TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 24340 · A B C

Musnad AhmadHadith 24340

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِسَابِ الْيَسِيرِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ فَقَالَ الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ وَلَا يُصِيبُ عَبْدًا شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَاصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میر ا حساب آسان کردیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے، عائشہ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہو جائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات