفْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑ کا اپنے گدھے پر سوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گذرے، ہم نے اسے چھوڑ دیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گھاس وغیرہ کھانے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم نہیں کی، اسی طرح بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2182

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکادیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء مقام پر پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2183

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ) کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور علیم ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو ساتوں آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2184

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ قَالَ عَفَّانُ عَبْدٍ فِي أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2185

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خَالَتَهُ أُمَّ حُفَيْدٍ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا قَالَ فَأَكَلَ مِنْ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ قَالَ لَوْ كَانَ حَرَامًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھاناحرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2186

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنْبَأَنِي طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2187

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2188

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَقِيلَ لِي إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ ٢٣ویں رات تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2189

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً قَالَ وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2190

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَنَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ قَالَ فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ سن کر اقوع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2191

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے اور سعی کے دوران بھی بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2192

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کے میدان میں ادا فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2193

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھائی کو اپنی دیوار پر رکھنے سے منع نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2194

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ الزُّبَيْرِ عَبْدَ اللَّهِ وَصَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا فَوَصَفَ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ فَقَالَ إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ

میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع وسجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پرھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2195

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالُوا سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَسَأَلُوهُ فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالُوا أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا أُوتِينَا التَّوْرَاةَ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی چیز بتاؤ جو ہم اس شخص سے پوچھیں، انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، چنانچہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے، وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمیں تو بہت علم دیا گیا ہے، کیونکہ ہمیں تورات دی گئی ہے اور جسے تورات دی گئی، اسے بڑی خیر نصیب ہوگئی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فرما دیجئے کہ اگر میرے رب کی صفات بیان کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جائے توسمندر ختم ہوجائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2196

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَسْلَمِيِّ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ أَوْ نَظَرْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا ، یا ہاتھ لگایا ہوگا یا صرف دیکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2197

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى سَفَرٍ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ وَإِذَا دَخَلَ أَهْلَهُ قَالَ تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پچھے محافظ ہیں، اے اللہ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتاہوں، اے اللہ! زمین کو ہمارے لیے لپیٹ کر ہمارے لیے اس سفر کو آسان فرما دیجئے، اور جب واپسی کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس ہو رہے ہیں اور جب اہل خانہ کے پاس پہنچتے کہ ہماری توبہ ہے، اپنے رب کی طرف رجوع ہے، وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2198

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ گروہ قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2199

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا وَلَا تُحَفِّلُوا وَلَا يَنْعِقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبلہ رخ بیٹھ کر قضاء حاجت نہ کیا کرو، جانور کے تھن باندھ کر ان میں دودھ جمع نہ کیا کرو اور ایک دوسرے کے لئے سودے بازی مت کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2200

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَقَالَ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعْ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کو سچا قرار دیا ہے، چنانچہ ایک مرتبہ امیہ نے یہ شعر کہا کہ وہ ایسا بہادر آدمی ہے جس کے دائیں پاؤں کے نیچے بیل اور بائیں پاؤں کے نیچے گدھ ہے اور شیر کی تاک میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اسی طرح اس نے ایک مرتبہ یہ شعر کہے کہ سورج ہر سرخ رات کے آخر میں طلوع ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح ہو رہا ہوتا ہے، وہ انکار کرتا ہے اور دوبارہ طلوع نہیں ہوتا مگر سزا یافتہ ہو کر یا کوڑے کھا کر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی اس کی تصدیق کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2201

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءٌ حَتَّى يَضْطَجِعَ فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سجدے کی حالت میں سو جائے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تاآنکہ وہ پہلو کے بل لیٹ جائے، اس لئے کہ جب وہ پہلو کے بل لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2202

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً أَوْ سَبَاهَا فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ فَقَتَلَهَا فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو قیدی بنا کر گرفتار کر لیا ، اس عورت نے اس کی تلوار کے دستے میں اس کے ساتھ مزاحمت کی (اس کی تلوار چھیننے کی کوشش کی) تو اس آدمی نے اسے قتل کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گذر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2203

وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى مُؤْتَةَ فَاسْتَعْمَلَ زَيْدًا فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَابْنُ رَوَاحَةَ فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَجَمَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ قَالَ أُجَمِّعُ مَعَكَ قَالَ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک سریہ بھیجا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر کیا، ان کے شہید ہو جانے کی صورت میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو اور ان کے شہید ہوجانے کی صورت میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا ، حضرت ابن رواحہ پیچھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راہ خدا میں ایک صبح یا شام کا نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2204

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی حاملہ عورت سے ہم بستری کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2205

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت ناپاک ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2206

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سر دی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2207

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي قَالَ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے کہ اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلالے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے " زبانیہ" پکڑتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2208

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے اور دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2209

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الشَّيَاطِينِ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ہم نشین شیاطین میں سے بھی لگایا گیا ہے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے؟ فرمایا ہاں! لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اور میرا شیطان میرے تابع ہوگیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2210

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَلَقِيَهُ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ قَالَ فَقَالَ وَهُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ سَبْطٌ شَعَرُهُ مَعَ أُذُنَيْهِ أَوْ فَوْقَهُمَا فَقَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ عِيسَى فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا عِيسَى قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ شَيْخٌ جَلِيلٌ مَهِيبٌ فَرَحَّبَ بِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَكُلُّهُمْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَنَظَرَ فِي النَّارِ فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ الْيَمِينِ وَالْآخَرُ عَنْ الشِّمَالِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ فَقَالَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ الْقَدَحُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی عظیم سعادت عطاء ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جبرئیل! یہ کیا ہے؟ عرض کیا یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ بلال کامیاب ہوگئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔ بہرحال! شب معرفاج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا مرحبابالنبی الامی، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسی علیہ السلام ہیں ، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں ۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جدا مجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ اس سفر معارج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا چبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں ، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے، اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جبرئیل یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2211

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ قَالَ ثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَنْ شِمَالِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2212

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ فَيُقَالُ مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا پروردگار! (یہ تو میرے امتی ہیں) ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2213

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2214

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمْ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2215

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحَيَّةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں ایس ہیں جن میں سے ہر ایک فاسق ہے اور محرم بھی انہیں قتل کرسکتا ہے اور حرم میں بھی انہیں قتل کیا جاسکتا ہے ، چوہا، بچھو، سانپ، باؤلا کتا اور کوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2216

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُهُ غَيْرَ ثَلَاثٍ لَا أَدْرِي كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا أَوْ عُسُيًّا قَالَ حُصَيْنٌ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُهَا كُلَّهَا أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ عُتِيًّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے تین باتیں معلوم نہیں ہیں پہلی یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے " وقد بلغت من الکبر عتیا" (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) او عسیا (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ تیسری بات راوی بھول گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2217

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا فَقِيلَ لَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ قَالَ لَا بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونے کا بنادے اور دوسرے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمادی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو انتظار کر لیں اور اگر چاہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں انہیں پہلوں کی طرح ہلاک کر دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں انتظار کرلوں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہمیں معجزات بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن پہلے لوگ بھی انہیں جھٹلاتے ہی رہے ہیں، چنانچہ ہم نے قوم ثمود کو راہ دکھانے کے لئے اونٹنی دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2218

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ قَالَ وَخَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى فَجَاءَهَا فَقَالَتْ مَا زِلْتُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَائِبَةً قَالَ فَقَالَ لَهَا لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو اچھا نہ سمجھا اور ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا، اس بات کی ناپسنیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یوں کہا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم برہ کے پاس سے نکل کر آرہے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں یا رسول اللہ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے گا اور وہ کلمات یہ ہیں ۔ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2219

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَعْنِي أَنَّهُ نَاقِصٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو تیس کا عد پورا کرو، البتہ بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2220

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَا سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے یا نہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کے زیادہ مستحق ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2221

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2222

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا وُهَيْبٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الذَّبْحِ وَالرَّمْيِ وَالْحَلْقِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، رمی اور حلق یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہوجائے تو اسکا حکم پوچھا گیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2223

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا نُتَفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنے ہوئے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2224

حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2225

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ أَوْ ذِرَاعٍ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2226

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو، اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہو ں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2227

قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنْ ابْنِ عَبِّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ دُعَاءِ الْكَرْبِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2228

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ وَكَانَ يَقُولُ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے کہ اے اللہ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے لیے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطاء فرما، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے کہ جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمکتا ہوا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2229

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرْبُوعَ الْخَلْقِ فِي الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے شب معراج حضرت موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندم گوں ، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں ، نیز میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2230

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَإِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَأَمَرْتُكُمْ بِهَا وَيَحِلُّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس احرام کو عمرے کا احرام بنالو، کیونکہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی ہے، اگر پہلے آجاتی تو میں تمہیں پہلے ہی اسکا حکم دے دیتا، اس لئے اب جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے حلال ہوجانا چاہئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2231

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَخَلَّلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ

نیز فرمایا قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2232

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ مِنْ اللَّيْلِ فَرَقَدَ وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا يَعْنِي الرُّخْصَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور سو گئے اور آنکھ اس وقت تک نہیں کھلی جب تک سورج نہ نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رخصت کی جو سہولت ہمیں دی گئی ہے مجھے اس کے بدلے میں اگر دنیا و مافیہا بھی دے دی جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2233

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ يُرِيدُ مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ قَالَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ أَفْطَرَ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَوْ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یانہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2234

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي قَابُوسُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا قَالَ حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَلَكِنْ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑی تیزی سے آتے ہوئے دکھائی دیئے، جسے دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس تیزی سے اس لئے آرہا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے بتا دوں لیکن اس درمیانی فاصلے میں ہی مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2235

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهِ إِلَّا سَاعَةٌ مِنْ النَّهَارِ فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ قَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ قَدْ عَلِمَ الَّذِي لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لِلْقُبُورِ وَالْبُيُوتِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا یہ شہر حرام ہے اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لیے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں ، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2236

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْخَيَّاطُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ سَمْنٌ وَأَقِطٌ وَضَبٌّ فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ ثُمَّ قَالَ لِلضَّبِّ إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا أَكَلْتُهُ قَطُّ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَأْكُلَهُ فَلْيَأْكُلْهُ قَالَ فَأَكَلَ عَلَى خِوَانِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن نا پسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا اور فرمایا یہ ایسی چیز ہے جسے میں نے کبھی نہیں کھایا، البتہ جو کھانا چاہتا ہے وہ کھالے، چنانچہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھا لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2237

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ صُدَاعٍ كَانَ بِهِ أَوْ شَيْءٍ كَانَ بِهِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَحْيُ جَمَلٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2238

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ دِيَةَ الْعَبْدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کردے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2239

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اجْتَمَعَ الْقَوْمُ لِغَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهْلُهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَالِحٌ مَوْلَاهُ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا لِغَسْلِهِ نَادَى مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيِّ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ نَشَدْتُكَ اللَّهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ ادْخُلْ فَدَخَلَ فَحَضَرَ غَسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَلِ مِنْ غَسْلِهِ شَيْئًا قَالَ فَأَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ وَكَانَ الْعَبَّاسُ وَالْفَضْلُ وَقُثَمُ يُقَلِّبُونَهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَصَالِحٌ مَوْلَاهُمَا يَصُبَّانِ الْمَاءَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يَغْسِلُهُ وَلَمْ يُرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ مِمَّا يُرَى مِنْ الْمَيِّتِ وَهُوَ يَقُولُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا حَتَّى إِذَا فَرَغُوا مِنْ غَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُغَسَّلُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ جَفَّفُوهُ ثُمَّ صُنِعَ بِهِ مَا يُصْنَعُ بِالْمَيِّتِ ثُمَّ أُدْرِجَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدِ حِبَرَةٍ ثُمَّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ فَقَالَ لِيَذْهَبْ أَحَدُكُمَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَضْرَحُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَلْيَذْهَبْ الْآخَرُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَلْحَدُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَهُمَا حِينَ سَرَّحَهُمَا اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ قَالَ فَذَهَبَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا عُبَيْدَةَ وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِي طَلْحَةَ أَبَا طَلْحَةَ فَجَاءَ بِهِ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے پر اتفاق رائے ہوگیا، تو اس وقت گھر میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہی تھے مثلا ان کے چچا حضرت عباس، حضرت علی، فضل، قثم، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اور صالح اسی دوران گھر کے دروازے پر کھڑے حضرت اوس بن خولی انصاری خزرجی بدری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر کہا کہ اے علی رضی اللہ عنہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارا حصہ بھی رکھنا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اند آجاؤ، چنانچہ وہ بھی داخل ہوگئے اور اس موقع پر موجود رہے گو کہ انہوں نے غسل میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا، جبکہ قمیص جسم پر ہی تھی، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، فضل اور قثم رضی اللہ عنہ پہلو مبارک بدل رہے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کا ساتھ دے رہے تھے، حضرت اسامہ اور صالح پانی ڈال رہے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل دے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز ظاہر نہیں ہوئی جو میت کی ظاہر ہوا کرتی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل دیتے ہوئے کہتے جارہے تھے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ حیاومیتا کتنے پاکیزہ رہے، یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل پانی اور بیری سے دیا گیا تھا غسل سے فراغت کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو خشک کیا، پھر وہی کیا جو میت کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی انہیں تین کپڑوں میں لپیٹ دیا گیاجن میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار سرخ یمنی چادر تھی، پھر معلوم ہوا کہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جن کا اصل نام زید بن سہل تھا، اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور دوسرے کو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور دعاء کی کہ اے اللہ! اپنے پغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے والے آدمی کو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آگیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2240

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجَبًا لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمِنْ هُنَالِكَ اخْتَلَفُوا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظُوا عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ

حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابوالعباس! مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف پر بڑا تعجب ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس وقت اس بات کو لوگوں میں سے زیادہ میں جانتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری زندگی میں صرف ایک حج کیا تھا ، یہیں سے لوگوں میں اختلاف ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ارادے سے نکلے، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں پڑھ چکے تو وہ یہیں بیٹھے بیٹھے حج کا احرام باندھ لیا لوگوں نے اسے سن کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کرلیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے، جب اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ احرام کی نیت والے الفاظ کہے، کچھ لوگوں نے یہ الفاط سن لئے کیونکہ لوگ مختلف ٹولیوں کی شکل میں آتے تھے، اکٹھے ہی سارے نہیں آجاتے تھے، یہ لوگ بعد میں کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا تھا جب اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی ہوگئی تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے، جب بیداء کی چوٹی پر چڑھے تو دوبارہ تلبیہ کہا، کچھ لوگوں نے اس وقت کو یاد رکھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء کی چوٹی پر احرام باندھا ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی نیت تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی کرلی تھی۔ البتہ تلبیہ کا اعادہ اس وقت بھی کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر چلنے لگی تھی اور اس وقت بھی جب آپ صلی اللہ وسلم بیداء کی چوٹی پر چڑھے تھے، اس لئے جو شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ احرام کی دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی احرام کی نیت کر لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2241

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا وَقَالَ اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا فَفَعَلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش کی، جن میں سے تیس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور باقی انہوں نے ذبح کیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ان سب کا گوشت، جھولیں اور کھالیں لوگوں میں تقسیم کر دو، قصاب کو اس میں کوئی چیزبطور اجرت کے نہ دینا اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک لمبا ٹکڑا ہمارے لیے رکھ لینا، پھر ان سب کو ایک ہنڈیا میں پکانا تاکہ ہم بھی اس کا گوشت کھا سکیں اور اس کا شوربہ پی سکیں، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2242

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ مَعَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا فَقَالَ وَيْحَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيُحِلَّ بِعُمْرَةٍ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالعباس! آپ تو یہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر حج پر نہ جارہا ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے اور وہ حاجی جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر جارہا ہو، اس کا حج اور عمرہ اکٹھا ہوجاتا ہے، لیکن لوگ اس طرح نہیں کہتے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے احرام باندھتے وقت صرف حج کا ذکر کیا تھا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے، ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو حج کا احرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج نہیں ہے بلکہ عمرہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2243

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَهْلِ الشِّرْكِ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ الحصبۃ کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو صرف اس لیے عمرہ کروایا تھا کہ مشرکین کے اس خایل کی بیخ کنی فرما دیں جو کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2244

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ أَهْدَى جَمَلَ أَبِي جَهْلٍ الَّذِي كَانَ اسْتَلَبَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدْيِهِ وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ لِيَغِيظَ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی) جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا تاکہ مشرکین کو غصہ دلائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2245

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا اور مسلمانوں نے بھی اپنا روزہ ختم کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2246

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فِيهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2247

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2248

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَكَانَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ إِسْلَامِهِ بِسِتِّ سِنِينَ عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَهَادَةً وَلَا صَدَاقًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا،از سر نو نکاح اور مہر مقرر نہیں کیا، حالانکہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے چھ سال قبل اسلام قبول کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2249

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَلْعَجْلَانَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ قَالَ فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کے قبیلہ بنو عجلان کی ایک عورت سے نکاح کیا، اس نے اس کے ساتھ رات گذاری صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اسے کنوارا نہیں پایا، یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس سے پوچھا تو اس نے کہا کیوں نہیں ، میں تو کنواری تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو مہر دلوایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2250

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِهِ فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ فَحَنَى عَلَيْهَا يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد و عورت کو مسجد کے دروازے کے پاس رجم کرنے کا حکم دیا، یہودی کو جب پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ اس عورت کو جھک جھک کر بچانے کی کوشش کرنے لگا تاآنکہ وہ دونوں ختم ہوگئے، درحقیقت ان دونوں کو جو سزا دی گئی تھی، وہ اللہ کی مقرر کردہ سزا تھی کیونکہ ان دونوں کے متعلق بدکاری کا ثبوت مہیا ہوگیا تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ سزا جاری فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2251

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ مردہ ہے، فرمایا اس کا صرف کھاناحرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2252

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَبَعَثَ كِتَابَهُ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلْيَاءَ عَلَى الزَّرَابِيِّ تُبْسَطُ لَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا جَاءَ قَيْصَرَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ قَرَأَهُ الْتَمِسُوا لِي مِنْ قَوْمِهِ مَنْ أَسْأَلُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ أَنَّهُ كَانَ بِالشَّامِ فِي رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدِمُوا تُجَّارًا وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَأَتَانِي رَسُولُ قَيْصَرَ فَانْطَلَقَ بِي وَبِأَصْحَابِي حَتَّى قَدِمْنَا إِيلْيَاءَ فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِ مُلْكِهِ عَلَيْهِ التَّاجُ وَإِذَا حَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُمْ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَنَا أَقْرَبُهُمْ إِلَيْهِ نَسَبًا قَالَ مَا قَرَابَتُكَ مِنْهُ قَالَ قُلْتُ هُوَ ابْنُ عَمِّي قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَلَيْسَ فِي الرَّكْبِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ غَيْرِي قَالَ فَقَالَ قَيْصَرُ أَدْنُوهُ مِنِّي ثُمَّ أَمَرَ بِأَصْحَابِي فَجُعِلُوا خَلْفَ ظَهْرِي عِنْدَ كَتِفِي ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لِأَصْحَابِهِ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَ فَكَذِّبُوهُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَوَاللَّهِ لَوْلَا الِاسْتِحْيَاءُ يَوْمَئِذٍ أَنْ يَأْثُرَ أَصْحَابِي عَنِّي الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ حِينَ سَأَلَنِي وَلَكِنِّي اسْتَحَيْتُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبُ فَصَدَقْتُهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ كَيْفَ نَسَبُ هَذَا الرَّجُلِ فِيكُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ فِي الْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ فَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قَالَ قُلْتُ لَا وَنَحْنُ الْآنَ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ وَنَحْنُ نَخَافُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا أَنْتَقِصُهُ بِهِ غَيْرُهَا لَأَخَافُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبُ قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ أَوْ قَاتَلَكُمْ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ كَانَتْ حَرْبُكُمْ وَحَرْبُهُ قَالَ قُلْتُ كَانَتْ دُوَلًا سِجَالًا نُدَالُ عَلَيْهِ الْمَرَّةَ وَيُدَالُ عَلَيْنَا الْأُخْرَى قَالَ فَبِمَ يَأْمُرُكُمْ قَالَ قُلْتُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ قَالَ فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فِيكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَطُّ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ وَسَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ اتَّبَعُوهُ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ لَا يَسْخَطُهُ أَحَدٌ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ وَأَنَّ حَرْبَكُمْ وَحَرْبَهُ يَكُونُ دُوَلًا يُدَالُ عَلَيْكُمْ الْمَرَّةَ وَتُدَالُونَ عَلَيْهِ الْأُخْرَى وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى وَيَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ بِمَاذَا يَأْمُرُكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصِّدْقِ وَالصَّلَاةِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَهَذِهِ صِفَةُ نَبِيٍّ قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَكِنْ لَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَإِنْ يَكُنْ مَا قُلْتَ فِيهِ حَقًّا فَيُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَاللَّهِ لَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لُقِيَّهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُرِئَ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ يَعْنِي الْأَكَّارَةَ وَ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَلَمَّا قَضَى مَقَالَتَهُ عَلَتْ أَصْوَاتُ الَّذِينَ حَوْلَهُ مِنْ عُظَمَاءِ الرُّومِ وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فَلَا أَدْرِي مَاذَا قَالُوا وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَلَمَّا خَرَجْتُ مَعَ أَصْحَابِي وَخَلَصْتُ لَهُمْ قُلْتُ لَهُمْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ هَذَا مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ يَخَافُهُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ ذَلِيلًا مُسْتَيْقِنًا أَنَّ أَمْرَهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ قَلْبِي الْإِسْلَامَ وَأَنَا كَارِهٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی، اور یہ خط دے کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور انہیں یہ حکم دیا کہ یہ خط بصرہ کے گورنر تک پہنچا دینا تاکہ وہ قیصر کے پاس اس خط کو بھجوا دے، چنانچہ بصرہ کے گورنر نے وہ خط قیصر روم تک پہنچا دیا قیصر کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایرانی لشکروں پر فتح یابی عطاء فرمائی تھی اس لئے وہ اس کی خوشی میں شکرانے کے طور پر حمص سے بیت المقدس تک پیدل سفر طے کر کے آیا ہوا تھا، اس سفر میں اس کے لئے راستے بھر قالین بچھائے گئے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب قیصر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اس نے وہ خط پڑھ کر کہا کہ ان کی قوم کا کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ تاکہ میں اس سے کچھ سوالات پوچھ سکوں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہر قل(شاہ روم) نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا ( اور وہ) قریش کے چند سواروں میں سے جو اس وقت بیٹھے ہوئے تھے) اور وہ لوگ شام میں تاجر (بن کر گئے) تھے (اوریہ واقعہ) اس زمانہ میں (ہوا ہے) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان اور کفار قریش سے ایک محدود عہد کیا تھا ۔ چنانچہ قریش ہرقل کے پاس آئے اور یہ لوگ(اس وقت) ایلیاء میں تھے، تو ہرقل نے ان کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس کے گرد سرداران روم (بیٹھے ہوئے تھے) پھر ان (سب قریشیوں کو) اس نے اپنے قریب) بلایا اور اپنے ترجمان کو طلب کیا اور (قریشیوں سے مخاطب ہو کر ) کہا کہ تم میں سب سے زیادہ اس شخص کا قریب النسب کون ہے، جو اپنے کو نبی کہتا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ان میں سب سے زیادہ (ان کا) قریب النسب ہوں (یہ سن کر) ہرقل نے کہا کہ ابوسفیان کو میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو (بھی) قریب رکھو اور ان کو ابو سفیان کے پاس پشت پر (کھڑا) کرو، پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ابو سفیان سے اس مرد کا حال پوچھتا ہوں (جو اپنے کو نبی کہتا ہے) پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہے تو تم (فورا) اس کی تکذیب کر دینا (ابوسفیان کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے، تو یقینا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت غلط باتیں بیان کر دیتا۔ غرض سب سے پہلے جو ہرقل نے مجھ سے پوچھا وہ یہ تھا کہ ان کا نسب تم لوگوں میں کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ وہ ہم میں (بڑے نسب والے ہیں ۔ (پھر) ہرقل نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے پہلے بھی اس بات (یعنی نبوت) کا دعوی کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں پھر ہرقل نے کہا کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا نہیں ۔ پھر ہرقل نے کہا کہ باثر لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ میں نے کہا (امیروں نے نہیں بلکہ) کمزور لوگوں نے۔ پھر ہرقل بولا کہ آیا ان کے پیرو دن بہ دن بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں؟ میں نے کہا کم نہیں ہوتے بلکہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ آیا ان لوگوں میں سے کوئی ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے بدظن ہو کر منحرف بھی ہوجاتا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ کیا وہ کبھی وعدہ خلافی کرتے ہیں میں نے کہا کہ نہیں اور اب ہم ان کی طرف سے مہلت میں ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ وہ اس مہلت کے زمانہ میں کیا کریں (وعدہ خلافی یا وعدہ وفائی) ابو سفیان کہتے ہیں کہ سوائے اس کلمہ کے مجھے قابو نہیں ملا کہ میں کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں داخل کر دیتا۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں تو ہرقل بولا تمہاری جنگ اس سے کیسی رہتی ہے؟ میں نے کہا کہ لڑائی ہمارے اور ان کے درمیان ڈول کے مثل رہتی ہے کہ کبھی وہ ہم سے لے لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے لے لیتے ہیں (یعنی کبھی ہم فتح پاتے ہیں اور کبھی وہ۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (شرکیہ باتیں و عبادتیں ) جو تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، سب چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے اور سچ بولنے اور پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان میں اعلی نسب والے ہیں چنانچہ تمام پیغمبر اپنی قوم کے نسب میں اعلی نسب مبعوث ہوا کرتے ہیں ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا یہ بات (یعنی اپنی نبوت کی خبر) تم میں سے کسی اور نے بھی ان سے پہلے کہی تھی؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں ۔ میں نے اپنے دل میں یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کوئی کہہ چکا ہو تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو اس قول کی تقلید کرتے ہیں جو ان سے پہلے کہا جا چکا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہوگا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک شخص ہیں جو اپنے باپ دادا کا ملک(اقتدارحاصل کرنا) چاہتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا اس سے پہلے کہ انہوں نے جو یہ بات (نبوت کا دعوی) کہی ہے، کہیں تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں پس اب میں یقینا جانتا ہوں کہ کوئی شخص ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگوں سے جھوٹ بولنا (غلط بیانی) چھوڑ دے اور اللہ پر جھوٹ بولے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا بڑے (بااثر) لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ تو تم نے کہا کہ کمزور لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے۔ اور در اصل تمام پیغمبروں کے پیرو یہی لوگ ہوتے رہے ہیں ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو زیادہ ہوتے جاتے ہیں یا کم؟ تو تم نے بیان کیا کہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور درحقیقت ایمان کا یہی حال ہوتا ہے تاوقتیکہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص بعد میں اس کے کہ ان کے دین میں داخل ہوجائے، ان کے دین سے ناخوش ہو کر دین سے پھر بھی جاتا ہے؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں اور ایمان کا حال ایسا ہی ہے جب اس بشاشت دلوں میں رچ بس جائے تو پھر نہیں نکلتی اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں تو تم نے بیان کیا کہ نہیں ! اور بات یہ ہے کہ اسی طرح تمام پیغمبر وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نیز تمہیں بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور تمہیں نماز پڑھنے سچ بولنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ پس اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کے مالک ہوجائیں گے اور بے شک میں (کتب سابقہ کی پیش گوئی سے) جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میں یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ پس اگر میں جانتاکہ ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے ملنے کا بڑا اہتمام و سعی کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو یقینا میں ان کے قدموں کو دھوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2253

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَكَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَفَظِعْتُهُمَا فَكَرِهْتُهُمَا وَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُ كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ

عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خواب یاد ہو تو بتائیے انہوں نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سو رہا تھا، ایسا محسوس ہوا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے ہیں، میں گھبرا گیا اور ان سے مجھے بڑی کراہت ہوئی، مجھے حکم ہوا تو میں نے ان دونوں پر پھونک مار دی اور وہ دونوں اڑ گئے، میں اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کرتا ہوں جن کا خروج ہوگا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اسود عنسی تھاجسے حضرت فیروز رضی اللہ عنہ نے یمن میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2254

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ صَالِحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ أَلَا تَرَى أَنْتَ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ هَذَا إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا فَوَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُ أَبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ابوالحسن! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الحمدللہ ٹھیک ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ بخدا! اس بیماری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جانبر نہ ہوسکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں ، اس لئے آؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعدخلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہوجائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی درخواست کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2255

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

حدیث نمبر٢٧٨ایک دوسری سند سے یہاں مروی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے مجھے جبرئیل امین علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2256

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلُمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ يَعْنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان منی میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اس وقت قریب البلوغ تھا ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور پہلی صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2257

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بُسِطَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنْ الطَّعَامِ قَالَ فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ثُمَّ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَهَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَالَ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ قَالَ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ قَالَ ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ

محمد بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جمعہ کے اگلے دن حاضر ہوا، اس وقت وہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے کیونکہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اس کی وصیت فرمائی تھی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جب جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کے لئے وہاں گدا بچھا دیا جاتا تھا اور وہ لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے لئے وہاں آکر بیٹھ جاتے۔ چنانچہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، میں سن رہا تھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، اس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے اور فرمایا کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی حجرے میں نماز ظہر کے لئے وضو کیا، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے بلانے آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر آنے کے لئے اٹھے، ابھی اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہی تھے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھیجا ہوا گوشت اور روٹی کا ہدیہ آپہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر حجرہ میں واپس چلے گئے اور ان کے سامنے وہ کھانا پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تناول فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی کھایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پانی کو چھوا تک نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھا دی۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری معاملات یاد تھے اور وہ اس وقت سمجھدار ہوگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2258

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكْيرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرِهِ فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے قریب پہنچتے تو اشارہ کر کے اللہ اکبر کہتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2259

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَتِينٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال مباک ہوا ہے، اس وقت تک میرے ختنے ہوچکے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2260

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغَلِّظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ قَالَ لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَتْ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً الزَّكَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْحَجَّ وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا يُنَاشِدُهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ ثُمَّ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَلَّى إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَأَتَى إِلَى بَعِيرِهِ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى قَالُوا مَهْ يَا ضِمَامُ اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ اتَّقِ الْجُنُونَ قَالَ وَيْلَكُمْ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ لَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بھیجا، وہ آئے، اپنا اونٹ مسجد نبوی کے دروازے پر بٹھایا، اسے باندھا اور مسجد میں داخل ہوگئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے،ضمام ایک مضبوط آدمی تھے، ان کے سر پر بال بہت زیادہ تھے جس کی انہوں نے دو مینڈھیاں بنا رکھی تھیں، وہ چلتے ہوئے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر رک گئے اور کہنے لگے کہ آپ میں سے ابن عبدالمطلب کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ہوں، انہوں نے پوچھا کیا آپ ہی کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا۔ ضمام نے کہا کہ اے ابن عبدالمطلب! میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں، ہوسکتا ہے اس میں کچھ تلخی یا سختی ہو جائے اس لئے آپ برا نہ منائیے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں برا نہیں مناتا، آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں، پوچھ لیں، ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جو آپ کا اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے ، کیا اللہ ہی نے آپ کو ہماری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو آپ کا، آپ سے پہلوں کا اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے ، کیا اللہ نے آپ کو ہمیں یہ حکم دینے کے لئے فرمایا کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان تمام معبودوں اور شرکاء کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آباؤ و اجداد پوجا کرتے تھے؟ فرمایا ہاں ! پھر ضمام نے مذکورہ قسم دے کر پوچھا کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم یہ پانچ نمازیں ادا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر ضمام نے ایک ایک کر کے فرائض اسلام مثلا زکوۃ، روزہ، حج اور دیگر تمام شرائع کے بارے سوال کیا اور ہر مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ الفاظ میں قسم دیتا رہا، یہاں تک کہ جب ضمام فارغ ہوگئے تو کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے رسول ہیں، میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا اور جن چیزوں کے آ نے سے مجھے منع کیا ہے میں ان سے بچتا رہوں گا اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کروں گا۔ پھر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کرچلے گئے، ان کے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی بات سچ کر دکھائی تو یہ جنت میں داخل ہوگا،ضمام نے یہاں سے روانہ ہوتے ہی اپنے اونٹ کی رسی ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں پہنچ گئے، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوگئے،ضمام نے سب سے پہلی بات جو کی وہ یہ تھی لات اور عزی بہت بری چیزیں ہیں ، لوگ کہنے لگے ضمام! رکو، برص اور جذام سے بچو، پاگل پن سے ڈرو، (ان بتوں کو برا بھلا کہنے سے کہیں تمہیں یہ چیزیں لاحق نہ ہو جائیں ) انہوں نے فرمایا افسوس! بخدا! یہ دونوں چیزیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی نفع، اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیاہے، اس پر اپنی کتاب نازل کر کے تمہیں ان چیزوں سے بچا لیا ہے جن میں تم پہلے مبتلا تھے، میں تو اس بات کی گواہی دے آیا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے کچھ احکامات لے کر آیا ہوں اور کچھ ایسی چیزیں جن سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں، بخدا! شام ہونے سے پہلے ان کے قبیلے کا ہر مرد اور ہر عورت اسلام قبول کر چکے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی قوم کا نمائندہ افضل نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اختصار کے ساتھ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2261

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقْبًا قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمْعٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلوۃ الخوف اسی طرح ہوتی تھی جیسے آج کل تمہارے چوکیدار تمہارے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، البتہ ہوتا یہ تھا کہ فوج گھاٹیوں میں ہوتی تھی، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہوجاتا، وہ سب ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب سجدہ کر چکتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور جو گروہ کھڑا ہوتا وہ خود سجدہ کر لیتا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو سب ہی کھڑے ہوجاتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے، تمام لوگ بھی رکوع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ میں وہ لوگ شریک ہوجاتے جو پہلی مرتبہ کھڑے ہوئے تھے اور پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے والے کھڑے ہوجاتے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا ہوتا تو وہ لوگ سجدہ کر لیتے جو کھڑے تھے، پھر وہ بیٹھ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو اکٹھا لے کر سلام پھیرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2262

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَمَسُّوا مِنْ الطِّيبِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي وَأَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا ہے تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور اپنا سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2263

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحَهُ مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت ایک حضرمی چادر میں اچھی طرح لپٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2264

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ بارش کے دن دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو زمین کے کیچڑ سے بچنے کے لئے اپنی چادر کو زمین پر بچھا لیتے، پھر اس پر ہاتھ رکھتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2265

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْآيَتَيْنِ مِنْ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ وَبِالْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ پہلی رکعت میں سورت بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت فرماتے تھے اور دوسری رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ سورت آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرماتے " قل یا اہل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بینننا و بینکم " یہاں تک اس آیت کو مکمل فرما لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2266

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا قَالَ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَّقْتَهَا قَالَ طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ قَالَ فَرَجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ، بعد میں انہیں اسپر انتہائی غم ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں ؟ عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کر سکتے ہو، چنانچہ انہوں نے رجوع کرلیا، اسی وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2267

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ قَالُوا يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عَنْ الْحَرْبِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب غزوہ احد کے موقع پر تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر اترتے، اس کے پھلوں کو کھاتے اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں رہتے تھے، جب انہوں نے اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو یہ عمدگی اور آرام کے لئے ایسا بہترین ٹھکانہ دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ کاش! ہمارے بھائیوں کو بھی کسی بہتر طریقے سے پتہ چل جاتا کہ اللہ تعالی نے ہمارے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے، تاکہ وہ بھی جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی سے منہ نہ پھیریں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا یہ پیغام ان تک میں پہنچاؤں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر سورت آل عمران کی یہ آیات نازل فرما دیں " و لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ" گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2268

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہداء کرام باب جنت پر موجود ایک نہر کے کنارے پر سبز رنگ کے خیمے رہتے ہیں، جہاں صبح وشام جنت سے ان کے پاس رزق پہنچتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2269

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ثُمَّ وَجَّهَهُمْ وَقَالَ انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بقیع غرقد تک پیدل چل کر گئے، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اللہ کا نام لے کر روانہ ہوجاؤ اور فرمایا اے اللہ ان کی مدد فرما، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے وہ لوگ تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف بھیجا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2270

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ أَفْطَرَ ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب ابو رھم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ کو بنا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس رمضان کو نکلے تھے، اس لئے خود بھی روزے سے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی روزے سے تھے، جب کدید نامی جگہ پر جو عسفان اور امج کے درمیان پانی کی ایک جگہ ہے پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا، پھر روانہ ہوگئے یہاں تک کہ مرالظہران پر پہنچ کر پڑاؤ کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2271

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيجٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَمُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فِي سَفَرِهِ وَهُوَ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2272

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ كَفِّنُوهُ وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُلَبِّي أَوْ وَهُوَ يُهِلُّ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کفن نہ دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی البتہ اس میں سر کے بجائے چہرہ ڈھانپنے سے ممانعت کی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2273

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ يَقُولُ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِنْ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے لہذا اگر تم سے کوچ کا مطالبہ کیا جائے تو کوچ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2274

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكِبِي شَكَّ سَعِيدٌ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطاء فرما اور کتاب کی تاویل وتفسیر سمجھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2275

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے اور یہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2276

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيًا أَوْ سَبْعًا يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ روشنی میں دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2277

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہوگئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا گذشتہ حدیث اس دوسری سند میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2278

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ فَقَالَ إِنَّ مَثَلَهُ وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنْ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَتَتَّبِعُونِي فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِهِمْ فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا فَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَنْ تَتَّبِعُونِي فَقَالُوا بَلَى قَالَ فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا أَعْشَبَ مِنْ هَذِهِ وَحِيَاضًا هِيَ أَرْوَى مِنْ هَذِهِ فَاتَّبِعُونِي قَالَ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ صَدَقَ وَاللَّهِ لَنَتَّبِعَنَّهُ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا سر کی طرف، جو فرشتہ پاؤں کی طرف بیٹھا تھا اس نے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال اس مسافر قوم کی طرح ہے جو ایک جنگل کے کنارے پہنچی ہوئی ہے، ان کے پاس اتنا زاد سفر نہ ہو کہ وہ اس جنگل کو طے کر سکیں ، یا واپس جا سکیں، ابھی یہ لوگ اسی حال میں ہوں کہ ان کے پاس یمنی حلے میں ایک آدمی آئے اور ان سے کہے دیکھو! اگر میں ایک سر سبز و شاداب باغ اور جاری حوض پر لے کر جاؤں تو کیا تم میری پیروی کرو گے؟ وہ جواب دیں کہ ہاں! چنانچہ وہ شخص انہیں لے کر سر سبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضوں پر پہنچ جائے اور یہ لوگ کھا پی کر خوب صحت مند ہو جائیں ۔ پھر وہ آدمی ایک دن ان سے کہے کیا تم سے میری ملاقات اس حالت میں نہیں ہوئی تھی کہ تم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر میں تمہیں سر سبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضو پر لے کر پہنچ جاؤں تو تم میری پیروی کرو گے؟ وہ جواب دیں کیوں نہیں، وہ آدمی کہیں کہ پھر تمہارے آگے اس سے بھی زیادہ سر سبز و شاداب باغات ہیں اور اس سے زیادہ سیراب کرنے والے حوض ہیں اس لئے اب میری پیروی کرو، اس پر ایک گروہ ان کی تصدیق کرے اور کہے کہ ان شال اللہ ہم ان کی پیروی کریں گے اور دوسرا گروہ کہے ہم یہیں رہنے میں خوش ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2279

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ الْمَاءُ مَاءُ غُسْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَسَّلُوهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ يَسْتَنْقِعُ فِي جُفُونِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَحْسُوهُ

جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ کے پیالوں میں پانی جمع کر لیا جاتا تھا ، بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے پیتے رہتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2280

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا لَبَّى يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَهِ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جب تلبیہ پڑھتے تو یوں کہتے لبیک اللّٰہم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک والملک لا شریک لک اور فرماتے تھے کہ یہاں رک جاؤ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہی تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2281

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ الَّذِي يُحْدِثُ التَّفْسِيرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ يَدَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2282

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُعِدْ الْوُضُوءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2283

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِهِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُمْ الظِّلُّ قَالَ فَقَالَ إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَتَاكُمْ فَلَا تُكَلِّمُوهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ قَالَ عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ نَفَرٌ دَعَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَدَعَاهُمْ فَحَلَفُوا بِاللَّهِ وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ الْآيَةَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ الظِّلُّ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ عیلہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2284

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ قَابُوسَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا فَقَالَ لَهُ أَلَا تَسْتَاكُ فَقَالَ إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان دونوں کی ضرورت ایک جیسی تھی، ان میں سے ایک نے جب اپنی بات شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے منہ سے بدبو محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم مسواک نہیں کرتے؟ اس نے کہا کرتا ہوں ، لیکن مجھے تین دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا (اس کی وجہ سے منہ سے بدبو آ رہی ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے اسے ٹھکانہ مہیا کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضرورت پوری کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2285

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ مَا عَنَى بِذَلِكَ قَالَ قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي قَالَ فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ قَالَ قَلْبٌ مَعَكُمْ وَقَلَبٌ مَعَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ

ابو ظبیان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے، اس ارشادباری تعالیٰ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، دوران نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خیال آیا، تو وہ منافق جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، کہنے لگے کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے دو دل ہیں، ایک دل تمہارے ساتھ ، اور ایک دل ان کے ساتھ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2286

حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ثُمَّ يَدْعُو

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ اس کے بعد دعاء فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2287

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ بَنَاتِهِ وَهِيَ فِي السَّوْقِ فَأَخَذَهَا وَوَضَعَهَا فِي حِجْرِهِ حَتَّى قُبِضَتْ فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقِيلَ لَهَا أَتَبْكِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْكِ وَهَذِهِ رَحْمَةٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ام ایمن رضی اللہ عنہ بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2288

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُمْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى أَخَذَ بِعَضُدِي أَوْ بِيَدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2289

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ حَدَّثَنِي حَنَشٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں، کچھ انصاری لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس کے متعلق سوال کیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں فرمایا تھا تم اپنی بیوی کے پاس ہر طرح آسکتے ہو بشرطیکہ فرج میں ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2290

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا قَزَعَةُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا إِلَّا أَنْ تَوَدُّوا اللَّهَ وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس جو واضح آیات اور ہدایت لے کر آیا ہو، اس پر میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرو، اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2291

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا يَعْنِي أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الْأُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا وَجْهَهُ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ هَذَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، اس میں اپنا چہرہ دھویا، ایک چلو بانی لے کر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لیا اور دوسرے ہاتھ کو اس کے ساتھ ملا کر چہرہ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر بایاں ہاتھ دھویا، سر کا مسح کیا پھر ایک چلو پانی لے کر دائیں پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا، پھر ایک اور چلو لے کر بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2292

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي سَعَلَ فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2293

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ قَالَ لَا وَمَنْ شَاءَ اغْتَسَلَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرِقُوا وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصِيرًا إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الصُّوفِ فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا جِئْتُمْ الْجُمُعَةَ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا غسل جمعہ واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، جو چاہے غسل کر لے ( اور نہ چاہے تو نہ کرے) میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کے دن غسل کا آغاز کس طریقے سے ہوا تھا؟ لوگ غریب ہوا کرتے تھے اون کا لباس پہنا کرتے تھے، باغات کو سیراب کرنے کے لئے اپنی کمر پر پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اور مسجد نبوی تنگ تھی اس کی چھت بھی نیچی تھی، لوگ جب اون کے کپڑے پہن کر کام کرتے تو انہیں پسینہ آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر بھی چھوٹا تھا اور اس میں صرف تین سیڑھیاں تھیں ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں کو اپنے اونی کپڑوں میں پسینہ آیا ہوا تھا، جس کی بو پھیل رہی تھی اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے تنگ ہو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جبکہ وہ منبر پر تھے اس کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا لوگو! جب تم جمعہ کے لئے آیا کرو تو غسل کر کے آیا کرو اور جس کے پاس جو خوشبو سب سے بہترین ہو، وہ لگا کر آیا کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2294

حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی جانور سے بد فعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کرو دو اور اس جانور کو بھی قتل کردو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2295

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي الرَّمْيِ وَالذَّبْحِ وَالْحَلْقِ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، رمی اور حلق یا تربیت میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2296

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطاء فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2297

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ الْوَلِيدُ يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى

ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خشوع وخضوع اور عاجزی و زاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2298

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَمِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2299

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَ فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِائَةِ فَتُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ، (سماک کہتے ہیں کہ صفر انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے) ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کردیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2300

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2301

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَأَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَتْ جَمْعًا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَتْ مِنًى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس رضی اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی تک حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹا لیا اور فرمانے لگے لوگو! سکون اور وقار سے چلو کیونکہ گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، اس کے بعد میں کسی سواری کو سرپٹ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ منی پہنچ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2302

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ مِائَةَ بَدَنَةٍ فِيهَا جَمَلٌ أَحْمَرُ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2303

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2304

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا فَقَالَتْ وَيْحَكَ إِنِّي مُغِيبٌ فَتَرَكَهَا وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ وَيْحَكَ فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ لِلذَّاكِرِينَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں ، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑخانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا پھر وہ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! شاید اس کا شوہر راہ خدا میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر راہ خدا میں، جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، اس آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لیے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرنے سچ کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2305

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِ الْجِنِّ وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا قَالَ لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ قَالُوا إِنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جنات کے اس قول "انہ لماقام عبداللہ یدعو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں آپ کی اقتداء کر رہے ہیں، آپ کے رکوع پر خود رکوع کر رہے ہیں، آپ کے سجدے پر خود سجدہ کر رہے ہیں، تو انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اطاعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر تعجب ہوا، چنانچہ جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے تو کہنے لگے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ہیں تو قریب ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے لئے بھیڑ لگا کر جمع ہوجائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2306

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے نکلے، منبر پر رونق افروز ہوئے، اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا کہ اپنی جان اور اپنے مال کے اعتبار سے ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں ہے، اگر میں انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا لیکن اسلام کی خلقت سب سے افضل ہے، اس مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کر دو، سوائے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2307

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَاهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ قَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِكْتَهَا لَا يُكَنِّي قَالَ نَعَمْ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا ، یاچھیڑ خانی کی ہوگی یا دیکھا ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2308

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَيَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا كَانَ أَبِي إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام يُعَوِّذُ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ عَلَيْهِمَا السَّلَام

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین رضی اللہ عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے، میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہو ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہماالسلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2309

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّا نَغْزُو فَنُؤْتَى بِالْإِهَابِ وَالْأَسْقِيَةِ قَالَ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2310

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2311

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2312

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضے سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2313

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُوا فِي الْقَصْعَةِ مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پیالے برتن کے کناروں سے کھانا کھایا کرو ، درمیان سے نہ کھایا کرو ، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔ ( اور سب طرف پھیلتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2314

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسِبُهُ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2315

حَدَّثَنَا سُرَيجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَجَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ فَزَوَّجَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے معاملے کا اختیار حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور انہوں نے ان کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2316

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرَمُونَ الدِّيَةَ بِجِيفَتِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَخَبِيثٌ خَبِيثُ الدِّيَةِ خَبِيثُ الْجِيفَةِ فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2317

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ حَدَّثَنِي سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان یہ تحریر لکھ دی کہ اپنی دیت ادا کیا کریں ، اپنے قیدیوں کا بھلے طریقے سے فدیہ ادا کریں اور مسلمانوں میں اصلاح کی کوشش کیا کریں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2318

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار جس کا نام ذوالفقار تھا غزوہ بدر کے دن (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو بطور انعام کے عطاء فرمائی تھی، یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا اور فرمایا تھا کہ میں نے اپنی تلوار ذوالفقار میں کچھ شکستگتی کے آثار دیکھے، جس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ تمہارے اندر شکشگی کے آثار ہوں گے، نیز میں نے دیکھا کہ میں اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو سوار کیے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر لشکر کے مینڈھے سے کی ہے، پھر میں نے اپنے آپ کو ایک مضبوط قلعے میں دیکھا جس کی تاویل میں مدینہ منورہ سے کی، نیز میں نے ایک گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، بخدا! گائے خیر ہے، بخدا! گائے خیر ہے، چنانچہ ایساہی ہواجیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2319

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَدْرَ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر میں صرف اتنی آواز سے تلاوت فرماتے ھے کہ حجرہ میں اگر کوئی موجود ہو تو وہ سن لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2320

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسی علیہ السلام کو بتایا کہ ان کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اپنی آنکھوں سے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2321

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ قَالَ وَكَيْفَ فَعَلْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطَ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلَ وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ثُمَّ قِيلَ انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ حَدَّثَنَا شُجَاعٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ مِثْلَهُ

حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے فرمایا تم میں سے کسی نے رات کو ستارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے، میں اس وقت نماز میں نہیں تھا، البتہ مجھے ایک بچونے ڈس لیا تھا ، انہوں نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے جھاڑ لیا، انہوں نے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا اس حدیث کی وجہ سے جو ہمیں امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت بریدہ اسلمی کے حوالے سے سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر بد یا ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کی جھاڑ پھونک صحیح نہیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے کہ جو شخص اپنی سنی ہوئی روایات کو اپنا منتہی بنالے، یہ سب سے اچھی بات ہے، پھر فرمایا کہ ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادنقل کیا ہے کہ مجھ پر مختلف امتیں پیش کی گئیں، میں نے کسی نبی کے ساتھ پورا گروہ دیکھا، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ دیکھا، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑا جم غفیر پیش کیا گیا ، میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، البتہ آپ افق کی طرف دیکھئے، وہاں ایک بڑی جمعیت نظر آئی، پھر مجھے دوسری طرف دیکھنے کا حکم دیا گیا، وہاں بھی ایک بہت بڑا جم غفیر دکھائی دیا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہوگئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے؟ بعض کہنے لگے کہ ہوسکتا ہے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہوں ، بعض نے کہا کہ شاید اس سے وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ تم لوگ کس بحث میں پڑے ہوئے ہو؟ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بحث کے بارے بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بد شگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! تم ان میں شامل ہو، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگایا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھری مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2322

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَإِنْ كَانَ لَيَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَإِنْ كَانَ لَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2323

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ الْأَوْدِيَةَ وَجَاءَ بِهَدْيٍ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ فَأَمَّا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ مَكَّةَ فَأَخِّرُوا طَوَافَكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وادیوں کو طے کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور بھی لے کر آئے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا لیکن اے اہل مکہ! تم اپنے طواف کو اس وقت تک مؤخر کردیا کرو جب تم واپس لوٹ کر آؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2324

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے بیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2325

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مستقل شراب نوشی کرنے والا جب مرے گا تو اللہ سے اس کی ملاقات اس شخص کی طرح ہوگی جو بتوں کا پجاری تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2326

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ يُمْنَ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی برکت اس نسل میں ہے جو سرخ اور زرد رنگ کے ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2327

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں موجود تمام اولاد سے میدان عرفات میں عہد لیا تھا ، چنانچہ عرفات میں عہد لیا تھا ، چنانچہ اللہ نے ان کی صلب سے ان کی ساری اولاد نکالی جو اس نے پیدا کرنا تھی اور اسے ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں پھیلا دیا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے کلام کیا اور فرمایا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، (ارشاد ہوا) ہم نے تمہاری گواہی اس لئے لے لی تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے، یا تم یہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے بھی شرک کیا تھا، ہم ان کے بعد ان ہی کی اولاد تھے تو کیا آپ ہمیں باطل پر رہنے والوں کے عمل کی پاداش میں ہلاک کر دیں گے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2328

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2329

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ عَنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہویہ فرمایا کہ وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2330

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عَجَّلَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَجَّلَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْمِيَهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو اور ان کے ساتھ میں بھی تھا مزدلفہ سے منی کی طرف جلدی بھیج دیا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ طلوع آفتاب سے قبل جمرہ عقبہ کی رمی نہ کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2331

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ ثَقَلَةِ وَضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامان اور کمزور افراد خانہ کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی کو منی کی طرف روانہ کر دیا تھا، چنانچہ ہم نے فجر کی نماز منی میں ہی پڑھی اور جمرہ عقبہ کی رمی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2332

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنَيَّ

محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عہا کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ مل گئے۔ چنانچہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعدتازہ وضو کیے بغیر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ہم میں سے کسی نے پوچھا کہ واقعی کیا آپ یہ دیکھا ہے، انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2333

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا إِلَى آخِرِ الْآيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گذرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچالے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2334

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2335

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2336

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2337

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ بَعِيرًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2338

قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ عَرْقًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2339

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ قِيلَ لَهُ وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً قَالَ اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا تو لوگ ان سے کہنے لگے کہ اب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اسی کوڑے ضرور ماریں گے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بڑا عادل ہے، وہ مجھے ان اسی کوڑوں سے بچالے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھا یہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا یہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا، بخدا! اللہ مجھے سزا نہیں ہونے دے گا، اس پر آیت لعان نازل ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2340

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَةَ خِذَامٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح ایسی جگہ کر دیا ہے جو اسے پسند نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2341

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَحْمَدُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ قَالَ حُسَيْنٌ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو کالا خضاب لگائیں گے، یہ لوگ جنت کی بو بھی نہ پاسکیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2342

قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے چند باتیں پوچھانا چاہتے ہیں ، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے کیونکہ انہیں کوئی نبی ہی جان سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے جو سوالات کیے، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کون سا کھاناحرام کر لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا تھا، کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت شدید بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے جب طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام کی منت مان لی کہ اگر اللہ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفاء عطا فر مادی تو وہ اپنی سب سے محبوب پینے کی چیز اور سب سے محبوب کھانے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں گے اور انہیں کھانوں میں سب سے زیادہ اونٹ کا گوشت پسند تھا اور پینے کی چیزوں میں اس کا دودھ مرغوب تھا؟ انہوں نے کہا بخدا! ایسا ہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2343

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2344

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنْ الْقَوْلِ سِحْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2345

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ الرُّوحُ غَرَضًا

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2346

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقِيلَ أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَسْتُ أَبْكِي إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ام ایمن رضی اللہ عنہ بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2347

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا إِنَّا نُصِيبُ مِنْ الثُّفْلِ فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ مَا الْكُوبَةُ قَالَ الطَّبْلُ

قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے بنو عبد القیس کے وفد نے سوال کیا تھا ، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ تلچھٹ حاصل ہوتا ہے، ہمارے لیے کون سے برتن حلال ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دبائی، مزفت، نقیر اور حنتم میں کچھ بھی نہ پیو، البتہ مشکیزوں میں پی سکتے ہو، پھر فرمایا کہ اللہ نے شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہے، سفیان کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی طبل بتایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2348

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دُوَيْدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نظر کا لگ جانا برحق ہے اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2349

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ يُنْبِتُ الشَّعْرَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ وَخَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا بہترین سرمہ" اثمد " ہے جو سوتے وقت لگانے سے بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2350

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2351

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْأَيِّمُ أَمْلَكُ بِأَمْرِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2352

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا فَيَكُونُ مَا سَمِعُوا حَقًّا وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ فَبَثَّ جُنُودَهُ فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گذشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہوجاتی اور جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہوگئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا اور ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی گذرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آکر اسے یہ خبرسنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیداہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2353

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ وَكَانَتْ لَهُ هَيْئَةٌ رَأَيْنَاهُ عِنْدَ حَسَنٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ کچھ یہودی آئے اور کہنے لگے کہ اے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے پانچ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، اگر آپ نے ہمیں ان کا جواب دے دیا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع کرنے لگیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے اس بات پر وعدہ لیا جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، جب وہ یہ کہہ چکے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں ، اللہ اس پر وکیل ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اپنے سوالات پیش کرو، انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ نبی کی علامت کیا ہوتی ہے؟ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔ انہوں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ یہ بتائیے کہ بچہ مؤنث اور مذکر کس طح بنتا ہے؟ فرمایا دو پانی ملتے ہیں، اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ مذکر ہوجاتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچی پیدا ہوتی ہے، انہوں نے تیسرا سوال پوچھا کہ یہ بتائیے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کس چیز کو حرام کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں عرق النساء نامی مرض کی شکایت تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اونٹ کا دودھ سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے انہوں نے اس کے (دودھ اور) گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا، وہ کہنے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ پھر انہوں نے چوتھا سوال یہ پوچھا کہ یہ رعد (بادلوں کی گرج چمک) کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جسے بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میں لو ہے کا ایک گرز ہوتا ہے جس سے یہ بادلوں کو مارتا ہے اور اللہ نے جہاں لے جانے کا حکم دیا ہوتا ہے انہیں وہاں تک لیکر جاتا ہے ، وہ کہنے لگے کہ ہم جو آواز سنتے ہیں وہ کہاں سے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کی آواز ہوتی ہے، انہوں نے اس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ اب ایک سوال باقی رہ گیا ہے، اگر آپ نے اس کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی بیعت کر لیں گے، ہر نبی کے ساتھ ایک فرشتا ہوتا ہے جو ان کے پاس وحی لے کر آتا ہے، آپ کے پاس کون سا فرشتہ آتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرئیل! وہ کہنے لگے کہ وہی جبرئیل جو جنگ لڑائی اور سزا لے کرآ تا ہے، وہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کا نام لیتے جو رحمت، نباتات اور بارش لے کر آتا ہے تب بات بن جاتی، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورت بقرہ کی یہ آیت نازل فرمائی قل من کان عدالجبرئیل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2354

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ قربانی کا موقع آگیا، چنانچہ ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے گائے اور اونٹ کو دس آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2355

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى وَالطَّالَقَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ قَالَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2356

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2357

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جمعیت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2358

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ، پھر سورت آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی، ان فی خلق السماوات والارض واختلاف اللیل والنہار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبحانک فقناعذاب النار تک۔ پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، پھر تھوڑی دیرکے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2359

حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَوْ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ حَجَّاجٍ شَكَّ مَنْصُورٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ مَنْصُورٌ وَحَدَّثَنِي عَوْنٌ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے توسمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2360

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2361

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ وَذَكَرَ مِنْ جَمَالِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنْ النَّسَبِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا اور ان کے حسن جمال کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے پھر فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2362

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تواسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2363

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَفَخِذُهُ خَارِجَةٌ فَقَالَ غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جس کی ران دکھائی دے رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ران کو ڈھنکو، یونکہ مرد کی ران شرمگاہ کا حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2364

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قرات کون سی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا حضرت زید بن ثابت کی؟ ہم نے عرض کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا نہیں ، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قرات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2365

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ الم غُلِبَتْ الرُّومُ قَالَ غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ قَالَ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ فَقَالُوا اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا وَإِنْ ظَهَرْتُمْ كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا جَعَلْتَهَا إِلَى دُونَ قَالَ أُرَاهُ قَالَ الْعَشْرِ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ ثُمَّ ظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ الم غُلِبَتْ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ قَالَ يَفْرَحُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ غلبت الروم کو معروف اور مجہول دونوں طرح سے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آجائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آجائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رومی ہی غالب آئیں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کر دی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آگئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آگئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پانچ سال کی مدت مقرر کر لی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دئیے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی۔ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ دراصل قرآن میں بضع کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چنانچہ اس عرصے میں رومی غالب آگئے، اور سورت روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2366

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُثَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ذَكْوَانُ حَاجِبُ عَائِشَةَ أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ فَجِئْتُ وَعِنْدَ رَأْسِهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بِنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَكَبَّ عَلَيْهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ وَهِيَ تَمُوتُ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا أُمَّتَاهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ لِيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَيُوَدِّعْكِ فَقَالَتْ ائْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ قَالَ فَأَدْخَلْتُهُ فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ أَبْشِرِي فَقَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوحُ مِنْ الْجَسَدِ كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ وَأَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَكَانَ ذَلِكَ فِي سَبَبِكِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ الرُّخْصَةِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ جَاءَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ فَأَصْبَحَ لَيْسَ لِلَّهِ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ إِلَّا يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے) اس نے کہا اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کاصرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، بخدا! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2367

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہو جائے اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے طے ہوچکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2368

حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2369

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ دباء، حنتم، نقیر، مزفت اور کشمش اور کھجور کوخلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2370

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ رمضان کی تیرہ تاریخ کو پیش آیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2371

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ مَا تَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ وَلَكِنْ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي

مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ک ف ر لکھا ہوگا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو مجھے دیکھ لو، رہے حضرت موسی علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے، اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2372

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ ذَكَرُوهُ يَعْنِي الدَّجَّالَ فَقَالَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَاكَ وَلَكِنْ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ طُوَالٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَقَدْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي قَالَ أَبِي قَالَ هُشَيْمٌ الْخُلْبَةُ اللِّيفُ

مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ک ف ر لکھا ہوگا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو مجھے دیکھ لو، رہے حضرت موسی علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے، اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2373

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَظُنُّهُ قَدْ رَفَعَهُ قَالَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ جب کہ بہت بارش ہو رہی تھی، منادی کو حکم دیا، چنانچہ اس نے یہ اعلان کر دیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2374

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَتْ شَاةٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2375

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ هُوَ يَحْيَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے اور جب سجدے میں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے، اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2376

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پیر کے دن ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت پیر کے دن ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی پیر کے دن فرمائی، مدینہ منورہ تشریف آوری پیر کے دن ہوئی، وفات پیر کے دن ہوئی اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بھی پیر کے دن ہی رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2377

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ وَاقِفًا وَقَدْ أَرْدَفَ الْفَضْلَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَوَقَفَ قَرِيبًا وَأَمَةٌ خَلْفَهُ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا فَفَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَلَا الْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ قَالَ ثُمَّ أَفَاضَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا قَالَ فَلَمَّا وَقَفَ بِجَمْعٍ أَرْدَفَ أُسَامَةَ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ قَالَ ثُمَّ أَفَاضَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَتْ مِنًى فَأَتَانَا سَوَادَ ضَعْفَى بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَهُمْ فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ يَا بَنِيَّ أَفِيضُوا وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان عرفات میں کھڑے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو سوار کر رکھا تھا ، ایک دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہوگیا، اس کے پیچھے اس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی، فضل اسے دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے اور ان کا چہرہ موڑنے لگے، پھر فرمایا لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا تو اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا، پھر فرمایا لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے سکون سے چلو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ منی آپہنچے۔ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنوہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے پیارے بچو! تم روانہ ہو جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2378

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ فَقَالَ أَمَّا هُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم علیہماالسلام کی تصویریں دیکھیں، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سن چکے تھے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو (پھر بھی انہوں نے یہ تصویریں بنا رکھی ہیں) یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے، ان کا کیا حالت بنا رکھا ہے، کہ یہ پانسے کے تیر پکڑے ہوئے ہیں؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2379

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ يَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ

کریب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا مقام قدید یا عسفان میں فوت ہوگیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا کریب! دیکھ کر آؤ کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کچھ لوگ جمع ہوچکے تھے، میں نے انہیں آکر بتا دیا، انہوں نے پوچھا کہ ان کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا پھر جنازے کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان فوت ہوجائے اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہو جائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش مردے کے حق میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2380

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ ارْجِعَا قَالَ فَرَجَعَا قَالَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَأَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ قَالَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ عَنْ الْخَلْوَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا ، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہوگیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2381

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ قَالَ مَا أَدْرَكْنَا أَحَدًا أَقْوَمَ بِقَوْلِ الشِّيعَةِ مِنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ

مسعودی کا کہنا ہے کہ میں نے عدی بن ثابت سے زیادہ اہل تشیع کے بارے کسی کی بات عمدہ نہیں دیکھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2382

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ قَالَ فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتے کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے، اگر تمہارے پاس کوئی شخص کتے کی قیمت مانگنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2383

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي تَفَشَّغَتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ

ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو العباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2384

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى بَنِيهِ لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ قَالُوا فَذَلِكَ لَكَ قَالَ فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالَ فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي قَالَ فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا وَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ قَالُوا وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنْ الْمَلَائِكَةِ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ قَالَ فَإِنَّ وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَمْ يَبْعَثْ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ قَالُوا فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ قَالُوا إِنَّهُ عَدُوُّنَا قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ فَعِنْدَ ذَلِكَ بَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا شَهْرٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو چاہو مجھ سے سوال پوچھو، لیکن مجھے سے اللہ کے نام پر اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس وعدے کے مطابق جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، وعدہ کرو کہ میں تمہیں جو جواب دوں گا اگر تم نے اسے صحیح سمجھا تو تم اسلام پر مجھ سے بیعت کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے چار چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، ایک تو آپ ہمیں یہ بتائیے کہ وہ کون سا کھانا تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ؟ دوسرا یہ بتائیے کہ عورت اور مرد کا پانی کیسا ہوتا ہے اور بچہ نر کیسے ہوتا ہے؟ تیسرا یہ بتائیے اس نبی امی کی نیند میں کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اور چوتھا یہ کہ ان کے پاس وحی لانے والا فرشتہ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ سے اللہ کو سامنے رکھ کر وعدہ کرتے ہو کہ اگر میں نے تمہیں ان سوالوں کے جواب دے دیئے تو تم میری اتباع کرو گے؟ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے مضبوط عہد و پیمان کر لیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا، کیا تم جانتے ہو کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت سخت بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفاء عطاء فرما دی تو وہ اپنا سب سے مرغوب مشروب اور سب سے مرغوب کھانا اپنے اوپر حرام کر لیں گے اور انہیں کھانوں میں اونٹ کا گوشت اور مشروبات میں اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ مرغوب تھا انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہ۔ پھر فرمایا میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اسی نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آجائے، اللہ کے حکم سے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے، چنانچہ اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے وہ لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے؟ انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہ۔ پھر فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ اس نبی امی کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہ، وہ یہودی کہنے لگے کہ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سا فرشتہ آپ کا دوست ہے؟ اس پر ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہو جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دوست جبرئیل امین ہیں اور اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے وہی اس کے دوست رہے ہیں، یہ سن کر وہ یہودی کہنے لگے کہ اب ہم آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اگر ان کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی اتباع ضرور کرتے اور آپ کی تصدیق کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین کی موجودگی میں تمہیں اس تصدیق سے کیا چیز روکتی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ وہ ہمارا دشمن ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، قل من کان عدالجبریل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کانہم لایعلمون، اور اس وقت وہ اللہ کے غضب پر غضب کو لے کر لوٹے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2385

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا بِعَرَفَةَ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جوانہوں نے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2386

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ قَالَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2387

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ فَعَيَّ بِشَأْنِهَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَكَانَ لِي حَاجَتَانِ وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ فَقَالَ أَلَا أُخْلِيكَ قُلْتُ لَا فَقُلْتُ كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ وَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَرَتْ امْرَأَةُ سَلْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُمِّهَا تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَحْجُجْ أَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلْتَحْجُجْ عَنْ أُمِّهَا وَسَأَلَهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ

موسی بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سنان بن سلمہ حج کے لئے روانہ ہوئے، سنان کے پاس ایک اونٹنی تھی وہ راستے میں تھک گئی، اور وہ اس کی وجہ سے عاجز آگئے، میں نے سوچا کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو میں نے سنان سے کہا کہ آؤ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلتے ہیں، ہم وہاں گئے، وہاں پہنچے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی، مجھے ان سے دو کام تھے اور میرے ساتھی کو ایک، وہ کہنے لگا کہ میں باہر چلا جاتا ہوں، آپ تنہائی میں اپنی بات کر لیں؟ میں نے کہا ایسی کوئی بات ہی نہیں (جو تخلیہ میں پوچھنا ضروری ہو) پھر میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو راستے میں تھک گئی، میں نے دل میں سوچا تھا کہ میں مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ کچھ اونٹنیاں کہیں بھجوائیں اور جو حکم دینا تھا وہ دے دیا، جب وہ شخص جانے لگا تو پلٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں؟ فرمایا اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں رنگ دینا اور اسے اس کی پیشانی پر لگا دینا ، نہ خود اسے کھانا اور نہ تمہارا کوئی ساتھی اسے کھائے۔ میں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ میں غزوات میں شرکت کرتا ہوں ، مجھے اس میں مال غنیمت کا حصہ ملتا ہے، میں والدہ کی طرف سے کسی غلام یا باندی کو آزاد کر دیتا ہوں تو کیا میرا ان کی طرف سے کسی کو آزاد کرنا ان کے لئے کفایت کرے گا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سنان بن عبداللہ جہنی کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھیں، کیا ان کی طرف سے میرا حج کرنا ان کے لئے کفایت کر جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر ان کی والدہ پر کوئی قرض ہوتا اور وہ اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ ادا ہوجاتا یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا پھر اسے اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لینا چاہیے، انہوں نے سمندر کے پانی کے بارے بھی سوال کیا تو فرمایا کہ سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2388

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَةً إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا رب بڑا رحیم ہے، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں سے سات سو تک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتاہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف وہی شخص ہلاک ہوسکتا ہے جو ہلاک ہونے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2389

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2390

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي ص

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورت ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2391

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّا نَغْزُو أَهْلَ الْمَغْرِبِ وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ وَعَامَّةُ أَسْقِيَتِهِمْ الْمَيْتَةُ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دِبَاغُهَا طُهُورُهَا

عبدالرحمن بن وعلہ رحمۃ اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2392

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِي سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2393

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2394

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يَنْسُبْهُ عَفَّانُ أَكْثَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَإِيَّايَ رَأَى فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً لَا يَتَخَيَّلُنِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی، وہ یقین کر لے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میرے تخیل کو کسی پر طاری نہیں کر سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2395

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2396

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2397

حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسل اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2398

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2399

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزُ حِمَارٍ أَوْ قَالَ رِجْلُ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2400

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2401

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح نہ کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2402

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِطْرٍ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَجَعَلَ يَقُولُ تَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے اور اس سے پہلے نماز پڑھی نہ بعد میں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2403

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ قَالَ صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ

حکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں حضر کی طرح پڑھائی، پھر سلام پھیر کر عشاء کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائیں اور پھر فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2404

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں، اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2405

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کے حالت میں بھی تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2406

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2407

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَغْزُو هَذَا الْمَغْرِبَ وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ جُلُودُ الْمَيْتَةِ قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دِبَاغُهَا طُهُورُهَا

عبدالرحمن بن وعلہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2408

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ قَالَ هَمَّامٌ يَعْنِي كُلُّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ قَالَ هَمَّامٌ يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ

ابوحسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو العباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے، انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2409

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ أَخُو عِيسَى النَّحْوِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ بِئْرِ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ فَقَالَ عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ قُلْتُ عَنْ صِيَامِهِ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ قُلْتُ أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حکم بن عرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے ، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا ہاں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2410

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ طَاوُسًا قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ تم میں سے کس شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2411

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کانام " مغیث " تھا میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، بریرہ کے آقاؤں نے اس کی فروخت کو اپنے لئے ولاء کے ساتھ مشروط کیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے بریرہ کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہوگئی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2412

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ وَعِكْرِمَةَ قَالَا قَالَ عُمَرُ مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ فِي الْعَشْرِ فِي سَبْعٍ يَمْضِينَ أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا لیلۃ القدر کے بارے کون جانتا ہے کہ وہ کب ہوتی ہے؟ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہوتی ہے سات راتیں گذرنے پر (٢٧ویں شب) یا سات راتیں باقی رہ جانے پر (٢٣ویں شب)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2413

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصَّفَا فَقَالَ يَا صَبَاحَاهْ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ فَقَالُوا لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ مُمَسِّيكُمْ أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي فَقَالُوا بَلَى قَالَ فَقَالَ إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا تَبًّا لَكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے یا صبا حاہ کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟سب نے کہا کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں ، ابو لہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اس لئے جمع کیا تھا ، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورت لہب نازل ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2414

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وَهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لیا اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2415

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنْ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ وَاللَّهِ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ حِينَ أَتَى عَلَى الْمَلِكِ أُخْتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ عَلَيْهِ أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ قَالَ فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقُولُ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَأَقُولُ أَنَا لَهَا حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ شَاءَ وَيَرْضَى فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ فَتَقُولُ الْأُمَمُ كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا فَنَأْتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَقْرَعُ الْبَابَ فَيُقَالُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ فَيُفْتَحُ لِي فَآتِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ شَكَّ حَمَّادٌ فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ ثُمَّ أُعِيدُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مَا قُلْتُ فَيُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا دُونَ الْأَوَّلِ ثُمَّ أُعِيدُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ لِيَ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَقَالَ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا دُونَ ذَلِكَ

ابونضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی کم از کم ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعاء کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہییں، وہ ابو البشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں ، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء علیہم السلام کی جڑ ہیں ۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کردے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعاء مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد بخدا! دین ہی تھا (ایک اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا ، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا ) آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسی! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں ، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں ، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا ، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں تو اس کام کا اہل نہیں ہوں ، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ لوگ کہیں گے نہیں، اس پر حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی مہر ہیں ، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہوچکے ہیں (لہذاتم ان کے پاس جاؤ) ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ہاں! میں اس کا اہل ہوں ، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لیے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں ۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر تو اٹھائیے، آپ جو مانگیں گے، آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت! ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال(راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال(پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2416

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ فَقَالَ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَقِيلَ لِي إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ قَالَ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگھ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ ٢٣ویں رات تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2417

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2418

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ أَلَا تَتَوَضَّأُ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا ، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2419

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ قَالَ قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ

حنظلہ سدوسی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے عرض کیا کہ میں مغرب میں معوذتین کی قرات کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ مجھے اس پر معیوب ٹھہراتے ہیں؟ انہوں نے کہا اس میں کیا حرج ہے؟ تم ان دونوں دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہو کیونکہ دونوں بھی قرآن کا حصہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جن میں سورت فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2420

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے، ان کے پاس کچھ کتابیں بھی تھیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم پر آگ دہکائی گئی اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو ان کی کتابوں سمیت نذر آتش کر دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2421

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا أَخَذَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَحَرَّقَهُمْ بِالنَّارِ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدًا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ فَبَلَغَ عَلِيًّا مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیساعذاب کسی کو نہ دو، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہوسکی؟)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2422

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَمَّارٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ قَائِمٌ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں ، راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کرلی ، بعد میں پتہ چلا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2423

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے قبر میں مدفون ہونے کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2424

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي فَيُولَدُ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فَلَنْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2425

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ آسانیاں پیدا کرو ، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2426

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَلِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2427

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْبَرَازِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فَقَالُوا أَنَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ فَقَالَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَوَضَّأُ أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ أَوَصَلَّيْتُ فَأَتَوَضَّأُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے پھر باہر آئے کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2428

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى الْحَاجَةَ ثُمَّ جَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَتَمَطَّيْتُ كَرَاهَةَ أَنْ يَرَانِي كُنْتُ أَبْقِيهِ يَعْنِي أَرْقُبُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِمَا يَلِي أُذُنِي حَتَّى أَدَارَنِي فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رت کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آکر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سوگئے، پھر کچھ رات گذرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سوگئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2429

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا) سے نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2430

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَجْلَحِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو جو اللہ تن تنہا چاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2431

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سب کونوں میں دعاء فرمائی اور باہر نکل کر دو رکعتیں پڑھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2432

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَمْ يَنْزِلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2433

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2434

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف میں محرم ہونے کے باوجود حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2435

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا فَقَالَتْ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2436

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَرَقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَعَمَدَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوْ الْقَصْعَةِ وَأَكَبَّ يَدَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اجْعَلْ لِي نَوَرًا قَالَ و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ نَامَ مُضْطَجِعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آکر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سوگئے، پھر کچھ رات گذرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں ، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سوگئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعاء کرنے لگے کہ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں ، میرے بائیں ، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنادے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2437

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ حَرْمَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَلَبَنًا وَأَضُبًّا فَأَمَّا الْأَضُبُّ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَذِرْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَوْ أَجَلْ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَنْ يَمِينِهِ أَمَا إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ وَلَكِنْ أَتَأْذَنُ أَنْ أَسْقِيَ عَمَّكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِمُؤْثِرٍ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا قَالَ فَأَخَذْتُهُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ عَنْ الطَّعَامِ غَيْرَ اللَّبَنِ فَمَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ وَمَنْ طَعِمَ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری خالہ ام حفیق نے ہدیہ کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، دودھ اور گوہ بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کو دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں؟ فرمایا ہاں ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا برتن پکڑا اور اسے نوش فرمایا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم اجازت دو تو میں چچا کو پینے کے لئے دےدوں؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ میں نے اس دودھ کا برتن پکڑا اور اسے پی لیا اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعاء کرے کہ اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطاء فرما اور اس سے بہترین کھلا، اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعاء کرے کہ اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطاء فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما، کیونکہ میرے علم کے مطابق کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2439

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَأُتِيَ بِعَرْقٍ فَلَمْ يَتَوَضَّأْ فَأَكَلَ مِنْهُ وَزَادَ عَمْرٌو عَلَيَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَمْ تَتَوَضَّأْ قَالَ مَا أَرَدْتُ الصَّلَاةَ فَأَتَوَضَّأَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا کیوں میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2440

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ وَكَتَبَ أَبِي فِي أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ لَا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2441

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ الْعَصَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَضَيَّفْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتِي وَهِيَ لَيْلَةَ إِذْ لَا تُصَلِّي فَأَخَذَتْ كِسَاءً فَثَنَتْهُ وَأَلْقَتْ عَلَيْهِ نُمْرُقَةً ثُمَّ رَمَتْ عَلَيْهِ بِكِسَاءٍ آخَرَ ثُمَّ دَخَلَتْ فِيهِ وَبَسَطَتْ لِي بِسَاطًا إِلَى جَنْبِهَا وَتَوَسَّدْتُ مَعَهَا عَلَى وِسَادِهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَأَخَذَ خِرْقَةً فَتَوَازَرَ بِهَا وَأَلْقَى ثَوْبَهُ وَدَخَلَ مَعَهَا لِحَافَهَا وَبَاتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى سِقَاءٍ مُعَلَّقٍ فَحَرَّكَهُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ فَكَرِهْتُ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ مُسْتَيْقِظًا قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَتَى الْفِرَاشَ فَأَخَذَ ثَوْبَيْهِ وَأَلْقَى الْخِرْقَةَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ فِيهِ يُصَلِّي وَقُمْتُ إِلَى السِّقَاءِ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى وَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ قَعَدَ وَقَعَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ مِرْفَقَهُ إِلَى جَنْبِهِ وَأَصْغَى بِخَدِّهِ إِلَى خَدِّي حَتَّى سَمِعْتُ نَفَسَ النَّائِمِ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بِلَالٌ فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَارَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَاتَّبَعْتُهُ فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ وَأَخَذَ بِلَالٌ فِي الْإِقَامَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گذاری، انہوں نے ایک چادر لے کر اسے تہہ کیا، اس پر تکیہ رکھا اور دوسری چادر بچھا کر اسے اوڑھ کر لیٹ گئیں، میرے لیے انہوں نے اپنے ساتھ ایک بستر بچھا دیا تھا اور میں ان ہی کے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا، عشاء کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور کپڑے اتار کر تہبند باندھ لیا اور ان کے ساتھ لحاف اوڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، پہلے میں نے سوچا کہ میں اٹھ کر جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراؤں لیکن پھر مجھے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری بیداری کا علم ہو، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تہبند اتار کر کپڑے پہن لئے اور مسجد میں آکر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان کے ساتھ میں نے بھی کل تیرہ رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گئے، میں بھی ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہنی میرے پہلو پر رکھ دی اور اپنا رخسار میرے رخسار کے قریب کر دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، کچھ ہی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف چل پڑے، میں بھی پیچھے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی ہی پڑھیں اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2442

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ شَيْئًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ السِّوَاكَ قَالَ حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی کثرت کے ساتھ مسواک فرماتے تھے کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے (اور امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2443

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ أَبِي قَدْ سَمِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2444

حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ جَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کردیا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2445

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ وَلَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہو سکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2446

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ رَفَعَهُ أَيْضًا قَالَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہو سکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2447

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ رِشْدِينٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2448

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2449

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي أَمْلَى عَلَيَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2450

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2451

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى سَبْعًا جَمِيعًا وَثَمَانِيًا جَمِيعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب وعشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2452

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2453

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2454

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ أَوْ يُسْتَوْفَى و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَحْسِبُ الْبُيُوعَ كُلَّهَا بِمَنْزِلَتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2455

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2456

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ وَابْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا عَطَاءً يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2457

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2458

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا صَائِمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2459

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2460

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ وَأَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا صُرِعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يُكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَأَنْ لَا يُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ أَيُّوبُ مُلَبِّدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2461

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2462

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا پھر عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر صدقہ دینے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2463

قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2464

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2465

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2466

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ قَالَ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ إِلَّا لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2467

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا وَعَطَاءً وَمُجَاهِدًا وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ قَالَ شُعْبَةُ كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم زیادہ بہتر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے وہ خود کاشت کرے، یا چھوڑ دے یا پھر کسی کو ہبہ کر دے، راوی کہتے ہیں کہ میں یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2468

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى قَالَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ الْقَرَابَةِ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا " قل لا اسألکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی) تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2469

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَوْقَصَتْهُ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ وَقَالَ لَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ خَارِجَ رَأْسِهِ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ خَارِجَ رَأْسِهِ أَوْ وَجْهِهِ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2470

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَأَنَا مَخْتُونٌ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي بِشْرٍ مَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا اور میرے ختنے بھی ہوچکے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2471

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2472

قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَق

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا (کر غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2473

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ مَرَّةً حَتَّى تَطْمَئِنَّا وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنْ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کا کوئی مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو، یعنی اسے اسباغ وضو کا حکم دیا، ان ہی میں سے ایک بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کر لو اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی کو زمین پر ٹکا دو یہاں تک کہ زمین کا حج محسوس کرنے لگو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2474

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ شُعُورَهُمْ وَكَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2475

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیار کی جانے والی نبیذ دن کو اور دن کو تیار کی جانے والی نبیذ رات کو پی لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2476

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، دباء اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جنہیں باندھا جا سکے (منہ بند ہوجائے) لوگوں نے اونٹ کی کھالوں کے مشکیزے بنائے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھال استعمال کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جن کا اوپر والا حصہ بھی ان برتنوں کا جزو ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2477

قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا ہے اور انہوں نے کھڑے ہو کر زمزم پیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2478

حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ مَا نَصَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ وَلَقَدْ صَدَقَكُمْ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ الْقَتْلُ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ثُمَّ قَالَ احْمُوا ظُهُورَنَا فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ فَلَا تَنْصُرُونَا وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَكُونَا فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ وَقَدْ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُمْ كَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ وَالْتَبَسُوا فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا دَخَلَتْ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا وَقُتِلَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ أَوَّلُ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ أَوْ تِسْعَةٌ وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ إِنَّمَا كَانُوا تَحْتَ الْمِهْرَاسِ وَصَاحَ الشَّيْطَانُ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى قَالَ فَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا قَالَ فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ رَسُولِهِ قَالَ وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ يَعْنِي آلِهَتَهُ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُجِيبُهُ قَالَ بَلَى فَلَمَّا قَالَ اعْلُ هُبَلُ قَالَ عُمَرُ اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَيْنُهَا فَعَادِ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ الْأَيَّامُ دُوَلٌ وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَا سَوَاءً قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَمَا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلًا وَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ عَنْ رَأْيِ سَرَاتِنَا قَالَ ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَقَالَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَاكَ وَلَمْ نَكْرَهُّ

عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جس طرح اللہ نے جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، کسی اور موقع پر اس طرح مدد نہیں فرمائی، ہمیں اس پر تعجب ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میری بات پر تعجب کرنے والوں اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ تعالیٰ غزوہ احد کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے (لفظ " حس " کا معنی قتل ہے) اور اس سے مراد تیر انداز ہیں ۔ اصل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کو ایک جگہ پر کھڑا کیا تھا اور ان سے فرمادیا تھا کہ تم لوگ پشت کی طرف سے ہماری حفاظت کرو گے، اگر تم ہمیں قتل ہوتا ہوا بھی دیکھو تو ہماری مدد کو نہ آنا اور اگر ہمیں مال غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے دیکھو تب بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیم پر فتح اور مال غنیمت حاصل ہوا اور مسلمان مشرکین کے لشکر پر پل پڑے تو وہ تیر انداز بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مشرکین کے لشکر میں داخل ہوگئے، اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا، یوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صفیں آپس میں یوں مل گئیں ، راوی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں اور یہ لوگ خلط ملط ہوگئے۔ ادھر جب تیر اندازوں کی جگہ خالی ہوگئی تو وہ یہاں سے کفار کے گھوڑے اتر اتر کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھنے لگے لوگ ایک دوسرے کو مارنے لگے اور انہیں التباس ہونے لگا، اس طرح بہت سے مسلمان شہید ہو گئے، حالانکہ میدان صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ہاتھ رہا تھا اور مشرکین کے سات یا نو علمبردار بھی مارے گئے تھے۔ بہرحال! مسلمان پہاڑ کی طرف گھوم کر پلٹے لیکن وہ اس غار تک نہ پہنچ سکے جو لوگ کہہ رہے تھے، وہ محض ایک ہاون دستہ نما چیز کے نیچے رہ گئے تھے، دوسری طرف شیطان نے یہ افواہ پھیلادی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے، کسی کو اس کے صحیح ہونے میں شک تک نہ ہوا، ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد نامی دو صحابہ رضی اللہ عنہما کے درمیان طلوع ہوئے، ہم نے انہیں ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف چڑھنے لگے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس قوم پر اللہ کا بڑا سخت غضب نازل ہوگا جس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلود کر دیا، پھر فرمایا اے اللہ! یہ ہم پر غالب نہ آنے پائیں ، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک پہنچ گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ ابوسفیان کی آواز پہاڑکے نیچے سے آئی جس میں وہ اپنے معبود ہبل کی جے کاری کے نعرے لگا رہا تھا، اور کہہ رہا تھا کہ ابن ابی کبشہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہا ہیں؟ ابن ابی قحافہ (صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ ابن خطاب (عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کہاں ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اسے جواب نہ دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، چنانچہ جب ابوسفیان نے ہبل کی جے ہو کا نعرہ لگایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا اللہ بلند و برتر ہے اور بزرگی والا ہو، ابو سفیان کہنے لگا اے ابن خطاب! تم ہبل سے دشمنی کرو یا دوستی، اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں ، پھر کہنے لگا کہ ابن ابی کبشہ، ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب کہا ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں اور یہ میں ہوں عمر۔ ابوسفیان نے کہا کہ یہ جنگ بدر کا انتقام ہے، دن کی مثال ڈول کی طرح ہے اور جنگ بھی ڈول کی طرح ہوتی ہے (جو کبھی کسی کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور کبھی کسی کے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں بھی برابری نہیں ، ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے اور تمہارے مقتول جہنم میں ، ابوسفیان نے کہا کہ یہ تمہارا خیال ہے، اگر ایسا ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، پھر اس نے کہا کہ مقتولین میں تمہیں کچھ لاشیں ایسی بھی ملیں گی جن کے ناک کان کاٹ لئے گئے ہیں ، یہ ہمارے سرداروں کے مشورے سے نہیں ہوا، پھر اسے جاہلیت کی حمیت نے گھیر لیا اور وہ کہنے لگا کہ بہرحال! ایسا ہوا ہے، گویا اس نے اسے ناپسند نہیں سمجھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2479

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً أَخْرَجَتْ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ فَقَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2480

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ قَالَا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى لَيْلًا

حضرت ابن عباس وحضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی سے رات کو واپس ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2481

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ

حضرت ابن عباس وحضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت کو مؤخر فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2482

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ وَلَكِنْ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قسم تو کھالی، لیکن تمہارے لا الہ الا اللہ کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2483

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ حَنَشٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَيَقُولُ وَمَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پانی آپ کے قریب موجود ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2484

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2485

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ قَالَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2486

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَقَالَ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا ، یا ہاتھ لگایا ہوگا یا صرف دیکھا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2487

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَأْكُلْ الشَّرِيطَةَ فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسے جانور کو مت کھاؤ جس کی کھال تو کاٹ دی گئی ہو لیکن رگیں کاٹے بغیر اسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہو کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2488

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ قَالَ رَفَعَهُ الْحَكَمُ قَالَ شُعْبَةُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُحَدِّثَ بِرَفْعِهِ قَالَ وَحَدَّثَنِي غَيْلَانُ وَالْحَجَّاجُ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2489

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ فَقَالَ دَعُوهُ وَسَلَبَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ اس وقت ایک آدمی کے پاس کھڑے تھے جسے انہوں نے قتل کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقتول کا ساز و سامان ان ہی کے پاس چھوڑ دو۔ (کیونکہ اس وقت یہ اصول تھا کہ میدان جنگ میں جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کا ساز و سامان اسی کو ملے گا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2490

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَّى بَيْنَ الْأَسْنَانِ وَالْأَصَابِعِ فِي الدِّيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2491

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَالَّذِي يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2492

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گناہ کا کفارہ ندامت ہے اور فرمایا اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرما سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2493

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2494

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2495

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ إِذَا جَاءَ صَاحِبُهُ يَطْلُبُ ثَمَنَهُ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2496

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ أَنَّ مَيْمُونَ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ فَقَالَ إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ

میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع وسجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2497

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كَمْ يَكْفِينِي مِنْ الْوُضُوءِ قَالَ مُدٌّ قَالَ كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ قَالَ صَاعٌ فَقَالَ الرَّجُلُ لَا يَكْفِينِي قَالَ لَا أُمَّ لَكَ قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ ایک شخص نے پوچھا کہ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا ایک مد کے برابر، اس نے پوچھا کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ فرمایا ایک صاع کے برابر، وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے تو اتنا پانی کفایت نہیں کرتا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری ماں نہ رہے، اتنی مقدار اس ذات کو کافی ہوجاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2498

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَيَكْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں سر پر کپڑا لپیٹے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا لوگو! انسان بڑھتے رہیں گے لیکن انصار کم ہوتے رہیں گے، اس لئے تم میں سے جس شخص کو حکومت ملے اور وہ کسی کو اس سے فائدہ پہنچا سکے تو انصار کی خوبیوں کو قبول کرے اور ان کی لغزشات سے چشم پوشی کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2499

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِقُدَيْدٍ عَجُزَ حِمَارٍ فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مقام قدید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں اس وقت اس کا خون ٹپک رہا تھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2500

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي قَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر میں مکہ مکرمہ جاؤں تو کیسے نماز پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں اور یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2501

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الرَّحِمِ قَالَ عَفَّانُ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2502

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2503

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے بعد جمرات کی رمی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2504

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں سب سے ہلکاعذاب ابو طالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2505

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ إِذَا لَمْ يُدْرِكْ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ قَالَ رَكْعَتَانِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2506

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قربانی کی، پھر حلق کروایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2507

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّى قَالَ فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2508

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ قَالَ مَا كُنْتُ أُرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ قَالَ أَتَحْسِبُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ

عمار جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں ک میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وصال مبارک کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کیا تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ تم جیسے آدمی پر بھی یہ بات مخفی رہ سکتی ہے، میں نے عرض کیا کہ میں نے مختلف حضرات سے اس کے متعلق دریافت کیا ہے لیکن ان سب کا جواب ایک دوسرے سے مختلف تھا، اس لئے میں آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے پوچھا کیا واقعی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر یاد رکھو! چالیس سال کی عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا، پندرہ سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے جہاں امن اور خوف کی ملی جلی کیفیت رہی اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2509

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَ فَلُبِسَتْ الْقُمُصُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنالیں، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، چنانچہ عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2510

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ قَالَ فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2511

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ بِهِ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2512

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ قَالَ فَصَامَهُ مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ قَالَ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت موسی کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2513

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حِفْظِي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ حَبَلِ الْحَبَلَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2514

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ قَالَ قَتَادَةُ وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2515

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ وَلَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا حَتَّى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2516

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ لَا حَرَجَ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ لَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2517

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا فَقَالَ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ الْحُمَّى قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ

ابو جمرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کے بے قابو ہجوم کو دور رکھتا تھا ، لیکن کچھ عرصہ نہ جا سکا، بعد میں جب حاضر خدمت ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے عرض کیا کہ بخار ہوگیا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی گرمی کا اثر ہوتا ہے اس لئے آب زمزم سے ٹھنڈا کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2518

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2519

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الصِّبْيَانِ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا فَقُلْتُ مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ قَالَ فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي قَالَ فَأَخَذَ بِقَفَايَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ وَكَانَ كَاتِبَهُ قَالَ فَسَعَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا ، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیارے سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2520

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یانہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2521

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَدْيًا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گذرنے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے گذرنے نہیں دیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2522

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2523

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2524

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢مرتبہ تکبیر کہی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں تجھے روئے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2525

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو ، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2526

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ أَبِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعَرَ

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤ کی طرف اشارہ کیا، نیز کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2527

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ كَذَا قَالَ أَبِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والوں کو اسکی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2528

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُكَاتَبُ يُودَى مَا أَعْتَقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ وَمَا رَقَّ مِنْهُ بِحِسَابِ الْعَبْدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2529

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ يَحْفِرَانِ الْقُبُورَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ يَحْفِرُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَأَبُو طَلْحَةَ يَحْفِرُ لِلْأَنْصَارِ وَيَلْحَدُ لَهُمْ قَالَ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ إِلَيْهِمَا فَقَالَ اللَّهُمَّ خِرْ لِنَبِيِّكَ فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ وَلَمْ يَجِدُوا أَبَا عُبَيْدَةَ فَحَفَرَ لَهُ وَلَحَدَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مدینہ منورہ میں دو آدمی قبریں کھودتے تھے، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ، اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جن کا اصل نام زید بن سہل تھا، اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور دوسرے کو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور دعاء کی کہ اے اللہ! اپنے پیغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے والے آدمی کو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آگیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2530

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اسْتَدْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے سجدے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2531

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2532

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حَتَّى مَاتَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْهُ وَقَدْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ قَصَّرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے، مجھے ان کی بات پر تعجب ہے جبکہ خود انہوں نے مجھ سے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے قینچی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تراشے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2533

حَدَّثَنِي يُونُسُ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَكَانَ يَقُولُ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ حُجَيْنٌ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم سکھاتے تھے اور فرماتے تھے تمام قولی، مبارک، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں ، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی کا نزول ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2534

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2535

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ

ابو نضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2536

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ عِلْبَاءَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ أَجْمَعِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی (١) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (٢) فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (٣) مریم بنت عمران علیہماالسلام (٤) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2537

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ وَإِذَا سَأَلْتَ فَلْتَسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی)، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم ا ٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2538

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اسکی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2539

حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2540

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنْ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ ذَلِكَ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَرْفَعْ الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ الْبَرَكَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے، ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے یہی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح سنی ہے کہ پیالہ اس وقت تک نہ اٹھایا جائے جب تک خود یا کوئی دوسرا اسے چاٹ نہ لے کیونکہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2541

حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج گرہن کی نماز پڑھی ہے لیکن میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2542

حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج گرہن کی نماز پڑھی ہے لیکن میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2543

حَدَّثَنَا حَسَنٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ الْوَضَّاحُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2544

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ فِيهِ كِتَابًا لَا يَخْتَلِفُ مِنْكُمْ رَجُلَانِ بَعْدِي قَالَ فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ فِي لَغَطِهِمْ فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ وَيْحَكُمْ عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی لے کر آؤ، میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد تم میں سے دو آدمی بھی اختلاف نہ کریں، لوگ اپنی باتوں اور شور میں مشغول رہے، ایک خاتون نے کہا تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وصیت فرما رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2545

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا شِفَاءً لِلذَّرِبَةِ بُطُونُهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اونٹنی کے پیشاب اور دودھ میں ان لوگوں کے لئے شفاء ہے جو پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوں ، اور ان کا نظام ہضم خراب ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2546

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ بَرَكَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْمُجَاشِعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ ثَمَنَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2547

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لِي أَبِي أَيْ بُنَيَّ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ يَا أَبَتِ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھے کہنے لگے بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے، والد صاحب کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھاجو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا وہ جبریل تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوسکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2548

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيًا أَوْ سَبْعًا يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2549

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دُوَيْدٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نظر کا لگ جانا برحق ہے اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2550

حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین رفیق سفر چار آدمی ہوتے ہیں ، بہترین سریہ چار سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بہترین لشکر چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2551

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا قَالَ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَقْتُولَ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ قَالَ بِشِمَالِهِ آخِذًا صَاحِبَهُ بِيَدِهِ الْأُخْرَى تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ فَيَقُولُ رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي

حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابن عباس! اس آدمی کے متعلق بتائیے جس نے کسی مسلمان کو عمدا قتل کیا ہو؟ انہوں نے فرمایا اس کی سزا جہنم ہے جسمیں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کیے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا تم پر افسوس ہے، اسے کہاں توبہ کی توفیق ملے گی؟ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا ، اور وہ عرش کے سامنے آکر کہے گا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا ؟ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہیں کہ قاتل اگر توبہ کرنے کیے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2552

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا رَجُلٌ فَأَتَى بِخِوَانٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا قَالَ وَذَاكَ عِشَاءً فَآكِلٌ وَتَارِكٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ فَأَكْثَرَ فِي ذَلِكَ جُلَسَاؤُهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَمَا قُلْتُمْ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ فَأُتِيَ بِخِوَانٍ عَلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمُ ضَبٍّ قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَحْمُ ضَبٍّ فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ إِنَّهُ لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ وَلَكِنْ كُلُوا قَالَ فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ قَالَ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یزید بن اصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر١٣عدد گوہ لاکر پیش کیں ، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، جب صبح ہوئی تو ہم لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے میں نے ان سے گوہ کے متعلق دریافت کیا، ان کے ساتھ بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں ، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال وحرام کی تعیین کر دیں ۔ پھر فرمایا دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ایک خاتون بھی موجود تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھالو، چنانچہ حضرت فضل، خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور اس خاتون نے اسے کھا لیا اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2553

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَعَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَشْهَدَانِ الْغَنِيمَةَ وَعَنْ قَتْلِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَيْءٍ يَقَعُ فِيهِ مَا أَجَبْتُهُ وَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا كُنَّا نَرَاهَا لِقَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ قَالَ إِذَا احْتَلَمَ أَوْ أُونِسَ مِنْهُ خَيْرٌ وَعَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَشْهَدَانِ الْغَنِيمَةَ فَلَا شَيْءَ لَهُمَا وَلَكِنَّهُمَا يُحْذَيَانِ وَيُعْطَيَانِ وَعَنْ قَتْلِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر پوچھا کہ قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کا حصہ ہے؟ یتیم سے یتیمی کا لفظ کب دور ہوتا ہے؟ اگر عورت اور غلام تقسیم غنیمت کے موقع پر موجود ہوں تو کیا حکم ہے؟ اور مشرکین کے بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہوسکتا ہے تو میں کبھی بھی جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ بالغ ہوجائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہوجائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہوگئی۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں ، ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اوریہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2554

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ لَقَدْ قَدِمَ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا فَجَلَسَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ النَّاحِيَةِ الَّتِي تَلِي الْحِجْرَ فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَى مَا قَالُوا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ لِيَرَ الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ قَالَ فَرَمَلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ حَيْثُ لَا يَرَاهُمْ الْمُشْرِكُونَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَمْنَعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخاری وجہ سے وہ لوگ کمزور ہوچکے تھے، مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخارنے لاغر کر دیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2555

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا اسے بھی کچھ عطاء فرمایا اور اس سے پوچھا کہ خوش ہو؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ اور بھی عطاء فرمایا اور پوچھا اب تو خوش ہو، اس طرح تین مرتبہ ہوا، اور وہ تیسری مرتبہ جا کر خوش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دیکھ کر میں نے سوچا کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں ، سوائے اس کے جو قریشی ہو، یا انصاری ہو یا ثقفی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2556

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ جعرانہ سے عمرہ کیا، اور طواف کے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں اپنی عام رفتار کے مطابق چلتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2557

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2558

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2559

حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَأُنْزِلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا قَالَ وَلَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأُنْزِلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نزل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا) اور جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2560

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي قَالَ وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَقُولَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَيَشْفَعَ لَنَا إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنْ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ دَعْوَةً غَرَّقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ إِنَّهَا أُخْتِي وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى أَنْتَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ قَدْ اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي ثُمَّ قَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَأَقُولُ نَعَمْ أَنَا لَهَا حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ فَنَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ وَتَقُولُ الْأُمَمُ كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا قَالَ ثُمَّ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأَقْرَعُ الْبَابَ فَيُقَالُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيُفْتَحُ لِي فَأَرَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا وَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ قَالَ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي أَخْرِجْ مِنْ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا فَأُخْرِجُهُمْ ثُمَّ أَعُودُ فَأَخِرُّ سَاجِدًا وَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ أَخْرِجْ مَنْ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا فَأُخْرِجُهُمْ قَالَ وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ هَذَا أَيْضًا حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوَّلِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ الْإِيمَانِ وَالثَّانِيَةِ بُرَّةٍ وَالثَّالِثَةِ ذَرَّةٍ

ابونضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی کم از کم ایک دعاء ایسی ضرور تھی جوانہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعاء کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہییں ، وہ ابو البشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں ، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء کی جڑ ہیں ۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعاء مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! علیہ السلام آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں ، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد بخدا! دین ہی تھا (ایک اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا ، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا ) آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسی! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا ، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں تو اس کام کا اہل نہیں ہوں ، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟ لوگ کہیں گے نہیں، اس پر حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی مہر ہیں ، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہوچکے ہیں (لہذا تم ان کے پاس جاؤ) ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ہاں! میں اس کا اہل ہوں ، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لیے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں ۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر تو اٹھائیے، آپ جو مانگیں گے، آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت! ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال(راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال و جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال(پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ فرق یہ ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ میں ایک جو کے برابر ایمان کا، دوسری مرتبہ ایک گندم کے دانے کے برابر ایمان کا اور تیسری مرتبہ ایک ذرہ کے برابر ایمان کا ذکر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2561

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَتْ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2562

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَوَقَعَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپناجھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا ، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، لہذا اسے وہ حق ادا کرنے کا حکم دیجئے اور اس کی قسم کا کفارہ لا الہ الا اللہ کی معرفت اور شہادت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2563

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے جس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2564

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَى فَإِنَّهُ جَسِيمٌ قَالُوا لَهُ فَإِبْرَاهِيمُ قَالَ انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے حضرت عیسی، موسی اور ابراہیم علیہم السلام کی زیارت کی ہے، حضرت عیسی علیہ السلام تو سرخ و سفید رنگ کے ، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینے والے آدمی ہیں اور حضرت موسی علیہ السلام مضبوط اور صحت مند جسم کے مالک ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کیسے ہیں؟ فرمایا اپنے پیغمبر کو دیکھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2565

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ زُهَيْرٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَجَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمْتُ الصَّالِحُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھا راستہ، نیک سیرت اور میانہ روی اجزاء نبوت میں سے٢٥واں جزء ہے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2566

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2567

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنًى وَصَلَّى الْغَدَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر اور نو ذی الحجہ کی نماز فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کے میدان میں ادا فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2568

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَا أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جمعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2569

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقُمِّيَّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ وَمَا الَّذِي أَهْلَكَكَ قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى رَسُولِهِ هَذِهِ الْآيَةَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں ہلاک ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ عرض کیا آج رات میں نے سواری کا رخ موڑ دیا (بیوی کے پاس پشت کی طرف سے اگلے سوراخ میں قربت کر لی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا تھوڑی دیر میں اللہ نے اپنے پیغمبر پر یہ آیت وحی کر دی کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، اس لئے اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو، آسکتے ہو، خواہ سامنے سے یا پیچھے سے، البتہ پچھلی شرمگاہ اور حیض کی جگہ سے بچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2570

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر الحمدللہ کہا اور فرمایا مومن کے کیلئے خیر ہی ہوتی ہے اور مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2571

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَدْ نَصَبُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2572

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَقُثَمُ أَمَامَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور قثم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بیٹھے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2573

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَقْدَمُوا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قُلْتُ وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّهُ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا فَقُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا فَقَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ قُلْتُ وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ قَالَ يُونُسُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ قَالَ قَدْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ قَالَ يُونُسُ وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ وَقَالَ يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَبِيعُ هَذَا الضَّرْبَ مِنْ الْكِبَاشِ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى مِنًى قَالَ هَذَا مِنًى قَالَ يُونُسُ هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ قُلْتُ لَا قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ قَالَ يُونُسُ هَلْ عَرَفْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتْ التَّلْبِيَةُ قُلْتُ وَكَيْفَ كَانَتْ قَالَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ وَقَالَ وَثَمَّ تَلَّ إِبْرَاهِيمُ إِسْمَاعِيلَ لِلْجَبِينِ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا سچ تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہو سلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو چھوڑ دو، تاآنکہ یہ اسی طرح مر جائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مرجاتا ہے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آکر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا، یہ سنت نہیں ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچیں ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور یہ سعی کرنا سنت ہے؟ فرمایا وہ سچ کہتے ہیں، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج کی ادائیگی کا حکم ہوا تو شیطان مسعی کے قریب ان کے سامنے آیا اور ان سے مسابقت کی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں پھر شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں دے ماریں اور وہ دور ہوگیا، جمرہ وسطی کے قریب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تھا ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس وقت سفید رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی، وہ کہنے لگے اباجان! اس کے علاوہ تو میرے کوئی کپڑے نہیں ہیں جن میں آپ مجھے کفن دے سکیں، اس لئے آپ ان ہی کپڑوں کو میرے جسم پر سے اتار لیں تاکہ اس میں مجھ کو کفن دے سکیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے کپڑے اتارنے کے لئے آگے بڑھے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی اے ابراہیم! علیہ السلام تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سفید رنگ کا، سینگوں والا اور بڑی بڑی آنکھوں والا دنبہ کھڑا تھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو اس ضرب کے نشانات تلاش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر آخری جمرہ کی طرف چلے، راستے میں پھر شیطان سامنے آیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ دور ہوگیا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام انہیں لے کر منی کے میدان میں آئے اور فرمایا کہ یہ منی ہے، پھر مزدلفہ لے کر آئے اور بتایا کہ یہ مشعر حرام ہے، پھر انہیں لے کر عرفات پہنچے۔ کیا تم جانتے ہو کہ عرفہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ فرمایا یہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا آپ پہچان گئے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہیں سے اس جگہ کا نام عرفہ پڑگیا، پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تلبیہ کا آغاز کیسے ہوا؟ میں نے پوچھا کہ کیسے ہوا؟ فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کی منادی کرنے کا حکم ہوا تو پہاڑوں نے ان کے سامنے اپنے سر جھکا دیئے، اور بستیاں ان کے سامنے اٹھا کر پیش کر دی گئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2574

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو ، اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2575

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں ، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں ، آپ برحق ہیں ، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2576

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا،غالبا اتناجتنی دیر میں سورت بقرہ پڑھی جاسکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جوکہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوگئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے؟ فرمایا میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا ، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے کفر کی وجہ سے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا (یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2577

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ

ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع! حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ اگر ہم میں سے ہر شخص کو جو خود کو ملنے والی نعمتوں پر خوش ہو اور یہ چاہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے، عذاب ہوگا تو پھر ہم سب ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق؟ اس آیت کا نزول تو اہل کتاب کے متعلق ہوا ہے، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی، کہ اس وقت کو یاد کیجئے جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا تھا کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے، پھر یہ آیت تلاوت کی کہ جو لوگ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اتراتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیے، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، ان کے متعلق آپ یہ گمان نہ کریں ۔ اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اہل کتاب سے کوئی بات پوچھی تھی لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے چھپایا اور دوسروں کو بتا دیا، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکلے تو ان کا خیال یہ تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا جواب دے دیا ہے اور اس پر وہ داد چاہتے تھے اور اس بات پر اترا رہے تھے کہ انہوں نے بڑی احتیاط سے اس بات کو چھپا لیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2578

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ قَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ كَمْ عُمُرُهُ قَالَ سِتُّونَ قَالَ أَيْ رَبِّ زِدْ فِي عُمُرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمُرِكَ فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمُرِهِ فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ قَالَ بَقِيَ مِنْ أَجَلِي أَرْبَعُونَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ فَجَحَدَ قَالَ فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام مِائَةَ سَنَةٍ وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا، اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا پروردگار ! یہ کون ہے؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی، اس طرح داؤود علیہ السلام کی عمر پورے سو سال ہوئی، اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر پورے ہزار سال ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2579

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمَّا كَبِرَ صَارَ إِلَى تِسْعٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو ان کی تعداد نو، چھ اور تین تک رہ گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2580

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ قِيلَ مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ أَوْ فِي طَرِيقٍ أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین لعنتی کاموں سے بچو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ تین کام کون سے ہیں؟ فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی سایہ دار جگہ پر جس کا سایہ لوگ حاصل کرتے ہوں، یا راستے میں ، یا پانی بہنے کی جگہ پر پاخانہ (یاپیشاب) کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2581

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2582

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2583

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُغْلَبَ قَوْمٌ عَنْ قِلَّةٍ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین رفیق سفر چار آدمی ہوتے ہیں، بہترین سریہ چار سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بہترین لشکر چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2584

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلَانِ وَآخَرُ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ ارْجِعَا ارْجِعَا حَتَّى رَدَّهُمَا ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا فَإِذَا أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّا هَاهُنَا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَلْوَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تا آنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہوگیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2585

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص(علی الترتیب) پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2586

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدٍ مِنْ آلِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَينٍ قَالَتْ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُدِيمَ النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل دیکھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2587

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ فَمَا أَضْحَكَكَ قَالَ أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کر سوگئے، نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، جب بیدار ہوئے تو کسی زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ سوتے ہوئے ہنس رہے تھے، خیر تو تھی؟ فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر خوشی محسوس ہو رہی تھی جو سمندری سفر پر دشمن کو ڈرانے کے لئے نکلے ہیں، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بڑی خیر کا ذکر فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2588

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پیچھے محافظ ہیں، اے اللہ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! زمین کو ہمارے لیے لپیٹ کر ہمارے لیے اس سفر کو آسان فرما دیجئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2589

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا يُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ إِنْ كَانَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے، میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا ہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں ، بشرطیکہ قرض ہو بھی چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس صاع جو لئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2590

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَحَجَّاحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص(علی الترتیب) پڑھتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2591

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ وَالْبَهِيمَةَ وَالْوَاقِعَ عَلَى الْبَهِيمَةِ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی جانور سے بد فعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو اور جو شخص کسی ذی محرم سے بدکاری کرے اسے بھی قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2592

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ قَالَ اخْرُجُوا بِسْمِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ لَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی لشکر کو روانہ کرتے تو فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر روانہ ہوجاؤ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے جہاد کرو، وعدہ خلافی مت کرو، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، لاشوں کا مثلہ نہ کرو بچوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل مت کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2593

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا مِنْ الْحُمَّى وَالْأَوْجَاعِ بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بخار اور ہر قسم کی تکلیف اور درد سے حفاظت کے لئے یہ دعا سکھاتے تھے (بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ) اس اللہ کے نام سے جو بہت بڑا ہے، میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت عظیم ہے، جوش مارتی ہوئی آگ اور جہنم کی گرمی کے شر سے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2594

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو ، درمیان سے نہ کھایا کرو ، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2595

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ أَوْ نَحَرَ أَوْ ذَبَحَ وَأَشْبَاهِ هَذَا فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس ذی الحجہ کے دن اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہوجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ کوئی حرج ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2596

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی سے قوم لوط والا عمل کرے تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2597

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی جانور سے بد فعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کردو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2598

حَدَّثَنِي حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ فَلَبِسُوا السِّلَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ قَالُوا أَنْتَ قَالَ فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے والد جو زمانہ جاہلیت میں ہی فوت ہوگئے تھے کے متعلق نازیبا کلمات کہے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے طمانچہ دے مارا، اس کی قوم کے لوگ آئے اور کہنے لگے ہم بھی انہیں اسی طرح طمانچہ ماریں گے جیسے انہوں نے مارا ہے اور اسلحہ پہننے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو! یہ بتاؤ کہ اللہ کی بارگاہ میں اہل زمین میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا آپ ہیں، فرمایا کہ پھر عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اس لئے تم ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ، یہ سن کر اس انصاری کی قوم والے آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2599

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنْ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ فَكَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے " اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر " فرما اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکایا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہوگا، اس کا کیا بنے گا۔ فائدہ : زقوم جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2600

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2601

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَكَانَ إِذَا صَامَ صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى إِذَا أَفْطَرَ يَقُولُ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، البتہ وہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ کہنے والے کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2602

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ شَارِبَهُ وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2603

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے ان آباؤ اجداد پر فخر نہ کیا کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے ہوں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ایک مسلمان کی ناک کے نتھنوں میں جو گرد و غبار لڑھک کر چلاجاتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے بہتر ہے جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2604

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2605

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ بَلْ حَجَّةٌ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ كُلَّ عَامٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو اس پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2606

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا ، میرے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنا دیا گیا ہے اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے جسے میں نے اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2607

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارَانِ إِلَّا أَنْ أُعِدَّهُمَا لِدَيْنٍ قَالَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ک آل محمد کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے، میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں ، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں ، بشرطیکہ قرض ہو بھی، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس صاع جو لیے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2608

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ وَعَفَّانُ قَالُوا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ نبی صلی اللہ جس چٹائی پر تشریف فرما ہیں ، پہلوئے مبارک پر اس کے نشانات پڑ چکے ہیں، عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کچھ نرم بستر بنوا لیتے تو کتنا اچھا ہوتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی جو گرمی کے موسم میں سارا دن چلتا رہے اور کچھ دیر کے لئے ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2609

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا وَنَحْوَ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے قتال کیا اور اس کی وجہ سے نماز عصر اپنے وقت سے مؤخر ہوگئی، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2610

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ هَذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ تسلسل کے ساتھ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے اختتام پر دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد بنو سلیم کے ایک قبیلے، رعل، ذکوان، عصیہ اور انہیں پناہ دینے والوں پر بد دعاء فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کی طرف اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2611

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2612

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں آپ کا تابع فرمان ہوگیا، میں آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں ، میں آپ کے غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں ، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اس بات سے کہ آپ مجھے گمراہ کر دیں ، آپ سب کو زندہ رکھنے والے ہیں، آپ پر موت نہیں آسکتی اور تمام جن و انس مر جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2613

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أُعَالِجُ مِنْ الْجُنُونِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ وَالْعِيَافَةَ وَالْكَهَانَةَ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَأَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي قَالَ فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا فَقَالُوا هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ رُدُّوهَا قَالَ فَرَدُّوهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضماد ازدی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور ان چند نوجوانوں کو بھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے تھے اور کہا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں جنون کا علاج کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ کلمات فرمائے کہ تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں ، ہم اس سے مدد اور بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفسوں کے شر سے اس کی پناہ میں آتے ہیں ، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ضماد نے کہا کہ یہ کلمات دوبارہ سنائیے، پھر کہا کہ میں نے شعر، نجوم اور کہانت سب چیزیں سنی ہیں لیکن ایسے کلمات کبھی نہیں سنے، یہ توسمندر کی گہرائی تک پہنچے ہوئے کلمات ہیں، یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس کلمہ کی ضمانت آپ اور آپ کی قوم دونوں پر ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! مجھ پر بھی اور میری قوم پر بھی، چنانچہ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک سریہ ضماد کی قوم پر سے گذرا اور بعض لوگوں نے ان کا کوئی برتن وغیرہ لے لیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یہ ضماد کی قوم کا برتن ہے، اسے واپس کر دو، چنانچہ انہوں نے وہ برتن واپس کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2614

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَتْ فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِينِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا ثُمَّ قَالَ اسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ام حبیب بنت عباس کو لے کر آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا، اس نے پیشاب کر دیا، ام الفضل شرمندہ ہو گئیں ، اور بچی کو اس کے کندھوں کے درمیانی جگہ پر تھپڑ لگا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانی کا ایک برتن دے دو، چنانچہ جہاں جہاں اس نے پیشاب کیا تھا ، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بہا لیا اور فرمایا پیشاب کی جگہ پر پانی بہا لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2615

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کھڑی تھیں ، جو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2616

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ أَيُّوبُ وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ قَالَ إِنَّ مِنْ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ إِلَّا بِكَيْلٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع اور تجارت سے منع فرمایا ہے، راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ یحیی نے دھوکہ کی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ میں دریا میں جال پھینک رہا ہوں، جتنی مچھلیاں اس میں آگئیں ، میں اتنے روپے میں انہیں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں ، اور بھگوڑے غلام کو فروخت کرنا، بدک جانے والی وحشی بکری کی فروخت، جانوروں کے حمل کی فروخت کانوں کی مٹی کی فروخت اور جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کی بلا اندازہ فروخت بھی شامل ہے ہاں اگر دوودھ ناپ کر بیچاجائے تو جائز ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2617

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا مُخَوِّيًا حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو سجدے کی حالت میں دیکھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2618

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الضَّحَّاكِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح تھا لبیک اللہم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2619

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ فَقَالُوا بِفَارِسَ وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةً فَقَالَ اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى فَزَادَ فِيهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کہاں سے ہو کر آیا ہے، لوگوں نے بتایا فارس سے اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار ملایا گیا ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھری سے ہلا لو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2620

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيَدْخُلُ عُمَرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آسکتا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2621

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوا وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَدَعْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہوجائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گرسکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2622

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ١٧دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2623

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ وَلَدَتْ مِنْهُ أَمَتُهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ قَالَ بَعْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آزاد ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2624

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ بَرْدَ الْأَرْضِ وَحَرَّهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2625

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بار گاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2626

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ فَأَقْبَلَتْ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ أَرِينِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا هَا هُوَ ذَا وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ وَعَقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ التُّرَابِ فَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نائلہ اور اساف نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کیے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا بیٹی! ذرا وضو کاپانی تو لاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے وہ یہ رہے، لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکالیں ، اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2627

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُ أَنَّ حَنَشًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا غُلَامُ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ فَقَدْ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الْكُتُبُ فَلَوْ جَاءَتْ الْأُمَّةُ يَنْفَعُونَكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ لَمَا اسْتَطَاعَتْ وَلَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَضُرَّكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ لَكَ مَا اسْتَطَاعَتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2628

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ يَحْيَى عَنِ الْأَعْرَجِ وَلَمْ يَقُلْ مُوسَى عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ حَنَشٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ قَالَ مَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ قَالَ قَالَ يَحْيَى مَرَّةً أُخْرَى كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأُهْرَاقَ الْمَاءَ فَتَيَمَّمَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ الْمَاءَ مِنَّا قَرِيبٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے ہیں ، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کر لیتے ہیں ، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پانی آپ کے قریب موجود ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2629

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2630

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ کو اچھا نام پسند آتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2631

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ

کریب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کاجوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2632

حَدَّثَنِي مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا أَنْ تَشْرَبُوا فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَاشْرَبُوا فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حنتم، دباء اور مزفت میں پانی پینے سے اجتناب کرو اور مشکیزوں میں پیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2633

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَهْزِمُونَ فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ فَقَالُوا اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرُوا كَانَ لَكَ كَذَا وَكَذَا وَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا جَعَلْتَهُ أُرَاهُ قَالَ دُونَ الْعَشْرِ قَالَ وَقَالَ سَعِيدٌ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ قَالَ فَظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدَ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى الم غُلِبَتْ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ قَالَ فَغُلِبَتْ الرُّومُ بَعْدُ ثُمَّ غَلَبَتْ بَعْدُ قَالَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ قَالَ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ غلبت الروم کو معروف اور مجہول دونوں طرح سے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آجائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آجائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رومی ہی غالب آئیں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کر دی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آگئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آگئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پانچ سال کی مدت مقرر کرلی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دیئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی۔ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ در اصل قرآن میں بضع کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چنانچہ اس عرصے میں رومی غالب آگئے، اور سورت روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2634

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ عَنْ سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ كَانَا فِي الدُّنْيَا فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ فَيَقُولُ أَيْ أَخِي مَاذَا حَبَسَكَ وَاللَّهِ لَقَدْ احْتُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ فَيَقُولُ أَيْ أَخِي إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ مَحْبِسًا فَظِيعًا كَرِيهًا وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي الْعَرَقُ مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ كُلُّهَا آكِلَةُ حَمْضٍ لَصَدَرَتْ عَنْهُ رِوَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو مسلمانوں کی جنت کے دروازے پر ملاقات ہوئی، دنیا میں ان میں سے ایک مالدار تھا اور دوسرا غریب، فقیر تو جنت میں داخل ہوگیا اور مالدار کو روک لیا گیا ، اور جب تک اللہ کو منظور ہوا ، اسے روکے رکھا گیا ، پھر وہ بھی جنت میں داخل ہوگیا، وہاں اس کی ملاقات اس غریب سے ہوئی، اس غریب آدمی نے اس سے پوچھا کہ بھائی! آپ کو کس وجہ سے اتنی دیر ہوگئی؟ بخدا! آپ نے تو اتنی دیر کر دی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا، اس نے جواب دیا کہ بھائی! آپ کے بعد مجھے اس طرح روکا گیا جو انتہائی سخت اور ناگوار مرحلہ تھا، اور آپ تک پہنچنے سے میرے جسم سے انتا پسینہ بہا ہے کہ اگر ایک ہزار بھوکے پیاسے اونٹ بھی ہوتے اور وہ اس پسینے کو پانی کی جگہ پیتے تو سیراب ہوجاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2635

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ قَالَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ وَيَشْرَبُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ أَلَا تَنْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے، نیز اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں ، راوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی صبح کے وقت شیشی جیسے سبز مٹکے میں نبیذ رکھے اور رات کو پی لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس چیز سے باز نہیں آؤگے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2636

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ اشْتَكَى فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ وَمَعَهُ مِحْجَنٌ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی تکلیف کی بناء پر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف سے فارغ ہو کر اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور دوگانہ طواف کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2637

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2638

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھالیا (یا پی لیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2639

حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے دو ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2640

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2641

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعَرَ

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی طرف اشارہ کیا، نیز کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2642

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ

ابونضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2643

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَوُادَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ظلم سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2644

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ خَرَقَهُ قَالَ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا، امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2645

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی حالت میں اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2646

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنْ الْعَجَفِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ لَوْ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ أَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ قَالَ لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ فَجَمَعُوا لَهُ وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ أَنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ فَكَانَتْ سُنَّةً قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مرالظہران نامی جگہ کے قریب پہنچے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پتہ چلا کہ قریش ان کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ کمزوری کے باعث یہ لوگ کیا کر سکیں گے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم اپنے جانور ذبح کرتے ہیں، اس کا گوشت کھائیں گے اور شوربہ پئیں گے، جب ہم مکہ مکرمہ میں مشرکین کے پاس داخل ہوں گے تو ہم میں توانائی آچکی ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ تمہارے پاس جو کچھ بھی زاد سفر ہے، وہ میرے پاس لے کر آؤ، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنا اپنا توشہ لے آئے اور دستر خوان بچھا دیئے، سب نے مل کر کھانا کھایا (پھر بھی اس میں سے بچ گیا) اور جب وہ وہاں سے واپس آگئے تو ان میں سے ہر ایک اپنے چمڑے کے برتنوں میں اسے بھربھر کر بھی لے گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجدحرام میں داخل ہوگئے، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر سے اضطباع کیا (یعنی چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے گذار کر اسے بائیں کندھے پر ڈال لیا اور دایئں کندھے کو خالی کر لیا) اور فرمایا کہ یہ لوگ تم میں کمزوری محسوس نہ کرنے پائیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف شروع کر دیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں ہو رہے، یہ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہیں، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں کیا، اس اعتبار سے یہ سنت ہے، ابوالطفیل کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اس طرح کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2647

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ ایک خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جس کی وجہ سے بعض لوگ تو اگلی صفوں میں جگہ تلاش کرتے تھے تاکہ اس پر نظر نہ پڑ جائے اور بعض لوگ پچھلی صف میں جگہ تلاش کرتے تاکہ آخری صف میں جگہ مل جائے اور جب رکوع کریں تو بغلوں کے نیچے سے اسے بھی جھانک کر دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم تم لوگوں میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2648

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَحْبَبْتُ أَوْ أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں بکری کا گوشت زہر ملا کر پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک آدھ لقمہ کھایا اور اسی وقت کھانا چھوڑ دیا اور ) اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ تونے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے کہا کہ میرا یہ ارادہ اس لئے بنا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس پر مطلع کر دے گا اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو میرے ذریعے لوگوں کو آپ سے نجات مل جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2649

قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ قَالَ فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَاحْتَجَمَ

راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اس زہر کے اثرات محسوس ہوتے آپ سینگی لگوا لیتے، یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے اور احرام باندھ لیا، تو اس کے کچھ اثرات محسوس ہوئے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2650

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ نامی گاؤں کی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین بطور جاگیر کے عطاء فرمائی اور یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ تحریر لکھوا دی جس کے شروع میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون ہے کہ یہ تحریر جو محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بلال بن حارث مزنی کے لئے لکھی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے بلال کو قبلیہ نامی گاؤں گی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین جاگیر کے طور پر دے دی ہے اور انہیں کسی مسلمان کا حق(مار کر) نہیں دیا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2651

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر عام رفتار سے مکمل کیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2652

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2653

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُوهُ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكَمِّلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لَا هَكَذَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

کریب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں شام بھیجا، میں نے وہاں پہنچ کر اپنا کام کیا، ابھی میں شام ہی میں تھا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے شب جمعہ کو چاند دیکھا تھا ، مہینہ کے آخر میں جب میں مدینہ منورہ واپس آیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کام کے متعلق پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ چھڑ گیا، انہوں نے پوچھا کہ تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا شب جمعہ کو، انہوں نے پوچھا کیا تم نے خود بھی دیکھا تھا ؟ میں نے کہا جی ہاں ! اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا ، لوگوں نے چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے مطابق روزہ رکھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا ہے (اگلے دن ہفتہ تھا) اس لے ہم اس وقت تک مسلسل روزے رکھتے رہیں گے جب تک تیس روزے پورے نہ ہو جائیں یا چاند نظر نہ آجائے، میں نے عرض کیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت اور روزے پر آپ اکتفاء نہیں کر سکتے؟ فرمایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے۔ (یہیں سے فقہاء نے اختلاف مطالع کامسئلہ اخذ کیا ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2654

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کر لیتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2655

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2656

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَاضْطَبَعُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ حَدَّثَنَا يُونُسُ جَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ قَالَ يُونُسُ وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ الْيُسْرَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اضطباع کی اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2657

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا لِيَرَ الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ فَلَمَّا رَمَلُوا قَالَتْ قُرَيْشٌ مَا وَهَنَتْهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، تاکہ مشرکین تمہاری طاقت دیکھ سکیں، چنانچہ انہیں رمل کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2658

حَدَّثَنَا يُونُسُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي فَشَدَّهُ فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہ دور ہوگیا، جمرہ وسطی کے قیرب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلا نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تھا ، جمرہ اخیرہ کے قریب بھی یہی ہوا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسحاق(صحیح قول کے مطابق اسماعیل) کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا اباجان! مجھے باندھ دیجئے تاکہ میں حرکت نہ کر سکوں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پر میرے خون کے چھینٹے پڑیں ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور جب چھری پکڑ کر انہیں ذبح کرنے لگے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2659

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2660

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُبْعَثَنَّ الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ وَيَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يُبْعَثُ الرُّكْنُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2661

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ أَوْ وَحْيٌ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلُ هَذَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2662

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2663

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهَا سَبْعًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ فَسَأَلَنِي كَمْ أَفْرَغْتُ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ وَلِمَ لَا تَدْرِي ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ يَعْنِي يَغْتَسِلُ

شعبہ جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ غسل جنابت کرتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اسے برتن میں ڈالنے سے پہلے ساتھ مرتبہ دھوتے، ایک مرتبہ وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ میں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو نہیں پتہ، فرمایا تیری ماں نہ رہے، تجھے کیوں نہیں پتہ؟ پھر انہوں نے نماز والا وضو کر لیا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہا لیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح غسل فرمایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2664

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَصَعِدَ عَلَيْهِ ثُمَّ نَادَى يَا صَبَاحَاهْ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ إِلَيْهِ وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي لُؤَيٍّ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے یا صباحاہ کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟سب نے کہا کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں، ابو لہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اس لئے جمع کیا تھا ، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورت لہب نازل ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2665

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِهِ وَقَالَ اذْبَحُوهَا لِعُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكُمْ فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا کہ انہیں اپنے عمرے کی طرف سے ذبح کر لو، یہ تمہارے لیے کافی ہو جائیں گی، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں اس موقع پر ایک جنگلی بکرا آیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2666

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ وَأَنَا قَدْ رَأْيَتُهُ فِي طَرِيقٍ فَسَلَّمَ عَلَيَّ وَأَنَا صَبِيٌّ رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّانِ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَوْ يَا غُلَيِّمُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ فَقُلْتُ بَلَى فَقَالَ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے لڑکے! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ دے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، تم اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چا ہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے اور یاد رکھو! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2667

حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَأَرْخَيْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِينَا يَرْعَى فَلَمْ يَقْطَعْ قَالَ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ فَفَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَلَمْ يَقْطَعْ وَسَقَطَ جَدْيٌ فَلَمْ يَقْطَعْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور بنو عبد المطلب کا ایک غلام ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب ہم سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے تو ہم اس سے اترپڑے اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، کہ بنو عبد المطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا، نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گذرنے لگا، تو انہوں نے نماز نہیں توڑی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2668

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِمُّ مِنْ فَضْلِهَا فَقَالَتْ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2669

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ فِي الْمُصَنَّفِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ثُمَّ جَعَلَهُ بَعْدُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2670

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُq

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2671

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاجْعَلْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ

سید بن ابی الحسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو العباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں ، مجھے اس کے جواز یا عدم جواز کے متعلق فتوی دیجئے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے دو مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ قریب ہوگیا پھر انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ک ہر مصور جہنم میں جائے گا اور اس نے جتنی تصاویر بنائی ہوں گی اتنے ہی ذی روح پیدا کیئے جائیں گے جو جہنم میں اسے مبتلاء عذاب رکھیں گے، اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذمی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2672

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمِي لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَأَخْبِرْنِي عَنْ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحْذِيهِنَّ مِنْ الْغَنِيمَةِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ تَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَهُوَ ضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ فَإِذَا كَانَ يَأْخُذُ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ الْيُتْمُ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَإِنَّا كُنَّا نُرَى أَنَّهُ لَنَا فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا

یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر پانچ سوالات پوچھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ خوارج سے خط و کتابت کرتا ہے ، بخدا اگر مجھے کتمان علم کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی اسکا جواب نہ دیتا۔ نجدہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ یہ بتائیے، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے؟ ان کے لئے حصہ مقرر کرتے تھے؟ بچوں کو قتل کرتے تھے، یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کا حق ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جوابا لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے اور وہ مریضوں کا علاج کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر نہیں کیا تھا البتہ انہیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں ، ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لیے ممکن ہے) آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہوجائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہوگئی، ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق تھا لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2673

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں ، آپ برحق ہیں ، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں ، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں ، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2674

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2675

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2676

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت مؤخر فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2677

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَهَ الْأَعْمَى عَنْ السَّبِيلِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی اندھے کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور تین مرتبہ فرمایا وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2678

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2679

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَوْ إِلَّا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں کر سکتا، یا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے مبغوض نہ رکھتے ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2680

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا قَالَ فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ مَا هُوَ قَالَ إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالَ إِلَى أَيْنَ قَالَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يُرِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا قَالَ حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالُوا إِلَى أَيْنَ قُلْتُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالُوا ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ قَالُوا وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ قَالَ فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عُقَيْلٍ فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ شب معراج کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی اور صبح کے وقت میں واپس مکہ مکرمہ بھی پہنچ گیا تو مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ لوگ میری بات کو تسلیم نہیں کریں گے، اس لئے میں سب سے الگ تھلگ غمگین ہو کر بیٹھ گیا، اتفاقا وہاں سے دشمن خدا ابو جہل کا گذر ہوا ، وہ آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزائیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے؟ فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہوا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزائیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے؟ فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہوا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھے سیر کرائی گئی ہے، ابو جہل نے پوچھا کس جگہ کی؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر آپ صبح ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فوری طور پر تکذیب کرنا مناسب نہ سمجھا تاکہ اگر وہ قریش کو بلا کر لائے تو وہ اپنی بات سے پھر ہی نہ جائیں اور کہنے لگا کہ اگر میں آپ کی قوم کو آپ کے پاس بلا کر لاؤں تو کیا آپ ان کے سامنے بھی یہ بات بیان کر سکیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر اس نے آواز لگائی اے گروہ بنو کعب بن لوئی! ابو جہل کی آواز پر لگی ہوئی مجلسیں ختم ہو گئیں اور سب لوگ ان دونوں کے پاس آکر بیٹھ گئے، ابو جہل انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ آپ نے مجھ سے جو بات بیان فرمائی ہے، وہ اپنی قوم کے سامنے بھی بیان کر دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے آج رات سیر کرائی گئی ہے، لوگوں نے پوچھا کہاں کی؟ فرمایا بیت المقدس کی، لوگوں نے کہا کہ پھر آپ صبح کے وقت ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر کوئی تالی بجانے لگا اور کوئی اپنے سر پر ہاتھ رکھنے لگا، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق ایک جھوٹی بات پر انہیں تعجب ہو رہا تھا ، پھر وہ کہنے لگا کہ کیا آپ ہمارے سامنے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کر سکتے ہیں ؟ دراصل اس وقت لوگوں میں ایک ایسا شخص موجود تھا جو وہاں کا سفر کر کے مسجد اقصی کو دیکھے ہوئے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کرنا شروع کی اور مسلسل بیان کرتا ہی چلا گیا ، یہاں تک کہ ایک موقع پر مجھے کچھ التباس ہونے لگا تو مسجد اقصی کو میری نگاہوں کے سامنے کر دیا گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ مسجد اقصی کو دارعقال یا دار عقیل کے پاس لا کر رکھ دیا گیا ہے، چنانچہ میں اسے دیکھتا جاتا اور بیان کرتا جاتا، اس میں کچھ چیزیں ایسی بھی تھیں جو میں پہلے یاد نہیں رکھ سکا تھا ، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ کیفیت تو بخدا! انہوں نے صحیح بیان کی ہے (لیکن اسلام قبول کرنے کے لئے کوئی بھی مائل نہ ہوا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2681

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَّيْتُهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا تاکہ رحمت الہیہ اس کی دستگیری نہ کرتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2682

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ فَقَالَ هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا قَالَ قُلْتُ وَمَا شَأْنُهَا قَالَ بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَتْ الْمِدْرَى مِنْ يَدَيْهَا فَقَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ أَبِي قَالَتْ لَا وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ قَالَتْ أُخْبِرُهُ بِذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا فَقَالَ يَا فُلَانَةُ وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي قَالَتْ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا قَالَتْ لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ وَمَا حَاجَتُكِ قَالَتْ أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتَدْفِنَنَا قَالَ ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنْ الْحَقِّ قَالَ فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنْ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ قَالَ يَا أُمَّهْ اقْتَحِمِي فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَاقْتَحَمَتْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَشَاهِدُ يُوسُفَ وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَبُّكِ قَالَتْ رَبِّي وَرَبُّكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس رات مجھے معراج ہوئی، مجھے دوران سفر ایک جگہ سے بڑی بہترین خوشبو آئی، میں نے پوچھا جبریل! یہ کیسی خوشبوہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ اور اس کی اولاد کی خوشبوہے، میں نے پوچھا کہ اس کا قصہ توبتائیے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کررہی تھی، اچانک اس کے ہاتھ سے کنگھی گرگئی، اس نے بسم اللہ کہہ کر اسے اٹھالیا، فرعون کی بیٹی کہنے لگی کہ اس سے مرادمیرے والد صاحبہ ہیں ؟ اس نے کہا نہیں ، بلکہ میرا اور تیرا رب اللہ ہے، فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میں اپنے والد کو یہ بات بتادوں گی؟ اس نے کہا کہ ضروربتاؤ، فرعون کی بیٹی نے باپ تک یہ خبرپہنچائی، اس نے خادمہ کو طلب کرلیا۔ جب وہ خادمہ آئی توفرعون کہنے لگا اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا ہاں ! میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، یہ سن کر فرعون نے تانبے کی ایک گائے بنانے کا حکم دیا اور اسے خوب دہکایا، اس کے بعدحکم دیا کہ اسے اور اس کی اولاد کو اس میں پھینک دیا جائے، خادمہ نے کہا کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے، فرعون نے پوچھا کہ کیا کام ہے؟ اس نے کہا میری خواہش ہے کہ جب ہم جل کر کوئلہ ہوجائیں تو میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کرکے دفن کردینا، فرعون نے کہا کہ یہ تمہاراہم پر حق ہے، (ہم ایساہی کریں گے) اس کے بعدفرعون نے پہلے اس کے بچوں کو اس میں جھونکنے کا حکم دیا، چنانچہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچوں کو ایک ایک کرکے اس دہکتے ہوئے تنور میں ڈالاجانے لگا، یہاں تک کہ جب اس کے شیر کو اربچے کی باری آئی تو وہ اس کی وجہ سے ذراہچکچائی، یہ دیکھ کر خدا کی قدرت اور معجزے سے وہ شیرخواربچہ بولا اماں جان! بے خطراس میں کودجائیے کیونکہ دنیاکی سزاآخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، چنانچہ اس نے اس میں چھلانگ لگادی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ چاربچوں نے بچپن (شیرخوارگی) میں کلام کیا، حضڑت عیسی علیہ السلام نے، جریج کے واقعے والے بچے نے، حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے اور فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ کے بیٹے نے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2683

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ أَمْرًا فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَخْرُجُ مِنْ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2684

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ اللہ نے نیکیاں اور گناہ لکھ دیئے ہیں اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس سے سات سو یا حسب مشیت الہی دوگنی چوگنی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھاجاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2685

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكِ شَيْئًا لِتَخْرُجْ رَاكِبَةً وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بہن نے پیدل حج کرنے کی منت مانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہاری بہن کی اس سختی کا کیا کرے گا؟ اسے چاہیے کہ سواری پر سوار ہو کر حج کے لیے چلی جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2686

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَسَعَى سَبْعًا وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائیں)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2687

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ يَكْرَهُ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنْ الْمُزَّاءِ فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الْبُسْرَ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوالقیس کے وفد کو " مزاء" سے منع کیا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2688

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت موسی کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2689

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ فَقَالَ لَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَبَضَ بِكَفَّيْهِ كَأَنَّهُ يَرْمِي بِهَا وَيَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2690

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ إِلَى كُلِّ سَارِيَةٍ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعاء کی لیکن نماز نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2691

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بے نیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2692

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْيًا وَإِنَّمَا طَافَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ وَقَالَ عَفَّانُ وَلِذَا أَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے، اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائیں)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2693

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ

ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں، پھر میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2694

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ عِنْدَ بَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَنْ أَنْتُمَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ انْطَلِقَا إِلَى نَاسٍ عَلَى تَمْرٍ وَمَاءٍ إِنَّمَا يَسِيلُ كُلُّ وَادٍ بِقَدَرِهِ قَالَ قُلْنَا كَثُرَ خَيْرُكَ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ لَنَا فَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تَبُوكَ فَقَالَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فَيُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ رَجُلٍ بَادٍ فِي غَنَمِهِ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُؤَدِّي حَقَّهُ قَالَ قُلْتُ أَقَالَهَا قَالَ قَالَهَا قَالَ قُلْتُ أَقَالَهَا قَالَ قَالَهَا قَالَ قُلْتُ أَقَالَهَا قَالَ قَالَهَا فَكَبَّرْتُ اللَّهَ وَحَمِدْتُ اللَّهَ وَشَكَرْتُ

شہاب عنبری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے پوچھا تم دونوں کون ہو؟ ہم نے انہیں اپنے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کہ لوگ کھجوریں اور پانی کھاپی رہے ہیں ، تم بھی وہاں چلے جاؤ، ہر وادی کا بہاؤ اس کی وسعت کے بقدر ہوتا ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی خیر میں اور اضافہ ہو، جب آپ اندر جائیں تو ہمارے لیے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اجازت لیجئے گا، چنانچہ انہوں نے ہمارے لیے بھی اجازت حاصل کی۔ اس موقع پر ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگوں میں اس شخص کی مثال ہی نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو، راہ خدا میں جہاد کرتا ہوں اور برے لوگوں سے بچتا ہو، اسی طرح وہ آدمی جو دیہات میں اپنی بکریوں میں مگن رہتا ہو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہو اور ان کا حق ادا کرتا ہو، میں نے تین مرتبہ ان سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے؟ اور انہوں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے، اس پر میں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2695

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو ، اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2696

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً وَأَنَا مُوسِرٌ لَهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2697

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ سِحْرٍ مَا زَادَ زَادَ وَمَا زَادَ زَادَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتاجائے گا اسی قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2698

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتِنَا فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ أَيْ بَنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا أَخَالُ أَحَدًا يَرْمِي الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبد المطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کرا کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پرہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2699

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كَذَا قَالَ رَوْحٌ عَاصِمٌ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ أَبُو عَاصِمٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُصْدَفُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُدْفَعُونَ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْتَمِعُوا وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ

ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کی زیارت بھی کر لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2700

حَدَّثَنِي يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2701

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِq

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2702

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ حَسَنٌ عَنْ عَمَّارٍ قَالَ حَمَّادٌ وَأَظُنُّهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ حَسَنٌ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ فَذَكَرَ عَفَّانُ الْحَدِيثَ وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنٌ فِي حَدِيثِهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ يَكُ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيُّ فَسَأُعَزِّزُهُ وَأَنْصُرُهُ وَأُومِنُ بِهِ

مختلف اسانید سے جن میں سے بعض میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور بعض میں نہیں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا مجھے روشنی دکھائی دیتی ہے اور کوئی آواز سنائی دیتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے جنون نہ ہو جائے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے خواجہ عبداللہ کے صاحبزادہ گرامی قدر! اللہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور یہ بات ان سے ذکر کی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کے پاس آنے والا فرشتہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اگر وہ میری زندگی میں مبعوث ہوگئے تو میں انہیں تقویت پہنچاؤں گا، ان کی مدد کروں گا اور ان پر ایمان لاؤں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2703

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَالنُّورَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ روشنی میں دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2704

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ عَفَّانُ وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ عَفَّانُ فَقَالَ أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ قَالَ هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھ سے کہنے لگے بیٹا تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے، والد صاحب کہنے لگے یا رسول اللہ! میں عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا وہ جبرئیل امین تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا تھا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2705

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَيْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَعَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ فَقَالَ مَا شَأْنِي مَا هَذَا قَالَتْ زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ لَا لَعَمْرِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَمَا تَسْتَحِي تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ فرمایا، دراصل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد ان کی شادی کرنا چاہتے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور اس وقت کے رواج کے مطابق شراب کا بھی انتظام کیا، انہوں نے اس دعوت میں اپنے والد اور قریش کے چند لوگوں کو بلا رکھا تھا، ان لوگوں نے کھایا پیا اور شراب کے نشے میں دھت ہوگئے۔ یہ دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا کہ محمد بن عبداللہ میرے پاس نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں، اس لیے آپ ان سے میرا نکاح کرا دیجئے، انہوں نے نکاح کرا دیا، اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو خلوق نامی خوشبو لگائی اور انہیں ایک حلہ پہنا دیا جو اس وقت کے رواج کے مطابق تھا۔ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نشہ اترا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی ہے اور ان کے جسم پر ایک حلہ ہے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ یہ سب کیا ہے؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ نے خود ہی تو محمد بن عبداللہ سے میرا نکاح کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابو طالب کے یتیم بھتیجے سے تمہارا نکاح کروں گا، مجھے اپنی زندگی کی قسم! ایسا نہیں ہوسکتا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا قریش کی نظروں میں اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہوئے اور لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے کہ آپ نشے میں تھے، آپ کو شرم نہ آئے گی؟ اور وہ یہ بات مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2706

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2707

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ قَالَ هُوَ أَعْوَرُ هِجَانٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ رِجَالِكُمْ بِهِ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا وہ کانا ہوگا، سفید رنگ کا ہوگا، کھلتا ہوا ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبد العزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2708

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فَقَالَ هِيَ السُّنَّةُ قَالَ فَقُلْنَا إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجْلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ( کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا اس طرح بیٹھناجائز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، ہم نے عرض کیا کہ ہم توسمجھتے ہیں کہ یہ ایک آدمی کا گنوار پن ہے، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2709

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَتَحَرَّى يَوْمًا كَانَ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَوْ شَهْرَ رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشوراء کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2710

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْثُو عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ هَذَا يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهُ مِنْ الْجَفَاءِ قَالَ هُوَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ لوگ تو اسےگنوار پن سمجھتے ہیں، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2711

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ حَرِيرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل ریشمی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2712

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل ریشمی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2713

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي فَانْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کے کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2714

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2715

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَمَا تَرَكَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا و راثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو ، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2716

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدٍ أَحْمَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2717

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2718

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ كَذَلِكَ وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2719

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں نقصان اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں، انسان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے بھائی کو دیوار پر لکڑی رکھے اور غیر آباد راستہ سات گز رکھا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2720

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ أَوْ أَشْرَبَ اللَّبَنَ أَوْ الْمَاءَ قُلْتُ فَعَلَامَ يُؤَوَّلُ هَذَا قَالَ سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضَّحَاءُ فَيَقُولُونَ نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا

عطاء رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عید الفطر کے دن اگر ممکن ہو کہ کچھ کھا پی کر نماز کے لئے نکلو تو ایسا ہی کیا کرو، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جب سے یہ بات سنی ہے، اس وقت سے میں نے صبح نکلنے سے پہلے کچھ کھانے پینے کا عمل ترک نہیں کیا، خواہ چپاتی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاؤ، یا دودھ پی لوں، یاپانی پی لوں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ تو عطاء نے جواب دیا میرا خیال یہ ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہوگا اور فرمایا کہ لوگ نماز عید کے لئے اس وقت نکلتے تھے جب روشنی خوب پھیل جاتی تھی اور وہ کہتے تھے ہمیں پہلے ہی کچھ کھا پی لینا چاہئے تاکہ نماز میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2721

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ أَبِي هُوَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ عَنْ فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ يَعْنِي الْفَرِيضَةَ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حج فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کو پتہ نہیں ہے کہ بعد میں اسے کیا ضروریات اور عوارض لاحق ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2722

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ فَلْيَرَوْكُمْ جُلْدًا فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ ثُمَّ رَمَلُوا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعدجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے ارادے سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے لگے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگ کل تمہیں ضرور دیکھیں گے، تم انہیں مضبوط دکھائی دینا، پھر وہ سب آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہوگئے، سب نے حجر اسود کا استلام کیا اور طواف میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے رمل کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں کیا اور باقی چار چکر عام رفتار سے پورے کیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2723

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ وَقَضَى وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2724

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَسْوَدُ و حَدَّثَنَاه عَنْ حَسَنٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلا بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2725

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ لَا يَصْلُحُ قَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئیے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2726

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ ثُمَّ قَالَ رُدُّوهُ فَاعْتَرَفَ مَرَّتَيْنِ حَتَّى اعْتَرَفَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ماعز بن مالک کو لایا گیا اور انہوں نے دو مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ، پھر واپس بلوایا اور انہوں نے مزید دو مرتبہ اعتراف کیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2727

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت، خلافت صدیقی اور خلافت فاروق کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھاجاتا تھا، لیکن بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جس چیز میں لوگوں کو سہولت تھی، انہوں نے اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کر دیا (کثرت سے طلاق دینا شروع کردی) اس لئے اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو تین ہی کے حکم میں نافذ کر دیں تو بہتر ہے، چنانچہ انہوں نے یہ حکم نافذ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2728

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ أَبِي هَرِمٍ عَنْ صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الصِّيَامِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الصِّيَامِ صِيَامَ أَخِي دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا

صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نفلی روزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ نفلی روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ میرے بھائی حضرت داوؤد علیہ السلام کا تھا ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2729

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2730

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ مَيْتَةٌ فَقَالَ دِبَاغُهُ يُذْهِبُ خَبَثَهُ أَوْ رِجْسَهُ أَوْ نَجَسَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مشکیزے سے وضو کرنا چاہا تو کسی نے بتایا کہ یہ مردار جانور کی کھال کا بنا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہوجاتی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2731

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ أَوْ قَالَ عَلَى مَنْكِبَيَّ فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطاء فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2732

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ بِيَدِهِ مِنْهَا سِتِّينَ وَأَمَرَ بِبَقِيَّتِهَا فَنُحِرَتْ وَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةً فَجُمِعَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَحَسَا مِنْ مَرَقِهَا وَنَحَرَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ فِيهَا جَمَلُ أَبِي جَهْلٍ فَلَمَّا صُدَّتْ عَنْ الْبَيْتِ حَنَّتْ كَمَا تَحِنُّ إِلَى أَوْلَادِهَا حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ يَعْنِي ابْنَ رُزَيْقٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی کی، جن میں سے ساٹھ کو اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور باقی اونٹ دوسروں (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا، ان سب کو ایک ہانڈی میں جمع کر کے پکایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول بھی فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا اور صلح حدیبیہ کے موقع پر ستر اونٹ قربان کیے، جن میں ابوجہل کا اونٹ بھی شامل تھا، جب انہیں بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا گیا تو وہ اونٹ ایسے رونے لگے جیسے اپنے بچوں کی خاطر روتے ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2733

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ أَفْطَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال ماہ رمضان کی دس تاریخ کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور مر الظہران پہنچ کر روزہ ختم کردیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2734

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَقْصُرُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ مِنْ الثِّقَاتِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال سترہ دن تک مکہ مکرمہ میں اقامت گزیں رہے اور قصر نماز پڑھتے رہے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2735

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَالَ لِتَرْكَبْ وَلْتُكَفِّرْ يَمِينَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چاہیے کہ سواری پر سوار ہو کر حج کے لئے چلی جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2736

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2737

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ فَمَضْمَضَ ثُمَّ اسْتَنْشَقَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ اثْنَتَيْنِ أَوْ ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ابو غطفان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2738

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2739

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي عُلْوَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ فُرِضَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُونَ صَلَاةً فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا خَمْسًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعاء کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2740

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعاء کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2741

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ صَلَاةً فَسَأَلَ رَبَّهُ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعاء کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2742

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2743

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُوحَى إِلَيَّ فِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2744

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2745

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي ثُمَّ سَجَدَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دو سجدوں کے درمیان بیٹھ کر یہ دعاء پڑھتے تھے پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے درجات بلند فرما، مجھے رزق عطاء فرما اور مجھے ہدایت عطاء فرما، پھر دوسرا سجدہ کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2746

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقَتْلُ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ وَلِقَيْنِهِمْ فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ وَلَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا یہ شہرحرام ہے اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لیے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، اب یہ قیامت تک کے لیے حرام ہے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے لہذا جب تم سے جہاد پر روانہ ہونے کے لئے کہا جائے تو تم نکلو

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2747

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّيَادِيُّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ نے شراب کو، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے، پینے والے، اٹھانے والے، اٹھوانے والے، بیچنے اور خریدنے والے پینے اور پلانے والے سب کو ملعون قرار دیا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2748

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمْ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ فَقَالَ بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلَّهَا وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سبا کسی آدمی کا نام ہے یا کسی عورت کا یا کسی علاقے کا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک آدمی کا نام ہےجس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں سکونت پذیر ہوگئے، یمن میں سکونت اختیار کرنے والے مذحج، کندہ، ازد، اشعریین، انمار، اور سارا عرب حمیر شامل ہے اور شام میں رہائش اختیار کرنے والوں میں لخم جذام، عاملہ اور غسان ہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2749

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ حَتَّى قَامَتَا بَيْنَ يَدَيْهِ عِنْدَ رَأْسِهِ فَنَحَّاهُمَا وَأَوْمَأَ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دو بچیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی طرف سے سامنے آکر کھڑی ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ایک طرف کر دیا اور اپنے ہاتھوں سے دائیں جانب یا بائیں جانب کا اشارہ کر دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2750

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2751

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عِلْبَاءَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی (١) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (٢) فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (٣) مریم بنت عمران علیہماالسلام (٤) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2752

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ يُصَلِّي مَضْفُورَ الرَّأْسِ مَعْقُودًا مِنْ وَرَائِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْرَحْ يَحُلُّ عُقَدَ رَأْسِهِ فَأَقَرَّ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَلِّهِ ثُمَّ جَلَسَ فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الْحَارِثِ مِنْ الصَّلَاةِ أَتَاهُ فَقَالَ عَلَامَ صَنَعْتَ بِرَأْسِي مَا صَنَعْتَ بِرَأْسِي آنِفًا قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُودٌ مِنْ وَرَائِهِ كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي مَكْتُوفًا

کریب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کاجوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیھچے بندھے ہوئے ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2753

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سر کے بالوں کا جوڑا بناکر نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیھچے بندھے ہوئے ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2754

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَتَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کے دونوں پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان تین مرتبہ فاسد خون نکلوایا اور حجام کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ دیتے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2755

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَتَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2756

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2757

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا قَدْ خَوَّى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو حالت سجدہ میں دیکھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2758

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَبَّرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ سَاجِدًا مُخَوِّيًا وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو حالت سجدہ میں دیکھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2759

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یاحدت کا اضافہ ہی کیا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2760

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا أَمَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ قَالَ مِنْ بَعْدِهِ وَرُبَّمَا قَالَهُمَا جَمِيعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں ) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2761

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے غسل کا پانی رکھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کپڑا دیا اور فرمایا کہ یہ چادر تان کر پردہ کرواؤ اور میری طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہو جاؤ

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2762

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَفْعَلْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب راستے میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنالے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2763

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنْ السَّبِيلِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ثَلَاثًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کو گالی دے اور تین مرتبہ فرمایا وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2764

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ مَلْعُونٌ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنْ الطَّرِيقِ مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ثَلَاثًا فِي اللُّوطِيَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے، اور یہ آخری جملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2765

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنْ الطَّرِيقِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَهَا ثَلَاثًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرے اور تین مرتبہ فرمایا وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2766

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى وَلَمْ تُكْتَبْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2767

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى وَلَمْ تُكْتَبْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2768

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا

نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2769

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عُقَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ عُلِّمْتُ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَيَسْأَلُوا عَنْهَا ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا فَلَمَّا قَامَ تَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ سَأَلْنَاهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ فَلَا تَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْهَا وَعَنْ اللَّاتِي قَرَأْتَ قَبْلَهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَي تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا فَلَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا تَقُولُونَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ قَالَ قُلْتُ مَا يَصِدُّونَ قَالَ يَضِجُّونَ وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قَالَ هُوَ خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ

ابو یحیی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتا ہوں جس کے متعلق آج تک مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے پہلے سے علم ہے اس لئے پوچھتے یا ان کا ذہن ہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا؟ یہ کہہ کر پھر وہ ہمارے ساتھ باتیں کرنے لگے، جب وہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم ہی نے ان سے کیوں نہ پوچھ لیا؟ میں نے کہا کہ جب وہ کل یہاں آئیں گے تو میں ان سے اس کے متعلق دریافت کروں گا۔ چنانچہ اگلے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جب تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! کل آپ نے ذکر فرمایا تھا کہ آپ قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتے ہیں جس کے متعلق آج تک آپ سے کسی نے نہیں پوچھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ معلوم نہیں ، لوگوں کو پہلے سے اس بارے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے؟ آپ مجھے اس آیت کے متعلق بتائیے اور ان آیات کے متعلق بھی جو آپ نے اس سے پہلے پڑھ رکھی تھیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا اے گروہ قریش! اللہ کے علاوہ جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے ان میں سے کسی میں کوئی خیر نہیں ہے، قریش کے لوگ جانتے تھے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے نبی اور اس کے نیک بندے تھے، اگر آپ سچے ہیں (کہ معبودان باطلہ میں کوئی خیر نہیں ہے) تو پھر عیسائیوں کا خدا بھی ویسا ہی ہوا جیسے آپ کہتے ہیں (کہ ان میں بھی کوئی خیر نہیں ہے) اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال بیان کی جاتی ہے تو آپ کی قوم چلانے لگتی ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے یصدون کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کاترجمہ چلانا کیا اور وانہ لعلم للساعۃ کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول وخروج قیامت کی علامات میں سے ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2770

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ بَيْتِهِ بِمَكَّةَ جَالِسٌ إِذْ مَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَكَشَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَجْلِسُ قَالَ بَلَى قَالَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَهُ فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُ إِذْ شَخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَنَظَرَ سَاعَةً إِلَى السَّمَاءِ فَأَخَذَ يَضَعُ بَصَرَهُ حَتَّى وَضَعَهُ عَلَى يَمِينِهِ فِي الْأَرْضِ فَتَحَرَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَلِيسِهِ عُثْمَانَ إِلَى حَيْثُ وَضَعَ بَصَرَهُ وَأَخَذَ يُنْغِضُ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ يَسْتَفْقِهُ مَا يُقَالُ لَهُ وَابْنُ مَظْعُونٍ يَنْظُرُ فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَاسْتَفْقَهَ مَا يُقَالُ لَهُ شَخَصَ بَصَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا شَخَصَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَأَتْبَعَهُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى فِي السَّمَاءِ فَأَقْبَلَ إِلَى عُثْمَانَ بِجِلْسَتِهِ الْأُولَى قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ كُنْتُ أُجَالِسُكَ وَآتِيكَ مَا رَأَيْتُكَ تَفْعَلُ كَفِعْلِكَ الْغَدَاةَ قَالَ وَمَا رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ قَالَ رَأَيْتُكَ تَشْخَصُ بِبَصَرِكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ وَضَعْتَهُ حَيْثُ وَضَعْتَهُ عَلَى يَمِينِكَ فَتَحَرَّفْتَ إِلَيْهِ وَتَرَكْتَنِي فَأَخَذْتَ تُنْغِضُ رَأْسَكَ كَأَنَّكَ تَسْتَفْقِهُ شَيْئًا يُقَالُ لَكَ قَالَ وَفَطِنْتَ لِذَاكَ قَالَ عُثْمَانُ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ آنِفًا وَأَنْتَ جَالِسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا قَالَ لَكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنْ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ قَالَ عُثْمَانُ فَذَلِكَ حِينَ اسْتَقَرَّ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي وَأَحْبَبْتُ مُحَمَّدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ وہاں سے عثمان بن مظعون کا گذر ہوا ، وہ تیزی سے گذرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا آپ بیٹھیں گے نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھ گئے، ابھی یہ دونوں آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں اوپر کو اٹھ گئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لیے آسمان کی طرف دیکھا، پھر آہستہ آہستہ اپنی انگاہیں نیچے کرنے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظریں زمین پر اپنی دائیں جانب گاڑ دیں اور اپنے مہمان عثمان سے منہ پھیر کر اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اپنا سر جھکا لیا، ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، عثمان یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کام سے فارغ ہوئے اور جو کچھ ان سے کہا جا رہا تھا، انہوں نے سمجھ لیا تو پھر ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، جیسے پہلی مرتبہ ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں کسی چیز کا پیچھا کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ چیز آسمانوں میں چھپ گئی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کی طرح عثمان کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ کے پاس آکر کیوں بیٹھوں ؟ آج آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے پہلے میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ عثمان کہنے لگے کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں ، پھر آپ نے دائیں ہاتھ اپنی نگاہیں جما دیں ، آپ مجھے چھوڑ کر اس طرح متوجہ ہوگئے، اور آپ نے اپنے سر کو جھکالیا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ سے کچھ کہا جارہاہے، اسے آپ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی تم نے ایسی چیز محسوس کی ہے؟ عثمان کہنے لگے جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد آیا تھا جبکہ تم میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، عثمان نے کہا اللہ کا قاصد؟ فرمایا ہاں ! عثمان نے پوچھا کہ پھر اس نے آپ سے کیا کہا؟ فرمایا بے شک اللہ عدل واحسان کا اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، ناپسندیدہ اور سرکشی کے کاموں سے روکتاہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو، عثمان کہتے ہیں کہ اسی وقت سے میرے دل میں اسلام نے جگہ بنانی شروع کردی اور مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوگئی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2771

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک حرم تھا اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں مدینہ کو آپ کے حرم کی طرح حرم قرار دیتا ہوں، یہاں کسی بدعتی کو ٹھکانہ نہ دیا جائے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کا کانٹا نہ توڑا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اعلان کر سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2772

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ وَالِدَيْهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے) یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ رب العزت اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2773

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَأَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ دِينِ الْإِسْلَامِ قَالَ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِينَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ إِلَى قَوْلِهِ خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَحَرَّمَ سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہر صنف کی عورتیں ممنوع تھیں سوائے ان مؤمنہ عورتوں کے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئی ہوں، جیسا کہ ارشادربانی ہے کہ ان کے علاوہ کسی عوت سے نکاح کرنا، یا انہیں بدل کر کسی اور کو اپنے نکاح میں لے آنا خواہ ان کا حسن اچھا ہی کیوں نہ لگے، آپ کے لئے حلال نہیں ہے سوائے باندیوں کے بعد میں اللہ نے تمہاری مؤمن عورتوں کو ان پر حلال کر دیا اور اس مؤمنہ عورت کو بھی جو اپنی ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دے اور اسلام کے علاوہ دوسرے ہر دین کی عورت کو حرام قرار دے دیا اور فرمایا جو شخص ایمان کے بعد کفر اختیار کر لے اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور فرمایا کہ اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ کے لئے حلال کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حکم خاص آپ کے لئے ہے، عام مسلمانوں کے لئے نہیں اور اس کے علاوہ سب طرح کی عورتیں حرام کر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2774

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي قَالَتْ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةَ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً قَالَ فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكِ اللَّهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو جن کا نام سودہ تھا پیغام نکاح بھیجا، سودہ کے یہاں اس شوہر سے جو فوت ہوگیا تھا، پانچ یا چھ بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے کون سی چیز روکتی ہے؟ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی! بخدا! مجھے آپ سے کوئی چیز نہیں روکتی، آپ تو ساری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں، اصل میں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ یہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے روتے اور چیختے رہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی وجہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے، وہ بہترین عورتیں جو اونٹوں پر پشت کی جانب بیٹھتی ہیں ان میں سب سے بہتر قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچپن میں اپنے بچوں کے لئے انتہائی شفیق اور اپنی ذات کے معاملے میں اپنے شوہر کی محافظ ہوتی ہے۔ فائدہ : یہ سودہ دوسری ہیں، ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نہیں ہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2775

و قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا لَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي مَا الْإِسْلَامُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ قَالَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَبِالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي مَا الْإِحْسَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ فِي خَمْسٍ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ قَالَ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا بِالْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ قَالَ الْعَرَبُ

اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آگئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے ہاتھ ان کے گھٹنے پر رکھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اسلام کی تعریف کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی تعریف یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دو، اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، انہوں نے پوچھا کیا یہ کام کرنے کے بعد میں مسلمان شمار ہوں گا؟ فرمایا ہاں ! جب تم یہ کام کر لو گے تو تم مسلمان شمار ہوگے۔ پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، آخرت کے دن، فرشتوں ، کتاب، پیغمبروں، موت اور موت کے بعد کی زندگی، جنت و جہنم، حساب کتاب، میزان عمل اور تقدیر پر مکمل خواہ وہ بھلائی کی ہو یا برائی کی، یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ کیا جب میں یہ کام کر لوں گا تو میں مومن شمار ہوں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! جب تم یہ کام کر لو گے تو تم مومن شمار ہوگے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ بتائیے کہ احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کوئی بھی عمل اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو یہی تصور کر لو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحن اللہ، یہ غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، ارشاد ربانی ہے، اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے؟ کسی نفس کو نہیں پتہ کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا باخبر ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی کچھ نشانیاں بتا دیتا ہوں جو اس سے پہلے رونما ہوں گی؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتائیے، فرمایا جب تم دیکھو کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے، اور بکریاں چرانے والے بڑی بڑی عمارتوں پر ایک دوسرے سے فخر کرنے لگے ہیں، ننگے بھوکے اور محتاج لوگ سردار بن چکے ہیں تو یہ قیامت کی علامات اور نشانیوں میں سے ہے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بکریاں چرانے والے، ننگے، بھوکے اور محتاج لوگ کون ہیں؟ فرمایا اہل عرب۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2776

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ كُلُّ اسْمٍ حَسَنٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2777

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَالَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ " کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔الخ" والی آیت کامصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2778

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَوْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعَنَانِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور راہ خدا میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہوجائے،یا شہید ہو جائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤ جو سب سے بد ترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2779

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنْ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2780

حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْعَبْدَ وَالْمَرْأَةَ مِنْ الْغَنَائِمِ حَدَّثَنَاه يَزِيدُ قَالَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے اس روایت کے مطابق مال غنیمت کے علاوہ دوسرے مال سے انہیں حصہ دیتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2781

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ إِسْتَبْرَقٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا حِينَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ قَالَ أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ قَالَ انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ قَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ قَالَ لَا فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا

شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، حضرت مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابو العباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ فرمایا یہ تو استبرق(ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اورظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمدللہ! ہم ایسے نہیں ہیں ۔ پھر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے، بہرحال! حضرت مسور رضی اللہ عنہ جب چلے گئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس چادر کو میرے اوپر سے اتارو اور ان مورتیوں کے سر کا حصہ کاٹ دو، لوگوں نے کہا اے ابو العباس! اگر آپ انہیں بازار لے جائیں تو سر کے ساتھ ان کی اچھی قیمت لگ جائے گی، انہوں نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کا حصہ کاٹ دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2782

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ قَالَ التَّوَاضُعُ قَالَ هَكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا آزاد کردہ غلام سجدہ کرتے ہوئے پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر رکھ دیتا ہے ، انہوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تواضع کا سبب بتایا، انہوں نے فرمایا اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2783

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منی کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرلیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2784

قَالَ حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منی کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرلیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2785

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَطِئَ أَمَتَهُ فَوَلَدَتْ لَهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2786

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2787

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْتِيهِ الْجَارِيَةُ بِالْكَتِفِ مِنْ الْقِدْرِ فَيَأْكُلُ مِنْهَا ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَيُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باندی ہنڈیا میں سے شانے کا گوشت لے کر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کرنا تو دور کی بات، پانی کو چھوا تک نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2788

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2789

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی آزمائش کے دنوں میں نجدہ حروری نے جس وقت خروج کیا تو اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ آپ کے خیال میں ذوی القربی کا حصہ کن کا حق ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، حق ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم فرمایا تھا، بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کے بدلے میں کچھ اور چیزیں پیش کی تھیں لیکن وہ ہمارے حق سے کم تھیں اس لئے ہم نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ ان میں سے جو نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کی مالی معاونت کریں گے، ان کے مقروضوں کے قرضے اداء کریں گے اور ان کے فقراء کو مال و دولت دیں گے لیکن اس سے زائد دینے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2790

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ فَفَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2791

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2792

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ أَسُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَمْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ اللَّبَنِ وَالْعَسَلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا قَالَ اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا

مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آکر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا پانی پلاؤ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہوگئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین وانصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2793

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم سنتے ہو، تمہاری سنی جاتی ہے، اور جو تم سے سنتے ہیں ان کی بھی سنی جاتی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2794

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تَصُمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج کے دن کا (احرام کی حالت میں ) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2795

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَكَانَ إِذَا صَامَ صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2796

مَضْرُوبٌ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ ذَكْوَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُمْشَى فِي خُفٍّ وَاحِدٍ أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ كَثِيرٌ غَيْرُ هَذَا فَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ ضَرَبَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ لَا يُسَاوِي شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتی یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث ہم سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صرف مسودہ میں درج کی تھی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو عمر بن خالد کی وجہ سے ترک کر دیا تھا جو زید بن علی سے اسے روایت کرتے ہیں اور عمرو بن خالد کی تو کوئی حیثیت نہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2797

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2798

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْلِنَ التَّلْبِيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ کہنے کا حکم دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2799

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سَدَاهُ حَرِيرٌ لَيْسَ بِحَرِيرٍ مُصْمَتٍ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَإِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش و نگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے بھی منع فرمایا تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2800

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنًا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقُلْتُ مَنْ هُمْ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَا يَعْتَافُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2801

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْأَمَةِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 'رحم' ایک شاخ ہے جس نے رحمن کی آڑ تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑے اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑے دے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2802

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ عَمْروٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مربتہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2803

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والوں کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2804

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اخْتَصَمَ رَجُلَانِ فَدَارَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ فَإِنَّ الْحَقَّ قِبَلَهُ وَهُوَ كَاذِبٌ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَوْ شَهَادَتُهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک پر قسم آ پڑی، اس نے قسم کھالی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس شخص کا مجھ پر کوئی حق نہیں ، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ اسے حکم دیجئے کہ اپناحق اسے دے دے، حق تو اسی کا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دیتا ہے اور اس کی معرفت اسے حاصل ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2805

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ خَطَطْتُ هَذِهِ الْخُطُوطَ قَالُوا لَا قَالَ أَفْضَلُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی۔ (١) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (٢) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (٣) مریم بنت عمران علیہماالسلام (٤) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جوفرعون کی بیوی تھیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2806

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا قَالُوا نَعَمْ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور راہ خدا میں نکلا ہوا ہو تا آنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو ، زکوۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤ جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2807

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنْ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا قَالَ وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھاناحرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2808

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ ثُمَّ قَالَ شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ ثُمَّ رَمَى بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوا کر پہن لی، پھر فرمانے لگے کہ میرا آج کا دن تو اسی میں مصروف رہا، ایک نظر اسے دیکھتا تھا اور ایک نظر تمہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2809

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ شَيْئًا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنالیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھاناحرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے) یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2810

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ قَدْ فَعَلَهَا ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا جاری نہیں فرمائی، ہوا اس طرح کہ ایک آدمی شراب پی کر مدہوش ہوگیا، راستے میں وہ ادھر ادھر لڑھکتا چلا جا رہا تھا کہ ایک شخص اسے مل گیا اور اسے پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جانے لگا، جب وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب ہوا تو وہ شخص اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھس کر پیچھے سے جا کر ان سے چمٹ گیا، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متلعق کوئی حکم نہیں دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2811

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ فَمَا لِلَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2812

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانَ الْيَمَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ ادْعُ رَبَّكَ قَالَ فَدَعَا رَبَّهُ قَالَ فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ قَالَ فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِقَ فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اپنی اصلی صورت دکھانے کی فرمائش کی، انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کی تو اسی لمحے مشرق کی طرف سے ایک گھٹا اٹھی جو آہستہ آہستہ بلند ہونے اور پھیلنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر انہیں اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے تھوک کو صاف کیا جو دونوں جبڑوں کی طرف سے نکل رہا تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2813

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِأُنَاسٍ مِنْ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا فَأَحْرَقَهُمْ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جاٹ قوم کے کچھ لوگوں کو لایا گیا جو بتوں کے پچاری بن گئے تھے، انہوں نے ان لوگوں کو نذر آتش کر دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2814

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا، راوی نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ یہ حکم طلاق و عتاق میں بھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں ، صرف بیع و شراء میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2815

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ قَالَ عَمْرٌو إِنَّمَا ذَاكَ فِي الْأَمْوَالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2816

حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو اس پرحج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2817

حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ و حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ أَيْضًا فَأَسْنَدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2818

حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَسْلَمَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ إِسْلَامِي فَنَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخِرِ وَرَدَّهَا عَلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی، اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اسلام قبول کر لیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا تھا) اور میری بیوی کو اس کا علم تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر دوسرے شوہر سے پہلے شوہر کی طرف واپس لوٹا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2819

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَكُونُ الْحَاجَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2820

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ كَذَبَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2821

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ أَوْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر تو مسح کیا ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں مسح کیا تھا، اب ان سے پوچھ لو، بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا تھا اور مجھے جنگل میں بھی موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ کسی اونٹ کی پشت پر مسح کر لوں ۔ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے ہے، ورنہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2822

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرَيَّةُ سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحَلَّ

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے، کہ انہوں نے احرام باندھا تھا ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2823

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ لِلشَّيَاطِينِ مَقَاعِدُ فِي السَّمَاءِ فَكَانُوا يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا تَجْرِي وَكَانَتْ الشَّيَاطِينُ لَا تُرْمَى قَالَ فَإِذَا سَمِعُوا الْوَحْيَ نَزَلُوا إِلَى الْأَرْضِ فَزَادُوا فِي الْكَلِمَةِ تِسْعًا فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الشَّيْطَانُ إِذَا قَعَدَ مَقْعَدَهُ جَاءَهُ شِهَابٌ فَلَمْ يُخْطِهِ حَتَّى يُحْرِقَهُ قَالَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ مَا هَذَا إِلَّا مِنْ حَدَثٍ حَدَثَ قَالَ فَبَثَّ جُنُودَهُ قَالَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى إِبْلِيسَ فَأَخْبَرُوهُ قَالَ فَقَالَ هُوَ الَّذِي حَدَثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گذشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہوجاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہوجاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہوگئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا اور ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی گذرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آکر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2824

حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلَالٌ فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَأَقْبَلَ بِهَا يَقْتَادُهَا عَلَى بَعِيرٍ حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكَ قَالَ رَاوِيَةُ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ قَالَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَهَا قَالَ لَا قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ وَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَقَالَ مَاذَا قُلْتَ لَهُ قَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا قَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ فَخَرَجَتْ فِي التُّرَابِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا یہ کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ شراب کا مشکیزہ آپ کے لئے ہدیہ لایا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے شراب کو حرام کر دیا ہے، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2825

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ وَكَانَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ وَكَانَ يَحْجُمُهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ وَنِصْفٌ فَشَفَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ فَجُعِلَ مُدًّا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی ہے، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھی نہ دیتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اسے ایک مد کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2826

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ سے) نکاح فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2827

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2828

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِيهِ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ وَأَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2829

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2830

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ اللَّيْلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو١٣رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دوفجر کی سنتیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2831

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گذرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچالے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص تمہیں سلام کرے، اس سے یہ مت کہا کرو کہ مسلمان نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2832

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ "کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " والی آیت کامصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2833

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَالَ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ الْآيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ایک یہودی کا گذر ہوا ، وہ کہنے لگا کہ اے ابو القاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھائے گا اور اس شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدردانی کرنے کا حق تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2834

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ عَلَى فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ عیہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آکر لے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2835

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَفَاةُ قَالَ هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمْ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ قَالَ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ يَكْتُبُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ وَغُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا عَنِّي فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی اور کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کر دو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں اور بعض کی رائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہائے افسوس! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2836

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَبَعْدَ مَا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اس وقت تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور خانہ کعبہ تو آپ کے سامنے ہوتا ہی تھا اور ہجرت کے بعد بھی سولہ مہینے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2837

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيَدْخُلُ عُمَرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آسکتا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2838

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو ، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2839

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ وَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یانہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2840

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ عَلَيْهِ نِصْفُ دِينَارٍ قَالَ وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے متصلا بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2841

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَجِّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال حج فرض ہے؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2842

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَقَالُوا كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا حَسَنٍ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَلَا تَرَى إِنِّي لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنُكَلِّمْهُ فَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ فِينَا بَيَّنَهُ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ وَأَوْصَى بِنَا فَقَالَ عَلِيٌّ إِنْ قَالَ الْأَمْرُ فِي غَيْرِنَا فَلَمْ يُعْطِنَاهُ النَّاسُ أَبَدًا وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَبَدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ابو الحسن! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الحمدللہ ٹھیک ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ بخدا! اس بیماری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جانبر نہ ہو سکیں گے) اور وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبد المطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں ، اس لئے آؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی درخواست کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2843

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ زَنَيْتُ لَعَلَّكَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِيَ مَا الزِّنَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لیے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا شاید تم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہوگی؟ یا بوسہ دے دیا ہوگا ؟ یا اسے دیکھا ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو در اصل یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اسے زنا کا مطلب ہی معلوم نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2844

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَتْ السَّنَةُ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَكَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ آخِرَ الْقِرَاءَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2845

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ قَالَ فَخَالَطُوهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اچھے طریقے سے، تو لوگوں نے یتیموں کا مال اپنے مال سے جدا کر لیا جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک آپہنچی کہ کھانا سڑنے لگا اور گوشت میں بدبو پیدا ہونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس صورت حال کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" اگر تم ان کو اپنے ساتھ شریک کر لو تو وہ تہمارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح کرنے والا ہے اور کون فساد کرنے والا؟ تب جا کر انہوں نے اپنے مال کے ساتھ ان کا مال شریک کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2846

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2847

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2848

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ النَّحْرِ وَعَلَيْنَا سَوَادٌ مِنْ اللَّيْلِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أَبَنِيَّ أَفِيضُوا وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں جبکہ رات کچھ باقی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے، پیارے بچو! تم روانہ ہو جاؤ لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2849

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں ) پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2850

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّرحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2851

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يُوصِيهِمْ أَنْ لَا يَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2852

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ تَزَوَّجَ فُلَانٌ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَبَيْنَ آكِلٍ وَتَارِكٍ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا تَقُولُونَ مَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَّ يَدَهُ لِيَأْكُلَ مِنْهُ فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ فَكُلُوا فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یزید بن اصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں آدمی کی شادی ہوئی اس نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر١٣عددگوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں، نہ ہی اسکا حکم دیتا ہوں اور نہ ممانعت کرتا ہوں ، پھر فرمایا دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو، چنانچہ حضرت فضل، خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور اس خاتون نے اسے کھا لیا اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2853

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَطِيَّةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ فَقَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ كَيْفَ نَقُولُ قَالَ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا

ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت قرآنی "فاذا نقر فی الناقور" کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں عیش وعشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعاء پڑھنی چاہیے؟ فرمایا یہ کہتے رہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل، علی اللہ توکلنا "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2854

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2855

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطاء فرما دیتے اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2856

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلُوا أَنْ يَشْتَرُوا جِيفَتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک بڑا آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی لاش بیچنے سے منع فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2857

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ اجْلِسْ فَإِنَّ الْقِدْرَ قَدْ نَضِجَتْ فَنَاوَلَتْهُ كَتِفًا فَأَكَلَ ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز والا وضو کیا تو کسی زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ تشریف رکھئے، ہنڈیا تیار ہوگئی، یہ کہہ کر انہوں نے شانے کا گوشت پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور ہاتھ پونچھ کر نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2858

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بری مثال ہمارے لیے نہیں ہے، جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2859

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَامَ فَصَلَّى فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا مَا نَهَضَ مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا ، میں نے اسے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح نہیں ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2860

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ السُّلَمِيُّ خُرَاسَانِيٌّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے کہ جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہت دے دے یا اسے معاف کر دے تو اللہ اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرما دے گا، یاد رکھو! جنت کے اعمال ٹیلے کی طرح سخت ہیں اور جہنم کے اعمال نرم کمان کی طرح آسان ہیں، خوش نصیب ہے وہ آدمی جو فتنوں سے محفوظ ہو اور انسان غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے ، مجھے اس سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لئے غصہ کا گھونٹ پی جاتا ہے، اللہ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2861

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ لِمَنْ كَانَتْ هَذِهِ الشَّاةُ فَقَالُوا لِمَيْمُونَةَ قَالَ أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس کی بکری ہے؟ لوگوں نے بتایا حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2862

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَرْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي فَضَاءٍ مِنْ الْأَرْضِ فَنَزَلْنَا وَدَخَلْنَا مَعَهُ فَمَا قَالَ لَنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گذر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2863

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2864

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیز روشن ہوگئی تو وہاں سے گذر گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2865

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ قَالَ أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ قَالَ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ قَالَ هَاشِمٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ قَالَ هَاشِمٌ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ

ابو البختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ " ذات عرق " میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ اللہ نے چاند کی رویت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو٣٠ دن کی گنتی پوری کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2866

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ مَنْ وَضَعَ ذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء آئے، میں نے پیچھے سے وضو کا پانی رکھ دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو پوچھا کہ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟ بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اسے فقیہ بنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2867

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2868

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ قَالَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَى الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2869

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2870

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ يَعْنِي الشَّاةَ فَقَالَ فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا فَقَالَتْ نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ إِنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا فَدَبَغَتْهُ فَأَخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم فلاں بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ رکھ لی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ایک مرداربکری کی کھال رکھتی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ اے نبی آپ فرما دیجئے کہ میرے پاس جو وحی بھیجی جاتی ہے، میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو، اب اگر تم اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا لو تو تم اسے کھاؤ گے تو نہیں ؟ چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کسی کو بھیج کر اس کی کھال اتروا لی اور اسے دباغت دے کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پھٹ گیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2871

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ قَالَ فَرَجَمَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا تمہارے بارے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2872

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں میری خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2873

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ وَأَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2874

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں (سماک کہتے ہیں کہ صفر انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے) ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے ( اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2875

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2876

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَشَى مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو مجتمع ہو کر چلتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال میں کسی قسم کی کسلمندی یا سستی نہیں ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2877

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2878

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارا بہترین سرمہ" اثمد " ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2879

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ قَالَ لَا حَرَجَ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2880

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے) یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2881

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ بَعْدَ مَا زَالَتْ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال آفتاب کے بعد جمرات کی رمی کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2882

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2883

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهْدَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا قَالَ فَدَعَا بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ فَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھانے کی اجازت دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2884

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِي سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا قَالَ وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أَخِي إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فلاں (فضل) سوار تھا، وہ نوجوان، عورتوں کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کا چہرہ پیچھے کی طرف کئی مرتبہ پھیرا لیکن وہ پھر بھی کن اکھیوں سے انہیں دیکھتا رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھتیجے! آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2885

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن اپنے خیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا الہی اپنا وعدہ پورا فرما، الہی اگر (آج یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو) زمین میں پھر کبھی بھی آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔ یہ دیکھ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے رب سے بہت دعاء کرلی، وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی، عنقریب اس جمعیت کو شکست ہو جائے گی اور یہ لوگ پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2886

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي وَيَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الرَّحِمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2887

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَبُو جَهْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَنَهَاهُ فَتَهَدَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتُهَدِّدُنِي أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَكْثَرُ أَهْلِ الْوَادِي نَادِيًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے کہ اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے " زبانیہ" پکڑ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2888

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَفَعَهُ قَالَ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا حِدَّةً وَشِدَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یا حدت کا اضافہ ہی کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2889

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2890

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جو آپ کے اہل خانہ نے پھینک دی تھی، تو فرمایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت اس بکری سے بھی کم ہے جو اس کے مالکوں کے نزدیک اس کی اہمیت ہوسکتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2891

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْضِ عَنْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2892

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْ أَبِيكِ

حضرت فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کافریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہوجائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اپنے والد کی طرف سے تم حج کر سکتی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2893

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2894

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ قَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ مردہ ہے، فرمایا اس کاصرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2895

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران سفر) حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2896

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ أَنْ تَشْتَرِطَ فِي إِحْرَامِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ کو حکم دیا کہ اپنے احرام میں شرط لگا لے ۔ فائدہ : وضاحت کے لئے حدیث نمبر٣١١٧دیکھئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2897

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ فَقَالَ دُلُّونِي عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ قَالُوا وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا أَبَا عَبَّاسٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ لَأَعَضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَّنَّهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَكُّ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِيَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ أَدْرَكَ مُحَمَّدٌ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ

محمد بن عبید مکی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے عرض کیا ہمارے یہاں آج کل ایک آدمی آیا ہوا ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے، انہوں نے فرمایا مجھے اس کا پتہ تھا، اس وقت تک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بینائی جا چکی تھی، لوگوں نے پوچھا کہ اے ابو العباس! آپ اس کا کیا کریں گے؟ فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر مجھے اس پر قدرت مل گئی تو میں اس کی ناک کاٹ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو اسے توڑ دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں اس وقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جب بنو فہر کی مشرک عورتیں خزرج کے لوگوں سے طواف کریں گی اور ان کی سرین حرکت کرتے ہوں گے، یہ اس امت میں شرک کا آغاز ہوگا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان لوگوں تک ان کی رائے کی برائی پہنچ کر رہے گی یہاں تک کہ اللہ انہیں اس کیفیت سے نکال دے گا جس میں وہ خیر کا فیصلہ کرتا ہے جیسے انہیں اس کیفیت سے نکالا تھا جس میں وہ شرک کا فیصلہ کرتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2898

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کو کوئی زخم لگ گیا، اتفاق سے اسے " خواب " بھی آگیا، لوگوں نے اسے غسل کرنے کا حکم دے دیا، جس کی وجہ سے وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے، کیا جہالت کا علاج " پوچھنا " نہ تھا؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2899

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ مَا مِنْ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَضَحِكَ إِلَيْهِ كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ اللہ اکبر، تین مرتبہ الحمدللہ، تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لاالہ الا اللہ کہا، پھر چت لیٹ گئے اور ہنسنے لگے، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا جو شخص بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر اسی طرح کرے جیسے میں نے کیا تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی طرف اسی طرح مسکرا کر دیکھتا ہے جیسے میں نے تمہیں مسکرا کر دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2900

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ قَالَ سُئِلَ الزُّهْرِيُّ هَلْ فِي الْجُمُعَةِ غُسْلٌ وَاجِبٌ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ و قَالَ طَاوُسٌ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَأَصِيبُوا مِنْ الطِّيبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی شخص نے پوچھا کیا جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے؟ انہوں نے اپنی سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر لے اور طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور اپنا سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2901

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ هَذَا الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنْ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2902

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ كُرَيْبًا أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِي مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ قَالَ فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے آخری حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور مجھے اپنے برابر کر لیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پھر پیچھے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا بات ہے بھئی! میں تمہیں اپنے برابر کرتا ہوں اور تم پیچھے ہٹ جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا کسی آدمی کے لئے آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مناسب ہے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو بہت کچھ مقام و مرتبہ دے رکھا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور میرے لیے علم و فہم میں اضافے کی دعاء فرمائی، اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خر اٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2903

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى قَالَ فَابْتَدَءُوا فَتَحَدَّثُوا فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا قَالَ فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ أُفْ وَتُفْ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنْ اسْتَشْرَفَ قَالَ أَيْنَ عَلِيٌّ قَالُوا هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ قَالَ فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ قَالَ وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ فَأَبَوْا فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَأَبَوْا قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ قَالَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا قَالَ وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدْ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ قَالَ وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَخْرُجُ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ لَا فَبَكَى عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي قَالَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي وَقَالَ سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ فَقَالَ فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ قَالَ وَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ قَالَ وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ حِينَ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ أَوَكُنْتَ فَاعِلًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نو آدمیوں پر مشتمل لوگوں کا ایک وفد آیا تھا اور کہنے لگا کہ اے ابو العباس! یا تو آپ ہمارے ساتھ چلیں یا یہ لوگ ہمارے لیے خلوت کر دیں، ہم آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ہی آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں ، یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ ان لوگوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور بات چیت کرتے رہے لیکن ہمیں کچھ نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کہا؟ تھوڑی دیر بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے اف، تف، یہ لوگ ایک ایسے آدمی میں عیب نکال رہے ہیں ، جسے دس خوبیاں اور خصوصیات حاصل تھیں، یہ لوگ ایک ایسے آدمی کی عزت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب میں ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جسے اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا ، جھانک کر دیکھنے والے اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے جھانکنے لگے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آٹا کیوں نہیں پیستا؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہیں آشوب چشم کا عارضہ لاحق تھا، گویا انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور تین مرتبہ جھنڈا ہلا کر ان کے حوالے کر دیا اور وہ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی کو لانے کا سبب بن گئے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت توبہ کا اعلان کرنے کے لئے مکہ مکرمہ روانہ فرمایا، بعد میں ان کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی روانہ کر دیا، انہوں نے اس خدمت کی ذمہ داری سنبھال لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پیغام ایسا تھا جسے کوئی ایسا شخص ہی پہنچا سکتا تھا جس کا مجھ سے قریبی رشتہ داری کا تعلق ہو اور میراس سے تعلق ہو۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے فرمایا دنیا و آخرت میں تم میں سے کون میرے ساتھ موالات کرتا ہے، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، باقی سب نے انکار کر دیا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں آپ کے ساتھ دنیا و آخرت کی موالات قائم کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان میں سے ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوئے اور یہی صورت دوبارہ پیش آئی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد تمام لوگوں میں سب سے پہلے قبول اسلام کا اعزاز بچوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا لے کر حضرت علی، حضرت فاطمہ، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم پر ڈالا اور فرمایا اے اہل بیت! اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں خوب پاک کرنا چاہتا ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا آپ بیچ دیا تھا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس شب ہجرت زیب تن کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ سو گئے، مشرکین اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے اے اللہ کے نبی! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منہ کھول کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیر میمون کی طرف گئے ہیں، آپ انہیں وہاں جا کر ملیں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی تھی اور وہ تکلیف میں تھے، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا ، صبح تک انہوں نے سر باہر نہیں نکالا، جب انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا تو قریش کے لوگ کہنے لگے تم تو بڑے کمینے ہو، ہم تمہارے ساتھی پر تیربرسا رہے تھے اور ان کی جگہ تمہیں نقصان پہنچ رہا تھا اور ہمیں یہ بات اوپری محسوس ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر غزوہ تبوک کے لئے نکلے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا؟ فرمایا نہیں، اس پر وہ رو پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو اور میرے لیے جانا مناسب نہیں ہے الا یہ کہ تم میرے نائب بن جاؤ، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد ہر مومن کے بارے میں میرے دوست ہو، نیز مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے، چنانچہ وہ مسجد میں حالت جنابت میں بھی داخل ہوجاتے تھے کیونکہ ان کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہ تھا۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کا مولی ہے، نیز اللہ نے ہمیں قرآن کریم میں بتایا ہے کہ وہ ان سے راضی ہوچکا ہے یعنی اصحاب الشجرہ سے (بیعت رضوان کرنے والوں سے) اور ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ سب جانتا ہے، کیا بعد میں کبھی اللہ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ ان سے ناراض ہوگیا ہے، نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے متعلق عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجئے، میں اس کی گردن اڑا دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم واقعی ایسا کر سکتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو مرضی عمل کرتے رہو (میں نے تمہیں معاف کر دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اہل بدر میں سے تھے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2904

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ كَانَ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجْلِسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ قَالَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْخَوَاتِيمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی، آیت بیعت کی تلاوت کی اور فراغت کے بعد ان سے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتی ہو؟ تو ان میں سے ایک عورت جس کا نام راوی کو یاد نہیں رہا اور جس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا تھا، کہنے لگی جی ہاں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ نکالنے کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا بچھا لیا تھا اور کہتے جارہے تھے کہ صدقات نکالو تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2905

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حاضر رہا ہوں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو وہ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2906

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَمْ يَكُنْ يُجَاوِزُ بِهِ طَاوُسًا فَقَالَ بَلَى هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ثُمَّ سَمِعَهُ يَذْكُرُهُ بَعْدُ وَلَا يَذْكُرُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ بَيْتُهُ مِنْ دُونِ الْمِيقَاتِ فَإِنَّهُ يُهِلُّ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ أَحْرَمْتُ مِنْ يَلَمْلَمَ حِينَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موصولا اور منقطعا دونوں طرح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، حتی کہ اہل مکہ کا حرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2907

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنْ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے، چیونٹی، شہد کی مکھی ، ہدہد اور لٹورا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2908

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَهْوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ لِيَأْكُلَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌّ فَأَمْسَكَ يَدَهُ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی دو عدد گوہ پیش کی گئیں، اس وقت وہاں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کھانے کے لیے ہاتھ بڑھانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کسی نے بتا دیا کہ یہ گوہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا نہیں، لیکن چونکہ یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے میں اس سے بچنا ہی بہتر سمجھتا ہوں، چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھا لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2909

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2910

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2911

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا يَعْنِي وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو العباس! میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ یہ آیت پڑھ کر رونے لگے، انہوں نے پوچھا کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا " ان تبدوا مافی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ " حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شدید غم و پریشانی کی کفییت طاری ہوگئی اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہماری باتوں اور ہمارے اعمال پر مواخذہ ہو تو ہم ہلاک ہوجاتے ہیں، ہمارے دل تو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہی کہو کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حکم نبوی کی تعمیل میں کہنے لگے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، بعد میں یہ حکم اگلی آیت " لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا " نے منسوخ کر دیا اور دل میں آنے والے وسوسوں سے در گذر کر لی گئی اور صرف اعمال پر مواخذہ کا دار و مدار قرار دے دیا گیا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھاخواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2912

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَالْأَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ فَقَالَتْ إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ فَجَرُّوا ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے لوگ ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ یہ بتائیے، ہم میں سے اس مقام ابراہیم والے کے مشابہہ سب سے زیادہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ تم اس زمین پر ایک چادر بچھاؤ اور اس پر چلو تو میں تمہیں بتاؤں؟ چنانچہ انہوں نے اس پر چادر بچھائی اور اس پر سے چل کر گئے، اس کاہنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم کو غور سے دیکھا اور کہنے لگی کہ یہ تم میں سے سب سے زیادہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہہ ہے، اس واقعے کے بیس یا بیس سال کے قریب گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2913

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کوایک ایک مرتبہ دھویا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2914

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ فَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْتَلِمَ إِلَّا الْحَجَرَ وَالْيَمَانِيَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گذرتے، اس کا استلام کرتے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2915

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2916

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَنْ بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَصَهُ أَوْ أَقْصَعَهُ شَكَّ أَيُّوبُ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبِهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَنْ بَعِيرٍ نَادٍّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوُقِصَ وَقْصًا ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَيُّوبَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے؟ فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2917

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ أَجْرُهُ مُدًّا وَنِصْفًا فَكَلَّمَ أَهْلَهُ حَتَّى وَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لئے گاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے اسے اس کی اجرت دی تھی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2918

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَفْطَسِ قَالَ سَمِعْتُ وَهْبًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ قَالَ لِي مَعْمَرٌ اذْهَبْ فَاسْأَلْهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " عدن" سے بارہ ہزار آدمی اللہ اور اس کے رسول کی مدد کے لئے نکلیں گے، یہ لوگ میرے اور ان کے درمیان تمام لوگوں سے بہتر ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2919

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطَ الْمَخْرَفِ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْمِخْرَافِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2920

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ فَصَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْفَجْرِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ قَالَ وَقَالَ فِي الْعِشَاءِ صَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے قریب ایک مرتبہ میری امامت کی، چنانچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہوگیا اور ایک تسمہ کے برابر وقت گذر گیا، عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور عشاء کی نماز غروب شفق کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، عشاء کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی اور فجر کی نماز خوب روشنی کر کے پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا وقت رہا ہے، نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2921

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مَانُوسَ الْعَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔ اس سند سے ایک اور حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2922

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا اس نے) سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (ڈیڑھ مد گندم بطور) اجرت کے عطاء فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2923

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2924

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2925

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِطَلْقَتَيْنِ ثُمَّ عَتَقَا أَيَتَزَوَّجُهَا قَالَ نَعَمْ قِيلَ عَمَّنْ قَالَ أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ مَنْ أَبُو حَسَنٍ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً

ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کر سکتا ہے، اس نے پوچھا کہ یہ بات آپ کس کی طرف سے نقل کر رہے ہیں ؟ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فتوی دیا ہے۔ عبداللہ اپنے والد امام احمد سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے معمر سے پوچھا اے ابو عروہ! یہ ابو الحسن کون ہے؟ اس نے تو بہت بڑی چٹان اٹھائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2926

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنْ الْمَدِينَةِ مَعَهُ عَشْرَةُ آلَافٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ فَسَارَ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ وَهُوَ مَا بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ فَلَمْ يَصُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا مہینہ تھا، ہمراہی میں دس ہزار مسلمان تھے اور مدینہ منورہ آئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساڑھے آٹھ سال گذر چکے تھے، روانگی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2927

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُحَدِّثُ النَّاسَ فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ يُقَبِّلُهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَوْتَتَيْنِ لَقَدْ مِتَّ الْمَوْتَةَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے بول رہے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے اس کمرے میں پہنچے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا، یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مقدسہ میں، وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے، پھر فرمایا اللہ کی قسم اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کریں گا، آپ پر ایسی موت طاری ہوئی ہے جس کے بعد آپ پر کبھی موت نہ آئے گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2928

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ لَمْ يَكُنْ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ظہر اور عصر میں قراءت نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے اور تمہارے لیے پیغمبر خدا کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2929

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں داخل ہو کر اس کے کونوں میں اللہ کی کبریائی کا ترانہ بلند کیا اور باہر نکل آئے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2930

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2931

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ نَبِيذَ الْبُسْرِ وَحْدَهُ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الْقَيْسِ عَنْ الْمُزَّاءِ فَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ

عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد القیس کے وفد کو " مزاء " منع کیا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2932

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ قَالَ عَفَّانُ بِ الم تَنْزِيلُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2933

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السَّمِيطِ قَالَ قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2934

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ بِأَبِي فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ فَقَالَ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جو شخص اپنے دو کم سن بچے ذخیرے کے طور پر آگے بھیج چکا ہوگا ، وہ جنت میں داخل ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میرے والد آپ پر قربان ہوں، یہ بتائیے کہ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا اے توفیق دی ہوئی عورت! اس کا بھی یہی حکم ہے، انہوں نے پھر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت میں سے اگر کسی کا کوئی ذخیرہ ہی نہ ہو تو ؟ فرمایا پھر میں اپنی امت کا ذخیرہ ہوں گا اور انہیں مجھ جیسا کوئی نہیں ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2935

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَ أَبُو سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2936

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنِي حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ وَإِذَا خَفَضَ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا، اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا ، میں نے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2937

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2938

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلَيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةَ غَضَبٍ فَقَالَ لَهَا مَا يُدْرِيكِ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي قَالَ عَفَّانُ وَلَا بِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ وَكَانَ مِنْ خِيَارِهِمْ حَتَّى مَاتَتْ رُقَيَّةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ وَبَكَتْ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ دَعْهُنَّ يَبْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْمَا يَكُنْ مِنْ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ فَمِنْ اللَّهِ وَالرَّحْمَةِ وَمَهْمَا كَانَ مِنْ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنْ الشَّيْطَانِ وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے، (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جا ملو (جس سے ان کاجنتی ہونا ثابت ہوگیا) اس پر عورتیں رونے لگیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا عمر! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پہلو میں روتی رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم شفقت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھیں اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2939

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الْغِلْمَانِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا فَقُلْتُ مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ قَالَ فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي فَأَخَذَ بِقَفَايَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً فَقَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ وَكَانَ كَاتِبَهُ فَسَعَيْتُ فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ فَقُلْتُ أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا ، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، مجھ پتہ ہی نہیں چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے گدی سے پکڑ کر پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2940

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّا مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور واپس جاتے ہوئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان عورتوں کے پاس جا کر انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2941

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ قَالَ وَكَانَتْ حُبْلَى فَقَالَ وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا وَالْعَفْرُ أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنْ السَّقْيِ بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ قَالَ وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا قَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فِيهِ عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ خَدْلَ السَّاقَيْنِ وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ خَدْلٌ وَقَالَ بَعْدَ الْإِبَارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس وقت اس کی بیوی امید سے تھی، عجلانی نے کہا کہ بخدا! درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اس کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور عراس کے بال سفید مائل بہ سرخی تھے، اس عورت کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا گیا تھا، اور اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا اور اس کے بازو بھرے ہوئے تھے، ابن شداد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی پر حد رجم جاری کرتا، تو اس عورت پر کرتا؟ فرمایا نہیں وہ تو وہ عورت تھی جن سے زمانہ اسلام میں لعان کیا تھا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2942

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرٍو حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عُضْوًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2943

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ بَنَى بِهَا بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ فَلَمَّا قَضَى نُسُكَهُ أَعْرَسَ بِهَا بِذَلِكَ الْمَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2944

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا وَعَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا قَالَ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ کچی اور پکی کھجور یا کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں اور اس نوعیت کا ایک خط اہل جرش کی طرف بھی لکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2945

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا وَعَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا قَالَ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوسکے گے، اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی اور کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کردو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں اور بعض کی رائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہائے افسوس! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2946

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ يَوْمَ نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَوْلَى بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ فَصَامَهُ وَأَمَر بِصِيَامِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت موسی کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2947

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے حج میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2948

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ سُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَوْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَسَلِ وَاللَّبَنِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا وَعَسَلًا فَقَالَ اسْقُونِي مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ قَالَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِعِسَاسٍ فِيهَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا عَلَيْنَا لَبَنًا وَعَسَلًا

مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آکر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کس سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا پانی پلاؤ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہوگئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2949

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهَا وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ وَوَجَدَ خُفَّيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2950

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2951

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُخْبِرَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ قَالَ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي قَالَ فَأَدْرَكَتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم احرام باندھتے وقت شرط لگالو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2952

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ أُرَهُ يَعْنِي الْيَهُودَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2953

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ جب میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکوں تو کتنی رکعتیں پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں کیونکہ یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2954

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَجْنَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ فَاغْتَسَلَتْ مَيْمُونَةُ فِي جَفْنَةٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَتْ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ أَوْ قَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يَنْجُسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا پر غسل واجب تھا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ٹب کے پانی سے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا چاہا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس سے تو میں نے غسل کیا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2955

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أُرَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا يَقُولُ عُرَيَّةُ قَالَ يَقُولُ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُرَاهُمْ سَيَهْلِكُونَ أَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے، عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے کہ حضرات شیخین تو اس سے منع کرتے رہے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا عروہ کیا کہہ رہے؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں حضرات شیخین نے تو اس سے منع فرمایا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا لگتا ہے کہ یہ لوگ ہلاک ہو کر رہیں گے، میں کہہ رہا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے منع کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2956

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ بِهِ عَلَيَّ قُرْآنٌ أَوْ وَحْيٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2957

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2958

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ إِذْ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّرِيَّةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد" اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی " حضرت عبداللہ بن حذافہ قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے بارے نازل ہوا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایک سرئیے میں روانہ فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2959

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، در حقیقت وہ محکمات ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2960

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَامَ وَقَعَدَ

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2961

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ قَالَ فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَقَالُوا أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لَيْسَتْ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا فَقَالَ لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب اہل بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تو ان کی موجودگی میں مجھے بھی شریک ہونے کی اجازت دے دیتے، بعض اصحاب بدر کہنے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو تو ہمارے ساتھ شریک ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے بھی ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا یہ سمجھدار ہے ۔ ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اصحاب بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی اور ان سے سورت نصر کے متعلق دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں فتح یابی ہو تو وہ استغفار اور توبہ کریں، پھر انہوں نے مجھ سے کہ اے ابن عباس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے رائے یہ نہیں ہے، دراصل اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موت کا وقت قریب آجانے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدد آجائے اور مکہ مکرمہ فتح ہو جائے اور آپ لوگوں کو دین خداوندی میں فوج در فوج شامل ہوتے ہوئے دیکھ لیں تو یہ آپ کے وصال کی علامت ہے، اس لئے آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب تم نے دیکھ لیا، پھر تم مجھے کس طرح ملامت کر سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2962

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَأَنْ يُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يَحِلَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، سفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2963

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ قَالَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا مشروب سب سے عمدہ ہے؟ فرمایا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2964

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو١٣رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2965

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِي فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا ، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، میں نے واپس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2966

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهْدَى الصَّعْبُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّةَ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ قَالَ بَهْزٌ عَجُزَ حِمَارٍ أَوْ قَالَ رِجْلَ حِمَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2967

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالَ فَتَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میرا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ گذر ہوا ، دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں ، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہوگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2968

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا خَلْفَهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ

امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ الگ تھلگ قبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گذرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ بڑھائی اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہوگئے، میں نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے اس صحابی کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2969

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کر دینا زیادہ بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2970

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ الْحَجَرِ وَعِنْدَهُ مِحْجَنٌ يَضْرِبُ بِهِ الْحَجَرَ وَيُقَبِّلُهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً قُطِرَتْ مِنْ الزَّقُّومِ فِي الْأَرْضِ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ هُوَ طَعَامُهُ وَلَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے " اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر " فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکایا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہوگا اس کا کیا بنے گا۔ فائدہ : زقوم جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2971

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ رَكِبَتْ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنْ الزَّقُّومِ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روزے رکھ لو۔ حدیث نمبر (2970) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2972

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا عَمَلٌ أَفْضَلَ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ قَالَ فَقِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ فرمایا ہاں ! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2973

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَكَبَّرَ فِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادیئ بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2974

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2975

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَالْجَلَّالَةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَأَنْ يَشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2976

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2977

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2978

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2979

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2980

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ قَالَ يَزِيدُ رَبُّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2981

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ قَالَ هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ثُمَّ مِنْ حَيْثُ بَدَأَ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ أَهْلُ مَكَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2982

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأُتِيَ بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کردیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2983

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2984

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّاجٌ لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنْ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں.

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2985

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِهِ يَعْنِي هَكَذَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ ذَاكَ الْإِخْلَاصُ

ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو تمیم کے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آدمی کے انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا(یعنی نماز میں) انہوں نے فرمایا یہ توحید کی گواہی دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2986

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ فِيهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں ان پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2987

وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

اور میں نے دوران سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2988

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ قَالَ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا وَلَمْ يَشُكَّ بَهْزٌ قَالَ يَوْمَ فِطْرٍ وَقَالَ صِخَابَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی یا عید الفطر " غالب گمان کے مطابق عید الفطرکے دن نکل کر دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ بعد میں ، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2989

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فِي فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت فرعون غرق ہو رہا تھا ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس اندیشے سے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنا شروع کر دی کہ وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لے ( اور اپنے سیاہ کار ناموں کی سزا سے بچ جائے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2990

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ مِثْلَهُ قَالَ أَيْ شُعْبَةُ قُلْتَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2991

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَعَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ

ابو الحکم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ، دباء اور حنتم کے متعلق سوال کیا تو فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نبیذ کو حرام سمجھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2992

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ٢٩ کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2993

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُشَاشٍ قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صِبْيَانَ بَنِي هَاشِمٍ وَضَعَفَتَهُمْ أَنْ يَتَحَمَّلُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی روانا ہونے کا حکم دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2994

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُخَوَّلٍ قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2995

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِالشَّيْءِ لَأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَقْدِرْ مِنْكُمْ إِلَّا عَلَى الْوَسْوَسَةِ وَقَالَ الْآخَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں انہیں زبان پر لانے سے بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ آسمان سے گر پڑوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنی تدبیر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2996

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ حِينَ فَتَحَ مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِعُسٍّ مِنْ شَرَابٍ أَوْ إِنَاءٍ فَشَرِبَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا اس لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یانہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2997

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنْ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھاناحرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2998

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا الْيَهُودُ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَنْتُمْ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ فَصُومُوهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا تم پر موسی کا ان سے زیادہ حق بنتا ہے، لہذا تم بھی روزہ رکھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 2999

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ إِذْ خَلَقَهُمْ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، جس نے انہیں پیدا کیا ہے، کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3000

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3001

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُهَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ عَفَّانُ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنِيهِ الْحَكَمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُهَيْبٍ قُلْتُ مَنْ صُهَيْبٌ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ وہ اور بنو ہاشم کا ایک غلام گدھے پر سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گذرا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز نہیں توڑی، اسی طرح ایک مرتبہ، بنو عبد المطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہٹا دیا اور برابر نماز پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3002

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ بَهْزٌ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَجُزَ حِمَارٍ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطُرُ دَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3003

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَامُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسًا ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا بچہ سو رہا ہے؟ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3004

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقَالَ نَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا بچہ سو رہا ہے؟ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3005

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3006

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3007

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يُوزَنُ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَ

ابوالبختری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کے درختوں کی بیع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں سے خود چکھ لے یا کسی دوسرے کوچکھادے اور یہاں تک کہ اس کا وزن کرلیا جائے، میں نے پوچھاوزن سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا جس کے پاس کھجوریں ، وہ وزن کرے تاکہ انہیں الگ کرکے جمع کرسکے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3008

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَجَعَلَ جَدْيٌ يُرِيدُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ قَالَ حَجَّاجٌ يَتَّقِيهِ وَيَتَأَخَّرُ حَتَّى يُرَى وَرَاءَ الْجَدْيِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گذرنے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے نہیں گذرنے دیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3009

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ أَنَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ الْغُلَامُ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ شَيْئًا نَحْوَ هَذَا قَالَ ثُمَّ نَامَ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ قَالَ لَا أَحْفَظُ وُضُوءَهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ قَالَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا بچہ سو رہا ہے؟ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3010

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يَغْزُو مَكَّةَ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَهُ قَالَ ثُمَّ أَفْطَرَ أَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مَكَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے حوالے سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب قدید، نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا ایک گلاس منگوایا اور اسے نوش فرما لیا اور لوگوں نے بھی روزہ ختم کر لیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3011

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جوقئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3012

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جوقئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3013

حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام آدَمَ طُوَالًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ جَعْدًا وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبے قد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3014

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ الرَّيَاحِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَقَالَ عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہترہوں ، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبے قد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ وسفید اور گھنگریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3015

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَعَّبَتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ

ابو حسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو العباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3016

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ بُجَيْلٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفَتْوَى الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ النَّاسَ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ قَالَ شُعْبَةُ أَنَا أَقُولُ شَغَبَتْ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ هِيَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ

ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے ابو العباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرلے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3017

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ فَتَرَكْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ الصَّفِّ فَدَخَلْتُ فِي الصَّلَاةِ وَقَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ قَالَ وَقَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان منی میں نماز پڑھا رہے تھے، میں ایک گدھی پر سوا ہو کر آیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا اور اس وقت میں قریب البلوغ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3018

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3019

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ اعْتَزَلُوا فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ صَالَحَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ اكْتُبْ يَا عَلِيُّ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْحُ يَا عَلِيُّ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ امْحُ يَا عَلِيُّ وَاكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ وَقَدْ مَحَا نَفْسَهُ وَلَمْ يَكُنْ مَحْوُهُ ذَلِكَ يُمْحَاهُ مِنْ النُّبُوَّةِ أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ قَالُوا نَعَمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب " حروریہ " فرقے نے خروج کیا تو وہ سب سے کٹ گئے، میں نے ان سے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین سے صلح کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا علی! لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے، جس کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے، مشرکین قریش کہنے لگے کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول سمجھتے تو کبھی آپ سے قتال نہ کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا علی! اسے مٹا دو، اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں ، علی! اسے مٹا دو اور یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے کیا ہے۔ میں نے خوارج سے کہا بخدا! اللہ کے رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے اور انہوں نے اپنا نام مٹا دیا تھا لیکن تحریر سے اسے مٹا دینے کی وجہ سے وہ نبوت سے ہی نہیں چلے گئے تھے، کیا میں اس سے نکل آیا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3020

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ ادَّعَى نَاسٌ مِنْ النَّاسِ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3021

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاجب وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3022

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسْطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسْطِهَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ مِنْ جَوَانِبِهَا أَوْ مِنْ حَافَتَيْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو ، درمیان سے نہ کھایا کرو ، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3023

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنْ التَّنْزِيلِ شِدَّةً فَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُ شَفَتَيَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ وَقَالَ لِي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُ كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ نَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی " لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ " کی تفسیر میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے وقت کچھ سختی محسوس کرتے تھے اور وحی کو محفوظ کرنے کے خیال سے اپنے ہونٹوں کو ہلاتے رہتے تھے، یہ کہہ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ میں تمہیں اس طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے، پھر ان کی نقل کی ان کے شاگرد سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگرد کے سامنے کی، بہرحال! اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی مت حرکت دیا کریں، اس قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبانی اسے پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ رہے ہوں تو آپ خاموش رہ کر اسے توجہ سے سنئے، پھر اس کی وضاحت بھی ہمارے ذمہ ہے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے واپس چلے جانے کے بعد اسی طرح پڑھ کر سنا دیا کرتے تھے جیسے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھایا ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3024

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتِنَا لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أَبَنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبد المطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3025

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَدْيًا سَقَطَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گذرنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز نہیں توڑی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3026

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّأْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْتَقِبُهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ قَالَ فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعْرِي وَبَشَرِي قَالَ وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آکر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سوگئے، پھر کچھ رات گذرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعاء کرنے لگے کہ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں ، میرے بائیں ، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3027

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجرم لے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3028

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ كَانَ شُعْبَةُ يَتَفَقَّدُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فَقَالَ يَوْمًا مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْغُلَامُ الْجَمِيلُ يَعْنِي شَبَابَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3029

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3030

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3031

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کا خط پڑھا اور اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں یہ کہا۔ آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں ! ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے) اور تمہارے لیے ممکن نہیں ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3032

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَقِيلَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ السُّورَةَ كُلَّهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ اس سورت میں ان کے وصال کی خبر دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3033

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3034

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ وَقَالَ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3035

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ وَالطِّيبُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَاكَ أَمْ لَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو تو عورت کے علاوہ ہر چیز تمہارے لیے حلال ہو جائے گی، ایک آدمی نے پوچھا کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3036

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لئے مقام عقیق کو میقات قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3037

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَأَشْعَرَ هَدْيَهُ فِي شِقِّ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اسکے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3038

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ الْفَرَاغُ وَالصِّحَّةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3039

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ تَرَاءَيْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ

ابو البختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ذات عرق میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چاند دیکھنے تک طویل کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3040

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ صَائِمًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا أَفْطَرَ فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روزہ رکھ کر نکلے جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور مکہ مکرمہ پہنچنے تک روزہ نہیں رکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3041

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ تَمَارَوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے حوالے سے شک پیدا ہوا تو حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا ( اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شک دور ہوگیا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3042

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ قَالَ وَكِيعٌ بِالْقَاحُوحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ نے " قاحہ " نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3043

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ سَمِعَهُ مِنَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ أَيُّ يَوْمٍ أَصُومُهُ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَأَصْبِحْ مِنْ التَّاسِعَةِ صَائِمًا قَالَ قُلْتُ أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ نَعَمْ

حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا ہاں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3044

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3045

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْكُلُوا الطَّعَامَ مِنْ فَوْقِهِ وَكُلُوا مِنْ جَوَانِبِهِ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ فَوْقِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو ، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3046

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3047

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَهَى أَنْ يُتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3048

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بھائی کو اٹھا لیا اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور ایک کو اپنے آگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3049

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارٍ يَقْطُرُ دَمًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، جس میں سے خون ٹپک رہا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3050

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ سَمِعْتُ مِنْهُ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ الضَّبُّ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُحِلَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ فَقَالَ بِئْسَ مَا تَقُولُونَ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَمَعَهَا طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا اغْتَبَقَ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فِيهِ لَحْمَ ضَبٍّ فَكَفَّ يَدَهُ فَأَكَلَهُ مَنْ عِنْدَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ وَقَالَ لَيْسَ بِأَرْضِنَا وَنَحْنُ نَعَافُهُ

یزید بن اصم کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے گوہ کا تذکرہ ہوا تو ان کی مجلس میں شریک ایک آدمی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حلال قرار دیا اور نہ ہی حرام، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں ۔ پھر فرمایا دراصل ایک مرتبہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں ام حفید رضی اللہ عنہا اپنی بہن حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے آئی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ کھانا بھی تھا جس میں گوہ کا گوشت تھا، شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے کھایا، اگر یہ حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ انہیں منع فرما دیتے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے ہم اس سے بچتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3051

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ضَمَّ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَخِنْصَرِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3052

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3053

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا قَالَ وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3054

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُصْبِحْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبَةً فَإِنْ أَصْبَحَتْ ذَهَبَةً اتَّبَعْنَاكَ وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ كَمَا قُلْتَ فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَتْ لَهُمْ هَذِهِ الصَّفَا ذَهَبَةً فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْنَا لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ قَالَ يَا رَبِّ لَا بَلْ افْتَحْ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3055

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَقَدْ مَاتَتْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3056

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَبَدَءُوا بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما، کے ساتھ موجود رہا ہوں ، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان وقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3057

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنْ الصِّغَرِ فَأَتَى دَارَ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ قَالَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً

عبدالرحمن بن عابس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3058

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3059

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ الْأَيَّامِ أَيَّامٌ الْعَمَلُ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا ہاں ! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3060

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ قَالَ بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے مجھے کچھ سامان کے ساتھ سحری کے وقت ہی بھیج دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3061

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ رَأْسِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3062

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ قَالَ فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَهَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَوْحٌ فَاحْجُجْ مَعَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3063

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاسے نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3064

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے تولیے سے نہ پونچھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3065

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَيْرِ مَطَرٍ وَلَا سَفَرٍ قَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ بِذَلِكَ قَالَ التَّوَسُّعَ عَلَى أُمَّتِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی سفر تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے اور اس کے لئے کشادگی ہو جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3066

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفٍ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ قَالَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3067

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَزَوَّجْتَ بِنْتَ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ حمزہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے (در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیر حمزہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3068

حَدَّثَنَا يَحْيَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبَاهَا شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّحْلِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3069

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ دَعَا أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِكُمْ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِحِلَابٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَشَرِبَ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً أَهْلُ بَيْتٍ يُقْتَدَى بِكُمْ

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ ائمہ ہو، لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ انہوں نے اس دن دودھ کا برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3070

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ قَالَتْ لَا بَلْ أَصْبِرُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي قَالَ فَدَعَا لَهَا

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا یہ حبشن ہے، ایک مرتبہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا جسم برہنہ ہوجاتا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہو تو صبر کرلو اور اس کے عوض جنت لے لو اور چاہو تو میں اللہ سے دعاء کر دیتا ہوں کہ وہ تمہیں اس بیماری سے عافیت دے دے، اس نے کہا نہیں، میں صبر کر لوں گی، بس آپ اتنی دعاء کیجئے کہ میرا جسم برہنہ نہ ہوا کرے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3071

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ يَحْيَى كَانَ شُعْبَةُ يَرْفَعُهُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ کتا اور ایام والی عورت کے نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3072

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حُدِّثْتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النَّحْلَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالصُّرَدِ وَالْهُدْهُدِ قَالَ يَحْيَى وَرَأَيْتُ فِي كِتَابِ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے، چیونٹی، شہد کی مکھی ، ہدہد اور لٹورا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3073

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَمِينِي فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ات کو بیدار ہوئے اور مشکیزہ کھول کر اس سے وضو کیا، اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا اور میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3074

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ وَسَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ دَعَا بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3075

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَهُ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3076

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیربطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھاناحرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3077

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَجْلَحَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعُهُ الْكَلَامَ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟) یوں کہو جو اللہ تن تنہا چاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3078

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَإِسْمَاعِيلُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ يَحْيَى لَا يَدْرِي عَوْفٌ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ الْفَضْلُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاتِ الْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَوَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ فَقَالَ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا ادھر آکر میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ہاں ! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3079

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ إِخْوَانِنَا قَبْلَ ذَلِكَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ

حضرت ا بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3080

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلُ مَا اتَّخَذَتْ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنْ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَهَبَطَتْ مِنْ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتْ الْوَادِيَ ثُمَّ أَتَتْ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورتوں میں کمر بند باندھنے کا رواج سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کی طرف سے منتقل ہوا ہے، وہ اپنے اثرات مٹانے کے لئے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کمر بند باندھتی تھیں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا کہ ام اسماعیل پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، اگر وہ زمزم کو یوں ہی چھوڑ دیتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام اسماعیل کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، وہ انسانوں سے محبت کرتی تھیں، چنانچہ قافلے والوں نے وہیں پڑاؤ ڈال لیا اور اپنے دیگر اہل خانہ کو بھی بلا لیا اور وہ ان کے ساتھ رہنے لگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے یہ بھی کہا کہ ام اسماعیل صفا سے اتریں اور نشیبی علاقے میں پہنچیں تو اپنی قمیص کا دامن اونچا کیا اور تکلیف میں پڑے ہوئے آدمی کی طرح تیزی سے دوڑنے لگیں اور اس نشیبی حصے کو عبور کر کے مروہ پر پہنچیں اور وہاں کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کوئی انسان نظر آتا ہے یا نہیں ؟ لیکن انہیں کوئی نظر نہ آیا، انہوں نے سات مرتبہ اسی طرح چکر لگائے اور یہی سعی کی ابتداء ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3081

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی " و اذ یمکر بک الذین کفرو " کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت قریش نے مکہ مکرمہ میں باہم مشورہ کیا، بعض نے کہا کہ صبح ہوتے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بیڑیوں میں جکڑ دو، بعض نے کہا کہ قتل کر دو اور بعض نے انہیں نکال دینے کامشورہ دیا، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی اس مشاورت کی اطلاع دے دی۔ چنانچہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر نماز میں چلے گئے، مشرکین ساری رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے پہرہ داری کرتے رہے اور صبح ہوتے ہی انہوں نے ہلہ بول دیا، لیکن دیکھا تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، اس طرح اللہ نے ان کے مکر کو ان پر لوٹا دیا، وہ کہنے لگے کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے نہیں پتہ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم تلاش کرتے ہوئے نکلے، جب وہ اس پہاڑ پر پہنچے تو انہیں التباس ہوگیا، وہ پہاڑ پر بھی چڑھے اور اسی غار کے پاس سے بھی گذرے (جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین تھے) لیکن انہیں غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دیکھائی دیا، جسے دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو اس غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3082

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ أَصَابَ ذَنْبًا ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، ان سے ایک معمولی لغزش ہوئی تھی، پھر ان کے پروردگار نے انہیں چن لیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3083

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں ، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3084

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَيَقُولُ مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْجَانَّ مَسِيخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتْ الْقِرَدَةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص خوف کی وجہ سے یا ان کی کسی تاثیر کے اندیشے سے انہیں چھوڑ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور فرماتے تھے کہ سانپ جنات کی بدلی ہوئی شکل ہوتے ہیں ، جیسے بنی اسرائیل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3085

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ جنات کی مسخ شدہ شکل ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3086

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جاسکتی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں ، انہوں نے کہا جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسکا حکم دیا تھا ؟ بعد میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3087

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ

ابو حاضر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا جواب بھی ذکر کر دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3088

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ فَأَفْطَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ماہ رمضان میں فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3089

حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوا وَارْفُقُوا فَإِنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یہ میمونہ ہیں ، جب تم ان کاجنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ و اللہ اعلم)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3090

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ لِلْخَلَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3091

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ تُوُفِّيَتْ قَالَ فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى سَرِفَ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لَا تُزَعْزِعُوا بِهَا وَلَا تُزَلْزِلُوا ارْفُقُوا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِلتَّاسِعَةِ يُرِيدُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ

عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یہ میمونہ ہیں ، جب تم ان کاجنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ و اللہ اعلم)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3092

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَمُوتُ وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ فَأْذَنِي لَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَلْيُوَدِّعْكِ قَالَتْ فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ وَقَالَ أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكِ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ أَوْ قَالَ وَصَبٍ وَتَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ أَوْ قَالَ أَصْحَابَهُ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ فَقَالَتْ وَأَيْضًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا وَهُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا أَوْ قَالَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا الْآيَةَ فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ فَوَاللَّهِ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ فَقَالَتْ دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے) اس نے کہ اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کاصرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی، اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل امین علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، بخدا! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3093

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ قَالَ وَلَكِنْ يَمْنَحُ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُعْطِيَهُ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا

طاؤس کہتے ہیں کہ مجھے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے بڑے عالم (ابن عباس رضی اللہ عنہ) نے بتایا (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3094

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنْ الْغُلَامِ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں ، ہاں ! ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے ( اور تمہارے لیے ممکن نہیں ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3095

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَاكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3096

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُهُ بِعَرَفَةَ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ لَعَلَّكَ صَائِمٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُهُ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قریب ہو جاؤ اور تم بھی کھاؤ شاید تم روزے سے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3097

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ أَعْتَقَ مِنْ رَقِيقِهِمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے موقع پر جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3098

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَقْصُرْ الصَّلَاةَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اداء کی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3099

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3100

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3101

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَاسْتَنَّ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَاسْتَنَّ وَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى سِتًّا ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نیند سے بیدار ہوئے، مسواک کی، دو رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، پھر بیدار ہوئے، مسواک کی، وضو کیا، دو رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں ، پھر تین وتر پڑھے اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3102

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ قَتَادَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُ فِي فُتْيَاهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ عِرَاقِيٌّ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ادْنُهْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ

نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اس دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہوگیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا،ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3103

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3104

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ (طبل) کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3105

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ فَقَالَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے جواب میں یہ کلمات فرمائے کہ تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں ، ہم اسی کی تعریف کرتے اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3106

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ، پھر سورت آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی" ان فی خلق السموات والارض۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبحنک فقناعذاب النار" پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزدید دہرایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3107

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ قَالَ يَحْيَى قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ فَقَالَ عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ قَالَ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ قَالَ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِمْ فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ عیلہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3108

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ فَلَمْ نَسْمَعْ مِنْهُ حَرْفًا

حضرت ابن عباسی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی لیکن ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3109

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کر لینے کا حکم دیا ( اور بعد میں قضاء کرلی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3110

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَظَهْرُهُ إِلَى الْمُلْتَزَمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم شریف میں خطبہ دیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت ملتزم کی طرف تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3111

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دین سرا سر خیر خواہی کا نام ہے، لوگوں نے پوچھا کس کے لئے؟ فرمایا اللہ کے لئے، اس کے رسول کے لئے اور ائمہ مؤمنین کے لئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3112

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3113

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3114

عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3115

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالَ فَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا اور حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے، لوگوں نے پیچھے سبحان اللہ کہا تو وہ کہنے لگے کہ تمہیں کا ہوا؟ (پھرخود ہی سمجھ گئے اور واپس آکر) بقیہ نماز پڑھا دی اور آخر میں سہو کے دو سجدے کر لیے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردانی نہیں کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3116

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ و عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3117

حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَأَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا مِنْ لَحْمٍ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ بنت زبیر کے یہاں شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3118

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران نمازوں کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3119

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ وَيَقُولُ إِنَّمَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ابطح میں پڑاؤ کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے، وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے منزل کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3120

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ زَوْجِهَا بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ وَلَمْ يُحْدِثْ صَدَاقًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابو العاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) دوسال بعد پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو مہر مقرر نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3121

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي النَّاسَ آخِرِ رَمَضَانَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ قَالَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى

خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ماہ رمضان کے آخر میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے اہل بصرہ! اپنے روزے کی زکوۃ ادا کرو، لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور مقرر فرمائی ہے جو آزاد اور غلام، مذکر اور مؤ نث سب پر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3122

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالًا كَثِيرَةً وَدِمَاءًٍ

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3123

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ وَمُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَنْتَ تُعْلِمُنَا بِالصَّلَاةِ قَدْ كُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ مُعَاذٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کر دیا، اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3124

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِالْأَبْطَحِ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں، میں نے ایک شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3125

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَتَمَلَّى ثُمَّ صَلَّى وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شانے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3126

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَثِرُوا ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ابوغطفان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3127

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنْ الْمَغْنَمِ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت کے علاوہ میں سے کچھ دے دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3128

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ وَجَعِهِ سَبْعًا إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3129

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ و عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَتَقُولُ إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنْ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ قَتَلْتَ وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ فَاجْتَنِبْهُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَمْ يَفْعَلْ وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں ؟ اور کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اس خط کا جواب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے لکھوایا تھا ، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے البتہ مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3130

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ پیغمبر تمہیں جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3131

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْفَتَلَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَامُ وَأَنَا أَسْمَعُهُ قَالَ فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آگئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے کیا بچہ سو گیا؟ حالانکہ میں سن رہا تھا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں ، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3132

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَرَادَتْ الْحَجَّ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي فَإِنَّ ذَلِكِ لَكِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور) عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں (آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم احرام باندھتے وقت شرط لگالو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3133

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّةً الْحَجُّ أَوْ فِي كُلِّ عَامٍ قَالَ لَا بَلْ مَرَّةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3134

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أَهْلِهِ إِلَى مِنًى لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گھروالوں کے سات دس ذی الحجہ کی رات ہی کو منی کی طرف روانہ کر دیا تھا اور ہم نے فجر کے بعدجمرہ عقبہ کی رمی کرلی تھی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3135

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ رَأَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا سَاجِدًا قَدْ ابْتَسَطَ ذِرَاعَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَكَذَا يَرْبِضُ الْكَلْبُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر بچھا دیئے، انہوں نے فرمایا اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3136

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَحَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ الْخَيَّاطُ يَعْنِي حَمَّادًا فِي فَضَاءٍ مِنْ الْأَرْضِ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَنَحْنُ عَلَيْهِ حَتَّى جَاوَزْنَا عَامَّةَ الصَّفِّ فَمَا نَهَانَا وَلَا رَدَّنَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کرگذر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا اور نہ واپس بھیجا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3137

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَمَاثِيلُ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ الَّذِي عَلَيْكَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِسْتَبْرَقٌ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذَا الْكَانُونُ الَّذِي عَلَيْهِ الصُّوَرُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا تَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ

شعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، حضرت مسور کہنے لگے اے ابو العباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ فرمایا یہ تو استبرق(ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں ۔ پھر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3138

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ فِي مُصَلَّاهَا تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتَدْعُوهُ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَقَالَ يَا جُوَيْرِيَةُ مَا زِلْتِ فِي مَكَانِكِ قَالَتْ مَا زِلْتُ فِي مَكَانِي هَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَكَلَّمْتُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ هُنَّ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا نام برہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو بدل کر جویریہ رکھ دیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد نکلے اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، یا رسول اللہ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے اور وہ کلمات یہ ہیں ،" سبحان اللہ عدد خلقہ وسبحان اللہ رضاء نفسہ وسبحان اللہ زنۃ عرشہ وسبحن اللہ مداد کلماتہ والحمد للہ مثل ذلک''

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3139

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے تو لوگ اپنی سواریاں تیزی سے دوڑانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایک شخص نے یہ منادی کی کہ لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3140

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ قَالَ لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ يَا عَبَّاسُ افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ قَالَ فَأَبَى وَقَالَ إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا فَافْدِ نَفْسَكَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ قَالَ لَا ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ قَالَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حَيْثُ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرَكُمَا فَقُلْتَ إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا وَلِقُثَمَ كَذَا وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میرے والد عباس کو قیدی بنا کر گرفتار کرنے والے صحابی رضی اللہ عنہہ کا نام ابو الیسر کعب بن عمرو تھا، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ابو الیسر! تم نے انہیں کیسے قید کیا؟ انہوں نے کہا کہ اس کام میں میری مدد ایک ایسے آدمی نے کی تھی جسے میں نے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں، اس کی ہیئت ایسی ایسی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کام میں تمہاری مدد ایک فرشتے نے کی تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عباس! اپنا، اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم جس کا تعلق بنو فہر سے تھا، کا فدیہ ادا کرو، انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں تو بہت پہلے کا مسلمان ہوچکا ہوں ، مجھے تو قریش نے زبردستی روک رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کا اصل معاملہ اللہ جانتا ہے، اگر آپ کا دعوی برحق ہے تو اللہ آپ کو اس کا بدلہ دے گا، لیکن ہم تو ظاہر کے ذمہ دار ہیں اس لیے کم ازکم اپنی جان کا فدیہ ادا کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جو فدیہ لیا تھا ، وہ بیس اوقیہ سونا تھا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرا فدیہ آپ الگ کر کے میرے لیے رکھ لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا یہ تو اللہ نے ہمیں آپ سے دلوایا ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کچھ بھی مال و دولت نہیں رہا، فرمایا وہ مال جو تم نے مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت ام الفضل کے پاس رکھوایا تھا اور اس وقت تم دونوں کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا، کہاں جائے گا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں کام آگیا تو اتنا فضل کا ہے، اتنا قثم کا اور اتنا عبداللہ کا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی شخص کو بھی اس کا کچھ پتہ نہ تھا، اور میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3141

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَقَصَّرَ آخَرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالُوا فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمْ الرَّحْمَةَ قَالَ لَمْ يَشُكُّوا قَالَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر کچھ لوگوں نے حلق کروایا اور کچھ نے قصر، توجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے، ایک صاحب نے عرض کیا قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حلق کرانے والوں میں ایسی کون سی بات ہے کہ آپ ان پر اتنی شفقت فرما رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ شک میں نہیں پڑے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3142

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3143

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حجاج کہتے ہیں جکہ عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے اس کپڑے کو پہن لے جسے دھو دیا گیا ہو اور اس میں زعفران کا کوئی ذرہ یا نشان باقی نہ رہا ہو۔ گذشتہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعا مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3144

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهُ قَالَ فَخَرَجْنَا فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ أَتَى الْقِتَانَ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا تُعْطِيهِ بِلَالًا يَتَصَدَّقُ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اپنے اہل خانہ کو بھی عید گاہ لے کر جائیں ، ایک مرتبہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس جمع کرانے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3145

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ تَجْتَمِعُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَالَ وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَّا قَالُوا عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے اور فرمایا کہ شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی ذکر ہوا ، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3146

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ آمِنُونَ لَا نَخَافُ شَيْئًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کیا ، اس وقت ہم حالت امن میں تھے، کسی چیز کا قطعا کوئی خوف نہ تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3147

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روزانہ) سوتے وقت (اثمدنامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنکھ تین سلائی سرمہ لگاتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3148

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا بَعْدَمَا رَجَعَ بِسَرِفَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ سے مقام سرف میں نکاح فرما ایا اور حج سے واپسی کے بعد مقام سرف ہی میں ان سے خلوت فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3149

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روزانہ) سوتے وقت (اثمد نامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3150

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ "کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3151

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ النَّبِيِّينَ قَبْلَكَ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ وَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَحَلَّ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے قریب دو مرتبہ میری امامت کی اور فرمایا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم، یہ آپ کا اور آپ سے پہلے نبیوں کا وقت رہا ہے، چنانچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہوگیا اور ایک تسمہ کے برابر سایہ ہوگیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور اس کے لئے کھانا پینا حلال ہو جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3152

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3153

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ قَالَ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ خَلْفَهُ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے وضو کر کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3154

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3155

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْفَجْرِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3156

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كِسَاءٍ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3157

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَبَّرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَجَدَ وَكَانَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3158

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي وَأَنَا أُصَلِّيهِمَا فَدَنَا وَقَالَ أَتُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو میں دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا کیونکہ میں انہیں پڑھ نہیں سکا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر قریب آکر فرمایا کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3159

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ أَخَذَ مِنْ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3160

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنْ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا مَنْعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا مُتَرَسِّلًا مُتَضَرِّعًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ لَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ

ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خشوع وخضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے، البتہ تمہاری طرح خطبہ نہیں دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3161

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَالْخَوْفِ رَكْعَةً عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں ، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3162

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دو رکعتیں پڑھا کر واپس چلے گئے، اس سے پہلے آپ کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3163

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھیں (قصر فرمائی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3164

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3165

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى دُمُوعِهِ عَلَى خَدَّيْهِ تَحْدُرُ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَوْ الْكَتِفِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَقَالُوا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ میں نے ان کے رخساروں پر موتیوں کی لڑی کی طرح بہتے ہوئے آنسو دیکھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، لوگ کہنے لگے کہ کیا ہوگیا، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہکی بہکی باتیں کر سکتے ہیں؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3166

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3167

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3168

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بِالْحَمْلِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے حاملہ ہونے کے باوجود بھی لعان کروایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3169

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْعَبْسِيُّ عَنِ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْفَضْلِ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الرَّاحِلَةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہوجاتی ہے، کبھی کوئی بیمارہوجاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3170

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3171

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا أَحْيَاءً وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَخَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3172

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3173

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الْخَمْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3174

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ ثَمَنُ الْكَلْبِ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ وَثَمَنُ الْخَمْرِ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3175

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ قَالَ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَبْتَاعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دراہم دراہم کے بدلے ہوں اور غلہ مؤخر ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3176

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ مَرَّ بِقُرَيْشٍ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي دَارِ النَّدْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّكُمْ هَزْلَى فَارْمُلُوا إِذَا قَدِمْتُمْ ثَلَاثًا قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا رَمَلُوا ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ أَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَتَحَدَّثُ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا مَا رَضِيَ هَؤُلَاءِ بِالْمَشْيِ حَتَّى سَعَوْا سَعْيًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سال مکہ مکرمہ تشریف لائے تو قریش کے پاس سے گذر ہوا ، وہ لوگ دار الندوہ میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں تمہاری جسمانی کمزوری کی باتیں کر رہے ہیں ، اس لئے جب تم خانہ کعبہ پہنچو تو طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا ہی کیا، مشرکین کہنے لگے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے ہم باتیں کر رہے تھے کہ یہ لاغر اور کمزور ہو چکے ہیں ، یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں بلکہ یہ تو دوڑ رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3177

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3178

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر ہوتے تو دو رکعت نماز(قصر) ہی پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3179

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُكَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يُلَاحِظُ امْرَأَةً عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ عَلَى عَيْنِ الْغُلَامِ قَالَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ حَفِظَ فِيهِ بَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ کی شام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کو دیکھا کہ عورتوں کو کن اکھیوں سے دیکھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ا نکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی ا نکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3180

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرْوَةُ سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحَلَّ

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے؟ کہ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3181

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَرْقًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز کے لئے چلے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3182

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ نُعِيَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ اس سورت میں ان کے وصال کی خبر دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3183

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش عظیم کا رب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3184

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا قَالَتْ عَائِشَةُ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ ادْعُوهُ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ ادْعُوهُ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ ادْعُوهُ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِرٌ وَمَتَى مَا لَا يَرَاكَ النَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَخَرَج أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا أَبَا بَكْرٍ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ السَّلَام وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے، تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہوگئے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس علی کو بلاؤ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی بلالیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا لو، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہانے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا لو، حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی بلالیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا لو، جب یہ تمام لوگ جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ، اتنی دیر میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں ، جب لوگ آپ کو نہیں دیکھیں گے تو رونے لگیں گے اس لئے آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں؟ بہر کیف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہوگئے، اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی اور اسی مرض میں وصال فرما گئے، وکیع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی۔ ارقم بن شرحبیل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مدینہ منورہ سے شام کا سفر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رفاقت نصیب ہوگئی، میں نے ان سے دوران سفر پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں بھی کوئی نماز جماعت سے نہیں چھوڑی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہت زیادہ بوجھل ہوگئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اسی حال میں ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا وصی نہ بنایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3185

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ مَخْتُونٌ وَقَدْ قَرَأْتُ مُحْكَمَ الْقُرْآنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3186

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس جا کر وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3187

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ فَقُلْتُ حَدَّثَنِي سُمَيْعٌ الزَّيَّاتُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَخَذَ بِهِ

اعمش رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے کہا کہ امام کی دائیں جانب کھڑا ہو، میں نے ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا تو انہوں نے اسے قبول کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3188

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ وَعَفَارُ النَّخْلِ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤْبَرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشًا سَبْطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ جَعْدٌ قَطَطٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم بخدا! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما اور ان کے درمیان لعان کروا دیا اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3189

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ التَّمْرُ حَتَّى يُطْعَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3190

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتَتَنَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دیہات میں رہا اس نے اپنے اوپر زیادتی کی، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہو گیا اور جس کا بادشاہوں کے یہاں آنا جانا ہوا وہ فتنے میں مبتلا ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3191

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَمَنْ مَعَهُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ثُمَّ جُعِلَتْ الْقِبْلَةُ نَحْوَ الْبَيْتِ و قَالَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3192

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئی اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3193

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں ؟ اس پر آیت نازل ہوئی کہ ہم تواسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3194

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ و حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ أَسْنَدَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3195

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ خَلَقَهُمْ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3196

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے بادشاہ ہیں ، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں ، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں ، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3197

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَوْسَجَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا يَرِثُهُ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى مَوْلًى لَهُ أَعْتَقَهُ الْمَيِّتُ هُوَ الَّذِي لَهُ وَلَاؤُهُ وَالَّذِي أَعْتَقَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، اس کا کوئی وارث نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کر دیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث عطاء فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3198

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ أَوْ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَوَقْتٍ مَعْلُومٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھلوں میں بیع سلم کرو تو اس کی ناپ معین کرو اور اس کا وزن معین اور اس کا وقت طے کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3199

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ يَعْنِي ابْنَ قُدَامَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3200

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ فَنَامَ فِي طُولِهَا وَنَامَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ أَوْ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ نَفْسِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا فَأَخَذَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تکیہ رکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لمبائی پر سر رکھ کر سوگئے، گھر والے بھی سوگئے، پھر نصف رات یا اس سے کچھ آگے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور نیند کے اثرات دور کرنے لگے، پھر سورت آل عمران کی اختتامی دس آیات مکمل پڑھیں، پھر مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آکر نبی صلیہ اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3201

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ وَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَدَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ فَقَالَ مَا أَمَرْتَهُ قَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا قَالَ فَإِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَصُبَّتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شراب حرام ہو چکی ہے، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ عیلہ وسلم نے فرمایا جس ذات نے اس کا پیناحرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحاء میں بہا دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3202

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ وَلَمْ يَشُكَّ إِسْحَاقُ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قَالَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَا وَلَكِنْ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا،غالبا اتناجتنی دیر میں سورت بقرہ پڑھی جا سکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوگئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے؟ فرمایا میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا، اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے کفر کی وجہ سے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ فرمایا (یہ مراد نہیں ، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3203

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل رضی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس دوران حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑمڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3204

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا وَقَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3205

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي وَقَالَ مَرَّةً حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَحَدُ ابْنَيْ الْعَبَّاسِ إِمَّا الْفَضْلُ وَإِمَّا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي قَالَ يَحْيَى وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ أَبِي كَبِيرٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَإِنْ أَنَا حَمَلْتُهُ عَلَى بَعِيرٍ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهِ وَإِنْ شَدَدْتَهُ عَلَيْهِ لَمْ آمَنْ عَلَيْهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ أَكُنْتَ قَاضِيًا دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْجُجْ عَنْهُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں ، فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3206

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھینچ کریہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ! اسے کتاب کا علم عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3207

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر٦٥برس تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3208

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا ، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیاہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3209

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3210

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَعُذِّبَ وَلَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ أَوْ قَالَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَعُذِّبَ وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَكْرَهُونَهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي الرَّصَاصَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3211

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَبَنَى بِهَا حَلَالًا بِسَرِفَ وَمَاتَتْ بِسَرِفَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور مقام سرف میں غیر محرم ہو کر ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور مقام سرف ہی میں وہ فوت ہوگئیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3212

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْجَدِّ أَمَّا الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ فَإِنَّهُ قَضَاهُ أَبًا يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے" دادا " کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اگر میں اس امت میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہیں بناتا، یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3213

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنًَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3214

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورت ص کا سجدہ ضروری تو نہیں ہے، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3215

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص فَقَالَ نَعَمْ سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَفِي آخِرِهَا فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهْ قَالَ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ

عوام بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے سورت ص کے سجدے کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے یہ مسئلہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا تھا کہ کیا تم یہ آیت پڑھتے ہو" ان ہی کی اولاد میں سے حضرت داوؤد اور سلیمان علیہماالسلام بھی ہیں " ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے آخر میں ہے کہ " آپ ان ہی کے طریقے کی پیروی کیجئے " گویا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوداوؤد کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے ( اور انہوں نے سجدہ کیا تھا لہذاان کی اقتداء میں سورت ص کی آیت سجدہ پر سجدہ کیا جائے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3216

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3217

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا فَعَجِلَتْ الْإِنْسَانَةُ فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ حضرت ہاجرہ علیہاالسلام کے پاس آیا اور زمزم کے قریب پہنچ کر اپنی ایڑی ماری جس سے ایک چشمہ ابل پڑا، انہوں نے جلدی سے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3218

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنْ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَاه ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے روزے کی حالت میں بوسہ دینے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے سر کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3219

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ فَأَصْبِحْ صَائِمًا قَالَ يُونُسُ فَأُنْبِئْتُ عَنْ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ أَكَذَاكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشوراء کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا ہاں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3220

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ قَالَ فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا قَالَ فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ

سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے ابو العباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑگیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا ارے بھئی! اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3221

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ فَحَلَلْنَا فَلُبِسَتْ الثِّيَابُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، چنا نچہ ہم حلال ہوگئے اور عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3222

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا لَيْثٌ قَالَ قَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِيهِ وَلَكِنَّهُ اسْتَقْبَلَ زَوَايَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے مختلف کونوں کی طرف رخ انور کر کے کھڑے ہوئے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3223

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا لَيْثٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر اور حضر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3224

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا ، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3225

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا وَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے اور تمہارے لیے پیغمبر خدا کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3226

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3227

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3228

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ صَاحِبُ الْحِلَى أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَإِنْ هُوَ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3229

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر تازہ وضو کیئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3230

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3231

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا وَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ فَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ هَمَّامٌ مَرَّةً عِدَّةَ الْحُرَّةِ قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کانام " مغیث " تھا میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمادیا تھا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا، اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے بریرہ کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہوگئی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3232

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ يَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَنْ يَحُجُّوا الْبَيْتَ وَأَنْ يُعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْمَغَانِمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ فَقَالُوا فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبد القیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اللہ ہی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استمعال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے) انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) پھر ہم کن برتنوں میں پانی پیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا منہ باندھا جاسکے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3233

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ و حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ

ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں، پھر میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3234

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهُ طَعَامًا لِأَهْلِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے رہن رکھی ہوئی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3235

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ قَالَ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ حَسَنُ الْمَضْحَكِ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ قَدْ مَلَأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ قَالَ عَوْفٌ لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنْ النَّعْتِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا

یزید فارسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حیات میں مجھے خواب میں حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، یاد رہے کہ یزید قرآن کے نسخے لکھا کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس سعادت کے حصول کا تذکرہ کیا، انہوں نے بتایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے شیطان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ میری شباہت اختیار کر سکے اس لئے جسے خواب میں میری زیارت ہو، وہ یقین کر لے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے، کیا تم نے خواب میں جس ہستی کو دیکھا ہے ان کا حلیہ بیان کر سکتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! میں نے دو آدمیوں کے درمیان ایک ہستی کو دیکھا جن کا جسم اور گوشت سفیدی مائل گندمی تھا، خوبصورت مسکراہٹ، سرمگیں آنکھیں اور چہرے کی خوبصورت گولائی لئے ہوئے تھے، ان کی ڈاڑھی یہاں سے یہاں تک بھری ہوئی تھی اور قریب تھا کہ کہ پورے سینے کو بھر دیتی، (عوف کہتے ہں کہ مجھے معلوم اور یاد نہیں کہ اس کے ساتھ مزید کیاحلیہ بیان گیا تھا) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم نے بیداری میں ان کی زیارت سے اپنے آپ کو شاد کام کیا ہوتا تو شاید اس سے زیادہ ان کا حلیہ بیان نہ کر سکتے (کچھ فرق نہ ہوتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3237

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3238

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3239

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3240

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ مِنْ رَقِيقِ الْمُشْرِكِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3241

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ سَلْمٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ وَمَنْ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی دوسرے کی باندی سے قربت کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں ایسا کیا ہو، میں اس قربت کے نتیجے میں ہونے والے بچے کو اس کے عصبہ ملحق قرار دیتا ہوں اور جو شخص بغیر نکاح کے کسی بچے کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دعوی کرتا ہے (اور یہ کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، حالانکہ اس بچے کی ماں سے اس کا نکاح نہیں ہوا) تو وہ بچہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہو مورث(دونوں میں سے کسی کو دوسرے کی وراثت نہیں ملے گی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3242

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ وَقَالَ لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں ، اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے تم سے قبول کر لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3243

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ مَا لَمْ يَكُنْ بِهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت دی ہے جبکہ اس میں رنگ کا کوئی ذرہ یا نشان نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3244

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْهُمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا يَا أَبَا طَالِبٍ ابْنُ أَخِيكَ يَشْتِمُ آلِهَتَنَا يَقُولُ وَيَقُولُ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ فَأَرْسِلْ إِلَيْهِ فَانْهَهُ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ وَكَانَ قُرْبَ أَبِي طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ فَخَشِيَ إِنْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمِّهِ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ قَوْمَكَ يَشْكُونَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ فَقَالَ يَا عَمِّ إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ قَالُوا وَمَا هِيَ نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَامُوا وَهُمْ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواجہ ابو طالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، خواجہ ابو طالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابو جہل آکر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ خواجہ ابو طالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، خواجہ ابو طالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا، انہوں نے پوچھا وہ کون سا کلمہ؟ فرمایا " لاالہ الا اللہ" یہ سن کر وہ لوگ کپڑے جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورت ص نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ ان ہذا لشیء عجاب پر پہنچے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3245

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَأَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ أَرَأَيْتَكِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ كُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی، یار رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3246

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3247

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قراءت کون سی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا نہیں ، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3248

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتِبِ يُقْتَلُ يُودَى لِمَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3249

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَمَرَّ شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ فَقَالَ يَا أَبَا سَعْدٍ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ فَقَالَ مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ حَقًّا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ قَالَ حَدِّثْ بِهِ الْقَوْمَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک بزرگ گذرے جن کا نام ابو سعید شرحبیل تھا، زید نے ان سے پوچھا اے ابو سعید! آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا امیرالمومنین کے پاس سے، میں نے انہیں ایک حدیث سنائی، اگر یہ حدیث سچی ہو تو میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی یہ حدیث سنائیے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں ، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہوجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3250

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین علیہ السلام سے ان کی ملاقت ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3251

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ إِنَّهُ يُنْبِتُ الشَّعْرَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو ، اور تمہارا بہترین سرمہ" اثمد " ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3252

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَوْ أُعْطِيَ النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى أُنَاسٌ أَمْوَالَ النَّاسِ وَدِمَاءَهُمْ

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3253

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْعَطَّارُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفِ دِينَارٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3254

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا يُوحَى إِلَيْهِ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ کی عمر٤٠برس تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد١٣برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور٦٣برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3255

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ وَقَالَ لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ حَدَّثَنَاه الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہوگئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر اسے خاموش نہ کراتے تو یہ قیامت تک روتا رہی رہتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3256

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَعَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَظْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3257

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ قَالَ كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِيلًا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا إِلَيْهِمْ نِصْفَ الدِّيَةِ وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قَتِيلًا أَدَّوْا إِلَيْهِمْ الدِّيَةَ كَامِلَةً فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنهُمْ الدِّيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت قرآن " فان جاءوک فا حکم بینہم او اعرض عنہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " کی تفسیر میں منقول ہے کہ بنو نضیر کے لوگ اگر بنو قریضہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتے تو وہ انہیں نصف دیت دیتے اور اگر بنو قریضہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتے تو وہ انہیں پوری دیت ادا کرنے پر مجبور ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قبیلوں کے درمیان برابر برابر دیت مقرر کر دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3259

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورت ص میں سجدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3260

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی، اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا ، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا، اس وقت میری عمر دس سال تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3261

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ وَفِينَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ومِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ قَالَ سَعِيدٌ كُلُّكُمْ بَلَغَهُ مَا قِيلَ فِي الطَّعَامِ قَالَ مِقْسَمٌ حَدِّثْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَنْ لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ وَسَطَهُ وَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ أَوْ حَافَتَيْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو ، درمیان سے نہ کھایا کرو ، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3262

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ وَأَنْ تُقْتَلَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَقَدْ شَكَّكْتَنِي قَالَ ابْنُ بَكْرٍ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتَيَّ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پیٹ کے بچے کو مار دینے کے مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، تو حضرت حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ آگئے اور فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں دو عورتوں کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو بیلن یا خیمہ کا ستون دے مارا، جس کے صدمے سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مرگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا، اس کے بدلے میں ایک غلام قتولہ کے ورثاء کو دے دیا جائے اور اس عورت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے کہا کہ مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد کے حوالے یہ روایت دوسری طرح سنائی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ تم نے مجھے شک میں ڈال دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3263

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَقَالَ لَا تُكْرِهُوهُنَّ قَالَ فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَتْ ثَيِّبًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَزَادَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابو ودیعہ جن کا نام کذام تھا نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دیا، ان کی بیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے زبردستی کیا جارہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیا اور فرمایا کہ عورت کو مجبور نہ کیا کرو، پھر اس کے بعد اس لڑکی نے حضرت ابو لبابہ انصاری رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی، یادر ہے کہ وہ شوہر دیدہ تھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ خاتون دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے نئے شوہر نے اسے چھولیا ہے (لہذا وہ اب اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا (کیونکہ دوسرے شوہر کا ہمبستری کرنا شرط ہے، چھونا نہیں ) اور فرمایا اے اللہ! اگر اس کی قسم اسے رفاعہ کے لئے حلال کرتی ہے تو اس کا نکاح دوسری مرتبہ مکمل نہ ہوگا، پھر وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس ان دونوں کے دور خلافت میں بھی پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آئی لیکن ان دونوں نے بھی اسے روک دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3264

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھنیچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3265

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ قُدْهُ بِيَدِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھنیچ رہا تھا ، نبی صلی اللہ نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3266

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ فَقَالَ رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر چند لوگوں پر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3267

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آخِذًا رَأْسَهُ إِمَّا قَالَ بِشِمَالِهِ وَإِمَّا بِيَمِينِهِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي

حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ میں نے تمہاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے اپنا سر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا ہوگا اور اس کے زخموں سے خون رس رہا ہوگا، وہ کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3268

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3269

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو ، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3270

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ أَوْ إِغْفَارِهِ قَالَ وَعَفَارُ النَّخْلِ أَوْ إِغْفَارُهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ ثُمَّ تُعْفَرُ أَوْ تُغْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ قَالَ فَوَجَدْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشًا سَبْطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ رَجُلٌ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ جَعْدٌ قَطَطٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم بخدا! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3271

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَجَعَل يَغْرِفُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى الْيُسْرَى

عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنے کا طریقہ نہ بتاؤں ؟ یہ کہ کر پانی منگوایا، اور دائیں ہاتھ سے چلو بھر کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3272

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ قُمْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شِمَالِهِ فَأَدَارَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صل اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3273

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ فَقَالَ أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا قَالُوا وَكَيْفَ وَهِيَ مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ مردہ ہے، فرمایا اس کاصرف کھاناحرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3274

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَزَّ مِنْ كَتِفٍ فَأَكَلَ ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کیے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3275

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يُصَلِّي أَنَا وَالْفَضْلُ مُرْتَدِفَانِ عَلَى أَتَانٍ فَقَطَعْنَا الصَّفَّ وَنَزَلْنَا عَنْهَا ثُمَّ دَخَلْنَا الصَّفَّ وَالْأَتَانُ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ لَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ فَجِئْنَا وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگئے، لیکن انہوں نے اپنی نماز نہیں توڑی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3276

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ لَمْ يَدْخُلْ وَأَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں ، ان میں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3277

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3278

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ قَالَ وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ بَعْضَ خَرَاجِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کے ایک غلام نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطاء فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے کچھ مقدار کو کم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3279

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3280

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ مَعَهُ عَلَى يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً حَزَرْتُ قَدْرَ قِيَامِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، میں بائیں جانب آکر کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں سے ہر رکعت میں میرے اندازے کے مطابق سورت مزمل کے بقدر قیام کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3281

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن مقام غدیر میں پہنچے تو لوگوں کو سخت پیاس لگی کیونکہ دوپہر کا وقت تھا، لوگ اپنی گردنیں اونچی کرنے لگے اور انہیں پانی کی خواہش شدت سے محسوس ہونے لگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3282

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَعْنِي عَطَاءً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَتْ شَاةٌ أَوْ دَاجِنَةٌ لِإِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَوْ مَسْكِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3283

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَنَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ سَأَلَهُ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَضَى عُمَرُ لِسَعْدٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ يَا سَعْدُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَلَكِنْ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَهَا قَالَ فَقَالَ رَوْحٌ أَوْ بَعْدَهَا قَالَ لَا يُخْبِرُكَ أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ فَسَكَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مسح علی الخفین کے متعلق سوال کیا تو میں اس وقت وہیں موجود تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دیا تھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا اے سعد! یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے، لیکن سورت مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں؟ آپ کو یہ بات کوئی بھی نہیں بتائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3284

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَوَضَعَهُ وَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی والاگوشت کھا رہے تھے کہ مؤذن آگیا، نبی صلی اللہ نے اسے رکھا اور تازہ وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3285

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ قَالَ لَا قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ قَالَ وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا

ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کس بناء پر وضو کر رہا ہوں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نفی میں جواب دیا، انہوں نے بتایا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھا لیے تھے، اب ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ جس بناء پر وضو کر رہے میں تو اس کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں فرمایا، راوی حدیث سلیمان بن یسار مذکورہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3286

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ عِلْمِي وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَلِكَ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنْ إِخْلَاءِ الْجُنُبَيْنِ جَمِيعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے چھوڑے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے، راوی حدیث عبدالرزاق کہتے ہیں کہ دراصل میں نے اپنے استاذ سے دو جنبی مرد و عورت کے ایک ہی پانی سے غسل کرنے کا مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنا دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3287

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ الصَّلَاةَ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سوئے اور جاگے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3288

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3289

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنْ اللَّيْلِ فَذَكَرَ نَحْوَ دُعَاءِ سُفْيَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے پھر راوی نے مکمل دعاء ذکر کی اور یہ بھی کہا، آپ برحق ہیں ، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3290

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ الْبَشَرِ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ يَدْخُلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَيُدَارِسَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُوَ أَجْوَدُ مِنْ الرِّيحِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، وہ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے اور تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3291

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَشَفَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى عَلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زبیا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3292

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ طَاوُسٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور تیل خوشبو لگایا کرو ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3293

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبُرَةِ وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرِ أَوْ قَالَ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَقَالَ نِعْمَ الْمَقْبُرَةُ هَذِهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي أَخَصَّ الشِّعْبَ قَالَ هَكَذَا قَالَ فَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوْ الضَّفِيرِ وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَيْتِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مقبرہ پر ہوا جو اس پہلے راستے پر واقع تھا (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے ریت کے تودے کے پیچھے کی طرف اشارے سے فرمایا) اور فرمایا کہ یہ بہترین قبرستان ہے، میں نے اس شخص سے پوچھا جنہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کسی گوشے کی تخصیص فرمائی تھی لیکن وہ مجھے یہ نہ بتا سکے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ کو خاص کیا تھا سوائے اس کے کہ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے، لیکن ہم یہ بات سنتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حصے کو خاص کیا جو بیت اللہ کے سامنے تھا۔ فائدہ : بظاہر اس قبرستان سے مراد جنت المعلی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3294

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ وَغَيْرُهُ عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ فِي الْحَائِضِ نِصَابَ دِينَارٍ فَإِنْ أَصَابَهَا وَقَدْ أَدْبَرَ الدَّمُ عَنْهَا وَلَمْ تَغْتَسِلْ فَنِصْفُ دِينَارٍ كُلُّ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایام والی عورت سے ہمبستری میں ایک دینار کا نصاب مقرر کیا ہے اور اگر مرد نے اس سے اپنی خواہش اس وقت پوری کی جبکہ خون تو منقطع ہوچکا تھا لیکن ابھی اس نے غسل نہیں کیا تھا تو اس صورت میں قربت پر نصف دینار واجب ہوگا اور یہ سب تفصیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3295

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْكِرُ أَنْ يُتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلَالُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَيَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ تَرَوْا الْهِلَالَ فَاسْتَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ لَيْلَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا تھا جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں ، خواہ چاند نظر نہ آیا ہو اور وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر چاند نظر نہ آئے تو٣٠ کی گنتی پوری کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3296

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَوْ رَمَضَانَ قَالَ رَوْحٌ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشوراء کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3297

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ دَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تَصُمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فِيهِ لَبَنٌ يَوْمَ عَرَفَةَ فَشَرِبَ مِنْهُ فَلَا تَصُمْ فَإِنَّ النَّاسَ مُسْتَنُّونَ بِكُمْ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ إِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عُمَرَ أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا، کہ میں تو روزے سے ہوں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ نے فرمایا آج کے دن کا (احرام کی حالت میں ) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں ( تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں ) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3298

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنْ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرض نمازوں سے فراغت کے بعد اونچی آواز سے اللہ کا ذکر کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں تھا اور مجھے تو لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے کا علم ہی جب ہوتا کہ میں یہ آواز سن لیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3299

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنْ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، مشکیزے سے وضو کر کے کھڑے ہوگئے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھ کر کھڑا ہوا، مشکیزے سے وضو کیا اور بائیں جانب آکر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کمر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3300

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ وَعَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ كَانَ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعَصْرُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا حَانَتْ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعِشَاءُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا

عکرمہ اور کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہارے سامنے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان نہ کروں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں، فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی جگہ میں اگر سورج اپنی جگہ سے ڈھلنا شروع ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو جمع فرما لیتے، اور اگر پڑاؤ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سفر جاری رکھتے، اور جب عصر کا وقت آتا تو پڑاؤ کرتے اور ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھتے، اسی طرح اگر مغرب کا وقت پڑاؤ میں ہی ہوجاتا تو اسی وقت مغرب اور عشاء کی جمع فرما لیتے، ورنہ سفر جاری رکھتے اور عشاء کا وقت ہو جانے پر پڑاؤ کرتے اور مغرب و عشاء کی نماز اکٹھی پڑھ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3301

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3302

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تاجروں سے راستہ ہی میں مل کر اپنی مرضی کے بھاؤ سودا خرید لیا جائے یا کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے خرید و فروخت کرے، راوی نے جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ شہری دیہاتی کے لئے دلال نہ بنے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3303

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3304

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ أَحْسِبُهُ يَعْنِي فِي النَّوْمِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ نَحْرِي فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ قَالَ الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَقُلْ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ قَالَ وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج رات مجھے خواب میں اپنے پروردگار کی زیارت ایسی بہترین شکل وصورت میں نصیب ہوئی جو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں، پروردگار نے مجھ سے فرمایا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم کیا تمہیں معلوم ہے کہ ملا اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا نہیں، اس پروردگار نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا جس کی ٹھنڈک مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوئی اور میں نے اس کی برکت سے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کر لیں، پھر اللہ نے فرمایا اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلی کفارات سے کیا مراد ہے؟ بتایا کہ نمازوں کے بعد مسجد میں رکنا، اپنے قدموں پر چل کر جمعہ کو آنا، اور مشقت کے باوجود (جیسے سردی میں ہوتا ہے) اچھی طرح وضو کرنا، جو شخص ایسا کرلے اس کی زندگی بھی خیر والی ہوجائے اور موت بھی خیر والی ہوئی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے گا گویا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو، اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب تم نماز پڑھا کرو تو یہ دعاء کیا کرو کہ اے اللہ! میں آپ سے نیکیوں کی درخواست کرتا ہوں ، گناہوں سے بچنے کی دعاء کرتا ہوں ، اور مساکین کی محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ جب آپ اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں مبتلا چاہیں تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کیے بغیر ہی اپنی طرف اٹھا لیں ، راوی کہتے ہیں کہ درجات سے مراد کھانا کھلانا، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا ہے جب لوگ سو رہے ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3305

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاهَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ قَالَ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا فَقَالَتْ هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ فِي الْحِجْرِ قَدْ تَعَاهَدُوا أَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ قَالَ يَا بُنَيَّةُ أَدْنِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا هُوَ هَذَا فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَلَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَحَصَبَهُمْ بِهَا وَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ قَالَ فَمَا أَصَابَتْ رَجُلًا مِنْهُمْ حَصَاةٌ إِلَّا قَدْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہو کے اور انہیں قتل کیے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ اگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاساہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے وہ یہ رہے، لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں اور ان کی ٹھوریاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہوگئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3306

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونَ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مہاجرین کی طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا اور انصار کی طرف سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور جب جنگ زورں پر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3307

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ هَلْ شَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا قَرَابَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنْ الصِّغَرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَوَعَظَ النِّسَاءَ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَأَهْوَيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَتَصَدَّقْنَ بِهِ قَالَ فَدَفَعْنَهُ إِلَى بِلَالٍ

عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا ہاں ! اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اپنے کانوں اور گلوں سے اپنے زیورات اتارے اور انہیں صدقہ کرنے کے لئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3308

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ وَيَقُولُ إِنَّمَا أَقَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ

عطاء کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ابطح میں پڑاؤ کرنے کے قائل نہ تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے قیام کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3309

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3310

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَبِتُّ عِنْدَهَا فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَاهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجْبٍ فِيهَا مَاءٌ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ قَالَ يَزِيدُ حَسِبْتُهُ قَالَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ حَتَّى إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا أَحْسَنَ هَذَا فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَهْ إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گذاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر گھر داخل ہوئے اور چمڑے کے بنے ہوئے اس تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئے جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے بھی آکر اس تکیے کے ایک کونے پر سر رکھ دیا، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، دیکھا تو ابھی رات کافی باقی تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بستر پر واپس آکر تسبیح و تکبیر کہی اور سوگئے۔ دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو رات کا ایک یا دوتہائی حصہ بیت چکا تھا ، لہذا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے، قضاء حاجت کی، اور ستون خانے میں لٹکی ہوئی مشک کے پاس آئے جس میں پانی تھا، اس سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، پھر سر اور کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، اور اپنی جائے نماز پر جا کر کھڑے ہوگئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کچھ کیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہو جاؤنگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تو کچھ نہیں کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں ان ہی کی نماز میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں تو اپنا دہنا ہاتھ بڑھا کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک دو رکعتیں پڑھتے رہے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا احساس باقی رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آگیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں اور ساتویں میں وتر کی نیت کر لی، جب روشنی ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سوگئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی ، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی اور پانی کو چھوا تک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ یہ کوئی اچھا کام ہے؟ حضرت سعید رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ بخدا! میں نے بھی یہی بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا خبردار! یہ حکم تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے، یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ سوتے میں بھی ان کی حفاظت کی جاتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3311

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الرَّجُلِ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ أَيَتَطَيَّبُ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ الْمِسْكَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَمِنْ الطِّيبِ هُوَ أَمْ لَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3312

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِّثْنِي عَنْ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا مَاذَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتْ الْعَوَاتِقُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کرسعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی اگر وہ سواری پر نہ ہوتے تو انہیں چلنا ہی زیادہ محبوب ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3313

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3314

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ إِذَا فَاتَنِي الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ فَقَالَ رَكْعَتَيْنِ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3315

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار مسجد میں داخل ہوئے، ان کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، یہی وجہ ہے اب ہم اسے بدلنا نہیں چاہتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3316

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قَالَ مِسْعَرٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ أَوْ عَلَفًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلہ خریدے، اسے قبضہ سے قبل آگے مت فروخت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3317

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا جو انہوں نے کھڑے کھڑے نوش فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3318

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں ، بھر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3319

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنْ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3320

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ رَآهُ بِعَيْنِهِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ آیت ذیل کی وضاحت فرماتے ہیں کہ ہم نے اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے، فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیداری میں آنکھوں سے دکھائی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3321

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال و دولت سے بھری ہوئی پوری وادی بھی ہو تو اس کی خواہش یہی ہوگی کہ اس جیسی ایک اور وادی بھی اس کے پاس ہو، اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کر لیتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں، اب یہ قرآن کا حصہ ہے یا نہیں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3322

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيَّةً حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُ الصُّبْحُ قَامَ فَصَلَّى الْوَتْرَ تِسْعَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ وَتْرِهِ أَمْسَكَ يَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ فِي نَفْسِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ جَخِيفَهُ قَالَ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَنَبَّهَهُ لِلصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گذاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آگیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا رک کر روشنی ہونے کے بعد نو رکعتیں پڑھی اور ان میں وتر کی نیت کر لی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے رہے، جب روشنی ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3323

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور٦٣برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3324

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کر دوں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3325

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ذکر فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام والی عورت کو طواف وداع کرنے سے پہلے جانے کی اجازت دی ہے جب کہ وہ طواف زیارت کر چکی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3326

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْضِهِ عَنْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3327

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ بْنِ رَقَبَةَ عَنْ طَلْحَةَ الْإِيَامِيِّ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ شادی کرلو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی بیویاں زیادہ تھیں ( تو تم کم ازکم ایک سے ہی شادی کرلو، چار سے نہ سہی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3328

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمَخْرَفَ صَدَقَةٌ عَنْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3329

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى بِنَا الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ قَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کا احرام باندھا تو چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے اور فجر کی نماز ہمیں مقام بطحاء میں پڑھائی اور فرمایا جو چاہے اس احرام کو عمرہ کا احرام بنالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3330

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ لَا بَلْ حَجَّةٌ فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3331

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3332

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَاضْطَبَعُوا وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ وَوَضَعُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ثُمَّ رَمَلُوا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں سے نکال کر اضطباع کیا اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا اور رمل بھی کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3333

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ يَا بَنِي أَخِي يَا بَنِي هَاشِمٍ تَعَجَّلُوا قَبْلَ زِحَامِ النَّاسِ وَلَا يَرْمِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْعَقَبَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم کے ہم لوگوں سے فرمایا بھتیجو! لوگوں کے رش سے پہلے نکل جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3334

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا كَامِلٌ عَنْ حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ قَالَ فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ قَالَ فَرَأَيْتُهُ قَالَ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى قَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گذاری، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کر کے فرمایا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے، پھر سر اٹھا کردو سجدوں ک درمیان یہ دعاء پڑھی کہ پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری تلافی فرما، مجھے رفعت عطاء فرما، مجھ رزق عطاء فرما اور مجھے ہدایت عطاء فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3335

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ تَرَاءَيْنَا هِلَالَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ فَقَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ

ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ " ذات عرق " میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ اللہ نے چاند کی رویت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو٣٠ دن کی گنتی پوری کرو

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3336

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور٦٣برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3337

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر ہجرت کا حکم ملا تو دس سال مدینہ منورہ میں گذارے اور٦٣برس کی عمر میں آپ کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3338

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ فَقَالَ نَهَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ عَنْهُ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ قَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ

ابو حاضر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا، اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا جواب بھی ذکر کر دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3339

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَجَعَلَ يَعْرِضُهُمْ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ أَيُّ بَنِيَّ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ أَيْ رَبِّ كَمْ عُمْرُهُ قَالَ سِتُّونَ سَنَةً قَالَ أَيْ رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ فَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ فَوَهَبَ لَهُ مِنْ عُمْرِهِ أَرْبَعِينَ عَامًا فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَ رُوحَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَحْضُرْ أَجَلِي قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً فَقَالُوا إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَلَا وَهَبْتُ لَهُ شَيْئًا وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا، اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا پروردگار ! یہ کون ہے؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں ، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوود علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا، اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں ، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3340

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِىِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَبَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3341

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ شَاةٌ لِمَيْمُونَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا فَقَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّ دِبَاغَ الْأَدِيمِ طُهُورُهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی؟ کہ دباغت سے تو کھال پاک ہو جاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3342

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَمَيْتُ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ قَالَ مَا أَدْرِي أَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ

ابو مجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ فرمایا مجھے بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرات کو چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3343

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ صُدَاعٍ وَجَدَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3344

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر اپنے سر سے خون نکلوایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3345

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَشْعَرَ الْهَدْيَ جَانِبَ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَحْرَمَ قَالَ فَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالْحَجِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3346

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ حضرت ابن عباس رضی الہ عنہ ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3347

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا قَيْسٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَمْزَمَ فَنَزَعْنَا لَهُ دَلْوًا فَشَرِبَ ثُمَّ مَجَّ فِيهَا ثُمَّ أَفْرَغْنَاهَا فِي زَمْزَمَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ بِيَدَيَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ زمزم پر تشریف لائے، ہم نے ایک ڈول کھینچ کر پانی نکالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور اس ڈول میں کلی کر دی، پھر ہم نے وہ ڈول چاہ زمزم میں ڈال دیا (یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پس خوردہ بھی اس میں شامل ہوگیا) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارے مغلوب ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3348

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا شَأْنُ آلِ مُعَاوِيَةَ يَسْقُونَ الْمَاءَ وَالْعَسَلَ وَآلُ فُلَانٍ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ أَمِنْ بُخْلٍ بِكُمْ أَوْ حَاجَةٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا بُخْلٌ وَلَا حَاجَةٌ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا

ایک دیہاتی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آل معاویہ لوگوں کو پانی اور شہد پلاتی ہے، آل فلاں دودھ پلاتی ہے اور آپ لوگ نبیذ پلاتے ہیں ؟ کسی بخل کی وجہ سے یا ضرورت مندی کی بناء پر؟ انہوں نے فرمایا ہم کنجوس ہیں اور نہ ہی ضرورت مند، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کے پیچھےحضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3349

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاءِ زَمْزَمَ فَسَقَيْنَاهُ فَشَرِبَ قَائِمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے کنوئیں پر تشریف لائے، ہم نے انہیں اس کا پانی پلایا تو انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3350

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ، بھانجی کو جمع کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3351

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص(علی الترتیب) پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3352

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ

ابو الطفیل کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گذرتے اس کا استلام کرتے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3353

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كُنْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمَا يَطُوفَانِ حَوْلَ الْبَيْتِ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْأَسْوَدَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ

ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گذرتے اس کا استلام کرتے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3354

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثًا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کیا، اور خانہ کعبہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں حسب معمول چلتے رہے۔ ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا سچ تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو چھوڑ دو، تاآنکہ یہ اسی طرح مر جائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مرجاتا ہے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آکر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا یہ سنت نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3355

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ فَلَمَّا رَمَلُوا قَالَتْ قُرَيْشٌ مَا وَهَنَتْهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3356

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3357

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَضْمَضَ مِنْ لَبَنٍ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3358

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَجْوَدِ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ يُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ أَجْوَدَ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3359

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3360

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ بِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ وَانْتَهَى عِنْدَ آخِرِ السُّورَةِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى سَمِعْتُ نَفْخَ النَّوْمِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ فَأَتَاهُ بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے تو مسواک فرمائی، وضو کیا اور سورت آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں طویل قیام اور رکوع وسجود کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر بیدار ہو کر وہی عمل دہرایا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ نماز پڑھانے کے لئے چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں یہ دعاء کرنے لگے کہ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں ، میرے بائیں ، میرے آگے، میرے پیچھے ، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3361

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ وَقَالَ مَرَّةً أَسْلَمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد بچوں میں سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا اسلام قبول کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3362

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3363

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3364

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنِي هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گذار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو کی روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3365

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ فَقَالَ نَاسٌ قَالَ حَسَنٌ نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ فَارْتَدُّوا كُفَّارًا فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ بِشَجَرَةِ الزَّقُّومِ هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ أَقْمَرُ هِجَانًا قَالَ حَسَنٌ قَالَ رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ جَعْدَ الرَّأْسِ حَدِيدَ الْبَصَرِ مُبَطَّنَ الْخَلْقِ وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ كَثِيرَ الشَّعْرِ قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ شَدِيدَ الْخَلْقِ وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس رات واپس بھی آگئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا محمد کی اس بات کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے ساتھ ان کی گردنیں بھی مار دیں ۔ ایک مرتبہ ابو جہل نے کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں تھوہڑ کے درخت سے ڈراتے ہیں ، تم میرے پاس کھجور اور جھاگ لے کر آؤ، مہیں تمہیں تھوہڑ بنا کر دکھاتا ہوں ۔ اسی شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو خواب میں دیکھنا نہ تھا، نیز حضرت عیسی، موسی اور ابراہیم علیہم السلام کی بھی زیارت فرمائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دجال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے بڑے ڈیل ڈول کا اور سبزی مائل سفید رنگ والا پایا، اس کی ایک آنکھ قائم تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی چمکتا ہوا موتی ہو اور اس کے سر کے بال کسی درخت کی ٹہنیوں کی طرح تھے۔ میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ سفید رنگ کے جوان تھے، ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے، نگاہیں تیز تھیں ، جسمانی اعتبار سے پتلے پیٹ والے تھے، میں نے حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ انتہائی گندمی رنگ اور گھنے بالوں والے تھے اور جسمانی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے، نیز میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جو میں نے نہ دیکھا ہو اور اپنے آپ میں وہ عضو اسی طرح نہ دیکھا ہو، گویا وہ ہو بہو تمہارے پیغمبر کی طرح ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا مالک کو جو داروغہ جہنم ہے، سلام کیجئے، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 3366

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ سُئِلَ قَالَ حَسَنٌ سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ أَيَحْتَجِمُ فَقَالَ إِنَّمَا كُرِهَ لِلضَّعْفِ وَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ آخِرُ أَحَادِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور اس کی وجہ زہریلی بکری کا وہ لقمہ تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا تھا اور خیبر کی ایک عورت نے اس میں زہر ملا دیا تھا ۔ تنبیہ : یہاں آکر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مرویات مکمل ہو گئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے والے ابوبکرا لقطیعی رحمۃ اللہ علیہ کی کچھ احادیث آرہی ہیں جوجزء ثالث کے آخر میں تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر آپ کے احرام باندھنے سے قبل جانوروں کے گلے میں ڈالنے والے ہاروں کی رسیاں بٹا کرتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فروح و ریحان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں میرے ساتھ اور مونس رہے، مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کر دو سوائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک ایک آدمی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کی سفارش کرے گا اور وہ سب اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے اور ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کسی شخص کے لئے اور اس کے اہل خانہ کے لئے سفارش کرے گا اور وہ سب بھی اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے ہمارے یہاں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سوائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کوئی دوسرا کھچڑی بالوں والا نہ تھا، بعد میں وہ مہندی اور وسمہ سے انہیں رنگنے لگے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسح علی الخفین کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مقیم کے لئے ایک دن اور رات اور مسافر کے لئے تین دن اور راتیں اجازت ہے۔ حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے اور لوگوں کی تعداد کم دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے، پھر جب لوگ زیادہ ہوجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمانے لگتے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink