Musnad Ahmad — Hadith 24717
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَتْ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّوا لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَ ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا " اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجھے! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے پھر آیت اس طرح ہوتی " فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے لوگ " مناۃ" کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشل کے قریب اسکی پوجا کرتے تھے اور جو شخص احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے ، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔
-